Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34 (Watching)
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
حیات کو شیرافگن کے روم میں لے جایا گیا.
اسنے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ایک نظر اپنے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا.”اب وہاں نہیں…یہاں دیکھو”ہانیہ نے شرارت سے شیرافگن کے کمرے کی طرف اشارہ کیا.”بالکل اب شیر مار کا کمرہ ہی آپکا ہے.”ایمان نےہنس کراسکا بازو تھاما تو حیات گلابی چہرہ جھکا گئی.وہ لوگ کمرے میں داخل ہوئیں.
کمرہ اچھے سے سجایا گیا تھا.ٹیبل پر پھول بکھرے تھے اورکینڈلز جل رہی تھیں.بیڈ کے گرد پھولوں کی لڑئیاں لگیں تھیں.کمرہ پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا.حیات کو بیڈ پر بٹھایا گیا.کافی دیر تک سب اسکے پاس رہیں. پھر حیات کو ریلیکس ہونے کا کہہ کر چلی گئیں.اسنے بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائی.وہ کافی تھک چکی تھی.آنکھوں پر بوجھ تھا.اسنے آنکھیں موند لیں اور اپنی نئی زندگی کا سوچنے لگی.شیرافگن کا خیال اسکے لبوں کو مسکان سے سجا گیا.
اچانک شور ہوا.حیات سیدھی ہو بیٹھی.کمرے کے باہر سب لڑکیوں کے بیچ اسکا شیر مار پھنسا تھا.حیات کو ہنسی آنے لگی.شیرافگن سے پیسوں کی ڈیمانڈ کی جارہی تھی.اسے کیا تھا اسنے اپنا پرس ہی انھیں پکڑا دیا کہ اب اسے کمرے میں جانے دیا جائے.سب لڑکیاں اسکی حرکت پر زور زور سے ہنسنے لگیں. حیات کا دل چاہا وہ بھی افگن کی یہ حالت دیکھے.وہ ہنس رہی تھی جب دروازہ کھول کر وہ کمرے میں داخل ہوا اور جھٹ سے دروازہ بند کیا جیسے اسکے پیچھے بھوت لگے ہو.اسے دیکھ حیات زور سے ہنسی.شیرافگن نے پلٹ کر اپنی نئی نویلی دلہن کوگھورا.”بہت ہنسی آرہی ہے.دلہن ہو کچھ تو خیال کرو.”شیرافگن نے سینے پر بازو باندھ کر کہا.حیات نے لب دانتوں میں دبا کر ہنسی روکنی چاہی پر ہنسی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی.
“مسز شیرافگن”شیرافگن نے اسکے قریب آتے ہوئے سنجیدگی سے کہا.اسکی آنکھوں میں شوخ سی چمک تھی.”یس مسٹر شیرافگن” حیات نے شرارت سے اسے دیکھا.
“اسلام و علیکم”شیرافگن نے اسکے سامنے بیٹھ کر اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا.
“وعلیکم السلام” حیات نے سنہری آنکھوں سے اسے دیکھ کر اسکا ہاتھ تھاما.”نئی زندگی مبارک ہو.”اسنے حیات کے ہاتھ پر لب رکھے. حیات کے چہرے پر شفق کی لالی بکھر گئی. “آپکو بھی..”اسنے کہہ کر چہرہ جھکانا چاہا پر شیرافگن نے ہاتھ بڑھا کر اسکے گال پر رکھا. “بہت پیاری لگ رہی ہو”اسنے مدھم آواز میں کہا.حیات کی آنکھیں چمکنے لگیں.شیرافگن نے اسکی آنکھوں میں دیکھا.یہ سنہری آنکھیں اسکی کمزوری بن گئیں تھیں.انتی حسین آنکھیں اسنے کھبی نہیں دیکھیں تھیں.ان آنکھوں نے شیرافگن کو قید کر لیا تھا.وہ دیوانہ ہی تو ہو گیا تھا ان آنکھوں کا۔
تیری آنکھوں کی قسم زندگی سمجھا ہے تجھے تجھ کو کچھ سوچ کہ سانسوں میں شراکت دی ہے.
اسنےحیات کے کان میں سرگوشی کی تو حیات کی آنکھوں سے سنہری روشنی نکلنے لگی.شیرافگن کے مسلسل دیکھنے پر حیات نے پلکیں جھپک کر اسے دیکھا.”آپ یوں نہ دیکھیں”حیات نے اسے دیکھ کر کہا. “ارے…کیوں”شیرافگن قہقہہ لگا کر ہنسا.”نظر لگ جائے گی ناں مجھے”حیات نے شرارت سے کہا.”تو میں ماشاء اللّہ کہہ دونگا”شیرافگن نے مسکرا کر اسکے سر سے سر ٹکرایا.پھر اسکا ہاتھ پکڑ کر اٹھ کھڑا ہوا.حیات نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا.”تم چلو… بتاتا ہوں” اسنے مسکرا کر آہستہ سے حیات کے ہاتھ کو ہلکا سا جھٹکا دیا تو وہ مدھم مسکان کے ساتھ لہنگا سنبھال کر اٹھ کھڑی ہوئی.اسکے اٹھنے سے اسکی چوڑیاں اور پائل بجنے لگیں.جس سےکمرے میں چھن چھن کی آواز پھیل گئی.شیرافگن اسکا ہاتھ پکڑ کر کمرے کے ایک سرے پر لے آیا.حیات نے حیرت سے سامنے پردے کو دیکھا پھر شیرافگن کو”آگے بڑھ کر پردے کو ہٹاؤ”شیرافگن نے مدھم سا مسکرا کر کہا. حیات آگے بڑھی اور وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا.حیات نے نظر اٹھا کر بڑے سے پردے کو دیکھا.وہ سوچنے لگی اسکے پیچھے کیا ہو گا؟ اسنے ہاتھ بڑھا کر پردے کو پیچھے کیا.سامنے دیکھ کر خوشی سے اسکی آنکھیں پھیل گئیں. وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر اس بڑی سی بک شیلف کو دیکھنے لگی.جس میں ڈھیر سارے ناولز تھے.اتنی بکس کو دیکھ کر وہ خوشی سے اچھل پڑی.اسکی سنہری آنکھیں چمکنیں لگیں. اسنے ہاتھ بڑھا کر ایک بک کو ہاتھ میں لیا.اس پر ہاتھ پھیرا اسے کتابوں کی دنیا بہت پسند تھی.یہ جادوئی دنیا ہوتی ہے.جو انسان کو اپنے سحر سے باندھ لیتی ہے.وہ بھی اس سحر سے بندھی ہوئی تھی.وہ ایک دم چونکی پھر بک رکھ کر مسکراتی ہوئی تیزی سے شیرافگن کی طرف آئی. وہ مسکرا کر اپنی پرنسس کے چہرے پر بکھرے خوشی کے رنگ دیکھ رہا تھا.”افگن… یہ سب”اسنے ہنس کر شیرافگن کا بازو پکڑا اور شیلف کی طرف اشارہ کر کے کہا.” گفٹ…. تمہارے لئے پرنسس”اسنے محبت سے حیات کی ناک دبا کر کہا.”دی بیسٹ گفٹ ایور……”اسنے خوشی سے شیرافگن کو دیکھا”میری زندگی میں یہ اب تک کا بیسٹ گفٹ ہے.”حیات نے سنہری آنکھوں میں روشنی بھر کے اسے دیکھ کر مدھم لہجے میں کہا.وہ ناولز کی دیوانی تھی. یہ گفٹ اسکے لئےکسے خزانے سے کم نہ تھا.ان کتابوں میں الگ جہان آباد تھا.جسے پڑھ کے وہ خود کو بھی خوابوں کی دنیا میں محسوس کرتی تھی.اسکے لئے اس سے اچھا گفٹ کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا.شیرافگن نے حیات کو دیکھا. اسکے چہرے کی چمک نے شیرافگن کے دل کو سکون بخشا تھا.وہ کچھ اسپیشل کرنا چاہتا تھا تاکہ اسکی جھلی خوش ہو جائے اسلئے ناولز کے لئے اس دیوانگی کو سامنے رکھتے ہوئی اسنے حیات کو یہ گفٹ دیا تھا.اسنے حیات کا ہاتھ تھاما پھر بولا”اور یہ رنگ بھی آپکے لئے…..مائی پرنسیس”مسکرا کر ڈائمنڈ رینگ حیات کی انگلی میں ڈالی.حیات نے حیرت اور خوشی سے اسے دیکھا.”بہت پیاری ہے.”اسنے رنگ پر نظریں جما کر کہا. شیرافگن نے نرمی سے اسے دیکھا”تم سے کم….”پیار سے کہا گیا.حیات نے مسکرا کر اسےدیکھا. شیرافگن نے محبت سے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کیا.”میم اب آپ ذرا مجھے میرا شکریہ تو دیں.”وہ شرارت سے اسکی طرف جھک کر بولا.حیات کا دل اودھم مچانے لگا. اسنے پلکیں جھپک کر شیرافگن کو دیکھا.پھر ہاتھ بڑھا کر انگلی کی پور پر آنکھ کے کنارے سےکاجل لیا.”آپکا شکریہ کیوں ادا کروں.” اسنے آبرو اٹھا کراسے دیکھا پھر بولی”یہ سب میرا حق ہے. بس آپکو میری نظر نہ لگے اسلئے یہ کالا ٹیکا لگا دیتی ہوں…… نظر کا توڑ”اسنے مسکرا کر مدھم آواز میں کہا پھرہاتھ بڑھا کر تل کی مانند ٹیکا اسکے گال پر لگایا.اسکی اس ادا نے شیرافگن پر تو جیسے جادو کر دیا تھا.وہ سحر میں کھویا حیات کو دیکھ رہا تھا.پھر مسکرا کر اپنا سر اسکے سر سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں.”لو یو پرنسس” بھاری آواز کہا گیا.حیات کے لبوں پر مسکان پھیلی.”لو یو ٹو مسڑ پرنس”مسکرا کر اظہار کیا گیا. شیرافگن نے جھٹ سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا.”کیا کہا میری جھلی نے؟”اسنے خوشی سے پوچھا. وہ جانتا تھا کہ حیات اس سے محبت کرتی ہے پر اسنے کبھی اظہار نہیں کیا تھا. پر اب…یوں اچانک….اسنے شیرافگن کو اتنی بڑی خوشی دی تھی.”وہی جو میرے شیرمار نے سنا.”حیات نے مسکرا کر شرارت سے کہا.شیرافگن نرمی سے اسکے ماتھے پر لب رکھے.حیات نے اپنا سر اسکے کندھے سے ٹکا لیا.آج وہ دونوں مکمل ہو چکے تھے.انھیں محبت کی دولت نے مالا مال کر دیا تھا.
••••••••••• زندگی محبت ہے ، محبت خوشبو ہے.
خوشبو آرزو ہے ، آرزو جستجو ہے.
جستجو دیوانگی ہے ، دیوانگی بندگی ہے.
بندگی خواب ہے ، خواب آنسو ہے.
آنسو دھڑکن ہے ، دھڑکن دل ہے.
دل تو ہے ، تو زندگی ہے.
میری زندگی ہے……..
اسنے شیشے کے سامنے کھڑی حیات کے کان میں سرگوشی کی.حیات نے بالوں میں برش کرتے ہاتھ روک کر شیشے میں اپنے پیچھے کھڑے شیرافگن کو مسکرا کر دیکھا.شیرافگن نے اسکے قریب ہو کر اسکے گلے میں بازو ڈال کر تھوڑی اسکے کندھے پر رکھی پھر نظر اٹھا کر شیشے میں اسے دیکھا.””کچھ مدد کروں؟” اسنے محبت سے پوچھا.حیات ایک دم ہنسی. “بال بنا دیں”اسنے شرارت سے کہا.
“ابھی بنا دیتا ہوں…شیرافگن کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے.”شیرافگن نے آہستہ سے اسکے سر سے سر ٹکرا کر کہا.حیات نے ہنسی روکنے کے لئے منہ پر ہاتھ رکھا.” لاؤ برش دو”اسنے ہاتھ آگے بڑھایا.”جانے دیں…آپ سے نہیں بنیں گے.”حیات نے مسکرا کر اسے دیکھا.
“کیوں نہیں بنیں گے…لاؤ برش…” شیرافگن نے آبرو اٹھا کر کہا.حیات نے ہنسی دبا کر برش اسے پکڑا دی.شیرافگن اسکے بالوں میں برش کرنے لگا.پھر کسی طرح جوڑا بنایا.”پنس پکڑاؤ….”اسنے ہاتھ بڑھایا.حیات نے قہقہہ دبا کر ڈریسنگ ٹیبل سےہیئر پنس اٹھائیں.پھر ہتھیلی پر رکھ کر ہاتھ پیچھے کی طرف کیا.وہ ایک ایک پن اٹھا کر بڑی مشکل سے انھیں کھول کر اسکے بالوں میں لگانے لگا.حیات نے پیار بھری نظروں سے مرر میں شیرافگن کو دیکھا.وہ مگن سا ،ماتھے پر شکنیں ڈالے اسکے بال بنا رہا تھا.آخر اسنے حیات کے بالوں کا میسی سا جوڑا بنا ہی دیا تھا.”لو مسز شیرافگن آپکے بال بن گئے.”اسنے لمبی سانس کھینچ کر کہا.جیسے بہت مشکل کام سر انجام دیا ہو. حیات مسکرا کر اسکی طرف پلٹی.”تھینکس شیرمار”اس نے سنہری آنکھوں سے اسے دیکھ کر کہا.”خوش رہو میری جھلی”شیرافگن نے پیار سے اسکی لٹ انگلی پر لپٹی.حیات کی آنکھوں سے روشنی پھوٹنے لگی پھر اسنے ایک دم پلکیں جھپکیں.”تیار ہوجائیں مسٹر اور مجھے بھی پالر جانا ہے.” اسنے شیرافگن کا ہاتھ نیچے کرتے ہوئے کہا. “کتنی اچھی باتیں ہورہی ہیں اور تمہیں تیاری کی پڑی ہے.”شیرافگن نے خفگی سے کہا.حیات نے مسکرا کر اسے دیکھا. تبھی دروازہ پر نوک ہوئی.اجازت پر ایمان کمرے میں داخل ہوئی.
“پیارے دولہا ، دلہن تیاری کا کچھ کریں.آج آپکا ولیمہ ہے.” ایمان مسکرا کر انکی طرف آئی.”تیار ہوجائیں گے.جلدی کیا ہے.”شیرافگن نے بے زاری سے کہا.”توبہ بھائی ہال میں پہنچنا ہے.دادو کو لیٹ ہونا پسند نہیں ہے.”بھائی سے کہہ کر وہ حیات کی طرف مڑی.”چلو گڑیا… ہمیں پالر جانا ہے…ہم تو چلیں…تمہیں نہ پا کر بھائی بھی تیار ہوجائیں گے.”اسنے شرارت سے کہہ کر حیات کا ہاتھ تھاما.
“بائے بھائی.” ایمان نے ہنس کر بھائی کے سامنے ہاتھ لہرایا.ساتھ ہی حیات نے بھی ہنس کر اسے بائے کیا اور ایمان کے ساتھ کمرے سے نکل گئی.شیرافگن نے مسکرا کر سر پہ ہاتھ پھیرا.
پھر الماری کی طرف بڑھ کر کپڑے نکالنے لگا.
انکی گاڑیاں ہال کے سامنے رکیں.سب لوگ نکل کر اندر کی طرف بڑھے.برے ابو وہاں چیزیں چیک کرنے لگے کہ کوئی کمی نہ رہے. آہستہ آہستہ سب مہمان وہاں پہنچ رہے تھے. ہلکا میوزک بج رہا تھا جو ماحول کو خواب ناک بنا رہا تھا.کچھ دیر میں مجتبیٰ ، ایمان اور شیرافگن ، حیات ہال میں پہنچے.حیات انگوری لہنگا ، شرٹ میں ملبوس تھی.جس پر سفید موتیوں کا کام خوبصورتی سے ہوا تھا. دوپٹہ ایک طرف کندھے پر ڈالا تھا.بالوں کا پیارا سا جوڑا بنا تھا.نازک جیولری اور لائٹ سے میک میں بہت پیاری لگ رہی تھی.اسکے ساتھ شیرافگن نیوی بلیو سوٹ میں ملبوس تھا.بھورے بالوں کو اچھے سے سیٹ کیا تھا. اسکے چہرے پر خوشی کی چمک تھی.وہ دونوں قدم سے قدم ملا کر چل رہے تھے.سب کی نظروں کا مرکز وہ دونوں تھے.شیرافگن نے ساتھ چلتی حیات کو دیکھا وہ بھی اسے دیکھ کر مسکرائی.اسکی سنہری آنکھیں لو دینے لگیں اور گال میں پڑتا ڈمپل واضح ہوا.شیر افگن نے نظروں ہی نظروں میں اسکی نظر اتاری.دونوں دادو کے قریب آئے انہوں نے دونوں کو ڈھیر ساری دعائیں دیں.باقی سب سے مل کر وہ اسٹیج کی طرف بڑھے.
حیات کی چڑیلوں نے آتے ہی حیات پر حملہ کیا تھا.اسے اتنا تنگ کیا کہ وہ رونے والی ہوگئی.”افگن بھائی نے کیا گفٹ دیا؟”حریم نے اسکے قریب ہو کر پوچھا.باقی سب بھی اسکی طرف متوجہ ہوئیں.”ڈھیر سارے ناولز اور یہ……”حیات نے اپنا بائیاں ہاتھ انکے سامنے کیا.جس میں ڈائمنڈ رینگ چمک رہی تھی.
“واؤ…گریٹ…”اس سب نے خوشی سے کہا.حیات مسکرانے لگی.” آہا افگن بھائی تو بڑے رومینٹک نکلے.”تابی نے آنکھ دبا کر کہا.
“فکر نہ کرو….ولی بھائی بھی افگن کے دوست ہیں.اہم” حیات نے شرارت سے کہا.تابی زور سے ہنسی.”اوئے… میں شرما گئی”اسنے آنکھیں گھما کر کہا.”چڑیلوں والی ہنسی سے لگ تو نہیں رہا.”سبین نے اسے گھور کر کہا.”تم تو چپ ہی رہو…میں گئی ولی کو دیکھنے…کب سے نظر نہیں آئے.”وہ سبین کو ڈانٹ کر ان سب سے کہتی اسٹیج سے اتر گئی.”یہ تو پوری دیوانی ہوگئی ہے.”مینا نے افسوس سے گردن ہلائی.پھر حیات کی طرف پلٹی.
“تمہیں پتہ ہے جلد ہی حریم صاحبہ بھی پیا کے گھر جانے والی ہے.” اسنے خوشی سے بتایا. “ہائے…ہارون بھائی کو آخر محترمہ کا خیال آ ہی گیا.”حیات نے ہنس کر حریم کو کہنی ماری تو وہ مسکرا کر سر جھکا گئی.
پیرس سے ہانیہ کے پیرنٹس آ چکے تھے.ہانیہ ان سے مل کر بہت خوش ہوئی.سارا بیگم بھی بہن کو دیکھ کر خوش تھیں.وہ حیات سے بھی پیار سے ملیں.پھر علی کے پیرنٹس سے مل کر ایک نئے رشتے کی شروعات کی. دونوں پیرنٹس میں علی اور ہانیہ کی منگنی کی باتیں ہونے لگیں تھیں. وہ سب اس رشتے سے بہت خوش تھے.
حیات ان سب کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھی تھی جب ایک لڑکی چلتی ہوئی اسٹیج پر آئی اور حیات کے سامنے کھڑی ہوئی.حیات کے ساتھ باقی سب نے بھی اسے دیکھا.
“سرپرائز…”اس لڑکی نے مسکرا کر سبکو دیکھا “اففف…شازمہ” حیات خوشی سے اٹھ کر اسکے گلے لگی.”شادی مبارک حیات”شازمہ نے اس سے الگ ہو کر کہا.پھر باقی سب سے ملی. سب اسے اچانک دیکھ کر بہت خوش ہوئیں. “خیر مبارک….پر تم یہاں…اچانک”حیات نے مسکرا کر پوچھا.
“دوست کو شادی کی مبارک دینے آنا تھا ناں.” اسنے محبت سے اسے دیکھ کر کہا.
“اف اللّه…شازمہ تم کتنی اچھی ہوگئی ہو” سبین نے جلدی میں کہہ دیا.سب کے ساتھ شازمہ بھی زور سے ہنسی.سبین زبان دانتوں میں دبا گئی.شازمہ کے پہلے رویے کو دیکھ کر ان میں سے ایک کو بھی یقین نہیں تھا کہ وہ کبھی انکی دوست بنے گی.پر اب وہ انکی بہت اچھی دوست تھی.”مجھے تم سب کی دوست بننے کے لئے اچھی تو ہونا ہی تھا ناں.”شازمہ نے مسکرا کر سبکو دیکھا.کچھ دیر بعد ایک لڑکا اسٹیج پر آ کر شازمہ کے ساتھ کھڑا ہوا.”یہ حمزہ ہیں… میرے منگیتر”شازمہ نے انھیں دیکھ کر کہا.سب نے حیرت سے حمزہ کو دیکھا.وہی حمزہ جو شازمہ کا دیوانہ تھا.انکا کلاس فیلو اور اب شازمہ کا منگیتر تھا.وہ سب ایک دم مسکرانے لگیں.”مبارک ہو…حمزہ بھائی”سب نے ایک ساتھ کہا.حمزہ نے مسکرا کر جواب دیا.”شازمہ تم تو چھپی رستم نکلی…. ہمیں بتایا ہی نہیں.”حیات نے اسے دیکھ کر کہا.”بس سب اچانک ہوا تو…”شازمہ مسکرا کر سر جھکا گئی.کچھ دیر بعد حمزہ وہاں سے چلا گیا تو سب نے شازمہ کو گھیر لیا اور اس سے ساری سٹوری سنی.شازمہ پاکستان سے جانے کے بعد واپس نہیں آنا چاہتی تھی پر پھر وہ ایک بار اپنے پیرنٹس کے ساتھ پاکستان آئی.تبھی وہ حمزہ سے ملی. حمزہ اتنا ڈیسنٹ تھاکہ دونوں کی دوستی ہوگئی.پھر کچھ وقت بعد حمزہ کے پیرنٹس اسکا رشتہ لے آئے.جسے شازمہ نے قبول کر لیا.یوں دونوں اس رشتے میں بندھ گئے.
مینا ان سبکے ساتھ اسٹیج پر بیٹھی تھی جب اسے لگا کوئی اسے دیکھ رہا ہے.اسنے نظر اٹھا کر ارد گرد دیکھا پر اسے کوئی نظر نہ آیا جو اسے دیکھ رہا ہو.مینا نے وہم سمجھ کر سر جھٹکا.اسے کب سے ایسا محسوس ہورہا تھا.پر وہ جب بھی آس پاس دیکھتی تو کوئی دیکھائی نہ دیتا.مسلسل اسی احساس سے اسے الجھن ہونے لگی تھی.”اف کیا ناٹک ہے” اسنے جھنجھلا کر کہا.”کیا ہوا؟”حریم نے اسے دیکھ کرپوچھا.”پتہ نہیں یار….کب سے مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے کوئی مجھے دیکھ رہا ہے.”مینا نے بے زاری سے کہا.”مبارک ہو..لگتا ہے کوئی تمہارا دیوانہ بن گیا ہے.”حیات نے آنکھ دبا کر کہا.سب زور سے ہنسیں.مینا کا منہ کھل گیا.”کیا فضول بول رہی ہو.”اسنے تپ کر کہا
“سچ کہہ رہی ہے.”سبین نے بھی لقمہ دیا.پھر
سب شروع ہو چکی تھیں.مینا منہ بگاڑ کر بیٹھ گئی.تبھی اسے پھر کسی کی نظروں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس ہوئی.اسنے اب کی بار تیزی سے نظر اٹھا کر دیکھا.دائیں طرف گردن گھمائی تو وہاں ایک لڑکا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا.مینا کے دیکھنے پر وہ ڈھیٹوں کی طرح مسکرایا.مینا کو تو تیش آگیا.”یہ انگریز کا بچہ….”وہ چبا کر بولی “کون انگریز ؟” تابی نے حیرت سے پوچھا.
“وہ….” مینا نے دور اشارہ کر کے کہا.”کب سے گھور رہا ہے کمینہ”مینا کو ٹھیک ٹھاک غصہ آگیا تھا.”واہ واہ…مینا کا دیوانہ انگریز نکلا” حیات نے اس لڑکے کو دیکھ کر کہا.جو اب کسی سے باتوں میں لگا تھا.وہ لڑکا شکل سے بالکل انگریز لگ رہا تھا.حیات کی بات پر سب زور سے ہنسیں.”اب دیکھے ذرا یہ مجھے….سیدھا کرتی ہوں پھر”مینا نے ہاتھ کا مکہ بنا کر کہا….پھر ہنسیں ہوئیں اپنی چڑیلوں کو غصے سے گھورنے لگی.
جاری ہے
