Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17

عباسی ہاؤس میں صبح سے ہنگامہ مچا تھا.آج شیرافگن اور حیات کا نکاح تھا.سب اس تقریب کو چار چاند لگانے کی بھر پور کوشش میں تھے.ایمان اور امل خوشی سے کام کررہی تھیں.حیات اور شیرافگن سب کو حد سے ذیادہ پیارے تھے.حریم، مینا ، تابی اور سبین جلد ہی آگئیں تھیں.سب حیات کے کمرے میں تھیں.حیات نے پالر جانے سے انکار کر دیا تھا. اسلئے بیوٹیشن کو گھر پر بلا لیا تھا.شیرافگن اپنے کمرے میں فون پر کسی سے بات کر کہا تھا.دوسری طرف کی بات سن کر اسکاچہرہ غصے سے لال ہوا.”ولید میں آرہا اسے ابھی لے کر مت جانا.میری ایک ملاقات اس کے ساتھ تو ہونی چاہیے ناں.”اسنے چباکر کہا.”اے افگن یار آج تمہارا نکاح ہے.تم مت آنا میں اسے دیکھ لونگا.”ولید نے اسے روکا
“نہیں ولی میں کتنے دنوں سے اسکے انتظار میں ہوں اب کیاایسےہی چھوڑ دوں؟ ایسا تو ممکن نہیں”اسنے تیش سے کہہ کر کال کاٹ دی تا کہ ولید اسے روک نہ سکے.اسنے کار کی چابی اٹھائی اور کمرے سے باہر نکلا.مہمان آہستہ آہستہ آنے لگےتھے.وہ پورچ میں پہنچا جب ایمان اسکے پیچھے آئی.
“بھائی کہا جا رہے ہیں؟”
“ایک ضروری کام ہے.” اسنے جلدی سے کہا
“پر بھائی نکاح ہے آپکا تیار بھی نہیں ہوئے آپ” ایمان نے بھائی کو دیکھ کر کہا
“بس میں جلدی آجاؤں گا.پر اگر لیٹ ہوبھی گیا تو تم اور مجتبیٰ سنبھال لینا کچھ وقت کے لئے اوکے.”ایمان کا سر تھپک کر وہ جلدی سے کار میں بیٹھا.پھر زن سے کار گیٹ سے باہر نکلی.پولیس جیپ کے سامنے اسنے اپنی کار روکی. سنسان سی جگہ تھی جہاں ایک گلی میں جیپ کھڑی تھی.کچھ پولیس آفیسرز بھی وہاں موجود تھے.شیرافگن کار سے نکلا ، ولید اسکی طرف بڑھا.”تمہیں کہا بھی تھا کہ مت آنا پر تم کسی کی کہاں مانتے ہو.”ولید نے خفا ہو کر کہا.”کہاں ہے وہ؟”شیرافگن نے سنجیدگی سے پوچھا.”چلو میرے ساتھ” ولید نے اسے اشارہ کیا.دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے.”اپنا حساب جلدی پورا کرو یار ابھی یہ خبر اسکے باپ تک پہنچ جانی ہے پھر تمہیں پتہ ہی ہے.اپر سے آرڈر آنے شروع ہونگے.اسے لے کر مجھے جیل پہنچنا ہے.”ولید چلتے ہوئے اس سے بات کر رہا تھا.شیرافگن نے سر ہلایا. دونوں ایک چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوئے. جہاں کرسی پر احمرجمالی کو باندھا ہوا تھا. انھیں دیکھ کر وہ چیخا.”تم مجھے یہاں کیوں لاۓ ہو ہاں.میرے باپ کو پتہ چلنے دو تمہارا وہ حال کریگا کہ تم یاد رکھو گے.”وہ ولید کو دیکھ کر غصے سے بولا.شیرافگن چلتا ہوا احمر جمالی کے قریب آیا اورکھینچ کرایک تھپڑ اسکے منہ پر مارا.احمر جمالی کاچہرہ گھوم کر رہ گیا.اسے اس تھپڑ کے ساتھ اس لڑکی کا تھپڑ بھی یادآیا.سب کا خود پر ہنسنا یاد آیا.اسنے لال نظروں سے شیرافگن کو دیکھا.”ولید ذرا کھولو اسے”شیرافگن نے ولید کو اشارہ کیا. “کنٹرول یار”ولید نے اسے ٹوکا پروہ بہت سنجیدہ تھا.”ابھی اس پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے سمجھو اس بات کو”ولید عاجز آ کر بولا.شیر افگن نے مسکرا کر اسکا کندھا تھپکا.”کوشش کروں گا تمہاے مجرم کے چہرے پرنشان نہ پڑے.”اسکی بات پر ولید سر جھٹک کر احمر جمالی کی طرف آیا.وہ جانتا تھا اسکا دوست بہت ضدی تھا.اسنے کرنی تو اپنی ہی تھی. احمر جمالی حیرت سے سب دیکھ رہا تھا.جب ولید اسے کھولنے لگا تو احمرجمالی چیخا.”تم ایسا نہیں کر سکتے آفیسر کون ہے یہ؟کیوں کر رہا ہے ایسا.”احمر جمالی ڈرکر بولا.اسے ڈر تھا کہ سامنے کھڑا وہ شخص اسے مار ڈالے گا.ولید اسے کھول کر جانےلگا.شیرافگن،احمر جمالی کی طرف بڑھا.احمر جمالی ایک دم ڈر کر پیچھے ہوا “آفیسر…مجھے بھی لے کر جاؤ” وہ ولید کو جاتے دیکھ کر چیخا.اسے شیرافگن سے خوف محسوس ہو رہاتھا.ولید اسکی بات سنےبغیر چلاگیا.”تم پولیس آفیسر نہیں ہو.پھر کیوں مارناچاھتے ہو مجھے.کیا دشمنی ہے مجھ سے …چھوڑو مجھے”وہ بولے جا رہا تھا جب شیرافگن نے ایک دم غصے سے اسکا گریبان پکڑا.”میں پولیس آفیسر نہ سہی پر تمہیں سبق ضرور سکھاؤں گا.تاکہ تمہیں پتہ چلےجس لڑکی کو تم نےاکیلاسمجھ کر اسکے ساتھ بدتمیزی کی وہ اکیلی نہیں ہے.ایک مضبوط ساتھی ہے اسکا جو تم جیسوں کو اچھے سے ہینڈل کر سکتا ہے.”شیرافگن نے چبا کر کہا پھر احمرجمالی کو دھکا دیا.جو پیچھے دیوار کے ساتھ جا کر لگا.آنکھیں پھاڑے وہ شیر افگن کو دیکھ رہا تھا.”حیات….کی بات کر رہے ہو تم؟”احمر جمالی اٹک کر بولا.”منہ بند کرو خبر دار اپنی گندی زبان سے حیات کا نام لیا تو.”شیرافگن نے غصے سے اسکے منہ پر مکہ مارا.وہ زمین پر جا کر لگا.شیرافگن نے اسے خوب لگائیں.پھر اسےگریبان سے پکڑ کر اٹھایا جھٹکے سے اپنے سامنے کیا.شیرافگن اسکا منہ توڑ دینا چاہتا تھا پر وہ ولید کے لئے کوئی پرابلم کریٹ نہیں کرنا چاہتا تھا.
“جو تم نےکیا تھا ناں اسکے بدلے میں تمہاری جان لے لیتا پر میں ان باقی لڑکیوں کو انصاف دلانے کے لئے قانونی طور پر تمہیں سزا دلانا چاہتا ہوں.”شیرافگن نے اسے جھٹکے سے چھوڑا پھر پلٹا کر جانے لگا.جب احمرجمالی ذور سے ہنسا”انصاف ، سزا بھول جاؤ اس بات کو کہ مجھے سزا ہوگی اور حیات…”اسنے ٹھنڈی آہ بھری”اسےتو نہیں چھوڑوں گا.”احمر جمالی اتنی مار کھا کر بھی نہیں سدھرا تھا.ڈھیٹ بنا ہنس رہا تھا.اسکی بات سن کر شیرافگن کےتن من میں آگ ہی تو لگ گئی تھی.وہ غصے سے ابلتا احمرجمالی کی طرف پلٹا.”تم ذلیل انسان…تمہاری یہ ہمت”شیر افگن نے ایک کے بعد ایک تھپڑ اسکے منہ پر مارے.وہ غصے سےپاگل ہو رہا تھا.احمرجمالی ذور ذور سے چیخا.اسکی آواز سن کر ولید جلدی سے اندر آیا.”چھوڑو افگن….چھوڑ یار” ولید نے بڑی مشکل سے شیرافگن کو پیچھےکیا احمر جمالی بے دم سا زمین پر گرا.”چھوڑ ولی اسے آج بتاتا ہوں انصاف اور سزا کیا ہوتی ہے.”وہ غصے سے لال ہورہا تھا.”چلو آؤ اسے ہم دیکھ لینگے”ولید،شیرافگن کو پکڑ کر لے جانے لگا.ایک منٹ ولی”اسنے ولید سے خود کو چھوڑایا.پھر احمر جمالی کے قریب جھکا. “میری حیات سے دور رہنا سمجھے ورنہ جان سے مار ڈالوں گا”مدھم لہجے میں چبا کر کہتا وہ اٹھا پھروہاں سے نکلتا چلا گیا.ولید اسکے پیچھے گیا.”ٹھنڈا کر خود کو یار”ولید نے اسکا کندھا تھپکا.”ولی یہ کسی قیمت پر بچنا نہیں چاہیے”شیرافگن نے سنجیدگی سےکہا
” میں پوری کوشش کرونگا”ولید نے کہا پھر آفیسرز کو اشارہ کیا.احمرجمالی کو اٹھا کر جیپ میں ڈالاگیا.وہ لوگ وہاں سے چلے گئے. شیرافگن نے اپنا غصہ ٹھنڈا کیا پھر کار میں بیٹھا اور فل سپیڈ میں کار ڈرائیو کرنے لگا. اسے جلدی سے گھر پہنچنا تھا.
•••••••••••
عباسی ہاؤس میں گہما گہمی عروج پر تھی. سارا گھر روشنیوں سے جگ مگ کر رہا تھا.ہال کو بہت خوبصورتی سے پھولوں سےسجایاگیا تھا.ہال کےدرمیان پیارا سا اسٹیج بنایا گیا تھا. جسکو درمیان سے گولڈن نیٹ کاکپڑے لگا کر سیپریٹ کیا گیا تھا.مہمان اور مولوی صاحب بھی آ چکے تھے.دادو نے ایمان کو حیات اور شیرافگن کو نیچے لانے کا کہا پر ایمان نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ابھی حیات کو تیار کیا جا رہا ہے.کافی دیر گزر چکی تھی پر دولہا صاحب غائب تھے.شمس صاحب ،ایمان کی طرف آۓ.”کہاں ہے شیرافگن کب سے نظر نہیں آرہا کچھ دیر میں نکاح ہونے والا ہے. وہ اتنا لاپرواہ کب سے ہوگیا” شمس صاحب نے سنجیدگی سے کہا.”وہ بابا بھائی اپنے کمرے میں ہی ہیں بس کچھ دیر میں آرہے ہیں.”ایمان نے جلدی سے کہا.اسکی بات پر شمس صاحب سر ہلا کر چلے گئے. ایمان پریشان سی ہوگئی شیرافگن ابھی تک نہیں آیا تھا.وہ جلدی سے مجتبیٰ کی طرف بڑھی.”مجتبیٰ آپ جلدی سے بھائی کو کال کریں اور انھیں آنےکا کہیں.سب انکا پوچھ رہے ہیں.”
“اچھاتم پریشان نہ ہو میں کال کرتا ہوں.” مجتبیٰ نے نرمی سے کہا.”میں ذرا حیات کو دیکھ لوں”ایمان نے کہا تو مجتبیٰ نے سر ہلایا پھر شیرافگن کو کال کرنے لگا.شیرافگن نے کال پک کی.”اوۓ لالے کہاں ہو جلدی آؤ ورنہ نکاح نہیں ہونے والا تمہارا.سب کب سے انتظار کر رہے ہیں.”مجتبیٰ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا.”بس یار پہنچ گیا ہوں.”شیرافگن نے جلدی سے جواب دیا.پھراسے بائے کہہ کر فون بند کر دیا.
حیات کو تیار کر دیا گیا تھا.تابی، حریم ، سبین اور مینا حیات کے بیڈ پر بیٹھیں گانے گا رہیں تھیں.جبکہ حیات آئینے کے سامنے کرسی پر بیٹھی تھی.بیوٹیشن نے اسکا خوبصورت سا جوڑا بنایا پھر اسکا دوپٹہ سیٹ کرنے لگی. حیات خوبصورت سے گولڈن لہنگا، شرٹ میں ملبوس تھی.آنکھوں سے ہم رنگ لباس نے اسکی آنکھوں کو مذید روشنی اور سنہرا پن بخشہ تھا.اسکا میک اپ ہلکا تھا.پلکوں پر مسکارا،لبوں پر پنک لپ اسٹک تھی.ناک میں نازک سی نتھ ڈالی تھی.نازک جیولاری وہ مغلیہ شہزادی لگ رہی تھی.بیوٹیشن نےحیات کو گولڈن نیٹ کا دوپٹہ اوڑھایا جس میں اسکی صراحی دار گردن واضح ہو رہی تھی. بیوٹیشن کام ختم کر کےکمرے سے نکل گئی. جبکہ حیات وہی کرسی پر بیٹھی رہی.اسکی چڑیلیں گانا، گانے میں مصروف تھیں.دروازہ کھلا اور ایمان روم میں داخل ہوئی.وہ حیات کے قریب آئی اور مسکرا کر اسکی پیشانی چومی “میری گڑیا آج حد سے بڑھ کر پیاری لگ رہی ہے.”ایمان نے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا.حیات اداس سی بیٹھی تھی.آج وہ ہمیشہ کے لئے کسی کی ہونے والی تھی.وہ عجیب سے احساسات میں گھری ہوئی تھی. ایمان کی بات پر مینا بیڈ سے چھلانگ لگا کر ان تک آئی.”آپی ہماری گڑیا تو پیاری لگ رہی ہے آپ ذرا اپنے گڈے کو بھی دیکھ لیں. وہ تیار ہوئے کہ نہیں”مینا نے شرارت سے کہا.ایمان کے دماغ میں گھنٹی بجی.”ہاں میں ذرا بھائی کو دیکھ آؤں جب تک تم سب نیچے جا کر دیکھو اگر کوئی کام ہے تو.” ایمان نے سب کو دیکھا. “اچھا جاتے ہیں آپی…پہلے حیات کوکالا ٹیکا لگا لیں.”حریم نے ہنس کر کہا پھر کاجل سے چھوٹا سا ٹیکا حیات کے کان کے پیچھے لگایا. “بدلہ لیا ہے لڑکی نے”تابی شرارت سےبولی. حریم کی منگنی میں حیات نے بھی اسے ایسے ہی ٹیکا لگایا تھا.”ماشاءاللّه حیات بہت پیاری لگ رہی ہو.”سبین نے محبت سے اسے دیکھا. حیات سرہلا کر ہلکے سے مسکرائی گال میں پڑتےڈمپل نےاسکے حسن کو چارچاند لگادئے تھے. “آج ہماری پیاری کی بولتی بند ہے.”تابی نے حیات کا چہرہ اپر کر کےکہا۔
سب کے ساتھ ایمان بھی ہنسنے لگی.حیات نے منہ بنایا.
“اچھاچلو لڑکیوں جاؤ نیچے پھر حیات کو بھی لےکرجانا ہے.”ایمان نے کہا تو سب کمرے سے نکل گئیں.دوسری طرف شیرافگن بیک ڈور سے گھر میں داخل ہوا.وہ حیات کے کمرے کے سامنے سے گزر رہا تھا.جب ہلکے کھلے دروازے سے اسے حیات کی جھلک دکھائی دی.جو ایمان سے بات کر رہی تھی.شیرافگن کے قدم تھم گئے.وہ مسمرائز رہ گیا.پلکیں تک نہ چھپک سکا.وہ اس قدر پیاری لگ رہی تھی کہ شیر افگن کو اپنا دل اسکی طرف بھاگتا ہوا محسوس ہوا.وہ کچھ دیر پہلے اسی لڑکی کے لئے تو لڑ ا تھا.وہ لڑکی اس قابل تھی بھی کہ اسکی خاطرجان کی بازی لگادی جاتی.ایمان پلٹ کر دروازے تک آئی.”ارے بھائی شکر ہے آپ آگئے پلیز اب جلدی تیار ہو جائیں.” بھائی کو دیکھ کر ایمان کھل اٹھی تھی.پر بھائی صاحب کی نظریں اور ذہن کہیں اور تھا.ایمان نے ہنسی دبا کر اسکا شانہ ہلایا.وہ ایک دم چونکا پھر بہن کو دیکھا.
“ہاں..ایمان…تم”اسنے ہلکی مسکراہٹ کےساتھ بالوں میں ہاتھ پھیرا.”جی بھائی میں!!! “ایمان نے ہنسی دبائی.”تمہاری بھابی سے مل لوں؟” شیر افگن نےاسے دیکھ کر شوخی سے پوچھا
“بھابی” ایمان نے الجھی نظروں سےبھائی کو دیکھا پھر سمجھ کر مسکرائی.آج سے حیات سے اسکا نیا رشتہ بننےجا رہا تھا.وہ ایمان کی بہن ، دوست اور اب بھابی بننے جا رہی تھی. “جی نہیں…بھائی آپ نہیں سکتے اور آج میں آپکی نہیں حیات کی بہن ہوں.”ایمان نےمسکرا کر کہا “بھائی سے دھوکہ”شیرافگن نے خفگی سے اسےگھورا.”اب ایسی بھی بات نہیں ،آپ جلدی جاکر تیار ہو جائیں نیچے سب ویٹ کر رہے ہیں.”ایمان نے بھائی کو دیکھ کر کہا .”ایک بار ملنے دو ورنہ تیار نہیں ہونا میں نے” شیرافگن نے انگلی اٹھا کر بہن کو وارن کیا “اچھابھائی اچھا…پر جلدی پلیز”ایمان ہاتھ اٹھا کربولی پھر مسکراہٹ دبا کردروازے سے ہٹ کر باہر چلی گئی.شیرافگن کمرے میں داخل ہوا.حیات شیشے کے سامنے کھڑی اپنا چھمکا ٹھیک کر رہی تھی.شیرافگن اس کے قریب آیا. حیات نے شیشے میں اسے اپنے پیچھے کھڑے دیکھا تو ایک دم اسکی طرف پلٹی.لہنگے میں اسکا پاؤں الجھا وہ گرنے کو تھی جب شیر افگن نے آگے بڑھ کر اسے تھاما.”سنبھل کر”شیر افگن نے اسکے چہرے پر نظریں جما کر کہا. حیات نے اپنے بازو اسکی گرفت سے چھڑاۓ. پھر گھور کر اسے دیکھا.”آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟”حیات نے پوچھا.شیرافگن اسے دیکھ کر مسکرایا.سجے سنورے روپ میں وہ شیرافگن کا دل لوٹ لے گئی تھی.”آج تو سچ میں شیر افگن کی پرنسیس لگ رہی ہو.”شیرافگن نے کہا.حیات کا رنگ گلابی ہوا.شیرافگن تودیوانہ ہواجا رہا تھا.اسکے مسلسل دیکھنے پر حیات نے جھجھک کر گردن جھکالی.نجانے کیوں پر اسکی دھڑکنوں نے رفتارپکڑ لی تھی.سانسیں اٹکنے لگیں.اپنی حالت کو وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی.”آپ جائیں یہاں سے”حیات نے مدھم آواز میں کہا.”جارہا ہوں بس تمہیں ایک نظر دیکھنے آیا تھا.” نرمی سے کہتا ایک محبت بھری نظر اس پر ڈال کر وہ کمرے سے نکل گیا اورحیات کی سانسیں بحال ہوئیں.
“یہ زندگی تیرے ساتھ ہو”
“یہ آرزو دن رات ہو”
“میں تیرے سنگ سنگ چلوں”
“تو ہر سفر میں میرے ساتھ ہو”
شیر افگن بلیک سوٹ میں ملبوس تھا. بال اچھے سے سیٹ تھے.حیات کو حریم نے ریڈ نیٹ کا دوپٹہ اوڑھا کر اسکا چہرہ ڈھانپ لیا.حیات کی چاروں دوستوں نے حیات اور شیر افگن کے سر پر ایک دوپٹہ پکڑا جسکے ساۓ تلے وہ دونوں سیڑھیاں اتر رہے تھے. وہاں سب کی نظروں کا مرکز وہ دونوں تھے. اسٹیج کے سامنے رک کر لڑکیوں نے حیات کو اسٹیج کے ایک طرف بٹھایا اور نیٹ کے پردے کی دوسری طرف شیرافگن دوستوں اور کزنز کے ساتھ بیٹھا.وہ لوگ آمنے سامنے تھے.شیر افگن کی نظریں بھٹک بھٹک کر حیات پر پڑ رہیں تھیں.اسٹیج سے نیچے چاروں طرف سب مہمان کھڑے تھے.کچھ دیر بعد گھر کے سب بڑے ، مولوی صاحب کے ساتھ اسٹیج پر آۓ. مولوی صاحب نے دونوں کا نکاح پڑھایا.نکاح کے بعد ساری محفل میں مبارک سلامت کا شور مچا تھا. دادو نے حیات کو اپنے ساتھ لگا کر اسکی پیشانی چومی.سب اسے گلے لگاکر مبارک دے رہےتھے پراسکی آنکھیں نم ہو رہیں تھیں. “مبارک ہو میری جان آج سے شیر مار آپکا ہوا.” ایمان نے مسکرا کر اسکے کان میں سرگوشی کی.حیات کے آس پاس بیٹھیں اسکی چڑیلیں ذور سے ہنسیں.
دوسری طرف شیرافگن آنکھوں میں انوکھی چمک لئے سب سے مل رہا تھا.اسنے ایک نظر حیات کو دیکھا.آج سے وہ ہمیشہ کے لئےاسکی تھی.مجتبیٰ ، شیرافگن کے قریب ہوا.
“مبارک ہو لالے آج سے یہ آفت تمہاری ہوئی.” اسکی سرگوشی پر شیرافگن نےمسکرا کر اسے دیکھا.”خیر مبارک یار”اسنے مجتبیٰ کو ذور سے گلے لگایا.”ابے اپنی خوشی میں میری ہڈیاں کیوں توڑ رہا ہے.”مجتبیٰ ایک دم اس سے الگ ہوا.شیرافگن نے ہنس کر ہلکے سے اسکے سینے پر پنچ مارا.”دوست جو ہو.”شیر افگن نے شوخی سے کہا.مجتبیٰ نے سینہ مسلہ “صحیح ہے باس دوست ہوں جو مرضی کہو” مجتبیٰ نے منہ بنا کر کہا.شیرافگن نے اسکے کندھے پر بازو پھیلایا.”چلو یار دوست کو مار سکتا ہوں پر بہنوئی صاحب کو میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ بہن بہت پیاری ہے مجھے”شیرافگن نے مسکرا کر کہا تو مجتبیٰ ہنسا.”شکر ہے.”مجتبیٰ نے شرارت سے کہا.
چاروں طرف خوشیوں کے رنگ بکھرے تھے.سلوو میوزک چل رہا تھا.سب بہت خوش تھے.انجوۓ کر رہے تھے.پر علی ایک طرف اداس سا کھڑاتھا.اسے حیات اچھی لگی تھی پراب وہ کسی اور کی ہو چکی تھی.وہ سر جھٹک کر مسکرایا پھر اسٹیج کی طرف بڑھا. اسنے سچے دل سے شیرافگن کے گلے مل کر اسے مبارک دی. شیرافگن نے بھی علی سے پرانی چڑ بھلا کر مسکراہٹ کے ساتھ اسے گلے لگایا.دوسری طرف حیات کی چڑیلیں اسے تنگ کر رہیں تھیں.وہ بے چاری خاموشی سے سن رہی تھی.اب وہ اتنے مہمانوں کے سامنے انھیں سیدھا کرنے سے رہی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *