Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 (Watching)Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02
حیات نے اپنا موبائل لیا اور ایمان کے کمرے میں آگئی.جہاں امل بیٹھی پڑھ رہی تھی.وہ شیشے کے سامنے کھڑی ہوکر بالوں میں برش کرنے لگی.بلیک کپڑوں میں ملبوس وہ بہت پیاری لگ رہی تھی. پر اسے اس بات کی خبر نہ تھی.وہ بس اپنے ہی کاموں میں لگی رہتی اگر کوئی اسکی تعریف کرتا تو لاپرواہی سے مسکرادیتی.اسکی سنہری کانچ آنکھیں اور ان پر گھنیں پلکیں بے حد پیاری تھیں.بائیں گال پر پڑتے ڈمپل نے اسکے حسن کو چار چاند لگا دیئے تھے.برش کرکے وہ بیڈ تک آئی دوپٹہ سائیڈ پر رکھااور لیٹ گئ”کیا ہروقت پڑھتی رہتی ہوں چشمش کبھی آرام بھی کیاکرو”امل جو بیڈ پر بیٹھی تھی.حیات اسکاچشمہ ناک سے نیچےکرکے بولی”آپی کل ٹیسٹ ہے میرا پڑھنے دیں مجھے”اسنے اپناچشمہ ٹھیک کیا
“افف ہر وقت پڑھائی بور لڑکی…یہ بتاؤ آپی کہاں ہیں؟”
“آپی چاۓ بنا رہی ہیں”امل نے جواب دے کر اپنی کتابیں اٹھائیں اور باہر جانے لگی.
“ارے کہا جارہی ہو بیٹھو.. آپی کے آنے تک تو بات کرو مجھ سے پڑھاکو”حیات نے اسے روکا پر امل نہ میں سر ہلاتی باہر چلی گئی.حیات نے موبائل اٹھایا اوراونچی آوازمیں گانا سننے لگی. آنکھیں بند کئے وہ ساتھ ساتھ گنگنارہی تھی.”ایمان…”شیرافگن ، ایمان کوپکارتا ہوا کمرے میں داخل ہوا.پر سامنے حیات کو لیٹے دیکھ کر رک گیا.حیات بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اپنا دوپٹہ اٹھا کراوڑھا
“ایمان کہا ہے؟”شیرافگن نے سوال کیا
“آپی کچن میں ہیں”جلدی سے جواب دیا گیا.
اسی نازک دل دے لوگ ہاں
ساڈہ دل نہ یار دکھایا کر
نہ جھوٹے وعدے کیتا کر
نہ جھوٹیاں قسماں کھایا کر
گانے کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی. شیرافگن کچھ کہتے ہوئے رکاگھور کر حیات کو دیکھا جبکہ حیات اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی. اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے اس سے اتنا بھی نہ ہوا کہ گانا بند کر دیتی آخر شیرافگن کو کہنا پڑا.
“اسے چپ کروا دو اب”اشارہ موبائل کی طرف تھا.حیات نے جلدی سے موبائل اٹھا کر بند کرنا چاہا پر ہربڑاہٹ میں وہ بیڈ پرگرگیا.شیرافگن کے سامنے ہمیشہ اس کے ساتھ یہی ہوتا تھا.
“مجھے دو یہاں” شیرافگن آگے بڑھا اسکے ہاتھ سے موبائل چھین کر بند کیا.پھر حیات کا ہاتھ پکڑ کر اسکے ہاتھ پر رکھا “اگر گانے سننے کا اتنا ہی شوق ہے.تو ہینڈ فری لگایا کرو” اپنی بات کہہ کر وہ جانے کے لئے پلٹا دروازہ کے پاس پہنچ کر پلٹ کے اسے دیکھا “ایمان سے کہو میرے لئے چاۓ لے آۓ”
“جی”حیات کے جواب پر وہ کمرے سے نکل گیا.حیات نے لمبی سانس بھری اور بیڈسےاٹھ کھڑی ہوئی”حد ہوگئی یارمیں بھی ناں شیر مار کے سامنے ہمیشہ گڑبڑ کرتی ہوں.اف چاۓ!!”اپنی پیشانی پر ہاتھ مارکروہ باہرکی طرف بھاگی اور کچن میں آکر دم لیا
“آپی وہ افگن بھائی چاۓ مانگ رہے ہیں”وہ ہانپتے ہوئے بولی
کیا ہو گیا؟بھاگ بھاگ کے کیوں آ رہی ہو” ایمان نے ہنس کر پوچھا تو حیات نے ساری کہانی سنا دی “چلوکوئی بات نہیں لو یہ چاۓ دے آؤ بھائی کو جلدی سے”
“آپی میں …”اسنے اپنی طرف انگلی کرکےکہا
“جی آپ….. چلو جلدی کرو اور آرام سے جانا اوکے”ایمان نے اسے کپ تھمایا.حیات کچن سے باہر نکلی.جوس گرنے کی بات ابھی تازہ تھی.اسلئے وہ کوئی اورگڑبڑ نہیں کرنا چاہتی تھی.جب وہ شیرافگن کے کمرے میں داخل ہوئی.وہ صوفےپر بیٹھافائل کھولے کام کرنے میں مصروف تھا.وہ سوچنےلگی “ہروقت کام ہی کرتے ہیں رات کےوقت بھی آرام نہیں”اسنے سرجھٹک جلدی سے کپ ٹیبل پر رکھا اور جانے کے لئے پلٹی کہ ٹیبل پر رکھی فائلز کے ساتھ ہاتھ لگنے کی وجہ سے نیچے گریں.
“یا اللّه” اسنے جلدی سے جھک کر فائلز اٹھائیں ایک نظر شیرافگن کو دیکھاجو اسے ہی دیکھ رہا تھا.اسکے دیکھنے پر حیات کے ہاتھ سے پھرایک فائل نیچےگری جسے اسنے جلدی سےاٹھا کر میز پر رکھا.
“ہوگیا کام پورا یا اور کچھ گرانا باقی ہے؟” اسکی بات پر حیات نے ہاں میں سر ہلایا
“کیامطلب ابھی اور کچھ بھی گرانا ہے؟” شیر افگن نے آنکھیں نکالیں
“نہیں …وہ…سوری”کہہ کر وہ دروازہ کی طرف بڑھی پہلے ہی وہ جلدی بھاگ جانا چاہتی تھی تاکہ کوئی گڑبڑ نہ ہو پر …..جیسے ہی وہ دروازےسے نکلنے لگی اسکا سر دروازے سے ٹکرایا”افف”اسنے اپنی پیشانی مسلی پلٹ کر شیرافگن کو دیکھا پھر بند دروازے کوجسے وہ کھولے بغیر باہر جانا چاہتی تھی. اپنی بےوقوفی پر اسے غصہ آیا.
“آرام سےحیات”شیرافگن کی بات بیچ میں چھوڑ کر وہ دروازہ کھول کرباہر بھاگی. شیرافگن ایک دم ہنس پڑا”یہ لڑکی بھی ناں توبہ”کبھی اسے حیات کی فضول حرکتوں پر غصہ آتا تو کبهی ہنسی.وہ شیرافگن کے سامنے ہمیشہ ایسے ہی کچھ نہ کچھ الٹا کر جاتی تھی. حیات اپنے کمرے میں آئی اور اپنا سر دبانےلگی”اللّه جی شیرمار کے سامنے ہمیشہ کام خراب ہوتا ہے” افسوس سےکہتی وہ کمرے سے باہر نکلی ابھی اسے آپی کو ساری کہانی جو سنانی تھی.
••••••••••••••••
وہ لائٹ پنک اور وائٹ سوٹ میں ملبوس بالوں کی پونی ٹیل بناۓ ہاتھ میں بیگ اور فائل تھامے جلدی جلدی سیڑھیاں اتر کر ڈئننگ روم کی طرف آئی جہاں شیرافگن کے علاوہ سب ٹیبل پر موجود تھے.
“اماں جلدی سے ناشتہ دیں لیٹ ہو رہی ہوں” بیگ اور فائل سائیڈ پر رکھ کر بولی.الماس بیگم نے ناشتہ اسکے سامنے رکھا.وہ جلدی سے کھانے لگی”جلدی اٹھ جایا کرو تاکہ آرام سے کچھ کھا سکو”دادواسے تیز رفتار سے کھاتے دیکھ کر بولیں”جلدی بھی اٹھ جاؤں دادو پھر بھی لیٹ ہو جاتی ہوں”ایمان نے چاۓ کاکپ حیات کی طرف بڑھایا.”شکریہ آپی”حیات نے کپ لیتے ہوئےکہا ایمان اسکے ساتھ بیٹھ گئی.
“آج آپکابھائی نظر نہیں آرہا…کہاں ہیں جناب؟” وہ ایمان کی طرف جھک کر بولی
“آفس میں ضروری کام تھا. اسلئے جلدی چلے گئے ویسے تمہیں کیوں یاد آرہی ہے بھائی کی؟”ایمان نے ہنس کر سوال کیا.حیات نے منہ بنایا “ویسے ہی پوچھ لیا آج سکون جو ہے ورنہ تو شیر مار…..”ایمان نے اسے آنکھیں دکھائیں تو وہ آنکھیں گھما کر چپ ہوگئی.امل کی بس آگئی تھی.وہ سب کو اللّه حافظ کہتی باہر کی جانب بڑھ گئی. تایا ابو اور بابا بھی آفس کے لئے نکلے.حیات کچھ کہنے کے لئے پھر ایمان کے قریب ہوئی تو دادو نے اسے ڈانٹا”اے بی بی اب تمہیں دیر نہیں ہو رہی جو باتوں میں لگی ہو”دادو نےاسے گھورا تو وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی.
“چلتی ہوں دادو”اسنے دادو کے گال پر پیار کیا تو باقی سب کے ساتھ دادو بھی مسکرا دیں.وہ حیات سے بہت محبت کرتی تھیں.پراسکے لااوبالی پن کی وجہ سے اس پر سختی کرتی تھیں.یہ بات حیات کو بھی اچھی طرح معلوم تھی.اپنی چیزیں اٹھاکر سب کو “اللّه حافظ” کہتی وہ باہر کی طرف بڑھ گئی. پورچ میں کریم بابا کار کے پاس کھڑے تھے “بابا چلیں” اسنے کار میں بیٹھتے ہوئےکہا تو بابا نے کاراسٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی .
••••••••••••••••
حیات یونیورسٹی پہنچی تووہ چاروں اسکے انتظار میں گراؤنڈ میں کھڑی تھیں.وہ ہمیشہ ان سب سے لیٹ آتی تھی.جلدی سے ان تک پہنچی “میں آگئی”پھولی سانسوں کے بیچ کہاگیا.”اچھا سچ میں؟” مینا نےاسے ایسے دیکھا جیسے وہ وہاں موجود نہ ہو.
“مجھے تونظر نہیں آرہی”حریم نے بھی ڈرامئی انداز اپنایا”یار یہ سامنے کھڑی ہے ہماری لیٹ لطیف” تابی نے مسکراہٹ دبائی.حیات خاموشی سے انھیں گھورنے لگی”بس کرو یار کیوں تنگ کر رہی ہو بیچاری کو”سبین اپنا چشمہ ٹھیک کرتی حیات کے ساتھ کھڑی ہوئی تاکہ اسے اور تنگ نہ کیاجائے.
“یہ ہیں ہی چڑیلیں…تم ہی میری اپنی ہو سبین”حیات نے اسکے کندھے پر سر رکھا “ہاں میری ڈرامہ کوئین ہم چڑیلیں ہیں توتم بھی ہماری دوست ہو…پھر یہ کیا ہوگی حریم بتانا ذرا؟”مینانےآنکھ مارکرحریم کو دیکھ کرسوالیہ اندازمیں پوچھا.حیات نے ہنس اسکے کندھے پرفائل ماری تو سب کھلکھلا اٹھیں”اچھا اچھا چلو کلاس کا وقت ہوگیا ہے” سبین نے ہنسی روک کر جلدی سے کہا تو حیات نےاسکاچشمہ نیچےکیا.”چلتے ہیں بہن جی….ویسے اسکو گروپ میں کسنے شامل کیا؟”وہ تینوں کوآنکھ مارکر بولی کیونکہ سبین کو ہمیشہ پڑھائی کی فکر لگی رہتی باقی سب بھی پڑھائی میں اچھی تھیں. پر سبین کی طرح سرپرسوار نہیں کرتی تھیں.
“اللّه کی طرف سے ملی ہے یہ پڑھاکو ہمیں اب اسکے ساتھ ہی گزارا کرو”تابی نے ہنس کر جواب دیا. وہ چاروں ہنس دیں.یہ ان پانچوں کا گروپ تھا.ساری کلاس میں مشہور حیات ، مینا ، حریم اور تابی چاروں ایک سی تھیں. شوخ ، ہنسی مذاق کرنے والیں جبکہ سبین پڑھاکو سی تھی.پر سب کا ساتھ برابر دیتی ان پانچوں کی دوستی مثالی تھی.وہ بس ایک دوسرے کے ساتھ رہتیں باقی کلاس سے بھی بس ہیلو ، ہاۓ ہی تھی.باقی وقت وہ ہوتیں تھیں اور انکی دنیا جہاں کی باتیں.
کلاس لےکر وہ لوگ گراؤنڈ میں آکر بیٹھ گئیں موسم خوشگوار ہورہا تھا.ہلکی ہوا چل رہی تھی. وہ سب گھاس پر مزےسےبیٹھی تھیں. “ایک ضروری بات ہے لڑکیوں ذرا توجہ
فرمائیں”مینا نے سب کو اپنی طرف متوجہ
کیا.سب اسے دیکھنے لگیں.سواۓ حریم کے جو شرما رہی تھی”تم کونسی خوشی میں لال ہوئی جارہی ہو؟”حیات نے چپس کھاتے ہوئے مشکوک نظروں سے حریم کو دیکھا.جو مسکراہٹ چھپانے کے لئے سر جھکا گئی. “یہ ان دونوں کزنز کی سازش لگ رہی ہے مجھے”تابی نے حریم اور مینا کو غور سے دیکھا.وہ دونوں چچا زاد بہنیں تھیں .
“خاموش کڑیوں….. سازش نہیں خوش خبری ہے”مینا نے آنکھیں گھما کرکہا.حیات کا چپس کھاتا ہاتھ رک گیا تابی اور آگے ہو کر بیٹھی سبین نے اپنا چشمہ ٹھیک کیا.تینوں کی نظریں مینا پر جمی تھیں.مینا نے انھیں دیکھاجیسے اس نے کوئی بری خبر سنانے کا کہا ہو.
“ہماری حریم کی منگنی ہونے والی ہے”مینا نے ہنس کر بتایا حریم نے شرما کر چہرہ جھکا لیا
“ماشاء اللّه اتنا کچھ ہو گیا اب بھی نہ بتاتی ہمیں کیاضرورت تھی”حیات نےدونوں کو گھورا.”بالکل شادی پر خبر دے دیتی ہم مبارکباد دینے آجاتے”تابی کیوں پیچھے رہتی وہ بھی بول پڑی جبکہ سبین بیچاری خاموشی سے سب کو دیکھ رہی تھی”تم بھی کچھ بول دو تاکہ ایک بار ہی جواب دیا جائے”مینا نے سبین کودیکھ کر کہا.جبکہ حریم میڈم شرمانےمیں مصروف تھیں. “کیا….؟” سبین اسے دیکھنے لگی.
“ارے اس بھولی کو چھوڑو اور ہمیں جواب دو”تابی نے کہا تو حیات نے ہاں میں سر ہلاکر چپس منہ میں ڈالا”دیکھو ذرا اس شرم کی پوٹلی کو کیسے دوہری ہو رہی ہے”حیات نے حریم کی طرف اشارہ کیا جو منہ چھپاۓ مسکرا رہی تھی.
“اچھاسنو لڑکا تایا ابوکے دوست کا بیٹا ہے. اسنے ہماری حریم صاحبہ کو جانے کہاں دیکھا کہ یہ نکمی ان محترم کو پسند آ گئیں بس پھر کیا تھا.انھیں نے اپنے اماں ،ابا کو رشتہ لینے بھیج دیا.دونوں طرف سے دوستی کو رشتے داری میں بدلنے کے لئے بغیر کسی دیر کے منگنی کی تاریخ رکھ دی گئی .بڑوں میں کھچڑی پہلے سے پک رہی تھی.پر بچوں کے سامنے یہ بات کل کھلی. اچانک ہی رشتہ پکا کر کے منگنی کی ڈیٹ فکس کردی گئی.سب خاموشی سے ہوا تھا.ورنہ ہماری یہ مجال جو ہم تم سب سے کچھ چپائیں”مینا نے جلدی سےساری بات بتائی.حریم نے بھی سر اثبات میں ہلایا کہ ایسا ہی ہے. پھرانہوں نے حریم کو گلے لگا کر مبارک دی.مسکراکر اسے تنگ کرتی رہیں.”ویسےلڑکا پسند ہے ناں تمہیں؟”حیات نے اسکے قریب ہو کر پوچھا تووہ شرما گئی.
“ایساویسا…اسکے چہرے پربکھرے رنگوں کو تودیکھو”مینا نےحریم کےبالوں کی لٹ کھینچی تو وہ مسکرائی.
“اوۓ ہوۓ”تابی نے حریم کو دیکھ کر کہا.اسنے اپناچہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا تو سب ہنسنے لگیں.”اچھا منگنی کی تاریخ کب کی ہے؟” سبین نے سوال کیا
“شکر ہےتم کچھ بولی تو”مینانےاسےدیکھا تو سبین نےمسکراکر اپناچشمہ ٹھیک کیا”منگنی اگلےہفتے ہے”حریم نےجواب دیا
“ایک ہفتہ ہےپھر ہماری حریم صاحبہ منگنی شدہ ہو جایئں گیں”حیات نے کھڑے ہوکر اعلان کیا.تو حریم کے علاوہ سب تالیاں بجانے لگیں “تم بھی کروا لومنگنی”تابی نے ہنس کرکہا.حیات نے کانوں کو ہاتھ لگایا” مجھے تو معاف ہی رکھو”اسنے ڈرنے کی ایکٹنگ کی توسب ہنسنے لگیں”ایک نہ ایک دن تو ایسا ہوگا حیات صاحبہ”حریم نے اسے کھینچ کر بٹھایا”تب کی تب دیکھیں گے”حیات نے بات اڑا دی.
جاری ہے
