Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30

اسنے کانپتی آواز کو مظبوط کر کے اپنی بالوں کی لٹ اسکے ہاتھ سے چھڑائی.
“ورنہ کیا؟؟ “اسنے آبرو اٹھایا.”اچھا نہیں ہوگا” حیات نے اسے وارن کیا.”واؤ…ویسے کیا کرو گی؟”اسنے حیات کے قریب جھک کر سرگوشی کی.حیات نے دوپٹے کا پلو ہاتھ میں لیا.”بتا دوں؟”اسنے شیرافگن کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا.”شوق سے میری جان”اسنے مسکرا کر حیات کا ناک ہلکے سے دبا کر کہا.حیات نے ہاتھ اپر کیا پھر دوپٹے کا پلو اسکی آنکھ میں مارا. شیرافگن جھٹکے سے اسے چھوڑ کر پیچھے ہوا. پھر آنکھ پر ہاتھ رکھ لیا.ایک آنکھ سے اسنے حیات کو گھورا تھا.حیات ہنس کر دوپٹہ لہرانے لگی.”ظالم لڑکی”شیرافگن اسکی طرف بڑھا تو وہ جھٹ سے اپنے کمرے میں گھسی پھر دروازہ بند کیا.شیرافگن نے اپنی آنکھ مسلی.”سارے رومینٹک موڈ کا بیڑا غرق کر دیا اس لڑکی نے”اسنے دروازے کو گھور کر چبا کے کہا.”سوری شیرمار” دروازے کے اس پار سے ہنستی ہوئی آواز آئی.
“میں نے پوری آفت کو پسند کیا ہے.اب تو اس آفت کے ساتھ ہی گزارا کرنا ہوگا یار” وہ بڑبڑا کرآنکھ پر ہاتھ رکھے اپنے کمرے کی بڑھ گیا.
حیات نے کمرے میں آ کر موبائل اٹھایا.جس پرمسیج آیا ہوا تھا.اسنے مسیج اوپن کیا.
“آئیم بیک”حیات نے الجھ کر یہ مسیج پڑھا. نمبر پھر ان نون تھا.”یہ کیا بدتمیزی ہے.یہ کون پیچھے پڑھ گیا ہے.حد ہوگئی.”اسنے تنگ آ کر مسیج ڈیلیٹ کیا.ابھی اسنے موبائل رکھا ہی تھا کہ کال آنے لگی.اسنے موبائل کو گھور کر دیکھا.”ناٹ اگین” اسنے ان نون نمبر کو گھور کر دیکھا پھر غصے سے موبائل کو سائلینٹ پر لگا کر سائیڈ ٹیبل کے دراز میں ڈال دیا.”کام ہی تمام ہوگیا اب.”وہ ہاتھ جھاڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
آج مجتبیٰ لوگوں کے گھر دعوت تھی.سعدیہ ملک اس دن ہی انھیں دعوت نامہ دے چکی تھیں.عباسی ہاؤس کے سبھی لوگوں کو وہاں جانا تھا.مغرب سے پہلے انھیں وہاں پہنچنا تھا.امل ،حیات کے روم میں تھی.وہ بیڈ پر بیٹھی مریم کے لئے گفٹ پیک کر رہی تھی. حیات بھی وہیں لیٹی گانے گنگنانے میں مصروف تھی.کمرے کا دروازہ کھول کر ہانیہ کمرے میں داخل ہوئی.
“کیا ہو رہا ہے؟” ہانیہ کہتی ہوئی ان کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی.”ویلے بیٹھے ہے”حیات نے مسکرا کر کہاپھر اٹھ بیٹھی.”ارے تو تیاری کرو ناں ابھی دادو نے کہا ہے کہ لڑکیوں سے کہو جلدی سے تیاری مکمل کریں ورنہ انہوں نے یہیں چھوڑ جانا ہے.”ہانیہ نے مسکرا کر کہا. “ہاں حیات آپی کو تو ابھی سے تیار ہو جانا چاہیے.یہ بہت ٹائم لگاتیں ہیں تیار ہونے میں” امل گفٹ پیک کر کے اٹھ کھڑی ہوئی.”تیار ہوجاؤں گی.ابھی بہت وقت ہے.”حیات نے منہ بنا کر لاپرواہی سے کہا.”میں تو گئی…ہانیہ آپی آپ بھی تیاری کر لیں.حیات آپی کے تو ٹھنڈے کام ہیں.”اس سے پہلے کہ حیات کچھ کہتی امل جلدی سے بات پوری کر کے کمرے سے بھاگی.”اونہہ”حیات نے منہ بگاڑا.ہانیہ زور سے ہنسی.حیات ، ہانیہ کے قریب ہوئی.”ویسے ہانی آپ اچھے سے تیار ہونا وہاں علی بھائی بھی ہونگے تو اہم….”اسنے شرارت سے ہانیہ کو دیکھ کر کہا.”چپ کرو شریر لڑکی”ہانیہ نے مسکرا کر اسکے کندھے پر ہلکی سی چپت لگائی.حیات ایک دم ہنسنے لگی.
“اچھا میں گئی تیار ہونے تم بھی اٹھ جاؤ” ہانیہ اسکے بال بگاڑ کر کہتی اٹھ کھڑی ہوئی.”جی جی تیار ہوجائیں کوئی آپکا دیدار کرنے کے لئے بے تاب ہوگا.”حیات نے آنکھ دبا کر کہا تو ہانیہ ہنس کر کمرے سے نکل گئی.ہانیہ کے کمرے سے نکلتے ہی حیات پھر سے بیڈ پر لیٹ کر گانا گنگنانے لگی.گانا گاتے گاتے ہی میڈم نیند کی وادی میں اتر چکی تھی.
شیرافگن اپنے کمرے سے نکلا اسکے سر میں درد تھا.اسے چائے کی طلب ہورہی تھی.وہ حیات کے کمرے میں داخل ہوا.نظر بیڈ پر پڑی تو میڈم مزے سے سو رہی تھی.شیرافگن چلتا ہوا اسکے قریب آیا.”حیات”اسنے مدھم آواز میں اسے پکارا.پر حیات نہ اٹھی.شیرافگن اسکے قریب بیٹھا پھر ہاتھ بڑھا کر اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا ہی تھا کہ حیات ایک دم چیخ مار کر اٹھ بیٹھی.شیرافگن ہڑبڑا گیا.”کیا ہو گیا؟ یہ میں ہوں”اسنے جلدی سے کہا.حیات نے خوف سے اسے دیکھا.شیرافگن نے اسکا ہاتھ تھاما.”کیا ہوگیا یار؟”اسنے نرمی سے پوچھا. “برا خواب دیکھا ہے….میں ڈر گئی تھی.”حیات نے لمبی سانس کھینچی پھر شیرافگن کو دیکھا.”مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے کچھ غلط ہونے والا ہے.”حیات نے مدھم آواز میں کہا.”کم آن یار ریلیکس کرو خود کو کچھ نہیں ہوتا” شیرافگن نے اسکا گال تھپکا.حیات نے اثبات میں سر ہلایا.”چلو اب تم آرام کرو”نرمی سے کہتا وہ اٹھ کھڑا ہوا.حیات نے اسکا ہاتھ پکڑا. “آپ کیوں آئے تھے.کوئی کام تھا.”اسے دیکھ کر پوچھا گیا.شیرافگن مدھم سا مسکرایا.”میں اپنی بیوی صاحبہ سے چائے کا کہنے آیا تھا.پر اب تم آرام کرو میں نوری سے کہہ دیتا ہوں.” شیرافگن نے اسے پیار سے دیکھا.حیات جلدی سے بیڈ سے نیچے اتری. “نوری کیوں…..میں خود بناتی ہوں.”حیات کے کہنے پر شیرافگن نے اسے محبت سے دیکھا.حیات آگے بڑھنے لگی.”مجھے بھی ساتھ لے کر جاؤ گی؟” شیرافگن نے ہنس سوالیہ انداز میں پوچھا. حیات نے پلٹ کر اسے دیکھا.شیرافگن نے اسکے ہاتھ میں پکڑے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا.”اوہ سوری…”حیات نے جلدی سے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا.شیرافگن ہنس کر اسکے قریب ہوا.”تمہارا حق ہے یار…یہ شیرافگن تمہارا ہے.جہاں چاہے لے جاؤ”اسکے لبوں پر مدھم مسکراہٹ تھی.ساتھ ہی وہ حیات کی لٹ کو انگلی پر لپٹ رہا تھا. “اچھا…جناب”حیات نے آبرو اٹھا کر کہا.
“بالکل مادام” شیرافگن نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا.اسے دیکھتیں حیات کی سنہری آنکھوں سے روشنی پھوٹنے لگی.اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اسکی زندگی اتنی حسین ہوگی.شیرافگن جیسا شخص اسے چاہے گا.وہ اس وقت خود کو بہت خوش نصیب محسوس کر رہی تھی.”اہم…کیا نظر لگانے کا ارادہ ہے؟”اسکے مسلسل دیکھنے پر شیرافگن نے چٹکی بجا کر شرارت سے کہا.حیات ایک دم چونکی.”نہیں…بلکہ نظر اتار رہی ہوں” اسنے مدھم لہجے میں اسے دیکھ کر کہا.
“آج ظالم ارادے ہیں محترمہ کے ، کیا بات ہے؟” شیرافگن نے محبت سےپوچھا.”آج محترمہ کو شیرمار اچھے لگ رہے ہیں.”حیات نے مدھم مسکان کے ساتھ کہا.”جان لوگی کیا…”شیر افگن نے دل پر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھا.
“اللّه نہ کرے.”حیات نے جلدی سے کہا. شیرافگن ایک دم ہنسا.”بندہ اچھی بات کرلیتا ہے مسٹر”حیات نے منہ بنا کر کہا.”وہ تو میں کرتا ہی ہوں مسز”شیرافگن نے اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکرا کر کہا.” اچھا…”حیات نے ہنس کر اسے دیکھا پھر بولی”آپ نے مجھے باتوں میں لگا دیا.میں تو گئی چائے بنانے”وہ جلدی سے کہتی دروازے کی طرف بڑھی.”ارے پرنسیس سنو تو”شیرافگن نے اسے پکارا. “نہیں…پرنسیس کے پرنس”حیات ہنس کر نفی میں سر ہلاتی باہر نکل گئی.شیرافگن بھی مسکرا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا.
حیات چائے بنا کر لے جا رہی تھی.جب دادو نے اسے پکارا”اے بی بی تم ابھی تک گھوم رہی
ہو.تیار نہیں ہوئی؟”انہوں نے حیات کو گھورا
“بس دادو افگن کو چائے دے دوں.پھر تیار ہوتی ہوں.” اسنے دادو کو دیکھا جو جانے کے لئے بالکل تیار بیٹھی تھیں.دادو وقت کی پابند تھیں.کہیں بھی جانا ہوتاوہ وقت پر پہنچتیں تھیں.”جلدی کرو…ورنہ یہی چھوڑ جاؤ گی.” دادو کی دھمکی پر وہ مسکرا کر سر ہلا تی آگے بڑھ گئی.
جب وہ شیرافگن کے روم میں آئی.وہ نیوی بلیو سوٹ میں شیشے کے سامنے تیار کھڑا خود پر پرفیوم سپرے کر رہا تھا.حیات نے کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا پھر اسکے قریب آئی.”آپ اتنی جلدی تیار ہوگئے اور میں ویسے ہی گھوم رہی ہوں.”حیات کو حیرت ہوئی.اسکے چائے بنانے تک وہ تیار ہو چکا تھا.شیرافگن مسکرا کر اسکی طرف پلٹا پھر ہاتھ میں پکڑی پرفیوم اس پر سپرے کی.”تم ایسے بھی پیاری لگ رہی ہو.”اسنے بھاری آواز میں کہا. “جھوٹ تھوڑا بولا کریں.”جلدی میں حیات کے منہ سے نکل گیا.شیرافگن قہقہہ لگا کر ہنس پڑا.حیات کو اپنی غلطی کا احساس ہوا.”میرا مطلب ہے جھوٹ تھوڑی ہے میں سچ میں پیاری ہوں” حیات نے بات بدل کے گردن اکڑ کر کہا.شیر افگن نے ہنسی دبا کر پرفیوم ٹیبل پر رکھی.
“یہ تو میں جانتا ہوں”اسے دیکھ کر کہتا پلٹ کرچائے کا کپ اٹھا کر دو گھونٹ بھرے.پھر موبائل اٹھایا.” آپکو اتنی جلدی کیا ہے؟”حیات نے اسے جلدی میں دیکھ کر پوچھا.”یار ضروری میٹنگ ہے.وہاں جارہا ہوں.”شیرافگن نے ٹیبل سے فائلز اٹھاتے ہوئے کہا.”آپ ہمارے ساتھ نہیں جائیں گے؟”حیات نے اسے دیکھ کر پوچھا.
“تب تک آجاؤں گا.تم جا کر تیار ہوجاؤ ورنہ دادو کو جانتی ہو.” ہنس کرکہا گیا.حیات نے سر ہلا دیا.پھر دونوں کمرے سے باہر نکلے.
•••••••••
سب جانے کے لئے ریڈی تھے.حیات ابھی تک ویسے ہی گھوم رہی تھی.دادو نے اسے خوب سنائیں کہ اسکے پاس کتنا وقت تھا.پر وہ ہمیشہ سے لیٹ لطیف رہی تھی.جب بھی کسی تقریب میں جانا ہوتا.وہ سب سے اینڈ میں تیار ہوتی تھی.اسی بات پر وہ دادو سے کھری کھری سنتی تھی.اب بھی یہی ہو رہا تھا.اپر سے مریم ، امل کو کال پر کال کر رہی تھی کہ سب جلدی آئیں وہ انتظار کر رہی ہے. تب حیات نے کہہ دیا کہ آپ سب چلے جائیں. میں شیرافگن کے ساتھ آجاؤں گی.دادو مان نہیں رہیں تھیں کہ جانےشیرافگن کب آۓ.حیات نے انھیں بتایا کہ افگن جلد واپس آجاۓ گا تو وہ دونوں وہاں پہنچ جائیں گے.آپ فکر نہ کریں. جاتے ہوئے الماس بیگم بیٹی کے پاس رکیں. “حیات بیٹا افگن کو یاد سے کال کر کے بتا دینا کہ تمہیں لے کر جائے.میں خود ہی کال کر دیتی پر بچہ ابھی میٹنگ میں ہوگا.ایسے اچھا نہیں لگتا.”انکی بات پر حیات نے سر ہلایا.پھر وہ سب چلے گئے تو حیات بھی اپنے کمرے میں تیار ہونے چلی آئی.اسنے خوبصورت سی بلیک فراک پہنی جس پر سفید موتیوں کا نفیس سا کام ہوا تھا.سیدھی مانگ نکال کر اسنے کندھوں سے نیچے آتے بال کھلے چھوڑ دئیے تھے.لائٹ سا میک اپ کیا.کانوں میں جھمکے ڈالے.پھر وہ تیزی سے پلٹی تا کہ بیڈ سے دوپٹہ اٹھا لے.تبھی ایک دم اسکی طبیعت خراب ہوئی.سانس اٹک سی گئی. جب سے اسے وہ اٹیک ہوا تھا.تب سے اگر وہ تیز چلتی تو اسکی سانس اٹک جاتی.ڈاکٹر نے کہا تھاکہ بڑا مسئلہ نہیں ہے پر اسے دوا لیتے رہنا ہے.جو کہ حیات کبھی مس کر جاتی تھی. آج بھی اسنے دوا نہیں لی تھی.اسنے جلدی سے سائیڈ ٹیبل کے دراز سے دوا نکال کر لی.تبھی اسکی نظر اپنے موبائل پر پڑی.اس دن اسنے موبائل کو سائلینٹ پر کر کے دراز میں ڈالا تھا.پھر اسنے وہاں سے نہ نکالا کہ پھر سے وہی کالز نہ آنے لگ جائیں.ابھی اسنے دیکھا تو موبائل اوف پڑا تھا.اسنے موبائل چارج پر لگایا.پھر دوپٹہ لے کر کمرے سے باہر نکلی.ہال میں پہنچ کر اسنے ٹائم دیکھا تو سات بجنے والے تھے.وہ لینڈ لائن فون کی طرف آئی تا کہ وہاں سے شیرافگن کو کال کر سکے.پر فون ڈیڈ تھا.”لو جی اسے بھی موت پڑ گئی.”وہ جھنجھلا کر کہتی وہاں سے چلتی ہوئی صوفے پر بیٹھی.”ابھی تو وقت ہے.افگن خود ہی کچھ دیر میں آجائیں گے.تب تک میں کوئی بک ہی پڑھ لوں.”وہ اپنے آپ سے کہتی اٹھ کر لائبریری کی طرف بڑھی.اسنے بک لی پھر ٹیبل کے پیچھے رکھی کرسی پر بیٹھی.اسنے بک کھولی پر اسے الفاظ سمجھ نہ آئے.اسکی نظر دھندلا رہی تھی.اسنے بک ٹیبل پر رکھ کر اس پر سر ٹکا لیا پھر شیرافگن کو سوچنے لگی.اسکے لبوں پر مدھم سی مسکان تھی. آنکھیں چمک رہی تھیں.وہ آنکھیں بند کر کے گنگنانے لگی.
تیرے آں خیالاں نوں سجا کے بیٹھی آں….
دنیا دے دکھا نوں بھلا بیٹھی آں….
ایسے ہی گنگناتی ہوئی وہ دواؤں کے زیر اثر غنودگی میں چلی گئی.
شیرافگن میٹنگ سے سیدھا گھر آیا.اسنے کار باہر ہی کھڑی کی.پھر گھر میں داخل ہوا.وہ صرف ضروری فائلز رکھنا آیا تھا.پھر اسے ملک ہاؤس جانا تھا.وہ گھر میں انٹر ہوا.تو پورا گھر سنسان پڑا تھا.”لگتا ہے سب چلے گئے ہیں. مجھے بھی جلدی جانا چاہیے.”بڑبڑا کر کہتا وہ اپر کی طرف آیا.اسنے فائلز رکھیں.پھر کمرے سے نکلا.جاتے ہوئے حیات کے روم کے بند دروازے کو دیکھا.اسنے آگے بڑھ کے دروازہ کھول کر وہیں کھڑے ہو کر کمرے میں نظر دوڑائی وہ خالی تھا.”چلی گئی میڈم…میں بھی آرہا ہوں.”مسکرا کر کہتا وہ کمرے کا دروازہ بند کر کے نیچے کی طرف بڑھا.باہر نکلنے سے پہلے اسنے چوکیدار کو گھر کا خیال رکھنے کا کہا. پھر کار میں بیٹھ کر کار آگے بڑھا دی.شیرافگن وہاں سے چلا گیا.عباسی ہاؤس کے آس پاس ایک پراسرار سی خاموشی چھائی تھی.کوئی وہاں تھا جو ہر چیز پر نظر رکھے ہوا تھا…..شیطانی نظر!!
حیات ایک دم چونک کر اٹھی.اسے سرسراہٹ کی آواز آئی.اسنے لائبریری میں نظر دوڑائی. بائیں طرف دیکھا تو کھڑکی ہلکی سی کھلی تھی.جسکی وجہ سے پردے ہل رہے تھے.وہ کرسی سے اٹھ کر کھڑکی کی طرف بڑھی.اسنے کھڑکی کے اس پار دیکھا.جہاں تیز ہوا چل رہی تھی. نظر اپر اٹھائی تو آسمان پر کالے بادل چھائے تھے.”یہ اچانک سے موسم کیسے بدل گیا.”اسنے باہر دیکھ کر کہا.پھر کھڑکی بند کر کے پردے ٹھیک کئے.وہ پلٹ کر ٹیبل تک آئی.گھڑی پر نظر ڈالی جہاں سوئیاں آگے ہی آگے بھاگتی جا رہی تھیں.پر شیرافگن کا کوئی آتا پتہ نہیں تھا. “افف یہ میری آنکھ کیسے لگ گئی تھی.”اسنے ہلکے سے سر پر چپت لگائی. پھر دروازہ کھول کر باہر نکلی.گھر بالکل سنسان پڑا تھا.”ہائے اللّه افگن ابھی تک نہیں آئے یا شاید آگئے ہو.”وہ بڑبڑاتی ہوئی ارد گرد دیکھ کر آگے بڑھی.جلدی سے سیڑھیاں طے کرتی اپر پہنچی.شیرافگن کے روم کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی.کمرہ خالی تھا. “اتنی دیر لگا دی افگن…”وہ پریشان سی ہوگئی.وہاں سے اپنے کمرے میں آئی.اسنے آگے بڑھ کر موبائل اٹھایا. اسے آن کرنا چاہا پر آن نہ ہوا.”کیا مسئلہ ہے یار…”حیات کا دماغ گرم ہوا.اسنے چارجر کو زور سے ہلایا تب اسکی نظر بٹن پر پڑی جو اوف تھا.
“اللّه جی….کیا مجھ پر ہر مصیبت آج ہی ٹوٹے گی.”حیات کا دل چاہا وہ اپنا سر پیٹ لے.اسنے بٹن آن کیا تا کہ جلدی سے موبائل کچھ چارج ہو جائے.پھر وہ افگن کو کال کرے.وہ موبائل ٹیبل پر رکھ کر پلٹی ہی تھی کہ لائٹ چلی گئی.حیات کا دل دھڑک اٹھا.ایک تو اتنا بڑا گھر اپر سے گھر میں کوئی تھا بھی نہیں ….لینڈ لائن فون ڈیڈ پڑا ہے…..موبائل میں چارج نہیں تھی…..اور اب لائٹ بھی چلی گئی.حیات کی پیشانی پر پسینہ چمک اٹھا.اسے ڈر لگنے لگا.آج سے پہلے وہ گھر میں کبھی اکیلی نہیں رہی تھی.اسنے جلدی سے دراز سے ٹارچ نکال کر آن کی تو کمرے میں روشنی پھیلی.اس نے جلدی سے کھڑکی کے پردے ٹھیک کئے.باہر ہوا کا شور بڑھ چکا تھا.”اللّه پاک پلیز افگن کو بھیج دیں…..اب میں نیچے کیسے جاؤں….ہائے اماں….”وہ سخت پریشان تھی.ڈر الگ اسکی جان لے رہا تھا.اسنے دل کو مظبوط کر کے قدم آگے کی طرف بڑھائے.دروازہ کھول کر وہ کمرے سے باہر نکلی.آہستہ سے سیڑھیاں اترنے لگی.اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے پیچھے کوئی چل رہا ہو .اسنے جھٹ سے پلٹ کر دیکھا پیچھے کوئی نہیں تھا.اسنے لمبی سانس کھینچی.”حیات کچھ نہیں ہے پیچھے….بس یہ ویسے ہی کبھی کبھی لگتا ہے.ڈرو نہیں…کچھ نہیں ہوتا.”اسنے تھوک نگل کر خود کو تسلی دی.پھر باقی سیڑھیاں اتر کر ہال میں آئی.جلدی سے اسنے ہال کا دروازہ بند کیا.ہال میں کانچ کی کھڑکیوں سے ہلکی ہلکی روشنی اندر آرہی تھی.حیات چلتی ہوئی صوفے تک آئی.آج سے پہلے اسے اپنا گھر اتنا خوفناک نہ لگا تھا.اسے وہ ساری ہارر موویز یاد آنے لگی جو اسنے دیکھیں تھیں.وہ جلدی سے صوفے پر بیٹھی.”یہ کوئی مووی تھوڑی ہے…..ڈرو مت حیات….ابھی افگن آجائیں گے….بس کچھ دیر اور….” وہ خود کو سمجھاتی رہی پر اسکا دل سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا.اسنے پھر آیته الکرسی پڑھنا شروع کی.اچانک بجلی چمکی. حیات نے چونک کر کھڑکی سے باہر دیکھا.پھر اٹھ کر کھڑکی تک آئی.اسے باہر کوئی سایہ نظر آیا.کوئی وہاں کھڑا تھا.
“افگن آگئے!!!” وہ خوشی سے اچھلی .بھاگ کر صوفے سے ٹارچ اٹھائی پھر ہال کے دروازے کی طرف بڑھی.لاک کھول کر وہ باہر آ کر جلدی سے اسکی طرف بڑھی.”افف افگن شکر ہے آپ آگئے…میں تو ڈر ہی گئی تھی.ویسے آپ منہ موڑ کر کیوں کھڑے ہیں…ادھر پلٹیں
مسٹر”حیات تیزی سے بول رہی تھی جب وہ اسکی طرف پلٹا…..حیات نے ٹارچ اس پر لگائی.جینز ، اسکے اپر ہوڈی جیکٹ پہنی تھی.جسکی کیپ سر پر لی گئی تھی.سر جھکا ہوا تھا….وہ افگن نہیں تھی…حیات کا دل کانپا…وہ دو قدم پیچھی ہٹی…جب سامنے والے نے سر اٹھایا….اسنے چہرے پر سفید سمائل والا ماسک لگایا ہوا تھا.خوفناک ماسک …..حیات کی آنکھیں پھٹ گئیں.اسکی ٹانگیں کانپنے لگیں.وہ برف کی طرح جم سی گئی.
سامنے والے نے گردن پہلے دائیں پھر بائیں طرف موڑی پھر گردن سیدھی کر کے اسے دیکھا.”ہیلو ڈارلنگ!!!”ہاتھ ہوا میں ہلا کر کہا گیا.حیات بت بن گئی.اسکی دھڑکنیں تھم گئیں.یہ وہی تھا….ہاں یہ وہی تھا…وہ حیات کی طرف بڑھا.حیات نے پیچھے کی طرف قدم بڑھائے.اسکا دماغ ماؤف ہونے لگا.چہرے پر ٹھنڈی ہوا کے تھپڑ پڑ رہی تھے.اسکی سانس اٹک رہی تھی.اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے؟ پر یہ سوچنے ، سمجھنے کا وقت نہ تھا.اسے اس درندے نما انسان سے بھاگنا تھا.اسے خود کو بچانا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *