Ye Larki Haye Allah by Pari Vash

حیات واپس آئی تو ایمان گھر میں موجود تھی.وہ دادو ، تائی امی اور اسکی اماں کے ساتھ ہال میں بیٹھی تھی.حیات چیخ کر ایمان سے گلے ملی."آپی آپ کیسے آ گئیں یوں اچانک؟"اسنے خوشی سے پوچھا "پتہ چل جایگا آپکو بھی" ایمان نے دھیمے سے کہا. حیات کو گڑبڑ کا احساس ہوا."کیوں آپی؟" اسنے ڈر کے پوچھا."تم فریش ہو کر کھانا کھاؤ پھر بات کرینگے اوکے" ایمان نے محبت سے کہا.حیات کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایمان سے ابھی سب کچھ پوچھ لے.ایمان کو دادو نے اپنے پاس بلایا اور حیات سوچوں میں گم سیڑھیاں طے کرنے لگی.وہ کمرے کی طرف بڑھنے لگی جب اسنے شیر افگن کو دیکھا. "بڑے خوش لگ رہے ہیں محترم"وہ بڑبڑائی.
"آگئی پرنسیس" شیر افگن نے شرارت سے کہا حیات نے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں کسی اور سے تو بات نہیں کر رہا. "میں آپ سے مخاطب ہوں"اسنے آبرو اٹھا کر اسکی طرف اشارہ کیا
"آپ مجھے پریشان کرنا چھوڑ دیں"اسنے تپ کر کہا.وہ جانتی تھی شیرافگن اسے چڑانے کے لئے ایسا کر رہا ہے.
"پریشان تو تم نے مجھے کر رکھا ہے" اسنے ذو معنی انداز میں سنجیدگی سے کہا.
حیات جھنجھلا کر بنا کچھ کہےپلٹ کراپنے کمرے میں چلی گئی.وہ بھی مسکراتا ہوا نیچے چلا گیا.کچھ دیر بعد ایمان اسکے کمرے میں آئی."حیات" ایمان نے اسے پکارا.وہ بیڈ پر لیٹی تھی."جی آپی"وہ اٹھ بیٹھی مسکرا کر ایمان کو دیکھا.ایمان اسکے سامنے بیٹھ گئی. حیات کے بال بکھرۓ سے تھے.ایمان نے اسکے بال کان کے پیچھے کئے."کیا بات ہے میری گڑیا پریشان سی لگ رہی ہے؟"اسنے محبت سے کہا
"آپی آپکو پتہ ہے ناں گھر میں کیا بات چل رہی ہے.ایسا کیسے ہو سکتا ہے"اسنےہمیشہ کی طرح اپنی پریشانی ایمان کے ساتھ شئیر کی. وہ احمرجمالی والی بات ایمان سے شئیر نہ کر سکی تھی کہ وہ پریشان ہوگی.
"ایسا کیوں نہیں ہو سکتا میری جان؟بھائی میں کوئی برائی ہے؟" ایمان نے صاف الفاظ میں پوچھا."ایسا نہیں ہے آپی"اسنے سر جھکا کر جواب دیا."کیا تم کسی اور کو پسند کرتی ہو؟"ایمان کو معلوم تھا ایسی کوئی بات نہیں پر پھر بھی اسنے پوچھنا مناسب سمجھا.
"بالکل نہیں آپی"اسنے جھٹکے سے سر اٹھایا
"تو کیا مسئلہ ہے میری گڑیا؟"
"آپکے بھائی مجھے ہر وقت ڈانٹتے ہیں.انھیں میں بالکل اچھی نہیں لگتی.وہ مجھے جاہل ، اندھی کہتے ہیں.پھر وہ کیسے نکاح کے لئے مان گئے.وہ تو بعد میں بھی مجھے ڈانٹتے ہی رہیں گے."اسنے نم آنکھوں کے ساتھ سب بتایا
"اف میری پیاری گڑیا اتنی شکایتیں" اسنے حیات کو گلے لگایا."بھائی بہت کیئرنگ ہیں، بہت اچھے ہیں.تمہیں ڈانٹ دینا ، غصہ کرنا یہ صرف وقتی باتیں تھیں.اب تو وہ تمہیں کبھی نہیں ڈانٹیں گے"ایمان پیار سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسے سمجھاتی رہی.حیات نم آنکھوں کے ساتھ اسکی باتیں سنتی رہی اور دروازے کے باہر کھڑا شیرافگن جو ایمان کو بلانےاسکے پیچھے آیا تھا.اب ہلکے کھلے دروازے سے ایمان کے گلے لگی اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا.اسکی شکایتیں سن رہا تھا.اسکی معصوم باتوں پر شیرافگن کو پیار آنے لگا.وہ بھلا اسے کیا بتاتا کہ وہ شیرافگن کے دل سے کتنی قریب تھی.وہ اسے ڈانٹ دیتا پر اسکے بعد اسے بھی چین نہیں ملتا تھا.اس پاگل لڑکی سے اسے کب سے محبت تھی وہ نہیں جانتا تھا.پر جب سے اس پر یہ بات ظاہر ہوئی تھی. اس وقت سے حیات اسکے لئے بہت اہم، اسکی ذات کا حصہ بن چکی تھی.اسنے ایک نظر کمرے میں ڈالی جہاں ایمان ،حیات کو سمجھا رہی تھی.وہ مدھم مسکراہٹ کے ساتھ وہاں سے چلا گیا تھا.اسے ولید سے ملنے جانا تھا.
•••••••••
ایمان اور اماں کےسمجھانے پر وہ مان گئی تھی.اسکا دل اداس تھا پر وہ بڑوں کے خلاف نہیں جا سکتی تھی.دادو نے سب کو آرڈر دے دیا کہ نکاح کی تیاریاں کیں جائیں.اگلے ہفتے عمرہ پر جانے سے پہلے وہ ان دونوں کا نکاح کر دینا چاہتی تھیں.حیات کو کچھ دنوں کے لئے دادو نے یونی جانے سے منع کیا تھا.اسلئے اگلے دن وہ یونی نہ گئی.ایمان نے جب یہ خبر حیات کی چڑیلوں تک پہنچائی تو وہ سب یونی سے واپسی پر حیات کے گھرمیں موجود تھیں.حیات بیڈ پرجھکاۓ بیٹھی سب کی گھورتی نظریں کو خود پر محسوس کر رہی تھی."اب کیوں گونگی بنی بیٹھی ہو.بولو کچھ" تابی بیڈ پر اسکے سامنے بیٹھ کر بولی
"ہاں جواب چاہیے ہمیں" مینا نے مصنوعی غصے سے کہا.سب اسے گھیر کر بیٹھ گئیں.
"بتاؤ یار یہ سب اچانک...کیسے؟" سبین نے پوچھا.حیات نے نظر اٹھا کر حریم کو دیکھاکہ اب وہ بھی کچھ کہے پر انسے حیات کے کندھے پر ہاتھ رکھا."جواب دو ورنہ چڑیلیں کھا جائیں گیں تمہیں"حریم نے شرارت سے کہا
"اب کیا بتاؤ...دادو اور باقی بڑوں نے فیصلہ لیاہے.میں کیسے انکار کرتی....نہ نہ کرتے بھی مان گئی"اسنے منہ بنا کر آہ بھر کرکہا
"واہ رے خدا تیری قدرت کل کو افگن صاحب سے بن نہیں رہی تھی اور اب یہ انکی بننے جا رہی ہے."مینا نے ہاتھ اپر اٹھا کر کہا
"اب بتاؤ ذراہیروئن صاحبہ تمہاری ان بیوقوف دوستوں کی بات ٹھیک نکلی یانہیں؟" تابی نے اسے گھور کرپوچھا.پرحیات منہ بناکر خاموش رہی.تابی،مینا کے ہاتھ پر ہاتھ مارکر ذور سے ہنسیں."واؤ مطلب شیرافگن بھائی حیات سے محبت کرتے ہیں؟"سبین نے خوشی سے پوچھا. "ایسی ویسی...دیکھو ذرا تبھی تو کچھ دنوں میں نکاح ہے دونوں کا"حریم نے لقمہ دیا. "جانی دشمن جان بننے جا رہا ہے آہا" تابی نے مزے سے آنکھ دبا کر کہا
"بس کرو دماغ نہ کھاؤ" حیات نے سب کو ڈانٹا."ہاں ہاں چپ کرو اسے افگن بھائی کے بارے میں سوچنے دو"مینا نے ہنس کر کہا
"استغفراللہ"حیات کانوں کو ہاتھ لگایا.سرخ چہرے کے ساتھ وہ بیڈ سے اٹھی.شیشے کے سامنے کھڑی ہوکر بالوں میں برش کرنے لگی. سبکی شرارتی نظریں اس پر تھیں.مینا چھلانگ لگا کر بیڈ سے اتری.
"مبارک ہو تم کو یہ شادی تمہاری"
"صدا خوش رہو تم دعا ہے ہماری "
مینا لہرا لہرا کر گا رہی تھی.حیات نے پلٹ کر اسے دیکھا."شادی نہیں نکاح ہے یار"حریم نے ہنس کر کہا."ایک ہی بات ہے."مینا نےلاپرواہی سے کہا."اے مینا کوئی نیا گانا گاؤ ناں"تابی نے مینا سے کہا.وہ پھرگانے کے لئے منہ کھولنےلگی. جب حیات نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا."خاموش چڑیل کہیں کی"حیات نےچباکر کہا
"اممم" مینا نے اسے ہاتھ ہٹا نے کا اشارہ کیا حیات نے ہاتھ ہٹا لیا."اف سانس بند کردی.کیا اپنے نکاح تک مار ڈالو گی مجھے"مینا نےلمبی سانس کھینچی.سب کافی دیر تک حیات کے ساتھ رہیں پھر جانے کے لئے اٹھ کھڑیں ہوئیں. حیات ان سب کے ساتھ نیچے آئی.وہ لوگ ہال سے نکلیں تب ہی شیرافگن کی کار پورچ میں رکی.وہ کار سے نکل کر انکی طرف آیا.
"اسلام وعلیکم" شیرافگن نے گلاسز اتارکر کہا
"وعلیکم السلام" سب نے ایک ساتھ کہا.حیات خاموش رہی."کیسی ہیں آپ سب؟"شیرافگن نے سبکو دیکھا آخر میں اسکی نظر حیات پر ٹہر گئی."ہم سب ٹھیک بس یہ حیات ٹھیک نہیں آپ ذرا اس سے پوچھ لیجئے گا"تابی نے شرارت سے کہا.حیات نےاسے کہنی مار کراسکی طرف آنکھیں نکالیں جبکہ ان سب نے اپنی ہنسیں دبائی."دیکھ لینگے"شیرافگن نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ کہا پھر انھیں اللّه حافظ کہتا اندر بڑھ گیا.
"اللّه اللّه کتنے خوش مزاج ہوگئے ہیں افگن بھائی یقین نہیں آرہا.یہ ہماری حیات کی محبت کا کمال ہے."مینا نے حیات کی لٹ کھینچ کر کہا.سب نے قہقہہ لگایا.
"روکو تمہیں میں ابھی یقین دلاتی ہوں"حیات دانت پیس کر اسکی طرف بڑھی.مینا سوری کہہ کر ہنستی ہوئی دور ہوکر کھڑی ہوئی.پھر سب اس سے مل کر چلیں گئیں.
••••••••••••
دو دن بعد دونوں کا نکاح تھا.سارا اور الماس بیگم دونوں خوشی سے تیاریوں میں لگیں تھیں.شیرافگن اورحیات دونوں ہی انکے لاڈلے تھے.دوسری طرف شیرافگن ، احمر جمالی کی کھوج میں تھا.وہ قانونی طریقے سے اسے سزا دلانا چاہتا تھا.ولید نے اسے بتایا کہ ایک لڑکی جو احمرجمالی کی درندگی کا شکار ہوئی تھی وہ اسکے خلاف بیان دینے کے لئے تیار تھی.اب ولید آگے قدم اٹھانے والا تھا.
وہ ابھی ولید سے مل کر ہی آیا تھا.دادو سے مل کر وہ انکے کمرے میں بیٹھ گیا.دادو اسے سمجھا رہیں تھیں کہ وہ اسکی بات مان کر حیات کو اسے سونپنے والی ہیں.پر شیرافگن انکی پیاری پوتی کو اب کچھ نہ کہے.شیر افگن خاموشی سے مسکراہٹ دبا کر انکی باتیں سنتا رہا.بالکل نہیں لگ رہا تھا کہ یہ وہی دادو ہیں جو حیات کو اتنا ڈانٹتیں تھیں.ان دادی ، پوتی کا پیار ایسا ہی تھا.کھٹا میٹھا سا.
ہال میں حیات اور ایمان بیٹھی باتیں کر رہیں تھیں.ایمان کل سے یہیں تھی.نکاح کی تیاریوں میں سب کی مدد کر رہی تھی.سب اپنوں کو کارڈ دے دیے گئے تھے.وہ دونوں باتوں میں لگیں تھیں.جب سائیڈ ٹیبل پر رکھا لینڈ لائن فون بجنے لگا.ایمان نے اٹھ کر فون اٹھایا. حیات دائیں طرف گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگی کہ کس کا فون ہوگا."ہیلو"ایمان نے کہہ کر دوسری طرف کاجواب سنا."ارے ہانیہ کیسی ہو"ایمان نے خوشی سے کہا.دوسری طرف سے کچھ کہا گیا.ایمان ایک دم ہنسی."ہاں بھائی ابھی آۓہیں تم ہولڈ کرو میں انھیں بلاتی ہوں" ایمان نے ریسیور رکھا.حیات اسے ہی دیکھ رہی تھی."ہانیہ ہے."ایمان نے بتایا تو اسنے سر ہلا کر اپنا موبائل اٹھا لیا.ایمان،دادو کے کمرے کی طرف بڑھ گئی.ہانیہ ، ایمان اور شیرافگن کی خالہ زاد تھی.حیات اسے ذیادہ نہیں جانتی تھی.بس اتنا پتہ تھاکہ وہ شیرافگن کی دوست اور یونی فیلو تھی.پڑھائی کے بعد وہ اپنے پیرنٹس کے ساتھ فرانس شفٹ ہوگئی تھی.ایک دو بار وہ پاکستان آئی تھی. پرحیات کو وہ یاد نہ تھی.بس اسےایمان سے پتہ چلتا رہتا کہ ہانیہ، شیرافگن کو کال کرتی رہتی ہے. دونوں کی خوب دوستی ہے وغیرہ وغیرہ. کچھ دیر بعد شیرافگن دادو کےکمرے سے باہر نکل کر سائیڈ ٹیبل تک آیا اور بات کرنے لگا. حیات بظاہر اپنے موبائل کے ساتھ لگی تھی پر نہ چاھتے ہوئے بھی اسکا دھیان شیرافگن کی گفتگو پر تھا."ہاں وہ موبائل اوف ہوگیا تھا" شیرافگن نےکہا.پھر دوسری طرف سے کچھ کہا گیا تو شیر افگن جواب دینے لگا.
"اوه ریلی مجھ میں کیا برائی ہے بھلا؟" شیرافگن نے ہانیہ سےپوچھا.حیات نےمنہ بنایا
جبک دوسری طرف سے نجانے کیا کہا گیا.شیر افگن قہقہہ لگا کر ہنسا.حیات نے حیرت نے ہلکی سی گردن موڑ کر اسے دیکھا پر وہ باتوں میں مصروف تھا."کوئی ظلم نہیں ہے یہ تو آپکے دوست کا بڑا دل ہے."شیرافگن نے شرارت سے کہا.دوسری طرف کی بات سن کر وہ پھر ہنسا حیات کا سر دکھنے لگا."آج تو ہنسی بند ہی نہیں ہورہی شیر مار کی"وہ چبا کر بڑبڑانے لگی."پاکستان آؤ پھر تفصیل سے بات ہوگی... اوکے ہانی تمہارا انتظار رہے گا." دو ، چار اور باتیں کر کے اسنے فون بند کیا.پھر حیات کو دیکھ کر اسکی طرف آیا اور صوفے پر اسکے ساتھ کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا.حیات نے اسے گھورکر دیکھا."یہاں اتنی خاموشی سے کیوں بیٹھی ہو؟"شیرافگن نے نرمی سے پوچھا.
"تو پھرکہاں جاؤ؟"حیات نے جھٹ سے چبا کر کہا.اسے غصے آنے لگا تھا.جانے کیوں؟
"تیاری کرو" شیرافگن نے نرمی سے کہا
"کونسی تیاری؟"اسنے آبرو اٹھا کر پوچھا
"ہمارے نکاح کی" اسنے حیات کی سنہری آنکھوں میں دیکھ کر دلکشی سے کہا.اسے حیات کی آنکھیں بہت پسند تھیں.حیات نے نظریں پھیریں."ہونہہ نکاح بھی اسی سے کر لیں جس سے قہقہہ لگاکر باتیں کر رہے تھے"وہ مدھم آواز میں منہ بنا کر بڑبڑائی

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *