Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode (Watching)Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode
شیرافگن اسٹیج پر آیا اور ان سبکی طرف دیکھا.”کیا میں اپنی بیوی کو کچھ وقت کے لئے لے جا سکتا ہوں؟”اسکی بات پر سب نے آنکھیں گھما کر ان دونوں کو دیکھا.”ضرور افگن بھائی…یہ آپکی ہی ہے.لے جائیں”تابی نے جھٹ سے کہا.شیرافگن نے مسکراہٹ دبائی.
“شکریہ بہنو…چلیں بیگم”اس نے شرارت سے ہاتھ بڑھا کر کہا.وہ سب ہنسنے لگیں.حیات مسکرا کر اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتی اٹھ کھڑی ہوئی.اپنی چڑیلوں کی شرارتی ہنسی کو اگنور کرتی وہ شیرافگن کے ساتھ اسٹیج سے اتری. “کیا ضروری بات تھی مسٹرجو آپ نے مجھے دوستوں کے بیچ سے اٹھا دیا.”حیات نے اسے دیکھ کر پوچھا.شیرافگن اسے لے کر ایک ٹیبل کے پاس رکا.
“میڈم تمہیں ذرا خیال نہیں کہ تمہارا ایک عدد شوہر بھی ہے.اسے بھی وقت دے لو…تم نے تو مجھے دیکھا تک نہیں”اسنے حیات کی سنہری آنکھوں میں دیکھ کر شکوہ کیا.
“آپ مجھے نظر ہی نہیں آئے…پھر کیسے دیکھتی آپکو.”حیات نے ٹیبل کے گرد رکھی کرسی پر بیٹھ کر کہا.شیرافگن بھی اسکے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا.”اور مجھے صرف تم ہی نظر آتی رہی….پر تمہیں دوستوں سے فرصت ملے تب تم مجھے دیکھو ناں”شیرافگن نے دور دیکھتے ہوئے خفگی سے کہا.حیات نے حیرت سے اسے دیکھا.وہ اسکی دوستوں سے جیلس ہورہا تھا.افف…. حیات کی ہنسی نکل گئی.” افگن آپ میری چڑیلوں سے جیلس ہورہے ہیں؟”اسنے شیرافگن کی خفا آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا.”نہیں…پر تم مجھے بھولی ہوئی تھی.کب سے تم اپنی دوستوں کے ساتھ بزی تھی.”اسنے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر مصنوعی ناراضگی سے کہا.حیات نے محبت سے اسے دیکھا.وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ تو ہر وقت اسکے ساتھ ہوتا ہے.وہ جہاں بھی ہو شیرافگن اسکے دل و دماغ پر چھایا رہتا تھا. حیات نے ٹیبل پر رکھے گلدان سے ایک گلاب کا پھول لیا.پھر اسے شیرافگن کی طرف بڑھا دیا. “یہ لیں مسٹر پرنس”اسنے پھول کی طرف اشارہ کر کے کہا.شیرافگن آنکھوں میں چمک لے کر آگے ہو کر بیٹھا.پھر پھول تھام لیا.پر حیات نے پھول کو چھوڑا نہیں…یونہی دونوں نے پھول کو تھامے رکھا.حیات نے اسکی آنکھوں میں دیکھا.”آپ میرے لئے بہت اسپیشل ہیں شیرافگن….آپکا خیال ہر وقت میرے ساتھ رہتا ہے.وہ میری فرینڈز ہیں… میرے لئے بہت انمول ہیں …پر آپ سب سے آگے ہیں.آپ ہیں تو میں ہوں…..پھر کبھی نہ سوچئے گا کہ حیات آپکو بھول گئی.آپ میرا سب کچھ ہیں شیرمار” سنجیدگی سے کہتے آخر میں مسکرا کر کہا.شیرافگن کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی.
“میں جانتا ہو پرنسیس اور تم بھی میرا سب کچھ ہو” اسنے سنہری آنکھوں میں دیکھ کر بھاری آواز میں کہا پھر بولا”اورتمہاری چڑیلوں سے جیلس نہیں ہوا…بس یو نو….ہلکی سی کوئی بات فیل ہوئی تھی.”اسنے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا.”اسے جیلس ہونا ہی کہتے ہیں محترم”حیات نے آنکھیں نکال کر کہا.شیرافگن ایک دم زور سے ہنسا.”اچھا….پر اپنی چڑیلوں کو نہ بتانا…ورنہ مجھے جیل کروا دینگی”اسکی بات پر حیات ہنسنے لگی.
“اوکے سر” مسکرا کر کہا.شیرافگن نے پیار سے اسے دیکھا.تبھی امل اور مریم انکی طرف آئیں.امل کے ہاتھ میں کیمرہ تھا.”واؤ بھیا، آپی کیا پوز ہے…بہت اچھی پکچرز آئیں ہیں.”امل نے ہنس کر کہا.مریم بھی منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی.شیرافگن اور حیات نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر پھول کو جسے دونوں نے تھام رکھا تھا. حیات نے مسکرا کرپھول چھوڑ دیا.شیرافگن نے پھول ہاتھ میں لیا.
” آپ دونوں کی جوڑی بہت رومینٹک ہے.” مریم نے شرارت سے کہا.شیرافگن قہقہہ لگا کر ہنسا.”بالکل بھیا دیکھیں کتنی اچھی پکچرز آئیں ہیں”امل نے کیمره اسکی طرف کیا.”تم دونوں بچیاں ہو…جاؤ کھیلو جا کر”حیات نے ان دونوں کو گھورا.اسکے کھیلنے کی بات پر امل اور مریم ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگیں.انکی ہنسی میں شیرافگن کی ہنسی بھی شامل تھی. “آپی ہم اب اتنی بھی بچیاں نہیں ہیں.”امل نے ہنس کر کہا.”تمہاری آپی ابھی پرانے زمانے میں جی رہی ہے.”شیرافگن نے مذاق میں کہا.حیات نے گھور کر اسے دیکھا.”اونہہ…آپ لوگ بڑے آئے نئے زمانے والے…” وہ منہ بنا کر کہتی اٹھ کھڑی ہوئی.شیرافگن نے مسکرا کر اسے دیکھا.وہ منہ بگاڑ کر چلی گئی.امل ، مریم پھر سے ہنسیں تھیں.”بھاگو شیطانوں…تمہاری وجہ سے میری پرنسیس ناراض ہوگئی.”اسنے دونوں کو گھورا تو وہ سر جوڑے وہاں سے بھاگ گئیں.شیرافگن ہاتھ میں پکڑے پھول کو مسکرا کر دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا.
مینا پانی پی کر واپس اپنی چڑیلوں کی طرف جارہی تھی جب اچانک کوئی اسکے سامنے آیا.مینا نے نظر اٹھا کر دیکھا.اسکی پیشانی پر شکنیں پڑیں.سامنے وہ انگریز کھڑا تھا.بڑے لگاؤ سے اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا.مینا نے سوچا اسے اگنور کر کے چلی جائے پر جب اسے مسلسل اپنی طرف دیکھتے پایا تو اسنے سوچا کہ ذرا اس انگریز سے دو دو ہاتھ کر ہی لے. “دیکھو مسٹر انگریز…تم یہ جو کب سے مجھے گھور رہے ہو ناں….اچھا نہیں کر رہے…”مینا نے تیکھی نظروں سے دیکھ کر کہا.سامنے کھڑا لڑکا زور سے ہنسا.”دیکھیں مس میں انگریز نہیں پاکستانی ہوں.بس شکل کچھ انگریزوں جیسی ہے.”سامنے والے نےمسکرا کر کہا.
“اونہہ حرکتیں بھی انگریزوں والی ہیں.” مینا آہستہ آواز میں بڑبڑائی پھر اسے دیکھا.”آپ جو بھی ہو….بس مجھے گھورنا بند کریں.. آپکی مہربانی ہوگی”وہ تپ کر ہاتھ جوڑ کر کہتی جانے لگی.جب سامنے والے نے اسکا راستہ روکا.”آپ مجھے اچھی لگیں ہیں…اب شادی تو آپ سے ہی کرونگا.”اسنے مینا کو دیکھ کر جھٹ سے کہہ دیا.جیسے کوئی عام سی بات کی ہو.حیرت سے مینا کی آنکھیں پھیل گئیں. یہ کیا مذاق ہے؟ وہ شادی کی بات کر رہا تھا.وہ بھی ایسے جیسے یہ کوئی عام سی بات ہو.مینا کو ایک دم سے غصہ آیا.اس لڑکے کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ اس سے ایسا مذاق کرے.اسنے جل کر سامنے والے کو دیکھا.
“ہاؤ ڈیئر یو….تم نے کیا سوچ کر میرے ساتھ یہ بیہودہ مذاق کیا ہے…”اسنے چبا کر کہا. سامنے والا سکون سے کھڑا آنکھوں میں چمک لئے اسے دیکھ رہا تھا.”یہ مذاق نہیں ہے مس…..اسے پہلی نظر کی محبت کہتے ہیں.” اسنے مینا کے لال چہرے کو دیکھ کر کہا. “ویسے مجھے عون مرتضیٰ کہتے ہیں.”سنجیدہ مگر نرم لہجے میں کہا گیا.”میری بلا سے عون ہو یا کون… بس مجھے معاف رکھو”مینا نے غصے سے اسے دیکھا.اسکی بات پر وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تو مینا نے غصے سے مٹھیاں بھینچیں.انگریز صاحب نے ہنستے ہوئے اسے دیکھا.”کون….کا تو مجھے آپ سے پوچھنا ہے کہ آپ کون ہیں؟ کیا کرتیں ہیں؟”اسنے مینا کے چہرے پر نظریں جما کر پوچھا.”چڑیل ہوں میں….لوگوں کا خون پیتی ہوں….آپ بھی بچ کر رہیں گا…ورنہ اچھا نہیں ہوگا.”مینا نے تپ کر انگلی اٹھا کر جواب دیا.عون زور سے ہنسا.
“ڈیٹس گریٹ…پر آپ مجھے ڈرا کر پیچھے نہیں ہٹا سکتیں…. میں شادی تو آپ سے ہی کرونگا.” مسکرا کر محبت سے کہا گیا.مینا کا دل چاہا سر پیٹ لے…اپنا نہیں….اس پاکستانی انگریز کا….
“فضول ترین انسان ہیں آپ…تھوڑی شرم کر لیں اور …..” وہ اسے اور بھی سنانا چاہ رہی تھی. جب ہانیہ انکی طرف آئی.”عون ، مینا تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو؟”ہانیہ نے مسکرا کر پوچھا.”باقی جان پہچان تو ہوگئی…بس میڈم کا نام بتا دیں.”عون نے مینا کو دیکھ کر کہا.جواباً مینا نے اسے تیکھی نظروں سے دیکھا.”یہ مینا ہے.حیات اور میری دوست”ہانیہ نے ہنس کر مینا کو دیکھا.”اور مینا یہ عون ہے.میرا پیارا سا،چھوٹا سا بھائی” ہانیہ نے مسکرا کر عون کے بال بگاڑے.”کم آن ہانی… آپ سے اتنا بھی چھوٹا نہیں ہوں .. صرف دو سال ہی چھوٹا ہوں…”اسنے بال ٹھیک کر کے ہانیہ سے کہا پھر مینا کو دیکھا.”آپکا نام بہت پیارا ہے….مس…مینا” اسنے ٹہر ٹہر کر پیار سے کہا.”شکریہ”مینا نے منہ بگاڑ کر جواب دیا. وہ ہانیہ کے سامنے اسے سیدھا کرنے سے رہی تھی.بس صبر کا گھونٹ بھر کر رہ گئی. “اہم…بالکل اور ہماری مینا خود بھی تو بہت پیاری ہے.”ہانیہ نے ہنس کر لقمہ دیا.پھر عون کو دیکھ کر آنکھیں گھمائی. “جی…جی”عون نے مسکرا کر گردن ہلا کر کہا.مینا کو عجیب سے احساس نے گھیرا تو وہ جلدی سے بہانہ بنا کر وہاں سے ہٹی.ہانیہ نے بھائی کا بازو تھاما.”کیا خیال ہے چھوٹے.” اس نے مینا کی پشت کو دیکھ کر کہا.”نیک خیال ہیں بڑی…”اسنے ہنس کر شرارت سے بہن کو دیکھا تو ہانیہ نے مسکرا کر اسے ڈن کا سگنل دیا.
شیرافگن نے امل اور مریم کی وجہ سے ناراض ہو کر گئی اپنی پرنسیس کو وہی پھول دے کر منایا.جو اسنے شیرافگن کو دیا تھا.پھر کھانا کھایا گیا.سب نے ان دونوں کو آنے والی زندگی کے لئے ڈھیر ساری دعائیں دیں.وہ دونوں ہی بے پناہ خوش تھے.
دوسری طرف ان سب چڑیلوں کو جب مینا کا قصہ معلوم ہوا تو انہوں نے خوب ہنگامہ کیا.وہ انگریز ہانیہ کا بھائی تھا.سب نے مینا اور عون کے رشتے کو ابھی سے پکا کر لیا تھا.مینا پہلے ہی اس انگریز سے تنگ تھی اور اب ان چڑیلوں نے اسے تنگ کر چھوڑا تھا.وہ ہاتھوں پر سر گرائے انکی پٹر پٹر سنتی رہی.
•••••••••••••
انکی شادی کو ایک ہفتہ گزر چکا تھا.اس دوران انکی دعوتیں ہوتی رہیں.پلک جھپکتے ہی یہ ایک ہفتہ گزر چکا تھا.حیات نے آج شیر افگن کے لئے سرپرائز ارینج کیا تھا.آج کے دن ہی وہ دلہن بن کر شیرافگن کی زندگی میں شامل ہوئی تھی.اسنے کمرے کو پھولوں سے سجایا تھا اور بہت ساری کینڈلز جلا رکھیں تھیں.شام کو شیرافگن کی میٹنگ تھی.وہ وہاں چلا گیا.حیات سب ارینج کر چکی تھی.شیرافگن کے انتظار میں وہ کمرے میں چکر لگا رہی تھی.اسنے خوبصورت سا سفید لباس پہنا تھا.اسکے چلنے سے سفید پیارے سے جھمکے اسکے کانوں میں ہلکے ہلکے سے جنبش کر رہے تھے.اسنے شیرافگن کو کافی کالز کیں تھیں.پر اسنے کوئی جواب نہ دیا.حیات آخر تھک کر خاموش ہو کر بیٹھ گئی تھی.وہ موبائل پر ناول پڑھنے لگی.جانے کتنا وقت گزرا جب کمرے کا دروازہ کھلا.”ہیلو پرنسیس” شیرافگن نے مسکرا کر کہا.پھر کمرے کو دیکھ کر اسکی مسکراہٹ گہری ہوگئی.حیات نے خاموشی سے اسے دیکھا.سفید شرٹ ، بلیک پینٹ ، کوٹ میں وہ سامنے کھڑا تھا.وہ محبت سے دیکھتا ہوا اسکے قریب آیا.”آج خاموشی کیوں؟”اسنے حیات کو دیکھ کر کہا.حیات نے موبائل سائیڈ پر رکھ کر سر اٹھا کر اسے دیکھا.”اگر کال اٹھانی نہیں ہوتی تو آپ نے موبائل رکھا ہی کیوں ہے؟”اس نے خفگی سے پوچھا.”اف یار…تم کال کرتی رہی ہو؟”شیر افگن نے موبائل نکالتے ہوئے پوچھا
“سو کالز کی تھیں.آپ نے ایک بھی کال پک نہیں کی.”وہ نے منہ بسور کر کہا.
“سوری پرنسیس….میٹنگ میں بزی تھا.” شیر افگن نے نرمی سے کہا.حیات چہرہ پھیر گئی.شیرافگن نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا پھر ہاتھ اسکی طرف پھیلایا.حیات نے سنہری آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا.
“کم آن…جھلی” اسنے مسکرا کر محبت سے کہا.حیات نے کچھ دیر اسے دیکھا پھر اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی.شیرافگن نے دائیاں ہاتھ حیات کی کمر میں ڈالا.پھر گنگنانے لگا.حیات نے حیرت سے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا.”ڈانس کرونگی میرے ساتھ؟”کان میں سرگوشی کی گئی.حیات نے آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھا کہ شیرافگن اور ڈانس؟ پھر سر جھٹک کے مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا.شیرافگن نے ہلکے سے اسکے سر سے سر ٹکرایا پھر موبائل پر گانا لگا کر اسے ٹیبل پر رکھا.حیات کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا. حیات نے چمکتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھا. پھولوں کی خوشبو، کینڈلز کی روشنی اور میوزک ماحول کو جادوئی بنا رہے تھے.گانا شروع ہوچکا تھا.
کچی ڈوریوں ، ڈوریوں، ڈوریوں سے
مینوں توں باندھ لے…
پکی یاریوں، یاریوں، یاریوں میں
ہوندے ناں فاصلے…
اےناراضگی کاغزی ساری تیری
میرے سوہنڑیا سن لے میری….
دل دیاں گلاں…کراں گے نال نال بے کے
آکھ نال آکھ نوں ملا کے….
شیرافگن نے اسے مسکرا کر دیکھا پھراسے گول گھمایا.حیات گوم کر اسکے قریب رکی. اسکا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا.شیرافگن کی آنکھوں میں دیکھا کر وہ سر کو خم دے کر مدھم سا مسکرائی.
ستائے مینوں کیوں…دکھائے مینوں کیوں
اویں جھوٹی موٹی رس کے رسا کے
دل دیاں گلاں…کراں گے نال نال بے کے
آکھ نال آکھ نوں ملا کے….
شیرافگن نے اسے محبت سے دیکھا پھر اسکی پیشانی سے پیشانی ٹکا دی.
تینوں لکھاں تو چھپا کے رکھاں
اکھاں تے سجا کے….
توں اے میری وفا ، رکھ اپنا بنا کے
میں تیرے لئیاں ، تیرے لئیاں یارا
ناپاویں کدی دوریاں….
میں جیناں ہاں تیرا…..
تو جیناں ہے میرا….
دس لیہنڑہ کی نَکھرہ دکھا کے….
حیات نے شرارت سے مسکرا کر اسکے کندھے پر سر رکھا.تو شیرافگن نے اسکے گرد بازو پھیلا لئے.
راتاں کالیاں، کالیاں، کالیاں نے
میرے دل سانولے….
میرے ہانیاں،ہانیاں، ہانیاں جے
لگے توں نہ گلے….
میرا آسماں موسماں دی ناں سنے
کوئی خواب نہ پورا بنے
دل دیاں گلاں…کراں گے نال نال بے کے
آکھ نال آکھ نوں ملا کے….
گانا ختم ہوا تو حیات نے ہلکے سے تالیاں بجا کر شیرافگن کو ہنس کر دیکھا.”چلو آج ہمارا فرسٹ ڈانس بھی ہوگیا.اچھا نہ سہی…گزارے لائق تو تھا اور کمرہ بہت اچھا سجایا ہے محترمہ”شیرافگن نے اسکے بال کان کے پیچھے کر کے نرمی سے کہا.
“شکریہ….ڈانس گزارے سے زیادہ اچھا تھا اور شادی کا ایک ہفتہ مبارک ہو مسٹر”حیات نے ہنس کر کہا پھر ہاتھ آگے بڑھایا.شیرافگن نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اسکا ہاتھ تھاما.”آپکو بھی مبارک مسز!!”محبت سے کہا گیا.پھر دونوں نے کینڈل لائٹ ڈنر کیا.شیرافگن نے اسے وائٹ گولڈ کا ہارٹ شیپ لوکٹ گفٹ کیا. “آپ کیا مجھے زور گفٹ دیتے رہیں گے؟” شرارت سے پوچھا.”ساری زندگی….گفٹ دیتا رہونگا مادام”بھاری آواز میں اسکی آنکھوں میں دیکھ کر جواب دیا گیا.حیات کی آنکھوں میں جیسے پوری جہان کی خوشیاں سمٹ آئیں تھیں.اتنی محبت پر وہ خود کو خوش قسمت محسوس کر رہی تھی.محبت نے اسکی زندگی کو حسین سے حسین تر بنا دیا تھا
••••••••••
آج شیرافگن کے دوست…مجتبیٰ ، ولید ، علی ، عون اور حیات کی چڑیلیں تابی، حریم ، مینا ، سبین اور ساتھ ہی ایمان اور ہانیہ سب نے ساتھ مل کر ڈنر کا پلان بنایا تھا.حیات جلدی جلدی تیار ہورہی تھا.آج شیرافگن کے کہنے پر اسنے بلیک ڈریس پہنا تھا اور محترم خود بھی بلیک سوٹ میں ملبوس تھے.حیات نے سینڈلز پہن کر دوپٹہ سٹ کیا.تبھی شیرافگن کمرے میں داخل ہوا.”بس کردو حیات..لیٹ ہو رہے ہیں.”شیرافگن نے آگے بڑھ کر اسکا بازو تھاما.
“ہاں بس موبائل لے لوں” اسنے شیرافگن کو بھی اپنے ساتھ گھسیٹ کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل لیا.”افف لڑکی…تم ہمیشہ سے ہی لیٹ
لطیف رہی ہو.”شیرافگن جھنجھلا کر کہتا اسکا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھا.”اور ہمیشہ ایسی ہی رہوں گی.”حیات نے شرارت سے اسے چڑانے کے لئے کہا.”میں برداشت کرلونگا…اس کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہوں.”شیرافگن نے شرارت سے جواب دیا.”اونہہ بالکل…”حیات منہ بنا کر کہتی …گردن دوسری طرف موڑ کر مدھم سا مسکرائی.دونوں سب بڑوں سے مل کر گھر سے نکلے.جب وہاں پہنچے تو سب اسکے انتظار میں تھے.سب مل بیٹھے تو ایک رونق لگ گئی تھی.کھانا کھا کر سب آئسکریم
سے لطف اندوز ہو رہے تھے.مینا اور عون چپکے چپکے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے.
“اہم….آئی ٹو آئی” حیات نے مسکرا کر مینا کے قریب ہو کر سرگوشی کی.”ہاں پہلے انگریز کو مار دینا چاہتی تھی اور اب اس پر مر رہی ہے.”تابی نے شرارت سے کہا.”اونہہ…بس کرو” مینا نے ہنسی دبا کر مصنوعی غصے سے کہا. “غصے کے پیچھے شرم ہے.. شرما رہی ہے میڈم”سبین نے آنکھ دبا کر کہا.مینا نے مسکرا کر سر جھکا لیا.”افف یہ ادا…”حریم نے اسے کہنی ماری.سب زور سے ہنسنے لگیں.عون نے اپنی بات پوری کر دکھائی تھی.ہانیہ کے ساتھ مل کر عون نے کچھ دنوں میں ہی مینا کے گھر رشتہ بھیج دیا.پھر پتہ ہی نہ چلا اور مینا ، عون کی بن گئی.
کافی وقت تک محفل جمی رہی.پھر وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے.وہ سب باہر کھڑیں تھیں.
“چڑیلو اللّه حافظ.”حیات نے ہنس کر کہا
“بھوتوں کو تو آنے دو محترمہ” تابی نے اسکا ہاتھ پکڑا.سب ایک دم ہنسنے لگیں.پھر سب ایک دوسرے سے مل کراپنی گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے.شیرافگن ڈرائیو کر رہا تھا.حیات اسکے ساتھ بیٹھی تھی.اسنے مدھم مسکان کے ساتھ شیرافگن کو دیکھا.
“آج بیسٹ دن تھا.”حیات نے مدھم لہجے میں مسکرا کر کہا.”تم خوش ہو؟”شیرافگن کی بھاری آواز گاڑی میں گونجی.” بے حد!!”سنہری آنکھیں چمچما اٹھیں.”میں ہمیشہ تمہیں خوش رکھونگا پرنسیس”اسنے حیات کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر نرمی سے کہا.”آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے؟”اسنے آہستہ آواز میں اپنے پرنس کو دیکھ کر پوچھا.
“ہاں…ہمیشہ ہمیشہ کے لئے..” اسکے ہاتھ پر لب رکھ کر کہا گیا.”آپکا ساتھ ہوگا تو میں ساری زندگی خوش رہوں گی.”اسنے ہلکی مسکان کے ساتھ مدھم آواز میں کہہ کر اسکے کندھے پر سر رکھا.”میری پیاری جھلی ہو تم !!”ہنس کر پیار سے کہا گیا.”اور آپ میرے سیانے شیر مار”سنہری آنکھوں میں شرارت لے کر اسے دیکھ کر بولی .پھر گاڑی میں دونوں کی ہلکی ہنسی گونجی.وہ دونوں ساری زندگی اس کھٹی میٹھی محبت کے سائے تلے اپنی زندگی بسر کرنے والے تھے.ان سب کی محبت بھری کہانیاں مکمل ہو چکیں تھیں.پر انکا پیار ساری زندگی یونہی چلتے رہنے والا تھا۔
