Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18

انکے نکاح کے دوسرے دن دادو،سارا بیگم اور شمس صاحب کو عمرہ پر جانا تھا.ایک بجے کی انکی فلائٹ تھی.سب ہال میں جمع تھے.کچھ دیر میں دادو لوگوں نے نکلنا تھا.امل اور حیات آج گھر پر ہی تھیں.وہ بھی انھیں چھوڑ نے جانے والیں تھیں.ایمان کل ہی سب سے مل کر مجتبیٰ کے ساتھ چلی گئی تھی.شیرافگن دادو کے پاس کھڑا تھا.اسنے ایک استحقاق بھری نظر حیات پر ڈالی.جو سارا بیگم سے باتیں کر رہی تھی.لائٹ پنک کپڑوں میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی.نکاح کے بعد حیات اسکے سامنے نہیں آئی تھی.آج ہی اسے حیات کو دیکھنے کا موقع ملا تھا.وہ حیات کو دیکھنے میں مصروف تھا.جب شمس صاحب نے اسے پکارا.
” شیرافگن چلو بیٹاگاڑی نکالو”انکے کہنے پر شیرافگن “جی بابا” کہتا باہر کی طرف بڑھ گیا.سب پورچ کی طرف بڑھے.احمد صاحب اور الماس بیگم سب سے ملے. حیات اور امل بھی ماما ، بابا کو بائے کہہ کر دادو، تائی امی اور بڑے ابو کے ساتھ کار میں بیٹھ گئیں۔تو شیرافگن نے کار آگے بڑھا دی.کار ایئر پورٹ کی جانب بڑھ رہی تھی.راستے میں دادو تینوں بچوں کو سمجھا رہیں تھیں کہ ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے.لڑائی نہیں کرنی وغیرہ.کار ایئر پورٹ کے سامنے رکی.سب باہر نکلے شیرافگن نے سامان ٹرالی میں رکھا.دادو نے امل اور حیات کو گلے لگایا.پھر وہ دونوں تائی امی سے ملنے لگیں.شیرافگن، دادو سے ملا.”شیرافگن بیٹا ہم جا رہے ہیں.سب کا خیال رکھنا اور ہاں حیات کا بھی خیال رکھنا۔ اسے ڈانٹنا مت، سمجھ گئے.”دادو نے نرمی سے کہا.شیرافگن نےمسکر کر انکے ہاتھ تھامے.”آپ اور ماما ،بابا بے فکر ہو کر جائیں دادو.یہاں کسی کی فکر نہ کریں.میں یہاں ہوں ناں”اسنے پیار سے دادو کو کہا پھر اپنی ماں سے بات کرتی حیات کو دیکھا پھر دادو کو”ویسےآپ نے اپنی پوتی کو بھی سمجھایا یاصرف مجھے ہی سمجھا رہی ہیں۔ اسے بھی میرا خیال رکھنے کا کہا ہے ناں؟.” اسنے ہنسی دبا کر پوچھا. “سمجھایا ہے بیٹا پر وہ تھوڑی نادان اور لاپرواہ ہے اور تم سمجھدار ہو، بڑے ہو.اسلئے تمہیں کہہ رہی ہوں.”انہوں نے مسکرا کراسکا شانہ تھپکا.”انشاء اللّه دادو آپکو مجھ سےکوئی شکایت نہیں ہوگی.جیسا آپ نے کہا ہے ویسا ہی ہوگا.” اسنے دادو کے ہاتھ چوم کر کہا.”میرا پیارا بچہ”دادو نے محبت سے اسے گلے لگایا.پھر شیرافگن اپنے ماما، بابا سے ملا.امل بھی انکے قریب کھڑی تھی جبکہ حیات کچھ فاصلے پر کھڑی سب دیکھ رہی تھی.”ہر کسی پر شیرمار نے جادو کر رکھا ہے.”اسنے جل کر سوچا.شیر افگن ہنس کر باپ سے گلے مل رہا تھا.”میرا بیٹا وہاں کیوں کھڑا ہے یہاں آؤ”بڑے ابو نے حیات کو اپنے پاس بلایا.پھر اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنا خیال رکھنے کا کہا۔کچھ دیر بعد وہ لوگ ان تینوں کو اللّه حافظ کہتے ایئرپورٹ کے اندر داخل ہوگئے.وہ تینوں بھی واپس کار میں بیٹھے.شیرافگن اور امل آگے اورحیات پیچھے بیٹھی تھی.شیر افگن نے بیک مرر سے حیات کو دیکھا. وہ باہر دیکھ رہی تھی.وہ نکاح کے بعد سے شیرافگن سے بات نہیں کر رہی تھی.شیرافگن نےحیات کو دیکھ کر امل کو اشارہ کیا.”آپی آپ اتنی خاموش کیوں ہیں؟” امل نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا
“ویسے ہی”امل کو جواب دے کر وہ پھر ونڈو سے باہر دیکھنے لگی.
“آپ خاموش اچھی نہیں لگتیں” امل نے منہ بنا کر کہا.حیات نے گردن موڑ کر اسے دیکھا
“کچھ لوگوں کو میں بولتی بھی اچھی نہیں لگتی” حیات نےطنزیہ لہجے میں کہا.اسکی بات پر شیرافگن نے مرر میں اسے دیکھا تبھی حیات نے بھی نظریں اٹھائیں.شیرافگن نے اسکی سنہری آنکھوں میں دیکھا پر وہ نظریں پھیر گئی.وہ لمبی سانس بھرکر رہ گیا.اسے لگا نکاح کر کے اسنے غلطی کر لی ہے.وہ محترمہ تو اس سے بولنا ہی چھوڑ چکی تھی.
“امل آئسکریم کھاؤ گی؟” اسنے جان بوجھ کر امل سے پوچھا.آئسکریم حیات کی فیورٹ تھی.وہ بھی سردیوں میں وہ اور مزے سے کھاتی تھی.”نہیں بھیا مجھے نہیں کھانی”امل نے ہنسی دبا کر کہا.”کھا لو یار چاکلیٹ آئسکریم کھلاؤں گا.”شیرافگن نے آبرو اٹھا کر امل کو اشارہ کیا.”ارے یہ تو آپی کی فیورٹ ہے.آپی آپ کھائیں گیں.”امل نے حیات کو دیکھا.”مجھے نہیں کھانی سمجھی”وہ پھاڑ کھانے کو دوڑی.شیرافگن نے اس سے نہیں پوچھا تھا.اسے یہ بات دکھ دے رہی تھی.
“چھوڑوامل ہم دونوں کھالینگے.”شیر افگن نے مسکراہٹ لبوں پر دبائی.حیات تو جل بھن گئی.شیرافگن نے کار روک کر آئسکریم لیں. ایک امل کو پکڑائی اور ایک خود کھانے لگا.حیات نے انھیں آئسکریم کھاتے دیکھا تو اسکا دل کیا وہ زور زور سے رونے لگ جائے.”ظالم آدمی”وہ غصے سے بڑبڑائی. شیرافگن نے مرر میں دیکھا۔حیات کا منہ پھولا ہوا تھا۔اسنے اپنا کپ رکھا.پھرتیسرا کپ ہاتھ میں لے کر پیچھے مڑا.”اہممم…”وہ پلٹ کر کھانسا.امل نے ہنسی دبائی.
“حیات یہ لو” اسنے کپ اسکی طرف بڑھایا۔حیات نے گھور کر کپ کو دیکھا پھر شیرافگن کو.
“امل میں نے کہا تھا مجھے نہیں چاہیے.” وہ شیرافگن کو اگنور کرتی امل سے بولی۔شیرافگن کو یہ بات ایک آنکھ نہ بھائی۔”امل اپنی بہن سے کہو کھا لے.”شیرافگن نے کپ امل کو پکڑایا.پھر حیات کو اگنور کرتا اپنی آئسکریم کھانے لگا.”آپی لیں ناں بڑے مزے کی ہے.”امل نے مزے سے کہا.حیات کا دل چاہا وہ لے کر کھا لے.پر نہ جی…انا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔شیرافگن نے اس سے پوچھا نہ تھا.تو پھر وہ کیوں کھاتی پر وہ یہ نہیں سوچ رہی تھی کہ اگر پوچھا نہیں تھا.پھر بھی اسکا فیورٹ فلیور اسکے لئے مانگوایا تھا.”کم آن حیات لے لو”شیرافگن سے رہا نہ گیا تو بول پڑا۔وہ جانتا تھا محترمہ کا دل کررہا ہےپر میڈم ضدی بنی بیٹھی ہے۔اسکے نرمی سے کہنے پر حیات اور برداشت نہ کر سکی. پر وہ شیرافگن سے بولنے والی نہ تھی.
“اچھا لاؤ امل تم کہتی ہو تو کھا لیتی ہوں.” اسنے احسان کرتے ہوئے کہا.اسکی بچوں والی حرکت پر شیرافگن نے بڑی مشکل سے اپنے قہقہہ کا گلہ گھونٹا. حیات ، امل سے آئسکریم لے کر جلدی سے کھانے لگی. اسنے شیرافگن کو نہ دیکھا کہ وہ اب کیا سوچے گا۔ شیرافگن نے آئسکریم ختم کی پھر کار سٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی.ڈرائیو کرتے ہوئے اسنے مرر میں دیکھا۔ حیات آئسکریم کھانے میں مصروف تھی۔اسے دیکھ کر شیرافگن کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ پھیل گئی.
••••••••
حیات یونی پہنچ کر ان چڑیلوں کی طرف آئی۔ “ویلکم ویلکم”سب نے ایک ساتھ خوشی سے کہا
“شکریہ چڑیلو” اسنے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا. “تمہیں تنگ کرنے کا بڑا دل کر رہا ہے۔”تابی نے شرارت سے کہا.”میرا بھی”مینا نے بھی تابی کا ساتھ دیا.”خبر دار۔۔۔۔ مجھ سے کچھ سن نہ لینا تم دونوں”اسنے انگلی اٹھا کر دونوں کو وارن کیا.سبین اور حریم ہنسنے لگیں.”اف یہ شیر مار والا غصہ”مینا نے آنکھ دبا کر کہا. “چپ کرو عزت سے نام لو ورنہ حیات کو غصہ آجاۓ گا.”تابی نے مینا کے کندھے پر بازو پھیلا کر شوخی سے کہا۔وہ دونوں بھلا کہاں باز آنے والیں تھیں.”مرو تم دونوں”حیات نے خشمگین نگاہوں سے انھیں دیکھا.”آؤ حریم، سبین ہم لوگ چلتے ہیں.”حیات ان دونوں کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گئی.”ارے رے ہمیں بھی ساتھ لے کر جاؤ”تابی اور مینا دونوں انکے پیچھے بھاگیں.”نہیں تم دونوں دانت نکالو ہم کلاس لینے جا رہے ہیں.”حیات نے دونوں کو گھورا. “ہونہہ دانت بھی نکالیں گے اور تنگ بھی کرینگے ہم.”تابی نےہنس کر مینا کے ساتھ پر ہاتھ مارا”آہو…” مینا نے بھی اثبات میں سر ہلایا
“توبہ توبہ چڑیلیں کہیں کی.”حیات نے منہ بنا کر کہا. پھر سب کلاس روم کی طرف بڑھ گئیں.واپسی پر وہ سب یونی سےباہر نکلیں. حیات اپنی کار کو ڈھونڈھ رہی تھی.پر اسے کہیں نظر نہ آئی.اسکی نظریں گھومتیں ہوئی ایک جگہ ٹہر گئیں.شیرافگن نیوی بلیو سوٹ میں گاڑی سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا.
“اللّه اللّه دیکھو کون آیا ہے حیات کو لینے.” مینا نے خوشی سے کہا حیات نے اسے گھورا
“شیرافگن بھائی واؤ.” سبین نے ہنس کر کہا
“جاؤ جاؤ حیات پیار کرنے والوں کو اتنا انتظار نہیں کرواتے.”تابی نے اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا.”چپ رہو …یہ کیوں آگئے اور کریم بابا کیوں نہیں آۓ.”اسنے افسوس سے سر ہلایا۔ “یہ سب کتنا کیوٹ لگ رہا ہے۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے اور تم منہ بنا رہی ہو” حریم نے مسکرا کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“جانےدو کہاں کی خوشی۔۔۔ان صاحب کے تو مزاج ہی نہیں ملتے۔ پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں خود کو”حیات نےسر جھٹک کرکہا۔”تمہارا مجازی خدا”تا بی نے آنکھ مار کر کہا۔”تم تو منہ بند ہی رکھو”حیات نے منہ بگاڑا
“اسے جانے دو…جاؤ حیات، افگن بھائی ویٹ کر رہے ہیں۔ دیکھو اتنےاچھے تو ہیں افگن بھائی.”حریم نے دور کھڑے شیرافگن کو دیکھ کر کہا “اچھا۔۔ ۔ مینا تم لوگ حریم کا نکاح کروا دو تاکہ اسکا اچھا بھی اسے لینے آۓ.یہ تو اسے ایک پل انتظار نہیں کروائے گی۔”حیات نے جل کر کہا۔وہ سب ایک دم ہنسنے لگیں۔
“پھر بھی یہ اکیلی نہیں جائے گی۔ میں بھی اسکے ساتھ ساتھ رہوں گی.”مینا نے ہنس کر حریم کےکندھے پر بازو پھیلا کر کہا.”دفع منحوس”حریم نے منہ بنا کراسکا بازو جھٹکا. حریم کے علاوہ وہ سب ہسنے لگیں۔پھر حیات سب سے مل کر کار کی طرف بڑھ گئی.
“اسلام و علیکم”اس نے سلام کیا پھر کار کا پچھلا دروازہ کھولنے لگی.شیرافگن نے سلام کا جواب دے کرہاتھ بڑھا کر اسے کار کا دروازہ کھولنے سے روکا.حیات نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا “آگے بیٹھو” اسنے نرمی سے کہا
“نہیں” حیات نے ضدی لہجہ اپنایا.گلاسز کے پیچھے سے شیرافگن نے اسے گھورا تھا۔
“آرام سے بیٹھو حیات مجھے غصہ مت دلاؤ .” شیرافگن نے سخت لہجے میں کہا کیونکہ وہ جانتا تھا۔ نرمی سے کہنے پر وہ کبھی نہیں مانے گی.”چلو بیٹھو”اسنے فرنٹ ڈور کھولا. حیات پھولے منہ کے ساتھ بیٹھ گئی.دروازہ بند کر کے شیرافگن بھی لبوں پر دھیمی مسکان لئے گھوم کر دوسری طرف آیا.ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر کار آگے بڑھا دی.اسنے حیات کو دیکھا وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی.” ان محترمہ کو اب تو مجھ سےبولنا ہی ہو گا۔ “وہ شرارت سے بڑبڑا کر کھانسا.”کیا ہوا پرنسیس نکاح کے بعد بولنا کیوں چھوڑ دیا تم نے؟” شیرافگن نے ہنسی دبا کرپوچھا.حیات نے حیرت سے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔جو اب سامنے دیکھ رہا تھا. “میری مرضی”حیات نے ناک چڑھا کرجواب دیا۔
“اب تمہاری اور میری مرضی ایک ہی ہے.کیا تم بھول رہی ہو میں تمہارا مجازی خدا ہوں.” شیرافگن نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا.حیات نے کچھ پل اسکی سیاہ آنکھوں میں دیکھا.شیرافگن نے نظریں نہ ہٹائیں تو حیات جلدی سے نگاہیں پھیر گئی.” بولو پرنسیس!!!” شیرافگن نے ذور دے کر کہا.اسکے پرنسیس کہنے پر حیات کو بڑا غصہ آیا.”آپ میری جان چھوڑ دیں.”وہ تپ کر بولی۔”سوری اب تو ایسا ہونے سے رہا.اب تو تمہاری جان ہی میری جان ہے.”اسنے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا.حیات تپ گئی.”افگن بھا….”حیات نے اتنا ہی کہا
“اے لڑکی چپ…” شیرافگن نے جلدی سے اسکی بات کاٹی. “پر کیوں” حیات نے منہ پھلا لیا.”کیا پاگل ہو تم نکاح کے بعد بھی بھائی بولو گی.توبہ کرو جلدی سے” اسنے آنکھیں نکال کر کہا۔حیات نے ماتھے پی ہاتھ مارا.”یہ میں کیسے بھول گئی.جلدی میں منہ سے نکل گیا.”وہ بڑبڑائی پر شیر افگن نے اسکی بڑبڑاہٹ سن لی.”قربان جاؤں تو یاد رکھو اور سوچ کے بولا کرو آئندہ نہ سنو میں یہ بھائی وائی.باقی سب بھائی ہیں۔مجھے چھوڑ کے یاد رکھنا اب”سنجیدگی سے اسے دیکھ کر کہا گیا۔حیات نے کوئی جواب نہ دیا اور سرخ چہرہ دوسری طرف گھما لیا.شیرافگن کے منہ سے ایسی باتیں سننا. توبہ ، استغفار…ایسا تو حیات نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ان دونوں کے بیچ ایسا رشتہ بھی قائم ہوگا.پر کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے.جو انسان سوچتا بھی نہیں وہ ہو جاتا ہے.حیات کو بھی سب کچھ عجیب لگ رہا تھا.اسے چہرہ دوسری طرف کئے دیکھ کر شیرافگن بھی خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *