Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 (Watching)Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20
شیرافگن ، مجتبیٰ اور ولید نے ساتھ ڈنر کیا. اتنے دنوں بعد تینوں آج فری ہوئے تھے.تو انہوں نے ڈنر کا پلان بنا لیا.دیر تک تینوں ایک ساتھ رہے.خوشگوار ماحول میں گپیں لگاتے رہے تھے.ولید نے احمرجمالی کا بتایاکہ اسے جیل ہو چکی ہے.شیر افگن اس بات سے بہت خوش ہوا تھا کہ اب سب ٹھیک ہو چکا ہے.
دوسری طرف ان چڑیلوں کے پیپرز ہو رہے تھے.کل انکا سیکنڈ لاسٹ پیپر تھا.حیات کمرے میں بیٹھی تیاری میں مگن تھی.ساتھ فون پر سب چڑیلوں سے باتیں بھی چل رہیں تھیں کہ کتنا پڑھا جا چکا ہے.اسی طرح انکی باتیں اور تیاری دیر رات تک چلتی رہی.
صبح حیات جلدی ہی تیار ہو چکی تھی.وہ ناشتے کے لئے نیچے آئی.تبھی اسکے موبائل پر ایمان کی کال آئی.جب سے پپیرز سٹارٹ ہوئے تھے.ایمان اسے صبح کال کر کے گڈ لک ضرور کہتی تھی.اسنے ایمان سے بات کی پھر ناشتہ کرکے یونی کے لئے نکلی.جب وہ یونی پہنچی تو سب بکس پکڑے بیٹھیں تھیں۔کچھ دیر میں انکا پیپر سٹارٹ ہوا۔ پیپر دے کر نکلیں تو سب خوش تھیں۔ انکا پیپر بہت اچھا ہواتھا۔
“اہ شکر اب بس ایک مصیبت اور پھر آرام فرمائیں گے”مینا نے ہاتھ دعا کی صورت اٹھا کر منہ پر پھیرے۔
“بالکل یار…پیپرز میں ٹینشن بڑی ہوتی ہے۔ شکر ہم فری ہونگے۔”حیات نے بک بیگ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
“یارتم لوگوں کو احمرجمالی کا پتہ چلا۔”تابی نے سب کو دیکھ کر کہا۔”کیوں کیا ہوا۔”حریم نے جلدی سے پوچھا۔ اسے ڈر تھا.کہیں وہ واپس یونی تو نہیں آرہا۔
“جیل ہو گئی ہے اسے۔”تابی نے بتایا۔ حیات نے ناگواری سے سر جھٹکا۔”بہت اچھا ہو گیا۔” حیات نے چبا کر کہا
“بالکل اب کوئی ڈر نہیں۔ ورنہ میرے دل میں ڈر تھا۔ کہیں وہ اس دن کا بدلہ لینے نہ پہنچ جائے۔”حریم نے ریلیکس ہو کر کہا۔ حیات نے بھی خود کو ہلکا پھلکا محسوس کیا۔اس نے بھی کسی کو بتایا نہ تھا۔ پر ڈر اسے بھی تھا کہ احمر جمالی کوئی قدم ضرور اٹھائے گا۔ پر شکر ایسا کچھ نہیں ہوا۔”شکر یار احمر جمالی کا کام تمام یوا۔اب کوئی ڈر نہیں۔”سبین نے چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔”اور یہ سب ہمارے جیجو نے کیا ہے۔ واہ بھائی واہ۔”مینا جو کب سے خاموش بیٹھی تھی۔ پرجوش ہو کر بولی۔”افف ہاں ناں افگن بھائی نے کمال کر دیا۔”تابی نے ہنس کر کہا۔وہ چاروں اب شیرافگن کے گن گانے میں لگیں تھیں۔ حیات خاموش بیٹھی تھی۔ مینا نے اسے ٹہکا دیا۔ “تمہیں کچھ نہیں کہنا؟”مینا نے اسے دیکھ کر کہا۔”ہاں تم سب ٹھیک کہہ رہی ہو سب انہوں نے ہی کیا ہے اور بہت اچھا کیا۔”حیات نے سر ہلا کر کہا۔ان سب نےایک دوسرے کو اشارے کئے۔”اہممم۔۔۔۔انہوں”تابی نے کھانس کر شرارت سے کہا۔سب ہنسنے لگیں۔
“ہاں تو پھر اور کیا کہوں۔”حیات نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا۔”وہی جو اس دن میں نے کہا تھا۔”تابی نے آنکھ دبا کر کہا۔”تم ہو ہی کمینی۔۔”حیات نے اسے دیکھ کر جیسے الفاظ چبائے تھے۔”مت تنگ کرو میری پیاری دوست کو”حریم نے حیات کا سر اپنے کندھے سے لگایا۔
“دیکھو حریم یہ چڑیلیں مجھے تنگ کرتیں ہیں۔”حیات نے منہ بسور کر انکی شکایت لگائی۔تابی اور مینا ہنس کر اسے اور چڑا رہیں تھیں۔”اچھا رہنے دو انھیں۔۔۔تم شیرافگن کہہ لیا کرو ناں۔”سبین نے اسے دیکھ کر کہا
“توبہ کتنا عجیب لگے گا انکا نام لینا۔”حیات نے منہ بنایا۔
“شیر مار اور جلاد تو تم انکے منہ پر کہنے سے رہی۔ یہی کہنا پڑے گا۔”مینا نے ہنس کر کہا۔
“اور ڈارلنگ ، سویٹ ہارٹ بھی کہنے سے رہی۔”تابی نے آنکھ دبا کر کہا۔حیات نے اسے گھورا۔”افگن کہہ لو یار اس میں اتنا کیا سوچنا۔”حریم نے اسکی لٹ ہلکے سے کھینچ کر کہا۔”ہاں یہی ٹھیک ہے۔”حیات نے سر ہلایا۔
“بس ساتھ بھائی نہ لگانا۔”حریم نے مسکرا کر کہا تو ان سب کے ساتھ حیات بھی ہنسنے لگی۔اسے شیرافگن کا نام لینا عجیب لگ رہاتھا۔اتنے سالوں سے وہ اسے بھائی بولتی آرہی تھی اور اب یوں اچانک انکا رشتہ بدلہ تھا کہ وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی۔ پر اب اگر اسے بلانا ہوتا تو ظاہر سی بات ہے۔ نام لے کر ہی پکارنا ہو گا۔
••••••••••
آج انکا لاسٹ پیپر بھی ہوچکا تھا۔ سب بہت خوش گراؤڈ کی طرف آئیں تھیں۔کافی دیر وہ سب باتیں کرتی رہیں۔پھر چھٹی ہوئی تو سب ایک ساتھ یونی سے باہر نکل کر پارلنگ ایریا کی طرف آئیں۔سب حیات سے مل کر اپنی گاڑیوں میں بیٹھ گئیں۔حیات کب سے وہاں کھڑی تھی پر کریم بابا ابھی تک اسے لینے نہیں پہنچے تھے۔یونی آہستہ آہستہ خالی ہو رہی تھی.حیات پریشان ہونے لگی۔اسنے جلدی سے بیگ سے موبائل نکالا تاکہ گھر میں کال کر کے بتا سکے پر اسکا موبائل آوف پڑا تھا۔”اوہ نو۔۔۔ اسے بھی آج ہی بند ہونا تھا۔اب کیا کروں۔بابا کیوں نہیں آئے ابھی تک۔”وہ پریشانی سے بڑبڑائی۔ لاسٹ پیپر کے چکر میں وہ پڑھائی کرتےہوئے ہی سو گئی تھی۔ موبائل کو چارچ پر لگا ہی نہ سکی۔خود کو کوستی ہوئی وہ پارکنگ سے ہٹ کر باہر کی طرف آئی تاکہ روڈ پر دیکھ سکے کہ کار آئی یا نہیں۔ پر دور دور تک اسکی کار کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔”ہائے اللّہ اب میں کیا کرو۔”وہ بے حد پریشان تھی۔وہ کبھی ایسی سٹویشن میں نہیں پھنسی تھی اور اب اچانک ایسا ہو گیاتھا۔وہ روڈ کے ایک طرف کھڑی گاڑیوں پر نظر دوڑا رہی تھی۔جب دائیں طرف سے آتی ایک گاڑی اچانک اسکے سامنے رکی۔وہ ایک دم سے ڈر سی گئی۔پتہ نہیں کون تھا۔وہ آج سے پہلے یوں اکیلی نہیں ہوئی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اب کیا کرے۔وہ سوچوں میں گم تھی۔ جب گاڑی کا دروازہ کھول کر کوئی باہر نکلا۔ سامنے والے کو دیکھ کر حیات ایک دم بت سی بن گئی۔وہ بھاگ جانا چاہتی تھی پراسکی ٹانگوں میں جان نہ رہی۔وہ حیات کی طرف بڑھ رہا تھا اور حیات آنکھیں پھارے ڈر سے اسے دیکھ رہی تھی۔
شیرافگن آفس میں تھا۔جب الماس بیگم نے اسے کال کی.”جی چھوٹی امی”افگن نے کال پک کر کے کہا۔
“بیٹا وہ کریم بابا کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔انھیں ہسپتال لے گئے ہیں۔ آپ حیات کو یونیورسٹی سے لے آئیں۔اسکا فون بند جارہا ہے۔ مجھے اسکی فکر ہورہی ہے۔”الماس بیگم نے پریشانی سے اسے بتایا۔شیرافگن جلدی سےاٹھ کھڑا ہوا۔”آپ پریشان نہ ہو چھوٹی امی میں ابھی جاتا ہوں۔”اسنےالماس بیگم کو تسلی دی۔پھر کار کی چابی اٹھا کر روم سے باہر نکلا۔ شیرآفگن آفس سے نکل کر جلدی سے کار میں بیٹھا اور زن سے کار آگے بڑھا دی۔ اسے حیات کی فکر ہو رہی تھی۔ وہ لڑکی کبھی اکیلی گھر سے باہر نہیں گئی تھی۔اپر سے محترمہ کا فون بھی بند تھا۔ اسنے حیات کا نمبر ڈائل کیا۔پر نمبر ہنوز بند آر ہا تھا۔”یہ لڑکی بھی ناں”اسے غصہ آنے لگا۔اسنے غصے سے موبائل ساتھ والی سیٹ پر پھینکا۔ تب ہی اسکا موبائل بجا۔اسنے جلدی سے موبائل ہاتھ میں لے کر
کال پک کی۔”ہیلو۔۔”اسکے ہیلو کے جواب میں ولی جلدی سے بولا۔”شیرافگن ایک بری خبر ہے یار۔”ولید کی افسردہ آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی۔
“کیا ہوا ولی۔ ۔ ۔جلدی بتاؤ”شیرافگن نے بے تابی سے کہا۔ ناجانے کیوں پر اسکا دل گھبرا رہا تھا۔
“احمر جمالی کو کل رات ہی اسکے باپ نے جیل سے نکلوا لیاتھا۔بڑے آفیسرز اسکے ساتھ ملے تھے۔ خفیہ طور پر سب ہوا ہے۔ مجھے بھی ابھی ہی خبر ملی ہے۔ائم سوری یار میں کچھ نہ کر سکا۔”ولید غم و غصے کی ملی جلی کیفیت میں اسے بتا رہا تھا۔ اسکی بات سن کر شیرافگن کا دل زور سے دھڑکا تھا۔ اسے حیات کی فکر کھائے جا رہی تھی۔”اوکے ولی۔”اسنے اتنا کہہ کر کال کاٹ دی۔ پھر گاڑی فل اسپیڈ پر ڈال دی۔ گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی تھی۔ وہ بہت کچھ سوچ رہا تھا۔ وہ سوچنا نہیں چاہ رہا تھا۔ پر بہت سی سوچیں اسے گھیرے ہوئیں تھیں۔ اسکا دل ڈوب رہا تھا۔جب اسکی گاڑی یونی روڈ پر پہنچی۔ تو وہاں ٹریفک جیم تھا۔
“شیٹ۔۔۔”شیرافگن نے جھنجھلا کر اسٹیرنگ ویل پر زور سے ہاتھ مارا۔ٹریفک آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔ شیرافگن بے چینی سے ارد گرد نظریں دوڑا رہا تھا۔جب اسنے سامنے دیکھا تو کافی فاصلے پر اسکی پرنسیس کھڑی تھی۔اسے دیکھ کر شیرافگن کی اٹکی سانسیں بحال ہوئیں۔پر جب اسنے غور سے دیکھا تو اسکے ساتھ کوئی کھڑا تھا۔دور سے ایسے ہی لگ رہا تھا۔ دونوں میں کوئی بات چل رہی ہے۔ شیرافگن نے جب لڑکےپر غور کیا تو اسکی سانیں رکیں۔وہ احمر جمالی تھا۔ جو حیات کی طرف بڑھ رہا تھا۔”او۔۔۔۔نو۔۔۔”شیرافگن ہوش میں آیا۔وہ ٹریفک کی وجہ سے کار آگے نہ بڑھا سکا۔ تو جلدی سے کار سے باہر نکلا۔وہ حیات سے کافی فاصلے پر تھا۔ پر وہ اسکا ڈر اپنے اندر محسوس کر رہا تھا۔احمرجمالی کے ہاتھ میں کچھ تھا۔وہ حیات کے قریب جا رہاتھا۔شیرافگن کی جان نکلی جارہی تھی۔اس نے جلدی سے انکی طرف دوڑ لگائی۔اسے ڈر تھا کہ اگر وہ ایک پل بھی لیٹ ہوا تو حیات کو ہمیشہ کے لئے کھو دے گا اور ایسا وہ کسی قیمت پر نہیں ہونے دے گا۔ کبھی نہیں!!
جاری ہے
