Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 (Watching)Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15
اگلے دن وہ سخت سر درد کی وجہ سے یونی نہ جا سکی.وہ احمرجمالی کی حرکت کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی.پر یہ بات اسکے دماغ سے نکل ہی نہیں رہی تھی.چھوٹی بات تھی بھی نہیں کہ وہ بھول جاتی.وہ سارا دن اپنے کمرے میں ہی رہی.رات کوشیرافگن نوک کر کےاسکے کمرے میں آیا.وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی.”چھوٹی امی نے بتایا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں؟”اسنےفکر مندی سےپوچھا “آپ بیٹھیں ناں”اسکے کہنے پرشیرافگن صوفے پر بیٹھا پھر حیات کو دیکھا جو کہہ رہی تھی. “اب میں ٹھیک ہوں بس ہلکا سا سر درد تھا” اسنے دھیمے سے کہا.شیرافگن نے اسے غور سے دیکھا اسکی سنہری آنکھیں گلابی ہو رہیں تھیں.اس گلابی پن نے اسکی آنکھوں کو مذید حسن بخشہ تھا.پر شیرافگن کو اسکی فکر تھی کہ کیا وہ روتی رہی تھی؟جسکی وجہ سے اسکی آنکھیں گلابی ہو رہیں تھیں.وہ حیات کو دیکھتاہوا اٹھ کھڑا ہوا.
“کیاتم روئی ہو؟”اسنے سنجیدگی سے پوچھا حیات نے ہربڑا کر اسے دیکھا
“نہیں تو” اسنے جلدی سے آنکھیں جھکا لیں
“میری طرف دیکھ کر بات کرو حیات”اسنے سنجیدگی سے کہا.حیات کے کچھ کہنے سے پہلے ہی امل نے حیات کو پکارا کہ اسے ماما نے بلایا ہے.حیات نے اللّه کا شکر ادا کیا.
“آپ بیٹھیں میں بس ابھی آئی آپ کے لئے چاۓ بھی لاتی ہوں”وہ جلدی سے وہاں سے بھاگی .
شیرافگن بیٹھ گیا.اچانک حیات کا موبائل بجنے لگا.ایک ، دو ، تین بار بار کالز آرہیں تھیں.
شیرافگن مذید اگنور نہ کر سکا اسنے موبائل اٹھایا.اسکرین پر تابی کا نام چمک رہا تھا.اسنے دروازے میں آکر حیات کو پکارا کہ اسکی کال ہے.”افگن بھائی آپ چیک کر لیں میں ابھی آئی”حیات نے آواز لگائی.شیرافگن نے سر جھٹکا.اسکا کال پک کرنے کا ارادہ نہیں تھا. بھلا وہ حیات کی دوست سے کیا کہے گا اور یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ حیات کی جگہ وہ کال پک کرتا.وہ موبائل ٹیبل پر رکھنے لگا جب میسج ٹیون بجی.اسنے نا چاھتے ہوئے بھی میسج اوپن کیا کہ ہوسکتا ہے کوئی ضروری بات ہو. وہ پڑھنے لگا.”یونی کیوں نہیں آئی اور صبح سے موبائل کیوں بند تھا.کیا تم اُس بات سے پریشان ہو؟ اس منحوس احمر جمالی نے یونی چھوڑ دی ہے.تم کل والے واقعے کو بھول جاؤ میری جان”لمبا سا میسج تھا.پر اسکے آگے شیرافگن نہ پڑھ سکا.احمر جمالی… یہ کون تھا؟ حیات کیوں پریشان تھی اور کل کیا ہوا تھا؟ اسکا دماغ پھٹنے لگا.وہ اِدھر سے اُدھر چکر لگانے لگا.سوچ سوچ کے وہ پاگل ہونے کو تھا.اس احمر جمالی نے کیا کہا تھا حیات کو کہ وہ رونے پر مجبور ہوگئی.وہ تو شوخ سی لڑکی تھی. اسےتو بس ہنسی ، مذاق کرنا آتا تھا.پھریوں رونا؟ ضرور کوئی بڑی بات ہوگی.ورنہ حیات اتنی کمروز لڑکی نہ تھی.وہ سوچوں میں گم تھا.جب حیات ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوئی.شیرافگن کو چکر لگاتے دیکھ کر اسے حیرت ہوئی.ٹرے ٹیبل پر رکھ کے وہ سیدھی ہوئی.شیرافگن اسکے سامنے کھڑا ہوا.”احمرجمالی کون ہے؟ کل کیا ہوا تھا ؟ اسنے تمہیں کچھ کہاہے؟بولو حیات” اسنے بے چینی سے سوال کئے.چہرے پر سنجیدہ تاثر تھا.حیات ایک دم ڈر سی گئی.شیرافگن کو کیسے پتہ چلا؟
“ایساکچھ نہیں افگن بھائی آپ سے کسنے کہا” وہ با مشکل بول پائی.
“تمہاری دوست کا میسج پڑھا ہے میں نے… حیات اب مجھے جلدی بتاؤ، مذید میرا صبر مت آزماؤ” اسنےسختی سے حیات کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا.حیات کی آنکھیں نم ہوئیں. پھرکل جو کچھ ہوا اسنے شیرافگن کو سب بتا دیا.وہ وقت یاد کر کے حیات کا دل کانپنے لگا. اسے نہیں معلوم تھا تب اللّه نے اسے کیا طاقت دی تھی کہ اسنےاس شیطان کو منہ توڑ جواب دیاتھا.پر اب سوچ کر ہی اسے ڈر لگ رہا تھا. اسکی بات سن کے شیرافگن کا دماغ ابلنے لگا. اسنے حیات کو دیکھا وہ رو رہی تھی.اسنے آگے بڑھ کر آہستہ سے حیات کا سر اپنے شانے سے لگایا.وہ بھی خاموشی سے آنسو بہاکر دل کا بوجھ ہلکا کرنے لگی.”شش حیات… بس چپ” اسنے ہلکے سے حیات کا سر تھپکا.شیرافگن کا شانہ اسکے آنسوؤں سے بھیگنے لگا.شیرافگن کا دل جلنے لگا.جب اسکی وجہ سے اس لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آتے تھے. تو وہ خود کو بھی معاف نہیں کر پاتا تھا.پھر وہ یہ کیسے برداشت کرلیتا کہ کسی کی کمینی حرکت کی وجہ سے وہ پھولوں جیسی لڑکی رو رہی تھی. حیات اس سے الگ ہوئی.شیرافگن نے نرمی سے اسکے آنسو صاف کئے.”اب رونابالکل نہیں ہے حیات اس معاملے کو مجھ پر چھوڑ دو.اس احمر جمالی کا وہ حال کرونگا کہ یاد رکھے گا” شیرافگن کے اندر شدید غصہ نے سر اٹھایا. اسنے دانت پیس کر کہا.جیسے دانتوں کے نیچے احمرجمالی کو چبایا ہو.”پلیز آپ ایسا کچھ مت کریے گا. گھر میں سبکو پتہ چل جاۓ گا اور اگر آپکو کوئی نقصان پہنچ گیا تو”حیات نے ڈر کر کہا
“گھر میں کسی کو پتہ نہیں چلے گا.یہ معاملہ میں ہینڈل کر لونگا اوکے”
“آپکاغصہ بہت تیز ہے.آپ نے اسے مار دیا تو؟ پھر آپکا کیا ہوگا؟”اسے اب شیرافگن کی فکر ستانے لگی.اسکی بات پر شیرافگن کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی.”وہ تو جب سامنے آیگا تب دیکھیں گے اور رہی بات غصے کی تو اب تم پر کم کرنے کی کوشش کروں گا”اسنے مسکرا کرکہا.حیات کا اسکی فکر کرنا اسے اچھا لگا تھا.”مطلب کبھی نہیں ڈانٹیں گے؟” اسنے معصومیت سے پوچھا.شیرافگن سے بات شئیر کر کے وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی.”کبھی کبھی پر ذیادہ نہیں”شیرافگن نےمسکراہٹ دباکر کہا.”چلیں اوکے”حیات مان گئی.اسکے لئے اتنا ہی بہت تھا.
“اب تم آرام کرو اور رونا نہیں”اسنے نرمی سے کہا.حیات نے مسکرا کر اسے دیکھا.اسنے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ شیرافگن اسکے ساتھ کبھی ایسے بھی بات کرے گا.اتنے پیار ،اتنی نرمی سے.وہ نہیں جانتی تھی کہ محبت انسان کو بدل کر رکھ دیتی ہے. شیرافگن بھی بدل رہا تھا.شیرافگن اسے آرام کرنے کا کہتا کمرے سے نکلا چہرے سے نرم تاثر پل میں غائب ہوا اور سنجیدگی چھا گئی. اسنے جیب سے موبائل نکالا پھر کوئی نمبر ملا کر بات کرتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا.
•••••••••••
شیرافگن نے ولید کو کال کر کے احمر جمالی کے بارے میں بتایا.احمرجمالی کسی پہنچے ہوئےوڈیرے کا بیٹا تھا.اسے گرفتار کرنا اتنا آسان نہ تھا.پر شیرافگن کی ایک ہی بات تھی یا ولید اسے کسی طرح جیل میں ڈالے گا یا وہ اس معاملے کو اپنے مطابق ہینڈل کرے گا.ولید نے اسے یقین دلایاکہ وہ جلد احمرجمالی کو گرفتار کریگا.شیر افگن خود کچھ نہ کرے. شیرافگن کو تو ایک پل چین نہیں مل رہا تھا. وہ حیات کے ساتھ کچھ برا ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا اور احمر جمالی نے جو اسکے ساتھ کیاتھا.شیرافگن اسے معاف کرنے والا نہ تھا. اسنے اگلے دن دادو سے اپنے اور حیات کے نکاح کی بات کی وہ بھی جلد سے جلد….دادو نے اسے کہا کہ اتنی جلدی ممکن نہیں.انہوں نے عمرے پر جانا تھااور وہاں سے واپسی پر انکی شادی کا سوچیں گیں.پر وہ ضدی بچہ بنا تھا. اسنے نے دادو سے کہہ دیا.”ابھی یا پھر کبھی نہیں” اسنے شادی کا نہیں کہا تھا.فلحال بس نکاح تا کہ حیات ہمیشہ کےلئے اسکی بن جائے.
اسکی باتوں پر آخر کار دادو مان گئیں.وہ مطمئن ہو کر کمرے سے نکلا.دادو نے الماس بیگم سے کہا کہ وہ حیات سے بات کریں. جسکانکاح ہونے والا تھا.وہ اس بات سے انجان تھی.حیات اپنے کمرے میں تھی.آج بھی وہ یونی نہ جا سکی تھی.الماس بیگم اسکے کمرے میں آئیں.”آئیں اماں”وہ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی.اماں کا ہاتھ پکڑ کر انھیں بیڈ پر بٹھایا. پھر خود بھی بیٹھ گئی.”بیٹا ایک ضروری بات کرنی ہے تم سے”انہوں نے تمہید باندھی.
“جی اماں بولیں ناں”حیات نے مسکرا کر ماں کو دیکھا.الماس بیگم نے بات شروع کی
“ہم سب نے تمہارے لئے فیصلہ لیا ہے.تمہیں پتہ ہے اس گھر کے سب فیصلے تمہاری دادو لیتی ہیں.یہ فیصلہ بھی انکا ہے اور ہم سبکی رضا مندی اس میں شامل ہے.” انہوں نے ایک نظر بیٹی کو دیکھا وہ غور سے انکی بات سن رہی تھی.”پرکون سا فیصلہ اماں؟”اسنے الجھ کر پوچھا.”تمہارےاور شیرافگن کےنکاح کا” انہوں نے دھماکہ کیا.حیات کی آنکھیں پھٹ گئیں.یہ اماں نے کیا کہا تھا.کیا اسنے غلط سنا تھا؟نہیں اسنے صحیح سنا تھا.اسنے ماں کو دیکھا جو کہہ رہی تھیں.”تمہاری دادو عمرہ پر جانے سے پہلے تم دونوں کا نکاح کروا دینا چاہتیں ہیں.تم سوچ لو پر انکار کی گنجائش ہے ہی نہیں کیونکہ بڑوں نے فیصلہ کر لیا ہے اوکے”الماس بیگم نے اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر کہا.پھر کمرے سے نکل گئیں.حیات بت بنی بیٹھی تھی.ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟اسکا اور شیرافگن کا نکاح؟نہیں ایسا نہ ممکن ہے.شیر افگن مان کیسے گیا؟ وہ ایک دم بیڈ سے اٹھی
کھڑی ہوئی.”مجھے افگن بھائی سے بات کرنی چاہیے ضرور دادو نے انکے ساتھ بھی زبردستی کی ہوگی”وہ بڑبڑا کر کمرے سے نکلی.نوک کر کے شیرافگن کے کمرے میں داخل ہوئی.وہ سفید شلوار قمیض میں ملبوس اسٹڈی ٹیبل کے پاس کھڑا کوئی فائل چیک کر رہا تھا.
“کیسے آنا ہوا حیات؟”اسنے پلٹ کر حیات کودیکھا.”دادو نے آپ سے کوئی بات کی؟”وہ جاننا چاہ رہی تھی کہ شیرافگن کو معلوم ہے کہ نہیں جبکہ شیرافگن سمجھ چکا تھا.
“تم بولو کیا بات ہے” اسنے فائل رکھ کر کہا
“دادو چاہتی ہیں کہ ہمارا نکاح ہو جائے”
“اچھا ہمارا؟مطلب تمہارا اور میرا؟” شیرافگن نے انگلی سے اسکی اور اپنی طرف اشارہ کر کے جان بوجھ کر پوچھا.”جی..”حیات نے اثبات میں سر ہلایا.”ہاں مجھے معلوم ہے.”شیرافگن نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا.
“اچھا پھر آپ جلدی سے دادو کے پاس جاکر انکارکردیں.میں پہلے ہی سمجھ گئی تھی.آپ کے ساتھ بھی زبردستی ہوئی ہے.”حیات نے سمجھداری سےسر ہلاکرکہا
“ماشاء اللّه بہت سمجھدار ہو تم پر تمہیں کس نے کہا کہ مجھے رشتے سے انکار ہے؟یا میرے ساتھ زبردستی ہوئی؟”اسنے چمکتیں آنکھوں کے ساتھ سنجیدگی سےپوچھا
“کسی نے نہیں پر….”وہ ہونق بنی کھڑی تھی.
” سن لو پھر…مجھے انکار نہیں” شیرافگن نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
“پر میں جانتی ہو آپ کو دادو نے فورس کیا ہے.”وہ جھنجھلا رہی تھی.
“اچھا اگر تمہیں ایسا لگتا ہے تو ایسا ہی سہی” وہ تنگ آکر بولا پھر حیات کو دیکھا “کیا تمہیں انکار ہے؟”اسنے دو ٹوک لہجے میں پوچھا
“میرے انکار کوکوئی اہمیت دی جائےگی؟” حیات نے غصے سے پوچھا.”بالکل نہیں”شیر افگن نے سنجیدگی سےجواب دیا.حیات اقرار کرتی یا انکار وہ اسی کی تھی .یہ بات طے تھی.”آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ آپ مجھے پسند نہیں کرتے مجھے پتہ ہے.پھر کیوں؟” حیات نے اسے گھور کر غصے سے پوچھا.
“وہ ابھی نہیں بعد میں بتاؤنگا پرنسیس” اسنے شوخی سے حیات کو تنگ کرنے کے لئے کہا.وہ کیا بتاتا کہ اسکے ضدی دل کو اب صرف وہی چاہیے تھی.اسکی بات پر حیات کو ہارٹ اٹیک ہونے لگا.
“پر..پرنسیس؟” اسکے حلق میں الفاظ پھنسے تھے.کیا یہ کوئی خواب ہے؟ یہ کھڑوس اور اس انداز میں بات کرے.
“یس پرنسیس” اسنے مسکراہٹ دبا کر کہا.وہ حیات کی حالت سمجھ رہا تھا.پر اسے تنگ کرنا شیر افگن کو اچھا لگ رہا تھا.
“مجھےپتہ ہے آپ مجھ سے بدلہ لینا چاھتے ہیں جتنا میں نے آپکو تنگ کیا اس سبکا.پر کم میں بھی نہیں یہ بات یاد رکھیے گا”اسنے انگلی اٹھا کر تیش سے کہا.شیرافگن ایک دم ذورسےہنسا
“ویل میں اچھے سے جانتا ہوں یہ بات” اسنے حیات کی انگلی نیچے کی.کل ہی دونوں کی دوستی ہوئی تھی.پر آج پھر بحث ہورہی تھی. انکی دوستی ہونی اتنی آسان نہ تھی.حیات نے تپ کر اسے دیکھا.”آپ یہ اچھا نہیں کر رہے میرے ساتھ”وہ نم آواز میں بولی.شیرافگن نے اسے دیکھا اس سے پہلےکہ وہ کچھ کہتا.وہ کمرے سے نکل گئی.”آئیم سوری پرنسیس پر اب کچھ وقت کے لئے تمہارے آنسو برداشت کرنے ہونگے.کیا کروں اس دل کے ہاتھوں مجبور ہوں.جو تمہیں اپنا بناناچاہتا ہے.”اسنے بالوں میں ہاتھ پھیرا.پھر موبائل نکال کر ولید کو کال ملائی.”ہیلوولی..کیا بنا..کچھ ملا اسکے خلاف” شیرافگن نے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا
“ہاں معلومات ملی ہے.بہت سےریپ کیسز میں احمر جمالی کا نام سامنے آیا ہے.پر ہمیشہ وہ باپ کی وجہ سے بچ نکلتا ہے.”ولید نے تفصیل بتائی.”اب کی بار نہیں بچےگا.تم ثبوت حاصل کر کے جلد سے جلد اسے پکڑو” شیرافگن نے دو ٹوک لہجے میں کہا.وہ ولید سے ساری بات پہلے ہی کرچکا تھا.”اوکے یار..پر تم خود کو ٹھنڈا کرو میں سب ہینڈل کر رہا ہوں”
“ٹھیک ہے” شیرافگن نے تھوڑی دیر اور اس سے بات کی پھر فون بند کر دیا.جس وقت تک وہ احمر جمالی کے آمنے سامنے نہیں آ جاتا تب تک اسے چین کہاں ملنا تھا.
••••••••••••
وہ یونی آئی سب اسکے انتظار میں تھیں. حیات انکے قریب آئی.”اسلام و علیکم”اسنے سبکو سلام کیا.”وعلیکم السلام”ان سب نے ایک آواز میں جواب دیا.”دو دن سے کیوں نہیں آرہی تھی تم؟”مینا نے پوچھا.”طبیعت نا ساز تھی یار”حیات نے جواب دیا.
“اب ٹھیک ہو؟” سبین نے پوچھا
“بالکل ٹھیک”وہ دھیمے سے ہنسی.وہ سب چلتی ہوئیں اپنی فیورٹ جگہ پر بیٹھ گئیں.
“اس بات کو اپنے اپر حاوی نہ کرو حیات بھول جاؤ”حریم نے نرمی سے اسکا ہاتھ پکڑا.
“کوشش کر رہی ہوں یار”حیات نے سر ہلایا. “احمر جمالی بھی اس دن کے بعد دیکھنے میں نہیں آیا.سنا ہے یونیورسٹی چھوڑ دی اسنے” تابی نے اسے خبر دی.اسکا منہ کڑوا ہوااس ذکر پر”اچھا ہے اپنی منحوس شکل لے کر دفع ہوگیا.”حیات نے تلخ لہجے میں کہا
“بالکل یار اب تم ذیادہ مت سوچنا” سبین نے محبت سے اسے دیکھا.پھر سب ہلکی پھلکی باتیں کرنے لگیں.جب ایک دم تابی بول پڑی.
“ویسے اس دن تم نے کال پک کیوں نہیں کی اور میسج کا جواب بھی نہیں دیا”تابی نے منہ پھولا کر کہا.اسکی بات پر حیات نے اسے گھورا اسے یاد آیا تابی میڈم کی وجہ سے ہی شیر افگن کو سب پتہ چلا تھا.اس دن سے شیر افگن فون پر فون کررہا تھا.حیات کو معلوم تھا بظاہر وہ خاموش تھا.پر احمر جمالی کو چھوڑنے والا نہ تھا.اسے شیرافگن کے غصے سے ڈر لگتاتھاکہ کہیں وہ کچھ غلط نہ کر لے.
“ہمیشہ تم آفت بن کر نازل ہوتی ہو مجھ پر” حیات نے تابی کو گھورکر کہا.وہ پہلے جیسے موڈ میں آچکی تھی.
“ہاۓ اب میں نے کیا کر دیا” تابی نے حیرت سے پوچھا.باقی سب بھی حیران تھیں کہ کیا ہو گیا.”اب کیا ہوا ؟”مینا نے دونوں کو دیکھا
“اس دن اس نے مجھے کال کی تھی.افگن بھائی میری طبیعت کا پوچھنے میرے کمرے میں آۓ تھے.انھیں سب پتہ چل گیا.پرسوں سے وہ مشکوک حرکتیں کر رہے ہیں.کالز پر کالز ہو رہی ہیں.ضرور احمر جمالی کی اب خیر نہیں”اسنے پریشانی سے انھیں بتایا.
“واؤ…یہ تو اچھا ہے ناں اب احمر جمالی سیدھا ہوگا”حریم نے مزے سے کہا
“کال پک تو ہوئی ہی نہیں تھی.پھر کیسے پتہ چلا تمہارے افگن صاحب کو؟” تابی نے آبرو اٹھا کر پوچھا.”وہ میں روم میں نہیں تھی ناں تو میں نے افگن بھائی کو کال پک کرنے کا کہا”حیات جلدی سے بولی تو تابی نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا وہ ایک دم چپ ہو کر پھر جلدی سے بولی”پر جیسے کہ تم نے کہا کال پک نہیں ہوئی تھی.بس افگن بھائی نے تمہارا میسج پڑھ لیا تھا.”اسنے تابی کو دیکھا
“واہ واہ مطلب حد ہوگئی.اب یہ میری غلطی ہے یا تمہاری؟ میں نے کہا تھا اپنے شیر مار کو اپنا موبائل پکڑا کرجاؤ…افگن بھائی کو کال پک کرنے کا کہا تھا.” تابی نے اسکی نقل اتاری پھر بولی “پاگل کہیں کی دوستوں کی کالز کزنز سے پک نہیں کرواتے میل کزنز سے تو بالکل نہیں”اسنے حیات کو ڈانٹا.سب نے ہنسی دبائی جبکہ حیات نے معصوم سی صورت بنائی.یہ غلطی اسکی اپنی تھی.پر تب شیر افگن اسکی لال آنکھوں کی وجہ پوچھ رہا تھا.اسلئے جب وہ باہرنکلی تو خودکو سنبھالنے میں لگ کہ کہیں اسکےسامنے رو ہی نہ پڑے.
“اچھا سوری” اسنے معصوم سی صورت بنائی
“چلومعاف کیا بچہ کیا یاد کرو گی”تابی نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بڑوں کی طرح کہا سب ہنس پڑیں.”اب ذیادہ پھیلو مت تابی کی بچی”حیات نے انگلی اٹھا کر کہا
“یہ ہر وقت تم میرے فیوچر بچوں کے پیچھے کیوں پڑی رہتی ہو؟” اسنے منہ بنایا
“ہاہا توبہ کتنی فکر ہے اِسے اپنے بچوں کی” حیات نے ذور سے ہنس کر انھیں اشارہ کیا
“ماں کو بچوں کی فکر ہوتی ہے یار”مینا نے شوخی سے کہا.سب نے قہقہہ لگایا.تابی منہ پھلا کر بیٹھ گئی.”آج مجھے سچ پتہ چل گیاہے”تابی نے بڑی سنجیدگی سے کہا.
“اچھاکیا؟”سب نے ایک ساتھ کہا
“تم لوگ چڑیلیں تھیں ، ہو اور ہمیشہ رہو گی منحوس ماریوں”وہ تپ کر چاروں کو سنا رہی تھی. وہ سب ہنسی دبا نے کی کوشش کر رہیں تھیں.”ہاۓ میری تابی بس کر جاؤ تم تو ہماری جان ہو”حیات نے کہا سب اسکے قریب ہوئیں
“سچی میں؟”تابی نے آنکھیں گھما کر تصدیق چاہی.”بالکل ہماری چڑیل”مینا نے اپنا بدلہ چکایا.وہ ایک دم ہنسی.”مجھے تم سب چڑیلوں کےساتھ چڑیل بننا ہی منظور ہے.” اسنے خوشی سے کہہ کرسب کو گلے لگایا.
جاری ہے
