Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21

Ye Larki Haye Allah by Pari Vash Episode21

“ہیلو ڈارلنگ”احمر جمالی اس سے کچھ فاصلے پر رکا.حیات آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی.وہ سمجھی تھی کہ احمر جمالی کا قصہ ختم ہو چکا ہے. پھر اب اچانک یہ کہاں سے آگیا.حیات شاک کی سی کیفیت میں تھی.پھر ایک دم چونک کر وہ ہوش میں آئی اور جلدی سے دو قدم پیچھے ہٹی.وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی.
“نہ نہ بے بی بھاگنے کی کوشش نہ کرنا.ناکام ہی ہوگی کیونکہ میں تمہیں اتنی آسانی سے چھوڑنے والا نہیں ہوں.سمجھی”وہ طنزیہ ہنسی کے ساتھ غرا کر بولا.حیات کانپ سی گئی.اسکا دل تیزی سے دھڑکنے لگا.احمر جمالی نے اپنا دائیاں ہاتھ آگے کیا.اسکے ہاتھ میں کھلے منہ والی کانچ کی بوتل تھی.جسکے اندر پانی جیسا کچھ پڑا تھا.
“جانتی ہو یہ کیا ہے؟” اسنے بوتل لہرا کر پوچھا.حیات وہاں سے کہیں دور بھاگ جانا چاہتی تھی.پر سامنے کھڑا وہ درندہ اسے ایسا نہیں کرنے دے گا.اسکے خاموش رہنے پر احمر جمالی نے اسے دیکھا.”اس میں تمہارے تھپڑ کا جواب ہے.اس میں اس شخص کی مار کا جواب ہے.جسنے تمہاری خاطر مجھ پر ہاتھ اٹھایا.”وہ لال آنکھوں سے اسے دیکتے ہوئے. انگارے چبا رہا تھا.وہ ایک پل کو رکا پھر بوتل کو دیکھا.”یہ تیزاب ہے.”وہ بھیڑیے کی مانند غرایا.اسکی بات پر حیات کانپ کر رہ گئی. “تیزاب”یہی نام اسکے ذہن میں گونج رہا تھا. اسکی رہی سہی طاقت بھی جیسے دم توڑ گئی تھی.کیا وہ اسکے اُپر تیزاب پھینکے والا تھا؟وہ کیسے بچا پائے گی خود کو اس درندے سے؟ اسکی سانسیں اٹکنے لگیں.
“یہاں …یہاں جوتی سے مارا تھا ناں تم نے؟” اسنے لال آنکھوں کے ساتھ اپنے ہاتھ سے اپنے بائیں گال پر زور سے مار کرکیا.”اب میں تمہارے چہرے پر وہ نشان چھوڑوں گا کہ تم ساری زندگی اپنا یہ خوبصورت چہرہ چھپاتی پھرو گی.جو لوگ مجھ پر ہنسے تھے.اب تمہیں دیکھ کر تمہارے حال پرافسوس کرینگے.”وہ چبا چبا کر کہہ رہا تھا.ایسا لگ رہا تھا جیسے پاگل ہو گیا ہو.اسکی باتوں پر حیات کی روح فنا ہونے لگی.وہ مدد کے لئے کسی کو پکارنا چاہتی تھی.پراسکی زبان نے اسکا ساتھ نہ دیا.اسنے بے بس نظروں سے ٹرایفک کے ہجوم کو دیکھا کہ کوئی اسکی مدد کو آجاۓ.پر کسی کو کیا پتہ تھا کہ وہاں کیا ہونے جا رہا ہے.احمر جمالی دو قدم آگے ہوا.”کیسا لگے گا یہ پیارا چہرہ جب…جب یہ جھلس جائے گا.”اسنے حیات کےچہرے پر نظریں گاڑ کر کہا.”ہاں بولو کیسا لگے گا؟…وہ کیا نام ہے اسکا..”وہ پاگلوں کی طرح ہاتھ کی مٹھی بنا کر اپنے سر پہ زور زور سے مارنے لگا.حیات ایک دم ڈر کر پیچھے ہوئی.نام یاد آتے ہی اسنے ہاتھ نیچے گرایا.”ہاں…شیرافگن اسے کیسا لگے گا تمہارا یہ جلا ہوا چہرہ”وہ قہقہہ لگا کر ہنسا.”مجھے بڑی خوشی ہوگی اسے تمہارے لئے تڑپتے دیکھ کر…وہ تمہاری لئے مجھ سے لڑا تھا…اب پکار اسے کہ آ کر تجھے بچا لے.”وہ لال آنکھوں سے اسے گھورتا ہوادھاڑ کر بولا.حیات کی آنکھیں نم ہونے لگیں.اسکے ہاتھ کانپنے لگے تھے.اسنے سختی سے مٹھیاں بھینچ لیں.وہ خود کو کمزور ثابت نہیں کرنا چاہتی تھی.پر وہ خود کو کیسے بچا پاۓ گی.سامنے والا تو پاگل جانور بنا اسکے سر پر کھڑا تھا.”تمہیں آج بتاتا ہوں احمرجمالی سے پنگا لینے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے.یہ تیزاب…”اسنے بوتل سے ڈھکن اتار کر پھینکا.بوتل کو اپنی آنکھوں کے سامنے کیا پھربوتل کو تھوڑا سائیڈ پر کر کے اسنے حیات کو دیکھا.”یہ جب تم پر گرے گا…تم تڑپو گی…چیخو گی…تب کہیں جا کر میرے جلتے دل کو تسکین ملے گی.تب میرے اندر کی آگ کچھ ٹھنڈی ہوگی.”احمر جمالی اسے دیکھ کر ایسے ہی بولتا چلا جا رہا تھا.حیات نے مشکل سے اپنے آنسوؤں کو روکے رکھا.وہ رو کر ہرگز بھی اس درندے کو خوشی نہیں دینا چاہتی تھی.دھڑکتے دل اور کانپتیں ٹانگوں کے ساتھ اسنے اپنی سنہری آنکھیں بند کر کے اس پاک ذات سے مدد مانگی.وہ جانتی تھی کہ اس مشکل میں اللّه پاک اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے.وہ اتنی بری ہرگز نہ تھی کہ اسکا پیارا رب اسے احمر جمالی جیسے بدکردار شخص کے ہاتھوں رسوا کرواتا.اسکا دل کانپ رہا تھا.اسنے جلتی آنکھیں کھول کر احمر جمالی کو دیکھا.جو تیزاب کی بوتل اپنی آنکھوں کے سامنے کئے اسے ہلا تا ہوا پاگلوں کی طرح بولے جارہا تھا. پھر اگلے ہی پل اسنے بوتل کا رخ حیات کی طرف کیا.حیات ایک چیخ کے ساتھ کانوں پر ہاتھ رکھ کر جھکی.پر تبھی اپنی چیخ کے ساتھ اسے احمر جمالی کی نہ ختم ہونے والی چیخیں سنائی دیں.حیات نے حیرت سے دیکھا سر اٹھا کر دیکھا.آنسوؤں نے اسکی آنکھوں کے سامنے جیسے دھند کی چادر بچادی تھی.اسنے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ آنکھیں پونچھیں.احمر جمالی ہنوز چیخ رہا تھا.آس پاس لوگ جمع ہو چکے تھے.تیزاب کی بوتل کرچی کرچی ہوئی نیچے پڑی تھی.احمر جمالی چہرے پر ہاتھ رکھے چیخ رہا تھا.حیات آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی.تبھی احمرجمالی نے چہرے سے ہاتھ ہٹاۓ. بند آنکھوں کے ساتھ وہ زمین پر گرتا چلا گیا.حیات کی نظریں اسکے چہرے پر پڑیں تو اسکی چیخ نکل گئی.احمرجمالی کے چہرے کی دائیں طرف پوری طرح سے جھلس چکی تھی.یہ سب کیسے ہوا؟ وہ نہیں جانتی تھی.احمرجمالی کو دیکھ کر اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا.وہ ایک دم گرنے کو تھی.”حیات..”کسی نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا.بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اسنے شیرافگن کا چہرہ اپنے قریب دیکھا.وہ شیر افگن کو سب بتا دینا چاہتی تھی.وہ خوف ، ڈر جسنے اسے بت بنا دیا تھا.پر وہ کچھ بول نہ سکی.اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا مکمل طور پر چھا چکا تھا.شیرافگن نے جلدی سے اسے سنبھالا.پھر ایک نظر بیہوش پڑے احمر جمالی پر ڈالی جسے ایمبولنس میں ڈالا جا رہا تھا.اسنے جلدی سے بیہوش پڑی حیات کو بازوؤں میں اٹھایا اور تیزی سے اپنی کارکی طرف بڑھنے لگا.
شیرافگن جب انکی طرف بھاگ کر جارہا تھا. اسے نہیں معلوم تھا کہ احمر جمالی کے کیا خطر ناک ارادے ہیں.وہ کیا کرنے کا سوچ رہا تھا.وہ صرف احمر جمالی کی دائیں طرف دیکھ سکتا تھا.جب اسنے احمرجمالی کے ہاتھ میں وہ بوتل دیکھی تو اسکی روح فنا ہونے لگی.بہت سی سوچیں اسے کھٹک رہیں تھیں. پھر جب احمر جمالی نے بوتل کا رخ حیات کی طرف کیا.شیرافگن کی دھڑکنیں ساکت ہونے لگیں.اسنے ہر چیز کی ہوش بھلا کر پوری طاقت کے ساتھ اپنے قدموں کو اور تیزی سے آگے کی طرف بڑھایا. شیرافگن نے تیزی سے بھاگتے ہوئے حیات کے سامنے کھڑے احمر جمالی کو زور دار دھکا دیا.”دور رہو خبیث انسان”ساتھ ہی اس نےغرا کر کہا.احمر جمالی سنبھل نہ پایا اور ایک زور دار جھٹکے کے بعد لڑکھڑایا.اسکے ہاتھ میں پکڑی تیزاب کی بوتل ٹیرھی ہوئی اورتیزاب اسکے چہرے کے اپر گرا.احمر جمالی کے چہرے کی دائیں طرف جھلس کر رہ گئی.اسکے کے ہاتھ سے بوتل گری اور اسکی چیخوں کی آواز فضا میں بلند ہونے لگی.احمر جمالی نے حیات کے ساتھ برا کرنا چاہاتھا.پر اسکا شکار وہ خود ہوا تھا.جو تڑپ وہ حیات کے چہرے پر دیکھنا چاہتا تھا.وہ تڑپ وہاں کھڑے سب لوگ اسکے چہرے پر دیکھ رہے تھے.احمر جمالی کے بیہوش وجود کو اٹھا کر ہسپتال لے جایا گیا.
••••••••••
شیرافگن ، حیات کو ہسپتال لے آیا تھا.ہسپتال کے روم میں حیات ابھی تک بیہوش پڑی تھی.ڈاکٹر نے اسے چک کیا تھا.وہ شدید ڈر اور ٹینشن کی وجہ سے بیہوش ہوئی تھی.ڈاکٹر نے کہا تھا کہ زیادہ پریشانی کی بات نہیں پر وہ اپنے پاگل دل کا کیا کرتا جسے ایک پل چین نہیں تھا.اسے ڈر تھا کہیں حیات کو کچھ ہو نہ جائے.اسکے دل میں وہم تھا کہ حیات ابھی تک ہوش میں کیوں نہیں آئی؟ شیرافگن نے بے چین نظریں حیات کے بیہوش پڑے وجود پر ڈالیں.اسے ڈرپ لگی ہوئی تھی.سنہری آنکھیں سختی سے بند تھیں.جیسے اسے ڈر ہو کہ اگر اسنے اپنی آنکھیں کھول دیں تو کوئی ناگوار منظر اسکے سامنےآجائے گا.شیرافگن کا دل چاہا وہ ابھی اپنی جھلی کو ہوش میں لے آۓ تا کہ وہ باتیں کرے ، شرارتیں کرے ، اسے پریشان کرے.وہ ہنستی ہی اچھی لگتی تھی. یوں خاموش وہ اسے اپنی حیات نہیں لگ رہی تھی.اسنے پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور ایک بار پھر اِدھر سے اُدھر چکر لگانے لگا.وہ احمرجمالی کو مار دینا چاہتا تھا پر وہ مرے ہوئے کو اور کیا مارتا.اللّه نے اسے خود اسکے ہاتھوں سے سزا دلوائی تھی.پر شیرافگن اسے ایسے ہی چھوڑنے والا نہ تھا.اسنے ولید کو کال کر کے کہہ دیا تھا کہ جو کچھ احمر جمالی نے کیا.اسکے خلاف ایکشن لیا جائے.وہ سوچوں میں گم تھا.جب اسکا موبائل بجنے لگا.سکرین پر گھر کا نمبر دیکھ کر اسنے کال پک کی.الماس بیگم نے پریشانی سے حیات کا پوچھا.شیرافگن نے آنکھیں بند کر کے کھولیں. وہ اس ساری ٹینشن میں گھر کال کر کےبتانا ہی بھول گیا تھا.اسنے الماس بیگم کو بتایا کہ انکا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا ہے. پر وہ لوگ ٹھیک ہیں.کچھ دیر میں گھر آرہے ہیں. الماس بیگم رونے لگیں تھیں.وہ ہسپتال آنا چاہتیں تھیں.شیرافگن نے کسی طرح انھیں تسلی دے کر آنے سے روکا.پھر فون بند کیا.وہ گھر میں سبکو سچائی بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا.اسلئے اسے جھوٹ بولنا پڑا.فون جیب میں ڈال کر وہ چلتا ہوا بیڈ تک آیا.اسنے حیات کے چہرے پر نظر ڈالی اسکی رنگت زرد ہو رہی تھی.شیرافگن کے دل کو کچھ ہونے لگا.اسنے حیات کے ماتھے پر ہاتھ رکھا.”اٹھ جاؤ پرنسیس”اسکی بھاری آواز کمرے میں گونجی
پرحیات ویسے ہی سنہری آنکھیں بند کئے پڑی رہی.وہ انجان تھی کہ کوئی اسکے لئے کتنا فکر مند ہورہا تھا.”اب کیا اس طرح خاموش رہ کر ستاؤ گی یار…اٹھ جاؤ…تمہارے شیر مار کا دل گھبرا رہا ہے…پلیز”اسنے حیات کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا.حیات کی پلکوں میں ہلکی سے جنبش ہوئی.اسنے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھول دیں.شیرافگن ایک دم سے اسکے قریب بیٹھا.اسنے حیات کو دیکھا.اسکی سنہری آنکھوں کی چمک مانند پڑی ہوئی تھی.
“افگن…”اسنے نم آواز میں پہلی بار اسکا نام لیا.شیرافگن کا دل زور سے دھڑکا.حیات روتی ہوئی اٹھ بیٹھی پھر ایک دم سے اسکے گلے لگ کر رونے لگی.شیرافگن نے خاموشی سے اپنے بازو اسکے گرد پھیلا لئے تھے.” آپکو پتہ ہے میں بہت …بہت ڈر گئی تھی.اسے دیکھ کر میری زبان نے میرا ساتھ نہ دیا.میں…میں مدد کے لئے بھی نہ پکار سکی…”حیات نے روتے ہوئے ہچکی بھری.”جب وہ تیزاب کی بوتل لئے میرے قریب آیا.تب میں..میں نے اللّه کے بعد آپکو پکارا کہ آپ آکر مجھے بچا لیں.پر میں بول ہی نہیں پائی.میں نے اس وقت خود کو بہت بے بس محسوس کیا تھا.”وہ روتی ہوئی بتا رہی تھی.اسکی باتوں پر شیرافگن کو اپنی آنکھوں میں نمی محسوس ہوئی.اسنے سختی سےآنکھیں بند کر کے کھولیں.”شش اب سب کچھ ٹھیک ہے.دیکھو ناں اللّه نے تمہارے دل کی پکار سنی..تمہیں کچھ نہیں ہوا پرنسیس..پلیز اب خاموش ہوجاؤ.”شیرافگن نے اسکا سر تھپک کر بھاری آواز میں کہا.
“پر میں وہاں سے ہل بھی نہ سکی ..وہ سٹویشن ہی ایسی تھی کہ میں کچھ کر ہی نہیں پائی پر آپکو پتہ ہے ناں میں ڈر پوک ہرگز نہیں ہوں.”وہ شیرافگن سے الگ ہو کر اسے دیکھ کر بولی.اسکی سنہری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے.”آئی نو… مجھےاچھے سے پتہ ہے.میری پرنسیس بہت بہادر ہے.”شیرافگن نے اسکے آنسو صاف کر کے محبت سے کہا.
“اور اگر وہ مجھ پر تیزاب پھینک دیتا تو…” حیات نے ڈر کرکہا.”کبھی نہیں…میں ایسا کبھی نہیں ہونے دیتا.تمہیں مجھ پر یقین ہے ناں؟” شیرافگن نے اسکے چہرے کو ہاتھوں میں لے کر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھا.”ہوں…مجھے آپ پر یقین ہے.”حیات نے سر ہلا کر نم آواز میں کہا.شیرافگن کو دیکھ کر اسکی روح کی گھرایوں تک سکون اتر گیا.شیرافگن اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا.حیات نے اسکے دیکھنے پر پلکیں جھپکیں تو شیرافگن اسکا گال تھپتھپا کر اٹھ کھڑا ہوا.”میں ڈاکٹر سے بات کر لوں پھر گھر چلتے ہیں اوکے.”وہ نرمی سے کہہ کر جانے لگا.پھر پلٹ کر حیات کو دیکھا.”حیات گھر میں اس بات کا کسی سے ذکر نہ کرنا.ویسے ہی سب پریشان ہونگے.” اسے دیکھ کر کہا گیا.”جی..میں بھی آپ سے یہی کہنے کا سوچ رہی تھی.”حیات نے اسے دیکھ کر سر ہلا کرکہا.”ہماری سوچ ملنے لگی ہے.ہے ناں؟” شیرافگن نے مدھم لہجے میں کہا. اسے دیکھتیں حیات کی سنہری آنکھیں ایک دم چمکیں.”جی”مدھم مسکان کے ساتھ حیات نے گلابی چہرہ جھکا لیا. شیرافگن کی نگاہیں اسکے چہرے پر جم سی گئیں.پھر وہ ہوش میں آکر جلدی سے باہر نکل گیا.باہر نکل کر وہ اپنے دل کو سنبھالنے لگا.جو دیوانہ ہو کر سینے سے نکلنے کو تیار تھا.اسکا دل جیسے حیات کے ان کہے الفاظ سن چکا تھا.جن سے شاید وہ خود بھی واقف نہ تھی. “کنٹرول یار”دل پر ہاتھ رکھ کر کہتا. لمبی سانس بھر کر وہ آگے بڑھ گیا.اسکے جاتے ہی حیات نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرے.”آپکا بہت شکریہ اللّه پاک”اسنے مدھم آواز میں کہہ کر اللّه کا شکر ادا کیا کہ اللّه نے اسے بچا لیا اور شیرافگن جیسا ساتھی اسکی قسمت میں لکھا.جو اسکے لئے گھنے ساۓ کی مانند تھا.اسکا دل اب گھر والوں کے اس فیصلے کو قبول کرنے لگا تھا. کچھ دیر بعد وہ دونوں ہسپتال سے نکلے.شیرافگن نے ڈرائیو کرتے ہوئے ایک نظر حیات کو دیکھا.وہ آنکھیں بند کئے سیٹ کی بیک سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی.اس کا رنگ ابھی بھی زرد تھا.شیرافگن اسے دیکھ کر پھر خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا.حیات اب پر سکون تھی. اسے کوئی ڈر نہ تھا کیونکہ اب شیرافگن جو اسکے ساتھ تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *