Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11

اگلے دن انکا ولیمہ تھا.عباسی ہاؤس کے سب لوگ ہال جانے کے لئے نکل چکے تھے سواۓ حیات صاحبہ اور شیرافگن کے ، ہمیشہ کی طرح حیات آج بھی لیٹ تھی.دادو نےشیرافگن کو اسے ساتھ لانے کا کہا پھر باقی سب چلے گئے.حیات اس بات سے بے خبر تیار ہونے میں لگی تھی.شیرافگن ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا کہ کب مہارانی تیار ہو کر آۓ اور کب وہ لوگ گھر سے نکلیں. وہ بلیک سوٹ پہنے ہوئے تھا.بلیک میں وہ ہمیشہ حد سے بڑھ کر گڈ لوکنگ لگتا تھا.اسنے ایک بار پھر گھڑی دیکھی اور غصہ قابو کرتے اٹھ کھڑا ہوا.یہ لڑکی ہمیشہ اسکی ناک میں دم کرتی تھی.وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھا پر حیات کو نیچے آتا دیکھ کر رک گیا.
“اماں کب جانا ہے ویسے” وہ اپنے خیال میں دوپٹہ ٹھیک کرتی سیڑھیاں اتر رہی تھی. شیرافگن نے اسے دیکھا وہ بھی بلیک کپڑوں میں ملبوس تھی.جواب نہ پاکر اسنے سنہری آنکھیں اٹھائیں گھر بالکل سنسان تھا.وہ جلدی سے باقی سیڑھیا ں طے کرتی اسکے سامنے کھڑی ہوئی.”ہاۓ افگن بھائی مجھے سب چھوڑ کر چلے گئے” وہ پریشانی سے بولی.شیرافگن جو سحر میں کھویا تھا ایک دم چونک کر ہوش میں آیا “کیامیں تمہیں نظر نہیں آ رہا؟” اسنے تیکھے لہجے میں پوچھا.وہ کب سے اس محترمہ کا انتظار کر رہا تھا اور اب اسے کیا سننے کو مل رہا تھا.
“اف میں اب آپکےساتھ جاؤں گی کیا؟” اسنے افسوس سے گردن ہلائی شیرافگن کے ماتھے پر بل پڑے کیا مطلب تھا اس لڑکی کی بات کا اسے تو غصہ ہی آگیا.
“اچھاٹھیک ہے تمہیں میرے ساتھ نہیں جانا تو بیٹھی رہو گھر میں میرا وقت فضول میں برباد کیا تم نے گڈ بائے!!!”وہ اسے گھور کرکہتا وہاں سے نکلا .حیات ہوش میں آکر اسکے پیچھے بھاگی “افگن بھائی میرا وہ مطلب نہیں تھا سچی”وہ تیزی سے اسکے پیچھے چل رہی تھی پر وہ پورچ کی طرف بڑھتا رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا.
“افگن بھائی سنیں تو” اسنے تیزی سے بڑھ کر اسکے بائیں بازو کو دونوں ہاتھوں سے تھاما. شیرافگن ایک دم رکا گردن موڑ کر اسے دیکھا
“مجھےبھی ساتھ لے کر جائیں..اب میں نے ایسا تو نہیں کہا تھا کہ مجھے آپکے ساتھ نہیں جانا” اسنے منہ بسورا سنہری آنکھیں گھما کر اسکو دیکھا.یہ منظر شیرافگن کے دل میں اتر گیا.
“جلدی چلیں” وہ اسکا بازو چھوڑتی کار کی طرف بڑھی جبکہ وہ جیسے کھو سا گیا تھا. حیات کے دوبارہ پکار نے پر ہوش میں آیا پھر سر جھٹک کر کار کی طرف بڑھا.
ہال میں وہ دونوں ساتھ داخل ہوئے گہما گہمی عروج پر تھی. اسٹیج پر ایمان اور مجتبیٰ بیٹھے تھے.سب انھیں وش کر رہے تھے.وہ دونوں بھی انکی طرف بڑھ کر انسے ملے “آپی آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں” حیات نے پیار سے کہا. ایمان مسکرا کر سر جھکا گئی.وہ سیلور خوبصورت سی ڈریس پہنے ہوئے تھی.مجتبیٰ کی نظریں اسکے چہرے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں.کچھ دیر بعد مجتبیٰ اور شیرافگن اسٹیج سے اٹھ کر نیچےچلے گئے.حیات ،ایمان کے ساتھ بیٹھی باتیں کرتی رہی پھر حیات کی چڑیلیں بھی آگئیں. وہ سب بھی وہی بیٹھ کر گپیں لگانے لگیں.”بڑی میچنگ میچنگ چل رہی ہے تم دونوں کی اہم..دال میں کچھ بلیک بلیک سا ہے”تابی نے اسکے کان میں سر گوشی کی. حیات نے اسکی بات سمجھ کر پہلےدور کھڑے شیرافگن کو دیکھا پھر نظر گھما کر اسے
“کچھ بلیک نہیں دال میں یہ صرف ایک اتفاق ہے سمجھی”اسنے گھور کر سر جھٹکا. “حسین اتفاق” حریم نے لقمہ دیا سب کھلکھلا کر ہنسی.حیات نے برا سا منہ بنایا. سبین نے ایمان کی طرف اشارہ کر کے انھیں اسکی طرف متوجہ کیا.جو چپکے سے مجتبیٰ کو دیکھ رہی تھی.مجتبیٰ کی نظریں بھی اس پر تھی.وہ سب شرارت بھری ہنسی روکے سب دیکھتی رہیں.مجتبیٰ کو کسی نے آواز لگائی تو وہ اس طرف متوجہ ہوا.ایمان نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں بند کر کے کھولیں وہ ان شیطانوں کی نگاہوں سے انجان تھی.
“ڈھانپ لیا پلکوں میں تجھ کو”
“بندکر لئے نین”
“تومجھ کو میں تجھ کو دیکھوں”
“غیروں کا کیا کام”
میناکی سنگر والی رگ بھڑکی تو اسنے نے گانا ،گانا شروع کیا سب نے تالیاں بجاکر اسکا ساتھ دیا.ایمان نے چونک کر انھیں دیکھا سب کے چہروں پر شریر سی مسکراہٹ چمک رہی تھی. وہ ان کے بیچ پھنس چکی تھی.
“واہ واہ مینا”انہوں نے داد دی.مینا نے سر کو خم دے کر وصول کی
“ہاں تو آپی آپ مجتبیٰ بھائی کو آنکھوں میں چھپا رہی تھیں”حیات نے آنکھیں جھپک کر کہا ایمان گلابی چہرہ جھکا گئی.
“آپی کا حق ہے مجتبیٰ بھائی پر” حریم نے ایمان کاساتھ دیا.”بالکل بالکل”ایک ساتھ کہا گیا. “پر آپی چُپ کر نہیں پورے حق سے دیکھیں ناں” تابی نے کہا تو ایمان نے اسے گھورا پر ان پر اثر کہاں ہونا تھا.کافی دیر وہ ایمان کا سر کھاتیں رہیں پھر دادو نے انہیں ڈانٹ کر وہاں سے ہٹایا تو انھیں صبر ہوا.ان سب نے مل کر کھانا کھایا.حیات امل کو ڈھونڈھ رہی تھی. جو مریم کے ساتھ گھومتی نجانے کہا تھی. حیات ارد گرد دیکھتی گزر رہی تھی.جب کسی سے ٹکرائی پھر ایک دم سنبھل کر پیچھے ہوئی سامنے دیکھا تو علی کھڑا تھا.اس کے چہرے پر نظریں جماۓ مسکرا رہا تھا.”کیسی ہیں آپ” اسنے لگاؤ سے پوچھا
“میں ٹھیک”اسنے دھیمے سے مسکراکر مختصر جواب دیا.اسے جانے کی جلدی تھی.امل کو دادو نے بلایا تھا.اگر دیر ہوتی تو دادو نے اسے سنانی تھیں اور وہ علی سےگپیں لگا بھی نہیں سکتی تھی. اسے علی سے چڑ سی تھی.
” بہت پیاری لگ رہی ہیں”علی نے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا. حیات نے لاپرواہی سے شکریہ کہا جبکہ دور کھڑاشیرافگن ماتھے پر شکنیں ڈالے انھیں گھور رہا تھا.وہ جلدی سے علی سے جان چھڑا کر بھاگی.شیرافگن بھی اسکے پیچھے گیا.حیات امل کو پورے ہال میں ڈھونڈھ چکی تھی پر وہ کہیں نہ ملی .وہ ہال سے باہر آئی کہ شاید باہر ہو وہ آگے بڑھ رہی تھی.جب اسکا بازو ذور سے کھینچا گیا.
“کیا مسئلہ ہے!!”اس نے غصے سے پلٹ کر کہا وہ کب سے امل کو تلاش کر کے جھنجھلا اٹھی تھی.اور اب یہ کون ہے.جب اسنےسامنے دیکھا تو شیرافگن صاحب اسے گھور رہے تھے.
“اب کیا کر دیا میں نے”وہ ٹھنڈی سانس بھر کر بڑبڑائی اسکابازو شیرافگن کی گرفت میں تھا.
“کتنی بار کہا ہے دیکھ کر چلا کرو…میری بات سمجھ نہیں آتی تمہیں…کبھی ان آنکھوں کا استمعال بھی کر لیا کرو…ویسے ٹکرانا تمہیں بہت اچھا لگتا ہے.ہاں بولو؟” اسکےبازو کوجھٹکا دے کر اسنے دانت پیس کر پوچھا “پر میں آپ سے کب ٹکرائی”وہ حیران تھی. “آنکھیں کھول کر چلا کرو سمجھی مجھے ذرا پسند نہیں تمہاری یہ بچوں والی حرکتیں” اسنے چبا کر کہا حیات کا دماغ گرم ہوا.یہ کیا ہے جب مرضی اسے ڈانٹ دیا جائے جبکہ اس نے کچھ کیا بھی نہ تھا.اسنے اپنا بازو جھٹکے سے اسکی گرفت سےچھڑایا.پھر بغیر کچھ کہے پلٹ کرچلی گئی.شیرافگن نے اسکی پشت کو گھورا حیات کے ساتھ علی کو دیکھ کر اسے آگ ہی تو لگ گئی تھی.
“دیکھ کر نہیں چل سکتی یہ لڑکی اب کیا ہر کسی سے ٹکراتی پھرے گی پاگل لڑکی”وہ غصے سے بڑبڑاتا اندر کی طرف بڑھ گیا.
حیات نے امل اور مریم کو سامنے سے آتے دیکھا تو تیز قدموں سے انکی طرف بڑھی
“امل یہاں کیا کر رہی ہو کب سے تمہیں ڈھونڈھ رہی ہوں پرتم نے تو نہ ملنے کی قسم کھائی تھی حد ہوگئی”حیات نے اپنا غصہ امل پر اتارا.وہ دونوں حیران تھی کہ حیات کو کیا ہوگیا.” آپی مریم کا موبائل کار میں تھا بس وہی لینے آۓ تھے.آپ اتنا غصہ کیوں ہو رہی ہیں”اسنےمنہ بنا کر کہا.حیات نے آج سے پہلے اسے نہیں ڈانٹا تھا.
“آئی ایم سوری گڑیا چلو آؤ دادو بلا رہی ہیں” اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا.وہ شیر مار کا غصہ اس پر اتار رہی تھی.اسنے امل کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے کہا دوسرے ہاتھ میں مریم کا ہاتھ لیا پھر مسکرا کر ان سے باتیں کرتی اندر بڑھ گئی.
•••••••••••••
احمر جمالی زخمی شیر کی مانند ہو گیا تھا. اپنے اپارٹمنٹ میں وہ تینوں دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا.آج دوسرا دن تھا.اسکے سر کا زخم اب بھی دکھ رہا تھا.پر اس سے زیادہ اسے یوں شکار کے ہاتھ سے جانے کا دکھ پاگل کر رہا تھا. اپر سے دوست اسکے غصے کو اور ہوا دے رہے تھے.اس دن کے بعد وہ آج انسے ملا تھا.
“چھی یار بہت برا کیا شازمہ نے تو نے سبق سکھانا تھا ناں اسے”ندیم نے اسے بھڑکایا
“بچ نکلی…” اسنے گالی دے کر منہ پر ہاتھ پھیرا ناخن لگنے کے نشان چہرے پر اب بھی تھے.اسے وہ درد یاد آنے لگا جب خون اسکے سر سے نکل کر فرش کو لال کر رہا تھا.
“کیا حال کیا ہے تیرا “سلمان نے چنگاری کو ہوا دی. احمر جمالی نے غصے سے ہاتھ میں پکڑا کانچ کا گلاس دور پھینکا جو ٹوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا”شازمہ کی ایسی کی تیسی اور اس لڑکی کو نہیں چھوڑوں گا.اسکی ہمت کیسے ہوئی وہ میرے خلاف بکواس کرتی رہی.اب اسےبتاؤں گا کہ احمر جمالی کوئی چھوٹی چیز نہیں وہ حال کروں گاکہ یاد رکھے گی”لاوا پھٹا تھا.اسکے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی.آنکھیں غصے سے لال ہو رہیں تھیں.” ویسے وہ لڑکی کون ہے؟”وقاص نے آگے ہو کر تجسس سے پوچھا
“ہے کوئی حیات…جو کافی حد تک مجھے جانتی ہے تبھی شازمہ کو سبق دیتی رہی اب میں بھی اسے اچھے سے جان لونگا.اسنے شازمہ کو توبچا لیا پراسے میرے ہاتھوں سے کون بچاۓ گا “وہ ہاتھ میں پکڑے سیگریٹ پر نظریں جماۓ چباکر بولا “واہ یار اب آۓ گا کھیل کا اصل مزہ” سلمان نے کمینگی سے ہنس کر اسکا شانہ تھپکا.احمر جمالی آنکھوں میں شیطانی چمک لئے خاموش بیٹھا سوچ رہا تھا. شازمہ کوچھوڑکروہ حیات کےپیچھےپڑگیا تھا.
“سنو میری بات” اسنے تینوں کو متوجہ کیا
“کل پتہ لگاؤ یہ حیات کون ہے”اسنے انگلی اٹھا کر کہا” اوکے باس “سلمان نے سر ہلایا
“ایسا سبق سکھاؤں گا اسے کہ وہ دوسروں کو سمجھانا بھول جائے گی” اسکا شیطانی دماغ بہت کچھ سوچ رہا تھا.
“اہم کل ہی پتہ لگاتے ہیں کون ہے وہ بد نصیب جسنے تجھ سے پنگا لیا ہے”ندیم نے ہنس کرکہا “آگے آگے دیکھو ہوتا ہےکیا”اسنے سیگریٹ کا کش لے کر منہ سے دھوا اڑایا.تینوں اسے مذید بھرکانے کا کام اچھے سےکر رہے تھے. احمرجمالی انکی باتیں سن کر اور خطرناک ہوتاجارہا تھا.
••••••••••••
وہ لوگ گراؤنڈ میں ایک سائیڈ پر کھڑیں باتوں میں مگن تھیں.جب شازمہ انکے سامنے آ کر کھڑی ہوئی.سر سے پیر تک بدلی ہوئی لگ رہی تھی.انھیں لگا شاید لڑائی کا پروگرام ہوگا محترمہ کا پر وہ خاموش کھڑی بولنے کے لئے الفاظ تلاش کر رہی تھی.سر اٹھا کر انھیں دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھیں.
“حیات آئیم سوری”اسکی آنکھیں نم ہونے لگیں وہ سب حیران تھیں.حیات نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما” کیا ہوا شاز مہ تم ایسے…یہ سب”اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ شازمہ کے یوں اچانک اتنا بدل جانا پر کیا کہے.
“میں اپنی کہی تلخ باتوں کی معافی مانگنے آئی ہوں تم سب سے اسپیشلی تم سے حیات” اسنے سب کو دیکھا “ایٹس اوکے”حیات نے کہا
“مجھے افسوس ہے خود پر کہ میں نے تم لوگوں کی بات نہ مانی اور احمر جمالی کو صحیح سمجھتی رہی پر اب میری آنکھوں سے پٹی اتر چکی ہے.تم سب کا شکریہ کہ تم لوگوں نے میرے برے رویے کےباوجود میرا بھلا چاہ کر مجھے سمجھایا” اسنے نم آنکھوں کے ساتھ نرمی سے کہا. پھر سب بتاتی چلی گئی. وہ حیران تھی.احمر جمالی کی گری ہوئی حرکت پر شاک تھیں پر انھیں خوشی تھی کہ اللّه نے شازمہ کو ہدایت دی.اسکی عزت اس شیطان سے محفوظ رہی.
“چلو یار جانے دو گزری باتوں کو”حریم نے ماحول پر چھائی اداسی کو مٹانے کے لئے مسکرا کرکہا پھر شازمہ کوگلے لگایا.دیر تک وہ سب باتیں کرتیں رہیں.”تم سب بہت اچھی ہو”شازمہ نے انھیں پیار سے دیکھا.
“وہ تو ہیں یار” حیات نے شوخی سے کہا
“بالکل بالکل” مینا نے تعریف وصول کی تو شازمہ انھیں دیکھ کر ہنسنے لگی.وہ سب واقعی بے مثال تھیں.کاش اسکے پاس بھی اچھی دوستیں ہوتیں جو ہر قدم پر اسکا ساتھ دیتیں.”کاش میری بھی تم سب جیسی پیاری فرینڈز ہوتیں”اسکے دل کی بات زبان پر آئی
“ارے ہم بھی تمہاری فرینڈز ہی ہیں” حیات نے اسکے بازو کو تھام کر کہا
“بالکل یار” باقی سب نے بھی ہاں میں سرہلایا. وہ ہلکی پھلکی ہو کر مسکرائی.اس دن احمر جمالی کے ہاتھ سے بچ جانے کے بعد وہ بہت مشکل سے گھر پہنچی تھی.اسکا دل ٹوٹ گیا تھا.احمر جمالی سے اسنے محبت کی تھی پر اسنے کیا کیا ؟ اسے بد کردار قرار دیا؟ بھلے ہی اسکی لڑکوں سے دوستی تھی پر وہ بد کردار نہ تھی.اس رات اس پر واضح ہوا کہ کیوں اللّه نے عورت کے لئے کچھ حدود رکھیں ہیں.تا کہ وہ احمر جمالی جیسے برے لوگوں سے خود کو محفوظ رکھ سکیں.شازمہ بھی اپنی حدود بھول چکی تھی.پر اللّه نے اسے ٹھوکر لگا کر گرایا نہیں تھا بلکہ پھر سے کھڑا کر دیا تھا کہ وہ سنبھل جائے اور وہ سنبھل گئی تھی.وہ اس پاک ذات کی شکر گزار تھی جسنے اسے سنبھلنے کا موقع دیا تھا.”شازمہ” سبین کے پکارنے پر وہ چونک کر خیالوں سے نکلی.
“کہاں کھوئی ہو” تابی نے ہاتھ لہرایا
“کہیں نہیں… میں کل سے یونیورسٹی چھوڑ کر جارہی ہوں بس آخری بار تم سب سے ملنے آئی تھی” اسکی بات پر سب نے اسے دیکھا
“ارے پر کیوں جارہی ہو”حیات نے پوچھا
“امریکہ جا رہی ہوں ماما ، بابا کے پاس” اسنے ہلکی مسکان کے ساتھ بتایا.وہ یہاں اپنی خالہ کے ساتھ رہتی تھی.ماما،بابا کے بلانے کے باوجود وہ احمر کی محبت میں امریکہ واپس نہیں گئی.پر اب وہ ہمیشہ کےلئے جارہی تھی.
“اوه اچھا…چلو جہاں بھی رہو خوش رہو” حیات نے دوستانہ لہجے میں کہہ کر اسے گلے لگایا.سب سے مل کر وہ چلی گئی. اگر اسنے ایک شخص کوکھویا تھا تو بدلے میں وہ دوستی جیسا خوبصورت بندھن اپنے ساتھ لے کر جارہی تھی.وہ سب شازمہ کے لئے بہت خوش تھیں.پر وہ نہیں جانتی تھیں کہ دور کھڑا کوئی حیات کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا.اسکے خطرناک ارادوں سے وہ انجان تھیں.وہ آنکھوں میں وحشی چمک لئے اسے دیکھے جا رہا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *