Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 (Watching)Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25
“پہلے عِشقا عِشقا کردآ سی”
“ہُن کِن مِن کِن مِن روندا اے”
“کوئی وکھرا عاشق نئیں جمدا”
“اِنج کریے تے اِنج ہوندا اے”
حیات کمرے میں آئی اور دروازہ بندکر دیا.پھر بیٹھ کر رونے لگی.اسکے ساتھ یہ کیوں ہوا تھا؟جب وہ رضا مند نہیں تھی.اسکا دل شیرافگن کے ساتھ اپنا رشتہ ماننے کے لئے تیار نہ تھا.تب سب ٹھیک تھا.پر جیسے ہی اسکا دل پھرنے لگا.اس رشتے نے اسکے دل میں اپنی جگہ بنا لی اسے شیرافگن اپنا لگنے لگا.صرف اپنا…تب ہانیہ انکی زندگی میں آگئی.وہ نہ چاھتے ہوئے بھی شیرافگن اور ہانیہ کے بارے میں الٹا سوچنے لگی تھی.شیرافگن اور ہانیہ تو پہلے سے دوست تھے.تب اسے کبھی پر واہ بھی نہ ہوئی تھی کہ وہ کتنے اچھے دوست ہیں یا ایک دوسرے سے کتنے قریب ہیں.پر شیرافگن اور اسکے نکاح کے بندھن نے شیر افگن کو اسکے دل کے قریب کر دیا تھا.اسکا پاگل دل اپنے پیارے شخص کو کسی اور کے قریب نہ دیکھ سکا.وہ پاگلوں کی طرح خود کو جلاتی رہی.پر شیرافگن تو ہانیہ کا تھا.اسے کیا حاصل ہوا؟”صرف آنسو….”وہ بیڈ پر بیٹھی دھندلی آنکھوں سے اپنے ہاتھ کو دیکھ رھی تھی.جہاں اس ظالم شخص کے لمس کا احساس اب بھی زندہ تھا.”افگن آپ نے اچھا نہیں کیا…مجھے سمجھ لینا چاہیے تھا کہ آپکا وہ پیار ،وہ اظہار ، وہ سب بس ایک مذاق تھا.ہاں…مذاق تھا کیونکہ آپ نے حیات کو ہمیشہ پاگل لڑکی ہی تو سمجھا ہے.آپ نے سوچا ہوگا یہ لڑکی تو پاگل ہے.اسے کیا سمجھ آۓ گی.جی بھر کرکھیل لو اسکے دل کے ساتھ…”وہ نم آواز میں مسلسل بڑبڑا رہی تھی.پھر منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی.تبہی دروازہ زور زور سے پیٹا گیا.”حیات دروازہ کھولو”شیرافگن نے نرمی سے کہا.پر حیات کچھ نہ بولی.”حیات کیا ہوا؟ دروازہ کھولو”اب کی بار شیرافگن نے فکر مندی سے کہا .پر حیات خاموشی سے آنسو بہاتی رہی.شیرافگن نے بار بار اسے دروازہ کھولنےکا کہا پر حیات لب سی کر چپ بیٹھی رہی.شیرافگن کا دل گھبرانے لگا کہ کہیں اسے کچھ ہو نہ گیا ہو.”حیات!!!”شیرافگن نے اونچی آواز میں دروازے پر ہاتھ مار کر کہا.”نہیں کھولنا دروازہ آپ جائیں یہاں سے”آخر حیات نےچپ توڑ کر آنسوؤں بھری آواز میں کہا.”حیات میں نے کہا دروازہ کھولو ورنہ میں دروازہ توڑ دونگا.” شیرافگن نے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا. “نہیں کھولوں گی.”حیات نے ضدی لہجے میں کہا.”حیات مجھے تنگ مت کرو…کم آن پرنسیس دروازہ کھولو اور مجھے بتاؤ ہوا کیا ہے؟”شیرافگن نے لب بھینچ کر غصہ دبا کر نرم لہجے میں کہا.یہ چھوٹی سی لڑکی اسے انگلیوں پر نچا رہی تھی اور وہ پاگل دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسکے سامنے گھٹنے ٹیک گیا تھا.”حیات اگر تم نے دروازہ نہ کھولا تو میں ابھی چچا جان اور چھوٹی امی کو کال کر کے واپس بلاتا ہوں.”شیرافگن نے اب کی بار سختی سے کہا.اس دھمکی نے کام کیا اور حیات نے دروازہ کھول دیا.شیرافگن نے جلدی سے پلٹ کر جاتی حیات کا بازو سختی سے تھام کر اپنے سامنے کھڑا کیا.”یہ کیا بدتمیزی تھی.تمہارا دماغ خراب ہے.ایساکیوں کیا؟ جواب دو مجھے؟”شیرافگن نے اسے اپنے قریب کر کے چبا کر کہا.”دور رہے مجھ سے”حیات اسے دھکا دے کر بولی.پھر رونے لگی.شیرافگن حیران پریشان تھا.اسکا غصہ ہوا ہونے لگا.”میری پیاری پرنسیس مجھے بتاؤ کیا ہوا؟ کیوں رو رہی ہو میری جان؟”اسے یوں روتے دیکھ کر شیرافگن کا دل پگھلا اسکے غصے پر جیسے حیات کے آنسو ٹھنڈے پانی کے قطرے بن کر گرے تھے.جسنے غصے کو پیار میں بدل دیا تھا.وہ پاگل سی لڑکی اسکی کمزوری بن گئی تھی. “آپکو بتاؤ …آپکو؟میں اس شخص کو کیوں کچھ بتاؤ جو میرے دل کے ساتھ کھیل گیا.”حیات نے روتے ہوئے تیش سے کہا.”کیا کہہ رہی ہو.صاف بات کرو.”شیرافگن الجھے انداز میں سنجیدگی سے بولا.حیات طنزیہ انداز میں ہنسی.”اب آپ کیوں سمجھنے لگے.سمجھ تو میں گئی ہوں.چوٹ دینے والا تو ہمیشہ انجان ہی رہتا ہے.آپکی طرح!!”حیات نے اسے دیکھ کر غصے سے کہا.”کیا کہانیاں ڈال رہی ہو یار.کیا میری کوئی بات بری لگ گئی میری پرنسیس کو…چلو جلدی سے بتاؤ کیا بات بری لگی میری جھلی کو؟”شیرافگن نے ہلکے پھلکے انداز میں مسکرا کر کہا.اسے لگا ہمیشہ کی طرح کوئی چھوٹی سی بات ہوگی جس پر محترمہ اسکے منہ سے سوری سننا چاہ رہی ہوگی.اسکی بات پرحیات کو صدمہ ہوا.وہ حیات کی بات کو مذاق سمجھ رہا تھا.اسکی جان جارہی تھی اور شیرافگن کو مذاق لگ رہا تھا.حیات نے دھندلی نظروں سے اسے دیکھا.وہ ایک دم لڑ کھڑائی.شیرافگن نے جلدی سے اسے تھاما.حیات کو کرنٹ سا لگا.وہ شیرافگن کے ہاتھ جھٹک کر پیچھے ہوئی.”ہاتھ مت لگاۓ مجھے.جا کر اپنی ہانی کو سنبھالیں.مجھے آپکی ضرورت نہیں ہے. سمجھے آپ!! “حیات پھٹ پڑی تھی.” یہ کیا بکواس کر رہی ہو.یہاں ہانیہ کا کیا ذکر؟” شیرافگن نے اسے گھورا کر کہا.” ہانیہ کا ہی تو سارا ذکر ہے افگن صاحب “حیات طنزیہ لہجے میں بولی پھر اسے دیکھا.” آپ مجھے دھوکہ دے رہے ہے.آپ نے مجھ سے میری نادانیوں کا بدلہ لیا ہےاور میں پاگل آپ پر بھروسہ کرتی رہی.آپ مجھ سے محبت نہیں کرتے.آپکی محبت تو وہ ہانی ہے.”حیات نے روتے ہوئے جل کر کہا.شیرافگن کے ماتھے پر بل پڑے.”تمہیں لگتا ہے میں تمہیں دھوکہ دے رہا ہوں؟”اسنے سرد لہجے میں پوچھا.حیات کچھ نہ بولی بس خاموشی سے اسے گھورتی رہی.شیرافگن اسکے قریب آیا.”تمہارا کہنا ہے کہ میں ہانیہ سے محبت کرتا ہوں؟” اسنے حیات کا چہرہ اپر اٹھایا.حیات نے گلابی آنکھوں سے اسے دیکھا. “اگر میری محبت ہانیہ ہوتی تو آج تمہاری جگہ پر وہ میری منکوحہ ہوتی کیونکہ شیر افگن کو جو چاہیے ہوتا ہے.وہ اسے اپنا بنا کر رہتا ہے اور شیرافگن نے تمہیں اپنا بنایاہے.” اسنے حیات کی آنکھوں میں دیکھ کر بڑی سنجیدگی سے کہا.حیات نے ہنس کر آنسو صاف کئے پھر جلا دینے والی نظروں سے شیرافگن کو دیکھا.”اب آپ مجھے بہلا نہیں سکتے مسٹر شیرافگن میں آپکو پہچان چکی ہوں.اگر آپ ہانیہ سے محبت نہیں کرتے.تو اسے بھی میری طرح دھوکہ دے رہے ہیں.”حیات نے لال آنکھوں سے اسے دیکھ کر ایک پل کے لئے رکی پھر بولی”میری طرح ہانیہ بھی آپکی وجہ سے رو رہی ہیں.وہ آپ سے محبت کرتیں ہیں. پر آپ کسی سے محبت نہیں کرتے آپ صرف ہمارے احساسات کے ساتھ کھیل رہے ہیں. آ…آپ نے میرا بہت دل دکھایا ہے شیرافگن.” اسنے روتی ہوئے ہچکی بھری.وہ بس بولے جا رہی تھی.اسے روتے دیکھ کر شیرافگن کے دل کو کچھ ہوا.وہ سمجھ گیا تھا کہ اسکی پرنسیس اسکی محبت میں ہانیہ سے جیلس ہورہی تھی.کوئی اور وقت ہوتا تو وہ حیات کی جلن کو انجوۓ کرتا.پر اس وقت وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا.سامنے کھڑی اسکی جھلی ہمیشہ سے پاگل رہی تھی.جلد باز تھی.کوئی بھی بات ہوتی اسے بنا سوچے، سمجھے اس پر ریایکٹ کر جاتی.اب بھی وہ ایسے ہی کر رہی تھی.شیرافگن نے اپنے آپ کو سکون میں رکھا کہ اس پر غصہ نہ کرے اور اس پاگل لڑکی کو آرام سے سمجھالے.اسنے روتی ہوئی حیات کو دیکھا پھر اسکے قریب ہو کر اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیا.پھر انگوٹھے سے اسکے آنسو پونچھے.حیات کی بولتی ایک دم بند ہوئی. “شش…بس اب چپ… بالکل چپ…” اسنے حیات کی سنہری آنکھوں میں دیکھ کر نرمی سے کہا.شیرافگن نے اسکے چہرے کو دیکھا اسکا چہرہ رونے اور غصے کی وجہ سے گلابی ہورہا تھا.اسکی گھنی پلکیں آنسوؤں سے بھیگیں تھی.ہونٹ کپکپا رہے تھے. اسکا وجود کانپ رہا تھا.اسکی حالت دیکھ کر شیرافگن کے دل کو کچھ ہوا.اس کا دل چاہا کہ وہ اس لڑکی کو اپنی بانہوں میں چھپا لے.حیات نے پیچھے ہونا چاہا پر شیرافگن نےاسے ایسا نہ کرنے دیا.”تم نے سب کہہ دیا حیات اب میری بات سنو….تم نے ہانیہ کی بات کی کہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے؟” اسنے حیات کو دیکھا پھر بولا.”یہ بات میں اس وقت سے جانتا ہوں.جب میں اور ہانیہ یونیورسٹی میں تھے. پر مجھے اس سے محبت نہیں تھی نہ اب ہے.وہ صرف میری دوست ہیں اسکے علاوہ کچھ نہیں.یہ دل کے معاملے ہوتے ہیں.ان پر کسی کا بس نہیں چلتا.جیسے ہانیہ کا دل بے بس ہے.ویسے ہی میرا دل بھی بے بس ہے.”وہ کہتا ہوا مزید اسکے قریب ہوا. اسنے حیات کا ہاتھ تھام کراپنے دل پر رکھا. “اس دل کو صرف تم سے محبت ہے.اس دل میں تمہارے علاوہ کوئی نہیں.سن لو ان دھڑکنوں کو…محسوس کرو کہ یہ دل صرف تمہارے لئے ہی دھڑکتا ہے.” شیرافگن نے اسکے گلابی چہرے کو دیکھ کر مدھم سر گوشی کی.حیات کی نظر اسکے دل پر رکھے اپنے ہاتھ پر تھیں.اسے شیرافگن کے دل کے ساتھ اپنا دل دھڑکتا ہوا محسوس ہوا.اسکا دل پگھلنے لگا.جب اچانک اسکے دماغ پر شیطان حاوی ہوا.اسے کچھ دیر پہلے شیر افگن کا ہانیہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر کھڑے ہونا یاد آیا.وہ تب شاید ہانیہ سے بھی ایسی ہی باتیں کر رہا ہوگا.حیات کو تیش آیا.وہ ایک دم شیرافگن کے ہاتھ جھٹک کر اس سے فاصلے پرہوکر کھڑی ہوئی.”کچھ دیر پہلے نیچے جب آپ ہانیہ کی کمر میں ہاتھ ڈالے کھڑے تھے تب آپ ہانیہ کو بھی ایسے ہی بہلا رہےہونگے ناں. آپ مردوں کا کوئی بھروسہ نہیں ہے.؟”حیات نے چبا کر کہا.شیرافگن حیرت سے نکلا اسکا دماغ گرم ہونے لگا.حیات اسکے غصہ نہ کرنے کی ہر کوشش کو ناکام کر رہی تھی.اسنے حیات کو دیکھا جو کہہ رہی تھی.”اور اب آپ مجھے بہلا رہے ہیں.کہانیاں سنا رہے ہیں.آپ…” اسنے جلتی نظروں سے اسے دیکھا پھر بولی “آپ یہ سب بہلانے کے ہتھیار اپنا کرہم دونوں میں سے کسی ایک کوبھی ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے.آپ ہم سے اپنے نفس کی تسکین چاھتے ہیں.”اس نے تیکھے لہجے میں انگلی اٹھا کر کہا.وہ غصے میں کیا بول گئی تھی یہ بات شاید اسے بھی معلوم نہ تھی.اسکی بات پر شیرافگن کے دل میں جیسے تیر پیوست ہوا تھا.اسکی آنکھیں پل میں لال انگارا ہوئیں.وہ دو لمبے ڈگ بھرتا حیات کے قریب آیا.” کیا کہا ہے تم نے…ہاں…کیا بکواس کی ہے!!!”وہ دھاڑ کر بولا حیات ایک پل کو ڈر کر پیچھے ہوئی. پھر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی”وہی کہا ہے جو آپ نے سنا ہےاور بالکل سچ کہا ہے.”
“حیات!!!”شیرافگن کا دماغ گھوما اسنے ہاتھ ہوا میں بلند کیا.حیات نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا.”آ..آپ مجھ پر ہاتھ اٹھائیں گے؟” اسنے روتے ہوئے سنہری نظروں سے شیرافگن کو دیکھا.شیرافگن نے بڑی مشکل سے خود پر قابو پایا.پھر دانت کچکچا کر مٹھی بھینچ کر ہاتھ نیچے کیا.جبکہ حیات روتی ہوئی دیوار کے ساتھ جا لگی.”تم نے مجھے کوئی گندا آدمی سمجھا ہے؟جو دوستی اور نکاح جیسے پاکیزہ رشتوں کو گندا کرے گا.ان سے نفس کی تسکین چاہے گا….اونہہ”وہ طنزیہ ہنسا.پھر حیات کے قریب ہوا.”ایسے مرد تم نے دیکھے کہاں ہیں؟کیا تمہیں دیکھا دوں کہ ایسے مرد کیسے ہوتے ہیں؟کیا تم میرا وہ روپ دیکھنا چاہو گی؟”اسنے دیوار پر ہاتھ رکھ کر حیات کے قریب جھکتے ہوئے چبا کر کہا.حیات نے خوف سے اسے دیکھ کر آنکھیں بند کرلیں. شیرافگن اسے یوں دیکھ کر ایک دم زور سے ہنسا.اس ہنسی میں دکھ تھا. کچھ ٹوٹ جانے کی آواز تھی.شاید دل؟اسکے ہنسنے پر حیات نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں.”ڈرو نہیں میڈم…میں تمہاری سوچ کی طرح گندا ہرگز نہیں ہوں.”اسنے ٹھنڈے ٹھاڑ لہجے میں کہہ کر بائیں ہاتھ سے اسکے گال کو چھوا.حیات ڈر کر اسےدیکھنے لگی.”تم نفس کی تسکین کی بات کرتی ہو تو بتاؤ مجھے کہ آج تک اس شیرافگن نے کبھی تمہیں گندی نظر سے دیکھا یاکبھی تمہارا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی؟” شیرافگن نے دانت پیس کر اسکے چہرے پر نظریں جما کر پوچھا.حیات کا رنگ اڑ گیا. اسکی زبان تالوں میں بند ہو چکی تھی.وہ شرمندہ سی سر جھکا گئی.شیرافگن کرب سے ہنسا.پھر ایک دم سنجیدہ ہوا اور حیات کا چہرہ اپر اٹھایا.”ہانیہ بہت اچھی لڑکی ہے.وہ میری سچی دوست ہے.اپنی گندی سوچ کو تم خودتک محدود رکھنا.اسے میرے اور ہانی کے پاکیزہ رشتے کے بیچ میں مت لانا.سمجھی” شیرافگن نے غم وغصے سے کہہ کر حیات کے آنسو دیکھ کر اسنے دیوار پر زور سے ہاتھ مارا. حیات کانپ سی گئی.اسکی آنکھوں سے ایک کے بعد ایک آنسو گرنے لگا. اسنے کبھی شیرافگن کا یہ روپ نہیں دیکھا تھا اور اب اسے اس روپ میں لانے والی بھی وہ خود تھی.”افسوس تم مجھے جان ہی نہ سکی یا شاید تم ہمیشہ سے ایسی ہی تھی.میں ہی تمہیں نہ جان سکا.تمہارا قصور نہیں ہے.یہ میری غلطی ہے.یہ اس دل کی غلطی ہے.جسنے آج شیرافگن جیسے مظبوط شخص کو کمزور کر دیا ہے.”اسنے اپنے دل پر ہاتھ مار کر حیات کی سنہری آنکھوں میں دیکھ کر دکھ بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا.حیات کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی صورت ٹوٹ کر گرنے لگے. شیرافگن نے ہاتھ بڑھا کر اسکی آنکھ سے بہتے موتی کو اپنی شہادت کی انگلی کی پور پر لیا.کچھ دیر اسے دیکھتا رہا.پھر اسنے حیات کو دیکھا.”آئندہ…اپنی یہ صورت میرے سامنے مت لانا.”لب بھینچ کر سرد اور مدھم لہجے میں کہا گیا.پھر اسنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کو ملا کر وہ آنسو ہوا میں اچھال دیا. حیات نے تڑپ کر اسے دیکھا.وہ ایک سخت نظر حیات پر ڈال کر پلٹا اور لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر نکلنے گیا.حیات زمین پر بیٹھ کر رونے لگی.پر شیرافگن نے پلٹ کر اسے نہ دیکھا.وہ چہرے پر ہاتھ رکھ کر رو رہی تھی.اب اسکا دماغ ٹھنڈا ہوا تو اسے معلوم ہوا وہ کیا بول گئی تھی.وہ ایسی شکی مزاج تو نہ تھی. پھر وہ یہ سب کیوں بول گئی؟کیوں اسنے اپنی بیوقوفی کی وجہ سے اس پیارے سے کو خود سے بد گمان کر لیا؟وہ تو شازمہ کے غلط کہنےپر غصہ ہوئی تھی.اسے شیرافگن کے کردار پر مکمل بھروسہ تھا.پھر اب کیا ہوا؟ کہاں گیا اسکا بھروسہ؟کیوں وہ یہ نادانی کر بیٹھی؟ وہ گھٹنوں پر سر رکھے رو رہی تھی. محبت بہت خوبصورت اور پاکیزہ جذبہ ہے. محبت میں اگر سب ٹھیک رہے تو یہ انسان کو سرخرو کرتی ہے.پر کبھی کبھی یہی محبت انسان سے ایسے کام کروا دیتی ہے کہ مات کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا.حیات بھی شیرافگن کی محبت میں اسے ہی خود سے بد گمان کر بیٹھی تھی.اسنے سوچا یہ محبت ہی ساری مصیبت ہے.نہ اسے شیرافگن سے محبت ہوتی، نہ وہ فضول شک کرتی اور نہ یہ سب کچھ ہوتا.اسنے اپنے دل کے ساتھ شیرافگن کا دل بھی توڑ دیا تھا. وہ سوچنے لگی اب وہ کیا کرے گی؟ وہ کیسے رہ پاۓ گی اپنے شیر مار کے بغیر؟ اسنے روتے ہوئے ہچکی بھری.آنکھوں سے آنسو بہنے بند ہی نہیں ہو رہے تھے.”میں اب کیا کرونگی اللّه پاک….میں ایسے کیسے بول گئی.میں اب شیرافگن کو کیسے مناؤں گی….”اسنے پھر ہچکی بھری”شیرافگن نے تو کہہ دیا کہ میں انھیں اپنی صورت بھی نہ دیکھاؤں.افف یہ میں نے کیا کر دیا.”حیات روتے ہوئے اب پچھتا رہی تھی.
•••••••••••
“درد ہو دل میں تو دوا کیجئے”
“دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجئے”
شیرافگن اسکے کمرے سے شدید غم و غصے سے نکلا تھا.وہ نیچےہال میں آیا.اس وقت وہ گھر سے کہیں دور چلا جانا چاہتا تھا.پر جا نہ سکا.وہ لڑکی جو اپر تھی وہ اسے اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا.وہ بابا کی لائبریری کی طرف بڑھا.پھر زور سے دروازہ بند کر کے اسنے اپنا کوٹ اتار کر پھینکا.اسکا دل جل رہا تھا جیسے کسی نے آگ لگا دی ہو.”ہاں آگ….اس لڑکی نے میرے دل کو آگ ہی تو لگا دی ہے.” شیرافگن دانت پیس کر بڑبڑایا.اسنے شرٹ کی آستینیں فولڈ کیں.پھر شرٹ کے اپری تینوں بٹن کھول دئیے.وہ اپنے اندر کی آگ کم کرنا چاہتا تھا.اسنے جلدی سے کھڑکی کی طرف بڑھ کر کھڑکی کھول دی.ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس سے ٹکرایا پر اسے کوئی فرق نہ پڑا.وہ تو آگ میں جل رہا تھا.کوئی چیز اس پر کیسے اثر انداز ہوتی.شیرافگن لان کو دیکھنے لگا.باہر اندھیرا پھیل چکا تھا.اسی لان میں اسنے حیات سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا.وہ کتنے خوبصورت لمحے تھے.پر اب سب کچھ برباد ہوگیا تھا.وہ مزید وہاں کھڑا نہ رہا اور ٹیبل کے پیچھے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا. کرسی سے ٹیک لگا کر اسنے جلتی آنکھیں بند کر لیں.اسکی سوچیں اس لڑکی کی طرف جانے لگیں.کیا وہ اتنا بے اعتبار تھا کہ حیات نے اس حد تک گر کے اسکے بارے میں سوچا؟اتنا گندا الزام اس پر لگایا تھا.کیا وہ اتنا برا انسان تھا؟جو اپنی منکوحہ اور اپنی دوست پر بری نظر رکھتا.حیات کا ایک ایک لفظ شیرافگن کو گھائل کر گیا تھا.اسکا دل دکھ سے بھر گیا تھا. اسکی پرنسیس نے اسکا دل اپنے ہاتھوں سے توڑ دیا تھا.شیرافگن کو اپنی آنکھوں میں نمی محسوس ہوئی.اسنے آنکھیں کھول کر پھر سختی سے بند کیں تاکہ نمی کو پیچھے دھکیل سکے.کہا جاتا ہیں کہ مرد روتے نہیں پر مرد کا دل بھی عورت کے دل کی طرح گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے.اسے بھی ہر وہ بات دکھ دیتی ہے جس پر ایک عورت آرام سے آنسو بہا سکتی ہیں.پر ہمارے ہاں کہا جاتا ہے.”مرد پر رونا نہیں جچھتا، مرد رو نہیں سکتا.”پر وہی آنسو جو بظاھر انکی آنکھوں سے نہیں بہتے وہ ان کے دل پر گرتے ہیں.یہ خاموش آنسو انکا دل کھوکھلا کر دیتے ہیں اور یہ بات زیادہ تکلیف دیتی ہے.شیرافگن بھی اسی تکلیف میں مبتلا تھا.اسکا دل بھی کرچی کرچی ہو رہا تھا.اسنے لمبی سانس خارج کی پھر بالوں میں ہاتھ پھیر کر انھیں بکھیر دیا.
“تم نے ایسا کیوں کیا پرنسیس؟تمہیں ہانیہ میرے نزدیک اچھی نہیں لگتی تھی.تو تم مجھے پہلے بتا دیتی میں اس سے دور رہتا. میں تو تھا ہی تمہارا پھر تم نے اتنا غلط کیوں سوچا.میں تمہیں معاف نہیں کروں گا پرنسیس…کبھی نہیں”اسکی بھاری مگر مدھم آواز گونجی.وہ یونہی سوچوں میں گم تھا. جب اسکا موبائل بجا.اسنے جیب سے موبائل نکال کر کال پک کی.دوسری طرف مجتبیٰ تھا.وہ پوچھ رہا تھا کہ ابھی تک وہ دونوں کیوں نہ پہنچے. وہ تو یہ تو بھول ہی گیا تھا کہ انھیں دعوت میں جانا تھا.اسنے مجتبیٰ سے کہہ دیا کہ حیات کی طبیعت ٹھیک نہیں اسلئے وہ دونوں نہیں آسکتے اور مجتبیٰ باقی سب کو بھی بتا دے کہ زیادہ فکر کی بات نہیں ہے.وہ لوگ انجوۓ کریں.اسنے بات پوری کر کے فون بند کر دیا.پھر کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھا.اب اسکی سوچوں کا رخ ہانیہ کی طرف ہوا.وہ اسکی بہت اچھی دوست تھی.وہ جانتا تھا کہ ہانیہ اس سے محبت کرتی ہے.پر اسنے کبھی ہانیہ کے بارے میں ایسا نہ سوچا تھا.ہانیہ نے بھی کبھی اس سے اظہار نہ کیا اور شیرافگن نے شکر ادا کیا تھاکہ ہانیہ نے اس سے اظہار نہ کیا کیونکہ وہ انکار کر کے اپنی پیاری سی دوست کا دل نہیں دکھا سکتا تھا. ہانیہ صرف اسکی دوست تھی اسکے علاوہ اور کچھ نہیں….پر جو اسکا سب کچھ تھی. جسکے لئے اسکا دل دھڑکتا تھا.اسنے ہی اسے خوب دکھ دیا تھا کہ وہ ٹوٹ سا گیا تھا.وہ رات کو سب کے آنے تک وہیں بیٹھا رہا. اسنے جاننے کی کوشش نہ کی کہ حیات کیا کر رہی ہے.اسنے سبکو بتا دیا تھا کہ حیات ٹیبلٹ لے کر سو چکی ہے.الماس بیگم نے حیات کے دروازے پر دستک دی پر حیات نے دروازہ نہ کھولا.وہ سمجھیں کہ سو رہی ہوگی.اسلئے وہ بھی سونے کے لئے چلی گئیں.سارا گھر سو چکا تھا سواۓ شیرافگن اور حیات کے… دونوں اپنے جلتے دلوں کو سنبھال رہے تھے.ایک دکھ دے کر بے چین تھی تو دوسرا اس دکھ کا شکار ہو کر بے چین تھا.یہ رات تو دونوں نے جاگ کر گزارنی تھی.دونوں ہی کرب میں مبتلا تھے.
جاری ہے
