Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27

میرے رگ و پے میں سما گیا وہ شخص
میری زندگی میں چھا گیا وہ شخص
میرے دل سے دل ملا گیا وہ شخص
مجھے خوش نصیب بنا گیا وہ شخص
مجھے دے گیا اپنی ہر خوشی
میری آنکھوں سے نیند چرا گیا وہ شخص
جانےکیا بات تھی اس میں ایسی
مجھے محبت کرنا سکھا گیا وہ شخص
ہوسپٹل کے روم میں حیات کب سے خاموش بیٹھی دیوار کو گھور رہی تھی.ایمان موبائل کان سے لگاۓ گھر پر بات کررہی تھی.کل دادو لوگوں نے واپس آنا تھا.اس خبر نے بھی حیات کو خوش نہیں کیا تھا.اسکا دل صرف ایک شخص کے بارے میں سننا چاہتا تھا.اسے دیکھنا چاہ رہا تھا.پر وہ سامنے ہی نہیں آرہا تھا.حیات کی آنکھیں اسکے دید کو ترس رہی تھیں.یہ محبت بھی کتنی ظالم ہوتی ہے.ایک ہنستی ، کھیلتی لڑکی کو محبت نے کیا سے کیا بنا دیا تھا.حیات کب سے سوچ رہی تھی.اسکی سوچوں میں وہی ایک شخص تھا.
روم کا دروزہ کھول کر امل اور ہانیہ اندر آئیں.دونوں نے سلام کیا.پھر ایمان اور امل ڈاکٹر سے اجازت لینے گئیں.آج حیات کو گھر جانا تھا.حیات خاموشی سے ہانیہ کو دیکھ رہی تھی.ہانیہ لبوں پر مسکان سجا کر اسکے قریب بیٹھی.حیات نے اچانک اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا.”آپ مجھ سے دوستی کرینگی؟” اسنے نرمی سے پوچھ کر ہانیہ کو دیکھا.
“ارے کیوں نہیں…میں تو تمہاری دوست ہی ہوں اور بہن بھی”ہانیہ نے محبت سے اسکا نازک ہاتھ تھاما.حیات نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا پھر آگے ہو کر اسے گلےسے لگا لیا.”آپ بالکل ویسے ہی میری بیسٹ فرینڈ بنے گیں ناں جیسے آپ شیرافگن کی ہیں؟”اسنے نم آواز میں پوچھا.اسنے اب جانا تھا کہ ہانیہ بہت اچھی ہے.شیر افگن نے کہا تھا کا ہانیہ اسکی سچی دوست ہے.اب سے ہانیہ اسکی بھی پیاری دوست ہوگی کیونکہ جب ہم کسی شخص سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اسکے پیاروں سے بھی محبت کرنی چاہیے.تبھی ہم سچی محبت کا حق ادا کر سکتے ہیں.اسکی بات پر ہانیہ کو حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی.ہانیہ کو حیات بہت اچھی لگتی تھی. شیرافگن کے حوالے سے تو وہ ہانیہ کو شیر افگن کی طرح ہی اپنے دل کے قریب لگتی تھی.پر حیات خود ہی اس سے دور رہتی تو ہانیہ نے اسے زیادہ تنگ نہ کیا.”بالکل گڑیا…بلکہ شیرافگن سے بھی بڑھ کر”ہانیہ نے نرمی سے کہا.وہ بالکل ایمان کی طرح اسے ٹریٹ کرتی تھی.حیات کی آنکھیں چمک اٹھیں.”آپ بہت اچھی ہیں ہانی”حیات اس سے الگ ہو کر بولی.
“سچی؟” ہانیہ نے شرارت سے ہنس کر پوچھا
“مچی!!!”حیات بھی اتنے وقت میں پہلی بار کھل کر ہنسی.وہ سمجھ گئی تھی کہ ہر رشتے کی الگ جگہ ، الگ مقام ہوتا ہے.وہ پاگل تھی جو الٹا سوچتی رہی ورنہ ایسی کوئی بات نہ تھی.کاش وہ بولنے سے پہلے سوچ لیتی تو آج پچھتا نہ رہی ہوتی.تبھی کہتے ہیں بولنے سے پہلے ایک بار تو ضرور سوچناچاہیے.ورنہ زبان سے نکلے الفاظ واپس نہیں لئے جا سکتے.وہ بھی غلطی کر بیٹھی تھی.اب اسے اس غلطی کی معافی مانگنی تھی.
ایمان اور امل واپس آئیں پھر بیگ میں چیزیں وغیرہ ڈالیں.انہیں گھر جانا تھا.حیات کو خوشی ہوئی کہ شیرافگن کے ساتھ جائیں گے.تو وہ اسے دیکھ لے گی.ایمان نے اسے غور سے دیکھا جیسے اسکے دل کی بات پڑھ لی ہو.
“چلو حیات کریم بابا انتظار کر رہے ہونگے.” ایمان نے جان بوجھ کر کہا.حیات کے چہرے کی چمک مانند پڑی.ایمان نے اسے دیکھا وہ حیات سے پوچھ لینا چاہتی تھی کہ اسکے اور بھائی کے بیچ کیا ہوا ہے.پر وہ گھر جانے کا انتظار کر رہی تھی تا کہ آرام سے پوچھ سکے.وہ سب وہاں سے نکل کر کار میں بیٹھیں پھر کار گھر کی جناب بڑھنے لگی.
وہ لوگ گھر پہنچے تو الماس بیگم نےجلدی سے بیٹی کی طرف بڑھ کے اسے سینے سے لگایا. احمد صاحب بھی بیٹی کو دیکھ کر خوشی سے اسکی طرف آ ۓ.”کیسا ہے میرا بیٹا؟” انہوں نے حیات کے کندھے پر بازو پھیلایا پھر صوفے پر اپنے ساتھ بٹھایا.”میں ٹھیک ہوں بابا” اسنے پیار سے باپ کو دیکھا.سب وہیں بیٹھ گئے.حیات چپکے سے ارد گرد دیکھ لیتی.شیرافگن پتہ نہیں کہاں تھا. حیات کے چہرے پر تھکن دیکھ کر ایمان اسے لے کر اسکے کمرے کی طرف آئی.اپنے کمرے کے اندر جانے سے پہلے اسنے ایک نظر شیرافگن کے کمرے کے بند دروازے پر ڈالی پھر بے بس نظروں سے ایمان کو دیکھا.
“بھائی کچھ دیر پہلے ہی گھر آۓ ہیں.ابھی سو رہے ہیں.انکی طبیعت نہ ساز ہے.” ایمان نے اسے بتایا پھر حیات کے کمرے کا دروازہ کھول کر اسے لے کر اندر داخل ہوئی.دونوں بیڈ پر بیٹھیں.”گڑیا مجھے بتاؤ تمہارا اور بھائی کا جھگڑا ہوا ہے؟ کیا بات ہوئی ہے؟ ضرور کوئی بڑی بات ہے ورنہ تم اور بھائی اس حالت میں نہ ہوتے.”ایمان نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا.حیات کے ہاتھ ٹھنڈے ہونے لگی.سنہری آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا.اسنے روکر ایمان کے ہاتھوں پر سر ٹکا کر سب بتا دیا.ایمان کو جھٹکا سا لگا.”آپی میں ایسی نہیں تھی.م…مجھے نہیں پتہ میں نے ایسا کیوں کیا.میں پاگل ہوگئی تھی.میں ہانیہ کو شیرافگن کے قریب برداشت نہ کر سکی.”اسنے ہچکی بھر کر کہا. ایمان نے پریشانی سے اسکے جھکے سر کو دیکھا.اسنے حیات کا سر اپر کر کے اسکے آنسو صاف کئے.”اچھا چپ کر جاؤ …”ایمان نے اسکا گال تھپکا.حیات نے آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھا.”آپ مجھے ڈانٹیں گی نہیں؟”حیات نے نم آواز میں معصومیت سے پوچھا.
“ڈانٹنے سے کیا حاصل ہوگا گڑیا…غلطی کر چکی ہو تم.اس پر پچھتا بھی رہی ہو.اب اس غلطی کو سدھارنے کے لئے کچھ کرتے ہیں.” ایمان نے نرمی سے کہا.اسے حیات کا پاگل بن برا لگا تھا.پر وہ ابھی اسے ڈانٹ کر اسے کچھ کہہ کر اسکی طبیعت خراب نہیں کرنا چاہتی تھی.وہ پچھتا رہی تھی.اپنی غلطی مان گئی تھی تو اتنا ہی بہت تھا.ایمان جانتی تھی کہ سامنے بیٹھی اس کے بھائی کی جھلی نے محبت میں سب کیا ہے.وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اسکے بھائی کو بڑا دکھ پہنچا ہے.وہ ٹوٹ سا گیا ہے.بس اب اسے حیات کے ساتھ مل کے سب کچھ ٹھیک کرنا تھا تاکہ اسکی گڑیا اور اسکا پیارا بھائی پھر سے کھٹے میٹھے انداز میں ایک دوسرے کے سامنے آئیں.”اب میں کیا کروں آپی؟”حیات نے مایوسی سے پوچھا. ایمان سوچوں سے چونکی.”بھائی سے فیس ٹو فیس بات…وہ بھی اپنے معصوم انداز میں… معافی تلافی کرو مادام…تھوڑے پیار سے ، لاڈ سے… بھائی تم سے محبت کرتے ہیں وہ مان جائیں گے پر تھوڑی کوشش تمہیں بھی کرنی ہوگی. سمجھ گئی؟”ایمان نے پیار سے اسے سمجھایا.حیات نے سر اثبات میں ہلایا. “اہم..ویسے شیر مار سے اتنی شدت والی محبت کب ہوئی میری جان کو؟”ایمان نے شرارت سے اسکی لٹ کھینچ کر پوچھا.
“افف آپی اب ایسے نہ بولیں.”حیات مسکرا کر سرخ چہرے جھکا گئی.ایمان ایک دم ہنسی. “اب تو ایسے ہی بولیں گے.ویسے تم بہت بدل گئی ہو.اب میں تمہاری روتی ہوئی صورت نہ دیکھوں.مجھے میری پہلے والی حیات واپس چاہیے.”ایمان نے اسکے بال بگاڑ کر کہا حیات اداسی سے ہنسی.
” آپی انسان کی زندگی کبھی ایک ہی موڑ پر نہیں رکی رہتی ناں…کبھی ہنسی اسکا نصیب ہوتی ہے تو کبھی آنسو اسکی قسمت میں لکھے ہوتے ہیں.” حیات نے مدھم لہجے میں کہا.وہ خود بھی تو کیا سے کیا بن گئی تھی.
“یہی بات ہے گڑیا پر دکھ کا موسم بھی ٹہرا نہیں رہتا.گزر جاتا ہے تم بھی یہ موسم گزار چکی ہو.اب مجھے میری پٹاخہ حیات چاہیے.”
ایمان نے مسکرا کر اسکا گال تھپکا.حیات کھل کر ہنسی.”اچھا جی …بس آپکے شیر مار بھائی مان جائیں پھر آپکو وہی حیات ملے گی.” حیات نے ہنسی دبا کر کہا.ایک دم دھڑام سے دروازہ کھلا جیسے آندھی طوفان آگیا ہو. حیات اور ایمان دونوں اچھل پڑیں.
“ہم آگئے!!!”سب چڑیلوں نے ایک ساتھ کہا. حریم ، تابی ، مینا اور سبین چاروں ایک ساتھ چلتی ہوئیں بیڈ کی طرف آئیں.حیات خوشی سے اٹھ کھڑی ہوئی.”تم سب یہاں چڑیلو!!” حیات ہنس کر انکے گلے لگی.ایمان بھی مسکرا کر سب سے ملی.”چلو اب سنبھالو اپنی دوست کو میں تم سب کے لئے کچھ لے کر آتی ہوں.” ایمان سب سے کہہ کر کمرے سے نکل گئی. حیات سب کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی.”کتنی ویک ہوگئی ہو” حریم نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا.”طبیعت کو کیا ہوا تھا؟ ہم سب کتنی پریشان ہوگئیں تھیں یار”مینا نے اداسی سے کہا.”بس ویسے ہی”حیات نے مدھم لہجے میں کہا.سب نے ایک دوسرے کو اشارہ کیا.”یہ سب اسکے شیرمار کا کار نامہ لگتا ہے.روکو ابھی جا کر دو دو ہاتھ کرتی ہوں ان سے.”تابی آستینیں اپر کرتی بیڈ سے اٹھنے لگی.”ارے بیٹھو نیچے غنڈی کہیں کی”سبین نے اسے کھینچ کر بٹھایا.”رشتے کی بات پکی ہونے کےبعد اسکی زبان زیادہ ہی چلنے لگی ہے.”تابی نے سبین کو گھور کر کہا.
“اچھا چڑیلو لڑائی نہ کرو …ہماری حیات بیمار ہے اسکا خیال رکھو.” مینا نے ان کی طرف آنکھیں نکالیں.”حیات ایسی کیا بات ہے جسنے تمہاری یہ حالت کر دی.”تابی نے سنجیدگی سے پوچھا.حیات نے سبکو دیکھا.”میں کیسے بتاؤں کہ میں نے کیا بیوقوفی کی ہے یار.”حیات نے نم آواز میں کہا.سب پریشان ہوگئی.حیات نے انھیں سب بتا دیا تھا.اسے اپنوں کی ضرورت تھی.وہ اپنی اماں کو بتانے سے رہی تھی کہ اسنے کیا نادانی کی ہے.وہ سب اسکی اپنی تھیں.اسکی بات سن کے سب نے اسے سمجھایا پھر شیرافگن کو منانے کی ترکیبیں بتانے لگیں.مینا اور تابی سامنے کھڑی ایکٹ کر کے دیکھا رہی تھیں.تابی حیات بنی تھی سر پر دوپٹہ لے کر اسکا گھونگھٹ نکالا ہوا تھا اور مینا شیرافگن کے رول میں تھی.
“پتی دیو مجھے معاف کر دیں.آپکی داسی آپکے قدموں میں اپنا سرجھکاتی ہے.” تابی نے مینا کے پاؤں چھو کر کہا.”دفع بدتمیز انڈین ڈرامہ بنا رہی ہو.پتی دیو چھوڑو اور مجازی خدا کہہ کر پکارو.”حریم نے منہ بگاڑ کر کہا.”اچھا اچھا مجازی خدا معاف کردیں.”تابی اٹھ کھڑی ہوئی پھر مینا کا ہاتھ تھام کر کہا.
“نہیں کرونگا معاف.”مینا نے ہاتھ جھٹک کر شیرافگن اسٹائل میں کہا.بیڈ پر بیٹھی وہ تینوں کھلکھلا کر ہنسیں.”پلیز شیر مار غلطی ہوگئی مجھ سے معاف کر دیں.”تابی نے گھونگھٹ اٹھا کر آنکھیں معصومیت سے گھمائیں.اسکی بات پر حیات کی آنکھیں نم ہوئیں.حریم اور سبین نے اسے اپنے ساتھ لگایا.
“اتنی پیاری منکوحہ اور اپر سے یہ انداز…ہم تو دل ہار گئے.جاؤ معاف کیا.” مینا نے تابی کا ہاتھ تھاما.تابی شرم سے دوہری ہونے لگی.”شکریہ سویٹ ہارٹ”تابی نے آنکھ مار کر کہا پھر مینا کے گلے لگ گئی.
“افف اوور ایکٹنگ کی دکانوں…پیچھے ہٹو” حیات ہنس کر انکی طرف بڑھی ان دونوں نے اسے بھی پکڑ لیا.سب کھلکھلا کر ہنسیں.کچھ دیر میں ایمان اس سب کے لئے کھانے کی چیزیں لے آئی.سب کے ساتھ حیات نے بھی تھوڑا کچھ کھایا پھر میڈیسن لیں.سب اسکے پاس بیٹھیں اس سے باتیں کر رہی تھی.اسکا سر دکھا تو تابی اسکا سر دبانے لگی.سبکا کہنا تھا کہ تابی نے ہی اسکا سر کھایا ہے.اب وہی دباۓ گی.حیات نے مسکرا کر سبکو دیکھا.اسکی پیاری چڑیلیں ہمیشہ اسکے ساتھ رہتی تھیں.وہ اللّه پاک کی شکر گزار تھی کہ اللّه نے اسے اتنی پیاری دوستوں سے نوازا تھا.
•••••••••••
اگلے دن دادو ، تائی امی اور بڑے ابو عمرہ کر کے واپس آنے والے تھے.شیرافگن ، امل اور ہانیہ انھیں لینے گئے تھے.حیات بھی جانا چاہ رہی تھی پر اسے نہ جانے دیا کہ اسکی طبیعت خراب نہ ہوجاۓ.ایمان اور الماس بیگم ڈنر کی تیاری کر رہی تھیں.حیات بھی انکے ساتھ کچن میں بیٹھی تھی.آج تیسرا دن تھا اور اسنے اپنے شیر مار کو نہیں دیکھا تھا.اب اسے سب کے آنے کا انتظار تھا.تبھی وہ اس شخص کو بھی دیکھ سکے گی.وہ سوچوں میں گم تھی جب کار کا ہارن بجا.وہ ایک دم اچھلی. “اماں لگتا ہے سب آگئے.”وہ اٹھ کر باہر کی طرف بھاگنے لگی.”حیات پھولوں کے ہار تو لے لو.”ایمان نے جلدی سے کہا.پھر خود بھی حیات کے ساتھ ہار لے کر انکے ویلکم کے لئے ہال سے باہر نکلیں. سب لوگ کار سے نکل چکے تھے.انہوں نے مبارک دے کر انکے گلے میں ہارڈالے.دادو نے حیات کو اپنے ساتھ لگایا.انھیں ابھی آتے ہوئے امل نے بتایا کہ حیات کتنی سخت بیمار ہوئی تھی.”کیسی ہے میری بیٹی؟”دادو نے محبت سے پوچھا.
“ٹھیک دادو” اسنے جواب دیا.پھر بڑے ابو اور تائی امی نے اسکا حال پوچھا.وہ کیا بتاتی کہ انکے بیٹے کی محبت میں اسکا حال بے حال ہو چکا تھا.سب لوگ اندر کی طرف بڑھے.حیات دادو کے ساتھ چپکی بیٹھی تھی.جب وہ ہاتھ میں بیگ لئے ہال میں داخل ہوا.سفید شلوار قمیض میں ، بال اچھے سے سیٹ تھے.شیو پہلے سے تھوڑی بڑھی ہوئی تھی.حیات اسے دیکھے گئی.اسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اسنے شیرافگن کو پتہ نہیں کتنے عرصے کے بعد دیکھا تھا.شیرافگن بیگ ایک طرف رکھ کر باپ کے ساتھ بیٹھ کر ان سے باتوں میں لگ گیا. انسے ایک نظراٹھا کر بھی حیات کو نہ دیکھا تھا.حیات کا دل دکھنے لگا.سنہری آنکھیں مایوس سے بھرگئیں. وہ اپنے ہاتھوں کو گھورنے لگی.
جو پکارتا تھا ہر گھڑی،جو جڑا تھا مجھ سے لڑی لڑی
کوئی ایسا شخص اگر کبھی، مجھے بھول جائے تو کیا کروں.
“کیا ہوا بیٹا؟” تائی امی نے اسے یوں سوچوں میں گم دیکھ کر پوچھا.حیات چونکی.
“بس سر درد ہے تائی امی”اسنے پیشانی مسل کر کہا.”اچھا جاؤ آرام کرو.”تائی امی نے محبت سے اسے دیکھ کر کہا.حیات سر ہلا کر جانے لگی.وہ سیڑھیوں سے کچھ فاصلے پر تھی.جب اسے پکارا گیا. “حیات!!” ہانیہ اسے پکار کر جلدی سے اٹھ کر اسکی طرف آئی. “طبیعت زیادہ خراب تو نہیں ہے ناں؟”ہانیہ نے فکر مندی سے پوچھا.” ہانی میں ٹھیک ہوں.بس تھوڑا آرام کرنا چاہتی ہوں”حیات نے مسکرا کر کہا.”اوکے گڑیا”ہانیہ نے محبت سے اسکا گال تھپکا.حیات مسکرا کر سیڑھیاں طے کرنے لگی.شیرافگن نے اسے اور ہانیہ کو حیرت سے دیکھا وہ سوچ رہا تھا بھلا یہ دوستی کب ہوئی؟ پھر سر جھٹک حیات کو دیکھنے لگا. اسکی نظروں نے سیڑھیوں سے اپر جاتی حیات کادور تک پیچھا کیا.جب وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی تو اسنے لمبی سانس کھینچی. تبھی اسکی نظر ہانیہ پر پڑی.ہانیہ نے اسے دیکھ کر اپر کی طرف اشارہ کیا.شیرافگن مسکرا کر سر جھکا گیا.کچھ دیر میں مجتبیٰ بھی آچکا تھا.وہ سب سے ملا پھر سب نے مل کر ڈنر کیا.ڈنر کے بعد بڑے سب اپنے کمروں میں چلے گئے.شیرافگن ، مجتبیٰ ، ایمان ، ہانیہ اور امل سب کی ہال میں کافی دیر تک محفل جمی رہی تھی.حیات پہلے ہی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی.ہانیہ اور امل بھی کچھ دیر میں کمرے میں چلی گئیں.مجتبیٰ نے ایمان کو چلنے کا کہا.وہ جلدی سے حیات سے ملنے آئی.حیات بیڈ پر بیٹھی تھی.بال بکھرے سے تھے.وہ اس کے قریب آئی.”حیات میں جارہی ہوں.تم ابھی ہی بھائی سے بات کروگی.اوکے” ایمان نے اسکے بال پیچھے کر کے کہا.”آپی وہ تو مجھے مار ہی ڈالیں گے.اگر میں نے دوبارہ وہ ٹوپک چھڑا تو”حیات نے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا.”اب ایسا بھی نہیں اور کچھ ناراضگی تو برداشت کرنی ہوگی ناں گڑیا.”ایمان نے نرمی سے کہا.”اوکے آپی”حیات نے اسے گلے لگایا.ایمان اس سے مل کر چلی گئی.حیات جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر چکر لگانے لگی.اسے ڈر لگ رہا تھا.وہ بھلا شیرافگن سے کیسے بات کریگی ….اگر اسے غصہ آگیا تو؟…افف وہ کیا کرے گی؟”حیات چکر لگا لگا کر تھک چکی تھی. کچھ دیر بیڈ پر بیٹھی پھر لمبی سانس کھینچ کر اسنے منہ پر ہاتھ پھیرا.وال کلاک پر نظر ڈالی تو رات کے گیارہ بج رہے تھے.وہ بیڈ سے اٹھی کانپتے وجود اور دھڑکتے دل کے ساتھ کمرے سے نکل کر وہ شیرافگن کے کمرے کے سامنے کھڑی ہوئی. کانپتا ہاتھ اٹھا کراسنے دروازے پر نوک کی.اندر سے کوئی جواب نہ آیا.اسنے پھر نوک کی.”آجائیں!!”شیرافگن کی بھاری آواز گونجی
حیات نے مٹھی بھینچ کر آہستہ سے دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی.شیرافگن بیڈ پر بیٹھا فائل چیک کر رہا تھا.دھک دھک اسے دیکھ کر حیات کا دل پاگل ہوا.ہر طرف جیسے اسے اپنے دل کی آواز سنائی دے رہی تھی.
“آپ سے بات کرنی ہے.”حیات نے مدھم لہجے میں کہا.”بولو!!”شیرافگن نے بنا فائل سے سر اٹھاۓ کہا.” آپ پلیز مجھے معاف کردیں.” حیات نے دو قدم بیڈ کے قریب ہو کر کہا.
“کیوں …تم نے کیا کیا ہے؟”شیرافگن نے فائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا.حیات کا دل چاہا وہ رونے لگ جائے.”آ..آپ کو پتہ تو ہے.” اسنے اٹک کر کہا.”مجھے کچھ نہیں پتہ”شیر افگن نے اب اپنا موبائل سائیڈ سے اٹھایا.وہ خود کو مصروف ظاہر کرنا چاہ رہا تھا.
“اس دن جو ہوا…میں نے جو کہا…آپکے کردار پر انگلی اٹھائی.”حیات نے نم آواز میں کہا. شیرافگن موبائل رکھ کر اٹھ کھڑا ہوا.ایک سرد نگاہ حیات پر ڈال کر اسکے قریب آیا.”کیا اتنا آسان ہے معاف کرنا؟” اسنے تیکھے لہجے اپنا کر سوالیہ انداز میں پوچھا.حیات سر جھکا گئی.وہ کیا جواب دیتی بھلا.شیرافگن نے اسے دیکھا.سفید لباس ، شانوں پر بکھرے بال ، سنہری آنکھیں جھکی ہوئی تھیں.اسکی معصوم صورت کو دیکھ کر شیرافگن کا دل پگھلا وہ ایک دم پلٹ کر جانے لگا جب حیات نےکانپتے ہاتھوں سے اسکا بازو تھاما.”آئیم سوری شیرافگن…مجھے نہیں پتہ میں نے وہ سب کیوں کیا.پر پلیز مجھے معاف کردیں” اسنے روتے ہوئے شیرافگن کے چہرے پر نظریں جما کر کہا.سنہری آنکھیں آنسوؤں سے چمک رہی تھیں.شیرافگن کا دل دھڑکا اسنے حیات کے ہاتھ جھٹکے.”چلی جاؤ یہاں سے حیات…ورنہ”اسنے دانت پیس کر دل کو مظبوط کیا.”آپ مجھے مار ڈالیں پر یوں مت کریں میرے ساتھ شیرافگن…میں مر جاؤں گی.”وہ زمین پر بیٹھ کر رونے لگی.شیرافگن گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھا.ہاتھ بڑھا کر اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیا.اسکے آنسو صاف کئے.حیات کا دل خوش ہوا.اسکے چہرے پر خوشی کے رنگ بکھرے.شیرافگن اسکے قریب ہوا.”کیا تمہارے زہریلے الفاظ سے میں مرا ہوں؟… نہیں ناں؟…پھر تم بھی نہیں مرو گی.”اسنے چبا کر سرگوشی کی.اسکے لب حیات کے بالوں کو چھو رہے تھے.حیات کی جان جانے لگی تھی.شیرافگن نے اسکے چہرے کو دیکھا کچھ دیر پہلے حیات کے چہرے پر بکھرے رنگ مانند پڑ گئے تھے.شیرافگن اسے چھوڑ کر جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا.پھر ایک نظر اس پر ڈال کر کمرے سے نکلتا چلا گیا.حیات وہیں بیٹھی آنسو بہاتی رہی.”میں کیا کروں اللّه پاک”وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *