Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33

عباسی ہاؤس میں روشنیوں کا سیلاب آیا ہوا تھا.سارا گھر جگمگ جگمگ کر رہا تھا.آج اس گھر کے اکلوتے بیٹے کی شادی تھی.ہر طرف خوشیوں کے رنگ بکھرئے تھے.لان کو اچھے سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا.لان میں شیرافگن کے دوست اور کزنز ہنگامہ مچا رہے تھے.اندر کی طرف آئیں تو ہال اچھے سے سجا ہوا تھا.پھول ہی پھول چار سو بکھرئے تھے.ایک طرف بنے اسٹیج پر حیات سجی سنوری بیٹھی تھی. اسٹیج کے آگے اسکی چڑیلوں نے نیٹ کا پردہ لگایا تھا کہ دولہا صاحب اسے نہ دیکھ سکیں.حیات مہندی کے کپڑوں میں ، پھولوں کے زیور پہنے ، چہرے پر خوشی کا ہر رنگ بکھرائے بیٹھی تھی.سنہری آنکھوں میں ہزاروں جگنو چمک رہے تھے.اسکے آس پاس اسکی چڑیلیں ، کزنز بیٹھی تھیں.سب مہمان خوش گپیوں میں مصروف تھے.دادو سب کے بیچ بیٹھیں باتوں میں مگن تھیں.آج تو دادو کی خوشی کی انتہا نہیں تھی.ان کی دلی مراد جو پوری ہورہی تھی.سارا اور الماس بیگم اپنے بچوں کی خوشی میں بے پناہ خوش تھیں.
شمس اور احمد صاحب اس شادی سے بہت مطمئن تھے.آج عباسی ہاؤس کا ہر فرد خوشی سے نہال ہو رہا تھا.لڑکے لان سے ہال کی طرف آئے.سب وہاں جمع ہوگئے پر لڑکیوں نے شیرافگن کو ہال میں نہ بیٹھنے دیا.اسے اسکےکمرے میں بھیج دیا کہ بارات سے پہلے حیات کا اس سے پردہ ہے.اسلئے وہ حیات کی مہندی تک کمرے میں آرام فرماۓ.بیچارہ شیرافگن دل پر پتھر رکھ کر وقتی طور پر کمرے میں چلا گیا.جبکہ مجتبیٰ ، ولید اور علی لڑکیوں سے مقابلہ کرنے ہال میں موجود تھے.وہاں دو ٹیمز بن چکی تھیں.ایک طرف لڑکے تھے تو دوسری طرف لڑکیاں…..پر تابی ، امل اور مریم تینوں شیرافگن کی طرف تھیں.حیات کو صدمہ ہونے لگا تھا.اسنے مینا کو اشارہ کیا.وہ اسکی طرف آئی.”باقی سب تو ٹھیک ہے پر یہ چڑیل تابی لڑکے کی طرف کیوں گئی؟”حیات نے دھیمی آواز میں چبا کر پوچھا.امل اور مریم تو شیرافگن کی چمچیاں تھیں. انھیں تو اسکی طرف ہی ہونا تھا پر تابی کس خوشی میں اسکی طرف تھی ؟….”بلاتی ہوں خود پوچھ لو…مجھے ابھی گانے کی پریکٹس کرنی ہے.”مینا جلدی سے کہتی تابی کے قریب گئی .اسنے تابی کو حیات کی طرف بھیجا. تابی مسکراتی ہوئی اسٹیج پرآئی.”بولو دلہن…”اسنے ہنس کر کہا.حیات نے کوئی جواب نہ دیا بس مہمانوں سے نظر بچا کر اسے گھورنے لگی.تابی اسکے قریب ہوئی. “کہیں دلہن کو دولہا کی یاد تو نہیں آرہی ؟”
“دفع ہو…فضول نہ بولو …. یہ بتاؤ تم لڑکے کی طرف کیوں گئی؟” حیات نے تپ کر پوچھا
“ولید جو لڑکے کی طرف ہیں”تابی نے شرما کر دوپٹے کا کونہ دانتوں میں دبا کر نیچے کھڑے ولید کو دیکھ کر کہا.
“دھوکےباز….سجن کے ملتے ہی دوست کو بھول گئی.”حیات نے منہ بنا کر کہا.تابی نے ہنس کر اسکا دوپٹہ ٹھیک کیا.”اسے محبت کہتے ہیں.تم سے تو بےپناہ محبت ہے مسز شیرمار….پر ولی سےمحبت کی ابھی شروعات ہے….تو اہم”سرگوشی میں آنکھ دبا کرکہتی وہ ہنس کر اسٹیج سے اتر گئی.”افف یہ لڑکی” حیات نے مسکرا کر سر جھکا لیا.دونوں ٹیمز میں مقابلہ جاری تھا.ایک کے بعد ایک گانا ایک دوسرے کی طرف پھینکا جارہا تھا.بلآخر جیت لڑکی والیوں کی ہوئی کیونکہ انکے پاس مینا تھی. گانوں کی مشین….انھیں تو جیتنا ہی تھا.مینا نے سب سے داد وصول کی…دوسری طرف سے علی نے بھی خوب جم کر مقابلہ کیا تھا.پر جیت نہ سکا.ہانیہ نے ہنس کر علی کو دیکھا.جسکا چہرہ لٹک چکا تھا.”علی بھائی… ہانیہ کہہ رہی ہیں اداس نہ ہو…آپ کی شادی میں یہ مقابلہ دوبارہ ہوگا.تب جیت آپکی ہوگی.” مینا نے اونچی آواز میں کہا.سب قہقہہ لگا کر ہنسے.”ظاہر سی بات ہے تب یہ نکما دولہا ہوگا.دلہن کو جیت کر لے جائے گا.”مجتبیٰ نے ہنس کر علی کا کندھا تھپکا.
“توبہ…ابھی آپ لوگ افگن اور حیات کی بات کریں.” ہانیہ گلابی چہرے کے ساتھ کہتی اٹھ کر حیات کی طرف چلی گئی.اپنے پیچھے اسنے علی کا قہقہہ سنا.ہانیہ خوش تھی.اسنے دل کو سمجھا لیا تھا کہ شیرافگن اسکا نصیب نہیں تھا اور جو اسکا نصیب تھا.اللّه نے اسے دے دیا تھا.حیات کے ساتھ بیٹھ کر اسنے دور بیٹھے علی کو دیکھا جو مسکرا کر باتوں میں لگا تھا.
“ہانیہ آپ خوش ہیں؟”حیات کے سوال پر وہ چونکی.پھر مسکرا کر اسے دیکھا.”میرے دل میں…جہاں وہ شخص تھا.جو میرا نہیں تھا. میں نے اسکی محبت کو ہمیشہ کے لئے دل کے کونے میں ایک کمرے میں بند کر کے اس دروازے کو تالا لگا دیا ہے اور اسکی چابی ہمشہ کے لئے کھو دی تا کہ کبھی اس دروازے کو کھول نہ سکوں.” ہانیہ اسے دیکھ کر اداسی سے ہنسی.”میں اپنے نئے رشتے کو سچے دل سے نبھانا چاہتی ہوں حیات….علی واقعی ایک بہترین شخص ہے.کچھ کچھ مجھ جیسا…. خود کو جوڑتا ہوا.رشتے سچائی سے نبھانے والا…ہم ایک دوسرے کے لئے ہی بنے ہیں.” ہانیہ نے نم آنکھوں کے ساتھ مسکرا کر علی کو دیکھا.اسے اپنی آنکھوں میں جو کمی دکھائی دیتی تھی اسنے وہی کمی ,دکھ علی کی آنکھوں میں بھی دیکھا تھا. اب وہ دونوں خود کو ایک دوسرے کے لئے نئے سرے سے جوڑ رہے تھے.
حیات نے محبت سے ہانیہ کو دیکھا پھر اسکا ہاتھ تھاما.”آپ بہت اچھی ہیں ہانی…”
“تمہاری طرح…” ہانیہ نے ہنس کرکہا.
“ماشاء اللّه بہت پیاری لگ رہی ہو.” ہانیہ نے اس پھولوں جیسی لڑکی کو اِس پیارے روپ میں دیکھ کر کہا.”سچی!!! “حیات نے سنہری آنکھوں سے اسے دیکھا.ہانیہ اسکے قریب ہوئی.
“شیرمار کو بلا لوں…اس سے پوچھ لو” اسنے سرگوشی کی.”اففف ہانی آپ بھی ناں…” حیات اپنا گلنار چہرہ جھکا گئی تو ہانیہ ہنسنے لگی.اسٹیج سے نیچے ہنگامہ جاری تھا.تابی کو تنگ کیا جارہا تھا کہ وہ لڑکے کی طرف گئی اور انھیں ہار کا مزہ چکھا دیا.تابی منہ بسور کر بیٹھی تھی.ولید سے مزید دیکھا نہ گیا تو بول پڑا.”بس کر دو بہنو….اب کیا معصوم کی جان لوگی.”ولید کی بات پر سب نے شور مچا دیا.”ولید بھائی …تابی معصوم نہیں ہے.”مینا نے احتجاج کیا.پر ولید کو تابی میڈم معصومیت کا پیکر لگ رہی تھی.تابی تو ولید کے صدقے جانے لگی اور محبت سے اسے دیکھے گئی.”نظریں جھکا لو ….کچھ شرم کرو” حریم نے اسے کہنی ماری.”کتنی اچھی بات کی ہے ولی نے”تابی نے جیسے سنا ہی نہیں وہ ولید کو دیکھ کر بڑبڑا رہی تھی.”ولی کی دیوانی…. ہوش میں آؤ”سبین نے اسے جھنجھوڑ کر کہا. تابی نےجواباً اسے گھورا.”چشمش…تم ذرا اپنے بھولے پر دھیان دو اور مجھے معاف رکھو.”
“مجھے کسی پر دھیان دینے کی کیا ضرورت ہے.” سبین نے ناک سے مکھی اڑائی.”سخت دل عورت…”تابی نے تپ کر کہا.”لڑکی ہوں میں!!” “سبین نے اسے چڑانے کے لئے کہا.حریم اور مینا ہنسنے لگیں.
کچھ دیر میں مہندی کا شور اٹھا.سب بڑوں نے مہندی کی رسم ادا کی…شیرافگن کو بھی حیات کے ساتھ اسٹیج پر بٹھایا گیا.حیات کے چہرے کو گھونگھٹ سے چھپا دیاتھا.شیرافگن اسکے قریب تھا پر ہائے یہ مجبوری کہ اسے دیکھ بھی نہیں سکتا تھا.یہ بات اسے غصہ بھی دلا رہی تھی.سب بڑے اسٹیج سے اتر گئے تو ینگ پارٹی نے انھیں گھیر لیا.کافی دیر تنگ کرنے کے بعد سب نیچے اترے.سب نے ڈانس پرفارمنس جو دینی تھی.اسٹیج پر اب صرف وہ دونوں تھے.شیرافگن نے پیچھے ہو کر اپنا بازو صوفے کی بیک پر پھیلایا.اسکا ہاتھ حیات کے کندھے سے ٹچ ہوا تو حیات کانپ سی گئی.شیرافگن نے گھور کر اسکے گھونگھٹ کو دیکھا.” یار یہ چہرے سے اس پردے کو ہٹا دو….دوسرا دن ہے….میں نے تمہیں دیکھا ہی نہیں…”اسنے دھیمے سے سرگوشی کی.
حیات نے ہاتھ بڑھا کر گھونگھٹ ٹھیک کیا.
“جی نہیں….کیوں ہٹا دوں.آپ سامنے دیکھیں” حیات نے آہستہ آواز میں کہا.اسے نظروں کی تپش خود پر محسوس ہورہی تھی.
“نہیں دیکھتا سامنے…تمہیں ہی دیکھوں گا.” شیرافگن نےضدی لہجے میں اس پر نظریں جما کر کہا.
” گھونگھٹ ہٹے گا تب ناں “حیات نے ہنسی دبا کر چڑانے والے انداز میں کہا.
“لو ابھی ہٹا دیتا ہوں…مشکل کیا ہے.” شیر افگن سیدھا ہو بیٹھا.پھر اسکی طرف گھوما. حیات ڈر کے پیچھے ہوئی اور ہاتھوں سے گھونگھٹ کو مظبوطی سے تھاما.شیرافگن کا کیا تھا وہ سب کے سامنے گھونگھٹ اٹھا بھی لیتا.اسنے ہنسی دبا کر حیات کا ہاتھ پکڑا. “ا…افگن !!”حیات اٹک کر بولی.اسکا ہاتھ بالکل ٹھنڈا پڑ چکا تھا.اسے ڈر تھا کہ سب دیکھ رہے ہونگے.پر سب ڈانس پرفارمنس دیکھنے میں مصروف تھے.”کیوں پرنسیس…بریک کیوں لگ گئی.بولو اب..”شیرافگن نے شرارت سےکہا. حیات کے تو چھکے چھوٹ گئے.اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی ایمان اسٹیج پر آئی. “بھائی تنگ نہ کریں میری گڑیا کو…”ایمان نے مسکرا کر کہا
“پھر اپنی گڑیا کا گھونگھٹ تھوڑا پیچھے کرو ورنہ مجھے ڈر ہے اسکا دم گھٹ جائے گا.” شیر افگن نے فکر مندی سے کہا.حیات کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی.
“اللّه اللّه اتنی فکر…کچھ نہیں ہوتا آپکی دلہن کو…” ایمان نے ہنس کر کہا پھر حیات کا گھونگھٹ تھوڑا پیچھے کیا.اسکا چہرہ پھر بهی چھپا ہوا تھا.شیرافگن نے مسکرا کر بہن کو دیکھا پھر اپنے ہاتھ میں تھامے اس نازک ہاتھ کو…”بھائی گڑیا کا ہاتھ چھوڑ دیں اب…”ایمان نے شرارت سے کہا.”اب تو ساری زندگی یہ ہاتھ میرے ہاتھ میں رہے گا.”شیرافگن نے چمکتیں آنکھوں کے ساتھ کہا.ایمان نے ان دونوں کو دیکھ کر “ماشاء اللّه” کہا کہ کہیں انھیں اسکی نظر ہی نہ لگ جائے.ایمان کو دادو نے بلایا تو وہ انکی طرف بڑھ گئی.شیرافگن نے نرمی سے حیات کا ہاتھ دبا کر چھوڑ دیا تو حیات کی اٹکی سانسیں بحال ہوئیں.کچھ دیر میں حیات کی چڑیلوں نے ڈانس شروع کیا.سبین ، حریم ، تابی ، مینا چاروں اپنی جگہ سنبھال چکی تھیں.میوزک شروع ہو چکا تھا.
رات کی رنگینی دیکھو کیا رنگ لائی ہے
ہاتھوں کی مہندی بھی جیسے کھل کھلائی ہے
مستیوں نے آنکھ یوں کھولی ..
جھومتی دھڑکن یہی بولی.
بلےبلے ناچے ہے یہ باورا جیا
بلے بلے لے جائے گا سانورا پیا
جلےجلے نینوں میں جیسے پیار کا دیا
بلے بلے..
وہاں سب تالیاں بجا رہے تھے.حیات نے جلدی سے ہاتھوں میں گھونگھٹ پکڑ کر اپر کر لیا تا کہ ان سب کو دیکھ سکے.وہ ہنس کر ، محبت سے اپنی چڑیلوں کو دیکھ رہی تھی.پھر وہ سب ناچتیں ہوئیں اسٹیج کے اپر آئیں.
پھولوں سی مہکے تیری زندگی بہار ہو
ڈھیروں وفائیں ملیں ، پیار بےشمار ہو
لاگے نظر نہ اس جوڑے کو کسی کی
کیسا سماں ہے یہ آنسوں بھی ہے، خوشی بھی
لو نئی دنیا بسانے کو پیا کے سنگ….
گوری ہے اپنے گھر…جانے کو پیا کے سنگ..
بلے بلے..
سب جیسے ان دونوں کی نظر اتار رہی تھیں.حیات چمکتیں آنکھوں سے انھیں دیکھ کر مسکرارہی تھیں.پھر وہ سب اسٹیج سے نیچے چلی گئیں.سب تالیاں بجا رہے تھے.حیات کا دل کیا وہ بھی بھاگ کر جائے اور انکے ساتھ شامل ہوجائے.پر اففف “وہ دلہن ہو کر ایسی حرکت نہیں کر سکتی تھی” وہ مسکرا کر سبکو دیکھ رہی تھی اور شیرافگن اسے دیکھنے میں مصروف تھا.آخر کار اسنے حیات کو دو دنوں کے بعد دیکھ ہی لیا تھا.وہ اپنی جھلی کو محبت سے دیکھے گیا.حیات کی چڑیلوں کا ڈانس ختم ہوا تو اسے اپنے چہرے پر نظروں کی تپش کا احساس ہوا.اسنے سنہری آنکھیں گھما کر دیکھا تو اسکے پیا جی اسے دیکھنے میں مگن تھے.اسنے ہربڑا کر جلدی سے گھونگھٹ نیچے کیا.شیرافگن نے مسکراہٹ دبائی.پھر تھوڑا اسکے قریب ہوا.”ماشاءاللّه پرنسیس….دل ہلا دیا میرا…”سرگوشی میں کہا گیا.حیات کا دل دھک دھک کرنے لگا جبکہ لبوں پر مسکان چمک رہی تھی.اسنے آنکھیں بند کر کے دعا کی کہ یہ محبت ، یہ خوشیاں ہمیشہ یونہی برقرار رہیں.اسے لگا جیسے ساتھ بیٹھے شخص نے مدھم آواز میں آمین کہا تھا.
حیات خوشی سے جھومنے لگی تھی.اسکے ساتھ بیٹھا یہ پیارا شخص اسکا سب کچھ تھا.وہ بے پناہ خوش تھی.فنکشن چلتا رہا پر حیات کو اسکے کمرے میں لے جایا گیا.اسکے ہاتھ ، پاؤں پر مہندی لگا دی گئی تھی.وہ اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی.مہندی کے لباس میں، گول پھولوں سے بنے جھمکوں کے علاوہ اسنے باقی زیور اتار دیا تھا.بالوں کی ڈھیلی سی چٹیا بنی تھی.دوپٹہ اسکا سائیڈ پر رکھا تھا.بیٹھ بیٹھ کے وہ تھک چکی تھی.نیچے ابھی بھی ہنگامہ مچ رہا تھا.اسکی چڑیلیں بھی نیچے ہی تھیں.اسےغصہ آنے لگا.ایک اسے اکیلا چھوڑ دیا اوراپر سےاسے پیاس لگ رہی تھی. اسنے ٹیبل پر رکھے جگ کو دیکھا.پھر اپنے ہاتھوں کو….اب پانی کیسے پئے ہاتھوں کی مہندی گھیلی تھی.وہ بیڈ سے اتری.اسنے ہاتھ پھیلا کر بازوؤں تک لگی مہندی کو دیکھا. “تبھی نہیں لگاتی تھی میں یہ مہندی….باندھ کر رکھ دیا ہے مجھے…کیا کروں پیاس لگی ہے…”اسنے رونے والے انداز میں کہا.پھر دروازے کی طرف بڑھی.اسکا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے کہ اب ہینڈل کیسے گھمائے گی؟
“اففف اللّه!!” اسنےجھنجھلا کراپنا سر دروازے کے ساتھ ٹکا لیا.”سب اکیلا چھوڑ گئے…کہا بھی تھا کہ آرام نہیں کرنا.”بڑبڑا تی ہوئی وہ ہلکے ہلکے سے سر دروازے کے ساتھ مارنے لگی.پھر اسنے کسی طرح کہنی سے دروازہ نوک کیا. “کوئی دروازہ کھول دے”اسنے آواز لگائی کہ شاید کوئی اپر ہو تو دلہن بیچاری کو آزاد کرے یا پانی ہی پلا دے.وہ نوک کرتی رہی جب کوئی نہ آیا تو وہ مایوسی سے پلٹی ہی تھی کہ اچانک دروازہ کھلا.حیات نے خوشی سے آنے والے کو دیکھا.” ہائے ربا…”وہ جلدی سے پلٹ کر بیڈ کی طرف آئی.وہ بنا دوپٹے کے کھڑی تھی.شیرافگن نے ہنسی دبا کر اسکی پشت کو دیکھا.حیات سوچ رہی تھی دوپٹہ کیسے اٹھائے.پھر سر جھٹک کر دوپٹے کی طرف ہاتھ بڑھایا.اب مہندی خراب ہوتی ہے تو ہوتی رہے……..”رک جاؤ لڑکی…مہندی خراب نہ کرنا”شیرافگن جلدی سےبیڈ کی طرف آیا اور دوپٹہ اٹھا کر حیات کو اوڑھایا.پھراسکا رخ اپنی طرف موڑا.حیات سر جھکا گئی.شیر افگن نے اسکے ہاتھوں کو دیکھا.اسکے نازک ہاتھ پاؤں پر مہندی خوب بہار دیکھا رہی تھی.”بہت پیاری لگ رہی ہو.”اسنے حیات کو دیکھ کر کہا. اسے حیات کے ہاتھوں پر مہندی بہت اچھی لگ رہی تھی.
“یار بس کر دو…تم مجھے دیکھ سکتی ہو ایسا بھی کیا پردہ” شیرافگن نے اسکے جھکے سر کو دیکھ کر کہا.حیات نے نیچی نظروں سے اسے دیکھا.اسکی اس ادا پر شیرافگن مسکرانے لگا.
“دروازہ کیوں نوک کر رہی تھیں دلہن صاحبہ”
“یہاں تنہا کر دیا ہے سب نے مجھے….پیاس لگی تھی….پانی کیسے پیتی…اسلئے کسی کو بلا رہی تھی.” اسنے مہندی والے ہاتھ اسکے سامنے کر کے کہا.”آپ نے بلایا اور ہم چلے آئے” شیرافگن نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا. حیات نے مسکراہٹ دبا کر اسے دیکھا.”میں ہوں ناں اب تم تنہا نہیں ہو اور رہا پانی تو ابھی لاتا ہوں”شیرافگن نے مسکرا کر انگلی سے اسکا جھمکا ہلایا. پھر ٹیبل کی طرف بڑھا.حیات کی کان کی لو میں پڑا جھمکا ہلکے ہلکے سے جنبش کرنے لگا. اسنے مسکرا کر گردن موڑ کے شیرافگن کو دیکھا.جو گلاس میں پانی لےکر اسکی طرف آرہا تھا.”لو آج اپنے دولہے کے ہاتھ سے پانی پیوؤ”اسنے گلاس حیات کے لبوں سے لگایا.حیات نے پانی پی کر سر ہلایا تو شیرافگن نے گلاس پیچھے کیا.
“شکریہ”حیات نے سنہری آنکھوں سے اسے دیکھا.”یار بیوی ہو…اب تمہارے کام تو کرنے پڑیں گے ناں.”اسنےشرارت سے مسکرا کر حیات کا ناک دبایا.حیات ایک دم ہنسنے لگی.شیرافگن محبت سے اسے دیکھنے لگا.تبھی ہانیہ کمرے میں داخل ہوئی.”واہ ہم سب وہاں دولہا صاحب کو ڈھونڈھ رہے ہیں اور آپ یہاں ہیں.”ہانیہ نےمسکرا کرانھیں دیکھا.حیات گلابی چہرہ جھکاگئی.”ارے ظالموں اپنی پرنسیس کو کمپنی دینے آیا تھا.اسے کیسے سب نے اکیلا چھوڑ دیا ہے.”شیرافگن نےگلاس ٹیبل پر رکھ کر کہا ہانیہ زور سے ہنسی.”اللّه رے اتنی فکر….پر ابھی بھاگو یہاں سے، وہ شیطانوں کا ٹولہ اپر آرہا ہے.تمہیں یہاں دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہوگا.”ہانیہ نے اسے چڑیلوں کے آنے کی خبر دے کر ڈرایا.”یہ ظلم ہے ویسے” شیرافگن نے تپ کر کہا پھر جلدی سے باہر نکلا.ورنہ وہ چڑیلیں حیات کو سات پردوں میں چھپا دیتیں.اسکے جاتے ہی حیات اور ہانیہ زور سے ہنسنے لگیں.
••••••••••••
اگلادن ہنگامہ لے کر طلوع ہوا تھا.ہر طرف تیاری ہو رہی تھی.سب اپنے کاموں میں مگن تھے.حیات کو پالر لے جایا گیا تھا.اسکی چڑیلیں اسکے ساتھ ساتھ تھیں.گھر کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا تھا.شیرافگن بھی اِدھر سے اُدھر ہو رہا تھا.باپ اور چچا کی مدد کر رہا تھا.مجتبیٰ ، ولی اور علی بھی انکی ہیلپ کر رہے تھے.مہمان آنے شروع ہو چکے تھے.ایمان بھائی کی طرف آئی.جو کار سے کچھ نکال رہا تھا.”بھائی جا کر تیار ہو جائیں.سب مہمان آرہے ہیں.”اسکی بات پر شیرافگن نے مسکرا کر بہن کو دیکھا.اُسے ہمیشہ شیرافگن کی فکر لگی رہتی تھی.مصروفیت سے وقت نکال کر وہ بھائی کی ہر چیز کا خیال رکھتی تھی.شیر افگن نے محبت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا.
“تیار ہوجاؤ گا…..پیاری سی بہنا” اسنے مسکرا کر ایمان کا سر تھپکا.”پر بھائی کب؟”ایمان نے اسے دیکھا.”حیات کو لینے کون جارہا ہے؟”
“مجتبیٰ جائیں گے” ایمان نے جلدی سے جواب دیا.”میں کیوں نہیں؟” اسنے ابرو اٹھا کرپوچھا
“اللّه کو مانیں بھائی…آج شادی ہے آپکی…دلہن کو پالر سے لینے دولہا جائے گا.” ایمان نے ہنسی دبا کر کہا.”ہاں تو…اس میں برائی کیا ہے.” شیرافگن نے اسے دیکھا.”بالکل نہیں… آپ اپنی تیاری کریں…آپکی پرنسیس آجائے گی.فکر نہ کریں.”اسنے بھائی کا کندھا تھپک کر کہا.شیر افگن بالوں میں ہاتھ پھیر کر ہنس دیا.
“چلو ٹھیک ہے.”مسکرا کر کہتاوہ اندر کی طرف بڑھ گیا.ایمان بھی ہنس کر اسکے پیچھے گئی.وہ سب پالر میں تھیں.حیات کو تیار کر دیا گیا تھا.لال عروسی لباس میں، خوبصورتی سے ہوئے میک اپ اور جیولری میں وہ بے حد حسین لگ رہی تھی.اسکی چڑیلیں اسکے آس پاس تیار کھڑی تھیں.”ہائے میں صدقے جاؤں” حریم اس پر واری جانے لگی.باقی سب کا بھی یہی حال تھا.حیات نے مسکرا کر انھیں دیکھا.”قیامت لگ رہی ہو.”تابی نے اسکی ماتھا پٹی ٹھیک کرتے ہوئے کہا.”افگن بھائی کی خیر نہیں ہے.”مینا نے آنکھ دبا کر کہا.”بس کر دو…کچھ سن نہ لینا مجھ سے”حیات نے شیشے میں دیکھ کر نتھ ٹھیک کرتے ہوئے کہا.
“آج تو خاموش رہو…شادی ہے تمہاری” مینا نے منہ بنا کر کہا.”شادی ہورہی ہے…میں گونگی تھوڑی ہوئی ہوں.”حیات نے آنکھیں گھما کر کہا.سب زور سے ہنسنے لگیں.پھر کچھ دیر میں مجتبیٰ انھیں لینے آیا.حیات کو چادر اوڑھا کر کار میں بٹھایا.باقی سب بھی بیٹھیں تو کار گھر کی جانب بڑھنے لگی.بیک ڈور سے وہ سب گھر میں داخل ہوئیں.میوزک کا شور ماحول پر چھایاہوا تھا.حیات کو کمرے میں لے جایا گیا.کچھ دیر میں اسکی چاروں چڑیلوں نے پھولوں کی چادر کے سائے تلے اسے اسٹیج تک لایا.شیرافگن اسٹیج پر مجتبیٰ کے ساتھ بیٹھا تھا.حیات کو دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا.اسنے سفید شلوار ، قمیض پہنی تھی.بھورے بال اچھے سے سیٹ تھے.حیات اگر شہزادی لگ رہی تھی تو شیرافگن کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا.حیات کو دیکھ کر اسکے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی.
میں اس چہرے کی عادت باعث زیارت سمجھوں گا.
جو نکاح کی برکت سے مجھ پر حلال ہوگیا.
اسنے حیات کے چہرے پر نظریں جماکر ہاتھ اسکی طرف بڑھایا.ادر گرد ایک دم سب نے شور مچا دیااور تالیاں بجانیں شروع کر دیں تھیں.حیات نے سنہری آنکھوں سے اسکے پھیلے ہوئے ہاتھ کو دیکھا.پھر نظر اٹھا کر شیرافگن کو….مدھم مسکان کے ساتھ اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ دیا.آس پاس سیٹیاں بجنے لگیں. ماحول ایک دم سےخوش رنگ ہوگیا تھا.حیات اسکا ہاتھ تھام کر اسٹیج پر آئی.دونوں صوفے پر بیٹھے.پھر انکا فوٹو شوٹ ہوا.خوب ہنگامہ مچا تھا.آج انکی زندگی کا سب سے بڑا دن تھا.ہر چہرہ خوشی کی تصویر بنا تھا.
رخصتی کا شور اٹھا اور ساتھ ہی حیات کے آنسو بہنے لگے.بھلے ہی وہ ماں ، باپ سے جدا نہیں ہورہی تھی پر پھر بھی بہت کچھ بدل جانے والا تھا.وہ ایک زندگی سے ایک نئی زندگی میں قدم رکھ رہی تھی.وہ خوش تھی اور خفا بھی….اسکی اماں نے اسے سینے سے لگایا.چڑیلیں اسکے ساتھ تھیں.بڑے ابو اور بابا کے سینے سے لگ کر وہ خوب روئی.دادو نے اسے ڈھیر ساری دعائیں دیں.سب سے مل کر ہانیہ نے اسےگاڑی میں بٹھایا.جہاں مجتبیٰ ڈرائیونگ سیٹ پر تھا اور ایمان اسکے ساتھ بیٹھی تھی.شیرافگن بیک سیٹ پر تھا.حیات کے بیٹھتے ہی کار آگے بڑھا دی گئی.حیات رو رہی تھی.جب اسکے ساتھ بیٹھے شیرافگن نے اسکا ہاتھ تھاما.حیات کا ہاتھ ٹھنڈا برف ہورہا تھا.”شش یار چپ کر جاؤ کچھ دیر میں لوٹ کر یہیں آنا ہے.”اسنے حیات کا ہاتھ سہلا کر کہا.حیات نے کوئی جواب نہ دیا بس چھو چھو کرتی رہی.ایمان نے ہنس کر پیچھے دیکھا.
“بھائی گھونگھٹ پیچھے کر دیں گڑیا کا.”ایمان کے کہنے پر شیرافگن نے اسکا گھونگھٹ پیچھے کرنا چاہا پر حیات نے اسے ایسا نہ کرنے دیا. “نہیں…”حیات نے آہستہ سے نم آواز میں کہا.وہ ابھی شیرافگن کا سامنا نہیں کرنا چاہ رہی تھی.اسے عجیب فیل ہورہا تھا.شیرافگن نے مسکرا کر ہاتھ نیچے کر لیا.وہ حیات کی حالت سمجھ سکتا تھا.
“ویسے یہ انوکھی رخصتی ہے.” مجتبیٰ کی مسکراتی آواز گاڑی میں گونجی.
“اب رخصتی کی رسم بھی تو نبھانی تھی ناں” ایمان نے مجتبیٰ کو دیکھ کر کہا.شیرافگن کا کہنا تھا کہ رخصتی کے وقت باہر سے کار کا ایک چکر لگا کر پھر وہ لوگ واپس عباسی ہاؤس جائیں گے.جس وقت تک وہ اس انوکھے سفر کا مزہ لے رہے تھے. تب تک عباسی ہاؤس میں انکے ویلکم کی تیاری ہو رہی تھی.حیات اب اپنے سسرال میں قدم رکھنے والی تھی.
“کیوں لالے کیسا لگ رہا ہے؟”مجتبیٰ نے مرر میں دیکھ کر شیرافگن سے پوچھا
“مکمل…”شیرافگن نے مختصر مگر گہرا جواب دیا.مجتبیٰ زور سے ہنسا.”بہت خوب….”اسنے سر ہلا کر کہا.انکی گفتگو کے دوران حیات خاموش ہی رہی.اب اسے اپنے ہی گھر جاتے ہوئے عجیب لگ رہا تھا.اب عباسی ہاؤس اسکا سسرال اور میکہ دونوں تھا.
“تیار ہوجائیں مادام….گھر آگیا ہے.”شیرافگن نے اسکے قریب ہو کر شرارت سے سرگوشی کی.حیات کا دل اسپیڈ پکڑ چکا تھا.”بس کرو حیات…سب اپنے ہیں…پھر ڈر کیسا.”اسنے خود کو تسلی دی.کار رکی.رات کے اندھیرے میں گھر روشنیوں سے چمک رہا تھا.وہ لوگ کار سے باہر نکلے تو سب نے شور کے ساتھ اسکا ویلکم کیا.پھر ان پر پھولوں کی بارش کی گئی.اسکی چڑیلیں بھاگ کر اس تک آئیں.”خوش آمدید حبیبی!!!” تابی نے ہنس کر کہا.حیات ریلیکس ہو کر مسکرائی.وہ اپنوں میں تھی یہ بات اسے مطمئن کر گئی.سب ہال کی طرف بڑھے پھر دیر تک رسمیں چلتی رہیں تھیں.لڑکیوں نے تو ہنگامہ برپا کیا ہوا تھا. انھوں نے شیرافگن اور حیات کو خوب تنگ کیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *