Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 (Watching)Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32
احمر جمالی نے ہاتھ بڑھا کر اسکے گال کو چھوا.پھر چاقو والا ہاتھ اپر کیا.حیات نے خوف سے اسے دیکھا.”ویسے تم ہو بہت خوبصورت…. سوچو جب اس خوبصورتی پہ داغ لگے گا اور تم بدنامی کی موت مرو گی ….. تب تم سبکو کیسی لگو گی؟…..مجھے تو تب بھی خوبصورت لگو گی…..تب تمہیں اس حال میں دیکھ کر میرے دل کو سکون ملے گا…..اس وجود میں جلتی آگ کم ہوگی….جو ہار تم نے مجھے دی ہے…..میں اسے جیت میں بدلوں گا….بہت برا حال کرونگا تمہارا.”وہ چبا کر کہتا چلا جارہا تھا.اسنے چاقو کی نوک حیات کے گال پر رکھی. اسکی باتوں سے حیات برف ہو کر جیسے جم گئی تھی.اس وقت اسے سانس لیتے ہوئے بھی ڈر لگ رہا تھا.وہ بالکل بت کی مانند کھڑی تھی.جب اچانک احمر جمالی اسے جھٹکے سے گھما کر خود اسکے پیچھے کھڑا ہوا اور حیات کو سامنے کر کے اسکی گردن پر چاقو رکھا.”نہ نہ شیرافگن صاحب…..یہ غلطی مت کرنا….آج کا دن میرا ہے….آج میں کسی بھی حال میں جیتوں گا…..پھینک پسٹل کو ورنہ….”وہ شیرافگن کو دیکھ کر غرایا جو اسے باتوں میں لگا دیکھ کر پسٹل اٹھا چکا تھا.اسکی حرکت پر شیرافگن کی آنکھوں سے آگ نکلنے لگی.اسکا دل کیا کہ ایک ہی وار میں اس شیطان کو مار گرائے.پر فلحال اسے ٹھنڈے دماغ سے کام لینا تھا.اسکی کوئی بھی حرکت حیات کو نقصان پہنچا سکتی تھی اور ایسا وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا. “میں نے کہا پھینک پسٹل”وہ حلق کے بل چیخا اور ساتھ ہی حیات کی گردن پر رکھے چاقو کو زور سے دبایا.حیات نے سسکی بھری. اسکی گردن پر کٹ لگ چکا تھا.جس سے ہلکا ہلکا خون رسنے لگا تھا.”یہ لو پھینک دی…..” شیرافگن نے جلدی سے پسٹل پھینک کر ہاتھ اپر کیا.”اب حیات کو کچھ نہ کہنا….چھوڑ دو اسے…” شیرافگن نے حیات کے چہرے پر تکلیف، تڑپ دیکھ کے لال آنکھوں سے گھور کر کہا.شیرافگن کے چہرے پر حیات کا درد واضح نظرآرہا تھا.احمر جمالی زور سے ہنسا. “امیزنگ….گریٹ…. یہ تو کمال ہوگیا….. مطلب چوٹ یہاں لگے.” اسنے حیات کی طرف اشارہ کیا.”تو درد وہاں ہوتا ہے….”پھر شیرافگن کی طرف اشارہ کر کے کہا.”یہ تو بہت اچھی بات ہے….ہے ناں؟”اسنے سنجیدگی سے شیرافگن کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا.شیرافگن کی آنکھوں میں پہلی بار خوف کے سائے اترے تھے.اسنے خوف سے اس بد نما انسان کو دیکھا.”آؤ اب یہ کھیل شروع کرتے ہیں….”اسنے وحشی انداز میں کہا.پھر زور سے حیات کے بازو پر کٹ لگایا.حیات ایک دم چیخی.وہ درد سے تڑپ اٹھی تھی…..اسکی سنہری آنکھوں سے ایک کے بعد ایک موتی گرنے لگا.اسے تکلیف میں دیکھ کر احمر جمالی قہقہہ لگا کر ہنسا.حیات کی تڑپ دیکھ کر شیرافگن کی جان جانے لگی.اسنے کچھ آگے نہ سوچا اور جھٹ سے اٹھ کھڑا ہوا.”خبردار جو آگے آۓ تو….گردن کاٹ دونگا اسکی….”وہ پاگلوں کی طرح چلایا.پھر حیات کو لے کر آگے ہونے لگا.”سائیڈ پر ہو…”اسنے شیرافگن کو اشارہ کر کے کہا.وہ مٹھیاں بھینچ کر ، دانت پیستا ایک طرف ہوا.اسکی آنکھوں سے شولے نکلنے لگے تھے.حیات نے تڑپ کر شیرافگن کو دیکھا جبکہ احمر جمالی اسے گھسیٹتے ہوئے لے جارہا تھا.ساتھ ہی بڑبڑا رہا تھا.”اس بار شکار کو نہیں چھوڑوں گا….اب میں نہیں ہاروں گا….مار دونگا سبکو…مار دونگا…. سمجھ کیا رکھا ہے مجھے…میں کوئی چھوٹی چیز نہیں ہوں….احمر جمالی چھوٹی چیز نہیں ہے.”احمر جمالی جنونی انداز میں اپنے آپ میں لگا بڑبڑا رہا تھا.مسلسل ہار نے اسے پاگل بنا دیا تھا.اب وہ کسی بھی قیمت پر جیتنا چاہتا تھا.وہ اپنے خیالوں میں تھا.حیات پر اسکی گرفت ڈھیلی پڑی.حیات نے اپنی تکلیف بھلا کر اسکی کلائی پر دانت گاڑ دیے. احمرجمالی ایک دم چیخا.اس کے ہاتھ سے چاقو نیچے جا گرا.پر اسنے حیات کو گرفت سے جانے نہ دیا بلکہ دوسرے ہاتھ سے اس کے بال مٹھی میں لے لئے.حیات نے کسی طرح پاؤں مار کر چاقو اسکی پہنچ سے دور دھکیلا….یہ موقع پا کر شیرافگن آندھی کی طرح احمر جمالی کی طرف بڑھا.پھر اگلے ہی پل اسنے اپنا مضبوط بائیاں بازو اسکے گلے میں ڈال کر دبایا.اسکے بازو سے خون رسنے لگا تھا.”چھوڑ حیات کو…..”شیرافگن گرج کر بولا.احمر جمالی کی سانس بند ہوئی پر اسنے حیات کو نہ چھوڑا. “میں نے کہا چھوڑ اسے” شیرافگن غرا کر بولا ساتھ ہی اسکی گردن پر گرفت مضبوط کی.اسنے جھٹکے سے حیات کو چھوڑا وہ منہ کے بل زمین پر جا کر گری.شیرافگن نے احمر جمالی کو گردن سے پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا.پھر اتنی زور کا مکہ اسکے منہ پر مارا کہ اسکا گال پھٹ کے خون نکلنے لگا.شیرافگن نے اسے کالر سے پکڑ کر سیدھا کیا.”تیری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی؟ کہا تھا ناں حیات سے دور رہنا….تجھے بات سمجھ نہیں آتی…..”شیرافگن دانت پیس کر کہتے ہوئے احمرجمالی کو ایک کے بعد ایک لگاتا چلا گیا.احمر جمالی زمین پر گرا پھر ہاتھ بڑھا کر ہونٹ سے نکلتا خون صاف کرتے ہوئے شیر افگن کو دیکھ کر ہنسا.”ایسی کی تیسی تیری بات کی اور تیری حیات کی وہ حالت کرونگا کہ تو اسے دیکھ نہیں پائے گا.”اسنے لال آنکھوں سے شیرافگن کو دیکھا.شیرافگن نے دانت پیس کر جھٹکے سے اسے اپر اٹھایا.پھر گھورتی نظر اسکے چہرے پر ڈالی.اسکا چہرہ دیکھے جانے کے قابل نہیں تھا.”تجھے لگتا ہے میرے ہوتے ہوئے تو حیات کو کچھ کر سکتا ہے.نہ ممکن….کچھ دیر پہلے جو تو نے کھیل کھیلا ہے.وہ میری مجبوری تھی کہ میں برداشت کرتارہا پر اب…..”اسنے دھاڑ کر احمر جمالی کی گردن پکڑی.”اب تیری وہ حالت کروں گا کہ تیرے گھر والے تیری لاش پہچاننے سے انکار کر دینگے.”شیرافگن کی آنکھوں سے شولے نکلنے لگے تھے.اسنے اتنے خطرناک انداز میں کہا کہ اسکی بات پر احمر جمالی کانپ اٹھا. شیرافگن نے اسے گریبان سے پکڑا پھر حیات کو دیکھا جو نڈھال سی زمین پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی.”حیات!!!”اسنے نرمی سے پکارا… حیات نے آنسوؤں بھری آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا.حیات کی گردن اور بازو سے خون نکل رہا تھا. شیرافگن نے ضبط سے اسے دیکھا.”وہ چاقو اٹھا کر مجھے دو”شیرافگن نے سنجیدگی سے کہا.حیات کی آنکھیں پھٹ گئیں.”ا…افگن”وہ اٹکی.وہ سمجھ گئی کہ شیرافگن ، احمر جمالی کو مارنے والا ہے.پر وہ ایسا کیسے ہونے دے.اگر افگن نے اسے مار تو افگن کو جیل ہو جائے گئی.حیات ایک دم کانپی.”حیات…جلدی دو”اب کی بار اسنے سختی سے کہا.حیات نے اٹھ کر کانپتے ہاتھوں سے چاقو اسے پکڑایا.احمر جمالی کی آنکھوں میں خوف لہرایا.”ہاں تو احمر جمالی تمہیں جیتنا ہے؟ پر اب تم کبھی نہیں جیتو گے کیونکہ ہار ہی تمہارا مقدر ہے….تم نے جتنی من مانی کرنی تھی کر لی….اب اور نہیں…”اسنے چبا کر کہا پھر چاقو اسکی گردن پر رکھ کر ویسا ہی کٹ لگایا جیسا اسنے حیات کی گردن پر لگایا تھا.احمر جمالی درد سے چیخا تھا.”تمہیں پتہ ہے… تم نے حیات کو نقصان پہنچا کر اچھا نہیں کیا.”شیرافگن نے اسے گھور کر کہا.پھرچا قو سے اسکے بازو پر کٹ لگایا.بالکل ویسے ہے جیسے اسنے حیات کے بازو پر لگایا تھا.احمر جمالی چلایا. شیرافگن نے جلتی نظروں سے اسے دیکھا.وہ تو عام باتوں میں بھی بدلہ لینے کا عادی تھا.پھر وہ حیات کو تکلیف پہنچانے والے کو کیسے چھوڑ دیتا.اسے اپنے زخم کی پرواہ نہیں تھی.اسے بس اپنی پرنسیس کی پرواہ تھی.اسنے چاقو پھینک کر احمر جمالی کو دھکا دیا.وہ دھڑام سے پیچھے کی طرف گرا اور نیم بیہوشی میں چلاگیا.”آج اسکی کہانی ہی ختم کرتا ہوں.”شیرافگن چبا کر کہتا پسٹل اٹھانے کے لئے دائیں طرف بڑھا.بائیں طرف حیات کافی فاصلےپر کھڑی آنکھوں میں خوف لئے احمر جمالی کو دیکھ رہی تھی.پھر اسنے شیرافگن کی پشت کو دیکھا.وہ پسٹل لینے آگے بڑھ رہا تھا.وہ اسے روکنا چاہ رہی تھی کہ افگن اس شیطان کے خون سے اپنے ہاتھ گندے نہ کرے پر وہ بول ہی نہ پائی.اسکی گردن اور بازو دکھ رہا تھا.درد نے اسے نڈھال کیا ہوا تھا. اسنے سامنے دیکھا….اسکے دیکھتے ہی دیکھتے احمر جمالی ایک دم اٹھ بیٹھا. حیات نے آنکھیں پھاڑ کے اسے دیکھا.احمر جمالی نے پاس پڑی لوہے کی روڈ اٹھائی.وہی روڈ جس سےاسنے ونڈو توڑی تھی.وہ شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ جمپ کرتا اٹھ کھڑا ہوا.پھر شیرافگن کی پشت دیکھ کر حیات کی طرف بڑھا.اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر حیات برف ہی تو بن گئی تھی.پر پھر اسے جھٹکا لگا.اسنے سوچ لیا کہ وہ اس کمینے سے نہیں ڈرے گی…..وہ اسکا مقابلہ کرے گی….اسنے خود کو مظبوط کیا …..پھر ایک دم پیچھے ہوئی تو ٹیبل سے ٹکرائی…..اسنے ٹیبل سے گلدان اٹھایا.احمر جمالی جیسے ہی اسکے قریب آیا.اسنے پوری طاقت لگا کر گلدان اسکے سر پر دے مارا…..زور دار آواز پر شیرافگن جھٹکے سے پلٹا.سامنے دیکھ کر اسکا دماغ گھوما.وہ انکی طرف بڑھا.پر حیات کو احمر جمالی کے منہ پر تھپڑ مارتے دیکھ کر رک گیا.
احمرجمالی لڑکھڑا کر نیچے گرا اسکے سر سے خون بہنے لگا.”بس….بہت ہو چکا…..بہت ڈرا لیا تم نے اور بہت ڈر چکی حیات…”اسنے زمین پر پڑا روڈ اٹھا کر دونوں ہاتھوں میں پکڑا.”تم گندے انسان…میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی….منحوس…کمینے…”اسنے روتے ہوئے روڈ سے اسے مارنا شروع کیا.کب سے اسکے لئے ایک ایک لمحہ عذاب بنا ہوا تھا.اب وہ اس شخص کو معاف نہیں کرے گی.شیرافگن چونک کر اسکی طرف بڑھا….”حیات!!!”اسنے حیات کو پکارا.پھر احمر جمالی کو دیکھا جو بیہوش پڑا تھا یا شاید مر چکا تھا…..اسنے حیات کے ہاتھ تھام کر اسے دیکھا.بکھر ے بال ، سوجی آنکھیں ، زرد چہرہ….”چھوڑیں افگن…. اس شخص نے میری زندگی عذاب بنا دی ہے….میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گی….” وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی.شیرافگن نے اسکے ہاتھ سے روڈ لے کر پھینکا.پھر اسے اپنے ساتھ لگا لیا.”شش…چپ ہوجاؤ….کچھ نہیں ہوگا…. چپ ہوجاؤ….”اسنے حیات کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا.وہ حیات کا غصہ دیکھ کر اپنا غصہ بھول چکا تھا.ارادہ اسکا بھی یہی تھا کہ احمرجمالی کو زندہ نہیں چھوڑے گا.پر اب اسنے ٹھنڈے دماغ سے سوچا کہ وہ اپنے ہاتھ گندے نہیں کرے گا پر احمر جمالی کو سزا ضرور ملے گی.حیات نے روتے ہوئے ہچکی بھری.پھر اسکے جسم سے سانس نکل گئی.وہ شیرافگن کے بازوؤں جھول لگی.شیرافگن نے اسکے گرد بازوؤں کا گھیرا تنگ کیا.پھر اسکا چہرہ اپر کیا.”حیات!!!” اسنے حیات کا گال تھپک کر پکارا.پر اسکی سنہری آنکھیں بند تھیں. شیرافگن کا دل گھبرایا.اس نے اسے اٹھا کر صوفے پر ڈالا پھر جلدی سے احمر جمالی کے قریب آیا.اسکی نبض چیک کی جو چل رہی تھی.اسنے اٹھ کر ولید کو کال ملائی. اسے ساری بات بتا کر جلد سے جلد پولیس لے کر یہاں آنے کا کہا.پھر حیات کی طرف بڑھا.وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہتا تھا پر اس شیطان کے یہاں ہوتے وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا.اسنے مٹھی میں پانی لے کر حیات کے منہ پر ڈالا.”حیات….اٹھ جاؤ یار.”گال تھپک کر کہا.پھر اسکے چہرے سے آنسو صاف کئے.”اٹھ جاؤ پرنسیس”اسنے مدھم آواز میں کہا.حیات نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں.پھر ڈر کر اٹھ بیٹھی.”آپ آگئے افگن….میں بچ گئی…میں اس شیطان سے بچ گئی افگن”وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رونے لگی.شیرافگن نے اسکے قریب بیٹھ کر اسکا سر اپنے سینے سے لگایا. پھر ایک جلا دینے والی نظر احمر جمالی کے وجود پر ڈالی.”اب یہ شیطان کبھی واپس نہیں آۓ گا حیات….شیرافگن کا وعدہ ہے تم سے.”اسنے لب بھینچ کر کہا.پھر حیات کو لے کر اٹھ کھڑا ہوا.تبھی گھر میں روشنی جگمگا اٹھی.لائٹ آ چکی تھی.حیات نے ایک دم آنکھیں بند کر لیں.روشنی اسکی آنکھوں میں چبنے لگی تھی.شیرافگن نے اسے دادو کے روم میں بٹھایا.”تم بیٹھو یہاں….ڈرنا مت….میں ابھی آتا ہوں…”حیات نے نم آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا.شیرافگن نےاسکے قریب جھک کر اسکے آنسو صاف کئے.”اب رونا بالکل نہیں ہے…… شیرافگن کی شیرنی”اسے پیار سے دیکھ کر کہا.پھر نرمی سے اسکی پیشانی پر لب رکھ کر ایک نظر اسے دیکھا پھر دروازہ بند کر کے چلا گیا.حیات درد سے چور….. پاؤں اپر کر کے خود کو سمیٹ کر بیٹھی.
ولید پولیس فورس لے کر عباسی ہاؤس پہنچا. اسنے گھر کا جائزہ لیا.آفیسرز کو اشارہ کیا کہ احمر جمالی کو گاڑی میں ڈالیں.پھر خود شیر افگن کی طرف آیا.”کیا کرنا ہے اسکا؟”ولید نے سوالیہ انداز میں پوچھا.”پاگل کتوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟”شیرافگن نے سنجیدگی سے کہا.
“ہم اسے یوں مار نہیں سکتے افگن…اسکا باپ کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے.”
“بالکل ٹھیک کہا…اسکا باپ چھوٹی چیز نہیں ہے.یقیناً وہ پھر سے اسے نکلوا لے گا یا اگر وہ مر گیا تواسکا باپ کسی کو نہیں چھوڑے گا…یہی بات ہے ناں؟ ” شیرافگن نے سخت لہجے میں کہا.
“پھر اب ہم کیا کر سکتے ہیں؟اگر جیل لے کر جائے گے وہ پھر کچھ دنوں میں باہر ہوگا.”ولید نے غصے سے کہا.”انکاؤنٹر…..انکاؤنٹر میں تو مارا جاسکتا ہے ناں؟شیرافگن نے آبرو اٹھا کر اسے دیکھا.پھر اسکے قریب ہوا.”ایک مجرم جسنے کسی کے گھر میں گھس کر ایک شخص پر قاتلانہ حملہ کرنا چاہا.پھر جب پولیس نے اسے حراست میں لیا تو اسنے بھاگنے کی کوشش کی جسکی وجہ سے مجبوراً پولیس کو اس پر فائر کرنا پڑا….” مدھم لہجے میں شیرافگن نے اسے ساری سٹوری بتا دی.ولید نے حیرت سے اسے دیکھا پھر اسکا کندھا تھپکا.”پولیس فورس جوائن کر لو.”اسنے ہنس کر کہا.
“ناٹ انٹرسٹڈ….”شیرافگن نے ناک سے جیسے مکھی اڑائی.ولید ایک دم ہنسا.”یہ اتنا بڑا زخم کیسے…”اسنےحیرت سے شیرافگن کے بازو کو دیکھ کر اشارہ کیا.”یہ تمہارے مجرم کا کام ہے.”شیرافگن نے چبا کر کہا.”تم اپنا اور بھابی کا خیال رکھو…..اسے میں دیکھ لونگا.پریشان نہ ہونا اوکے “ولید نے سنجیدگی سے کہا.پھر وہاں سے چلا گیا.شیرافگن نے جلتی آنکھیں بند کر کے کھولیں تھیں.
•••••••••••
شیرافگن نے ڈرائیو کرتے ہوئے فون کر کے ایمان کو سب انفارم کیا اور کہا کہ سبکو بتا دے اسنے صرف یہ بتایا کہ گھر میں چور گھس آیا تھا.زیادہ نقصان نہیں ہوا.چور پکڑا گیا ہےاور انھیں تھوڑی چوٹیں آئیں ہیں.وہ لوگ ہوسپٹل جا رہے ہیں.ایمان تو سب سن کر رونے لگی تھی.اسنے ایمان کو تسلی دی پھر کال کاٹ دی.اسنے ایک نظر حیات کو دیکھا جو نیم بیہوش سیٹ کے بیک سے سر ٹکا کر بیٹھی تھی.شیرافگن نے لمبی سانس کھینچی.
وہ ہوسپٹل پہنچے تو دونوں کی پٹی کی گئی. حیات کو ڈرپ لگی تھی.وہ بیڈ پر بیہوش پڑی تھی.شیرافگن اسکے پاس کرسی پر بیٹھا تھا.اسکا بائیاں بازو پٹی میں جکڑا تھا.اسکے بازو پر گہرا کٹ تھا.پر اسے اپنی تکلیف سے زیادہ سامنے لیٹی لڑکی کی تکلیف درد دے رہی تھی.اسکے نازک ہاتھ پر ڈرپ لگی تھی.ڈرپ کی سوئی اسکے ہاتھ کی جگہ شیر افگن کو اپنے دل میں گھستی ہوئی محسوس ہوئی.اسنے حیات کے چہرے کو دیکھا اسکا رنگ زرد ہورہا تھا. اسنے جلتی آنکھیں بند کر کے کھولیں. پھر ہاتھ بڑھا کر اسکے گال کو چھو کر اٹھ کھڑا ہوا.جب وہ کمرے سے نکلا تو کوریڈور سے گھر کے سب لوگ اسکی طرف آرہے تھے.سب نے اسے گھیر لیا.”کیسے ہو افگن اور میری بیٹی کسی ہے.”دادو نے نم آواز میں پوچھا.”ہم دونوں ٹھیک ہیں دادو”شیرافگن نے دادو کا ہاتھ پکڑا کر کہا.پھر باقی سبکو تسلی دی.سب حیات کی طرف آۓ.وہ ہوش میں آ چکی تھی.دادو نے اسے سینے سے لگا لیا.سب اس سے ملنے لگے.اسکا حال پوچھنے لگے.حیات نے نم آنکھوں سے سبکو دیکھا.یہی سب اپنے تھے جنکو اسنے پکارا تھا.اب سب اسکے پاس تھے.اسے آج رشتوں کی اہمیت کا احساس ہوا تھا.انسان اکیلا کچھ نہیں ہوتا.اسکے اپنے ہی اسکا سب کچھ ہوتے ہیں.وہ نم آنکھوں اور مسکراتے لبوں کے ساتھ اپنی اماں کے سینے سے لگی تھی.اسے سب کے بیچ دیکھ کر شیر افگن مطمئن ہوا تھا.
اگلی صبح شیرافگن سویا ہوا تھا.وہ ٹیبلٹ لے کر سویا تھا.اسلئے کسی نے نہ اسے اور نہ حیات کو جگایا تھا.شیرافگن کا موبائل بجنے لگا.اسنے بڑی مشکل سے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا.اسکے بازو میں بہت درد تھا.اسنے کال پک کی دوسری طرف ولید تھا.
“احمر جمالی اللّه کو پیارا ہوگیا.سٹوری وہی ہے جو تم نے بتائی تھی.” ولید نے اسے بریکنگ نیوز دی.شیرافگن نے آنکھیں بند کرکے کھولیں. “ہوں….کچھ لوگ کبھی نہیں سدھرتے یار”شیر افگن نے سر جھٹک کر افسوس سے کہا. “بالکل..اسکے پاس بہت سے موقعے تھے پر وہ ویسا ہی رہا سدھرا نہیں ….آخر اسکا یہی انجام ہونا تھا.”ولید سخت لہجے میں بولا “اسکے باپ کا کیا بنا؟”شیرافگن نے سوالیہ انداز میں پوچھا
“بیٹے کی لاش دیکھ کر اسکا باپ نیم پاگل سا ہوگیا ہے.”ولید نے جواب دیا.”انہوں نے بھی اپنی اولاد کو اچھی تربیت نہیں دی.اگر وہ اسکے کار ناموں پر پردہ ڈالنے کو بجاۓ اسے روکتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا.برائی کا انجام ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے.”شیرافگن نے سوچتے ہوئے کہا.
پھر دو ، چار باتیں کر کے فون بند کر دیا تھا. اسے احمر جمالی کی موت سے نہ خوشی ہوئی تھی نہ دکھ….وہ اپنے اس انجام کا زمیدار خود تھا.شیرافگن لمبی سانس بھر کر بیڈ سے اٹھا.فریش ہو کر اسنے یہ خبر اپنی پرنسیس کو دینی تھی تا کہ وہ کھل کر ، بنا ڈر کے سانس لے سکے.
•••••••••••••
احمر جمالی کے اپر جب سے تیزاب گرا تھا.وہ تب سے نیم پاگل سا ہوگیا تھا.اسنے اپنے دوستوں سے ہر وقت حیات پر نظر رکھنے کا کہا تھا. وہ اپنا باقی علاج کروا رہا تھا پر اسنے سرجری نہ کروائی تھی.وہ بدلے کی آگ میں جل رہا تھا.اسے کسی بھی صورت حیات کو اپنے قدموں میں لانا تھا.پھر آخر اسے اپنا بدلہ لینا کا موقع مل چکا تھا.اسکے دوست حیات کے گھر پر نظر رکھ رہے تھے.اسے جیسے ہی خبر ملی کہ حیات اکیلی ہے وہ وہاں پہنچ گیا.وہ دروازہ پیٹ رہا تھا جسکے پیچھے وہ لڑکی تھی.تب اسے گڑبڑ کا احساس ہوا.وہ ایک دم چُپ گیا تھا.آنے والا اسکا دشمن تھا.شیر افگن کو دیکھ کر اسکے تن من میں آگ بھڑک اٹھی.پھر آگے سب کچھ ہوتا چلا گیا.اپنی نفرت کے ہاتھوں وہ بہت بھیانک انجام کو پہنچا تھا.احمر جمالی کی کہانی ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکی تھی.
••••••••••••••
ایک مہینے بعد…..
عباسی ہاؤس میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں.جلد ہی پیرس سے ہانیہ کے پرنٹس بھی آنے والے تھے.وہاں ہر طرف خوشی کے رنگ بکھرے تھے.ہال میں گھر کی سب خواتین ، لڑکیاں بیٹھیں تھیں.حیات کی چڑیلیں بھی وہاں موجود تھیں.دادو دونوں بہوؤں کے ساتھ بہت سے کپڑے بکھرا کر بیٹھیں تھیں.لڑکیاں ہنسی مذاق کر رہی تھیں.ایمان ، ہانیہ ، حریم صوفے پر بیٹھی تھیں.زمین پر انکے قریب کشن رکھے حیات ، تابی ، مینا ، سبین بیٹھی تھیں.امل اور مریم دورصوفے پر بیٹھیں سر جوڑے باتوں میں مگن تھیں.
“ہانیہ آپ بہت خوش لگ رہی ہیں.کیا بات ہے؟”حیات نے اسے دیکھ کر شرارت سے کہا.
“علی بھائی سے بات جو کر کے آئیں ہیں ابھی” تابی نے آنکھ دبا پر جواب دیا.ہانیہ نے اسکی طرف آنکھیں نکالیں.”بالکل ویسے ہی جیسے ابھی کچھ دیر پہلے ہماری تابی نے ولی بھائی سے بات کی ہے.”مینا نے لقمہ دے کر کہا.”ہاں تو….منگیتر ہوتے ہیں وہ میرے”تابی نے گردن اکڑ کر کہا.”افف شرم کرو لڑکی” ایمان نے ہنس کر کہا.”ابھی دادو سے کہتی ہوں کہ آ کر تمہاری باتیں سنیں دادو….”حیات نے آنکھیں گھما کر دادو کو آواز لگانی چاہی.تابی نے جھٹ سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا.”چڑیل…جان لوگی کیا”تابی نے ڈر کر کہا.وہ سب قہقہے لگا کر ہنسیں.پھر شوہر اور منگیتروں کی باتیں چل نکلیں.مینا بیچاری چپ سی بیٹھی تھی. “تمہیں کیا ہوا؟”حریم نے حیرت سے اسے دیکھ کر پوچھا.”میں دکھی ہوں.”اسنے دکھ سے کہا.”کیوں یار…”سبین اسکے قریب ہوئی.مینا نے سر اپر اٹھایا.سب اسکی طرف متوجہ تھیں.”دیکھ لو تم سبکو تمہارے ساتھی مل گئے.ایک میں اکیلی بیٹھی ہوں.میرے ساتھ کوئی نہیں ہے.”مینا نے منہ بنا کر افسوس سے کہا.سب کھلکھلا کر ہنسیں.”اے لڑکیوں تمیز کرو…”دادو نے چشمے سے سبکو گھورا.سب نے اپنا والیم کم کیا.”تمہارے لئے بھی کوئی شہزادہ آجاۓ.”ایمان نے ہنس کر اسکے بال بگاڑ کر کہا.”ہاں بالکل ، کوئی تو آپکے لئے بھی دنیا میں اتارا گیا ہوگا.”ہانیہ نے شرارت سے کہا.”سچی میں؟” مینا خوش ہوئی.”مچی میں چڑیل کہیں کی.”حیات نے اسے اپنے ساتھ لگا کر ہنس کے کہا.اب سب اسے شہزادے کے جلد آنے کی امید دے رہی تھیں.
حیات اپنے روم میں تھی جب اسکے دروازے پر نوک ہوئی.”آجائیں!!”حیات نے موبائل سے سر اٹھا کر کہا.شیرافگن دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا.حیات خوشی سے اٹھ کھڑی ہوئی.”کیسی رہی میٹنگ؟”حیات نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے پوچھا.”بہت اچھی…”شیرافگن نے مسکرا کر اسے دیکھا.”بیٹھیں پلیز..”حیات نے بیڈ کی طرف اشارہ کیا.”نہیں….تم ذرا قریب آؤ…”شیرافگن نے محبت سے کہا. “اچھا…” حیات نے آبرو اٹھا کر کہا پھر بولی “کیوں!!!”اسنے مسکراہٹ دبائی.”میں ہی آجاتا ہوں پھر”شیرافگن اسکے قریب ہوا.پھر ہاتھ بڑھا کر اسکے سامنے کیا.اسکے ہاتھ میں خوبصورت چھوٹا سا باکس تھا.”یہ کیا ہے؟”حیات نے چمکتیں آنکھوں سے اسے دیکھا.”دیکھ لو ناں”شیرافگن نے اسکی آنکھوں میں دیکھا.حیات نے ہاتھ بڑھا کر باکس اٹھا کر کھولا.اسکے اندر پیارے سے چاندی کے چھمکے تھے.حیات نے انھیں ہاتھ میں لیا.”کیسے ہیں؟”شیرافگن نے نرمی سے پوچھا
“بہت….بہت خوبصورت”حیات نے سنہری آنکھیں اٹھائیں.اسکی آنکھوں میں ہزاروں جگنوؤں کی چمک تھی.شیرافگن نے اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھا.”ارے یہ کیوں…”حیات نے اسکا ہاتھ ہٹا کر ہنستے ہوئے پوچھا.
“یہ جو تمہاری سنہری آنکھیں کبھی حد سے زیادہ چمکتیں ہیں.مجھے ڈر لگتا ہے کہ انہیں میری نظر لگ جائے گی.”اسنے محبت سے پر لہجے میں کہا.حیات کا دل خوشی سے بھر گیا.”پھر میں آنکھیں نیچے جھکا لیتی ہوں.” حیات نے مدھم مسکان کے ساتھ کہا.
“بالکل نہیں محترمہ تم نظریں نہ جھکاؤ میں ماشاء اللّه کہہ لیا کروں گا.”اسنے مسکرا کر کہا.پھر مدھم آواز میں ماشاء اللّه کہا.حیات جیسے ہواؤں میں اڑنے لگی.شیرافگن نے اسکے گال کو چھوا.اس دن کے بعد اسے حیات کی بڑی فکر تھی.وہ فکر مند تھا کہ جانے وہ کب ٹھیک ہو.پر وقت نے اسے ٹھیک کر لیا تھا.
“زخم کیسا ہے؟”اسنے مدھم آواز میں پوچھا
“اب تو بھر بھی گیا اور آپکا؟”حیات نے اسے دیکھ کر پوچھا.”تم ٹھیک تو میں بھی ٹھیک” شیرافگن نے مسکرا کر اسکی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکرائی.حیات نے لبوں پر مسکان سجا کر اسے دیکھا.”دو دن بعد تم میری دلہن بنو گی… مجھے اس دن کا انتظار ہے.”شیرافگن نے دھیمے لہجے میں کہا تو حیات نے شرما کر نظریں جھکا لیں.
جاری ہے
