Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28

حیات اپنی روپ میں واپس آچکی تھی.دل کا تو وہی عالم تھا.پر بظاھر اسنے خود کو سنبھال لیا تھا.کل رات اسنے روتے ہوئے سوچا تھا کہ بھلے ہی اسنے غلطی کی تھی.وہ مان رہی تھی ناں اپنی غلطی اور سب سے بڑی بات اسنے معافی مانگی تھی.اسنے اپنی ضد بھلا کر معافی مانگی تھی.پر شیرافگن نے جیسے اسکی بات کو اہمیت ہی نہ دی.اسنے اپنی طرف سے کوشش کر لی تھی.اب شیر افگن کی باری تھی کہ وہ حیات کو معاف کرتا ہے یا نہیں.یہ سب سوچ کر اسنے خود کو کچھ حد تک ریلیکس کیا تھی.آج اسنے اپنے آپکو فریش رکھا تھا.بلیک لباس میں وہ چمک رہی تھی.بالوں کی ہائی بونی بنائی تھی.شیرافگن کی طرف سے اسے غم تھا.پر وہ اب یہ بات شیرافگن پر ظاہر نہیں کرے گی.اگر وہ حیات سے بات نہیں کرتا تو وہ بھی اب اس پر ظاہر نہیں کرے گی کہ اسے کوئی فرق پڑتا ہے.بس اب وہ بہت رو چکی.اب اور نہیں.
اسنےسب کے ساتھ مل کر لنچ کر کے میڈیسن لی.پھر ہانیہ کے ساتھ گپیں لگانے لگی.امل بھی وہی بیٹھی پڑھ رہی تھی.اسکے پیپرز ہونےوالے تھے.اسلئے آجکل تو امل کا دل تھا کہ بکس گھول کر پی لیتی.”دیکھ لیں اسے…پیپر والے دن تو اسنے پاگل ہوجانا ہے.”حیات نے ہانیہ کے کان میں سرگوشی کی.”تم بھی ناں ابھی امل نے سنا تو اچھا نہیں ہوگا.” ہانیہ ایک دم سے ہنس کر بولی.”اسے کچھ سنائی نہیں دینا.” حیات نے آنکھ مار کر کہا.”آپی اب میں اتنی بھی بہری نہیں ہوں.”امل نے اسے دیکھ کر سنجیدگی سے کہا.ہانیہ ہنسنے لگی اور حیات شاک رہ گئی.”اوه سن لیا تم نے؟”حیات نے ہنس کرکہا
“جی ہاں!!”امل منہ بگاڑ کر بولی.” اچھا تو کیا ہوا میں تم سے ڈرتی تھوڑی ہوں.”حیات نے آبرو اٹھا کر کہا.امل منہ بسور کر پھر سے بک میں سر دے کر بیٹھ گئی.”تمہارا نیو سیمسٹر کب سے سارٹ ہورہا ہے؟”ہانیہ نے پوچھا
“ابھی وقت ہے آرام فرماؤں گی.”حیات نے ہنس کر جواب دیا.پھر اسکا موبائل رنگ کیا تو تو اسنے دیکھا اسکی چڑیل مینا کا فون تھا. حیات اس سے بات کرنے لگی جبکہ ہانیہ اسے دیکھنے لگی.بات کرتے ہوئے اسکے گال میں ڈمپل اسکے حسن کو چار چاند لگا رہا تھا. حیات نے فون بند کر کے ہانیہ کو دیکھا.”کیا دیکھ رہی ہیں؟”حیات نے ہنس کر اسے دیکھا.
“دیکھ رہی ہوں کہ افگن ویسے ہی تم پر دیوانہ نہیں ہوا.” ہانیہ نے اسکا گال تھپک کر کہا.”اچھا!! “حیات نے صرف اتنا کہا.اب بھلا کہاں شیرافگن اسکا دیوانہ تھا.حیات نے آنکھیں چھپک کر نمی کو پیچھے دھکیلا.ہانیہ کو الماس بیگم نے بلایا تو وہ اٹھ کر چلی گئی.
حیات بھی وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھی.دل کا درد آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا.وہ کمرے میں آ کر بند ہوئی.دروازے سے پشت ٹکا کر اسنے آنکھوں کی نمی کو ہاتھ کی پشت سے صاف کیا.پھر شیشے کے سامنے ائی.
“کاش مجھے آپ سے محبت نہ ہوتی شیر افگن تو آج میں اتنی بے بس نہ ہوتی.مجھے بھی اس محبت نے کسی کام کا نہ چھوڑا.افگن آپ مجھے اس رہ پر لے کر آۓ تھے.آپ…”حیات کی آنکھوں سے آنسو بہے.” اور اب میں اس رہ پر چل پڑی ہوں.تو آپ کیوں مجھے سے دور ہو رہے ہیں؟ میں آپکی طرف بھاگ بھاگ کر تھکنے لگی ہوں.”کافی دیر وہ وہی کھڑی آنسو بہا کر شیر افگن سے باتیں کرتی رہی.
شیرافگن آفس سے واپس آیا.سب سے مل کر وہ کچھ دیر سب کے ساتھ ہال میں بیٹھا.اسنے حیات کو ڈھونڈھا.پر وہ وہاں نہیں تھی.اسے فکر ہوئی کہ کہیں اسکی طبیعت تو خراب نہیں.کل رات کو وہ زیادہ ہی بول گیا تھا.وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا.حیات کے دروازے کو دیکھا وہ بند تھا.شیرافگن تھکا سا اپنے کمرے میں گیا.
کل رات جب اسکے کمرے میں حیات ائی تھی تو وہ کمرے سے نکل کر لائبریری میں آگیا تھا.اسکا دل حیات کے سامنے جھک رہا تھا. اسکی پیاری صورت شیر افگن کو پاگل کر رہی تھی.اسلئے وہ وہاں سے نکل آیا تھا.رات تین بجے کے قریب حیات کی فکر اسے اسکے کمرے کی طرف لے ائی تھی.اسکا دل کیا وہ ابھی وہ اس جھلی کو اٹھا کر بتادے کہ اسکا شیر مار اس سے ناراض نہیں ہے.ہاں اسکا دل دکھا تھا.وہ غصہ بھی تھا پر وہ حیات سے ناراض نہ تھا.اپنی زندگی سے بھلا کوئی ناراض ہو سکتا ہے؟بالکل نہیں.
وہ حیات کے روم میں گیا تھا.وہ سو رہی تھی.بنا کمبل اوڑھے وہ بے ترتیب سی لیٹی تھی.اسکا سر تکیہ سے نیچے تھا.شیر افگن آہستہ سے اسکے قریب آیا.اپنا بازو اسکے سر کے نیچے ڈال کر اسنے حیات کا سر تکیہ پر رکھا.حیات کے گالوں پر آنسوؤں کے نشان تھے.شیرافگن کا دل اس سوچ پر دکھا کہ وہ روتے روتے سو گئی تھی.اس لڑکی کو وہ روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا اور آج وہ خود ظالم بنا اسے رلا رہا تھا.اس نے حیات کو پیار سے دیکھتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر اسکے آنسو اپنی انگلی کی پوروں سے صاف کئے.پھر اس پر کمبل ڈالا.حیات نے ہچکی بھری.شیرافگن کچھ دیر اسکے پاس بیٹھا رہا.اسنے حیات کے سلکی بالوں کو انگلی پر لپٹا پھر اسکے بالوں کو آزاد کرتا وہ اٹھنے لگا.پر پھر حیات کے قریب ہو کر اسکی پیشانی پر لب رکھے.”ظالم لڑکی”سرگوشی میں کہتا وہ اٹھ کر وہاں سے نکل گیا.
ہال میں محفل جمی تھی.حیات جب سو کر اٹھی تو گھر میں ایمان کے سسرال والےدادو لوگوں کو عمرہ کی مبارک دینے آۓ ہوئے تھے.حیات سب سے ملی.آخر میں علی سے سلام کیا.وہ مجتبیٰ کے ساتھ بیٹھا تھا.
“کیسی ہیں آپ؟”علی نے مسکرا کر پوچھا.اسکی نظریں حیات کے چہرے پر تھیں.اسنے جیسے ایک زمانے کے بعد حیات کو دیکھا تھا.” میں ٹھیک ہوں.آپ کیسے ہیں؟”حیات نے نرمی سے پوچھا.اسکے نرمی سے کہنے پر علی کھل سا اٹھا.”میں بھی بالکل ٹھیک ہوں حیات.”علی نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا.پھر پیچھے دیکھ کر اسکی مسکراہٹ مانند پڑی.پیچھے شیر افگن کھڑا مجتبیٰ سے بات کر رہا تھا.علی کی نظریں جھک گئیں.وہ حیات کو دیکھ کر بھول چکا تھا کہ حیات کسی اور کی امانت ہے.شیر افگن کو دیکھ کر اس پر تلخ حقیقت واضح ہوئی.حیات وہاں سے چلی گئی.سب لوگ وہاں باتوں میں مگن تھے.بڑوں میں تو کوئی کھچڑی پک رہی تھی.پر ان سب میں سے کوئی نہ جان سکا کہ کیا بات ہو رہی تھی.کچھ دیر میں وہ سب اٹھ کھڑے ہوئے.سعدیہ بیگم نے جاتے ہوئے سبکو دعوت کی کہ اگلے ہفتے مریم کی برتھڈے ہے اور ساتھ ہی انکے عمرہ سے آنے کی خوشی میں سب کی دعوت ہے.حیات اور ایمان کھڑی باتیں کر رہی تھیں.علی دور کھڑا حیات کو دیکھ رہا تھا.قریب ہی مجتبیٰ کے ساتھ شیرافگن کھڑا تھا.اسکے ماتھے پر بل پڑے.وہ نہ محسوس انداز میں مجتبیٰ سے باتیں کرتا آہستہ سے چلتا ہواحیات کے سامنے کھڑا ہوگیا.اسکے چھوڑے وجود نے حیات کو ڈھک دیا تھا.حیات نے حیرت سے اسکی پشت کو دیکھا.ایمان نے بھی بھائی کی حرکت نوٹ کی تھی.علی بھی سر جھکا کر کار کی طرف بڑھ گیا.کار میں بیٹھنے سے پہلے ایمان ، شیرافگن کی طرف ائی.”جیسے آپکو علی کا حیات کو دیکھنا اچھا نہیں لگا بھائی بالکل ویسے ہی حیات کو بھی آپکا ہانیہ کے قریب ہونا اچھا نہیں لگا تھا.بھلے ہی ہانیہ آپکی بہت اچھی دوست ہے.پر حیات آپکی منکوحہ ہے.بیوی ہے.اسکا انداز غلط تھا.پر اسکی بات کچھ حد تک ٹھیک تھی.اس بات کو سوچیےگا ذرا.”ایمان ڈھیمے سے کہتی کار کی طرف بڑھ گئی.شیر افگن وہیں کھڑا سوچتا رہا.یہ غلطی اسکی تھی کہ اسنے اس بات کا خیال نہ رکھا.اسنے پلٹ کر حیات کو دیکھا.وہ ہال کے دروازے سے اندر جا رہی تھی.اسکا دل کیا کہ بھاگ کر جائے اور اس لڑکی کو اپنی باہوں میں چھپا لے.
••••••••••••••••
کل جو کھچڑی پک رہی تھی.آج وہ سب کے سامنے کھلی تھی.گھر میں شیر افگن اور حیات کی رخصتی کی بات چل رہی تھی.دادو نے آرڈر دے دیا تھا کہ حیات کا نیو سیمسٹر سٹارٹ ہونے سے پہلے اسکی رخصتی کر دی جائے.حیات تک یہ خبر پہنچی تو وہ حیران رہ گئی.وہ اماں کی طرف آئی.”اماں رخصتی کی اتنی جلدی بھی کیا ہے؟”اسنے الماس بیگم کو دیکھا جو کپڑے الماری میں رکھ رہی تھیں.
“نکاح ہو چکا ہے گڑیا اب جلدی کریں یا دیر سے فرق کیا پڑتا ہے.” انہوں نے مصروف انداز میں کہا.”فرق پڑتا ہے اماں”حیات بڑبڑائی.
“جاؤ ذرا افگن آفس سے آیا ہوگا اسے چاۓ پانی کا پوچھو.”الماس بیگم نے کہا.
“انھیں میری صورت تو دیکھنی نہیں میرے ہاتھ سے لے کر وہ کیوں کچھ کھانے لگے.” مدھم لہجے میں کہتی وہ کمرے سے چلی گئی.
حیات اپنے کمرے میں جانے لگی جب شیر افگن کو سامنے کھڑا دیکھ کر رک گئی.شیر افگن اسے ہی دیکھ رہا تھا.حیات سر جھکا گئی کہ ابھی شیر افگن منہ موڑ کر چلا جائے گا اور یہ پل وہ برداشت نہیں کر پاۓ گی.پرشیر افگن جانے کے بجاۓ اسکے قریب آیا.
“تم مجھے کل سے اگنور کر رہی ہو.ایسا کیوں؟”شیرافگن نے پر سکون لہجے میں کہا
“آ..آپ …”حیات الجھی سانسوں کی وجہ سے کچھ کہہ ہی نہ پائی.یہ اچانک شیرافگن کا بدلہ روپ اسکے لئے جھٹکے سے کم نہ تھا.
“آپ کیا؟” اسنے آبرو اٹھا کر پوچھا.
“آپ مجھ سے ناراض تھے.اس لئے میں نے آپ سے بات کرنے کی ہمت نہیں کی.” حیات کی آنکھوں میں نمی اتری.
°°°°°
میں تم سے ناراض نہیں تھا.بس غصہ تھا.کل وہ بھی ختم ہوگیا.”شیرافگن نے دھیمے سے کہتے ہوئے اسکے بالوں کی لٹ کان کے پیچھے کی.حیات کے چہرے پر رنگ ہی رنگ بکھر گئے.اسنے سنہری آنکھیں اٹھا کر شیرافگن کو دیکھا.”آپ نے مجھے معاف کر دیا.آپ مجھ سے ناراض نہیں…سچ میں؟”حیات جیسے پھر سے جی اٹھی تھی.اسنے سوچا نہ تھا کہ شیرافگن اسےاتنی جلد معاف کرے گا.
اب تم ہو مقابل تو ہمیں ہارنا ہوگا
تم سے تو میری جان جیتا نہیں جاتا
شیرافگن نے مدھم لہجے میں کہہ کر اسکے گال پر ہاتھ رکھا پھر اسکی آنکھوں میں دیکھا.
“ہاں سچ میں…کیونکہ ہم جن سے محبت کرتے ہیں ان سے ناراض نہیں رہ سکتے.بس وہ وقتی غصہ تھا.جو اب ٹھنڈا ہوگیا.”اسنے مسکرا کر حیات کے ماتھے سے اپنے ماتھا ٹکرایا.حیات خوشی سے پاگل ہونے لگی.اسکا دل کیا وہ چیخ کر سبکو بتاۓ کہ اسکا شیرمار اسے واپس مل گیا.
” بالکل ٹھیک کہا آپ نے…محبت انسان کو ایسا ہی بنا دیتی ہے.”حیات نے دھیرے سے کہا اسکے لبوں پر ہنسی اور آنکھوں میں نمی تھی.شیرافگن اس دھوپ چھاؤں کے سنگم کو یک ٹک دیکھ رہا تھا.اتنا خوبصورت منظر اسنے کبھی نہیں دیکھا تھا.”لوو یو پرنسیس” شیرافگن نے سرگوشی کی حیات نے چونک کر اسے دیکھا پر کوئی جواب نہ دے سکی بس سرخ چہرہ جھکا گئی.”تم جواب نہیں دو گی؟” شیرافگن نے مسکرا کر کہا.
“ابھی نہیں بعد میں”حیات نے سنہری آنکھوں سے اسے دیکھا.”اہم مطلب شادی کے بعد چلو اوکے.” اسنے شرارت سے کہا پھر بولا”ویسے میں سوچ رہا تھا کہ اگر آج میں تمہیں نہ مناتا تو تم مجھ سے بات نہیں کرتی؟”اسنے آبرو اٹھا کرپوچھا.”غصے میں سوچا تو میں نے یہی تھا کہ آپ سے بات نہیں کرونگی پر شاید میں ایسا نہ کر پاتی.آپکو منانے کی ایک اورکوشش ضرورکرتی” حیات نے مدھم لہجے میں سر جھکا کر کہا.
“تواب تمہارے سامنے ہوں مانگ لو معافی” شیرافگن نے شرارت سے اسکے جھکے سر کو دیکھ کر کہا.حیات نے جھٹ سے سر اٹھایا.”اب آپ مان گئے ہیں.اب مجھے کیا ضرورت ہے.” حیات نے منہ بنا کر کہا.”چالاک لڑکی”شیرافگن نے ہنس کر اسکے سر پر ہلکی سی چپت لگائی. “وہ تو ہوں”حیات نے گردن اکڑ کر کہا. شیرافگن اسے دیکھ کر مسکرایا.حیات پلٹ کر جانے لگی. شیرافگن نے جلدی سے اسکے دوپٹے کا کونا پکڑ لیا.حیات نے گردن موڑ کر اسے دیکھا.”رخصتی کی تیاریاں کرو جلد ہی یہ دولہا اپنی دلہن کو لینے آۓ گا.”اس نے پیار سے کہا.پھر اسکا دوپٹہ چھوڑ دیا.حیات مسکرا کر تتلی کی طرح اڑتی ہوئی سیڑھیاں اترنے لگی.آج اسے اتنی خوشی ملی تھی کہ وہ بیان نہیں کر سکتی تھی.آج اسنے اپنی محبت کو پا لیا تھا.وہ خوش تھی.بے پناہ خوش.اسے اپنے آنچل سے ستارے بندھے ہوئے محسوس ہورہے تھے.
•••••••••••
انکی شادی کے لئے شاپنگ کا سلسلہ چل نکلا تھا.سارا اور الماس بیگم کے مارکیٹ کی طرف چکر لگنے لگے تھے.شیرافگن اور اپنی ناراضگی ختم ہونے کی خبر حیات نے ایمان اور اپنی چڑیلوں کو بھی سنائی تھی.وہ سب اسکے لئے بہت خوش ہوئیں تھیں.حیات خود بھی بہت خوش تھی.اسکے لبوں سے مسکراہٹ جدا ہی نہیں ہورہی تھی.اسے ہر چیز پہلے سے زیادہ خوبصورت اور نکھری ہوئی محسوس ہورہی تھیں.وہ ابھی نہا کر نکلی تھی.بھیگے بالوں کو اسنے جھٹک کر پیچھے کیا.خوبصورت سے لیمن اور سفید لباس میں وہ بہت پیاری لگی رہی تھی.اس نے بالوں میں برش کر کے کھلا چھوڑ دیا.پھر سائیڈ ٹیبل سے موبائل لے کر اسے دیکھنے لگی.اس کے پیچھے بنی پرنسیس کو دیکھا تو ایک دم ہنسی.
“پرنسیس!!”اسنے مدھم مسکان کے ساتھ کہا.یہ کوور شیر افگن نے شاید اسی بات کو ذہن میں رکھ کر لیا ہوگا کہ وہ یہ پرنسیس اپنی پرنسیس کے لئے لے کر جا رہا ہے.”میں بھی ناں” اسنے ہنس کر سر پر ہاتھ مارا.پھر موبائل کو چارج پر لگا کر اسنے دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا اور کمرے سے نکلی.شیرافگن کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا.وہ محترم آفس گئے ہوئے تھے.سر جھٹک کر وہ نیچے آئی.ہال میں تائی امی اور دادو، ہانیہ کو گھیر کر بیٹھیں تھیں.حیات بھی وہاں بیٹھ گئی. ہانیہ نے معصوم سی شکل بنا کر حیات کو دیکھا.حیات نے اشارے سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ہانیہ کے بولنے سے پہلے ہی تائی امی ہانیہ کو سمجھانے لگیں.”دیکھو ہانیہ بس اب بہت ہوگیا مان جاؤ.انہوں نے اتنے دل سے رشتہ مانگا ہے.تمہاری ماں نے مجھ پر یہ زمیداری ڈالی ہے.اگر تم مان گئی تو وہ بھی جلد پاکستان آئیں گے.”سارا بیگم نے بھانجی کو سمجھایا.”پر خالہ یہ سب اچانک”ہانیہ بے زاری سے بولی جبکہ حیات مزے سےسب سن رہی تھی.”بیٹا یہ سب اچانک ہی ہوتا ہے. مان جاؤ اب.”دادو نے اسکا کندھا تھپک کر کہا. ہانیہ رونے والی ہوگئی.”ویسے دادو ، تائی امی لڑکا کون ہے؟ جس کے لئے ہماری ہانی کا رشتہ آیا ہے؟”حیات نے خوشی سے پوچھا.
“مجتبیٰ کے کزن علی کا رشتہ آیا ہے.اسکی ماں نے اتنی محبت سے رشتہ مانگا ہے.” تائی امی نے حیات کو بتایا.حیات خوشی سے اچھل پڑی.”افف سچ میں….یہ تو بہت اچھی بات ہے.”حیات نے ہانیہ کو دیکھ کر کہا.”اچھا خالہ ، دادو میں آپ لوگوں کو سوچ کر بتاؤں گی.”ہانیہ جلدی سے کہتی اٹھ کر لان کی طرف بڑھ گئی.حیات بھی اٹھ کر اسکے پیچھے گئی اور لان میں ہانیہ کے ساتھ بینچ پر بیٹھ گئی.”کیا ہوا آپکو ہانیہ؟” حیات نے اسے دیکھ کر پوچھا.ہانیہ سامنے دیکھتی رہی.”حیات میرے لئے یہ فیصلہ اتنا آسان نہیں ہے. …میرا دل میرا نہیں ہے.”ہانیہ نے نم آواز میں کہا.
“پرہانیہ اب آپکو فیصلہ لینا ہوگا.آپ خود کو محبت کی سزا نہ دیں.” حیات نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا.”تمہیں پتہ ہے حیات کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اس محبت نے مجھے کیا دیا ہے.میں کل بھی اکیلی تھی.میں آج بھی اکیلی کھڑی ہوں.اس محبت نے مجھے سواۓ درد کے کچھ نہیں دیا گڑیا.میں اب اکیلے چلتے چلتے تھک گئی ہوں.”ہانیہ نے روتے ہوئے اسے دیکھا.حیات نے خاموشی سے اسے گلے لگایا.اسنے ہانیہ سے کچھ نہ پوچھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ہانیہ کی محبت شیرافگن ہے.ہانیہ نے اس بات کو راز رکھا ہے.تو حیات کو بھی اس بات کا بھرم رکھنا تھا.”پلیز ہانی خاموش ہوجائیں.مجھے پتہ ہے کہ یہ سب آپ کے لئے مشکل ہوگا پر علی اچھے انسان ہیں.آپ انکے ساتھ خوش رہیں گیں.”اسنے ہانیہ کی کمر سہلا کر کہا.حیات جانتی تھی کہ جب آپکی محبت آپکو نہ ملے تو کتنا درد ہوتا ہے.پر ہانیہ کے نصیب میں شیرافگن کی محبت نہیں لکھی تھی.”پھر تم کل میری طرف سے خالہ اور دادو تک میرا اقرار پہنچا دینا.”ہانیہ نے اس سے الگ ہو کر کہا.”آج کیوں نہیں؟”حیات نے الجھ کر پوچھا.”آج مجھے اپنی محبت کو دفن کرنا ہے تاکہ اس نیے رشتے سے انصاف کر سکوں.اپنے دل کے اندر سے پہلی تصویر ہٹا سکوں.تم کل بتا دینا سبکو اوکے.”ہانیہ نے مسکراتے لبوں اور آنسوؤں بھری آنکھوں سے حیات کو دیکھ کر کہا پھر جلدی سے اٹھ کر اندر کی طرف بڑھی.حیات کی آنکھوں میں نمی پھیل گئی.وہ سوچنے لگی کہ محبت مل جائے تو اس سے زیادہ خوبصورت کچھ نہیں اور اگر نہ ملے تو محبت سے زیادہ ظالم کچھ نہیں.وہ بیٹھی ہانیہ کی محبت پر آنسو بہا رہی تھی جب اسکے ساتھ کوئی آ کر بیٹھا. اسنے چونک کےگردن موڑ کر دیکھا.بلیک سوٹ میں اچھے سے تیار شیرافگن اسکے ساتھ بیٹھا تھا.وہ ابھی ہی آفس سے آیا تھا.اسکے دیکھنے پر شیرافگن نے اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا.”کیوں رو رہی ہو؟”پوچھا گیا.
“کسی کی محبت پر” حیات نے آہستہ سےکہا
“کس کی؟”شیرافگن نے اسکی سنہری آنکھوں میں دیکھا.”ہانیہ کی”اسنے مدھم آواز میں کہا
شیرافگن نے لمبی سانس کھینچی.”ہوں…اچھا” اسنے بس اتنا ہی کہا.”ہانیہ کے لئے رشتہ آیا ہے.”اسنے شیرافگن کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ کو دیکھ کر کہا.”یہ تو اچھی بات ہے.کس کا رشتہ آیا ہے؟”شیرافگن نے آبرو اٹھا کر پوچھا.
“مجتبیٰ بھائی کے کزن علی کا.”حیات نے اسے دیکھ کر کہا.”ہوں..اچھا لڑکا ہے علی..ہانی اسکے ساتھ خوش رہے گی.”شیرافگن نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا.وہ علی سے چڑ جاتا تھا پر علی اچھا لڑکا تھا.ڈیسنٹ سا وہ ہانیہ کو خوش رکھے گا.اس بات سے شیرافگن مطمئن تھا.”جی…ہانیہ بھی مان گئیں ہیں.”حیات نے اسے بتایا.”دیٹس گریٹ…اب اسی خوشی میں تم بھی اپنی رونی صورت ٹھیک کرلو یار”اسنے حیات کا گال تھپک کر کہا.حیات دھیمے سے ہنسی.”ویسے میری محبت نے تمہیں اور پیارا نہیں بنا دیا؟”شیرافگن نے آبرو اٹھا کر کہا
“کیا مطلب ہے آپکا؟ میں پہلے اتنی پیاری نہیں تھی؟”حیات آنکھیں نکال کر بولی
“نہیں…پہلے تم فقیرنی لگتی تھی.”شیرافگن نے ہنسی دبا کر کہا.حیات کا منہ بن گیا. اسنےشیر افگن کو دیکھا.”ہاتھ چھوڑیں!!” اسنے کہہ کر ہاتھ چھڑایا.پھر اٹھ کھڑی ہوئی. شیرافگن نے حیرت سے اسے دیکھا.” مجھے ہاتھ پکڑنے کا حق ہے.”شیرافگن بھی اٹھ کھڑا ہوا.”اچھا..پر ہاتھ پکڑا ہو تو بھاگنا مشکل ہوتا ہے ناں.”حیات نے آنکھیں جھپک کر کہا پھر اسے دیکھتی پیچھے ہوئی پھر ذرا سا جھکی.شیرافگن نے الجھ کر اسے دیکھا.حیات نے پانی کا پائپ اٹھایا اور اسکا رخ شیرافگن کی جانب کیا. پانی نے اسے بھیگو ڈالا تھا.وہ حیران ، پریشان کھڑا رہ گیا.حیات نے ہنس کر اسے دیکھا.”میں پہلے فقیرنی لگتی تھی پر آپ تو اب بھی فقیر لگ رہے ہیں.”اسنے ہنس کر آنکھیں گھما کر کہا.شیرافگن غصے سے اسکی طرف بڑھا.”ہاۓ اللّه….”وہ پائپ پھینک کر جلدی سے اندر کی طرف بھاگنے لگی.”تم میرے ہاتھ آؤ تمہیں سیدھا کرونگا….فقیرنی کہیں کی.”شیرافگن نے دانت پیس کر کہا.حیات نے پلٹ کر اسے دیکھا.”اوکے شیرمار”چڑا کر کہتی وہ اندر چلی گئی.شیرافگن اپنا بھیگا کوٹ اتارتے ہوئے ہنس پڑا.وہ خوش تھا کہ آج اسکی زندگی پھر سے کھلکھلا اٹھی تھی.
•••••••••••
حیات نے ہانیہ کا اقرار سب تک پہنچا دیا تھا.تائی امی تو بہت خوش تھیں.بہن نے یہ کام انکے زمے لگایا تھا.جسے وہ انجام دے چکی تھیں.انہوں نے کال کر کے بہن کو بھی خوش خبری دی.حیات اپنے کمرے میں تھی جب اسکا موبائل بجا.اسنے سکرین پر نظر ڈالی تابی کی کال تھی. اسنے کال پک کی. “ہیلو!!”تابی نے ہانپ کر کہا.”ارے کیا ہوا میڈم؟”حیات نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا.”نہ پوچھو یار…بہت برا ہوا ہے.”تابی نے افسوس سے کہا.”برا کی کچھ لگتی.جلدی بتاؤ کیا ہوا ہے؟”حیات نے جھنجھلا کر کہا.”یار شاپنگ کرنے گئی تھی. وہاں کمینہ چور میرا پرس چھین کر بھاگ گیا.میں اسکے پیچھے بھاگی پر وہ نظروں سے اوجھل ہوگیا.”تابی رکی. “بدتمیز بریک نہ لگاؤ اور جلدی جلدی بتاؤ.” حیات نے تپ کر کہا.
“پھر میری نظر ایک ہینڈسم سے لڑکے پر پڑی اسکے ہاتھ میں میرا پرس تھا.میں تو حیران رہ گئی کہ اتنے ہینڈسم لڑکے بھی چور ہوتے ہیں. بس پھر میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بھاگ کر اسکی طرف گئی.اسے دھکا دے کر اسکے ہاتھ سے پرس چھینا پھر چور چور چیخنا شروع کیا. پاس کھڑا پولیس والا ہماری طرف آیا.میں خوش ہوئی کہ میں نے اس چور کو پکڑا لیا” تابی کہہ کر خاموش ہوئی.”واہ ویری گڈ…بہت اچھا ہوا کہ چور کا بچہ پکڑا گیا.” حیات نے اسے شاباشی دی.”کیا گڈ… کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی.”تابی نے منہ بنایا.”تو پھر آگے کیا ہوا؟”حیات نے تجسس سے پوچھا. “جسکو میں چور سمجھی تھی وہ خود پولیس آفیسر تھا.اسنے چور سے پرس چھینا تھا.چور کمینہ بھاگ گیا پر میرا پرس اس آفیسر نے بچا لیا اور میں اسے ہی چور سمجھ بیٹھی.کیسے گھورتا رہا وہ مجھے توبہ .مجھے تو بڑی شرمندگی ہوئی تھی.پھر میں نے اسے سوری بھی نہیں کیا اور وہاں سے بھاگ گئی.”تابی نے لمبی سانس کھینچ کر افسوس سے کہا.حیات ہنسنے لگی تو ہنستی ہی چلی گئی.دوسری طرف تابی تپ گئی.”چڑیل ہو تم…منہ بند کرو”تابی نے غصے کہا.”نہیں…اور بھی ہنسوں گی.”حیات نے ہنس کر کہا تو تابی نے غصے میں فون بند کر دیا.
“یہ تابی بھی ناں” اسنے مسکرا کر فون کان سے ہٹایا.ابھی اسنے موبائل رکھا ہی تھا کہ پھر رنگ ہونے لگی.اسنے کال پک کی اسے لگا تابی ہی ہوگی.”ہاں بولو….کیا کچھ کہنا بھول گئی ہو؟”حیات نے ہنس کر پوچھا.”بولو بھی”اسنے پھر کہا پر جواب نہ آیا.اسنے کان سے موبائل اٹھا کر سکرین کو دیکھا کوئی ان نون نمبر تھا.اسنے سکرین کو گھورا کال لگی ہوئی تھی پر دوسری طرف خاموشی چھائی تھی.حیات کو تیش آیا.”جو بھی ہے مر جاؤ منحوس، بےغیرت، جہنم کی آگ میں جلو…”وہ تپ کر شروع ہو چکی تھی.کتنے دنوں سے اسکے ساتھ یہ ناٹک چل رہا تھا.اسے تو ٹھیک ٹھاک غصہ آگیا.اسکے سنانے پر دوسری طرف سےایک دم کال کاٹ دی گئی.حیات بھی غصے سے موبائل بیڈ پر رکھتی کمرے سے نکل گئی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *