Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13

حیات یونی سے واپس آ کر سو گئی تھی. پھر اٹھ کر بکس کھول کر بیٹھی کچھ دیر پڑھائی کی پھر مغرب کی نماز پڑھ کر کمرے سے باہر نکلی.ایمان کی کمرے کی طرف آئی جو اب امل کا تھا.دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی ہمیشہ کی طرح امل بیٹھی پڑھ رہی تھی.
“امل آپی کہاں ہیں؟”اسنے وہیں کھڑے ہو کر پوچھا.امل نے کتابوں سے سر اٹھا کر بہن کو دیکھا.” پتہ نہیں نیچے ہی ہونگی “جواب دے کر وہ سر جھکاکر پڑھنے لگی.حیات وہاں سے نیچے آئی.چاروں طرف خاموشی چھائی تھی. وہ کچن کی طرف آئی.جہاں نوری ڈنر کی تیاری کر رہی تھی.
“نوری ایمان آپی کہاں ہیں؟”اسنے گلاس میں پانی ڈالتے ہوئے پوچھا
“وہ اور شیرافگن صاحب بڑی بیگم کے کمرے میں ہیں”نوری نے جواب دیا
“اچھا” حیات پانی پی کر باہر نکلی.وہ ہال میں صوفے پر بیٹھی پھر سامنے دیکھا جہاں کانچ کی کھڑکیوں سے پردے پیچھےہٹے تھے.وہ باہر دیکھنے لگی.جہاں سے لان نظر آرہا تھا.باہر ہوا چل رہی تھی.جسکی وجہ سے لان میں لگے رنگ برنگے پھول جیسے رقص کر رہے تھے. حیات اس منظر کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی.ناجانے کتنا وقت گزرا وہ وہاں بیٹھی رہی.پھر اچانک ایمان اسکے ساتھ آ کر بیٹھی
“کیا دیکھ رہی ہو؟”ایمان نےاسےدیکھ کر پوچھا
“قدرتی خوبصورتی”اسنےمسکراکر جواب دیا پھر بولی”ویسے دادو کے کمرے میں کیامیٹنگ چل رہی تھی؟”اسنے مشکوک انداز میں سوال کیا.”اف کیا اب میں دادو کے پاس بیٹھ بھی نہیں سکتی”ایمان نےمسکراہٹ چھپاکرآنکھیں نکال کر کہا.”پر آپ کے بھائی صاحب بھی دادو کے روم میں تھے ناں اوردیکھیں ذرا آپ کب سےمسکرا بھی رہی ہیں”حیات نےمشکوک نظروں سے اسے دیکھا.جسکے چہرے سے مسکان جدا ہی نہیں ہورہی تھی.”اف میری جاسوس گڑیا تم آئی ایس آئی کیوں نہیں جوائن کر لیتی”ایمان نے اسکی ناک دبا کر کہا. حیات ایک دم سے ہنسی.”آپ مانتیں ہیں کہ ایسی کوئی بات ضرور ہے. جسکی جاسوسی کی جائے؟” اسنے آبرو اٹھا کر کہا ایمان نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑے. “ایسی کوئی بات نہیں بس کل مجتبیٰ مجھے لینے آینگے اس لئے خوش ہوں” ایمان نے بات پلٹی ورنہ وہ جانتی تھی اگر حیات کو خبر ہو گئی کہ دادو کے کمرے میں کیا میٹنگ چل رہی تھی.تو اچھا نہیں ہوگا.”اوہ تبھی میں سوچوں آپ خوش کیوں ہیں ویسے آپ مجتبیٰ بھائی کو مس کر رہی ہیں؟” حیات نے شرارت سے پوچھا.ایمان نے ابھی جواب نہ دیا تھا کہ شیرافگن نے اسے پکارا “ایمان یہاں آنا ذرا دادو نے بلایا ہے” ایک نظر حیات کو دیکھ کر اسنے ایمان سے کہا.وہ اٹھ کر چلی گئی.حیات نے مشکوک نظروں سے شیرافگن کو دیکھاجو جانے کے لئے پلٹ رہا تھا. شیرافگن نے ایک دم رک کر اسے دیکھا”کیوں گھور رہی ہو؟”اسکے پوچھنے پر حیات نے گھورتی نظروں کو نارمل کیا
“میں نے کب گھورا آپکو”وہ انجان بنی
“اچھا جاؤ کچھ کام کرو یہاں کیوں بیٹھی ہو” شیرافگن چاہتا تھا وہ ابھی یہاں سے چلی جائے کیونکہ دادو نے سب بڑوں کو اپنے کمرے میں بات کرنے کے لئے بلایا تھا.اسکے کہنے پر حیات اٹھ کھڑی ہوئی .”اب کیا میں اپنی مرضی سےکہیں بیٹھ بھی نہیں سکتی “وہ بڑبڑا کر وہاں سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی. ویسے تووہ کبھی نہ اٹھتی پر وہ اکیلی بیٹھ کر بور ہوچکی تھی.اسلئے سوچا جاکے کچھ پڑھ لے.شیرافگن اسکی بڑبڑاہٹ اگنور کرتا دادو کے کمرے کی طرف بڑھا.ایمان نے دادو سے بات کی تھی. دادو نے شیرافگن سے تصدیق چاہی اسنے ہاں میں جواب دیا.دادو بے حد خوش ہوئیں.یہ تو انکی دلی مراد پوری ہو رہی تھی. دادو اتنی خوش تھی کہ انہوں نے ایمان سے کہا کہ سب بڑوں کو ابھی انکے کمرے میں میٹنگ کے لئے بلا یا جائے.وہ اور دیر نہیں کرنا چاہتیں تھیں.اتنی مشکل سے تو شیرافگن شادی کے لئے مانا تھا.دادو اور سارا بیگم اور شمس صاحب عمرہ پر جانے کا سوچ رہے تھے. اسلئے دادو چاہتی تھی کہ جانے سے پہلے وہ اس کام کو انجام دیں.سب دادو کے کمرے میں جمع ہوئے.دادو نے سب سے بات کی.کسی کو کیا اعتراض ہوتا یہ معاملہ انکے گھر کا تھا. دادو نے بھی فیصلہ کر لیا تھا. دونوں کا نام ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا.شادی کا فلحال انکا کوئی پلان نہیں تھا. سب بہت خوش تھے. ایمان مسکرا کر بھائی قریب ہوئی “مبارک ہو بھائی” اسنے دھیمے سے کہا تو شیرافگن کے چہرے پر مدھم سی مسکراہٹ بکھر گئی.
•••••••••••
ان سب کی کلاس چل رہی تھی.پروفیسر حسن لیکچر دے رہے تھے.انکا لیکچر اتنا بور ہوتا کہ آدھی کلاس سوئی ہوتی. پرچونکہ سر سخت مزاج تھے.اسلئے انھیں سنتے رہنا سب کی مجبوری تھی.حیات بڑی توجہ سے انھیں سن رہی تھی. اسکے ساتھ بیٹھی مینا نے حیرت سے اسے دیکھا پھر ریجسٹر پر کچھ لکھ کر اسکی طرف کھسکایا.حیات نے ریجسٹر پر نظریں دوڑائیں”واہ بہت مزے سے سن رہی ہو.کیا بور نہیں ہو رہی؟”حیات نے پنسل اٹھا کر کچھ لکھا پھر ریجسٹر اسکی طرف کیا
“اب سننا تو ہے اور کیاکروں…تم بھی دھیان لیکچر پر لگاؤ نکمی ورنہ سر نے ابھی ڈانٹ دینا ہے”مینا نےکچھ لکھ کرحیات کواشارہ کیا
“نہیں لگتا دھیان یار…تمہیں پتہ آج حریم کے سسرال والوں نے گھر میں سبکو ڈنر پر انوائٹ کیا ہے.”حیات نے پڑھ کر اسےدیکھا پھرکچھ لکھنےلگی.
“واہ کہیں شادی کا پلان تو نہیں انکا؟”
“یہ تو نہیں پتہ …حریم اور سبین کو دیکھو ذرا”حیات نے پڑھ کر انھیں دیکھا وہ دونوں بھی ریجسٹر چِیٹ کر رہیں تھیں.حیات کو ہنسی آئی.تابی جو مینا کے ساتھ بیٹھی تھی. اسنے مینا کو کہنی ماری.پھر اسکے ہاتھ سے پنسل لے کر لکھنے لگی”بدتمیزوں خود سب باتیں کر رہی ہو اور مجھے ایک طرف چھوڑا ہوا ہے.میں کیا تم چڑیلوں کی سوتیلی دوست ہوں؟ “تابی نے ساتھ رونے والا فیس بنایا. حیات نے پنسل اٹھائی”سوتیلی دوست ہاہاہا” اسکے بعد مینا جلدی سے لکھنے لگی.
“اف میری پیاری تابی…ہاں تم سوتیلی ہی ہو” اسنے آخر میں ہنسی والا فیس بنایا.حیات نے پڑھا تواسکی ہنسی نکل گئی.حریم اور سبین نے بھی انھیں دیکھا جبکہ تابی نےان سبکو گھورا.”بیسٹیز آپ سبکا دھیان کہاں ہے؟”سر حسن کی آواز کلاس روم میں گونجی.انھوں نےانکے گروپ کا یہی نام رکھاہوا تھا.وہ سب سیدھی ہو بیٹھیں.پوری کلاس انکی طرف متوجہ تھی.حیات نے حریم کو کہنی ماری کہ جواب دو.”دھیان یہیں ہے سر”حریم ہربڑا کر بولی.سرانھیں گھورتے”ہوں”کہتےدوبارہ لیکچر دینے لگے.ان سبکی اٹکی سانسیں بحال ہوئیں.
چھٹی کےوقت کافی دیر ہوچکی تھی.کریم بابا حیات کو لینے نہیں پہنچے تھے.وہ یونی سے باہر کھڑی انکا انتظار کر رہی تھی.اسنے بیگ کھولا تاکہ گھر فون کر لے.اسنے موبائل ہاتھ میں پکڑا ہی تھا.جب ایک کار اسکے سامنے رکی.حیات نے گھور کرکار سے نکلتے احمر جمالی کو دیکھا
” ہیلو ڈارلنگ یہاں کیوں کھڑی ہو؟”اسنے فرینک انداز میں پوچھا.جیسے دونوں کی بڑی جان پہچان ہو.حیات نے کوئی جواب نہ دیا اور پیچھے ہو کر کھڑی ہوئی.وہ مذید اسکے قریب ہوا.”آؤ میں چھوڑ دیتا ہوں” اسنے مسکرا کر آنکھوں سے گلاسز اتارے.
“دیکھیں مسٹر اپنے کام سے کام رکھیں”اسنے انگلی اٹھاکر غصہ سے کہا.وہ قہقہہ لگاکر ہنسا “اب تو تمہارا کام ہی میرا کام ہے بے بی”اسنے آنکھ دبائی.حیات نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں.وہ اس گندے انسان کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی.”کم آن ڈارلنگ” اسنے حیات کو چھونا چاہا.”ہاتھ مت لگانا مجھے دفعہ ہو جاؤ یہاں سے”حیات پھٹ پڑی.بھلا وہ اسے کیا اپنے جیسا تھرڈ کلاس سمجھ رہا تھا.اسے غصے میں دیکھ کراحمر جمالی کو کمینی سی خوشی ملی تھی.”حیات” تابی اسےپکارتی ہوئی اسکی طرف بڑھ رہی تھی.اسے آتے دیکھ کر احمر جمالی نے گلاسز آنکھوں پر لگاۓ”پھر ملیں گے سوئیٹ ہارٹ”مسکرا کر کہتا وہ کار کی طرف بڑھ گیا.”کیاہوا.. یہ کیا کہہ رہا تھا تمہیں؟” تابی نے فکر مندی سے پوچھا.وہ بھائی کے ساتھ کار میں بیٹھی تھی.بھائی کی کال آگئی تو وہ باہر نکل کر بات کرنے لگے. تابی ارد گرد دیکھ رہی تھی جب اچانک اسکی نظر سائیڈ پر کھڑی حیات اور احمر جمالی پر پڑی.تابی کو گڑ بڑ محسوس ہوئی. وہ جلدی سے نکل کر حیات کی طرف آئی.
“پتہ نہیں یار کیوں پیچھے پڑ گیا ہے منحوس انسان اب آۓ سامنے وہ حال کرونگی کہ یاد رکھے گا”حیات نے غصے سے لال ہو کر کہا
“بس اپنا خیال رکھنا اور دفعہ کرو اس گندے انسان کو” تابی نے اسکا ہاتھ تھاما.تابی کو اسکے بھائی نے بلایاتووہ چلی گئی.تبھی حیات کی کار بھی آگئی.اسنے اللّه کا شکر ادا کیا پھر کار میں بیٹھ گئی.سیٹ کی بیک سے ٹیک لگا کر اسنے سوچا کہ اب اگر احمرجمالی اسکے سامنے آیا تو وہ اسے اچھا سبق سیکھاۓ گی.
•••••••••••
اگلے دن حیات یونی نہیں گئی .ایمان رات کو جانے والی تھی.اسلئے وہ ایمان کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا چاہتی تھی.ناشتہ دونوں نے لیٹ کیا پھر ہال میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں.”آپی آپ تھوڑے دن اور رہ لیتی ناں”حیات اسکے جانے کا سن اداس تھی.
“ابھی شام تک تو تمہارے ساتھ ہوں نا گڑیا” ایمان نے اسے دیکھ کر محبت سے کہا
“ایمان، شیرافگن نے ناشتہ کیا؟”الماس بیگم اندر داخل ہوتے ہوئے بولیں
“نہیں چھوٹی امی جب میں گئی تھی. بھائی سو رہے تھے”ایمان نے انھیں دیکھ کرجواب دیا
“اٹھ کر کچھ کھا لیتا بچہ پھراسے ٹیبلٹ دینی تھی میں ذرا کچھ لے جاؤں اسکےلئے”وہ فکر مندی سے بولیں پھر وہاں سے کچن کی طرف چلی گئیں.شیرافگن کی طبیعت نہ ساز تھی. جسکی وجہ سے وہ آفس بھی نہیں گیا تھا.
“کیا ہوا افگن بھائی کو؟”حیات نے ایمان سے پوچھا. اسے کسی بات کی خبر ہی نہ تھی.
“بھائی کو بخار اور سر درد ہے.رات کو بھی انکے سر میں شدید درد تھا.”ایمان نے پریشانی سے بتایا.حیات کو خود پر حیرت ہوئی کہ وہ شیرافگن سے اتنی انجان رہی.ایمان کا فون بجا مجتبیٰ کی کال تھی.وہ حیات کو بتا کر اپر چلی گئی.حیات بھی اٹھ کر کچن کی طرف آئی.الماس بیگم ٹرے میں ناشتہ رکھ رہیں تھیں ساتھ نوری انکی مدد کر رہی تھی.
“اماں یہ افگن بھائی کے لئے ہے؟”اسنے ٹرے کی طرف اشارہ کیا
“ہاں بیٹا”انہوں نے چاۓ کا کپ ٹرے میں رکھا
“میں لے جاؤں؟”اسنے اماں سے پوچھا.اسے شیرافگن کا حال پوچھنا تھا.شیرافگن جتنا بھی اسے ڈانٹتا پر جب بھی حیات بیمار ہوتی وہ اسکا بہت خیال رکھتا تھا.اسی طرح جب شیرافگن بیمار ہوتا.حیات کو بھی اسکی بہت فکر ہوتی تھی.
“ہاں بیٹا لے جاؤ” انہوں نے اسے ٹرے پکڑائی
“اور یہ ٹیبلٹ ضرور دینا ناشتے کے بعد اوکے” انہوں نے ٹیبلٹ ٹرے میں رکھی.حیات سر ہلا کر شیرافگن کےکمرے کی طرف آئی.دروازہ ہلکا سا کھلا تھا.ہاتھ میں ٹرے تھی وہ نوک نہ کر سکی تو بول پڑی”افگن بھائی میں اندر آجاؤں”وہ پہلے والی غلطی دوبارہ نہیں کرنا چاہتی تھی.اسلئے اجازت ملنے کا انتظار کرنے لگی.”آجاؤ حیات”شیرافگن کی بھاری آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی.وہ دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی.شیرافگن بیڈ سے ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا.”آپ کے لئے ناشتہ لائی ہوں” اسنے ٹرے ٹیبل پر رکھی پھر اسے دیکھا
“طبیعت کیسی ہے آپکی؟”
“ٹھیک ہوں”بھاری آواز میں کہتا وہ بیڈ سے اٹھا کرصوفے تک آیا. وہ صوفےپربیٹھا توحیات نےٹرے سے چیزیں نکال کے اسکے سامنے رکھیں اورخود جا کر بیڈ پر بیٹھ گئی.
“تم بھی آؤ”شیرافگن نے ناشتہ شروع کرنے سے پہلے اسے کہا.”میں کر چکی ہوں افگن بھائی ، بس آپ ناشتہ کریں پھر ٹیبلٹ دینی ہے آپکو” اسکی بات سن کر وہ ناشتہ کرنے لگا.جبکہ حیات اسکے کمرے کا جائزہ لیتی رہی.جو کہ بہت خوبصورت اورصاف ستھرا تھا.شیرافگن کی ہر چیز اپنی جگہ پر آرینج رکھی تھی.
“لاؤ دو ٹیبلٹ”شیرافگن کی آواز پر وہ چونکی پھر جلدی سے اٹھ کر اسے ٹیبلٹ اور پانی دیا.
وہ ٹیبلٹ لے چکا تو حیات نے چیزیں ٹرے میں رکھیں پھر اسے ریسٹ کرنے کا کہتی کمرے سے نکل گئی.
ایمان شام کو ہی تیار ہوکربیٹھ گئی کہ مجتبیٰ نے اسے لینے آنا ہے.پھر رات کو مجتبیٰ عباسی ہاؤس آیا.علی بھی اسکے ساتھ تھا.یہاں آتے ہوئے راستے میں اسے علی مل گیا.اسکی کار خراب تھی. اسلئے وہ مجتبیٰ کے ساتھ ہی چلا آیا.علی اسلئے بھی آیا تھا کہ وہ حیات کو دیکھ لے گا.وہ لوگ ہال میں بیٹھے تھے.شیرافگن کی طبیعت اب کچھ بہتر تھی.وہ بھی انکے ساتھ بیٹھا تھا.حیات اور ایمان بھی وہیں تھیں.دادو مجتبیٰ سے اسکےگھر میں سبکا پوچھ رہیں تھیں.دوسری طرف علی کی نظریں حیات پر تھیں اور شیرافگن کی گھورتی نظریں علی پر.
ایمان کے ساتھ مل کے حیات نے سبکو کافی دی.کچھ دیر بعد مجتبیٰ اٹھ کھڑا ہوا پر دادو نے انھیں ڈنر کئے بغیرجانے نہ دیا.وہ لوگ پورچ میں کھڑے تھے.جب علی، حیات کے قریب آیا.”آج آپ سے بات ہی نہ ہو سکی ویسے کبھی آپ بھی ہمارے گھر آئیں”اسنے محبت سے کہا.”شکرکہ بات نہیں ہوئی” وہ بڑبڑائی.”جی کیا کہا آپ نے” علی اسکے مذید قریب ہوا.وہ حیات کی بات نہ سن پایا تھا.
“میں نے کہا… ضرور آئیں گے کسی دن”وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ چبا کر کہتی دو قدم پیچھے ہو کر کھڑی ہوئی.”تم کیا میرے مامے کے بیٹے لگتے ہو جومیں تمہارے گھر جاؤں” اسنےمنہ بناکردل میں سوچا. مجتبیٰ سے بات کرتے شیرافگن سے مذید برداشت نہ ہوا.اسنے ایک قہر برساتی نگاہ علی پر ڈالی پھر ایمان کو اشارہ کیا.وہ حیات کی طرف بڑھی.
“علی بھائی آپکو مجتبیٰ بلا رہے ہیں”اسنے جلدی سے علی کو وہاں سے ہٹایا.
“بہت چِپکو ہے آپکایہ سسرالی”حیات نے منہ بنا کر کہا.”اچھا جانے دو..”ایمان نے کہا. “آجاؤ ایمان”مجتبیٰ نے اسے پکارا
“بھائی کا خیال رکھنا اوکے.پھر ملیں گے”وہ حیات کے گلے لگی.”اوکے آپی”حیات نے کہا پھر ایمان ،بھائی سے مل کر کار میں بیٹھ گئی.وہ لوگ چلے گئے.حیات اور شیرافگن بھی اندر کی طرف بڑھے.سب اپنے کمروں میں جا چکے تھے. حیات نے سائیڈ ٹیبل پر رکھااپنا موبائل اٹھایا. اسے اب جاکر ناول پڑھنا تھا.وہ جانے کے لئے پلٹی جب شیرافگن ایک دم سے اسکے سامنے آیا.”علی سےدور ہی رہا کرو اوکے”اسنے حیات کے چہرے پر نظریں جماکر کہا اس سے پہلے کہ حیات کچھ کہتی وہ پلٹ کر وہاں سے چلا گیا.حیات حیران تھی کہ شیرافگن کو کیا ہوا؟ خیر علی کا یوں فرینک ہونا اسے بھی ذرا پسند نہ تھا.اسنے سوچا شیرافگن نے ٹھیک ہی کہا ہے.ان سوچوں سے سر جھٹک کر وہ سیڑھیاں طے کرتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ بڑھ گئی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *