Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 (Watching)Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29
اسکی چڑیلیں آج اسکے گھر پر تھی.انکو حیات کی رخصتی کی خبر مل چکی تھی.سب اسکے کمرے میں بیٹھی اسکی جان کھا رہی تھیں.
لے جائیں گے لے جائیں گے.
افگن بھائی حیات کو لے جائے گے.
مینانے سر لگانے شروع کر دئیے تھے.حیات کے علاوہ سب اسکا ساتھ دے رہیں تھیں.
“کہاں لے جائیں گے؟ دونوں کا گھر ایک ہی ہے.”حریم نے مینا کو دیکھا.”ہنی مون پر تو لے کر جائیں گے ناں”مینا نے ہنس کر آنکھ دبائی.
“شرم کرو بدتمیز” حیات نے اسکے کندھے پر چپت لگائی.”ہاں چپ…حیات کو شرم آرہی ہے.”تابی نے ہنس کر کہا.”ہاں اسے شرم آرہی ہے.تابی خود تو ایک نمبر کی بے شرم ہے.” سبین نے منہ بنا کر کہا.”اوے چشمش تابی سے پنگا از ناٹ چنگا…اسلئے چپ کر کے بیٹھو ورنہ چشمہ توڑ دونگی.”تابی نے اسکی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا.”ظالم عورت”سبین منہ بسور کر کہتی ڈر کے پیچھے ہوئی.تابی ایک دم ہنسی.”ہاں اس سے پنگا نہ لوں…یاد کرو کل تو اسنے پولیس والے کو چور بنا دیا تھا.”حریم نے اسے تنگ کرنے کے لئے کہا.تابی نے منہ بگاڑا. “ہاں تو پولیس والا تھا تو یونیفارم پہنتا ناں. اب میں بزرگ تو نہیں ہوں کہ مجھے پتہ چلتا کہ محترم پولیس آفیسر ہے.”تابی نے تپ کر کہا.”اچھا اچھا غصہ نہ کرو”حیات نے اسکا کندھا تھپکا پھر بولی”غصے میں تمہاری بہت بری شکل بنتی ہے.قسم سے ڈر لگتا ہے.”حیات نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی.سب زور سے ہنسیں. تابی نے انھیں گھورا.”تم رک جاؤ ابھی کیا.مر کر بھی میں نے تمہیں نہ ڈرایا تو میرا نام تابی نہیں.”تابی نے سر جھٹک کر کہا.
“ہاۓ مر کر تو یہ اور بھی خوفناک ہوجاۓ گی.”مینا نے آنکھیں گھما کر تابی کو دیکھ کر کہا.”میں اب بھی خوفناک ہوں.رکو تمہیں ابھی بتاتی ہوں.”تابی اٹھ کر مینا کی طرف بڑھنے لگی کہ حریم نے اسے روک دیا.”پلیز اسے مارنا مت ورنہ میں اکیلی گھر کیسے جاؤں گی.”حریم نے منت کی.مینا نے اسے ایک لگائی.”شاباش ہے تم پر…یہ فکر نہیں کہ کزن ماری جائے گی.بس نکمی کو گھر جانے کی پڑی ہے.”مینا نے آنکھیں نکال کر اسے گھورا.تو سبکی ایک ساتھ ہنسی نکلی.کچھ دیر بعد سب جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں.حیات سب کے ساتھ نیچے آئی.وہ لوگ ہال میں کھڑیں باتوں میں لگ گئیں تھیں.جب شیرافگن اور ولید ہال میں داخل ہوئے.ولید دادو لوگوں کو عمرہ کی مبارک دینے آیا تھا.وہ دونوں انکے قریب آنے لگے.تابی کی نظر ولید پر پڑی تو اسے جھٹکا لگا.وہ مینا کے پیچھے چھپنے لگی.”یہ تم کیوں شرما رہی ہو؟”حیات نے اسے دیکھ کر حیرت سے پوچھا.وہ سب تابی کو دیکھ رہی تھیں. “اسے شرمانا نہیں چھپنا کہتے ہیں.”تابی نے دانت پیس کر کہا.”پر تم چھپ کیوں رہی ہو؟”حریم نے سوالیہ انداز میں پوچھا.”وہ افگن بھائی کے ساتھ جو آ رہا ہے.یہ وہی پولیس آفیسر ہے.جسکو میں نے چور سمجھا تھا.”تابی نے جلدی سے بتایا.سب نے شرارت سے اسے دیکھا.”اب مزہ آۓ گا”حیات نے آنکھ دبا کر کہا.
“اس وقت مجھے بخش دینا چڑیلو” تابی نے ہاتھ جوڑ کر کہا.حیات نے ہنس کر اسے دیکھا.
تبھی شیرافگن اورولید انکے سامنے کھڑے ہوئے.تابی نے اچھے سے خود کو مینا کے پیچھے چھپایا.سب نے ان کے سلام کا جواب دیا.
“کیسے ہے آپ ولید بھائی؟” حیات نےپوچھا
“میں ٹھیک…”ولید نےالجھ کر باقی سب کو دیکھا پھر شیرافگن کو.”تعارف تو کروا دو حیات…جب تک میں بابا کو دیکھ لوں.”شیر افگن نے حیات سے کہا پھر وہاں سے چلا گیا.
حیات نے ایک ایک کر کے سب کا تعارف کروایا.سب سے آخر میں اسنے تابی کا ہاتھ پکڑ کر آگے کیا.”اور یہ تابی ہے.”حیات نے مسکراہٹ دباکر کہا.”ہیلو!! “تابی نے ہلکا سا سر اٹھا کر کہا.ولید نے آنکھیں پھاڑ کے اسے دیکھا. ان سب نے ہنسی کنٹرول کی.” لگتا ہے آپ ہماری تابی کو جانتے ہیں”مینا نے شرارت سے کہا توتابی نے اسے کہنی ماری.”جی بہت اچھے سے..ہماری ملاقات ہو چکی ہے.وہ بھی کافی یادگار.”اسنے تابی کو دیکھ کر کہا.”اب ایسی بھی بات نہیں”تابی نے شرمندگی سے سر جھکا لیا.”ویسے جو بھی ہوا اس میں تابی کی غلطی نہیں ہے.پرس آپکے ہاتھ میں تو اسے یہی لگا چور آپ ہیں.ویسے تابی آپ سے سوری کرنا چاہتی ہے.”حیات نے تابی کا ہاتھ پکڑ کر کہا. “اوہ ریلی!!” ولید نے تابی کے جھکے سر کو دیکھا.”بالکل ولید بھائی”مینا نے کہا.
“سوری..بیگ آپکے ہاتھ میں دیکھ کر مجھے یہی لگا تھا….”تابی نے شرمندہ سی ہنسی کے ساتھ کہا.”ایٹس اوکے…پر کیا میں شکل سے چور لگتا ہوں؟”ولید نے صدمہ سے ان سب کو دیکھا.”نہیں نہیں…وہ تو مجھے یقین ہی نہیں آیا تھا کہ اتنا ہینڈسم بندہ اور چور…”وہ اور بھی بولنا چاہ رہی تھی جب ان سب کے ساتھ ولید کی ہنسی سن کر اسنے زبان دانتوں میں دبائی.”چلیں پھر مہربانی” ولید نے سینے پر ہاتھ رکھ کے سر جھکا کر کہا پھر شیرافگن آیا تو وہ اسکے ساتھ دادو کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا.”چڑیلیں ہو سب کی سب…”تابی چبا کر سبکو سنا رہی تھی. ولید نے چلتے ہوئے گردن موڑ کرلبوں پر مسکراہٹ لئے تابی کو دیکھا.حریم نے اسے ٹہکا دے کر اسکی طرف متوجہ کیا.تابی نے ایک نظر ولید کو دیکھا پھر رخ موڑ کر کھڑی ہو گئی.”اہم…کچھ کچھ ہوتا ہے…”مینا نے گنگنایا.سب تابی کو شرارت سے دیکھنے لگیں.”کچھ نہیں ہوتا..دفع ہو جاؤ” اسنے منہ بنا کر کہا.پھر وہاں سے بھاگنے لگی.سب نے اسے گھیر لیا.پھر تابی کی خیر نہیں تھی.پھر توسچ میں اسکے دل میں کچھ کچھ ہونے لگا.
•••••••••
اس دن کے بعد تیسرے ہی دن ولید کے پیرنٹس تابی کے گھر اسکا رشتہ مانگنے چلے گئی.ایک دن کے بعد تابی کے گھر والوں نے ہاں میں جواب دے دیا.حیات تو حد سے بڑھ کر خوش تھی.ایک طرف اسکی دوست تھی تو دوسری طرف شیرافگن کا دوست.ولید اور تابی کی جلد ہی منگنی ہونے والی تھی.حیات اپنے کمرے میں تھی.اسنے شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنایا جس میں سے لٹیں نکل کر اسکے چہرے پر بکھر رہیں تھیں.وہ پنک کپڑوں میں ملبوس تھی.باہر جانے سے پہلے اسنے مسکرا کر دوپٹہ لہرایا.
“تمہیں دل لگی بھول جانی پڑیگی”
“محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو”
وہ دوپٹہ لہراکر گنگناتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی.ایک دم اسکا بازو کھینچا گیا.اسنے نظر اٹھا کر دیکھا.اسکے سامنے سفید شلوار قمیض میں شیرافگن کھڑا تھا.”واہ گانا گایا جا رہا ہے.ویسے بہت خوش لگ رہی ہو.کیا بات ہے مادام”اسنے حیات کی لٹ کو چھو کرکہا.”میں آپکو کیوں بتاؤں سر!! “حیات نے شرارت سے زور دے کر کہا.”بتانا تو پڑے گا میڈم”اسنے بائیاں ہاتھ حیات کی کمر میں ڈال کر اسے اپنے قریب کر کے کہا. حیات نے جھجھک کر پیچھے ہونا چاہا.اسکا دل سپیڈ پکڑ چکا تھا. “بتاتی ہوں پہلے مجھے چھوڑیں”اسنے جلدی سے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا.”اچھا وہ تو سن لونگا….پہلے یہ بتاؤ یہ دھک دھک کی آواز کیسی ہے؟کسی کا دل تیزی سے دھڑک رہا ہے. ہے ناں؟”اسنے حیات کی لٹ انگلی پر لپٹ کر شرارت سے کہا.
“مم..مجھے نہیں پتہ” حیات نے اٹک کر کہا
“تو پتہ لگاؤ ناں پرنسیس” اسنے ان سنہری آنکھوں میں دیکھا.”آپ مجھے تنگ کرنا چھوڑ دیں ورنہ…”اسنے کانپتی آواز کو مظبوط کر کے اپنی بالوں کی لٹ اسکے ہاتھ سے چھڑائی.
جاری ہے
