Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24

جب شیرافگن نے گھر پر فون کیا تھا.حیات ، الماس بیگم کے ساتھ ہی بیٹھی تھی.انکے باہر ڈنر کی بات سن کر حیات کو بڑا غصہ آیا. اسنے بے دلی سے تھوڑا سا کھانا کھایا.پھر اپنے کمرے میں گھس گئی.وہ لوگ واپس بھی آگئے پرحیات کمرے سے باہر نہ نکلی.اگلی صبح وہ اماں سے پوچھ کر سبین کے گھر چلی آئی.ان سب نے ملنے کا پلان بنایا تھا.سبین محترمہ کا رشتہ پکا ہوگیا تھا.اسلئے سب پارٹی منانے اسکے گھر پہنچ گئیں.انہوں نے خوب مستی کی پر حیات کا ذہن شیرافگن اور ہانیہ کی طرف تھا.اسنے بھی سوچ لیا تھا کہ اب وہ شیر افگن سے بات نہیں کرے گی.بھلے سے ہانیہ کو لےکر گھومتا رہے.اسنے یہ بات اپنی چڑیلوں کو بھی نہ بتائی کہ پھر انہوں نے خوب اسکا دماغ کھانا ہے.سب نے لنچ سبین کے گھر پر ہی کیا پھر عصر کے قریب اپنے گھروں کو روانہ ہوئیں.حیات تو وہاں سے آ کر اپنے کمرے میں چلی گئی.پھر رات تک باہر نہ نکلی.وہ شیر افگن کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی.آجکل بہت سی جلتی ہوئی سوچوں نےاسے گھیر کر رکھا تھا.وہ بیڈ پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھی.جب اسکا موبائل رِنگ کرنے لگا.حیات نے جھنجھلا کر کال پک کی. “ہیلو!!”اس نے بے زاری سے کہا.”ہیلو!!!”اس نے پھر کہا پر دوسری طرف گہرا سکوت چھایا ہوا تھا.”کون ہے؟زبان تو کھولیں”حیات کو غصہ آیا.اسے لگا اسکی چڑیلوں میں سے کسی کی شرارت ہو گی.پر دوسری طرف ہنوز خاموشی چھائی تھی.”جو بھی ہے.مر جاؤ” حیات نے تپ کر کہا پھر فون بیڈ پر پھینکا.وہ اٹھ کر بیٹھی ہی تھی کہ امل دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی.”آپی کب سے کمرے میں بند ہیں. بابا ، ہانیہ آپی سب آپکا پوچھ رہے ہیں.ڈنر بھی لگنے والا ہے.آپ چلیں میرے ساتھ” امل اسکے قریب آتے ہوئے بولی. “افگن صاحب نے تو پوچھاہی نہیں..ہاں اب انھیں ضرورت بھی کیا ہے.”اسنے دل میں سوچا پھر امل کو دیکھا. “ہاں تم چلو، میں بس آتی ہوں”حیات نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا.امل سر ہلا کر چلی گئی. حیات شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر بال ٹھیک کرنے لگی.پہلے اسنے سوچا تھا کہ وہ نیچے نہیں جائے گی.پر جب شیرافگن نے اسکا نہیں پوچھا، وہ ہانیہ کے ساتھ خوش ہے تو وہ کیوں اپنا آپ چھپاتی پھرے.منہ بگاڑ کر سوچتی وہ کمرے سے باہر نکلی.جب وہ نیچے پہنچی تو سب ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے تھے.حیات آرام سے جا کر امل کے ساتھ بیٹھ گئی.
“کیا ہوا میری بیٹی کو؟” احمد صاحب اسے دیکھ کر بولے.”کچھ بھی تو نہیں بابا”حیات نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا.پھر سر جھکا کر پلیٹ میں کھانا نکالنے لگی.شیرافگن کھانے کے دوران بار بار اسے دیکھ لیتا.پر حیات نے سر نہ اٹھایا اور خاموشی سے کھانا کھاتی رہی.ہانیہ جو شیرافگن کے ساتھ بیٹھی تھی.وہ شیرافگن کی بے چینی محسوس کر رہی تھی. شیرافگن پہلے ایسا نہ تھا.وہ بہت سخت مزاج اور اپنے آپ میں رہنے والا شخص تھا.پر اس چھوٹی سی لڑکی نے اسے بدل دیا تھا.وہ شیر افگن کی خوشی میں خوش تھی.پر اسکے دل میں کہیں ہلکا ہلکاسا درد تھا.کچھ بہت قیمتی چیز کھو دینے کا درد…جو پھیلتا ہی چلا جا رہا تھا.ہانیہ نے پلکیں چپک کر حیات کو دیکھا.جو تھوڑا سا کھانا کھا کر اٹھ کر جانے لگی.
“حیات ٹھیک سے تو کھاؤ.”شیرافگن نے کھانے سے ہاتھ روک کر کہا.”بس کھا چکی.”بنا اپر دیکھے سرجھکا کر کہتی وہ وہاں سے چلی گئی.شیرافگن نےالجھی نظروں سے اسے دیکھا.پھر خود بھی اٹھ کھڑا ہوا.احمد صاحب کو بتا کرکہ وہ مجتبیٰ سے ملنے جا رہا ہے.کار لے کر گھر سے نکل پڑا.وہ حیات کے رویہ سے الجھ رہا تھا.کبھی بالکل نارمل ہوتی ہے تو کبھی اچانک ہی اسکا موڈ بدل جاتا ہے.وہ شیرافگن سے بات ہی نہیں کرتی تھی.شیر افگن کو یہ بات ذرا اچھی نہیں لگ رہی تھی.
وہ مجتبیٰ کے ہاں آیا.مجتبیٰ کو اس سے کوئی بزنس کی بات ڈسکس کرنی تھی.کافی دیر وہ مجتبیٰ کےہاں رہا پھر گھر کے لئے نکلا.دس بجے کے قریب وہ گھر پہنچا تو اسنے الماس بیگم کو کچن سے نکلتے دیکھا.
“آگئےبیٹا”وہ اسے دیکھ کر مسکرائیں.
“جی چھوٹی امی.” اسنے قریب آتے ہوئے کہا
“یہ کس کے لئے؟” اسنے الماس بیگم کے ہاتھ میں پکڑی ٹرے کی طرف اشارہ کیا.جس میں دودھ کا گلاس اور ٹیبلٹ رکھی تھی.
“حیات کے لئے…اسکے سر میں درد ہے.”انہوں نے شیرافگن کو دیکھ کر کہا.پھر آگے بڑھنے لگیں.” چھوٹی امی یہ مجھے دیں.میں اپر ہی جا رہا ہوں.حیات کو دے دونگا.”اسنے جلدی سے کہا.”اچھا یہ لو.”انہوں نے مسکرا کر ٹرے اسے پکڑائی پھر “شب بخیر” کہتیں وہاں سے چلی گئیں.شیرافگن سیڑھیاں طے کرتا اپر آیا.حیات کے کمرے کے سامنے کھڑے ہو کر اسنے دروازے پردستک دی.”آجائیں!!”حیات نے بیڈ پر لیٹے ہوئے کہا.اسے لگا اماں ہونگی. شیرافگن دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا.”اہمم”اسنے حیات کواپنی طرف متوجہ کیا.حیات ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی.شیرافگن کو دیکھ کر اسکی پیشانی پر شکنیں پڑیں.وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی.
“آپ یہاں کیوں آۓ ہیں؟” حیات نے تپ کر پوچھا.”یہ دینے”شیرافگن نے سکون سے ٹرے کی طرف اشارہ کیا.حیات نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے ٹرے لی اور سائیڈ ٹیبل پر رکھی “میں نے لے لی ہے.اب آپ جائیں یہاں سے.” حیات نے اسے دیکھ کر کہا.شیرافگن دو قدم اسکے قریب ہوا.” تمہاری طبیعت کیسی ہے؟” اسنےحیات کی بات کو اگنور کر کے فکر مندی سے پوچھا.”مجھے کیا ہونا ہے.میں بالکل ٹھیک ہوں.مہربانی کر کے آپ جائیں یہاں سے.” حیات نے تیکھے لہجے میں کہا.شیرافگن نے ہونٹ بھینچ کر اپنے غصے کوکنٹرول کیا.پھر لمبی سانس کھینچی یہ لڑکی اسے غصہ دلا رہی تھی.پر اسنے خود پر قابو رکھ کر حیات کو دیکھا.”ایسے کیوں بات کر رہی ہو پرنسیس.مجھ سے ناراض ہو؟”شیرافگن نے نرمی سے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا. “ٹھیک ہے….آپ نہیں جاتے تو میں ہی چلی جاتی ہوں.”وہ شیرافگن کی بات کو اگنور کرتی اسکے پاس سے گزر کر جانے لگی.جب شیرافگن نے مظبوطی سے اسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا.پھر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر اسے اپنے قریب کیا.پھر اسکی طرف جھکا.
“ستاتے ہو دن رات جس طرح مجھ کو”
“کسی غیر کو یوں ستاکر تو دیکھو”
اسنے حیات کے کان میں سرگوشی کی.حیات تو کانپ کر رہ گئی.شیرافگن نے اسکی لٹ کان کے پیچھے کر کے اسکی آنکھوں میں دیکھا. حیات نے رکتیں سانسوں کے ساتھ خود کو چھوڑانا چاہا.شیرافگن نے مدھم سا مسکرا کر اسے دیکھا.”پ…پلیز..”چھوڑیں مجھے”حیات نے اٹک کر کہا پھر پیچھے ہونے لگی.شیرافگن ایک دم سنجیدہ ہوا.”کیوں اگنور کر رہی ہو مجھے؟ تمہیں پتہ ہے یہ بات میری برداشت سے باہر ہے.تم صرف میری ہو پھر اگنور کر کے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو؟”شیرافگن نے لب پھینچ کر دھیمے سے کہا.”میں کچھ ثابت نہیں کر رہی.”حیات نے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا. “نہیں…پھر بھی کوئی بات تو ضرور ہے.بتاؤ مجھے”شیرافگن نے زور دیا.ایک پل کو حیات کا دل چاہا کہ وہ سب بتا دے کہ اسکی ہانیہ کے ساتھ اتنی دوستی اسے پسند نہیں پر وہ اسکے بارے میں کیا سوچےگا.حیات ایسا کیسے کہہ سکتی تھی.ہانیہ ،شیرافگن کی دوست تھی.وہ حیات کی بات پر ضرور اس پر غصہ ہی کریگا.وہ خود بھی ایسا سوچنا نہیں چاہتی تھی.پر وہ اپنے جلتے ہوئے دل کا کیا کرتی. اسے تو دن رات یہی سوچیں پاگل کر رہی تھیں.پر وہ شیرافگن کے سامنے یہ سب نہیں کہہ سکتی تھی.
“سچی کوئی بات نہیں…بس وہ طبیعت ٹھیک نہیں تھی.”حیات نے جلدی سے بہانہ بنایا.شیر افگن نے ہاتھ بڑھا کر اسکے گال کو چھوا.حیات جھجھک کر پیچھے ہوئی پر شیرافگن نے ہاتھ پیچھے نہ کیا.”چلو مان لیتا ہوں پرنسیس پر آئندہ مجھ سے یوں منہ نہ پھیرنا اوراپناخیال رکھا کرو اوکے.”شیرافگن نے نرم لہجے میں کہا.
“جی”حیات نے نظریں جھکا کر سر ہلایا.شیر افگن نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا پھر اسکے گال سے ہاتھ ہٹاکر تھوڑا پیچھے ہو کر کھڑا ہوا.حیات کا ہاتھ ابھی بھی اسکے ہاتھ میں تھا.”سو جاؤ اب …شب بخیر”اس نے کہہ کر حیات کا ہاتھ اپر کیا پھر اپنے لب اسکے ہاتھ کی پشت پر رکھے.حیات بت ہی تو بن گئی تھی. شیرافگن اور یہ انداز. اسکا چہرہ تپ کر گلنار ہوگیا.شیرافگن نے چمکتیں آنکھیں سے مسکرا کر اسے دیکھا پھر کمرے سے چلا گیا.حیات چونکی پھر اسنے کانپتے ہاتھ بھینچ لئے.دھک دھک کرتے دل کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی.یہ کیسا خواب تھا؟ جو اسے کسی اور ہی جہان میں لے گیا تھا.وہ تو بس خود کو اڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی.اسے سب کچھ ایک خوبصورت خواب لگ رہا تھا.”اف نیند اڑا کر کہتے ہیں کہ سو جاؤ”حیات نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا. پھر لمبی سانس بھر کر مسکرائی اور بیڈ پر چت لیٹ گئی.” اللّه اللّه …کہیں میں مر ہی نہ جاؤں.”اسنے گال پر ہاتھ رکھ کر کہا. اسکے لبوں پر شرمیلی سی مسکان چمکنے لگی تھی.سنہری آنکھوں روشنیوں سے بھر گئیں تھیں.جیسے ہزاروں دیے ایک ساتھ روشن ہوئے ہو.
•••••••••••••••
حیات ابھی ہی ہال سے اپنے کمرے میں داخل ہوئی تھی.آج ایمان لوگوں نے ہانیہ کی دعوت رکھی تھی.ساتھ وہ سب بھی انوائٹٹ تھے. حیات تیار ہونے کے لئے اپنے کمرے میں آئی.ابھی وہ الماری کی طرف بڑھی ہی تھی کہ اسکا موبائل بجنے لگا.اسنے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر کال پک کی پر اس دن کی طرح آج بھی دوسری طرف ہنوز پراسرار سی خاموشی چھائی تھی.حیات نے جھنجھلا کر موبائل کو دیکھا.کتنے دنوں سے اسے ایسے ہی کالز آرہی تھیں.اسنے سوچا تھا اب کال پک نہیں کرے گی.پر ہمیشہ اسے نئے نمبر سے کال آتی تھی. وہ سمجھ نہ پائی کہ یہ سب کیا ناٹک ہے.اسنے تپ کر موبائل سائیڈ پر رکھا اور تیار ہونے لگی.اسنے خوبصورت سا گرین لباس پہنا.لائٹ سا میک اپ کیا، بالوں کا میسی سا جوڑا بنایا. جس سے بالوں کی کئی لٹیں نکل کر اسکے چہرے پر بکھر رہیں تھیں.تیار ہو کر وہ امل کے کمرے کی طرف آئی کہ اسے اور ہانیہ کو بھی دیکھ لے.اسنے رات کو ہی سوچ لیا تھا کہ وہ اب کوئی فضول سوچ نہیں پالے گی.اسنے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ امل کے روم کا دروازہ کھولا.حیات ، امل کو آواز دینے والی تھی.جب اسے ہانیہ کھڑکی کے پاس کھڑی دکھائی دی. اسکی پشت حیات کی طرف تھی.وہ کسی سے ویڈیو چیٹ کر رہی تھی.حیات اسے دیکھ کر واپس جانے لگی.اسنے ہانیہ کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہ سمجھا.وہ پلٹی پر اسنے ہانیہ کی ہلکی سی سسکی سنی.ہانیہ رو رہی تھی. حیات کو حیرت ہوئی کہ بھلا ہانیہ جیسی لڑکی کیوں رونے لگی؟وہ سوچنے میں مصروف تھی.جب کمرے میں آواز گونجی.”تم اس سےبہت محبت کرتی ہو نا؟”موبائل کی دوسری طرف وہ لڑکی ہانیہ سے پوچھ رہی تھی.حیات وہاں سے جانا چاہ رہی تھی.پر یہ بات سن کر اسے حیرت کے ساتھ تجسس بھی ہوا.”تمہیں پتہ تو ہے.مجھے اس سے بے حد محبت ہے نور پر وہ…وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے یار.”ہانیہ اداسی سے ہنسی.”پھر تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا.”دوسری طرف سے اسکی دوست بولی.”کیا میں اسکی خوشی میں یہاں نہ آتی؟”ہانیہ نے مسکرا کر کہا.”اسکی خوشی اونہہ بہت خوب …پر تمہارےدکھ کا کیا ہانی؟”اسکی دوست نے طنزیہ انداز میں کہا.”میرا دکھ صرف میرا ہے نور اس میں اسکا کوئی ہاتھ نہیں.یہ میرے اپنے دل کی غلطی ہے.”ہانیہ قرب سے ہنسی.”تم اسے بتا دو” نور نے زور دےکر کہا. “پاگل ہو کیا…تم چاہتی ہو میں اپنے پیارے دوست کو کھو دوں؟”ہانیہ دکھ سے بولی. “پھر بھول جاؤ اسے ہانی “نور نے غصے سے کہا.”یہ دل شیرافگن کو کبھی نہیں بھلا سکتا یار.میں بھولنا بھی چاہوں پھر بھی یہ دل مجھے بھولنے نہیں دیتا.میں اچھے سے جانتی ہوں کہ وہ کسی اور کا ہے.میرا اس پر کوئی حق نہیں.میں یہ بات سمجھتی ہوں.پر میرا یہ دل نہیں مانتا نور…میں کیا کروں.” ہانیہ نے نم آواز میں کہا.وہ دونوں ابھی بھی باتیں کر رہی تھیں پر حیات اور نہ سن سکی ، بلکہ وہ تو شیرافگن کا نام سننے کے بعد اور کچھ سن ہی نہ سکی.اسکی جان نکلی جا رہی تھی.سنہری آنکھوں میں تیزی سے نمی جما ہونے لگی.وہ جیسے آئی تھی ویسے ہی جلدی سے باہر نکلی اور اپنے کمرے میں بند ہوگئی.اسکا دل بیٹھنے لگا. ذہن میں بہت سے سوال گونجنے لگےتھے. کیا شیرافگن بھی ہانیہ کو پسند کرتا ہے؟” نہیں…شیرافگن بھلا اسے کیسے پسند کر سکتا ہے.وہ تو حیات کا ہےاور حیات اسکی…اور شیرافگن نے کہا بھی تھا کہ اسے حیات اچھی لگتی ہے.”حیات خود سے سوال جواب کر رہی تھی.”پر اگر ہانیہ نے شیرافگن کو اس سے چھین لیا تو؟وہ کیا کرے گی.وہ تو مر جائے گی.”حیات شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر خود کو دیکھ کر آنسو بہانے لگی.”افگن صرف میرے ہیں.ہانیہ ایسا نہیں کریں گیں.”اسنے نم آواز میں کہہ کر آنسو صاف کر کے جیسے خودکو بہلایا تھا. تسلی دی تھی.لمبی سانس بھر کر اسنے خودکو دیکھا پھر چہرے پر ہاتھ پھیرا.تبھی امل اسکے روم میں آئی.”آپی جلدی آئیں …سب کار میں بیٹھ چکے ہیں.بس نکلنے والےہیں.”امل کی بات پر اسنے سر ہلایا.امل کے جانے کے کچھ دیربعد وہ بھی کمرے سے باہر نکلی.وہ سیڑھیاں اتر رہی تھی جب سامنے دیکھ کر اسے جھٹکا لگا. جتنا اسنے خود کو سنبھالا تھا.تسلی دی تھی. سب کچھ جیسے پھر سے بکھر گیا تھا.ہال کے دروازے کے پاس شیرافگن ، ہانیہ کی کمر میں ہاتھ ڈالے کھڑا مسکرا کر اس سے کوئی بات کر رہا تھا.دونوں بہت قریب تھے.حیات کی سانس بند ہونے لگی.سنہری آنکھیں پھر سے نم ہوئیں.وہ بت بنی انھیں دیکھ رہی تھی.”تم ٹھیک ہو ہانی؟”شیرافگن نے اس سے پوچھا. “ہاں ٹھیک ہوں.پتہ نہیں کیسے پاؤں مڑ گیا.” ہانیہ نے مسکرا کرجواب دیا.”ہیلز کا کمال ہے مادام”شیرافگن نے مسکرا کر کہا.تبھی اسکی نظر سیڑھیوں کے درمیان میں کھڑی حیات پر پڑی.اتنے دور سے بھی شیرافگن اسکے چہرے کا اڑا ہوا رنگ دیکھ سکتا تھا.حیات کے چہرے پر عجیب تاثرات تھے.شیرافگن کو کوئی بات بری طرح کھٹکی تھی.ہانیہ نے اسے دیکھا پھر حیات کو جو واپس مڑ کر اپر چلی گئی.ہانیہ بہت کچھ سمجھ گئی تھی.پہلے بھی اسے یہ بات محسوس ہوئی تھی کہ حیات کو اسکا شیرافگن کے قریب ہونا اچھا نہیں لگتا.پر اب اسے یقین ہوگیا تھا.وہ سمجھ سکتی تھی کہ انسان جب کسی سے محبت کرتا ہے تو اسکے قریب کسی اور کو برداشت نہیں کر سکتا.وہ چھوٹی سی لڑکی بھی اس سب سے گزر رہی تھی.پر ہانیہ تو اس سے بڑے دکھ میں مبتلا تھی.حیات جس شخص کو کھونےسے ڈر رہی تھی.ہانیہ تو اس شخص کوکب کاکھو چکی تھی.وہ تو خالی ہاتھ تھی.”حیات کو کیا ہوا؟جا کر دیکھو” اسنے شیرافگن سے کہا.شیرافگن بھی پریشان سا ہوگیا تھا.”تم چل سکو گی؟”اسنے ہانیہ سے پوچھا.”ہاں شیرافگن صاحب کیوں نہیں…بس ہلکی سے چوٹ ہے.تم اپنی منکوحہ صاحبہ کو لے کر آؤ.میں آنٹی لوگوں کے ساتھ نکلتی ہوں. اوکے” ہانیہ نے مسکرا کر کہا پھر سنبھل کر اس سے دور ہو کر کھڑی ہوئی.”اپنا خیال رکھنا ہانی…میں ذرا پرنسیس صاحبہ کو دیکھ لوں.” وہ ہانیہ کا سر تھپک کر کہتا ہنس کر جلدی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھا.ہانیہ نے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا.اسکی آنکھوں میں نمی سی تھی.پھر سر جھٹک کر وہ پورچ کی طرف بڑھ گئی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *