Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22

وہ لوگ گھر پہنچے تو سب انکے آس پاس تھے. الماس بیگم نے دونوں کو دیکھا تو انکے دل کو کچھ تسلی ہوئی.کچھ دیر بیٹھے رہنے کے بعد شیرافگن اٹھ کھڑا ہوا.
“کہاں جا رہے ہو بیٹا؟” احمد صاحب نے اسے دیکھا.”چچا جان ایک ضروری کام ہے.”اسنے جواب دیا.”نہیں بیٹا ابھی تو تم لوگ آئے ہو.ایکسیڈنٹ ہوا ہے.چوٹ لگی ہوگی.چلو کمرے میں جا کر آرام کرو.”الماس بیگم جلدی سے اٹھ کر اسکی طرف آئیں.
“چھوٹی امی آپ حیات کا خیال رکھیں میں بس جلد واپس آجاؤں گا.”وہ انہیں منانے لگا. پر الماس بیگم نے اسکی ایک نہ سنی اور اسے کمرے میں بھیج کر ہی دم لیا.پھر حیات کو بھی اسکے کمرے میں چھوڑ کر دودھ کا گلاس دونوں کے لئے لے کر آئیں.حیات تو گولی لے کر سو گئی اور شیرافگن اپنے کمرے میں بیٹھا فون پر ولید سے بات کر رہا تھا.ولید نے اسے بتایا کہ احمر جمالی کی حالت خراب ہے.اسکا باپ بھی اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر ٹوٹ سا گیاہے.اسکا باپ برا آدمی نہیں تھا پر وہ اپنے بیٹے کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے سب کچھ کرتا تھا.آج اسکا بیٹا اپنے ہاتھوں ہی اس حال کو پہنچا تھا.ولید وہاں گیا تھا پر احمر جمالی کی ایسی حالت نہ تھی کہ اس کے خلاف کوئی ایکشن لیا جاتا.ولید کی بات سن کر شیرافگن نے لمبی سانس بھری.
“ہوں…اوکےولی تم سے پھر بات ہوگی.” شیر افگن نےاسے اللّه حافظ بول کر فون بند کیا پھر بیڈ پر نیم دراز ہوا.آج تو اسکی جان جاتے جاتے بچی تھی.اگر وہ وہاں نہ پہنچتا تو؟ پھر کیا ہوتا؟ وہ اسکے آگے سوچ ہی نہ سکا.اسے حیات کا خیال آیا.وہ کتنا روئی تھی.حیات کو ابھی سنبھلنے میں وقت لگے گا.
“کوئی ایسا ہو جس سے وہ یہ دکھ بانٹ سکے. مجھ سے وہ شاید اتنی فرینک ہو کر بات نہ کر سکے.ہاں ایمان…ایمان کو بتا دیتا ہوں.”وہ بڑبڑا کر اٹھ بیٹھا.ایمان کا نمبر ڈائل کر کے اسنے ساری بات ایمان کو بتا دی.اسکی بات سن کر ایمان نے اس وقت عباسی ہاؤس آنے کا کہا.شیرافگن نے بات کر کے فون بند کیا.پھر کچھ دیر آرام کرنے کے لئے لیٹ گیا.مغرب سے پہلے وہ اٹھ گیا.مغرب کی اذان ہوئی تو اسنے نماز کی تیاری کر کے نماز پڑھی.پھر جب اسنے دعا کے لئے ہاتھ اٹھاۓ تو حیات کا چہرہ اسکی نظروں کے سامنے لہرایا.شیرافگن آنکھیں بند کر کے دعا کرنے لگا.اسنے اللّه کا شکر ادا کیا کہ خدا نے حیات کو اس مشکل سے نکالا تھا.اللّه نے انکی مدد کی تھی.ورنہ وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ کیا ہوتا.پر اللّه کی ذات بہت رحیم و کریم ہے.وہ اپنے بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا.دعا کر کے اسنے جائے نماز اٹھائی اور ٹوپی اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی.پھرکمرے سے باہر نکلا. حیات کے کمرے کے سامنے کھڑے ہو کر اسنےدروازے پر نوک کی. پر اندر سے کوئی جواب موصول نہ ہوا.شیرافگن آہستہ سے دروازہ دھاکیل کر کمرے میں داخل ہوا. اسکی نظریں بیڈ کی طرف اٹھیں.حیات کمبل میں لپٹی سو رہی تھی.شیرافگن آہستہ سے چلتا ہوا اسکے قریب آیا.اسنے حیات کو دیکھا اسکا چہرہ لال ہورہا تھا.شیرافگن نے جھک کر اسکی پیشانی پر ہاتھ رکھا.اسکی پیشانی بخار سے تپ رہی تھی.”اتنا تیز بخار..”شیرافگن فکر مندی سے بڑبڑا کر اسکے قریب بیٹھا. “حیات”اسنے ہلکے سے حیات کا گال تھپک کر کہا.”ہوں…”حیات نے تکیہ پر سر اِدھر سے اُدھر کیا.پر آنکھیں نہ کھولیں وہ نیم بیہوشی میں تھی.شیرافگن جلدی سے اٹھ کر نیچےآیا. وہاں کوئی نہیں تھا.وہ کچن کی طرف بڑھا. اسنے ایک پیالے میں پانی ڈالا اور ایک کپڑا لے کرواپس حیات کے کمرے میں آیا.ٹھنڈے پانی کی پٹیاں بھیگو کر وہ حیات کے ماتھے پر رکھتا رہا.جانے کتناوقت گزرا کہ کمرے کا دروازہ کھول کرایمان اندر آئی.”اسلام و علیکم بھائی، حیات کو کیا ہوا؟ بخار ہے؟”ایمان عجلت میں انکی طرف بڑھی.
شیرافگن سلام کا جواب دیتا اٹھ کھڑا ہوا.
“بہت تیز بخار ہے.میں نے پٹیاں رکھیں ہیں.پر فرق نہیں پڑا.تم حیات کا خیال رکھو میں مجتبیٰ سے مل لوں.”شیرافگن پریشانی سے کہتا بہن کا سر تھپک کر باہر کی طرف بڑھ گیا.ایمان بیڈ پر حیات کے قریب بیٹھ گئی.پھر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا.”حیات آنکھیں کھولو میری جان”ایمان نے اسکا ہاتھ سہلاتے ہوئے محبت سے کہا.
“اٹھو گڑیا..” ایمان نے پھر پکارا.تو حیات نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں.”آپی!!”اسنے سنہری آنکھیں اٹھا کر ایمان کودیکھ کر مدھم آواز میں کہا.”جی آپی کی جان”ایمان نے ہاتھ بڑھا کر پیار سے اسکے بال ٹھیک کئے.
“آپکوپتہ ہے…” حیات اسے دیکھ کر کچھ کہتی ایک دم سے خاموش ہوئی.”ہاں.. بھائی نے سب بتایا.تم فکر نہ کرو میری جان.اب سب ٹھیک ہے.”ایمان نے نرمی سے کہا.حیات نے اپنا سر ایمان کی گود میں رکھا پھر روتے ہوئے سب بتانے لگی.ایمان اسے چپ کروا کر تسلی دیتی رہی.جب حیات بات پوری کر چکی تو ایمان نے اسکے آنسو صاف کئے.
“گڑیا جب تک بھائی تمہارے ساتھ ہیں ناں اس وقت تک وہ تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دینگے. اس بات کا مجھے پکا یقین ہے.کیا تمہیں اس بات کا یقین ہے؟”اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر کر ایمان نے کہا.حیات نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا.
“جی آپی..”حیات نے اثبات میں سر ہلایا.ایمان آہستہ آہستہ اسے سمجھاتی رہی.ہمیشہ کی طرح اب بھی ایمان کی باتوں کو وہ خاموشی سے سنتی رہی.اسکی فکر، ٹینشن سب ایمان نے بانٹ لی تھی.حیات نے خود کو مکمل طور پر پُر سکون محسوس کیا.اسکا اللّه ، اسکے اپنے اور شیرافگن اسکے ساتھ تھا.پھر وہ کیوں روتی کسی کمینے انسان کی کمینگی پر وہ کیوں آنسو بہاتی.جسے اللّه نے خوب سزا دے دی تھی.ساری فکریں بھلا کر آنکھیں بند کئے وہ ایمان کی باتیں سنتی رہی.
•••••••••••
اگلے دن حیات کچھ بہتر ہوئی.ایمان کل عباسی ہاؤس میں ہی رہ گئی تھی.ایمان اور حیات ہال میں بیٹھی تھی.انہوں نے دادو، تائی امی اور بڑے ابو سے فون پر بات کی.ان سے بات کر کے حیات بہت خوش ہوئی.وہ دونوں بیٹھی باتیں کر رہیں تھیں.شیرافگن آستینیں فولڈ کرتا سیڑھیاں اتر کر ان تک آیا.”کیسی ہو حیات؟اب طبیعت ٹھیک ہے؟” اسنے اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے مصروف انداز میں پوچھا.”میں اب بالکل ٹھیک ہوں.” حیات نے اسے دیکھ کر کہا.”اوکے اپنا خیال رکھنا..ایمان اسے ٹیبلٹ دے دینا.”اسنے پہلے حیات پھر ایمان کو کہا.پھر پلٹ کر جانے لگا.
“بھائی آپ کہاں جا رہے ہیں؟”ایمان نے پوچھا. شیرافگن نے بہن کو دیکھا.”ایک ضروری میٹنگ ہے.کیوں؟” اسنے آبرو اٹھا کر پوچھا
“میں سوچ رہی تھی.آپ اپنے ساتھ حیات کو کہیں باہر لے جاتے.” ایمان نے مدھم مسکان کے ساتھ کہا.حیات نے حیرت سے ایمان کو دیکھا پھر شیرافگن کو، تبھی شیرافگن نے بھی اسے دیکھا تو وہ نظریں جھکا گئی.”ابھی ضروری میٹنگ ہے.پھر کسی دن آپکی گڑیا کو ضرور لے کر جاؤں گا.”شیرافگن نے مسکرا کر ایمان سے کہا.پھر ایک محبت بھری نظر حیات پر ڈال کر جانے لگا.حیات نے چمکتیں آنکھیں اٹھا کر شیر افگن کی پشت کو دیکھا.لبوں پر مسکان تھی. بلیک پینٹ اور وائٹ شرٹ میں شیرافگن بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا.ایمان مسکراہٹ دبا کر حیات کے قریب ہوئی.
“ماشاءاللّه بولو لڑکی”ایمان نے اسکے کان میں سرگوشی کی.حیات نے چونک کر اسے دیکھا
“جی آپی.”حیات نے پلکیں چھپک کر اسےدیکھا
” آپی کی گڑیا…ماشاء اللّه کہو…ورنہ بھائی کو پیار بھری نظر لگ جانی ہے.”ایمان نے ہنس کر اسکے بال بگاڑے.”افف آپی آپ بھی ناں..” حیات نے گلابی چہرہ جھکا لیا.”چلو اب شرماؤ نہیں”ایمان نے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا.تو حیات نے شرم بھلا کر منہ بسورا.”اچھا منہ نہ بناؤ.ایک سرپرائز ہے.تمہارے لئے”ایمان نے اسے دیکھ کر کہا.”چڑیلیں؟”حیات نے جلدی سے کہا.”ارے تمہیں کیسے پتہ چلا”ایمان نے حیرت سےاسے دیکھا.
“وہ دیکھیں.”حیات نےہال کی ونڈو کی طرف دیکھ کر اشارہ کیا.جہاں سب کار سے نکل کر اندر کی طرف بڑھ رہی تھیں.ایمان انھیں دیکھ کر ہنسی.سب نے آتے ہی شور مچا دیا.حیات ہنس کر سب سے ملی.ان سب کو کل والی بات پتہ چل چکی تھی.انہوں نے زیادہ اس ٹوپک پر بات نہ کی کہ حیات دکھی ہو گی.سب نے باتوں سے پورے ہال کو سر پر اٹھایا ہوا تھا. ہنسی ، مذاق ، ایک دوسرے کو تنگ کرنا سب مگن تھیں. نوری ٹرالی لے کر آئی.اسکے پیچھے الماس بیگم بھی تھی.سب نے انھیں سلام کیا.الماس بیگم انھیں ٹرالی سے چیزیں رکھ کر دینے لگیں.جب تابی اور حریم انکی طرف آئیں.”آنٹی ہم ہیں ناں آپ بیٹھیں ہم سرو کرتے ہیں.”انھیں نے کہا تو الماس بیگم مسکرائیں. “تم سب کو دیکھ کر بہت اچھا لگا.بیٹیاں کتنی اچھی ہوتی ہیں.کیسے تم سب کی موجودگی میں یہ گھر مہکنے لگا ہے.”انہوں نے سبکو دیکھ کرکہا تو سب کھلکھلا کر ہنسیں. “شکریہ شکریہ آنٹی”سب نے ایک ساتھ کہا. الماس بیگم مسکرا کر وہاں سے چلیں گئیں. ایمان نے حیات کو دیکھا.وہ سب کے ساتھ ہنس رہی تھی.شرارتیں کر رہی تھی.ان سب کو یہاں بلانے کا ایمان کا مقصد پورا ہوا تھا.وہ آرام سے بیٹھی ان شرارتیں لڑکیوں کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی.
اسی طرح بہت سے دن گزرے سب نارمل ہو چکا تھا.یونی سے تو انکی چھٹیاں تھیں.پر فون پر خوب گپیں لگاتی تھیں.دوسری طرف شیرافگن اور حیات بھی ایک دوسرے کے ساتھ انسانوں کی طرح بات کرنے لگے تھے. پر پھر بھی کبھی کبھی دونوں کی بحث ہوجاتی.یہ تو انکے لئے نارمل بات تھی.
شیرافگن کے کہنے پر ولید ، احمر جمالی پر نظر رکھے ہوئے تھا.پر وہ خود ہسپتال میں پڑا تھا.جلد اسکا باپ اسے ملک سے باہر سرجری کے لئے لے جانے والا تھا.
دادو لوگ بھی جلد عمرہ سے واپس آنے والے تھے.
شیرافگن بلیک سوٹ میں ملبوس اچھے سے تیار ہوا سیڑھیاں اتر کر ناشتے کی ٹیبل تک آیا.وہاں احمد صاحب، الماس بیگم ، حیات اور امل سب بیٹھے تھے.شیرافگن کی اتنی تیاری پر حیات نے ایک مشکوک نظر اس پر ڈالی. ویسے بھی وہ اس طرح ہی تیار ہوتا تھا.پر آج کی تیاری میں کچھ خاص بات تھی. حیات کو کوئی چیز بری طرح سے کھٹک رہی تھی.پر وہ سمجھ نہیں پارہی تھی.شیرافگن آرام سے بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا.حیات اسے تھوڑی تھوڑی دیر بعد دیکھ لیتی.شیرافگن نے یہ بات نوٹ کی.جب حیات نے پھر اس پر نظر ڈالی تبہی شیرافگن نے ایک دم اسے دیکھا.پھر آبرو اٹھا کر جیسے اشارہ سے پوچھا ہو کہ کیا بات ہے محترمہ؟ پر محترمہ جلدی سے نفی میں سر ہلا کر نظریں جھکا گئی.شیرافگن جلدی سے ناشتہ ختم کرتا اٹھ کھڑا ہوا.
“بیٹا ٹھیک سے ناشتہ کرو” الماس بیگم نے اسے دیکھ کر کہا.
“کر لیا ہے چھوٹی امی بس اب جاؤں گا.کہیں جلد پہنچنا ہے.اللّه حافظ” سب سے مل کر وہ باہر کی طرف بڑھ گیا.حیات کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا.
“یہ آپ کب سے بھیا کو گھور کیوں رہی ہیں.” امل نے اسکے کان میں سرگوشی کی.
“کب گھورا ہے چشمش” اسنے امل کو دیکھ کر مدھم لہجے میں کہا.
“میں دیکھ رہی تھی آپکو، آپ نے گھورا ہے.” امل نےچشمہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا.
“ہاں ٹھیک ہے.میں نےگھورا ہے.تو کوئی مسئلہ ہے؟”حیات نے تنگ آ کر کہا
“نہیں…پر میرے بھیا کو نظر لگ جائے گی.ایسے نہ گھورا کریں.” امل نے سر ہلا کر سنجیدگی سے کہا.
“اونہہ…بھیا کی چمچی نہ ہو تو…خاموش رہو” اسنے آنکھیں نکال کر امل کو دیکھا.وہ مسکراہٹ دبا کر ناشتہ کرنے لگی.حیات بھی بڑبڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی.اپنے کمرے میں آ کر وہ چکر لگانے لگی.”افف کیا بدتمیزی ہے حیات اب وہ ویسے ہی تیار ہوۓ ہونگے.اس میں اتنا سوچنے کی کیا بات ہے.نکال باہر کرو اس بات کو دماغ سے.”وہ بڑبڑا کر سائیڈ ٹیبل کی طرف آئی.”آپی سے بات کرتی ہوں.”اسنے ایمان کا نمبر ڈائل کیا.دوسری طرف سے کال پک کی گئی.”ہیلو..”ایمان نے مصروف انداز میں کہا.”ہیلو آپی بیزی ہیں کیا؟”حیات نے پوچھا.”نہیں گڑیا بس الماری سے کپڑے نکال رہی ہوں.تم لوگوں کی طرف آنا ہے.”ایمان نے جواب دیا.”سچی آپی!!”حیات نے خوشی سے کہا.”جی میری جان”ایمان ہنسی پھر بولی “بھائی نے کال کی تھی کہ آج دوپہر سے پہلے گھرآ جانا.کوئی سرپرائز ہے.”ایمان نے اسے بتایا.”اچھا!! “حیات سوچنے لگی.بھلا ایسا کیا سرپرائز ہوگا.پھر ایک دم پر جوش ہوئی.
“آپی کہیں دادو لوگ واپس تو نہیں آ رہے؟” اسنے خوشی سے پوچھا.”ہوسکتا ہے.پر اب پکا پتہ تو بھائی کے آنے کے بعد ہی چلے گا.”ایمان نے کہا.پھر دو چار باتیں اور کر کے انہوں نے فون بند کیا.حیات پھر ناول پڑھنے لگ گئی. کافی وقت سے اسنے کوئی ناول پڑھا ہی نہیں تھا.اسے پتہ نہ چلا کہ ناول پڑھتے پڑھتے کب اسکی آنکھ لگ گئی تھی.
•••••••••••
حیات گہری نیند میں تھی جب ایک دم سے اسکے کمرے کا دروازہ دھڑام سے کھلا اور امل میڈم اسکےکمرے میں داخل ہوئی.”آپی جلدی سے اٹھ جائیں.ذرا نیچے آ کر دیکھیں تو کون آیا ہے.”امل اونچی آواز میں خوشی سے کہہ رہی تھی.حیات نے اپنی آنکھیں مسلیں.”کیا کوئی بھوت ، چڑیل آگئے ہیں.جوایسے میرے سر پہ کھڑی ہو کر چیخ رہی ہو؟ “حیات کو امل کا یوں چیخ کر اعلان کرنا ذرا اچھا نہ لگا.”آپ نیچے آ کر دیکھ لیں کہ کون آیاہے.” امل ہنس کر کہتی جانے لگی.پھر دروازے کے قریب پہنچ کر پلٹی”آپی سب آپکا پوچھ رہے ہیں.ایمان آپی بھی آ گئیں ہیں.ساتھ مریم بھی ہے.آپ جلدی سے نیچے آئیں.”امل بات مکمل کر کے چلی گئی. حیات سستی سے اٹھ کر واش روم کی طرف گئی.فریش ہو کر نکلی تو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بالوں میں برش کرنے لگی.پھرایک نظر اپنے کپڑوں پر ڈالی.وہ گرین کپڑوں میں ملبوس تھی.سونے کی وجہ سے ان پر شکنیں پڑ چکی تھیں.”بس ٹھیک ہی ہیں.”لاپرواہی سےسر جھٹک کر کہتی وہ کمرے سے باہر نکلی.جب وہ سیڑھیاں اتر رہی تھی.تو ہال سے باتوں اور ہنسی کی آوازیں آ رہیں تھیں.حیات کو تجسس ہوا کہ کون ہوگا. وہ ہال میں پہنچی تو سب کے درمیان اسنے ایک اجنبی چہرہ دیکھا.وہ ایمان کی ہم عمر پیاری سی لڑکی تھی.ایمان کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی.وہ کسی بات پر ہنسی تو اسکا سفید رنگ گلابی ہوا.شولڈر کٹ بال، جینز ،شرٹ اور گرم کوٹ پہنے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی.حیات خوشی سے اسکی طرف بڑھی کہ شاید ایمان کی کوئی دوست ہو. حیات کو دیکھ کر مجتبیٰ سے بات کرتا شیر افگن اسکی طرف متوجہ ہوا.حیات اس لڑکی کی طرف بڑھی.”اسلام وعلیکم”حیات نے خوشی سے اپنا ہاتھ سلام کے لئے اسکی طرف بڑھایا.ایمان کے ساتھ اس لڑکی نے بھی حیات کو دیکھا.
“وعلیکم السلام حیات” اس لڑکی نے مسکرا کر اسکا ہاتھ تھاما.پھر اٹھ کر حیات کے گلے مل کر پیچھے ہوئی.حیات نے حیرت سے اسے دیکھا
“آپ مجھے جانتیں ہیں؟”حیات نے اتنی گرمجوشی پر خوشی سے پوچھا.” بہت اچھے سے”اسنے مسکرا کر بائیں طرف صوفے پر بیٹھے شیرافگن کو دیکھا.حیات نے بھی شیر افگن کو دیکھا.جو مسکرارہا تھا.
“ایمان یار ہمارا تعارف تو کرواؤ.”لڑکی نے ہنس کر کہا.ایمان نے حیات کو دیکھا.
“گڑیا یہ مادام ہماری خالہ زاد ، ہماری دوست ہانیہ ہیں اور ہانیہ تم میری پیاری سی بہن کو تو جانتی ہی ہو.” ایمان نے مسکرا کر کہا. حیات کے چہرے سے خوشی مانند پڑی. “یہ ہانیہ تھی…شیرافگن کی ہانی”کچھ پل پہلے جتنی ہانیہ اسے اچھی لگی تھی.اب ایک دم سے بری لگنے لگی تھی.”حیات تو بہت پیاری ہے.جتنا سنا تھا اس سے بڑھ کر” ہانیہ نے اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر کہا.حیات بے دلی سے مسکرائی.”بہت شکریہ”حیات نے کہا.پھر دائیں طرف رکھے صوفے پر الماس بیگم کے ساتھ بیٹھ گئی.سب باتوں میں لگے تھے.امل اور مریم تو ہانیہ کے ساتھ چپک کر بیٹھیں تھیں.حیات ، ہانیہ کو دیکھ کر سوچوں میں گم تھی.”میں کہاں پیاری لگ رہی ہوں.انکے سامنے تو ماسی ہی لگ رہی ہونگی.اف میں کپڑے ہی بدل لیتی.ان پر کتنی شکنیں پڑیں ہیں.ہانیہ خود کتنی پیاری ہیں اور کہہ مجھے رہیں ہیں.”حیات اسے دیکھ کر دل ہی دل میں بڑبڑا رہی تھی.کپڑے نہ بدلنے پر افسوس کر رہی تھی کہ اگر کپڑے بدل لیتی تو کچھ بہتر لگتی.اب یہ تو کوئی ان نظروں سے پوچھتا کہ وہ ایسے بھی کتنی پیاری لگ رہی تھی.جو اتنے لوگوں کے بیچ بھی اسے دیکھنا نہ بھول رہا تھا.
شیرافگن نے ایک بار پھر چپکے سے حیات کو دیکھا.ہانیہ نے اسکی چوری پکڑ لی.اسنے مسکرا کے آبرو اٹھا کر شیرافگن کو دیکھا. حیات جو ہانیہ کو دیکھ رہی تھی.اسکی نظروں کا پیچھا کرتے ہوئے اسنے بھی شیر افگن کودیکھا. جو ہانیہ کو دیکھ کر مسکرا یا پھر مجتبیٰ سے باتیں کرنے لگا.حیات تو جل بھن گئی.”یہ تو خوب رہی اتنے لوگوں کے سامنے مسکراہٹیں پاس کی جا رہیں ہیں.اونہہ اچھی بات ہے.لگے رہے…میری جوتی کو بھی پر واہ نہیں..”وہ جل , کڑ کر لفظوں کو چبا چبا کر بڑبڑا رہی تھی.اسکا دل کیا وہ شیرافگن اور ہانیہ کے درمیان موٹا سا پردہ لگا لے تا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ نہ سکیں.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *