Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 (Watching)Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10
وہ ہوٹل کا خوبصورت سا کمرہ تھا.ٹیبل پر کینڈلز اور خوبصورت سا کیک رکھا تھا.ٹیبل کی ایک طرف احمر جمالی اور دوسری طرف شازمہ بیٹھی تھی.وہ پنک لباس میں ملبوس جسکی آستینیں سرے سے غائب تھیں.دوپٹہ گلے کے ساتھ چپکا تھا.ڈارک میک اپ میں وہ جیسے بجلی گرا رہی تھی.یہاں وہ احمر جمالی کی برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے آۓ تھے.مایا نے بھی آنا تھا.پر وہ ابھی تک نہیں پہنچی تھی.
“آؤ ڈارلنگ کیک کاٹ لیں”احمر جمالی اٹھ کر اسکی طرف آیا.
“پر مایا نے ابھی آنا ہےناں”اسنے ادا سے کہا “وہ نہیں آۓ گی کوئی ضروری کام ہے اسے” وہ شاز مہ کے قریب کرسی رکھ کر بیٹھا
“اوکے چلو کیک کاٹو” وہ اسکی طرف دیکھ کر مسکرائی.احمر نے کیک کاٹا تو شازمہ نےتالیاں بجا کر اسے وش کیا.دونوں نے ایک دوسرے کو کیک کھلایا پھر احمر جمالی شازمہ کی طرف جھک کر اسکے گال پر کِس کی شازمہ کچھ جھجھک کر پیچھے ہوئی تو احمر جمالی نے اسے مذید اپنے قریب کیا.
“احمر” شازمہ نے اسے ہاتھوں سے پیچھے کیا
“کم آن بےبی”وہ جیسے بہک رہا تھا.اچانک اسکا فون بجا تو وہ جھنجھلا کر پیچھے ہوا اور موبائل اٹھا کر وہاں سے کچھ دور کھڑکی کے پاس کھڑا ہو کر بات کرنے لگا.
“ہوگیا کام”اسکے دوست نے کمینگی سے پوچھا
“خاک ہوا کچھ….فضول نخرے دیکھا رہی ہے” وہ غصے سے بولا شازمہ اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی حیرت سے سب سن رہی تھی.
دوسری طرف سے کچھ کہا گیا اور احمر جمالی قہقہہ لگا کر ہنسا. وہ جیسے شازمہ کی موجودگی بھول چکا تھا یا جان بوجھ کر ایسا کر رہا تھا.”سن لینے دے یار اب بچ کر کہاں جائے گی”اسکی بات پر شازمہ کانپی تھی. جبکہ وہ کہہ رہا تھا.”مجھے تو ہاتھ صاف کرنے دو پھر تمہاری باری آئے گی”وہ کمینگی سے ہنسا شازمہ دو قدم پیچھے ہٹی تو کرسی سے ٹکرائی وہ وہاں سے نکل جانا چاہتی تھی.آواز پر احمر جمالی نے پلٹ کر اسےدیکھا پھر ہنس کر اسکے قریب آیا.
“کیاہوا ڈارلنگ رنگ کیوں اڑا ہوا ہے تمہارا” وہ ایسے کہہ رہا تھا.جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو.
“تم..تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے ہاں” وہ غصے سے کانپ رہی تھی.احمرجمالی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسےاپنی طرف کھینچا دوسرے ہاتھ سے اسکا دوپٹہ اتار پھینکا پھر اسکے کان میں سرگوشی کی”وہی جو تم ہو” اسکی بات پر شازمہ نے اسے دھکا دیا تو وہ دو قدم پیچھے ہوا.”بکواس مت کرو میں تمہارا منہ نوچ لونگی”وہ چیخی
“اوہ رئیلی؟ ذرا نوچ کر دکھاؤ” اسنے طنزیہ انداز میں چہرہ اسکے قریب کیا پھر ہاتھ بڑھا کراسے چھونا چاہا توشازمہ نے سنبھل کر ایک کرارا تھپڑ اس کے منہ پر مارا “دور رہو مجھ سے” وہ چیخ کر بولی.”تیری اتنی ہمت بد کردار عورت تو نے احمر جمالی پر ہاتھ اٹھایا” وہ غرا کر اسکی طرف بڑھا بالوں سے پکڑ کر کھینچ کے تھپڑ مارا وہ منہ کے بل زمین پرگری احمر جمالی نے جھک کر اسکے بال مٹھی میں بھرکر کھینچے “چھوڑو مجھے میں بدکردار نہیں ہوں کمینے انسان” وہ درد سے تڑپ رہی تھی.”ایسی کی تیسی تمہاری بڑی پاکیزہ عورت بن رہی ہو وہ حال کرو گا کہ پچھتاؤگی کہ تم نے احمر جمالی پر ہاتھ اٹھایا تھا”وہ اسے گھسیٹ کردھاڑا شازمہ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں.احمر جمالی نے اٹھاکر اسے بیڈ پر پھینک کر دبوچ لیا.شازمہ کے کپڑے اس ہاتھا پائی میں پھٹ چکے تھے.ہونٹ پھٹ کر خون نکل رہا تھا.چہرے پر تھپڑ کا نشان تھا.اسکے ذہن میں حیات کی باتیں گونج رہی تھیں.کاش وہ اسکی بات مان لیتی تو آج یہ سب نہ ہوتا وہ رو کر خود کو چھوڑا رہی تھی.”احمر خدا کے لئے جانے دو مجھے”اسنے منت کی “اچھا جانے دوں؟” اسکے چہرے کو دیکھ کرطنزیہ کہا شازمہ خودکو چھوڑانےکی کوشش کر رہی تھی.اسکی ناکام کوشش پر وہ قہقہہ لگا کر ہنسا “ابھی کہاں بےبی یہ کوشش کرنا چھوڑ دو شاباش ابھی تو دوسروں کی باری بھی آنی ہے.کب تک لڑ سکوگی” وہ درندگی کی انتہا پر تھا.شازمہ کے بازو تھام کر وہ اس پر جھکا
“ذلیل انسان چھوڑو مجھے جانے دو پلیز میں ایسی نہیں” وہ چیخ چیخ کر پاگل ہورہی تھی.اس درندے سے فریاد کر رہی تھی.
“واہ کیابات ہے ایسی نہیں تم تو کیا مولانی ہو؟ کیا کر رہی ہوپھریہاں رات کے اس وقت ایک نہ محرم کے ساتھ بولو”اسنے غصے سے غرا کر اسے تھپڑ رسید کیا.اسکا چہرہ گھوم گیا.وہ ٹھیک کہہ رہا تھا.وہ کیوں آئی تھی ایک نہ محرم کے ساتھ ساری غلطی اسکی اپنی تھی.وہ شدت سے رونے لگی.اسکی غلطی کی کیا اتنی بڑی سزا ملے گی اسے”یااللّه مجھے بچا لیں ،مجھے معاف کر دیں مجھ سے غلطی ہوگئی”وہ رو رو کراللّه سے معافی مانگ رہی تھی.وہ اس طرح بدنام نہیں ہونا چاہتی تھی.
“بکواس بند کر” احمر جمالی نے اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا.اسکے بازو احمر جمالی کی گرفت میں تھے.شازمہ نے پوری طاقت لگا کر دانت اسکی کلائی پر گاڑ دیئے.وہ درد سے بلبلا اٹھا شازمہ اسے دھکا دےکر بیڈ سے نیچے اتری اسے جلد سےجلد یہاں سے نکلنا تھا.وہ بیگ اور دوپٹہ اٹھا کر جلدی سے دروازے کی طرف بڑھی کہ احمر جمالی نے بیڈ سے چھلانگ لگا کر اسکے بال مٹھی میں پکڑ کراسے پیچھے کی طرف کھینچا. شازمہ اس جھٹکے پر درد سے تڑپ اٹھی.”تمہیں لگتا ہے میں اتنی آسانی سے تمہیں جانے دونگا ہاں ؟”اسنےدھاڑ کرشازمہ کامنہ سختی سے پکڑا اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے.اسنے احمر جمالی کو دیکھاجو بھیڑیا بنا اسے گھور رہا تھا.غصے سے اسنے ہاتھ آگے بڑھا کر ناخن احمر کے منہ پر مارے
“حیات ٹھیک کہہ رہی تھی تم ذلیل، گندے، گھٹیا انسان ہو پر تب میں نے اسکی بات نہ مانی پر تمہیں میں جیتنے نہیں دونگی” وہ روتے ہوئے اس سے اپنا آپ چھڑا کر جلدی سے جانے کے لئے پلٹی پر احمر جمالی نے اسے ذور سے دھکا دیاوہ پیچھے رکھی ٹیبل کے ساتھ ٹکرائی .
“حیات…..انہوں…کون ہے وہ؟” احمر جمالی نےاسکی طرف بڑھتے ہوئے گندی سی گالی دے کر دانت پیس کے پوچھا پھر چہرے پر ہاتھ پھیرا پر درد کی وجہ سے نیچے کر لیا ناخن لگنے سے اسکے چہرے سے خون رسنے لگا تھا.اسے اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر شازمہ نے ٹیبل پر رکھا گلدان اٹھایا جیسے ہی وہ اسکے قریب آیا اسنے پوری طاقت لگا کر ذور سے گلدان احمر جمالی کے سر پر دے مارا وہ جھٹکے سے پیچھے ہوا پھر ایک چیخ کے ساتھ منہ کے بل زمین پر گرتا چلا گیا. لمحوں میں اسکے سر سے تیزی سے خون بہنے لگا.شازمہ نے بیگ اٹھایا،دوپٹہ سر پر لے کر آنسو صاف کرتی وہاں سے نکلی. آنکھوں کے سامنے چھائی دھند کے پار اسے جاتےدیکھ کر احمر جمالی بلبلا اٹھا.شکار اسکی ہاتھ سے نکل چکا تھا.ایسا پہلی بار ہوا تھا.اسکا لہو ابلنے لگا دماغ میں ایک ہی نام گونج رہا تھا.”حیات..”وہ آنکھوں میں شیطانی چمک لئے دانت پیس کر اسی نام کو بڑبڑاتا رہا.سر سے خون نکل کر کنپٹی سے نیچے بہنے لگا.آنکھوں کے سامنے دھند مکمل طور پر چھا چکی تھی.احمر جمالی بیہوش ہو چکا تھا. ••••••••••••••
صبح سے افرا تفری مچی تھی.ہر کوئی کام میں لگا تھا.آج ایمان کی بارات تھی.وہ سب کوئی کمی نہیں رہنے دینا چاھتے تھے.حیات اور امل کو ایمان کے ساتھ پالر جانا تھا. شیرافگن بھی صبح سے باہر کے چکر لگا رہا تھا.گھر کی عورتوں کو کبھی ایک کام یاد آتا تو کبھی دوسرا ابھی بھی وہ ان تینوں کو پالر لے جا رہا تھا.کار پالر کے سامنے روک کر اسنے گردن موڑ کر انہیں دیکھا وہ کارسے اتر رہیں تھیں.”حیات” ایمان کے پیچھے اترتی حیات کو اسنے پکارا.”جی ” اسنے پلٹ کر دیکھا
“جب فارغ ہو جاؤ توکال کر لینا میں آجاؤں گا اوکے” شیر افگن اسے دیکھ کر بولا
“ٹھیک ہے” حیات نے اثبات میں سر ہلایا پھر ایمان اور امل کے پیچھے چلی گئی.شیرافگن نے بھی گاڑی آگے بڑھا دی.
دو گھنٹے بعد وہ تیار ہو چکی تھی.ایمان کو چادر اوڑھا دی تھی.امل بھی تیار ہو چکی تھی شاکنگ پنک کپڑوں میں وہ بہت کیوٹ لگ رہی تھی جبکہ حیات انکے کہنے پر بھی تیار نہ ہوئی کہ وہ گھر جاکر آرام سے تیار ہوگی.اسنے شیرافگن کو کال کی کہ آ کر انھیں لے جائے. گھر میں مہمان آ چکے تھے.شیرافگن کام میں پھنسا ہوا تھا.پر وہ انھیں لینے پہنچ گیا.ایمان کو بیک ڈور سے گھر میں لے جایا گیا.لان اور ہال مہمانوں سے بھرا تھا.میوزک کی آواز چار سو پھیلی تھی.وہ ایمان کو لے کر اسکے کمرے میں آئی امل تو نیچے چلی گئی. حیات، ایمان کے ساتھ تھی.شیرافگن انکا بیگ لے کر آیا وہ ابھی تک ویسے ہی گھوم رہا تھا.ایمان نے بھائی کو دیکھا پھر اس سے کچھ فاصلے پر کھڑی حیات کو اسکے لبوں پر مسکان پھیل گئی. تبہی حیات نے اسے پکارا.”آپی دیکھیں اپنے بھائی کو ابھی تک تیار نہیں ہوئے لوگ کیا کہیں گے دلہن کے بھائی نے کیا خراب حالت بنائی ہوئی ہے” اسنے مسکراہٹ دبا کر ایمان سے کہا. شیرافگن نے پہلے اسے گھورا پھربائیں طرف گردن موڑ کر خود کو آئینے میں دیکھا کیاواقعی اسکی حالت خراب تھی؟بھورے بال کچھ بکھرے تھے اور سفید لباس پر شکنیں پڑی تھیں.پر اتنی خراب حالت بھی نہ تھی جتناحیات صاحبہ کہہ رہی تھیں.اسنے پلٹ کر حیات پھر ایمان کو دیکھا جو مسکرا رہی تھی.
“کیا لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ دلہن کی بہن فقیرنی بنی ہوئی ہے”اسنے سنجیدگی سے کہا پر چہرےپر شوخ سی چمک تھی.اسکی بات پر ایمان نے قہقہہ مشکل سے روکا.حیات آنکھیں پھاڑے شیر افگن کو دیکھ رہی تھی.
“اب میں اتنی بھی بری نہیں لگ رہی “وہ منہ بسور کر بولی شیرافگن نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی وہ بھی سفید کپڑے پہنے ہوئی تھی. بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنا تھا جس میں سے بال نکل کر چہرے پر آرہے تھے.وہ اتنی بری ہرگز نہیں لگ رہی تھی.پر شیرافگن کیا کرتا اسے اپنا بدلہ بھی تو لینا تھا ناں.
“اتنی سے زیادہ بری لگ رہی ہو” وہ شرارت سے کہتا پلٹ کر کمرے سے چلا گیا.
“افف انہوں نے کبھی بھی میری جان نہیں چھوڑنی” وہ چڑ کر کہتی بیڈ پر بیٹھی
“ہاں ناں ….کبھی نہیں” ایمان نے ہنس کر شوخی سے کہا.ایمان اپنے بھائی کے ساتھ ہمیشہ اس پیاری لڑکی کو دیکھنا چاہتی تھی.
“اچھا چلیں آپ تھوڑا ریلیکس ہو کر بیٹھیں پھر بارات آگئی تو آپکو اٹنشن پوزیشن میں رہنا ہوگاویسے قیامت لگ رہی ہے آپی”اسنے ہنس کر پیار سے اسے دیکھا.ایمان لال اور گولڈن لہنگا شرٹ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی. “اچھا جی”ایمان نے دھیمے سےکہا
“بالکل مجتبیٰ بھائی تو گئے کام سے” “چپ کرو شریر لڑکی”وہ شرمائی تھی. “اچھا ہوگئی چپ”حیات نے منہ پر انگی رکھی پھر بولی”اب میں ذرا ہیروئن بن کر آؤں ورنہ آپکے بھائی نے مجھے فقیرنی ہی کہناہے”وہ بیڈ سے اٹھتی شوخی سے بولی.
“ہیرو میرا بھائی ہی ہوگا”ایمان نے بیڈ سے ٹیک لگاکر شرارت سے کہا.حیات آنکھیں پھاڑے کچھ کہنے ہی والی تھی.جب دھڑام سے دروازہ کھلا اور مینا ،حریم ،تابی اور سب سے آخر میں سبین تھی.سب بہت پیاری لگ رہی تھیں.حیات تو سبین کو اچانک دیکھ کر چیخ مارتی اسکے گلے لگی.”اف یہ کب واپس آئی” اسنے تینوں سے پوچھا “میں آپی کےلئے آئی ہوں”سبین آگے بڑھ کر ایمان سے ملی “کل رات آئی ہے محترمہ ویسے کیسا لگا سرپرائز” تابی نے مسکرا کر پوچھا
“بہت اچھا” اسکی بات پر سبین مسکرائی. پھر وہ لوگ ایمان کی طرف بڑھیں. سب اسے گھیر کر بیٹھ گئیں.”ہاۓ آپی بالکل حور لگ رہی ہیں” مینا اسے دیکھ کر پیار سے بولی
“یہ حور مجتبیٰ بھائی کے لئے اتری ہیں”حیات نے شرارت سے کہا وہ سب ہنسی لگیں. ایمان نے شرما کر سر جھکا گئی.
“تم نے یہی حالت بناۓ رکھنی ہے لڑکی بارات آنے والی ہے”حریم نے ساتھ بیٹھی حیات کو کہنی ماری .وہ اچھل کر کھڑی ہوئی
“افف تم میں سے ایک میرے ساتھ چلو میری مدد کرنے” اسنے کہا تو تابی اٹھ کھڑی ہوئی وہ دونوں کمرے سے باہر نکلیں.نیچے ہنگامہ مچا تھا.میوزک ، ہنسی ، شور سب آوازیں مکس آرہی تھیں.وہ حیات کے کمرے میں گئیں. وہ جلدی سے تابی کی مدد سے تیار ہوئی
اسنے نیوی بلیو ویلوٹ کی فراک پہنی تھی. جس پر سیلور کام ہوا تھا.بال کھلے تھے.سنہری آنکھوں پر اسنے صرف مسکارا لگایا تھا.لبوں پر پنک لپ اسٹک اور لائٹ جیولاری میں وہ گڑیا لگ رہی تھی.تابی تو اس پر واری جانے لگی.
“ظالم لڑکی کسے مارنے کا ارادہ ہے آج” تابی نے اسکا دوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے کہا
“میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں پھر بھی کوئی مر گیا تو میں کیا کر سکتی ہوں” اسنے ہنس کر لاپرواہی سے شانے اچکائے
“اف یہ معصوم ادائیں ” تابی نے پیار سے کہا “چلو مکھن نا لگاؤ” حیات نے مسکرا کر اسکے کندھے پر چپت لگائی.
دروازہ کھول کر امل اندر آئی.”آپی جلدی آئیں بارات آچکی ہے”وہ بات مکمل کر کے باہر بھاگی اسکے پیچھے وہ دونوں بھی جلدی سے نکلیں.بارات پر پھول برسا کر انکا ویلکم کیا گیا.مجتبیٰ بلیک سوٹ میں بہت ڈیسنٹ لگ رہا تھا.لبوں پر ہلکی مسکان تھی.مجتبیٰ کے ایک طرف ولید اور دوسری طرف علی تھا. شیرافگن نے انھیں گلے لگایا.وہ سفید شلوار ، قمیض میں ملبوس تھا.سنجیدہ سا وہ بہت با روب لگ رہا تھا.ان لوگوں کو اسٹیج پر بٹھایا گیا.علی نے جب حیات کو دیکھا تو خوشی سے اسکی بتیسی نکل آئی.جو شیرافگن کی تیز نظروں سے پو شدہ نہ رہی اسنے گھور کر علی کو دیکھا پر وہ حیات کو دیکھنے میں مصروف تھا.جبکہ حیات وہاں کسی کے ساتھ باتوں میں مگن تھی.وہ ایک دم سے اٹھا ولید کو ابھی واپس آیاکہہ کر وہ حیات کی طرف بڑھا.”حیات” اسکی پکار پر اسنے پلٹ کر دیکھا “کیابات ہے افگن بھائی” وہ اسکے قریب آئی”تمہیں اپر ایمان نے بلایا ہے” اسنے سنجیدگی سے جھوٹ بولا وہ حیات کو علی کی نظروں سے دور کرنا چاہتا تھا.جو شیرافگن کو اسکے ساتھ کھڑا دیکھ کر نظریں پھیر گیا.وہ دونوں ساتھ کھڑے بہت سی نگاہوں کا مرکز بنے تھے.
“اچھامیں دیکھتی ہوں”
“ہاں جلدی جاؤ” اسنے نے جلدی سے کہا.حیات اسے مشکوک نظروں سے دیکھتی وہاں سے سیڑھیوں کی طرف چلی گئی.شیرافگن نے بھی سکھ کی سانس لی اور واپس اسٹیج تک آیا لبوں پر مدھم مسکراہٹ تھی.علی نے حیات کو جاتے دیکھا تو چہرے پر مایوسی چھا گئی. شیرافگن اب سکون سے بیٹھا ولید اور مجتبیٰ سے باتیں کر رہا تھا.
ایمان کے کمرے میں سب موجود تھیں.نکاح ہونے والا تھا.حیات نے ایمان کوگولڈن نیٹ کا دوپٹہ اوڑھا کر اسکے چہرے کو ڈھانپ لیا. مولوی صاحب اور گھر کے بڑے کمرے میں داخل ہوئے.نکاح کی رسم ادا کی گئی.ہر طرف مبارک سلامت کا شور تھا.کچھ دیر میں ایمان کو بھی مجتبیٰ کے ساتھ بٹھایا گیا.دونوں کا فوٹو شوٹ ہوا پھر جب رخصتی کا وقت آیا تو سب جیسے مرجھا سے گئے.حیات تو ایمان سے چپک کر روتی رہی.اسکی پیاری آپی اسکی دوست اس سے جدا ہو رہی تھی.ایمان بھی سب سے مل کر خوب روئی.شمس عباسی نے بیٹی کے سر کے اپر قرآن پکڑا تھا.قرآن کے ساۓ تلے دولہا ،دلہن کو کار میں بٹھا کر شیرافگن، شمس اوراحمد صاحب نے کار کو دھکا لگا کر بیٹی کو بہت سی دعاؤں کے سائے تلے رخصت کیا.بارات چلی گئی تو سب اندر کی طرف بڑھے مہمان جا چکے تھے.شیرافگن نے حیات کو دیکھا جو دادو کے ساتھ چپکی بیٹھی آنسو بہا رہی تھی.شیرافگن کی اپنی آنکھیں لال ہو رہی تھیں.وہ وہاں سے اپر کی طرف چلا گیا جبکہ پیچھے دادو حیات کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسے سمجھا رہی تھیں. “بیٹیوں کو رخصت کرنا آسان نہیں ہوتا بیٹا اگر ایسی کوئی رسم نہ ہوتی تو کون ماں باپ اپنا جگر کا ٹکڑا کسی اور کے حوالےنہ کرتے پر یہی دنیا کی ریت ہے بیٹی کو پراۓ گھر جانا ہوتا ہے اور وہ ماں ،باپ خوش قسمت ہوتے ہیں جنکی بیٹی انکی دعاؤں کے ساۓ میں عزت سے رخصت ہوتی ہے.”دادو اسے بتاتی جارہی تھیں انکی باتوں پر حیات کے آنسو تھم گئے پر تائی امی اور اسکی اماں نے آنسو بہانے شروع کر دیئے تھے.
جاری ہے
