Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06

شام کے وقت مجتبیٰ ،شیرافگن سے ملنے آیا دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے.شیرافگن کی ضروری کال آئی تو وہ لان میں نکل آیا. ایمان چاۓلے آئی حیات اسکے ساتھ تھی.وہ صوفےپر بیٹھ کر مجتبیٰ سے باتیں کرنے لگی. ایمان نے ٹرے ٹیبل پر رکھی پھرکپوں میں چاۓ ڈالنے لگی.مجتبیٰ بات حیات سے کر رہا تھا پر اسکی نظریں ایمان کے چہرے پر تھیں. ایمان نے کپ اسے پکڑایااسنے کپ تھام کر ایک گہری نظر اس پر ڈالی.ایمان کا چہرہ جیسے جلنے لگا.حیات خاموش بیٹھی چہرے پر شرارتی سی مسکراہٹ بکھراۓسب دیکھ رہی تھی.ایمان چہرہ جھکاۓ جلدی سے وہاں سے نکلی جبکہ حیات ایک دم سے کھانسی تھی. مجتبیٰ شرمندہ سا ہوگیا.حیات کی موجودگی کو بالکل فراموش کر چکا تھا .
“اہم دال میں کچھ کالا کالا سا لگتا ہے مجتبیٰ بھائی”اسکی بات پر مجتبیٰ دھیمے سےہنسا.
“ہو سکتا ہےلیٹل سسٹر”اسنے چاۓ کا سپ لیا
“اوہ…میں تو پہلے ہی سمجھ گئی تھی” شرارتی ہنسی کے ساتھ اسنے سرہلایا.
“آپکی سمجھداری پر ہمیں کوئی شک نہیں” مجتبیٰ نے اسے دیکھاپھر تھوڑا قریب ہوکر بولا “پر کوئی ہے جو آپکو سمجھدار نہیں سمجھتا”
“ہاں ہاں مجھے پتہ ہے وہ کوئی آپکے دوست محترم ہیں”حیات نے سر ہلا کر منہ بنایا. مجتبیٰ قہقہہ لگا کر ہنسا .
“ویسے آپکی آپی چاۓکمال کی بناتی ہیں” اسنے کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے تعریف کی
“بالکل میری آپی بیسٹ ہیں”حیات نے فخریہ
انداز میں سر اٹھا کرکہا تو مجتبیٰ ایک دم سے مسکرایا.شیرافگن جب کال سن کر اندر آیا تو حیات کو مجتبیٰ سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا دیکھ کے اسے عجیب سی جلن محسوس ہوئی .وہ انکی طرف آیا اورمجتبیٰ کے ساتھ بیٹھ گیا.”کیاباتیں ہو رہی ہیں؟”شیرافگن نےحیات کو گہری نظروں سےدیکھ کرمجتبیٰ سےسوال کیا.
“حیات صاحبہ بہت اچھی اچھی باتیں کرتی ہیں کہ مجھے تمہاری کمی محسوس ہی نہیں ہونے دی” مجتبیٰ نے ہنس کر اسے دیکھا
“اچھامجھ سے تو کبھی نہیں کی ان مادام نے اچھی باتیں”اسکا اندازطنزیہ تھا.وہ پتہ نہیں کیوں بے چین ہو رہا تھا.
“ہونہہ آپ سے مذاق کر کے میں نے خودکشی تھوڑی کرنی ہے”وہ بڑبڑائی پھر اٹھ کھڑی ہوئی
“لگتا ہے مجھے ایمان آپی بلا رہی ہیں”وہ جلدی سے بہانہ بنا کر وہاں سے نکلی .مجتبیٰ اسکی حرکت پر ہنسا جبکہ اسے جاتا دیکھ کر شیرافگن کےماتھے پر بل پڑھ گئے.
“اتنی عظیم ہستی ہے حیات اورتم اسے پاگل کہہ رہے تھے یار”مجتبیٰ نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا.”کوئی اور بات کرو”اسنے بے زاری سے کہا پھر اپنے لہجے پر غور کیا تو بولا
“اچھا بتاؤ بزنس کا کیا پلان ہے”شیرافگن نے بات پلٹ کر سوال کیا تو مجتبیٰ اسے بتانے لگاپر شیرافگن کا دھیان کہیں اور اٹکا ہوا تھا.
•••••••••••
اگلے دن حیات جلد ہی تیار ہوکر شیرافگن کے ساتھ یونی کے لئے نکلی تھی.وہ ونڈو سے باہر دیکھ رہی تھی.موسم بہت پیارا ہو رہا تھا. بارش ہونے کاامکان تھا.شیرافگن ڈرائیو کر رہا تھا.ساتھ ہی موبائل کان سے لگا ہوا تھا.کوئی بزنس کی بات چل رہی تھی.کار یونی کے پارکنگ لاٹ میں رکی.حیات بیگ کندھے پر ڈال کرکار سے باہر نکلی.جب ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اس سے ٹکرایا تو اسنے شال کواچھے سے اپنے گرد لپٹا.وہ آگے بڑھ رہی تھی.جب اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنی ساتھ ہی اسے پکارا گیا.”حیات” پکارنے والا شیرافگن تھا.اسنےپلٹ کر دیکھا.نیوی بلیو سوٹ میں آنکھوں پر گلاسز لگاۓ وہ اسکے سامنے کھڑا تھا.”جی کیا ہوا؟” اسے سمجھ نہیں آئی کہ اسے کیوں روکا گیا.اسے محسوس ہوا شیر افگن نے گلاسز کے پیچھے سے اسے گھورا تھا.
“یہ آپکی ہی ہےناں محترمہ”اسنے فائل حیات کے سامنے لہرائی.حیات نے دو قدم آگے بڑھا کر فائل تھامی” شکریہ افگن بھائی “اسنے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا.
“خیال رکھا کرو اپنی چیزوں کا اوکے” اتنا کہتا وہ کار کی طرف بڑھ گیا.حیات بھی چلتی ہوئی یونی میں داخل ہوئی.وہ سب گراؤنڈ میں اپنی جگہ پر بیٹھی تھیں.حیات انکی طرف بڑھی.”واہ واہ دیکھو دیکھو کون آیا” تابی نے اسے دیکھ کر نعرا لگایا.
“شیر” مینا نے جلدی سے کہا
“دھرفٹے منہ”حریم نے منہ بنا کر مینا کو ایک لگائی.تب تک حیات انکے ساتھ بیٹھ چکی تھی.” ارے اپنی حیات ہے”سبین نے مسکرا کر کہا.حیات نے مسکرا کر سب کو سلام کیا جسکا سب نے ایک ساتھ جواب دیا.
“کیابات ہے آج جلدی کیسے آگئی”تابی نے اسکے قریب ہوکر پوچھا”کیوں میں جلدی نہیں آسکتی”اسنے تابی کو گھورا
“یار پتہ تو ہے تم لوگوں کو یہ آجکل شیرافگن صاحب کے ساتھ آرہی ہیں”حریم نے ہنسی دبا کرکہا “ہاں تو میں ڈرتی تھوڑی ہوں افگن بھائی سے بس آج جلدی اٹھ گئی تھی”حیات نے شال ٹھیک کرتے ہوئے صفائی پیش کی
“اچھا!!!!”مینا نے اچھا کو لمبا کھینچ کر تابی کو اشارہ کیا.”پر ہم نے ڈرنے کی بات تو کی ہی نہیں” تابی کی بات پر وہ لوگ ہنس پڑیں.
“مطلب ہماری بہادر حیات کسی سے تو ڈرتی ہے” سبین نے ہنسی دبا کر کہا
“اللّه تمہیں بھی کوئی ڈرانے والا دے پھر” حیات نے ہاتھ اٹھا کر جیسے دعا کی تھی.
“آمین!!”سبین کے علاوہ تینوں نے اونچی آواز میں کہا.
“جلد مل جائے گا ہماری بھولی کو کوئی بھولا” حریم نے ہنس کر سبین کا کندھا تھپکا
“مجھے کوئی جلدی نہیں”سبین نے چشمہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا
“مطلب دیر سے آۓ پھر چلے گا؟”تابی نے حیات کے ہاتھ پر ہاتھ مارکر کہا
“توبہ ہےتم لوگ بھی ناں”سبین کا چہرہ گلابی ہوا.”اف یہ گلابی چہرہ دیکھو ذرا”حیات نے سب کومتوجہ کیا.سب زور زور سے ہنسنے لگیں .”اللّه معاف کرے” سبین جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی”چلو اٹھو کلاس کاوقت ہوگیا ہے”اسنے بیگ کندھے پر ڈالا
“ہاں اٹھو سبین کی کھینچائی پھر کریں گے” حیات انھیں دیکھ کر مسکرائی پھر سب کلاس کی طرف بڑھیں.راستےمیں بھی سبین کو تنگ کرتی رہی تھیں.آج سبین انکے ہاتھ لگی تھی. ہمیشہ وہ لوگ ایک دوسرے کو کسی نہ کسی بات پر تنگ کرتی تھیں.
واپسی پر تیز بارش شروع ہو چکی تھی. حیات سر پر فائل رکھے پارکنگ ایریا کی طرف بڑھ رہی تھی.سب لوگ بارش سے بچنے کے لئے جلدی سے اپنی گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے.حیات نے قدم تیزی سے آگے بڑھاۓ ابھی وہ کار سے کافی فاصلے پر تھی.جب کسی نے چھتری اسکےاپر کی وہ ایک دم سے ڈر سی گئی اسنے آہستہ سےسر اٹھا کر دیکھا.اسکے بالکل ساتھ شیرافگن کھڑا تھا.
“اف آپ نے مجھے ڈرا دیا میں سمجھی پتہ نہیں کون ہے”وہ لمبی سانس کھینچ کر ہنسی
“اچھاباتیں چھوڑو اور جلدی چلو پہلے ہی بھیگ چکی ہو بیمار ہو جاؤگی”اسنے فکرمندی سے حیات کو دیکھا جو کافی بھیگ چکی تھی.
“کچھ نہیں ہوتا افگن بھائی میرا تو ابھی بھی بارش میں نہانے کادل کررہا ہے”وہ چھتری سے نکلنے لگی توشیرافگن نے اسکا بازو پکڑ کر کھینچا.”دماغ خراب ہے تمہارا پہلےہی آفت ہو تم بیمار ہوکر اور ہو جاتی ہو چلو آرام سے” اسے ڈانٹ کر قدم آگے بڑھا دیے.حیات بھی منہ پھلا کراسکے ساتھ گھسیٹتی چلی گئی.حیات ایک بار سردی لگ جانے کی وجہ سے بیمار ہو گئی تھی.پورےگھر کو پریشان کر کے رکھاتھا. اسلئے شیرافگن نے اسے ڈانٹ دیا.
جب وہ لوگ کار میں بیٹھے تو حیات سردی کی وجہ سے کانپ رہی تھی.
“ابھی تو محترمہ کو بارش میں نہانا تھا ” شیرافگن نے اسے گھور کرہیٹر آن کیا.پھرگاڑی آگے بڑھادی.حیات نےاسکی بات کا کوئی جواب نہ دیا.ہیٹر نے کار کو گرم کر دیا تھا. حیات کھڑکی پر برستی بارش کی بوندوں کو دیکھ رہی تھی. اسے یہ منظر بہت دلکش لگتا تھا.کھڑکی پر جمے ایک ایک قطرے پر وہ شہادت کی انگلی رکھتی پھرجب قطرہ نیچے آتا تو وہ اسکے ساتھ ساتھ اپنی انگلی کو چلاتی جاتی پھرجیسے ہی وہ قطرہ نیچے جا کر فنا ہوتا.حیات دوسرے قطرے کے ساتھ ایسے ہی کھیلتی ایسا کرتے ہوئے اسکے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ بکھر جاتی اور گال میں پڑتا ڈمپل واضح ہوتا.وہ کب سے اسی کھیل میں مگن تھی.شیرافگن کتنی بار اسے دیکھ چکا تھا.پروہ اپنی دنیا میں مگن تھی.اسکے کھیل کو دیکھ کر شیرافگن کے لبوں پر بھی ہلکی مسکراہٹ بکھر گئی.
“پوری پاگل ہے یہ لڑکی”بڑبڑا کر اسنے سر جھٹک کر مسکراہٹ روکی.
••••••••••••
“دادو اور تائی امی کے بغیر ذرا مزہ نہیں آتا” حیات نے ایمان کو دیکھ کر کہا.وہ لوگ ہال میں بیٹھی تھیں.
“بس کل تک انتظار کرو بیٹا” ایمان کی جگہ الماس بیگم نے جواب دیا.
“ہاں پھر دادو کے آتے ہی دونوں دادی ، پوتی کا پیار دیکھیں گے”ایمان نے حیات کو دیکھا
“جی جی انشاءاللّه”حیات شرارت سے ہنسی
“پڑھاکو آج تمہیں پڑھنا نہیں ہے.جاؤتمہاری بکس تمہیں مس کر رہی ہونگی”حیات نے اب امل کوچھیڑاجو الماس بیگم کے کندھے پرسر رکھے نیم دراز تھی.”ماما دیکھ لیں آپی کو”امل نے ماں سے شکایت لگائی.
“حیات مت تنگ کرو میری بیٹی کو” انہوں نے امل کا ماتھا چوما
“اماں…میں بھی آپکی بیٹی ہوں.دیکھیں آپی اماں مجھے بھول گئیں.”اسنے مصنوعی خفگی سے کہا تو ایمان نے ہنس کر اسکا گال تھپکا
“اچھا بس تم تینوں میری پیاری بیٹیاں ہو” الماس بیگم نے مسکرا کر تینوں کو دیکھا
“دیکھا تم نے…ماں کا پیار بے حساب ہوتا ہے” ایمان نے اسے پیار سے دیکھ کر کہا
“آئی نو آپی پر یہ پڑھاکو کیسے اماں کے قریب بیٹھی ہے.مجھے جلن ہو رہی ہے”وہ بچوں کی طرح بولی تو امل نے ہنس کر اسے اور چڑایا بس پھر کیا تھا.دونوں کی تکرار شروع ہو گئی.جس نے الماس بیگم اور ایمان کوہنسنے پر مجبور کردیا.
اگلے دن یونیورسٹی میں وہ سب ہمیشہ کی طرح باتوں میں مگن تھیں.جب شازمہ انکی طرف آئی.سب نے ایک دوسرے کو دیکھا کہ شاید شازمہ انکی بات سمجھ گئی ہو.وہ حیات کے سامنے کھڑی ہوئی.
“کل تو تم بڑی پاک صاف بنی مجھے سمجھا رہی تھی.خودجو تم کرتی ہواسکا کیا”وہ تیکھے لہجے میں بولی.ان سب نے الجھی نظروں پہلے اسےپھرایک دوسرےکو سے دیکھا.
“کیا کہنا چاہ رہی ہو تم ؟میں سمجھی نہیں”
“بہت خوب خود پر بات آئی تو سمجھ نہیں آرہی کل جو بارش میں اس لڑکے کے ساتھ رومینس کر رہی تھی.اس ہیرو کے ساتھ آتی جاتی ہو تب تمہیں اپنی عزت کا خیال نہیں آیا”اسنے آنکھیں گھما کر طنزیہ انداز میں کہا. وہ سب حیران رہ گئیں.حیات کو جیسے ہی سمجھ آئی اسنے گھور کر شاز مہ کو دیکھا
“کیا بکواس کر رہی ہو تم”وہ غصے سے کانپنے لگی تھی.
“کیوں غلط کہا میں نے؟” شازمہ ہنس کر بولی
“ہاں غلط کہا وہ میرے کزن ہیں سمجھی جو بکواس تم کر رہی ہو یہ تمہارے اپنے ذہن کی گندگی ہے”حیات نے اسکی آنکھوں میں دیکھا
“اپنے کزن کا سن کر بڑا غصہ آرہا ہے تمہیں تو احمر کےبارے میں تم نےبکواس کیوں کی تھی”
“بکواس نہیں سچ ہے.احمرجمالی جیسے گندے انسان اور افگن بھائی میں زمین آسمان کا فرق ہے.تم اپنے چھوٹے سے ذہن پر زور مت ڈالو اور اپنی گھٹیا سوچ خود تک محدود رکھو”حیات انگلی اٹھا کر بولی تو شازمہ طنزیہ ہنسی وہ کچھ کہنے لگی تھی جب تابی نے اسے ٹوکا
“بس بہت بول چکی تم” تابی نے اسے گھورا
“آؤ حیات چلیں”سبین نےحیات کابازو تھاما
“ہاں ہاں جاؤ منہ چھپاکر”شازمہ نے سرجھٹکا
“شٹ اپ شازمہ” مینااورحریم بھی آگے بڑھیں
“واہ یہ تم لوگوں کی دوستی” شازمہ نے سبکو دیکھا “اپنی دوست کو سمجھاؤ میرے معاملے میں آئندہ نہ بولےورنہ اچھا نہیں ہوگا “انگلی اٹھا کر کہتی وہ بال جھٹکتی وہاں سے چلی گئی.حیات نے اپنی پیشانی مسلی اسکے سر میں درد شروع ہو گیا تھا.
“میری جان پریشان نہ ہو اسنے کل کی باتوں کا بدلہ لیا ہے”حریم نے اسے گلے لگایا.وہ تینوں بھی انکے قریب ہو کر کھڑی ہوئیں.
“بالکل ایسے لوگوں کی باتوں پر دھیان نہیں دیتے” تابی نے اسکی کمر سہلائی
“مجھے اسکی باتوں کا برا لگا ہے کیونکہ اسنے غلط کہا .پر میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اسلئے میں مطمئن ہوں” وہ حریم سے الگ ہوئی اسکی سنہری آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی. پر چہرے پر مسکان تھی.”یہ ہےمسکراتی ہوئی ہماری حیات” سبین نے اسکا کندھا تھپکا.
“چلومٹی پاؤ شازمہ تے”مینا نے ہنس کر محبت سےاسکے گلے میں بانہیں ڈالیں تو سب ہنسی تھیں.”آؤ کچھ کھاتی ہیں اور ڈھیر ساری گپیں لگاتے ہیں”تابی نے چٹکی بجا کر کہا تو سب کینٹین کی طرف گئیں.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *