Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 (Watching)Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31
حیات پیچھے ہو رہی تھی جب اسنے حیات کا بازو پکڑا.حیات جیسے گہری نیند سے بےدار ہوئی تھی. اسنے ہاتھ میں پکڑی ٹارچ اسکے سر پردے ماری. وہ جھٹکے سے پیچھے ہوا. حیات جلدی سے اندر کی طرف بھاگی.خود کو سنبھال کر وہ اسکے پیچھے بھاگا.حیات نے ہال میں داخل ہوکر کانپتے ہاتھوں سے دروازے کو بند کر کے لاک کرنا چاہا.دروازہ بند ہونے میں تھوڑا سا فاصلہ تھا.جب وہ پہنچ گیا.”کم آن بےبی…. کہاں تک بھاگو گی.اب کی بار میں نہیں ہاروں گا…سمجھی”اس نے غرا کر کہا.پھر دروازے کو زور لگایاکہ وہ کھل جائے.حیات نے اپنی پوری طاقت لگا کر دروازے کو کھلنے سے روکا.”میں بھی نہیں ہاروں گی.سمجھ گئے تم…حیات تم سے کبھی نہیں ہارے گی.”اسنے چیخ کر کہنا چاہا پر اسکے حلق سے آواز نہ نکلی.اسنے اپنی پوری طاقت جمع کر کے دروازے کو دھکیلا.جو تھوڑا فاصلہ رہتا تھا.وہ پر ہوگیا.حیات نے جلدی سے دروازے کو لاک کیا.اسکا وجود کانپ رہا تھا.رگ رگ میں جیسے خون جم چکا تھا.وہ وہیں دروازے کے پاس بیٹھ کر ڈر کو قابو کرنے کی کوشش کرنے لگی.
باہر سے آواز نہیں آرہی تھی.حیات نے دروازے کے ساتھ کان لگایا پر باہر کوئی آواز نہ تھی.وہ آرام سے وہاں سے اٹھی.گھر اندھیرے میں ڈوبا تھا.اسنے سوچا وہ ٹارچ آن کرلے.پر اس سوچ نے اسے ڈرا دیا کہ اگر احمر جمالی نے اسے دیکھ لیا تو؟اس نے آگے بڑھ کر کھڑکی کے پردے ٹھیک کرنے چاہے.جب اسنے سامنے دیکھا.وہ سامنے کھڑکی کے اس پار کھڑا اسے ہی دیکھ کر ہاتھ ہلا رہا تھا.حیات نے ڈر کر ….کانپتے ہاتھ بڑھا کر پردے تھامے. تبھی کوئی چیز زور سے کھڑکی پر لگی. ماحول میں ایک کے بعد ایک آواز گونجنے لگی تھی.حیات ڈر کے مارے پیچھے کی طرف گری.یہ…یہ کیا ہورہا تھا.وہ وحشت سے باہر دیکھنے لگی. جہاں وہ درندہ کسی چیز سے گلاس ونڈو پر ایک کے پر ایک وار کر رہا تھا.گلاس مضبوط تھا…..ٹوٹا نہیں…..پر اس پر ہلکی ہلکی دراڑیں پڑ رہیں تھیں.حیات کا دل جیسے نکلنے لگا.اسنے خود کو گھسیٹ کر وہاں سے پیچھے کیا.اسکا وجود بالکل شل ہو چکا تھا.آنکھوں سے آنسو بہنے لگے.وہ اسکے ساتھ کیا کرے گا.یہ سوچ ہی اسکی جان لے رہی تھی.ایک دم بادل گرجا حیات چونک کر ہوش میں آئی. کھڑکی پر پڑتیں ضربیں ہنوز جاری تھی.اسے خود کو بچانا ہوگا.اپنے آپکو اس بھیڑیے سے چھپانا ہوگا.وہ دل کو مظبوط کرتی جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی. سامنے والے نے ایک پل رک کر اسے دیکھا.پھر ہاتھ میں پکڑا لوہے کا روڈ اسکے سامنے لہرا کر ایک زور دار ضرب لگائی.حیات کا دل لرزا. اسنے پلکیں جھپک سامنے دیکھا پھر جلدی سے کھڑکی کے پردے ٹھیک کرتی پیچھے ہوئی.”اللّه پاک!!”اسنے دل پر ہاتھ رکھ کے اس پاک ذات کو پکارا.وہ ڈر رہی تھی کہ یہ گلاس ونڈو کب تک اسکی ڈھال بنے گی.جب یہ ٹوٹ گئی تو اسنے اندر آجانا ہے.تب وہ کیا کرے گی؟وہ بھاگ کر کچن کی طرف گئی.وہاں سے اسنے تیز دھار والی چھری اٹھائی.حیات نےکانپتے ہاتھ کو چھری کے گرد مضبوط کیا. پھر کچن سے باہر آئی.وہ بہادر بننےکی کوشش کر رہی تھی.پر اسکا دل ڈوب رہا تھا.اسنے اس ارادے سے چھری تھامی تھی کہ کچھ غلط نہیں ہونے دیگی.خود مر جائے گی یا اسے مار دے گی.پر ان دونوں کاموں میں سے ایک بھی آسان نہیں تھا.وہ نازک سی لڑکی بھلا کب ایسا کر پائے گی.پر بات جب عزت پر آتی ہے. تب جان دی بھی جا سکتی ہے اور لی بھی جا سکتی ہے.حیات نے جلدی سے دادو کے کمرے میں جا کر خود کو لاک کر لیا.اسے اس وقت اپنی دادو کے کمرے سے زیادہ محفوظ جگہ اورکوئی نہ لگی.اس کمرے میں وہ اپنی دادو کی دعاؤں کے حصار میں رہے گی.وہ آ کر بیڈ کے قریب کونے میں زمین پر بیٹھ گئی.اسنے بیڈ کے پیچھے خود کو چھپانا چاہا.چھری کو اپنے ساتھ رکھا پھر گھٹنوں پر سر رکھ کر رونے لگی.باہر سے آواز مسلسل آ رہی تھی.وہ کھڑکی کبھی بھی ٹوٹ جائے گی.پھر اسے ایک سے دوسرا فیصلہ کرنا ہوگا.اس کے بس میں تو صرف اپنی جان لینا ہی تھی.اس شیطان کو بھلا وہ کیسے مار پائے گی.”اللّه پاک مجھے بچا لیں….مجھے اس شخص کے ہاتھوں رسوا نہ کروایے گا.”اسنے رو کر اپنے رب سے فریاد کی.”سب کہاں ہیں.دیکھ لیں آپکی حیات کے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے.” اسنے اللّه کے بعد اپنوں کو پکارا جو کہ انجان تھے کہ انکی لاڈلی کس مشکل میں تھی .”مجھے بچا لیں ….پلیز مجھے بچا لیں….دادو ، بڑے ابو، بابا ، تائی امی، اماں ، ایمان آپی ،ہانی ، امل ، اف…”اسنے سب کے نام گن کر فریاد کی پر آخری نام پر اسکی ہچکی بندھی.”شیرافگن آپ آجائیں….می…میں آپ سے دور ہو کر تو مر بھی نہیں پاؤں گی.مم….مجھے اس حرام موت سے بچا لیں افگن ….میں آپ سے رابطہ نہیں کر سکتی… میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں جس سے میں اپنی بات آپ تک پہنچا سکوں…میرے دل کی پکار سن لیں افگن….. مجھے بچا لیں.ورنہ میں آپ سے بہت دور چلی جاؤں گی.پھر چاہ کر بھی واپس نہ آ پاؤں گی….مجھے آپ سے دور نہیں جانا…”وہ سرگوشی سے بھی کم آواز میں روتے ہوئے بولے جا رہی تھی.ایسے کہ صرف اسکے ہونٹ ہل رہے تھے. دل تڑپ رہا تھا.وہ یونہی رو کر فریاد کر رہی تھی.پھر اچانک جیسے دھماکہ ہوا تھا.ہر طرف کانچ ٹوٹنے کا شور تھا.حیات کی سانس تھم سی گئی.”وہ کھڑکی آخر کار ٹوٹ چکی تھی.”اس کے جسم سے جان نکل رہی تھی.”اللّه پاک…” اسنے آہستہ سے لب ہلائے.وہ آنکھیں بند کر کے سب اپنوں کو یاد کرنے لگی.اس ایک شخص کی یاد اسے خون کے آنسو رلا رہی تھی.”شیرافگن” اسنے مدھم لہجے میں کہا.پھر چھری اٹھا کر ہاتھ میں پکڑی.وہ ہال کے اندر آچکا تھا.باہر سے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی.ایک ایک دروازے کو ٹھوکر سے کھولا جا رہا تھا.ہر ٹھوکر کے ساتھ حیات کا دل کانپ رہا تھا.” اللّه پاک افگن کو بھیج دیں ….پلیز انھیں بھیج دیں”وہ سسکی بھر کر بولی.تبھی کمرے کا دروازہ پیٹا گیا.”کھول دروازہ…”دھاڑ کر کہا گیا.حیات مزید سمٹ کر بیٹھی.”تمہیں آج کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا.تم آج بچ نہیں پاؤ گی ڈارلنگ….”وہ جنونی انداز میں کہتا آخر میں قہقہہ لگا کر ہنسا.ساتھ ہی دروازے کو پیٹا جا رہا تھا.حیات کے پورے وجود پر لرزا طاری ہوگیا.وہ پاگل بنا دروازہ کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا.حیات نے چھری اٹھا کر اپنی کلائی پر رکھی.اسے ڈر تھا کہ دروازہ ٹوٹ جائے گا. پھر وہ اپنی جان لینے کے علاوہ اور کیا کر پاۓ گی.اس سوچ پر اسکی سنہری آنکھیں سمندر بن چکی تھی.آنکھوں کے آگے جب مکمل دھند چھائی تو اسنے کانپتے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کئے.”تم چھپ لو…کچھ دیر اور…پھر یہ بند دروازہ تمہاری ڈھال نہیں بنے گا. احمرجمالی تم تک پہنچ جائے گا.”وہ ٹھوکر مار کر طنزیہ ہنسا.حیات نے ڈر کر دروازے کو دیکھا.”افگن آپ آجائیں…..اپنی حیات کو بچا لیں….مجھے ڈر لگ رہا ہے….بہت…..بہت ڈر لگ رہا ہے.”وہ بے آواز آنسو بہانے لگی.اسنے دل کی گہرائیوں سے اپنے ہمسفر ، اپنی محبت ، اپنے شیرمار کو پکارا تھا.
••••••••••
شیرافگن ، مجتبیٰ کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر تھا.جب اسکا دل تیزی سے دھڑکا تھا.جیسے کسی نے اسے شدت سے پکارا ہو.جب سے وہ عباسی ہاؤس سے نکلا تھا تب سے اسے عجیب سی بے چینی نے گھیرا ہوا تھا.پر اب تو حد ہی ہوگئی تھی.اسکے ہاتھ تک کانپ اٹھے تھے.وہ مزید ڈرائیو نہ کر سکا اور کار کو بریک لگائی. پھر جلدی سے جیب سے موبائل نکالا.اسکی چھٹی حس اسے خطرے کا الارم دی رہی تھی.کہیں کچھ غلط ہورہا تھا.جانے کیوں پر اسکا دھیان حیات کی طرف ہی جارہا تھا.اسے فکر تھی کہیں اسکی طبیعت خراب نہ ہوگئی ہو.وہ کہتے ہیں ناں جب آپکے دل سے قریب کسی رشتے کو کچھ ہورہا ہوتا ہے.تب آپکو بھی سکون نہیں ملتا.آپ بے چین رہتے ہیں. شیرافگن کو بھی چین نہیں تھا.اسنے جلدی سے حیات کو کال ملائی.دوسری طرف اسکا موبائل بند تھا.شیرافگن نے پھر ٹرائے کیا.پر نمبر بند جارہا تھا.”اف یہ لڑکی….”اسنے جھنجھلا کر کہا.پھر ایمان کو کال ملائی تا کہ اس سے پوچھ لے کہ سب ٹھیک تو ہے.دوسری طرف سے کال پک کی گئی.سلام کے بعد ایمان جھٹ سے بولی.”بھائی آپ لوگوں نے کب تک پہنچنا ہے.سب انتظار کر رہے ہیں.”ایمان کی بات پر وہ الجھا.”میں نزدیک ہی ہوں پر میرے ساتھ اور کسنے آنا تھا؟”اسنے سوالیہ انداز میں پوچھا.”کیا مطلب بھائی ….حیات اور آپکو ساتھ آنا تھا.”وہ جلدی سے بولی.”افف پر گھر تو خالی تھا.میں سمجھا سب چلے گئے.مجھے کسی نے انفارم کرنا مناسب نہیں سمجھا.” شیرافگن تپ کر بولا
“اللّه….بھائی آپ گڑیا کو اکیلا چھوڑ آئے….” ایمان نے فکر مندی سے کہا.”تمہاری گڑیا مجھے کال تو کرتی …..پاگل لڑکی….اوکے تم سنبھال لینا وہاں ….میں میڈم کو لے کر آتا ہوں.”بات کے ساتھ اسنے کار سٹارٹ کر کے ٹرن لیا.
“اوکے بھائی جلدی جائیں.اکیلی ہے ڈر نہ جائے کہیں.” ایمان نے پریشانی سے کہا.اسے کوئی چیز بری طرح کھٹک رہی تھی.”بس جارہا ہوں” شیرافگن نے جواب دے کر کال کاٹ دی.پھر کار کی سپیڈ بڑھا دی.اسکا دل انجانے سے خوف سے ڈر رہا تھا.اسنے پھر حیات کا نمبر ڈائل کیا.پر موبائل ہنوز بند تھا.اسکے دل کی دھڑکن کبھی تیز ہورہی تھی تو کبھی مدھم “اللّه…وہ پاگل بس ٹھیک ہو ….”وہ بس یہی دعا کرتا کار ڈرائیو کر رہا تھا.
شیرافگن نے کار گھر کے سامنے روکی.عباسی ہاؤس اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا.”افف لائٹ بھی نہیں ہے…حیات اکیلی گھر میں ہے.”شیر افگن کے دل کو کچھ ہوا.اسنے ہارن بجانا چاہا جب کار کی ہیڈ لائٹس سے نکلتی روشنی نے سامنے کا منظر واضح کیا.اسکی نظر گھر کے گیٹ پر پڑی.گیٹ کھلا تھا.اسکا دل دھڑکا.گھر میں چور گھس گیا ہے.پہلا خیال یہی آیا. حیات کا سوچ کر اسکے ہاتھ ہلکے سے کانپے تھے.وہ جھٹ سے کار کا دروازہ کھول کر باہر نکلا.اسنے کانپتے دل مگر مضبوط قدم آگے کی طرف بڑھائے.وہ آہستہ سے گیٹ کے اندر داخل ہوا.جب اسکی نظر بیہوش پڑے چوکیدار پر پڑی.وہ جلدی سے اسکے قریب جھکا پر وہ یونہی پڑا رہا.اسکے سر سے خون نکل رہا تھا.شیرافگن کو پریشانی نے گھیر لیا.وہ جلدی سےاٹھ کرچوکیدار کے کیبن میں گیا.اسنے موبائل ٹارچ آن کی پھر وہاں کچھ ڈھونڈنے لگا.آخر کار اسے پسٹل مل گئی.اسنے جلدی سے قدم اندر کی طرف بڑھاۓ.وہاں کوئی آواز نہ تھی.گہری خاموشی چھائی تھی.شیرافگن نے ہال کے دروازے کو دھکیلا پر دروازہ لاک تھا.اسکی پیشانی پر پسینہ چمک اٹھا.اسنے آس پاس نظریں دوڑائیں.جب اسکی نظر دور بکھر ۓ کانچ کے ٹکروں پر پڑی.وہ بھاگ کر وہاں گیا.گلاس ونڈو ٹوٹی ہوئی تھی.شیرافگن کے آس پاس جیسے دھماکہ ہوا تھا.وہ اور خاموش نہ رہ سکا.اسنےٹوٹی ونڈو سے اندر جمپ کیا.پسٹل اسکے ہاتھ میں تھا.” حیات!!! “اسنے آگے بڑھتے ہوئے حیات کو پکارا.گھر میں بالکل سناٹا چھایا تھا.”حیات…..کہاں ہو تم….”اسنے چیخ کر پکارا.ساتھ ہی پاگل دل کو سنبھالتا کمرے چیک کرنے لگا.”حیات!!! “اسنے پھر پکارا.اسکا دل کیا کہ وہ پوری دنیا کو آگ لگا دے.کہاں تھی اسکی پرنسیس……… حیات نے جھٹ گھٹنوں سے سر اٹھایا.اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اسنے کس کی آواز سنی ہے.ایک شیطانی آواز کے بعد ایک فکر مند آواز…..کسی بہت اپنے کی نرم آواز…..وہ خود کو یقین نہ دلا پائی کہ کیا یہ سچ ہے؟ یا وہ جو سننا چاہ رہی تھی.اسکے کان اسے وہی سنا رہے تھے.ہاں یہ اسکا وہم ہوگا…پر ایک کے بعد ایک آواز آرہی تھی.حیات کو ڈر تھا کہ اگر اسنے اس وہم میں آکر دروازہ کھول دیا اور سامنے اگر وہ شیطان ہوا تو….کیا ہوگا؟حیات نے ہچکی بھرکر سر نیچے کیا.جب پھر وہ آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی.”یہ میں ہوں….. تمہارا شیرمار….یار کہاں ہو تم؟”تڑپ کرکہا گیا اور حیات حیران رہ گئی.ہاں یہ اسکا شیر مار تھا.اسنے گود سے چھری اٹھا کر سائیڈ پر رکھی پھر زمین سے اٹھی.اسکی ٹانگیں شل تھی.ان میں جان نہ تھی.وہ ایک دم بیڈ پر بیٹھی.اسکا دل چاہا چیخ کر شیرافگن کو پکار لے.اسنے لمبی سانس کھینچی پھر ہمت کر کے اٹھ کھڑی ہوئی.دروازے کے قریب پہنچ کر اسنے لاک کھولا.پھر باہر نکلی وہاں ابھی بھی اندھیرا تھا.اسنے روشنی کی چمک دیکھی…… روشنی دور کھڑے شخص کے چہرے پر پڑی تو حیات کی آنکھیں چمک اٹھیں.”افگن!!!”اس نے بڑی مشکل سےاسے پکارا تھا.ورنہ تو اسے لگا تھا وہ گونگی ہو چکی ہے.شیرافگن کو دیکھ کر وہ جیسے جی اٹھی تھی. اسکی آواز نم پر خوشی سے بھر پور تھی. “حیات!!”شیرافگن بھاگ کر اس تک آیا.”تم ٹھیک ہو؟ کیا ہوا تھا؟تمہیں کچھ ہوا تو نہیں حیات؟” شیرافگن ہانپ کر بے صبری سے اسکا ٹھنڈا ہاتھ تھام کر پوچھ رہا تھا.وہ حیات کو دیکھ کر باقی سب بھول چکا تھا کہ اس وقت وہاں کیا سٹویشن تھی.وہ بس اپنی جھلی کو دیکھ رہا تھا.اچانک حیات کی سنہری آنکھوں میں چمک کی جگہ ڈر نے لی.اسنے شیرافگن کے کندھے سے پیچھے دیکھا.پیچھے وہ شیطان کھڑا تھا.اسکے ہاتھ میں چاقو تھا.حیات کی سانس رکی.افگن اسکا چہرہ تھام کر اس سے پوچھ رہا تھا کہ کیا ہوا تھا.حیات نے پہلے خوف سے اسے دیکھا پھر پیچھے…جہاں وہ انکے قریب آرہا تھا.
“افگن…..پیچھے دیکھیں!!”وہ چونکی پھر تڑپ کر ہاتھ سے پیچھے اشارہ کیا.اسکے کہنے پر شیرافگن ایک جھٹکے سے پیچھے مڑا اور اگلے ہی پل تیزی سے آتا چاقو اسکے بازو کو چیرتا چلا گیا.حیات چیخ مار کر اسکی طرف بڑھی. شیرافگن اس وار کے لئے تیار نہیں تھا.جھٹکے سے اسکے ہاتھ سے پسٹل گرا اور وہ لڑکھڑا کر نیچے گرا.”افگن!!!”حیات کا دل پھٹنے لگا.”حیات تم جاؤ یہاں سے….جلدی”شیرافگن نے درد ضبط کرتے ہوئے لب بھینچ کرکہا.حیات نے رونا شروع کر دیا تھا.”نہ بے بی ابھی بہت کچھ باقی ہے ابھی سے کیوں رونے لگی ہو؟” احمر جمالی اسکی طرف بڑھتے ہوئے دھاڑ کر بولا ساتھ ہی ہاتھ بڑھا کر اپنا ماسک اتار پھینکا.حیات نے چونک کر اسے دیکھا تو اسکے لبوں سے بے ساختہ چیخ نکلی.اسکا آدھا چہرہ اب بھی ویسے تھا.جھلسہ ہوا….خوفناک ….اسکی حرکتیں اب اسکے چہرے پر واضح ہورہیں تھیں.حیات منہ پر ہاتھ رکھتی پیچھے ہوئی.اسے بھاگنا تھا.پر افف یہ بے بسی وہ اپنی محبت کی تڑپ پر بھی اسکے قریب نہ جا سکی.شیرافگن درد سے نڈھال پڑا تھا.بازو سے نکلتا خون فرش کو لال کررہا تھا.حیات بھاگنے لگی جب احمر جمالی نے آگے بڑھ کر اسے پکڑ لیا.”بہت ہوگئی بھاگ دوڑ ….اب بدلہ لیا جائے گا…احمر جمالی کا بدلہ …..بہت جیت لی تم اور یہ تمہارا….”اسنے گندی گالی دے کر شیرافگن کو دیکھا.”اب تم لوگ اس احمر جمالی کی جیت دیکھو گی…..یہ میرا چہرہ دیکھو….یہ ایسا نہیں تھا…..یہ تمہاری وجہ سے ایسا ہوا ہے .”وہ حیات کے قریب جھک کر پاگلوں کی طرح چیخ کر بولا.حیات ڈر کر پیچھے ہوئی.اسنے حیات کے بازو کو جھٹکا دیا پھر اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیا.”یہ چہرہ میں نے ٹھیک نہیں ہونے دیا….. پتہ ہے کیوں؟ آج کے دن کے لئے…..دیکھو…. دیکھو ڈر لگ رہا ہے ناں تمہیں….قسم کھائی تھی میں نے کہ جس وقت تک تجھ سے اور تیرے یار سے اپنا بدلہ نہیں لے لیتا.اس وقت تک اس چہرے کو ٹھیک نہیں ہونے دونگا…..” وہ ہزیانی انداز میں چلا کر بولا.حیات کانپ سی گئی.اس نے وحشت سے سامنے کھڑے درندے کو دیکھا.
جاری ہے
