Ye Larki Haye Allah by Pari Vash NovelR50759 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05
Rate this Novel
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode01 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode03 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode04 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05 (Watching)Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode06 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode07 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode08 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode09 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode10 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode11 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode12 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode13 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode14 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode15 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode16 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode17 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode18 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode19 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode20 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode22 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode23 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode24 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode25 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode26 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode27 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode28 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode29 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode30 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode31 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode32 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode33 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Last Episode Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode02 Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode34
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05
Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode05
کلاس لے کے وہ لوگ باتیں کرتی ہوئی گراؤنڈ میں نکلیں .اپنی فیورٹ جگہ درخت کے نیچے آکربیٹھیں.سردی کی وجہ سے سب نے شالیں لپیٹ رکھیں تھیں.
“ہاں اب جلدی بتاؤ کیا ہوا تھا”مینا نے بےتابی سے پوچھا حیات نے اسے گھورا
“سب اس تابی کی بچی کی وجہ سے ہوا تھا” اسنے تابی کے کندھے پر چپت لگائی
“واہ سارا الزام مجھ پہ کیوں ڈال رہی ہو”
“کوئی ہمیں بھی بتاۓ کہ ہوا کیا ہے؟” حریم نے دونوں کو گھورا.جو لڑنے میں مصروف تھیں. حیات نے انھیں سب بتایا کہ کیسے شیرافگن کی شرٹ جلی اور کیا کیا ہوا.اسکی بات
ختم ہوتے ہی وہ چاروں کھلکھلا کر ہنسنے لگیں.تو حیات نے آنکھیں پھاڑ کے انھیں دیکھا.”بند کرو یہ چڑیلوں والی ہنسی”
“اف یار کتنےمزے کا سین ہوگا.ضرورکچھ گڑبڑ ہے”مینا نےآنکھیں گھمائیں باقی تینوں بھی ایک دوسرے کو اشارے کر رہی تھیں .
“کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا؟”
“مطلب تو صاف ہے.دیکھو ناں اتنے غصے والے شیرمار نے اپنی فیورٹ شرٹ جل جانے پر کچھ نہ کہا بلکہ مذاق کرتا رہا واہ پھر جب تم رونے والی ہوگئی تو اسنے تمہیں ڈانٹا بھی نہیں کچھ تو راز اسکے پیچھے”مینا نے جیسے بہت گہرائی سے سوچتے ہوئے کہا.
“مجھے تو لگتا ہے وہ تم سے محبت کرنے لگے ہیں”حریم نے خواب کی سی کیفیت میں کہا
“تم تو چپ ہی رہو جب سے تمہیں منگنی کا پتہ چلا ہے ،تم تو پیار، محبت کا ہی سوچتی ہواور کوئی کام نہیں ہے تمہارا”حیات نے اسے ڈانٹا”ویسے حریم کی بات ٹھیک ہی ہے” سبین نے سر ہلا کر کہا.حیات نے اسکا چشمہ اتارا
“تم بھی ان سب کے ساتھ مل گئی “
“ہاں تو سچ ہی کہہ رہے ہیں ہم نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ شیرافگن صاحب کو اپنی حیات صاحبہ سے محبت ہوگئی ہے”تابی جو مار کھا کرکب سے چپ بیٹھی تھی بول پڑی.اسکے کندھے پرحیات نے ایک اور تھپڑ مارا تو وہ حیات سے دور ہو کر بیٹھی.
“خبر دار جو تم لوگوں نے میرا دماغ خراب کیا ورنہ اچھا نہیں ہوگا ہونہہ”اسنے انگلی اٹھا کر سب کو وارن کیا.”میرا کندھا توڑ دیا ہے تم نے موٹی”تابی اپنا کندھا دبانے لگی.
“اورکچھ کہوذرا سربھی توڑ دونگی سمجھی”
“اہم…ہوگیا ہےشیرمار کوتو پیار کڑیوں لاکھ کر لے یہ حیات انکار کڑیوں”مینا نےشرارت سے گنگناکر گانے کی ٹانگیں توڑیں.وہ گانا گانے کی شوقین تھی.آواز بھی بہت اچھی تھی.اسلئے وہ کچھ نہ کچھ گنگنا کر سب کوسناتی رہتی تھی.اسکےگانے پر حیات نے اسےگھورا اور باقی سب قہقہے لگا کر ہنسنے لگیں.حیات نے سر ہاتھوں پرگرا لیا.یہ سب تو خود سے کہانیاں بنا رہیں تھیں.
“اچھا …اچھا سب چپ….میری بات تو سنو پیاری دوستو”حیات نے ہاتھ اٹھا کر انھیں روکا پھر مسکراکر سب کودیکھا.وہ لوگ اسکے اچانک موڈ بدل لینے پر حیران رہ گئیں.
“ہاں تو بتاؤ ذرا میں کون ہوں اور کس چیز کی دیوانی ہوں؟”
“ظاہرسی بات ہے تم حیات ہو اور دیوانی ہوں …دیوانی تو تم شیرافگن صاحب کی ہوگی” حریم نے سوچتے ہوئے آنکھ ماری
“توبہ ہے… تم لوگوں کو پتہ ہے ناں میں ناولز کی دیوانی ہوں.تو پیاری چڑیلوں میں نے ایسے بہت سے ناولز پڑھے ہیں.جہاں تم جیسی بیوقوف سہیلیاں”اسنے سب کی طرف شہادت کی انگلی گھمائی اور خود پر روکی”مجھ جیسی ہیروئن کو ایسے ہی کہتی ہیں کہ تمہارا وہ کھڑوس، بدتمیزکزن تمہیں پسند کرتا ہے.پھر جب ہیروئن بیچاری انکی باتوں میں آکر ہیرو صاحب سے اظہارِ عشق کرتی ہے.تو ہیرو صاحب سے تھپڑ کے ساتھ بہت کچھ سننے کو بھی ملتا ہے.”اسنے سر جھٹک کر منہ بنایا”اور تم سب کو لگتا ہے کہ میں ایسی بیوقوفی کروں گی.نہ جی نہ…” اسنے زور زورسےنفی میں سر ہلایا “جیسے میں شیر مار کو جانتی نہیں ایسی بات کرکےمرناہےکیا میں نے توبہ.اسلئےاب ان پھٹی ہوئی آنکھوں کو نارمل کرو اور اپنے دماغوں سے اس محبت کے فتور کو نکال باہرکرو”وہ اب سب پر ہنس رہی تھی.ان سب کی شکلیں لٹک گئیں.
“کتنابولتی ہو تم بڑی آئی ہیروئن کہیں کی” تابی نے اسے گھورا جو اب مسکرا رہی تھی. مسکرانےکی وجہ سے گال میں پڑھتا ڈمپل واضح ہو رہا تھا.
“اوریہ جو تم نے کہانی سنائی ہے ہمیں ، ہم نے کب کہاکہ جاکر شیر مار کو آئی لو یو کہو توبہ میرا سر دکھا دیا تمہاری باتوں نے”مینا نے اپنا سر دبایا جبکہ حریم ، سبین اور حیات مسکرا رہیں تھیں.حیات نے ان دونوں چالاک لڑکیوں کے سر میں درد کروا دیا تھا .
“کیسے دانت نکال رہی ہیں تینوں”مینا نے کہا وہ اور تابی ایک گروپ میں ہو گیں اور وہ تینوں دوسرے.سب اب بحث کرنے لگی ایک طرف حیات کی باتوں پرسبین ، حریم ہنس رہی تھیں.جبکہ دوسری طرف وہ دونوں بے زار سی بیٹھیں شکلیں بناتی برابر مقابلہ کر رہی تھیں.آخر میں حیات نے ہاتھ کھڑےکرکےانھیں چپ کروایاپھر اٹھ کھڑی ہوئی.”آجاؤ میری پیاری چڑیلوں ہمارا ایک ہی گروپ ہے پھر مقابلہ کیسا”وہ ایک دوسرے سے گلے ملیں تو مینا گنگنانے لگی.
یہ دوستی ہم نہیں توڑیں گے.
توڑیں گے دم اگر تیرا ساتھ نہ چھوڑیں گے.
“بالکل بالکل”سب کھلکھلا کے ہنسی.ایک دوسرے سے لڑنا صرف مذاق تھا.ورنہ تو سبکی ایک دوسرے میں جان تھی.ایسی پیاری دوستیں ملنا خوش نصیبی تھی. وہ ایک دوسرے کو خوش نصیب کہتی تھیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کے پاس تھیں.
••••••••••
حیات ، دادو کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی تھی. شیرافگن بیڈ سے کچھ فاصلے پررکھے صوفے پر بیٹھا تھا.ایمان ،دادو کی ضروری چیزیں پیک کر رہی تھی.کل انھیں گاؤں شادی میں جانا تھا.”دادو میں آپکو بہت مس کروں گی”حیات اداس سی دادو کے کندھے سے لگی.
“بیٹادو دنوں کے لئے جا رہی ہوں.تم کیا میری ڈانٹ یادکرو گی”دادو نے ہنس کر اسکے گال پہ ہاتھ پھیرا.”بالکل دادو آپکی ڈانٹ سنے بغیر میرا دل نہیں لگتا”اسنے انکاہاتھ تھام کرکہا.
“چلو جاؤ یہاں سے شریر لڑکی ورنہ ابھی ڈانٹ دینا ہے میں نے”انھیں نے اسے گھورا.تو اسنے ہنس کر انکے گال پرپیار کیا.ایمان ،دادو سے اسکے لاڈ دیکھ کر مسکرا رہی تھی.جبکہ شیرافگن خاموش بیٹھا اس پل پل رنگ بدلتی لڑکی کو دیکھ رہا تھا.”دادو ایک بات سنیں” حیات نے سرگوشی کی.”ہاں بولو”دادو نے اسے دیکھا.ایمان کو بڑی ہنسی آرہی تھی کہ آج دادی،پوتی کی بہت بن رہی ہے.
“افگن بھائی کو دیکھیں کتنے خاموش ہیں.آپ ایساکریں انکی شادی کروا دیں” وہ خوشی سے بولی اسکی سرگوشی اتنی اونچی تھی کہ سب کو سنائی دے.
“بہت اچھی بات کی ہے آج حیات نے پر پہلے اس لڑکےکو کوئی مناۓ تو سہی”دادو نے اسکی سرگوشی(جو صرف حیات کو لگا کہ سر گوشی ہے)کے جواب میں اونچی آواز میں جواب دیا.اسنےگھبرا کر ایک ہاتھ منہ پر رکھ کر شیرافگن کو دیکھا جسکے ماتھے پر بل پڑ چکے تھے.”مروا دیا دادو”وہ بڑبڑائی
“بولو شیرافگن جواب دو حیات کی بات کا شادی کروا دیں تمہاری”دادو نے ہنس کرپوچھا شیرافگن اٹھ کھڑا ہوا.حیات ڈر سی گئی.
“وہ دادو رہنے دیں میں نے تو ویسے ہی کہہ دیا”وہ جلدی سے بولی اسکی بات پر ایمان ہنسی.شیرافگن بیڈ کی دوسری طرف آکر بیٹھا “دادو کرلوں گا شادی صحیح وقت آنے پر “اسنے ایک نظر ساتھ بیٹھی حیات پر ڈالی جو اسکی بات سن رہی تھی.پھراسنے دادو کو دیکھا “ابھی تو ڈیئر دادو آپ اپنی دوست کے پوتےکی شادی انجواۓ کریں”اسنے دادو کے ہاتھ چومے “ہاں بیٹا اب میں دوسروں کے پوتوں کی شادیاں ہی مناؤں گی”دادو نے خفگی سے منہ پھیرا.
“آپ اداس کیوں ہو رہی ہیں دادو جلد افگن بھائی کی شادی ہوگی ناں”حیات پھر جذباتی ہوکر بولی پھریادآنے پرایک دم سے زبان دانتوں میں دبائی.شیرافگن نے لب بھینچے پھراٹھ کھڑا ہوا.
“اچھا دادو چلتا ہوں مجتبیٰ سے ملنے جانا ہے”
“اچھا جاؤ بچے”دادو نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ کمرے سے نکل گیا .
“بیٹا بس ضروری سامان ہی رکھنا”
“جی دادو بس ہوگیا”ایمان بیگ بند کر کے
انکے ساتھ بیٹھ گئی .
“بہو نے تیاری کرلی؟کل صبح جلدی نکلیں گے”
“جی ہوگی تیاری ماما کی اور دادو ہم آپکو مس کرینگے”ایمان نے محبت سےدادوکےہاتھ تھامے.دادو ان سے کھبی دور نہیں گئیں تھیں. اسلئے وہ اداس ہو رہیں تھیں. “میری بچیوں دو دنوں کی بات ہے .اب مس کرنے کی بات کو چھوڑ دو”دادو نے ہلکے سے مسکراکراسکاگال تھپکا.ابھی دادوکی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ امل کمرے میں داخل ہوئی. “دادو آپ صبح جائیں گیں”وہ اداسی سے دادو کے قریب بیٹھی”جی بیٹا”دادونے پیار سے اسے دیکھاجبکہ حیات اورایمان نے ہنسی دبائی.وہ جانتی تھیں کہ اب امل کیا کہنے والی تھی. “دادومیں آپکو بہت مس کروں گی”وہ اداسی سےبولی جبکہ دادوکی برداشت ختم ہوگئی. “اے لڑکیوں یہ کیا تم لوگوں نے کب سے مس مس لگایا ہوا ہے. ہمیشہ کے لئے نہیں جارہی دو دن بعد یہیں لوٹ کر آؤنگی چلو اٹھو اورجاؤ یہاں سے آرام کرنے دو مجھے” انھیں ڈانٹ کر دادو تکیے سے ٹیک لگاکربیٹھیں.ایمان اور حیات ایک دوسرےکو دیکھ کرہنسنے لگیں.امل بےچاری حیران تھی کہ ایساکیاکہہ دیا اسنے جودادو نےایسےڈانٹ دیا.وہ دونوں امل کا ہاتھ پکڑ کرہنستی ہوئیں وہاں سے نکلیں تھیں.
•••••••••
صبح دادو اور تائی امی گاؤں کے لئے روانہ ہوئیں. امل کالج،بڑے ابو اور بابا آفس جاچکے تھے.حیات بیگ کندھے سےلٹکاۓ تیزی سے سیڑھیاں اتررہی تھی.آج اسنےناشتہ بھی نہیں کیاتھا.شیرافگن کار میں بیٹھا اسکا انتظار کر رہا تھا.دو دنوں کے لئےحیات اسکی زمے داری تھی کیونکہ کریم بابا ، دادو اور تائی امی کو لے کر گاؤں گئے تھے.وہ جلدی سے کار کادروازہ کھول کر بیٹھی.وہ انگوری کپڑوں میں ملبوس تھی.آج جلدی میں اسنے بال کھلے چھوڑ دیئے تھے.دوپٹہ گلے میں ڈالےکندھوں کے گرد شال لپٹی تھی.
“تمہیں ذرا فکر نہیں کہ تم یونی کے لئےلیٹ ہو رہی ہو “شیرافگن نے اسےگھور کر دیکھا.وہ کب سےکارمیں بیٹھا اسکا انتظار کررہا تھا.
“وہ دادو لوگ جا رہیں تھیں ناں اسلئے”اسنے شیرافگن کو دیکھاجو بلیک سوٹ پہنے ہوئے تھا.”اچھا بہانہ ہے.پر کل اگرلیٹ ہوئی تومیں انتظار نہیں کروں گا”حیات کودیکھ کرکہا گیا پھراسنے کار سٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی.راستے میں دونوں خاموش ہی رہے.گاڑی یونی کے پارکنگ لاٹ میں رکی تو وہ اسے اللّه حافظ کہتی جلدی سے اتری.آج وہ بہت لیٹ ہو چکی تھی .شیرافگن نے کار زن سے آگے بڑھا دی. حیات پارکنگ لاٹ سے گزر رہی تھی.دو گاڑیوں کے پیچھے احمر جمالی اور اسکےتین دوست کھڑے تھے.حیات کی طرف انکی پیٹھ تھی.وہ پیچھے سے گزرنے لگی جب شازمہ کا نام سن کر رک گئی.
“شازمہ کیاحسین بلاہے” احمرجمالی سینے پہ ہاتھ پھیر کربولا تو اسکےدوست ہنسے لگے. “یارکب اس چڑیا کا شکار کرنا ہے؟”اسکے دوست وقاص نےکمینگی سےپوچھا جواباً احمرجمالی قہقہہ لگا کر ہنسا”بہت جلد سمجھو کہ چڑیا کےپرکٹنے والے ہیں”
“بہت بیوقوف ہے یہ شازمہ”دوسرا دوست ندیم ہنستے ہوئے بولا
“اپنی صورت اور دولت کا کمال ہےیارجو یہ شازمہ اور اس سے پہلے آنے والی ہمارا نشانہ بنتیں ہیں”اسنےکمینگی سے چہرےپرہاتھ پھیرا
“اور آگے بھی بنتی رہیں گیں”ندیم نے آنکھ ماری تو سب نے قہقہہ لگایا.
“اور ہمارا حصہ؟”سلمان جو خاموش کھڑا تھا. اسنے احمرجمالی کو دیکھ کر پوچھا
“تم لوگ تو ہمیشہ ساتھ ہو یار چڑیا کو ہاتھ لگنے دو پھر تو ….” اسنے ہونٹوں پر زبان پھیر کراسکاکندھا تھپتھپایا پھر باتیں کرتے ہوئے وہ وہاں سے چلے گئے.وہ سب بگڑے ہوئے امیر زادے تھے. احمرجمالی برائی میں بہت آگے نکلا ہوا تھا. وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر نجانے کتنی لڑکیوں کی عزت سے کھیلا تھا.اب شازمہ انکا نشانہ تھی.وہ انسان کی صورت میں بھیڑیوں سے کم نہ تھے.جو انسانی گوشت کونوچ نوچ کرکھاتےتھے.غلطی شازمہ جیسی لڑکیوں کی بھی تھی.جواحمر جمالی جیسے لڑکوں کو خود اس بات کا موقع دیتی تھیں کہ وہ انکی عزت کونوچ کر رکھ دیں.
حیات تو بالکل بت بنی کھڑی تھی.وہ جانتی تھی کہ احمر جمالی برا تھا. پر اس حد تک گرا ہوا ہوگا.اسنے سوچا نہ تھا.ایسےکیسے وہ لوگ لڑکیوں کی عزت پامال کر سکتے ہیں؟ اسکے ذہن میں بہت کچھ چل رہا تھا.وہ شازمہ کو روکنا چاہتی تھی کہ وہ اس بربادی کے راستے پر نہ چلے جس کی منزل اندھیرے کے علاوہ کچھ نہیں.اسنےقدم آگے بڑھاۓ.اسے بہت دکھ ہوا تھا کہ اتنے برے لوگ بھی ہوتے ہیں ؟ اسکی دنیا محدود تھی.اسکا کبھی ایسے لوگوں سے سامنا نہیں ہوا تھا.یہ سب سن کر اسکادل کانپ سا گیا.وہ یونی میں انٹر ہوئی تو چاروں اسکے انتظار میں کھڑیں تھیں.اسکےآتے ہی اسے بات کرنے کا موقع دیے بغیر کلاس روم میں لے گیئں کہ لیٹ آنے پرسر نےڈانٹا ہے. وہ کلاس کے دوران بھی خاموش اور پریشان رہی.کلاسز ختم ہوئی تو وہ لوگ باہر نکلیں. انکا رخ کینٹین کی طرف تھا.وہ سب ٹیبل کے گرد بیٹھیں.حیات اب بھی خاموش تھی.
“کیا بات ہے یار تم اتنی خاموش کیوں ہو؟ سبین نے اسے دیکھ کرپوچھا “شیرافگن صاحب نے ڈانٹا ہے؟”حریم نے ہلکی سی مسکراہٹ کےساتھ اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
“اف یار حریم ایسی کوئی بات نہیں”وہ جھنجھلائی”بہت سیریس بات ہے”وہ پھربولی
“اچھا بتاؤ کیا بات ہے جس نےہماری پیاری سی دوست کو پریشان کررکھاہے؟” تابی نے محبت سے پوچھا.سب اسے ہی دیکھ رہیں تھیں. اسنےآہستہ سے احمر جمالی کی ساری باتیں بتادیں. وہ سب شاک کی کیفیت میں تھیں.
“یااللّه اتنا گرا ہوا ہے وہ شخص”مینا نے غصے سے سرہاتھوں میں تھام لیا
“ہمیں شازمہ کو بتا دینا چاہے”سبین نے اسے دیکھ کہاسب ایک دم سے پریشان ہوئیں تھیں.
“ہاں عزت تو سب لڑکیوں کی ایک سی ہوتی ہے.ہمیں بات کرنی چاہےشازمہ سے”حریم نے سبکو دیکھا تو انہوں نے سر ہلایا.
“تم میں سے ایک میرے ساتھ آجاۓ بات کرتے ہیں اس سے”حیات اٹھ کھڑی ہوئی اسکے دل پر جیسے بوجھ سا پڑھ گیا تھا.
“میں چلتی ہوں”حریم اٹھ کھڑی ہوئی
“امید ہے شازمہ سمجھ جائے اور اپنی عزت کو داؤ پر نہ لگاۓ”تابی نے ان دونوں کو جاتے دیکھ کر کہا.انہیں شازمہ گراؤنڈ میں اپنی دوست کے ساتھ نظر آئی.انہوں نے اسے سائیڈ پر بلایا.بالوں کو جھٹکتی وہ انکے سامنے کھڑی ہوئی.”ہاں جلدی بولو”وہ ادا سے بولی.
“شازمہ سیریس بات ہے سمجھنے کی کوشش کرنا”حیات کی بات پر اسنے منہ بنایا
“اچھا اب بول بھی چکو”حیات نےاسےساری بات بتائی .بات ختم ہوتے ہی وہ ہنسنے لگی. “اس بات کی ہی امید تھی مجھے تم سے کہ احمر کے خلاف ہی بولوگی”وہ لاپرواہی سے بولی جیسے کوئی بات ہی نہ ہو.
“ایسی کوئی بات نہیں شازمہ تم سمجھ کیوں نہیں رہی .یہ بہت سیریس بات ہے.ہم تمہارا بھلاچاہتے ہیں.”حریم نے نرمیسے کہا
“تم لوگ جلتی ہو مجھ سے” وہ گردن اکڑ کر بولی”اور احمر کو جانتی کب ہو تم لوگ جو فضول باتیں کر رہی ہو اسکے خلاف…میں اچھے سے جانتی ہو اسے سمجھی وہ ایسانہیں ہے”احمرکے چرچوں سے کون واقف نہیں تھا. حیات تو اپنے کانوں سے سن چکی تھی پر شازمہ اندھی بن کے اسکی حرکتوں کو نظر انداز کر رہی تھی.
“شازمہ دیکھو ہمیں کوئی فائدہ نہیں اس سب سے تم اندھےپن کی پٹی اتار کر بات کو سمجھو.کیا تمہیں اپنی عزت کا ذرا خیال نہیں ؟”حیات کی بات پر شازمہ لاپرواہی سے بال جھٹکتی رہی جیسے وہ کوئی فضول بات کر رہی ہو.حیات نےاپنا غصہ ضبط کیا.ان دونوں نے شازمہ کوسمجھانے کی بہت کوشش کی پر شازمہ کا جواب وہی تھاکہ”احمر اچھا ہے تم لوگ مجھ سے جلتی ہو “اسکی ایک ہی رٹ پر حیات کو غصہ آیا.
“چلو حریم”اسنے حریم کا ہاتھ پکڑا اور جانے لگیمگر پھر شازمہ کی طرف پلٹی”شازمہ صاحبہ اپنے اس سو کالڈ اچھے احمر جمالی کو اپنے پاس رکھو جلتی ہے میری جوتی اگر تم خود اپنی عزت کی دشمن بنی ہوئی ہوتو ہم کیا کر سکتے ہیں.سمجھانا ہمارا فرض تھا. سووہ ہم نے کیا باقی تمہاری مرضی کیونکہ اتنی بچی نہیں ہوتم کہ تمہیں یہ نہ پتہ ہو کہ کیا اچھا اورکیا براہے.پراپنی دو دن کی محبت میں اس بات کاخیال رکھنا کہ تمہیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے”وہ اپنی بات مکمل کرتی پلٹ کر چلی گئی جبکہ شازمہ ہونہہ کرتی واپس اپنی دوست کی طرف گئی.
دونوں واپس آئیں تو غصے میں تھیں.ساری بات ان تینوں کو بتائی تو انھیں افسوس ہوا.
“چلو موڈ ٹھیک کرو ہم نے اپنی طرف سے کوشش کی اب اسکی مرضی سمجھتی ہے یا نہیں”مینا نے انھیں دیکھا
“بالکل لو یہ گرما گرم چاۓ پیوؤ اور فریش ہو جاؤ” سبین نے کپ انکی طرف بڑھاۓ
“شکریہ یارآج سردی بہت ہے ویسے”حیات نے لمبی سانس کھنچ کر کپ لبوں سے لگایا.ان دونوں کا موڈ ٹھیک کرنے کےلئے مینا،تابی، سبین نے انھیں باتوں میں لگادیا تھا.
جاری ہے
