Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 (Watching)Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23
حیات نے سوچا تھا کہ ہانیہ چلی جائے گی.پر نہ جی ابھی تو وہ محترمہ عباسی ہاؤس میں ہی رکنے والی تھی.اس بات پر حیات کو تو صدمہ ہونے لگا.اب بھلا وہ شیرافگن کو ہانیہ کی نظروں سے کیسے دور رکھے گی.رات کو ڈنر کر کے ایمان اور مریم ، مجتبیٰ کے ساتھ چلی گئیں تھیں.باقی سب کافی دیر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے.شیرافگن اور ہانیہ تو ایسے باتوں میں مگن تھے.جیسے سالوں سے ایک دوسرے سے بات نہ کی ہو جبکہ روز تو فون پر لمبی لمبی گفتگو چلتی تھی.حیات انھیں دیکھ کر اپنے دل کو جلا رہی تھی.کچھ دیر بعد سب آرام کرنے کے لئے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے.امل ، ہانیہ کو اپنے روم میں لے گئی تھی کہ وہ اسکے ساتھ رہے.حیات نے شکر ادا کیا.ورنہ ہانیہ کو وہ اپنے روم میں کیسے برداشت کرتی.اسے پتہ تھا یہ غلط بات ہے.وہ گھر آۓ مہمان کے لئے ایسا سوچ رہی تھی.پر وہ اپنے جلتے دل کا کیا کرتی.جسے ہانیہ ایک آنکھ نہ بھائی تھی.وہ کافی دیر بیڈ پر لیٹی شیرافگن اور ہانیہ کے بارے میں سوچ رہی تھی.اسکی آنکھوں میں دور دور تک نیند کا نام و نشان نہ تھا.”آخر آج مجھے نیند کیوں نہیں آ رہی افف.”حیات جھنجھلا کر اٹھ بیٹھی.
“ہاۓ اللّه جی یہ میرے دماغ میں کھچڑی کیوں پک رہی ہے.پلیز ان سوچوں سے میری جان چھڑائیں.ورنہ میں نے تو پاگل ہو جانا ہے.”ان سوچوں سے تنگ آ کر وہ بیڈ سے نیچے اتری.گھڑی دیکھی تو رات کے گیارہ بج رہے تھے.بیڈ سے اتر کر وہ کھڑکی کی طرف آئی.پردے ہٹا کر اسنے باہر دیکھا.جہاں تیز ہوا چل رہی تھی.درخت اور پھول ہوا سے رقص کر رہے تھے.”واؤ کتنے مزے کا موسم ہے.اس موسم میں آئسکریم ہو تو آہا”وہ باقی سوچوں کوجھٹک کر اب آئسکریم کا سوچ رہی تھی.پھر اسے یاد آیا فریج میں آئسکریم ہے.اسنے جلدی سے شال اٹھا کر اپنے گرد لپٹی اور دروازہ کھول کر آہستہ سے کمرے سے باہر نکلی.گھر میں بالکل خاموشی تھی.سب سو چکے تھے.وہ آرام سے کچن کی طرف آئی.فریج سے آئسکریم کا کپ نکالا اور اپنے قدم لان کی طرف بڑھاۓ.جیسے ہی وہ ہال سے باہر نکلی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس سے ٹکرایا.اسکے بال اڑ کر اسکے چہرے پر آنے لگے.اسنے ہاتھ بڑھا کر بال پیچھے کئے پھر چلتی ہوئی لان میں رکھے بینچ پر بیٹھ کر مزے سے آئسکریم کھانے لگی.ساتھ ہی سامنے لگے پھولوں کو دیکھتی رہی.پھر سر اٹھا کر بادلوں میں چھپے چاند کو دیکھا.وہ آرام سے بیٹھی آئسکریم کھاتے ہوئے ارد گرد نظریں گھما رہی تھی.پھر پھولوں پر نظریں جماکر گانا گنگنا نے لگی.
“میرےرشکِ قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزہ آ گیا”
“برق سی گر گئی،کام ہی کر گئی،آگ ایسی لگائی مزہ آگیا”
وہ ایسے ہی اپنے خیالوں میں گنگنا رہی تھی. جب شیرافگن کندھوں پر کالی چادر ڈالے چلتا ہوا اسکی طرف آیا اور آرام سے اسکے ساتھ بینچ پر بیٹھا گیا.وہ اپنے کمرے میں بیٹھا آفس کا کام کر رہا تھا.کام ختم کر کے وہ کھڑکی کے پردے ٹھیک کرنے کھڑکی تک آیا تو اسکی نظر لان میں بیٹھی حیات پر پڑی.وہ جلدی سے باہر کی طرف آیا.یہاں حیات میڈم آئسکریم سے لطف اندوز ہورہی تھی اور ساتھ ہی گانا گانے میں مصروف تھی.شیرافگن اسکے ساتھ بیٹھا تھا پرحیات آنکھیں بند کئے گانا گنگناتی اپنی ہی دنیا میں مگن تھی. “اہمم!!”شیرافگن نے کھانس کر اسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا پر وہ جھٹکے سے آنکھیں کھول کر ایک دم ڈر کر اچھلی. پھر بغیر اسے دیکھے اٹھ کر بھاگنے لگی.شیرافگن نے اسکا ہاتھ پکڑا.اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا.حیات بنا پیچھے پلٹےشروع ہوگئی.”بھو..بھوت سر پلیز مجھے جانے دیں.میں آئندہ رات کے وقت یہاں نہیں بیٹھوں گی پلیز”حیات نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کانپتی آواز میں کہا.شیرافگن نے بڑی مشکل سے اپنا قہقہہ روکا.حیات کی پشت کو اسنے شرارتی نظروں سے دیکھا.”بیٹھ جاؤ لڑکی..ہمیں تم پسند آگئی ہو. اب ہم تمہیں ساتھ لے کر ہی جائیں گے.”شیرافگن نےہنسی دبا کر آواز بدل کے کہا.اسکے ہاتھ میں حیات کا ہاتھ ٹھنڈا برف ہو کرکانپنے لگا.
“مم…میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاؤنگی… ہاۓ اللّه کوئی مجھے بچا لے…اماں… اماں… افگن …مجھے بچا لیں اس بھوت سے” حیات نے بنا کچھ سوچے چیخنا شروع کیا کہ شیر افگن بھی ہڑبڑا گیا.اس نے جلدی سے حیات کو کھینچ کر بینچ پر بٹھایا.پھر زور سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا. ورنہ میڈم نے سارے گھر والوں کو جگا دینا تھا. “اے چپ کرو…یہ میں ہوں شیرافگن” شیرافگن نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر مدھم لہجے میں کہا.حیات آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی.”پہچان لو تمہارا شیرمار ہی ہوں.”شیرافگن نے قریب ہو کر مسکرا کے اسکے کان میں سرگوشی کی.حیات کا پارہ ہائی ہوا. ڈر کی جگہ چہرے پر غصہ نمودار ہوا.اسنے شیرافگن کا ہاتھ جھٹکے سے اپنے منہ سے ہٹایا.پھر اسے گھورنے لگی.”آ…آپ نے مجھے ڈرایا…. مجھے…یہ آپ نےاچھا نہیں کیا.”حیات نے تپ کر شہادت کی انگلی سے اپنی طرف اشارہ کر کےکہا پھر اس سےدورہو کر بیٹھی.شیرافگن ایک دم سے ہنسا.”اوه سچ میں پرنسیس…کیا میں تمہیں ڈرانے میں کامیاب ہوا ہوں؟ ورنہ تو ہمیشہ تم مجھے ہی ڈراتی رہتی ہو.” شیرافگن نے آبرو اٹھا کر کہا.
“آپکامطلب کیا ہے…کیا میں ڈراؤنی ہوں… خطرناک ہوں؟” حیات نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر تیکھے لہجے میں پوچھا.وہ اپنی توہین بھلا کیسے برداشت کرتی.”میرے لئے تو کبھی کبھی جان لینے کی حد تک خطرناک ہوجاتی ہو پرنسیس.”شیرافگن نے اسکی سنہری آنکھوں میں دیکھ کر ذو معنی انداز میں کہا.جسے حیات بنا سمجھے ناک چڑھا کے منہ پھلا کر دوسری طرف دیکھنے لگی.”ہاں میں تو خطرناک ہی لگوں گی اب ہانی صاحبہ جو آگئیں ہیں.”حیات غصے میں آہستہ سے بڑبڑائی.شیرافگن چمکتیں آنکھوں سے حیات کو دیکھ رہا تھا.پھر اسے کاندھوں سے تھام کر اپنی طرف موڑا. “منہ نہ موڑو یار. یہ بات مجھ سے برداشت نہیں ہوگی.”شیرافگن نے اسے دیکھ کر سنجید گی سے کہا.حیات نے حیرت سے اسے دیکھا.
“تمہاری یہ سونے جیسی آنکھیں مجھے بہت اچھی لگتیں ہیں” اسنے حیات کی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا.”تمہارے گال میں پڑتا ڈمپل مجھے اچھا لگتا ہے.”اسنے حیات کے گال کی طرف اشارہ کیا.”تمہارا یوں ناک چڑھاکر بیٹھنا اچھا لگتاہے.”اسنے ہلکے سے مسکرا کر حیات کی ناک دبائی .حیات بت بنی اسے سن رہی تھی.اس پر تو جیسے جادو ہو گیا تھا. “تمہاری شرارتیں ،تمہارا ہنسنا، مجھ سے یوں ناراض ہونا اور یوں منہ پھلا لینا مجھے سب اچھا لگتا ہے.مختصر کہوں تو مجھے تم اچھی لگتی ہو پرنسیس..بے حد…بے حساب” شیرافگن اسکی آنکھوں میں دیکھ کر لبوں پر مدھم مسکراہٹ لئےخواب کی سی کیفیت میں بول رہا تھا.حیات ٹکٹکی باندھے اسےدیکھ رہی تھی.جب وہ خاموش ہوا توحیات سحر سے باہر نکلی.اسنے پلکیں چھپک کر شیرافگن کو دیکھا.وہ اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز اپنے کانوں سے سن رہی تھی. پہلی بار شیرافگن نے اسکی اتنی تعریف کی تھی.وہ بھی اس انداز میں کہ حیات کا دل دھڑک اٹھا تھا.شیرافگن نے ہاتھ بڑھاکر اسکی آنکھ کو چھونا چاہا. حیات دھڑکتے دل کے ساتھ پیچھے ہٹی.اسےڈر تھا کہ اگر وہ ایک پل مذید اسکے سامنے رہی تواسکا دل باہر آجائے گا.وہ ایک دم اٹھ کھڑی ہوئی.”مم…مجھے نیند آرہی ہے.”اٹک کر کہتی وہ جلدی سے وہاں سے بھاگنے لگی.شیرافگن نے ہنس کر اسے دیکھا. “سنو میڈم اب ٹھنڈ میں آئسکریم مت کھانا وہ بھی اس طرح ٹھنڈی ہوا میں بیٹھ کر ورنہ بیمار ہو جاؤ گی.پھر میراکیا بنےگا”شیرافگن نرمی سے کہتا آخر میں وہ شوخ ہوا.حیات کے تو طوطے اڑے ہوئے تھے.اسے جتنی بات سمجھ آئی اس پر سر ہلا کر کانپتی ٹانگوں کے ساتھ جلدی سے اندر کی طرف بڑھی.شیرافگن نے مسکرا کر چاند کو دیکھا.”یہ پاگل لڑکی کسی دن میری جان لے گی.”دل پر ہاتھ رکھ کر کہتا وہ بھی اٹھ کر اندر کی طرف بڑھنے لگا.
•••••••••••••••
ہانیہ ، امل اور الماس بیگم ہال میں بیٹھیں باتوں میں لگیں تھیں.سب نے مل کر لنچ کیا پھر مخفل جما کر بیٹھ گئیں.آج ٹھنڈ کچھ زیادہ تھی.حیات کچن میں کافی بنا رہی تھی. جیسے ہی وہ ٹرے لے کر کچن سے باہر نکلی. اسے شیرافگن ہال کے دروازے سے اندر داخل ہوتا ہوا دکھائی دیا.”یہ کیا آج شیرمار آفس سے جلدی کیسے آگئے.”حیات دھیمے سے کہتی آگے بڑھی.شیرافگن سبکو سلام کرتا صوفے پر بیٹھ گیا. حیات نے سبکو کافی دی.اپنا کپ اسنے شیرافگن کو دے دیا.
“شکریہ” شیرافگن نے کپ لیتے ہوئے کہا.حیات سر ہلا کر امل کے ساتھ بیٹھ گئی.شیرافگن کی کل کی باتوں نے حیات پر جیسے جادو ہی تو کر دیا تھا.وہ سر جھکا کر سوچ رہی تھی.
“آج جلدی کیسے آگئے بیٹا”الماس بیگم نے حیات کے دماغ میں گھومتا سوال پوچھ ہی لیا.حیات نے نظر اٹھا کر شیرافگن کو دیکھا.
“چھوٹی امی ہانیہ کو اپنی کسی دوست سے ملنے جانا ہے.کریم بابا بیمار ہیں تو میں نے ہانی سے کہا کہ اسے میں لے جاؤں گا.”اسنے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا.الماس بیگم سر ہلا کر ہانیہ سے باتیں کرنے لگیں.حیات اسے دیکھ کر منہ بناتی.اٹھ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگی.”ہانی میں فریش ہو کر آتا ہوں.پھر چلتے ہیں اوکے.” شیرافگن کپ رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا.”اوکے شیرافگن”ہانیہ اسے دیکھ کر مسکرائی. “اففف…حد ہوگئی اونہہ…ہانی کا بڑا خیال ہے شیر مار کو…کل بھوت ہی ہوگا جس نے میری تعریف کی ورنہ شیرمار کیوں میری تعریف کرنے لگا.”حیات چبا کر کہتی سیڑھیاں طے کرتی اپر آئی.اسنے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنی پر رکی نہیں.” حیات!! “شیرافگن نے اسے پکارا.”مجھے آپ سے بات نہیں کرنی.”وہ بنا پلٹے کہتی اپنے کمرے میں داخل ہوئی پھر دھڑام سے دروازہ بند کیا.شیرافگن نے حیرت سے بند دروازے کو دیکھا.اسے ایک دم سے غصے نے گھیر لیا.”دیکھ لوں گا تمہیں پاگل کہیں کی.” اسنے حیات کے دروازے پر ہاتھ مار کر کہا.”مجھے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے آپکو.”بند دروازے کے پیچھے سے حیات کی تپی ہوئی آواز آئی.شیرافگن مٹھیاں بھینچ کر اپنے کمرے میں داخل ہوا.پھر زور سے دروازہ بند کیا.اسکا دل کر رہا تھا کہ وہ حیات سے بات کرے تبھی وہ جلدی سے اپر آیا تھا.کل کی بات کےبعد تو شیرافگن اور دیوانہ ہو گیاتھا.پر یہاں میڈم کے نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے تھے.شیرافگن نے اپنا کوٹ اتار کر پھینکا.پھر الماری سے سفید شلوار قمیض لے کر واش روم کی طرف بڑھا.کپڑے چینج کر کے باہر نکلا.موبائل اور کار کی چابی اٹھا کر کمرے سے باہر آیا.ایک نظرحیات کے کمرے کے بند دروازے پر ڈالی پھر لمبی سانس بھر کر وہاں سے نیچے آیا.”چلو ہانیہ”اسنے ہانیہ کو اشارہ کیا.پھر الماس بیگم کے سامنے آیا.”چلتے ہیں چھوٹی امی.”الماس بیگم نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا.”خیر سے جاؤ بیٹا.”انہوں نے پیار بھری نظروں سے شیرافگن کو دیکھا.یہ سامنے کھڑا پر کشش ، مظبوط نوجوان انکی بیٹی کا ہمسفر تھا.الماس بیگم اس رشتے سے بہت مطمئن تھیں.”شیرافگن ہانیہ کا خیال رکھنا بیٹا.”الماس بیگم نے انھیں دیکھ کر کہا.ہانیہ انکے گھر میں مہمان تھی.اسلئے الماس بیگم کو اسکا خیال تھا.انکی بات پر ہانیہ نے محبت سے انھیں دیکھا.اسے اس گھر کے سبھی لوگ بہت اچھے لگتے تھے.”بس چھوٹی امی ہانیہ کو اسکی فرینڈ کی طرف چھوڑ کر میں مجتبیٰ اور ولید سے ملنے جاؤں گا.پھر آتے ہوئے ہانیہ کو لے آؤں گا.آپ بے فکر رہیں.”شیرافگن نے مسکرا کر کہا.ہانیہ ، الماس بیگم سے ملی. پھروہ دونوں باہر کی طرف بڑھ گئے.
اسنے ہانیہ کو اسکی دوست کے گھر چھوڑا پھر خود ولید اور مجتبیٰ سے ملنے ایک ہوٹل آیا.
تینوں دوست بیٹھے باتیں کر رہے تھے.ساتھ کافی سے لطف اندوز ہو رہے تھے.
“احمرجمالی کی کوئی خبر؟”شیرافگن نے ولید سے پوچھا.”ہاں..اسکا باپ اسے سرجری کے لئے ملک سے باہر لے گیا ہے.” ولید نے کافی کا سپ لے کر کہا.”چلو اچھا ہوا..احمر جمالی اللّه کے حوالے ہوا.امید ہے اب سدھر گیا ہو.”مجتبیٰ نے ہاتھ اٹھا کر کہا.”ایسے لوگ کم ہی سدھرتے ہیں.”شیرافگن نے چبا کر کہا.”اسکا قصہ ختم ہوا لالے اب تم اسکے بارے میں سوچنا چھوڑ دو.”مجتبیٰ نے اسکا ہاتھ تھپک کر کہا.
“ہاں یار اب تم چین کی سانس لو.” ولید نے مسکرا کر کہا.شیرافگن بھی سر ہلا مسکرا دیا پھر تینوں باتوں میں لگ گئے.کافی دیر وہ باتیں کرتے رہے.پھر شیرافگن وہاں سے نکلا اسے ہانیہ کو پک کرنا تھا.آٹھ بجے کے قریب اسنے ہانیہ کو پک کیا.وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا. ہانیہ نے چپکے سے اسے دیکھا. پر وہ ڈرائیونگ میں مصروف رہا. “اہم!!”ہانیہ نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا.شیرافگن نے آبرو اٹھا کر اسے دیکھا.”کتنے کنجوس ہو.کیا دوست کو نکاح کی خوشی میں ڈنر تک نہیں کرواؤ گے؟”ہانیہ اسے دیکھ کر بولی.وہ ہلکے سے مسکرایا.”اوہ میڈم میں کنجوس بالکل نہیں ہوں.کہو تو ابھی ڈنر کر لیتے ہیں؟”اسنے سوالیہ انداز میں پوچھا.”ارے نیکی اور پوچھ پوچھ…”ہانیہ خوشی سے بولی.شیرافگن نے سر ہلایا.”اوکے میم…میں ذرا گھر پر انفارم کر دوں کہ ڈنر کے لئے ہمارا انتظار نہ کریں.”اسنے موبائل ہاتھ میں لے کر کہا.ہانیہ نے سر ہلا دیا.شیرافگن نےگھر کال کر کے بتایا پھر کار ایک ریسٹورنٹ کے سامنے روکی.دونوں اندر داخل ہوئے. ٹیبل کے گرد بیٹھ کرشیرافگن نے کھانےکا آرڈر دیا.ہانیہ کب سے اسے دیکھ رہی تھی.”کیا بات ہے؟ ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟” شیرافگن نے اسے دیکھ کر پوچھا.
“دیکھ رہی ہوں آج تم خاموش سے ہو.”اس نے ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر کہا.”ایسا کچھ نہیں ہے” شیرافگن جواب دے کر ادر گرد دیکھنے لگا. “حیات سے جھگڑا ہوا ہے؟”ہانیہ نے ایک دم سے پوچھا.شیرافگن نے لمبی سانس بھری.”ہاں یار!!”وہ سر ہلا کر بولا.ہانیہ ایک دم ہنسی
“تم نے ہی اسے ڈانٹا ہوگا.”اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا.”ہاں سبکو میں ہی ظالم لگتا ہوں.معصوم تو صرف وہ ہے.”شیر افگن جھنجھلایا.”ہاہاہا…”ہانیہ کھلکھلا کر ہنسی.”اچھا تم بھی معصوم ہو پراس پیاری لڑکی پر غصہ نہ ہوا کرو.”اس نے نرمی سے کہا.”میں کہاں غصہ کرتا ہوں ہانی…بس وہ کچھ ایساکر جاتی ہے کہ پھر مجھےاس پرغصہ آجاتا ہے.”شیرافگن نے سر جھٹک کر کہا.
“چلواب تمہاری جھلی ہے.تمہیں ہی سنبھالنا ہوگا ناں.”ہانیہ نے اسے دیکھ کر کہا.”بالکل اس محترمہ کو اب میں ہی سنبھالوں گا.”وہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر مسکر کر کہتا کسی سوچ میں ڈوب کر مسکرانے لگا.ہانیہ کی نظریں اسکے مسکراتے چہرے پر ٹک گئیں.وہ پیار بھری نظروں سے شیرافگن کو دیکھنے لگی. شیرافگن کو دیکھتے ہوئے اسکی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی پھیلنے لگی.اسنے جلدی سے اپنی نظریں شیرافگن کے چہرے سے ہٹا لیں. پھر جلدی سے آنکھیں صاف کیں.”ہیلو مسٹر شیر مار خیالوں کی دنیا سے باہر آجاؤ.”ہانیہ نے مسکرا کر اسکے سامنے چُٹکی بجاکر کہا. شیرافگن نے چونک کر اسے دیکھا.پھر ایک دم ہنسا.انکا کھانا آیا تو دونوں ہلکی پھلکی باتوں کے دوران کھانا کھانے لگے.
جاری ہے
