Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 (Watching)Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12
یونی سے واپس آ کر وہ کمرے میں ہی بیٹھی رہی تھوڑا ناول پڑھا ، حریم سے بات کی پر اسکا دل ہی نہیں لگ رہا تھا.اسے ایمان یاد آرہی تھی.ابھی تو ایمان کو رخصت ہوئے تیسرا دن تھا.حیات اسے شدت سے یاد کر رہی تھی. اسنے کل ایمان سے بات کی تھی.ابھی اسکا دل تھا کہ وہ کال کرے پر ایمان اور مجتبیٰ بھائی کی دعوتیں ہو رہی تھیں.اسلئے وہ انھیں ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتی تھی.وہ تھک کر بیڈ سے اٹھ کردروازےکی طرف آئی.جب وہ کمرے سے باہر نکلی. شیرافگن بھی اپنے کمرے سے نکل رہا تھا.اسنے سرسری سا اسے دیکھا پھر سیڑھیوں کی طرف بڑھی.ولیمہ میں جب اسنے حیات کو ڈانٹا تھا.تب سے وہ اس سے بات نہیں کر رہی تھی.شیرافگن بھی آفس کے کاموں میں مصروف تھا نوٹ نہ کر سکا.پر اب اسنے حیرت سے حیات کی پشت کو دیکھا کہ اسے کیا ہوا؟
“حیات بات سنو” اُسنے پلٹ کر دیکھا.وہ قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا.”ایسے خاموشی سے کیوں جا رہی ہو؟”اسے حیات کا اگنور کرنا ایک آنکھ نہ بھایا. اسے برا لگاکہ حیات نے اس سے بات کیوں نہ کی
“کیا مطلب!!” حیات نے آبرو اٹھا کر کہا
“کچھ نہیں”اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہتا آگے بڑھنے لگا.حیات کو تیش آیا “آپکو مجھ سےسوری کرناچاہیے”اسنے تیکھےلہجےمیں کہا
“کونسی خوشی میں” وہ جان کے انجان بنا
“آپ کو پتہ تو ہے”وہ ذیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکتی تھی.شیرافگن یہ بات اچھے سے جانتا تھا.”مجھے کچھ نہیں پتہ” وہ لبوں پرمسکراہٹ دبائے سینے پہ ہاتھ باندھ کربولا
“آپ نے مجھے بری طرح سے ڈانٹا تھا.یہ بات تویاد ہوگی ناں آپکو؟”اسنے ناک چڑھا کر کہا
“کب..”اسنے نفی میں سر ہلایا.وہ تو حیات کا بلڈ پریشر ہائی کر رہا تھا.حیات دانت پیس کر غصے میں وہاں سےجانے لگی.شیرافگن نے جلدی سے اسکے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لےکر اسے روکاپھراسکی سنہری آنکھوں میں دیکھنے لگا.”سوری میڈم حیات ” مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا گیا.حیات نے پلکیں جھپک کر اسے دیکھا اسکی آنکھیں چمکیں چہرے پر مسکان بکھری ڈمپل واضح ہوا.شیرافگن تو جیسے دیوانہ ہونے لگا.”یہ ہوئی نا بات”وہ کھلکھلا کر ہنسی یہی تو وہ کب سے سننا چاہ رہی تھی.
“چلےآئیں اسی خوشی میں آپکو کافی پلاتی ہوں”وہ خوشی سے کہتی جانے لگی. شیرافگن نے اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت ڈھیلی کر لی. حیات کا ہاتھ اسکے ہاتھ سے نکلا.حیات وہاں سے چلی گئی پر وہ وہی بت بنا کھڑا تھا.جیسے اس پرجادو ہوگیا ہو.کچھ دیر بعد ہوش میں آیا تو لمبی سانس کھینچ کر سیڑھیاں اترنے لگا.جب وہ نیچے آیا سب محفل جماۓ بیٹھے تھے.حیات کچھ دیر بعد سب کے لئے کافی لے آئی.”کل مجتبیٰ لوگوں کی دعوت کا سوچ رہی ہوں تم دونوں کا کیا کہنا ہے؟” دادو نے دونوں بہوؤں کو دیکھ کر پوچھا
“بہت اچھا خیال ہے امی جان”تائی امی نے کہا
“بالکل کل ڈنر کا انتظام کرتے ہیں.ایمان بھی کچھ دن یہاں رہ لے گی” الماس بیگم نے ساس کو دیکھا.ایمان کے رکنےکی بات پر حیات انکے قریب ہوئی.”پھر تو پکا کل ہی دعوت ہوگی دادو” وہ خوشی سے بولی
“اچھا تو میرا بیٹا کیا بناۓ گا پھر؟”بڑے ابو نے شرارت سے پوچھا وہ جانتے تھے.کھانا بنانے کے معاملے میں وہ اناڑی تھی.
“بڑے ابو آپی تو صرف کافی ہی بنا سکتی ہیں” امل نے لقمہ دیا تو سب ہنسے
“تویہ بھی بڑی بات ہے.ہے نا بڑے ابو”حیات نے انسے تصدیق چاہی “بالکل میری بیٹی کمال کی کافی بناتی ہے” انہوں نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا.شیرافگن نے بھی ہاں میں سرہلا کر حامی بھری.حیات تو بیہوش ہوتے ہوتے بچی کہ شیرمار اور اسکی تعریف کرے ناممکن سی بات لگتی ہے.
“بہو نوری کو ساتھ لگا لینا اس لڑکی نے تو کچھ نہیں کرنا” دادو نے اسے دیکھ کر افسوس میں گردن ہلا کر نوری کو بلانے کا کہا جو گھر کے پیچھے بنےسرونٹ کواٹر میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتی تھی.یہاں صفائی وغیرہ کرتی تھی.دادو کے افسوس سے کہنے پر حیات انکے پاس بیٹھی پھر بازو انکے گلے میں ڈالے
“پیاری دادو اگر آپ کہتی ہیں تو میں کچھ نہ کچھ بنانا سیکھ لونگی پکا”اسنے پیار سے کہا
“یہ تو بہت اچھی بات ہے بیٹا” دادو نے اسکے گال پر ہاتھ پھیرا.شیرافگن نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اس لڑکی کو دیکھا جو اب دادو سے باتیں کرنے میں مصروف تھی.ہر کسی کو وہ اپنی باتوں سے رام کر لیتی تھی.محترمہ کو بولنا تو خوب آتا تھا.وہ اسے دیکھتے ہوئے کافی پی رہا تھا.اسنے سبکو باتوں میں لگایا ہوا تھا سواۓ شیرافگن کے جو اسے دیکھنے میں مصروف تھا.
اگلے دن یونی سے آ کر اسنے تھوڑا آرام کیا عصر کے وقت اٹھ کر وہ جلدی سے تیار ہوئی بلیو خوبصورت سا لباس پہنا ، بالوں کی چوٹی بنائی پھر موبائل لے کر بیٹھی ایمان کو کال کر کے جلدی آنے کا کہا.ایمان نے بھی اوکے کہا اسے بھی سب سے ملنے کی جلدی تھی. موبائل رکھ کر وہ نیچے آئی سب تیاریوں میں لگے تھے.وہ دادو کے پاس صوفے پر بیٹھی
“اتنی جلدی تیار ہو گئیں آپی”امل نےحیرت کہا “ہاں ناں” اسنے مختصر جواب دیا پھر اٹھ کر کچن کی طرف گئی.وہاں تائی امی ، نوری اور اسکی اماں کام میں مصروف تھیں.
“تائی امی مجھےبھی کوئی کام بتائیں”حیات نے انکےقریب آتے ہوئے کہا.اسکی اماں نے پلٹ کر اسےدیکھا “میری بیٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں لگتی بھابی” انہوں نے مسکرا کر سارا بیگم کو دیکھا.حیات نے انھیں دیکھ کر منہ بسورا.”ارے الماس تمہیں ہی شکایت تھی ناں کہ حیات کام نہیں کرتی اب کر رہی ہے تو تم ایسے کیوں کہہ رہی ہو” انہوں نے مسکرا کر الماس بیگم کو اشارہ کیا کہ حیات نے انکی ایسی باتوں پر ابھی باہر بھاگ جانا ہے. “ٹھیک کہا بھابی آؤ میری گڑیا سلاد بنا دو تم” انہوں نے محبت سے حیات کو بلایا
“اوکے اماں” وہ شیلف کی طرف آ کر کام کرنے لگی جبکہ دونوں خواتین نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا.انکی لاڈلی شکر ہے کچن کی طرف آئی تھی .مغرب تک ملک فیملی آچکی تھی. ایمان سب سے مل کر بہت خوش ہوئی ایسے جیسے سالوں بعد ملی ہو.
حیات تو اسے لے کر بیٹھ گئی. ان دنوں میں جو بھی ہوا وہ ایمان کو بتانے لگی.شیرافگن اور مجتبیٰ باتوں میں مصروف تھے.امل بھی مریم کے ساتھ گپیں لگا رہی تھی.بڑوں کا الگ گروپ بنا تھا.سب اپنی اپنی باتوں میں مگن تھے.پھر سب نے خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا.کھانے کے بعد بھی محفل جمی رہی.کافی دیر بعد وہ جانے کے لئے اٹھے.باقی سب رخصت ہوئے اور ایمان یہی رہ گئی تھی.جب سب اپنے کمروں میں چلے گئے تو حیات ، ایمان کو لئے اپنے کمرے میں آئی.
“آپی” حیات نے اسے پکارا جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی چُھمکے اتار رہی تھی.
“ہوں..”اسنے مصروف انداز میں کہا
“مجتبیٰ بھائی کیسے لگے آپکو”
“تمہیں کیوں بتاؤں” ایمان نے ہنسی دبائی
“آپی…” اسنے ذور دے کر کہا
“جی آپی کی جان”وہ بیڈ پر اسکے ساتھ بیٹھی
“بتائیں ناں”اسنے منت سے کہا
“بتا دوں ؟”ایمان نے اسے تنگ کیا
“اچھا چھوڑدیں نہ بتائیں”وہ منہ پھلاکر بیٹھی
“بہت اچھے ہیں مجتبیٰ لوونگ ، کیرنگ سے” ایمان نے دھیمے سے اسکے کان میں کہا
“اہم میں صدقے” حیات نے ہنس کر اسکا گلابی چہرہ دیکھا.”میں نے تمہیں بتادیا پرخبردار جو مجھےتنگ کیاتم نے”اسنے انگلی اٹھا کر کہا
“میں نے تو اب مجتبیٰ بھائی کو بتانی ہے یہ بات”وہ دور ہو کر شرارت سے بولی
“حیات!!”ایمان نے آنکھیں نکالیں تو اسنے کان پکڑ لئے.ایمان بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی.
“کہاں” حیات نے اسے دیکھا
“بھائی سے گپیں لگانے جارہی ہوں”
“کیوں آپی” وہ ایمان کو جانے نہیں دینا چاہتی تھی.”ارے لڑکی بھائی کی یاد آتی رہی مجھے اب اس سے مل لوں ناں”ایمان اسے کہتی کمرے سے جانے لگی.حیات منہ بنا کر بیٹھ گئی.ابھی اسنے آپی سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کی تھی اور آپی چلی گئیں شیرمار سے گپیں لگانے.
••••••••••
ایمان نوک کر کے شیرافگن کے کمرے میں داخل ہوئی.وہ صوفے پر بیٹھا تھا.ہاتھ میں فائل پکڑی تھی.سر اٹھا کر ایمان کو دیکھا تو ہلکے سے مسکرایا”آجاؤ ایمان بیٹھو”اسکے کہنے پر وہ صوفے پر اسکے ساتھ بیٹھ گئی.
“کیسی ہو تم ؟ خوش تو ہونا؟اسنے فائل بند کر کے ٹیبل پر رکھی اوراسے دیکھ کر پوچھا ابھی دونوں بھائی، بہن کو فرصت سے بات کرنے کا موقع ملا تھا.
“ٹھیک ہوں بھائی اور خوش بھی” اسنے مسکرا کر جواب دیا “بہت اچھے.. ورنہ مجتبیٰ میرے ہاتھوں سے نہیں بچتا “اسنےمذاق سے کہا ایمان ایک دم سے ہنسی تھی.
“بھائی مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے”وہ سنجیدہ ہوئی.”ہاں بولو ناں”شیرافگن نےاسے دیکھا “مجتبیٰ کے کزن علی ہیں ناں وہ…”وہ رکی اور شیرافگن کو دیکھاکہ آگے بات جاری رکھے یا نہیں کہیں وہ غصہ نہ ہوجائے.
“ہاں”شیرافگن کے ماتھے پر شکنیں پڑیں اسنے ایمان کو بات جاری رکھنے کا اشارہ کیا.
“علی نے اپنی ماماکو مجھ سے بات کرنے بھیجا تھا حیات کے لئے”
“تم نے کیا جواب دیا؟”شیرافگن کاپارہ ہائی ہونےلگا.”کچھ نہیں پر بھائی وہ جلد گھر آنا چاہتی ہیں.بات آگے بڑھانے کے لئےاسلئے آپ سے کہنے آئی ہوں کہ آپ دادو اور ماما،بابا سے بات کریں ورنہ کہیں دیر نہ ہو جائے”اسنے بھائی کو دیکھا جسنے کوئی جواب نہ دیا بس سوچوں میں گم تھا.
“ذیادہ سوچیں مت اور جلد بات کر لیں” اسنے محبت سے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
“انہوں” وہ سوچوں کے جال سے باہر نکلا
“آپ حیات سے محبت کرتے ہیں ناں؟”ایمان کے ایک دم سے پوچھ لیا.اسکی بات پر شیرافگن نے حیرت سے بہن کو دیکھا
“سچ کہتے ہیں بہنوں سے بھائیوں کی کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی پوری جاسوس ہوتی ہو تم بہنیں” اسنے مسکرا کر ہلکے سے اسکے سر پر چپت لگائی تو وہ کھلکھلائی”تو بھائی آپکو کیا لگا تھا آپ خاموشی سے دیوداس بنے رہے گے اور مجھے پتہ ہی نہیں چلے گا ایسا تو ہونے سے رہا ناں”
“اللّه…میری بہن تو بہت چالاک ہے توبہ” اسنے کانوں کو ہاتھ لگایا.
“آخربہن کس کی ہوں”ایمان نے اسکی طرف اشارہ کیا.شیرافگن ایک دم سے ہنسنا.
“ویسے اب اگر تمہیں پتہ ہے کہ تمہاری جھلی صاحبہ کو اس شان دار بندے نے پسند کیا ہے تو علی کو اس سےدور رہنے کا سگنل دے دو ” شیرافگن کو شادی میں علی کا حیات کو دیکھنا یاد آیا.اسےعلی پر خوب تیش آیا تھا.
“ایٹس ناٹ فئیر بھائی وہ جھلی نہیں بلکہ بہت سمجھدار ، پیاری سی لڑکی ہے.جانتے تو آپ بھی ہیں ناں”اسنے بھائی کو دیکھا جو بے ساختہ مسکراہٹ لبوں پر دبا گیا.
“اور بھائی علی کی ماما کو منع کر بھی دیا تو کل کو کوئی اور رشتہ بھی تو آ سکتا ہے اور اگر دادو نے کسی کو ہاں کر دی تو؟ کیونکہ گھر میں کسی کو نہیں معلوم کہ یہ شاندار شخص ہماری جھلی کو پسند کرتا ہے” سنجیدگی سے کہتے آخر میں اسنے شرارت سے کہا.شیرافگن واقعی سوچنے لگا ایسا ہو بھی سکتا ہے.اسے بات کرنی چاہیے. اس پیاری سی لڑکی کو اپنے نام کر دینا چاہیے تا کہ پھر کوئی اور اسے ان نظروں سے نہ دیکھ سکے. اسنے ایمان کو دیکھا جو اسکے جواب کی منتظر تھی.”پھر ٹھیک ہے کل بات کرتا ہوں دادو سے تم بھی ساتھ چلنا پر یہ بات اس محترمہ تک نہ پہنچے”ایمان کو بڑی ہنسی آئی اسکی بات پر اسے آخر حیات کی نظروں میں اپنی ہٹلر والی امیج بھی تو برقرار رکھنی تھی.
“اوکےبھائی ڈن” وہ انگوٹھے اٹھا کر ہنس کر ڈن کہتی اٹھ کھڑی ہوئی. پھر بھائی کو شب بخیر کہتی وہاں سے چلی گئی.
پیچھے شیرافگن سوچ رہا تھا.سب سےکیسے بات کرے گا. یہ مشکل کام تھا.ہمیشہ تو وہ حیات کو ڈانٹتا رہتا تھا.اور اب یوں اچانک…. پر وہ کونسی کم تھی.اسنے خود کو تسلی دی کہ وہ اتنا بھی جلاد نہیں.اسکی بات پر حیات کا کیا ریاکشن ہوگا ؟وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا.وہ تو ویسے ہی اس سے بھاگتی پھرتی تھی رشتے کی بات پر تو اسنے غائب ہی ہو جانا تھا.اسنے لمبی سانس کھینچ کر بالوں میں ہاتھ پھیرا پھر اٹھ کر بیڈ کی طرف آیا.
“اب بھاگتی ہے یا کچھ بھی یہ بات تو طے ہے وہ صرف میری ہی ہو گی.اسے کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھنا میرے بس کی بات نہیں، بس دیکھ لیں گے کیاکرتیں ہیں محترمہ…پیچھے تو میں نے بھی نہیں ہٹنا اپنابنا کر ہی چھوڑوں گا انشاءاللّه” مدھم لہجے میں مسکرا کر کہا گیا. پھر وہ جلد ہی سونے کے لئے لیٹ گیا.کل اسے میٹنگ جو کرنی تھی بڑوں کے ساتھ اور اسکے لئے اسکا فریش ہونا بہت ضروری تھا. ہے ناں؟ کل وہ سب سے اپنے لئے بہت قیمتی چیز مانگے گا اور اسے پکا یقین تھا.وہ اسے ضرور ملے گی.وہ حیات سے محبت کرنے لگا تھا.اسے تو پا کر ہی رہے گا.وہ اس ضدی دل کی خواہش تھی.شیرافگن اس معاملے میں بہت سیلفِش تھا.اسے جو چاہیےہوتاوہ پاکر ہی رہتا.
••••••••••••
وہ جیسے ہی یونی پہنچی اسے بریکنگ نیوز سنائی گئی.وہ نیوز پر ریایکٹ بھی نہ کر سکی کہ وہ اسے کھینچ کر کلاس کی طرف بڑھ گئیں. کیونکہ وہ کلاس کے لئے لیٹ ہو رہی تھیں.جب وہ کلاس لے کر باہر نکلیں تو اپنی فیورٹ جگہ پر بیٹھیں.”مجھے یقین نہیں آ رہا ہمارا کہا سچ ہونے والا ہے”حیات نے خوشی سے انہیں دیکھ کر کہا
“اس بات کو سچ تو اس بھولی نے کیا ہے. پوچھو ذرا کیا جادو کیا ہے اسنے اپنی تائی اور انکے بیٹے پر جو اسکے واپس آتے ہی اسکے پیچھے دوڑے چلے آۓ” تابی اسے تنگ کرنے کے لئے بولنا شروع ہو چکی تھی.باقی سب مسکرا رہیں تھیں .سبین مسکین سی صورت بناۓ بیٹھی تھی.اسے خود خبر نہ تھی کہ اسنے کیا جادو کیا بھلا پر جادو تو ہو چکا تھا.
“اچھا اس کو بولنے تو دو”حریم نے کہا
“چلو بولو سبین”مینا سننے کے لئے آگے ہو کر بیٹھی.سبین نے انھیں دیکھ کر چشمہ ٹھیک کیا “ارے ٹھیک ہے تمہارا لاڈلہ چشمہ اب جلدی سے بات شروع کرو” حیات نے اسے ٹوک کر کہا
“مجھے ذیادہ نہیں پتہ بس بات کی ہے تایا اور تائی نے بابا سے ابھی کچھ فائنل نہیں ہوا” اسنے سر جھکا کر مدھم لہجے میں بتایا
“اف اللّه یہ مدھم لہجہ قربان جاؤں” مینا نے اسے گلے لگایا اسکا سویا ہواپیار جاگ اٹھا تھا.
“رشتہ بھی جلد پکا ہو جائے گا بچہ”حیات نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بڑوں کی طرح کہا
“بھولے بھائی کا نام کیا ہے؟”تابی نے پوچھا
“بدتمیز ادب سے نام لو ہمارے فیوچر جیجو ہوتے ہیں”مینا نے اسکے کندھے پر چپت لگائی.
“تم لوگ میرے کندھے کو ایک بار میں ہی توڑ دو بار بار کیوں زحمت کرتی ہو”اسنے منہ بنا کر غصےسےکہا کیونکہ اسے ہمیشہ کندھے پر ہی پڑتیں تھیں.”آؤ میری پیاری دوست میں توڑتی ہوں تمہارا کندھا “حیات ہاتھ اٹھا کر اسکے قریب ہوئی .وہ ایک دم ڈر کے پیچھے ہٹی.اسکے ڈرنے پر سب نے قہقہہ لگایا.
“اب چپ!! نام تو بتانے دو سبین کو”حریم نے سبکو خاموش کرایا.”بولوچشمش”حیات نےکہا ” عبدالله نام ہے”وہ کہتے ہوئے شرما سی گئی”بہت پیارا نام ہے” حریم نے مسکرا کر کہا
“شرمانا تو دیکھو” مینا نے شرارت سے سبکو کو متوجہ کیا.پھر معصوم سبین تھی اور اسے تنگ کرنے والی اسکی شیطان دوستیں.
واپسی کے وقت حیات بیگ ٹھیک کرتی پارکنگ کی طرف بڑھ رہی تھی.جب کسی سے ٹکرائی تھی.سامنے والا جیسے خود اسکے سامنے آیا تھا.نظر اٹھا کر دیکھا تو اسکے پیشانی پہ بل پڑے.سامنے والا اسے گھورنے میں لگا تھا.ساتھ ایک دوست بھی تھا جو دانت نکال رہا تھا.وہ سائیڈ سے ہو کر جانے لگی کہ اسنے آگے ہو کر اسکا راستہ روکا.
“حیات!!!”چبا کر کہا گیا
“کیا مسئلہ ہے آپکو مسٹر”وہ غصے سے بولی
“احمر…احمر جمالی کہتے ہیں مجھے”اسکے چہرے پر نظریں جما کر بولا
“راستے سے ہٹیں”حیات کا چہرہ غصے سے لال ہونے لگا.
“ابھی کے لئے ہٹ جاتے ہے پر…”وہ بات ادھوری چھوڑ کر اسکا جائزہ لینے لگا.جب وہ سائیڈ پر ہوا تو حیات جلدی سے آگے بڑھی.
“شی از بیوٹیفل” اسے جاتے دیکھ کر احمر جمالی بڑبڑایا.اسکے ساتھ کھڑا سلمان ذور سے ہنسا.”کہا تھا ناں پوری بلا ہے.اب کیا کرنا ہے اسکا”اسکی بات پر احمر جمالی کمینگی سے ہنسا.”آہ..اب تو یہ دل بے چین ہوگیا ہے.لڑکی قیامت ہے تیرے بھائی کا دل لے گئی.شازمہ کے بدلے اس پرنسیس کا سودا برا نہیں ہے”وہ دور ہوتی حیات کو دیکھ کرسینے پہ ہاتھ پھیر کر بولا.سلمان نے ایک لڑکی سے حیات کا پتہ لگایا تھا.احمر جمالی کل سے اسے دیکھ رہا تھا پر آج دونوں کا ٹکراؤ ہو گیا تھا.اسے قریب سے دیکھنے پر اسکے اندر کا شیطان باہر آنے کے لئے بے تاب ہونے لگا.
حیات چلتی ہوئی غصے سے بڑبڑا رہی تھی. “اسٹوپڈ ، بدتمیز میرا نام کیسے پتہ چلا اس کمینے انسان کو” اسکے منہ سے اپنا نام اسے ذرا اچھا نہ لگا.شازمہ کی باتوں کے بعد تو اسے احمرجمالی سے گھن ہونے لگی تھی.
“ٹھیک کہتے ہیں افگن بھائی میں اندھی ہوں. میں دیکھ کر چلتی تو اس بدتمیز سے نہ ٹکراتی”اسے خود پر غصہ آنے لگا اور شیرافگن کی بات اب اسکی سمجھ میں آئی تھی.جلدی سے وہ کار میں بیٹھی تو بابا نے کار آگے بڑھا دی اور وہ اپنا غصہ کم کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
جاری ہے
