Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09

ایمان کی شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں.شادی میں ایک ہفتہ رہتا تھا.سارے گھر میں گہما گہمی لگی تھی.عباسی ہاؤس میں سالوں بعد پہلی شادی تھی.سب پر جوش تھے. ایک سے بڑھ کر ایک تیاری ہو رہی تھی. حیات بھی کتنے دنوں سے یونی چھوڑے گھر بیٹھی شادی کی تیاریوں میں حصہ لے رہی تھی.ابھی بھی وہ اماں اور تائی امی کے ساتھ شاپنگ کر کے لوٹی تھی.شاپنگ بیگز ٹیبل پر رکھ کر وہ صوفے پر پیر اپر کر کے بیٹھی”بہت تھک گئی ہوں اور اپر سے یہ سردی” اسنے شال اچھے سے لپیٹی”ہم سے زیادہ تو یہ تھکی ہے بھابی دیکھیں ذرا” الماس بیگم نے ہنس کر ساتھ بیٹھی سارا بیگم کو دیکھ کر کہا
“نازک سی بچی ہے ہماری اتنی سردی کیسے برداشت کرے”انہوں نے محبت سے کہا
“جی بالکل تائی امی”حیات شرارت سے ہنس کر بولی تو وہ دونوں مسکرانے لگیں.پھر شادی کی تیاریوں کی باتوں میں لگ گئیں.
“گرماگرم چاۓ حاضر ہے”ایمان نے ہال میں داخل ہوتے ہوئے کہا “ہاۓ آپی آپ کیسے میرے دل کی بات جان لیتی ہیں” حیات نے جلدی سے اٹھ کر ٹرے سے کپ اٹھایا
“تم میری پیاری سی بہن جو ہو” ایمان نے پیار سے کہا پھر ماں اور چچی کو کپ تھمایا پھر حیات کے ساتھ بیٹھ گئی.”آپکے بغیر میں کیا کروں گی آپی”حیات نے اداسی سے اسے دیکھا
“چلو لڑکی ابھی توتمہارے پاس ہی ہوں ناں” ایمان نے مسکرا کر اسکا گال تھپکا تو حیات نے اسکے کندھے پر سر رکھا.کچھ دیر بعد وہ لوگ ایمان کے کمرے میں تھیں.”آپی آپ خوش تو ہیں؟”حیات نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا
“بڑوں کا فیصلہ مجھے دل سے قبول ہے” ایمان نے گلابی چہرے کے ساتھ کہا.حیات نے ہنس کر اسکا گال چوم لیا”افف آپی کتنی پیاری لگ رہی ہیں آپ اگر مجتبیٰ بھائی آپکو…”
“چپ کرو گندی بچی” ایمان نے اسکی بات کاٹ کر اسکے کندھے پر چپت لگائی .وہ کھلکھلا کر ہنسی.تبہی حیات کا موبائل بجا اسکرین پر تابی کا نام چمک رہا تھا. “میری چڑیلوں کو میری یاد آگئی” اسنے ہنس کر ایمان سے کہا.وہ تینوں یونی میں تھیں.سبین گاؤں اور حیات صاحبہ گھر میں بیٹھی تھی. جسکی وجہ سے وہ لوگ جی بھر کر بور ہو رہیں تھیں.حیات نے فون اسپیکر پر ڈالا تو دوسری طرف سے مینا گانا گانے لگی.
سانو ایک پل چین نہ آوے
سانو ایک پل چین نہ آوے سجناتیرے بنا، سجنا تیرے بنا
“اچھا تو اتنی بے چین ہو میرے بنا”حیات بھی شرارت سے گنگنانے لگی تو ایمان ہنسی تھی جبکہ دوسری طرف وہ لوگ تپ گئیں.
“اور نہیں تو کیا”حریم کی خفا آواز آئی
“تم نے تو ہمیں یاد بھی نہیں کیا ناں اتنے دنوں سے گھر میں بیٹھی ہو بے وفا کہیں کی” تابی نے مصنوعی خفگی سے کہا
“ارےیار تم لوگوں کے بغیر میرا دل کہا لگتا ہے پر میری پیاری آپی کی شادی ہے.مجھے بہت تیاریاں کرنی ہیں”حیات نے پیار سے کہا
“اوے ہوۓ سچ میں دل نہیں لگتا”مینا نے شرارت سے پوچھا
“تمہاری قسم” حیات نے ڈرامئی انداز اپنایا
“چلو آپی سے بات کراؤ ہماری”حریم نےکہا
“آپی ابھی شرما رہی ہیں”حیات نے ہنسی دبا کر کہا “ایسی کوئی بات نہیں یہ حیات بس ویسے ہی کہتی ہے” ایمان نے حیات کی طرف آنکھیں نکال کر صفائی پیش کی. دوسری طرف وہ تینوں زور سے ہنسیں
“اہم..چلیں آپی جانے دیں ہمیں پتہ ہے” تابی نے شرارت سے کہا تو حیات کے ساتھ ایمان بھی مسکرانے لگی.
“آپی پلیز اس لڑکی کو یونی بھیجیں ایک یہ نہیں آرہی دوسری ہماری بھولی گاؤں میں بیٹھی ہے” حریم نے اداسی سے کہا
“میں کیا کہوں تم لوگ اپنی دوست سے پوچھ لو لڑکیوں میں تو گئی” ایمان جلدی سے بھاگی تھی.کچھ دن پہلے جو انہوں نے اسے تنگ کیا تھا وہ بھولی نہ تھی.
“لومیری آپی تم چڑیلوں سے ڈر کے بھاگ گئیں اور ہاں میں نے ابھی نہیں آنا ویسے تم لوگوں کو بھی یہاں آنا چاہیے شادی سے پہلے کچھ ہنگامہ کریں گے” حیات باتوں سے انھیں رام کرنے لگی.”ویسے سبین گاؤں میں اتنے دن کیوں رک گئی کچھ گڑ بڑ لگتی ہے” حیات نے مشکوک انداز اپنایا”ہاں مجھے بھی کوئی چکر لگتا ہے کہیں ہماری بھولی کے زمے اسکی بے جی نےکوئی بھولا نہ لگا دیا ہو” مینا نے ہنس کر کہا.انکی باتوں کا سلسلہ چل نکلا تھا.
•••••••••••
ایمان کی شادی میں دو دن رہ گئے تھے.حیات اور امل نے کپڑے لینے تھے.ڈرائیور سارا اور الماس بیگم کو کسی کام سے کہیں نا کہیں لے جانے میں مصروف تھا.حیات اپنا مسئلہ دادو کی عدالت میں لے کر حاضر ہوئی.دادو نے یہ کام شیرافگن کے زمے لگا لیا کہ وہ حیات اور امل کو شاپنگ کر واۓ گا.
اگلے دن حیات نے جلدی تیار ہوکر سب کو حیران کر دیا.وہ شیرافگن کو بلانے کے لئے اسکے کمرے کی طرف بھاگی جلدی میں وہ دروازہ نوک کئے بغیر اندر دخل ہوئی.سامنے دیکھا تو اسکی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی.شیرافگن بنا شرٹ کے شیشے کے سامنے کھڑا بال بنا رہا تھا.دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ پلٹا تو حیات ہوش میں آئی
“سوری افگن بھائی وہ میں جلدی میں تھی تو..”وہ شرمندگی سے سر جھکاکر بات ادھوری چھوڑتی جلدی سے باہر نکلی”یہ لڑکی بھی ناں”شیرافگن نے بلیک شرٹ پہنی بٹن بند کئے پھر حیات کو پکارا.”آجاؤ حیات”وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر دخل ہوئی.اسنے مشکوک نظروں سے شیرافگن کو دیکھا کہ آج ڈانٹا نہیں جناب نے وہ اسے ایسے ہی دیکھ رہی تھی.جب وہ کوٹ پہن کر اسکی طرف پلٹا
“ایسے کیوں گھور رہی ہو” اسنے سخت لہجہ اپنایا.اسکا دل نرم ہو چکا تھا پر وہ یہ بات اس لڑکی پر ہرگز ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا.
“نہیں تو”اسنے نگاہیں جلدی سے پھیریں “کیسے آنا ہوا محترمہ”شیرافگن بیڈ پر بیٹھ کر شوز پہننے لگا.حیات نے اسے گھورا رات کو امل اسے شاپنگ پر جانے کابتا چکی تھی.
“آپ بھول گئے”اسنے منہ بسورا.شیرافگن نے سر اٹھا کر اسے دیکھا کالے کپڑوں میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی.بال اونچی پونی میں باندھے.شانوں کے گرد شال لپٹی تھی.
“ایسی کیا بات تھی جسے میں یاد رکھتا بتانا ذرا؟”اسنے حیات کو چڑانے کے لئے پوچھا حیات سنہری آنکھوں میں ڈھیر ساری خفگی لئے اسے گھورنے لگی.جبکہ وہ مسکراہٹ دباتا اٹھ کر پرفیوم اسپرے کرنے لگا.
“کچھ بھی نہیں”وہ غصے سے کہتی پلٹ کر چلی گئی.شیرافگن ایک دم ہنسا پھر موبائل اور کار کی چابی اٹھاتا کمرے سے نکلا .اسنے ایمان کے کمرے کا دروازہ ہلکا سا کھولا ہی تھا کہ اندر سے حیات کی آواز آئی”آپکا بھائی پورا جلاد ہے.کیسے کہہ دیا ایسی کیا بات تھی جسے میں یاد رکھتا ہونہہ”وہ کمرے میں چکر کاٹتی اسکی نقل اتار رہی تھی.ایمان بیڈ پر بیٹھی کتاب کھولے اسکی باتوں پر مسکرا رہی تھی.امل بھی شیشے کے سامنے کھڑی بال بنانے میں مصروف تھی.
“بس کر دیں آپی بھیا نے مذاق کیا ہوگا” امل نے اسے ٹوکا جبکہ شیرافگن آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر آیا سینے پر ہاتھ باندھ کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگاکرکھڑا ہوگیا اورخاموشی سے اسکی باتیں سننے لگا.حیات کی اسکی طرف پیٹھ تھی ورنہ وہ اپنی زبان کوقابومیں رکھتی
“ہاں ہاں شیر مار ہر مذاق تو میرے ساتھ ہی کرتے ہیں.میں ہی ملی ہوتی ہوں انھیں ہونہہ پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں خود کو”وہ اب امل کو گھور کر کہہ رہی تھی.
“اف اپنا غصہ کم کرو لڑکی”ایمان نے کتاب سے سر اٹھایا اسکی نظر حیات کے پیچھے کھڑے شیرافگن پر پڑی جس نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا.امل بھی اسےدیکھ چکی تھی. “بالکل نہیں… دیکھ لیں آپی میں کتنی جلدی تیار ہوگئی آپکے بھائی کو ذرا پرواہ نہیں ہے” وہ منہ بگاڑ کر بولی
“پرواہ تو ویسے بہت ہے بھائی کو”ایمان نے شرارت سے کہا وہ بھائی کےدل کی بات جان چکی تھی.”جیسے میں جانتی نہیں ناں”وہ لاپرواہی سے کہتی پلٹنے لگی.
“پیچھے پلٹنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے” امل نے ہنسی دباکر اسے خطرے سے آگاہ کیا
“تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے میرے پیچھے جن…” وہ پلٹی اور ایک دم اسکی زبان کو بریک لگی.شیرافگن اسکے چہرے پر نظریں جماۓ اسے گھور رہا تھا.اسنے سر جھکا لیا ایمان اور امل کی دبی دبی ہنسی گونج رہی تھی جبکہ حیات کی جان جا رہی تھی.
“آج تو پکا مرگئی” وہ بڑبڑائی
“ہاں بولو اور کیا کہنا ہے.میں جلاد ، شیر مار ، جن اور کیا کیا ہوں وہ بھی بتاؤ ؟”شیرافگن سینے پر ہاتھ باندھے دو قدم آگے بڑھا .
“پر میں نے جن آپکو تو نہیں کہا تھا”وہ جلدی سے سر اٹھا کر بولی
“اچھا اچھا مطلب باقی سب کہا صرف جن نہیں کہا” شیرافگن نے جیسے سوچتے ہوئے سر ہلایا.حیات نے معصومیت سے سر ہلا کر سنہری آنکھیں گھمائیں”سوری افگن بھائی” وہ پکڑی جاچکی تھی تو سوری کہنا ہی بہتر تھا. حیات اتنی معصومیت سے بولی کہ ایمان اور امل کے ساتھ وہ بھی اپنی ہنسی نہ روک سکا. پوری ڈرامہ کوئین تھی یہ لڑکی.وہ حیات کو دیکھ کر ہنسی روک کر سنجیدہ ہوا.
“آئندہ یہ جلاد ، جن والے الفاظ نہ سنوں میں”
“جن نہیں افگن بھائی شیرمار”وہ جلدی سے بولی پھر زبان دانتوں میں دبائی
“سوری” سنہری آنکھوں کو اٹھایا گیا. شرافگن کی نظریں اسکے چہرے پر جم سی گئیں.پر وہ جلدی سے سنبھل گیا.
“آجاؤجلدی میں کار میں انتظار کر رہا ہوں”وہ پلٹ کر کمرے سے نکل گیا.حیات نے لمبی سانس کھینچی.ایمان اور امل اب بھی مسکرا رہی تھی. ان دونوں کو گھور کر وہ امل کو آنے کا کہتی وہاں سے نکلی آج اسے اچھی اچھی شاپنگ کرنی تھی.
•••••••••••
عباسی ہاؤس روشنیوں سے جگمگا رہا تھا.ہر طرف خوشی اور مسکراتے چہرے تھے.بڑا سا ہال پھولوں سے سجا تھا.ہوا میں پھولوں کی خوشبوپھیلی تھی.ہلکے میوزک کی آواز ماحول کو خواب ناک بنا رہی تھی.خوبصورت سے اسٹیج پر ایمان مہندی کے لباس میں پھولوں کے زیور پہنے شہزادی لگ رہی تھی. دادو تو اسکی نظر اتارتے نہیں تھک رہیں تھیں.سب مہمان خوش گپیوں میں مصروف تھے.امل ڈارک گرین لباس پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی.خوشی کے مارے وہ ایمان کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی.
“حیات کو کہو اپر سے پھول لے آۓ لڑکے والے آنے والے ہوں گے” دادو نے الماس بیگم سےکہا
حیات کو آتے دیکھ کر الماس بیگم نے اسے پھولوں کی ٹوکری لانے بھیجا.وہ انگوری لباس میں ملبوس تھی.جس پر سفید موتیوں کا کام ہوا تھا.بال کھلے ، گلے میں دوپٹہ اور نازک سی جیولاری میں ہمیشہ سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی.آج پہلی بار وہ اتنی تیار ہوئی تھی.سنہری آنکھوں کی چمک خوشی سے مذید بڑھ چکی تھی.وہ پھولوں کی ٹوکری لے کر نیچے آئی آس پاس لڑکیوں سے مسکرا بات کرتی آگے بڑھ رہی تھی.شیرافگن کسی کام سے اندر آیا. حیات کو دیکھ کر اسکے قدم تھم گئے.وہ بلیک شلوار ، قمیض میں مضبوط شانوں کے گرد چادر لپٹے کھڑا تھا.وہ لاپرواہ پاگل لڑکی اچانک سے اسکے دل کے بہت قریب ہو گئی تھی. مجتبیٰ کے رشتے والی غلط فہمی نے اسے اس بات کا احساس دلایا تھا.پر یہ بات وہ اس لڑکی سے نہیں کہہ سکتا تھا.وہ اچانک خود کو بدل دینے کے حق میں نہیں تھا.”شیرافگن کیا ہوا”سارا بیگم نے بیٹے کا شانہ ہلایا “کچھ نہیں ماما” وہ چونکا پھر ماں سے کوئی بات کرنے لگا.جب ہی حیات مسکراتی ہوئی ہوا کے جھونکے کی طرح اسکے پاس سے گزری اسکی چڑیلیں آچکی تھیں.اسلئے وہ بغیر بریک لگاۓ باہر کی طرف بڑھی. حریم ، تابی ، مینا اسکی طرف بڑھیں.
“اللّه کتنی پیاری لگ رہی ہے ہماری حیات” حریم اس سے گلے ملتے ہوئے بولی
“قیامت تو تم تینوں بھی لگ رہی ہو” وہ مینا اور تابی سے ملی.حیات انھیں لے کر اندر بڑھی شیرافگن ہال سے باہر نکل رہا تھا.تینوں نے اسے سلام جھاڑا تو وہ سنجیدگی سے جواب دیتا آگے بڑھ گیا.”اف پرنس چارمنگ” تابی نے حیات کو دیکھ کر آنکھ دبائی
“کہو تو بات آگے بڑھاؤں”حیات نے شرارت نے کہا تو تابی نے اسے چپت لگائی.
“بدتمیز میری بات نہیں تمہاری…تمہارے حسن کی بجلی کسی کے دل پہ گری لگ رہی ہے ” تابی نے سمجھ داری سے کہا
“لگ تو رہا ہے کہ شیر ڈھیر ہوگیا ہے”میناہنسی توحیات نے اسے گھورا
“چپ کرو اور اندر چلو آپی کے پاس”پھر وہ سب اندر بڑھ گئیں.سبین گاؤں میں ہی تھی اسلئے شادی میں نہیں آسکی .لڑکے والے مہندی لے کر آۓ وہ سب پھولوں کی پلیٹیں لئے کھڑیں تھیں.جب وہ لوگ آۓ تو سب نے ان پر جیسے پھولوں کی بارش کردی پھر انہوں نے ایمان کو مہندی لگائی.دونوں طرف سے ڈانس پرفارمنس بھی دی گئیں.امل اور مریم نے مل کر ڈانس کیا.حیات اور اسکے گروپ نے لڑکے والوں کو خوب تنگ کیا پر انکی طرف سے بھی مجتبیٰ کے ایک کزن علی نے خوب مقابلہ کیا.وہ حیات میں دلچسپی لے رہا تھا. جبکہ حیات اسے اگنور کرتی رہی.دیر رات تک مہندی کا فنکشن چلتا رہا.ہر طرف گہما گہمی تھی.خوشیوں کے رنگ بکھرۓ تھے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *