Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 (Watching)Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26
ساری رات روتے رہنے اور سخت ٹینشن کی وجہ سے اگلے دن وہ بخار سے تپ رہی تھی.حیات نیم بیہوشی کی حالت میں تھی.
الماس بیگم نے اسے دیکھا تو انکا دل تڑپ گیا.
“حیات بیٹا آنکھیں کھولو” انھیں نے حیات کا گال تھپک کر کہا.پر وہ بیہوش پڑی رہی.الماس بیگم نے جلدی سے احمد صاحب کو بتایا.وہ شیرافگن کی طرف بھی گئیں پر وہ کمرے میں موجود نہیں تھا.وہ جلد ہی آفس کے لئے نکل چکا تھا.امل اور ہانیہ بھی حیات کے کمرے میں ہی تھیں.الماس بیگم بیڈ پر حیات کے قریب بیٹھی تھیں.انہوں نے کسی طرح حیات کو تھوڑا سا ناشتہ کروا کر دوا دی حیات پھر سے نیم بیہوشی کی حالت میں چلی گئی. کچھ دیر میں احمد صاحب ڈاکٹر کو لے آۓ. ڈاکٹر نے اسکا چیک اپ کیا.اسے ڈرپ لگائی اور احمد صاحب کو بتایا کہ حیات کا خیال رکھیں اسے بہت تیز بخار ہے جو کہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے.ڈاکٹر انکو ہدایت دے کر چلے گئے.سب ایک دم سے پریشان ہوگئے تھے کہ اچانک حیات کو کیا ہوگیا؟ آج سے پہلے کبھی حیات کی یہ حالت نہ ہوئی تھی.احمد صاحب اور امل کمرے سے چلے گئے.ہانیہ چلتی ہوئی الماس بیگم کی طرف آئی جو اپنی ہنستی ، کھیلتی بیٹی کو یوں بیہوش پڑے دیکھ کر آنسو بہا رہیں تھیں.ہانیہ نے انکے قریب بیٹھ کر انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا.”آنٹی پلیز آپ روئیں مت حیات ٹھیک ہوجاۓ گی.”ہانیہ نے نرمی سے کہا.”دیکھو ہانیہ میری یہ شرارتی گڑیا یوں بیہوش پڑی ہے.میرا دل گھبرا رہا ہے.” الماس بیگم حیات کو دیکھ کر رو رہی تھیں.ایک ہی دن میں وہ مرجھا سی گئی تھی.
“آپ دعا کریں آنٹی اور دیکھیے گا ہماری گڑیا کچھ دیر میں آپکو مسکراتی ہوئی ملے گی.” ہانیہ نے ہلکی مسکان کے ساتھ کہا.
“انشاء اللّه بیٹا.”انہوں نے محبت سے ہانیہ کا گال تھپکا.کافی دیر وہ وہاں بیٹھی رہیں.پھر حیات کو آرام کرتا چھوڑ کر کمرے سے نکلیں. ہانیہ ، شیرافگن کو کال کرتی رہی پر اسنے کال پک نہ کی.وہ اسے کال کر کے حیات کا بتانا چاہ رہی تھی.پر دوسری طرف سے کال پک نہیں کی جارہی تھی.
دوپہر سے شام ہوگئی تھی پر حیات ویسے ہی بیہوش تھی.الماس بیگم اسکے پاس بیٹھیں اسکے ماتھے پر پٹیاں رکھ رہیں تھیں.جب حیات کی پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی. پھر اسنے آہستہ سے آنکھیں کھول دیں.الماس بیگم خوشی سے اسکےقریب ہوئیں.حیات نے اماں کو دیکھا تو انکی گود میں سر رکھ کر رونے لگی.الماس بیگم نے اسے چپ کروایا پر وہ ویسے ہی روتی رہی.ایک طرف صوفے پر بیٹھی ہانیہ اسکے قریب آئی.” حیات گڑیا خاموش ہوجاؤ…ورنہ طبیعت اور بگڑ جائے گی.”ہانیہ نے اسکے قریب بیٹھ کر اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا.اس نرم اور فکرمند لہجے کو سن کر حیات نے آنکھیں گھما کر اسے دیکھا.کل کی گزری ہر بات اسکی آنکھوں کے سامنے سکرین پر چلنے لگی.سب یاد کر کے حیات کی سانسیں اٹکیں.”آئندہ…اپنی یہ صورت میرے سامنے مت لانا.”شیرافگن کی سرد آواز کو یاد کر کے اسنے سانس کھینچنی چاہی پر وہ سانس نہ لے پائی.سانس بند رہنے سے اسکی آنکھوں سے شفاف پانی گرنے لگا.اسکی حالت دیکھ کر الماس بیگم اور ہانیہ دونوں کے ہاتھ پیر پھول گئے.”حیات!!!یہ کیا ہو رہا ہے میری بیٹی کو” الماس بیگم حیات کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر رونے لگیں.”آنٹی آپ حیات کو سنبھالیں میں بابا کو گاڑی نکلنے کا کہتی ہوں.”ہانیہ جلدی سے کہتی نیچے کی طرف بھاگی.اسنے احمد صاحب اور امل کو بتایا.احمد صاحب پورچ کی طرف بڑھے جبکہ امل اور ہانیہ بھاگ کر حیات کے کمرے میں آئیں.حیات نے الماس بیگم کا ہاتھ پکڑا تھا.وہ تکلیف میں اِدھر سے اُدھر تکیہ پر سر مار رہی تھی.”اماں…مم…مجھے سانس نہیں آرہی.. مم… میرا دم گھٹ رہا ہے.”حیات نے اٹک اٹک کر کہا.ماں کو دیکھتی اسکی آنکھوں سےتیزی سے آنسو گرنےلگے.الماس بیگم کا دل پھٹنے لگا.انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو اپنے دل میں چھپا لیں.وہ آنسو بہانے کے علاوہ کچھ نہ کر سکیں.امل اپنی شوخ سی بہن کو اس حالت میں دیکھ کر رونے لگی تھی.ہانیہ کی آنکھوں میں بھی نمی تھی.انہوں نے جلدی سے آگےبڑھ کر حیات کو تھاماکسی طرح وہ لوگ حیات کو نیچے لے کر آئیں.ہال میں احمد صاحب نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنی پیاری بیٹی کو سہارا دیا.حیات نے اپنا سر باپ کے سینے پر رکھا.اسکی تڑپ دیکھ کر احمد صاحب کانپ سے گئے.یہ انکی پیاری بیٹی کو کیا ہورہا تھا؟ کوئی یہ بات سمجھ نہ پایا.حیات کو کار میں بٹھا کر کار آگے بڑھا دی.الماس بیگم نے نیم بیہوش حیات کا سر اپنے کندھے پر رکھا.انہوں نے ہانیہ سے شیرافگن کو کال کرنے کا کہا.ہانیہ نے کال کی پر شیرافگن نے کال پک نے کی.حیات کو ہوسپٹل کے اندر جایا گیا.سب آئی سی یو کے باہر تھے.رات کے ساۓ چار سو پھیل چکے تھے. پر شیرافگن کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا.احمد صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے اسے کال ملائی. دوسری طرف سے کال اٹھا لی گئی.
شیرافگن صبح سے نکلا تھا.کچھ وقت آفس میں رہا پر آفس میں اسکا دل نہ لگا تو وہ کار لے کر نکل پڑا.اسے نہیں پتہ تھا کہ اسے جانا کہاں ہے.بس وہ سڑکوں پر گاڑی لے کر گھومتا رہا.اسکی پوری کوشش تھی کہ کل جو ہوا وہ اسے بھلا دے.پر ایسا ناممکن تھا.وہ درد بھرے دل کو لے کر کہاں جاتا جہاں بھی جاتا اس دل نے تو اسکے ساتھ ہی رہنا تھا.ہانیہ اسے کالز کرتی رہی تھی پر اسنے پک نہ کیں.اس وقت وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا.وہ ڈرائیو کر رہا تھا.جب پھر اسکا موبائل بجا.اسے فلحال گھر نہیں جانا تھا.اسلئے اسکا کال پک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا.پر سکرین پہ احمد صاحب کا نام دیکھ کر نہ چاھتے ہوئے بھی اسنے کال پک کرلی.”جی چچا جان!!”اسنے بھاری آواز میں کہا.”شیرافگن….”احمد صاحب نے بس اتنا ہی کہا.شیرافگن کو انکی آواز کانپتی ہوئی محسوس ہوئی.”کیا ہوا چچا جان….کہاں ہیں آپ؟”اسےکچھ غلط ہونے کا احساس ہوا.اسنے جلدی سے پوچھا.
“ہوسپٹل ….تم جلدی آجاؤ بیٹا.مجھے تمہاری ضرورت ہے.”انہوں نے کانپتی آواز میں کہا. شیرافگن کو جھٹکا سا لگا.” کون…کون ہے ہوسپٹل میں چچا جان.”اسنے ڈرتے ڈرتے پوچھا.اسکا ذہن سبکی طرف جارہا تھا.
“حیات…”احمد صاحب نے مدھم آواز میں کہا پھر ہوسپٹل کا نام بتایا.انکی بات سن کر شیرافگن کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ گیا.اسنے ایک دم کار کو بریک لگائی.”حیات…حیات” اسی نام کی مدھم مدھم سرگوشی اسکے آس پاس گونج رہی تھی.دل نے اپنی رفتار تیز کرلی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں.اسٹیرنگ ویل پر رکھے اسکے ہاتھ کانپے تھے.اسنے اسٹیرنگ ویل اور مظبوطی سے تھاما.پھر اپنا سر سیٹ کی بیک سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں. “ایسا نہیں ہونا چاہیے حیات….ایسے کیسے تم ہوسپٹل پہنچ گئی.وہاں تو مجھے ہونا چاہیے تھا کیونکہ تم نے میرا دل دھکایا ہے….مجھے توڑ کر رکھ دیا.پر تمہیں چین نہیں ملا اب تم مجھے پھرسے تڑپانا چاہتی ہو.کیا میرا اتنا بھی حق نہیں کہ میں تم سے ناراض ہو سکوں؟ خود تم مجھ سے خفا ہوتی ہو. لڑائی کرتی ہو پر خود تم میری ایک دن کی بےرخی برداشت نہ کر سکی.جبکہ غلطی بھی تمہاری تھی.اس بار بھی تم اپنی کرنا چاہتی ہو…ابھی تو ایک دن بھی نہیں ہوا… میں نہیں ہاروں گا حیات یہ دل نہیں ہارے گا….تمہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ تم نے کتنا غلط کیا ہے.میں تمہیں کچھ ہونے نہیں دونگا.کیونکہ تم ہو تو یہ شیر افگن ہے.تم شیرافگن کی ذات کا حصہ ہو…پر” وہ دھڑکتے دل کے ساتھ بڑبڑاتا ہوا رکا پھر سیدھا ہو بیٹھا.”پر میں تمہیں اتنی آسانی سے معاف نہیں کرونگا پرنسیس”شیشے کے پار گھورتے ہوئے لب بھینچ کر اسنے مدھم آواز میں کہا.اسنے اپنے دل کو مظبوط کر لیا.اسنے جلدی سے کار سٹارٹ کر کے زن سے آگے بڑھا دی.کار ہوا سے باتیں کرنے لگی تھی.وہ کبھی اس شخص کی شکل نہ دیکھتا جسنے اسکے کردار ، اسکی نیت پر سوال اٹھایا.وہ کچھ معاملات میں بہت سلفش تھا.پر یہاں معاملہ اسکے دل کا تھا یہ دل تو بڑے بڑوں کو جھکا دیتا ہے.کبھی کبھی یہ دل ہی ہماری رسوائی کا سبب بنتا ہے.شیرافگن بھی دل کے ہاتھوں مجبور تھا.وہ چاھتے ہوئے بھی اس پاگل لڑکی سے منہ نہیں موڑ سکتا تھا.پر وہ اتنی آسانی سے کبھی بھی حیات کو معاف نہیں کرے گا کیونکہ عزت صرف عورت کی نہیں مرد کی بھی ہوتی ہے. حیات نے اسکے کردار پر انگلی اٹھائی تھی. اسکی محبت پر شک کیا تھا.اس سب کی سزا تو حیات کو ضرور ملنی چاہیے ناں؟
•••••••••••
وہ ہوسپٹل پہنچا.اسکی آنکھیں لال ہورہی تھیں.وہ سب کے قریب آیا.ایمان اور مجتبیٰ بھی وہاں موجود تھے.ایمان الماس بیگم کے ساتھ بیٹھی انھیں تسلی دے رہی تھی.سب بے حد پریشان تھے.وہ سبکو حوصلہ دیتا آئی سی یو سے باہر نکلتے ڈاکٹر سے بات کرنے کے لئے آگے بڑھا.”وہ کیسی ہے؟”شیرافگن نے بے تابی سے پوچھا.احمد صاحب بھی اسکے ساتھ آ کر کھڑے ہوئے.”شی از فائن ، بس کچھ دیر میں روم میں شفٹ کرینگے.”ڈاکٹر کہہ کر آگے بڑھ گیا.شیرافگن بھی پیچھے گیا.اسنے ڈاکٹر سے پوچھا کہ حیات کو کیا ہوا تھا؟ ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ حیات کو asthma کا اٹیک ہوا تھا.پر زیادہ severe attack نہیں تھا.پریشانی کی بات نہیں وہ اب ٹھیک ہے.پر ہوسکتا ہے کہ اسکی طبیعت دوبارہ خراب ہو جائے. اسلئے حیات کو ایک دن ہوسپٹل میں رکھنا ہوگا.
حیات کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا.سب اسکے پاس جمع تھے.ایک ایک کر کے سب اس سے مل رہے تھے.حیات نے لبوں پر ہلکی مسکان سجا کر سبکو تسلی دی کہ وہ ٹھیک ہے.پر اسکا دل درد کا ٹکڑا بنا تھا.اس سے سب ملے تھے سواۓ اس شخص کے جسے اسکی نگاہیں ڈھونڈھ رہی تھیں.جسے دیکھنے کے لئے اسکا دل تڑپ رہا تھا.اسے نہ آنا تھا وہ نہ آیا. حیات کا دل رونے لگا.اپنی بیوقوفی پر ، اپنے بچپنے پر کہ اس شخص کو اسنے خود اپنے آپ سے بد گمان کیا تھا.وہ یونہی سوچوں میں گم نیند کی وادی میں اتر گئی.حیات کو سوتے دیکھ کر سب باہر چلے گئے.ایمان نے بڑی مشکل سے سبکو گھر بھیجا کہ وہ اور شیرافگن اسکے پاس رکیں گے.الماس بیگم مان نہیں رہیں تھیں.پر ایمان نے کسی طرح انھیں بھیج دیا کیونکہ حیات کی خراب طبیعت کو لے کر وہ اپنی طبیعت بھی خراب کر بیٹھیں تھیں.سب لوگ چلے گئے تو ایمان ، شیرافگن کے قریب آئی وہ روم سے باہر کھڑا تھا.”بھائی آپ حیات سے کیوں نہیں ملے.”ایمان نے اسے دیکھ کر پوچھا.اسنے یہ بات نوٹ کی تھی کہ حیات سے سب ملے تھے.ایک وہی غائب تھا.
“ہوں…مل لونگا.”اسنے چونک کر مدھم آواز میں کہا.وہ کل رات سے جاگ رہا تھا.نہ اسے کل چین تھا اور نہ آج.”آپ دونوں کی لڑائی ہوئی ہے؟”اسنے بھائی کے بازو پر ہاتھ رکھ کر پوچھا.” ایسی کوئی بات نہیں”شیرافگن نے روم کے بند دروازے کو دیکھا جسکے پیچھے وہ لڑکی تھی.”کوئی بات ضرور ہے بھائی…ورنہ وہ ہنستی ، کھیلتی لڑکی یوں ہسپتال میں نہ پڑی ہوتی اور نہ آپ یوں دن بھر گھر سے غائب رهتے.”ایمان نے نرمی سے کہا.”کم آن یار….ایسا نہیں ہے.”شیرافگن جھنجھلا کر وہاں سے ہٹ کر بینچ پر بیٹھا.ایمان بھی اسکے ساتھ بیٹھی.”پھر وہ شخص جو حیات کے معمولی بخار پر اسکا اتنا خیال رکھتا تھا.آج اتنا کچھ ہوگیا اور آپ نے اسے دیکھا تک نہیں جبکہ اس لڑکی کی نظریں آپکو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر تھک چکی تھیں.”حیات نے اسکے چہرے پر نظریں جما کر تیکھے لہجے میں کہا.
وہ حیات کو اچھے سے جانتی تھی بھلے اسنے زبان سے کچھ نہ کہا تھا.پر اسکی نظریں سارا وقت اپنے شیر مار کو ڈھونڈھتی رہی تھیں. اسکی بے تابی ایمان نے محسوس کی تھی. ایمان کی بات سن کے شیرافگن بے چین ہوگیا.اسکے دل سے جیسے ہلکا ہلکا دھوا اٹھنے لگا.اسنے لال نظروں سے ایمان کو دیکھا.”پھر تم یہ بات اپنی گڑیا سے پوچھ لینا ایمان…کیونکہ تمہیں کچھ بتانا میرے بس کی بات نہیں ہے.”چبا کر کہتا وہ ایک دم اٹھا اور باہر کی طرف نکلتا چلا گیا.ایمان نے سوچتے ہوئے پریشان نظروں سے بھائی کی پشت کو دیکھا پھر اٹھ کر حیات کے پاس گئی. حیات دواؤں کے زیر اثر سو رہی تھی.ایمان اسکے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئی.پھر کافی دیر بعد جب وہ تھک گئی تو اٹھ کر صوفے پر لیٹ گئی.
شیرافگن کافی دیر تک باہر رہا.اسکا دل بے قرار تھا.اسے اس ظالم لڑکی کو دیکھنا تھا.وہ روم کے پاس رکا کچھ دیر وہاں کھڑا رہا.پھر بازو پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالی تو رات کے دو بج رہے تھے.وہ آرام سے دروازہ دھکیل کر کمرے میں داخل ہوا.ایمان اور حیات دونوں سو رہی تھیں.وہ آرام سے چلتا ہوا حیات کے قریب آیا.اسکی پیاسی نظریں حیات کے چہرے پر ٹکی تھیں.
کل کے بعد وہ اسے آج دیکھ رہا تھا.وہ ظالم لڑکی بالکل مرجھا سی گئی تھی.وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھ رہا تھا یہاں تک کہ اسکی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا.حیات گہری نیند میں تھی.اس بات سے انجان کے جسے اسکی نظریں ڈھونڈھ رہی تھیں.وہ اس کے سامنے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا.وہ دھیرے سے بیڈ کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھا.پھر آہستہ سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا.
“میرے انتظار کی راحت ہو تم”
“میرےدل کی چاہت ہو تم”
“تم ہو تو یہ دنیا ہے”
“میں کیسے بتاؤں”
“کہ میرے لئے کیا ہو تم”
“چھو کر جو گزر جائے”
“وہ ہوا ہو تم”
“میں نے جو مانگی وہ دعا ہو تم”
“پھولوں میں جھلکتا جام ہو تم”
“میری زندگی کا دوسرا نام ہو تم”
اسنے ہاتھ بڑھا کر آہستہ سے حیات کی بند آنکھ پر سایہ کرتیں مڑی پلکوں کو ہلکے سے شہادت کی انگلی کی پور سے چھوا.”تم میری زندگی ہو”اسنے مدھم سرگوشی کی پھر اٹھ کر اسکے قریب ہوا.ہاتھ بڑھا کر اسکے بال کان کے پیچھےکئے.پھر جھک کر اسکے کان میں سرگو شی کی.”اور میری زندگی بہت ظالم ہے.”نرمی سے اسکا گال سہلا کر وہ پیچھے ہوا.”دادو ٹھیک کہتی ہیں.تم نادان ہو ، لاپرواہ ہو.پر اب تمہیں میری پرواہ کرنی ہوگی.اب تمہیں میرے معاملے میں نادانی بھلانی ہوگی.یہ جو گھاؤ تم نے دیا ہے.اسے تم ہی بھرو گی.اس معاملے میں شیرافگن تم سے نرمی نہیں برتے گا پرنسیس”دھیرے سے کہتا اسکے ہاتھ پر لب رکھ کر وہ آرام سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا.اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا.وہ عجیب حالت کا شکار تھا.وہ اس لڑکی سے خفا بھی نہیں رہ سکتا تھا اور اسے اتنی آسانی سے معاف کرنا بھی اسکے بس میں نہیں تھا.
جاری ہے
