Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Last Episode)

Tere Liye by Ayat Fatima

اگلے دن بہرام سیرت کی ضد پر اُن تینوں کو شاہ حویلی چھوڑ کر آفیس چلا گیا تھا۔

آویز نے جب سب کو مہروش کے مان جانے کی خبر دی تو سب نے شکر کا سانس لیا تھا۔۔۔

آویز آج آفیس نہیں گیا تھا کیونکہ وہ مہروش کے ساتھ رہ کر اس کی پریشانی بانٹنا چاہتا تھا۔

وہ تینوں سب سے مل کر مہروش کے کمرے میں آئیں تو وہ شاید واشروم میں تھی۔

وہ بھی خاموشی سے ایک ٹریپل سیٹر صوفے پر بیٹھ گئیں آویز شاہ اس وقت نیچے تھا۔

پانچ منٹ بعد مہروش واشروم سے باہر آئی تو انہیں دیکھ کر چونکی مگر پھر اہستہ سے ان کے قریب ائی۔

تینوں سے مل کر وہ بھی ان کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گئی۔

“کیسی ہو؟”

مرحا نے آہستہ سی آواز میں پوچھا تو وہ تلخئ اور اُداسی سے مسکرائی۔

“پتہ نہیں”

وہ سنجیدگی سے بول کر نیچے دیکھنے لگی تو تینوں کو ہی تکلیف ہوئی تھی۔

“مہروش میری جان تم اتنا ٹینس نہیی ہو یار۔۔۔قسمت میں لکھا ہے یہ سب تو ہو کر ہی رہے گا”

سیرت اُس کے پاس آ کر اُس کے ساتھ بیٹھتی بولی تو مہروش نے اسی دیکھا۔

“ہمم ٹھیک کہہ رہی ہو تم قسمت کا لکھا ہم ٹال نہیں سکتے”

وہ دوبارہ اُسی لہجے میں بولی تو اُنہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔

“آؤ نیچے چلیں”

وہ کہتے اٹھی تو وہ لوگ بھی اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔

سیرت کو اب احساس ہوا تھا بہرام کی بات ٹھیک تھی ابھی وہ ان کی نہیں سنے گی۔

وہ نیچے آئیں تو مہروش صوفے پر شائستہ بیگم کے پاس بیٹھ گئی۔

سب نے ہی اس سے اس کہ حال وغیرہ پوچھا تو اُس نے خاموشی سے بس سر ہلا دیا تھا۔

دوپہر کو اُن سب کے اسرار کے باوجود وہ تینوں اور شائستہ بیگم واپس حویلی چلی گئیں۔

رات کے گیارہ بجے آویز کی نیند مہروش کی دلخراش چیخوں سے کھلی تو وہ فوراً اٹھا اور لائٹ جلائی۔

سامنے مہروش پیٹ کو جکڑے زور زور سے چیخ رہی تھی۔

“مہر۔۔کیا ہوا۔۔میری جان”

وہ اُس تک آتا اُس پر جھک کر بولا تو مہروش نے اُس کا ہاتھ سختی سے جکڑا تھا۔

“آویز۔۔میرے پیٹ۔۔میں ۔۔درد”

وہ بمشکل کہتی دوبارہ چیخنے لگی تو آویز نے تیزی سے اُسے بانہوں میں بھرا اور نیچے آیا۔

آج پھر وہی کل والا ماحول تھا بس آج آویز اکیلا تھا۔

مہروش ایمرجنسی میں تھی آویز نے بہرام اور سوہا کو کال کر کے بتا دیا تھا وہ سب بھی انے والے تھے۔

آویز شاہ آج بھی دل ہی دل میں اُس کی خیریت کی دعائیں کر رہا تھا۔

تھوڑی دیر میں ہی ایک ڈاکٹر نے باہر آ کر اُس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا تھا۔

“ایم سوری آپ کے بے بی کی دھڑکن رک چکی ہے تو اب ہمیں اپریشن کرنا پڑے گا۔۔۔آپ یہ فورم فل کر دیں”

وہ سنجیدگی سے بولی تو نہ چاہتے ہوئے بھی آویز شاہ کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کے گرا تھا۔

اُس کی اولاد کتنی کم زندگی لے کر آئی تھی ۔۔۔

بغیر دنیا کو دیکھے وہ اپنی آخری منزلوں پر رواں ہو چکا تھا۔

آویز نے آستین سے آنکھ صاف کرتے پیپرز ڈاکٹر سے لیے تو ڈاکٹر نے اُس ہینڈسم مرد کو دیکھا تھا۔

جس کی سرخ آنکھیں اُس کی دلکشی میں اضافہ کر رہی تھیں ڈاکٹر کو اب اُس اندر لیٹی تڑپتی لڑکی پر رحم کے بجائے رشک آیا۔

بے شک اُس نے اولاد کھو دی تھی مگر وہ کتنی خوش قسمت تھی کہ یہ شخص اُس کا نصیب تھا۔

آویز نے پیپرز سائن کر کے ڈاکٹر کو پکڑاے اور خود ایک چیئر پر ہاتھوں میں چہرہ گرائے بیٹھ گیا۔

اُس کا دل جیسے کسی نے روند کر پھینک دیا تھا۔

لیکن پھر آویز کو تھوڑا اطمنان بھی ہوا تھا کہ اس چیز میں بھی اللہ کی بہتری تھی۔

جب وہ خود یہ کام کرواتے تو اگلے جہاں اللہ اور اُس معصوم جان کو کیا جواب دیتے۔

ان تین سالوں میں آویز شاہ اپنے تین خاص رشتے کھو چکا تھا یہ غم اس کے لیے بے حد تکلیف دہ تھا۔

پھر باری باری سب ہاسپٹل پہنچے ، یہ خبر سب کے لیے ہی عذاب ناک تھی۔

مگر سب نے خود کو کنٹرول کرتے اسے تسلی دی تھی۔

ڈیڑھ گھنٹے بعد مہروش کو ہوش آیا تو اُسے روم میں شفٹ کیا گیا تھا۔

سب نے ہی مل کر اُسے بہت پیار اور تسلی دی تھی مگر اُس کی آنکھیں سے بے بس اور خاموش آنسو رکنے کا نام ہے نہیں لے رہے تھے۔

آج اُس نے اپنی زندگی کی سب سے پیاری چیز کھوئی تھی۔

وہ کافی دیر سے آویز شاہ کے انے کا اِنتظار کر رہی تھی کیونکہ وہ اُس کے سینے سے لگ کر اپنا غم ہلکہ کرنا چاہتی تھی مگر وہ آ ہی نہیں رہا تھا۔

جب سب مل کر باہر ائے تو آویز اٹھ کر آہستہ قدم اٹھاتا اُس کے روم میں آیا۔

اُس کے آنسو آویز کو اپنے دل پر گرتے محسوس ہوئے تھے۔

وہ اُس کے قریب آیا اور بیڈ پر ہی اُس کا ہاتھ تھام کر بیٹھ گیا۔

مہروش اُسے دیکھ کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی تھی مگر زخم کچا ہونے کی وجہ سے اٹھ نہیں پا رہی تھی۔

آویز نے اسے کمر سے تھام کر واپس لٹایا اور خود اُس پر جھکا اُس کی پیشانی کو محبت سے چوم کر وہ پیچھے ہوا تھا۔

دونوں ہی خاموش تھے ایک دوسرے کو تسلی دینے کے الفاظ ڈھونڈ رہے تھے۔

“ایسا۔۔کیوں ہوا۔۔۔۔ہمارے۔۔ساتھ “

وہ اچانک روتی ہوئی بولی تو آویز نے کرب سے اس کے ستے چہرے کو دیکھا۔

“اس میں بھی کوئی بہتری ہو گی جاناں”

آویز اُس کی کلائی پر انگوٹھا پھیرتا بولا تو اُس نے آہستہ سے سر ہلایا۔

وہ رونا نہیں چاھتی تھی مگر اُس کا دل کر رہا تھا چیخ چیخ کر روئے۔

آویز بھی اُس کی آنکھوں میں تکلیف دیکھ کر ہونٹ بھینچے بیٹھا تھا۔

“مجھے حویلی لے جائیں مجھے یھاں نہیں رہنا”

وہ اُکتا کر چڑچڑے پن سے بولی تو آویز نے فکر مندی سے اسے دیکھا۔

“مہروش ابھی آپریشن کو ایک دن بھی نہیں ہوا یار ابھی کیسے تمھیں حویلی کے چلوں”

وی بے بسی سے بولا تو مہروش نے منہ بسور کر رخ پھیر لیا۔

“اچھا تم سيڈ نہیں ہو میں ڈاکٹر سے بات کرتا ہوں کہ رات تک تمہیں ڈسچارج کر دیں۔۔۔مگر دیکھ لینا ابھی تم اٹھ بھی نہیں سکتی تکلیف ہو گی گھر کے جاتے ہوئے”

وہ ایک دفعہ پھر سمجھانا چاہ رہا تھا۔

“کچھ نہیں ہوتا جو تکلیف میں نے سہی ہے ناں اُس کے آگے یہ چھوٹی موٹی تکلیفیں کچھ نہیں ہیں۔۔۔۔آپ سب چھوڑیں یہ بتائیں حان کہاں ہے کل سے نہیں ملا مجھ سے”

وہ اُسے یاد کرتی بولی تو آویز کو بھی اُس کا خیال آیا تھا ان دو دنوں میں تو وہ بھول ہی گیا تھا اسے۔

“ہاں وہ تمہاری كزنز کے پاس ہی ہے۔ رات کو بلوا لیں گے تو مل لینا”

وہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تاکہ ڈاکٹر سے بات کر لے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین سال بعد۔۔۔

ماہر خانزادہ آج چار دنوں بعد لاہور سے آیا تھا۔

اُس کی ادھر کوئی اہم میٹنگز تھیں اس لیے اسے جانا پڑا تھا۔

پلوشے پریگنینٹ تھی تو وہ اُسے چھوڑ کر ہرگز بھی جانا چاہتا تھا مگر مجبوراً اُسے جانا پڑا تھا۔

تقریباً شام ہو چکی تھی جب وہ لاؤنج میں داخل ہوا۔

حبیب خانزادہ اور علی خانزادہ ایک صوفے پر بیٹھے کچھ ڈسکس کر رہے تھے جبکہ دوسرے صوفے پر اس کی چھوٹی سی بیوی بیٹھی غصے سے کیوٹ کیوٹ منہ بنا رہی تھی۔

“پلوشے منہ کھولو بیٹا بس تھوڑا سا اور کھا لو”

سمرین بیگم فروٹ سیلڈ کا باول ہاتھ میں لیے چمچ اُس کے ہونٹوں کے قریب کیے بیٹھی تھیں۔

“میں اور نہیں کھا سکتے ماما۔۔۔صبح سے کچھ نہ کچھ کھا کھا کر میرا پیٹ بہت بھر گیا ہے”

وہ پیٹ کی طرف اشارہ کرتی بولی تو انہوں نے اسے گھورا۔

“ذرا بتاؤ گی مجھے کہ کھایا کیا ہے تم نے صبح سے سوائے ایک گلاس دودھ اور چند نوالے لیے تھے دوپہر کو تم نے۔ اسی سے پیٹ بھر گیا تمہارا۔ کچھ تو خیال کرو میری جان اب تم اکیلی نہیں ہو تمہارے ساتھ ایک اور جان بھی منسلک ہے”

وہ اُسے سمجھاتی ہوئی بولیں تو اُس نے منہ بسورا۔

“آپ رکھ دیں میں کچھ دیر تک کھا لوں گی”

وہ رونی صورت بنا کر بولی تو علی خانزادہ نے محبت سے اسے دیکھا۔

“بیگم اگر بچی نہیں کھانا چاہ رہی تو کیوں اُسے زبردستی کھلا رہی ہیں”

وہ اُس کی سائڈ لیتے بولے تو وہ مسکرائی۔

“اسلام و علیکم۔”

ماہر نے بلند آواز میں سلام کیا تو سب نے چونک کر اسے دیکھا۔

“ماں صدقے جائے آ گیا میرا بیٹا”

سمرین بیگم باول ٹیبل پر رکھتیں اُس کی طرف ائیں تو اُس نے اُنہیں خود سے لگا کر اُن کی پیشانی پر بوسا دیا۔

“جی وہ سارا کام ختم ہو گیا تھا تو میں آ گیا”

وہ کہتا ہوا حبیب خانزادہ کے پاس آیا اور اُن کے آگے سر جھکایا تو اُنہوں نے اس کی پیشانی چومی اور دعائیں دیں۔

“کام ختم ہو گیا تھا یا بیوی کی یاد ستا رہی تھی میرے بیٹے کو”

علی خانزادہ نے اُسے چھیڑتے ہوئے کہا تو وہ دھیما سا مسکرایا۔

“شاید دونوں”

وہ آنکھ دبا کر بولا تو سب مسکرائے جبکہ پلوشے اُن دونوں کی باتوں پر شرمندہ ہوتی سر جھکا گئی۔

“تھک گئے ہو گے تم جاؤ روم میں فریش ہو جاؤ۔۔۔اور پلوشے بیٹے آپ بھی جاؤ آرام کرو کچھ دیر”

وہ یک بہ یک دونوں سے مخاطب ہوئیں تو دونوں ہی اٹھے۔

ماہر نے اگے بڑھ کر اُس کا ہاتھ پکڑا تو وہ بوکھلا سی گئی مگر پھر سب کی موجودگی میں شرمندہ ہوتی اہستہ سے قدم آگے بڑھانے لگی۔

وہ دونوں روم میں ائے تو ماہر اسے لے کر صوفے پر آیا۔

دونوں ہی بیٹھ گئے تو ماہر نے محبت سے چور نظریں اُس پر گاڑیں۔

“آپ نے مجھے بتایا بھی نہیں جانے سے پہلے”

وہ ناراضگی سے بولی تو ماہر نے مسکرا کر اس کے پھولے چہرے کو دیکھا۔

“مصروف تھا ڈارلنگ۔۔۔آفیس سے ہی نکلنا پڑا بابا کو کہا تھا تمہیں بتا دیں”

وہ اُس کو کمر سے پکڑتا قریب کھینچ کر بولا تو اُس نے شرما کر پلکوں کی باڑ گرائی تھی۔

وہ ابھی بھی بلکل پہلے جیسی معصوم اور نازک سی تھی۔

ماہر کی ذرا سی قربت پر وہ سانس کہنا تک بھول جاتی اور چہرہ بھاپ چھوڑنے لگتا تھا۔

ماہر نے جھک کر اُس کی پلکوں پر اپنے لب رکھے تو وہ کپکپا سی گئی۔

“بہت یاد کیا میں نے اپنی زندگی کو”

وہ چاہت سے بولا اور اُسے سمجھنے کا موقع دیئے بغیر اُسے نرمی سے پیچھے صوفے پر لٹایا اور بلا تاخیر اُس پر جھک آیا۔

اب دونوں کی سانسیں اس قدر قریب ہونے پر ایک دوسرے کی سانسوں سے ٹکرا رہی تھیں۔

پلوشے اب چہرے کا رخ بدلتے اُس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتی اُسے پیچھے کرنے کی سعی کرنے لگی۔

مگر وہ صرف معنی خیزی سے مسکراتا اس کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔

“سائڈ پر ہوں پلیز۔۔۔مجھے سانس نہیں۔۔آ”

ابھی وہ بات مکمل کرتی کہ اچانک ماہر نے اُس کے گلاب سے نازک ہونٹوں کو اپنی فولادی گرفت میں لیے۔

اب وہ اپنی ساری تھکن اُس میں انڈیل رہا تھا۔

کچھ دیر بعد جب وہ اُس سے الگ ہوا تو اُس کا سرخ ٹماٹر چہرہ دیکھ کر مسکراہٹ چھپا گیا۔

“اب سانس آئی یا اور چائیے”

وہ شرارت سے بولتا اُس کے اوسان خطا کر چکا تھا۔

“نہیں کریں ناں۔۔۔آپ جائیں فریش ہوں”

وہ شرما کر بولی تو ماہر اس کی گال پر ہلکا سا کاٹتا اُس پر سے اٹھا۔

“ابھی کہاں فریش ہوں گا میں چار دنوں کی تھکن ہے رات کو تمہارے وجود اور اتاروں گا تو ہی فریشنس فیل ہو گی”

وہ دوبارہ سے بے باک لہجے میں بولا۔

“اگر اب آپ نے مجھے تنگ کیا تو پکا میں رات کو ماما کے ساتھ سو جاؤں گی”

وہ اُسے دھمکی دیتی بولی تو ماہر پر فوراً اس کا اثر ہوا تھا۔

وہ پیچھے ہوتا صوفے سے اٹھا اور اس کا بازو تھام کر اسے بھی سیدھا کر کے بٹھایا۔

“خبردار ایسا کچھ سوچا بھی تو ٹانگیں توڑ دوں گا تمہاری”

وہ معمول کے بر عکس جان بوجھ کر تھوڑی سختی سے بولا تو اُس نے جھٹکے سے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔

اس کے چہرے اور سنجیدگی پا کر پل میں اُس کی آنکھوں میں چمکدار موتی جگمگائے تھے۔

اس سے پہلے ایک اُسے سنبھالتا وہ بھاگ کر کمرے سے باہر نکلی۔

یہی تو ہوتا تھا ماہر کبھی مزاقیہ بھی اُس سے سختی سے بات کرتا تو وہ یُونہی اس سے ناراض ہو کر سمرین بیگم کو اس کی شکایت لگایا کرتی تھی۔

ماہر بھی خود کو علی خانزادہ کی ڈانٹ کے لیے تیار کرتا اُس کے پیچھے ہی کمرے سے نکلا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ارمان سمبھالیں اپنی اس آفت کو ساحر کو مار کر ائی ہے۔۔۔وہ بیچارہ لان میں بیٹھا رو رہا تھا۔میں نے اب اُسے اٹھا کر سیرت کو دیا ہے۔”

مرحا غصے سے علشبہ کو بیڈ پر ارمان کے ساتھ بیٹھاتی ہوئی بولی تو ارمان نے لیپ ٹاپ سائڈ پر رکھتے ٹانگیں سمیٹیں۔

پھر اپنی بیٹی کو دیکھا جو معصوم سی صورت لیے اسے رحم طلب نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔

ارمان نے مسکرا کر اسے اٹھایا اور اُس کی گال پر بوسا دے کر اُسے گود میں بیٹھایا۔

جبکہ اُس کی حرکت پر مرحا جلتی کڑھتی اُن دونوں کو گھور رہی تھی۔

“کیوں مارا بابا کی جان نے بھائی کو”

وہ محبت سے اُس کے بال پیچھے کرتا بولا تو علشبہ نے مرحا سے منہ پھیر کر اُس کی طرف شیطانی مسکراہٹ اچھالی۔

اُس کے مسکراتے ہی اُس کی دونوں گالوں میں دو گڑھے نمودار ہوتے اُسے مزید پیارا بنا گئے۔

مرحا بھی اُسے مسکراتے دیکھ نرم پڑتی مسکرائی ہمیشہ اس کی کیوٹ حرکتیں اس کے غصے کو جھاگ کی طرح بہا دیتی تھیں۔

“بابا شایل مدے تنگ تل لا تا”

(بابا ساحر مجھے تنگ کر رہا تھا)

وہ جلدی سے جھوٹ بولی تو ارمان نے اُس کی چالاکی پر مسکراہٹ دبائی جبکہ مرحا نے اُسے گھورا۔

“وہ آٹھ مہینوں کا بچہ اسے تنگ کر رہا تھا۔۔۔ارمان حد نہیں ہو گئی آپ کی بیٹی پر”

اس کی بات پر ارمان نے محبت سے اسے دیکھا جو بلیک ڈریس میں بے حد چمک رہی تھی۔

“بابا مدے آئش تلیم تھانی”

اُس کی فرمائش پر ارمان نے اسے دیکھا۔

“نو بے بی آپ کو فیور ہو جائے گا اس ویدر میں آئس کریم نہیں کھاتے”

وہ اُسے سمجھاتا ہوا بولا تو مرحا نے دل ہی دل میں علشبہ کے خاموش رہنے کی دعا کی تھی۔

مگر بھلا یہ ممکن تھا کہ علشبہ میڈم کو کوئی بات معلوم ہو اور وہ بھی اپنی ماما کی تو وہ اُس بات پر پردہ رکھ لے۔

“لیتن میں نے تل ماما تو آئیش تلیم تھاتے دیتا تا”

(لیکن میں نے کل ماما کو آئس کریم کھاتے دیکھا تھا)

اُس نے جھٹ سے اپنی ماما کا راز افشاں کیا تو ارمان نے معنی خیزی سے مرحا کو دیکھا جو اُس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے بھی انجان بنتی نظریں چرا گئی تھی۔

“میں ماما کو ڈانٹتا ہوں آپ جا کر سیرت آنی اور ساحر کو سوری بولیں”

ارمان کی بات پر وہ جلدی سے اس کی گود سے نکلتی باہر کو بھاگی۔

مرحا بھی ارمان سے بچنے کی خاطر جلدی سے کمرے سے رفو چکر ہونے ہی لگی تھی کہ ارمان نے جھٹکے سے بیڈ سے اٹھ کر اسے تھاما۔

اس کا بازو اپنی گرفت میں لیتے دروازے کو لوک کرتا اس کی طرف مڑا۔

“یہ آج کل کچھ زیادہ نہیں دل کر رہا تمہارا کھٹا میٹھا کھانے کا کبھی آئس کریم کھا رہی ہوتی ہو کبھی املی۔۔۔میڈم یہ چکر کیا ہے”

وہ اُسے جانچتی نظروں سے دیکھتا بولا تو اُس نے سر جھکا لیا۔

“میرا ۔۔ دل کرتا ہے تو ۔۔۔ کھا لیتی ہوں اس میں چکر کی۔۔۔ کیا بات ہے”

وہ نظریں جھکائے بولتی ارمان کے شق کو یقین میں بدل گئی۔

“کل تم میرے ساتھ ٹیسٹ کروانے چل رہی ہو”

ارمان کی بات پر وہ شرم سے سرخ پڑی۔

“جیسا آپ۔۔ سوچ رہے ہیں ویسا۔۔۔کچھ بھی۔۔ہے”

وہ ہونٹ چباتے ہوئے بولی تو ارمان مسکرایا۔

“تمہیں کیسے پتہ میں کیا سوچ رہا ہوں ؟”

اس کے سوال پر مرحا نے گڑبڑا کر اسے دیکھا۔

“میں تو بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارمان پلیز۔۔۔مجھے تنگ بھی کریں ناں”

جب کوئی بات نہ بنی تو وہ منت پر اُتری۔

“میں تنگ تو بھی کر رہا تمہیں۔۔۔بس اپنی محنت کا پھل چاہتا ہوں”

وہ بے باکی سے کہتا اُس کے رہے سہے اوسان بھی خطا کر گیا۔

“بہت ۔۔ بریا ہیں آپ۔۔مجھ سے بات نہیں کریں”

وہ کہتی اُس سے ہاتھ چھڑانے لگی تو ارمان نے گھور کر اسے دیکھا۔

وہ بھی اس کی نظروں میں وارننگ سمجھتی مزاحمت ترک کر گئی۔

“میں ذرا علشبہ کو دیکھ لوں پتہ کہاں گئی ہو گی”

وہ نیچے دیکھتی بولی تو ارمان نے سر ہلا کر اُس کی کلائی چھوڑی اور واپس بیڈ پر اس کر لیپ ٹاپ سن کر کے مسکراتا ہوا اپنے کام میں لگ گیا۔

وہ بھی سیرت کے کمرے میں آئی تاکہ اُس میڈم کو کچھ کھلا پلا لئے جو صبح سے شرارتوں میں لگی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“بہرام چھوڑیں ناں مجھے ساحر کو فیڈ کروانا ہے”

سیرت جھنجلا کر بولی تھی۔

رات کے تین بج رہے تھے مگر بہرام خانزادہ کی منمانیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔

جب ساحر نے اپنا ولیم فل کیا تو سیرت نے بہرام کے کندھوں پر مکے مارتے اُسے رکنے کا کہا۔

ایک طرف شوہر اور دوسری طرف بیٹا۔۔۔سیرت کا تو دن رات کا سکھ چین ختم کرنے کے لیے یہ دونوں کافی تھے۔

بہرام نے ایک نظر گھور کر کاٹ میں روتے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا جو جب سے آیا تھا اس کے رومانس میں ہی ٹانگ اڑاتا رہا تھا۔

بہرام اُس سے الگ ہوا تو وہ اپنا حلیہ درست کرتی بیڈ سے اٹھی اور لائٹ آن کی۔

پھر کاٹ کے پاس جا کر ساحر کو اپنی گود میں لیا اور واپس آ کر دوبارہ لائٹ آف کرتی بیڈ پر بیٹھی۔

بہرام اب شرٹ لیس تکیے پر کہني ٹکائے اسی کی طرف رخ کیے لیٹا تھا۔

“آپ سو جائیں”

وہ ساحر کو خود سے لگاتی بولی تو بہرام نے ایک سرد آہ بھرتے سر تکیے پر رکھا۔

شاید اب اُسے ساری زندگی یُونہی سونا ہی تھا ہاہاہا۔۔۔۔

سیرت نے بہرام کی زندگی میں آتے ہی اُس کے روعب کو ایک طرف رکھتے اپنی جگہ سیٹ کی تھی۔

بہرام کبھی غُصہ ہوتا بھی تو وہ اثر نہیں لیتی آخر بہرام نے تنگ آتے اُسے ڈانٹنا ہی چھوڑ دیا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“بابا۔۔۔بابا”

دو سالہ نور العین کی آواز پر آویز شاہ کی نیند کھلی تھی۔

باہر زور زور سے دروازہ بھی پیٹا جا رہا تھا۔

آویز نے ایک نظر اپنے پہلو میں دیکھا تو وہاں مہروش موجود نہیں تھی۔

اسے اپنے قریب نہ پا کر آویز کے ماتھے پر بل پڑے۔

پھر وہ سر جھٹکتا یُونہی صرف بلیک ٹراوزر میں دروازے تک آیا۔

اُس نے دروازہ کھولا تو سامنے عینا کو روتے دیکھ اُس کی جان لبوں کو آئی۔

اُسے کہاں برداشت تھا اپنی فيری کا رونا۔

آویز نے بلا تاخیر اُسے اٹھایا اور اندر لایا وہ بھی اس کی گردن میں سر چھپائے زور زور سے رونے لگی۔

“عینا وٹ ہیپينڈ ٹو یو مائے لو”

وہ اُس کے بال سہلاتا بولا تو اُس نے روتے ہوئے اسے دیکھا۔

“ماما۔نے۔۔مالا”

وہ روتی ہوئی بولی تو آویز کی گردن کی رگیں غصے سے واضح ہوئیں۔

“اوکے کوايٹ مائے ڈول۔۔۔۔میں ابھی ماما سے پوچھتا ہوں کہ میری جان کو کیوں ڈانٹا اُنھوں نے”

وہ اس کے آنسو صاف کرتا محبت سے بولا تو اُس نے زور زور سے سر ہلایا۔

آویز کا غصّہ اب مزید بڑھ چکا تھا ایک تو و محترمہ اس کے اٹھنے سے پہلے اٹھ کر نیچے جا چکی تھی حالانکہ آج سنڈے تھا اور آویز نے اُسے منع بھی کیا تھا۔

دوسرا اب وہ اس کی بیٹی کو مار چکی تھی۔

غصّہ تھا تو اسے زیادہ پہلے وجہ کا مگر و نکالتا دوسری وجہ سے۔

وہ نور العین کو بیڈ اور بٹھا کر خود ریلنگ کے قریب آیا۔

“مہروش”

وہ اس قدر بلند آواز میں بولا کہ لاؤنج میں ڈائننگ پر ناشتہ سیٹ کرتی مہروش کانپ کر رہ گئی۔

“اسے صبح صبح کیا ہوا جو ایسے چلا رہا ہے”

رابعہ بیگم نے اُس سے سوال کیا تو اس نے جانتے ہوئی بھی لا علمی کا اظہار کیا۔

“مہروش روم میں آؤ”

وہ دوبارہ وہیں سے دھاڑا تو مہروش نے بے بسی سے رابطہ شاہ کو دیکھا۔

“صبح ہلکا سا ٹچ کر دیا تھا غصے میں نور کو اسی نے شکایت لگائی ہو گی اسی لیے غصّہ ہیں شاید”

وہ پریشانی سے بولی تو اُنہیں نے سر ہلایا۔

“اچھا کچھ نہیں ہوتا چلی جاؤ نہیں تو زیادہ غصّہ ہوگا”

وہ نرمی سے بولیں تو مہروش نے ایک نظر اوپر کی جانب دیکھا پھر آہستہ سے قدم بڑھائے۔

وہ روم میں آئی تو آویز سامنے غصّے سے سرخ چہرہ لیے موجود تھا۔

“کہاں تھی تم۔۔۔۔سمجھ نہیں آ رہی تھی میری آواز”

وہ سختی سے بولا تو مہروش نے سر جھکایا۔

“ناشتہ لگا رہائی تھی اس لیے دیر ہو گئی”

وہ نرمی سے بولی تو آویز نے گھور کر اسے دیکھا۔

“عینا کو کیوں مارا تم نے؟”

وہ غصے سے با تو مہروش نے دل ہی دل میں اُسے سو سلواتیں سنائیں۔

رات کو کیسے محبت نچھاور کی جا رہی تھی اور اب کیسے ڈانٹ رہا تھا۔

“مارا نہیں ہے میں نے بس ایک ہاتھ آہستہ سے ٹچ کیا تھا۔۔۔۔یہ صبح سے مجھے تنگ کر رہی تھی”

مہروش نے وضاحت دی مگر اُس کا غصّہ ویسے کا ویسے ہی تھا۔

“چلو یہ تو تم نے ٹچ کیا اور صبح جو میرے کہنے کا باوجود تم اٹھ کر نیچے چلی گئیں اُس کا کیا”

وہ سختی سے سرخ آنکھوں سے اُسے گھورتا ہوا بولا تو مہروش نے نظریں چرائیں۔

“مجھے نیند نہیں آ رہی تھی اس لیے اٹھ گئی”

وہ آہستہ سے بولی اور ایک نظر اپنی دشمن کو دیکھا جو تیلی لگا کر خود اب باہر جا رہی تھی۔

“مجھے جگا دیتیں”

وہ غصے سے بولا تو مہروش نے اُسے دیکھا۔

“سوری”

وہ بولی تو آویز کچھ نرم پڑا۔

“اٹس اوکے بٹ مہر یہ حرکت کر کے میرا ویک اینڈ مت خراب کیا کرو یار”

وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر بولا تو وہ مسکرائی۔

“آپ بھی خود کو تھوڑا ٹھیک کریں آویز شاہ۔۔۔آپ جتنا مجھے ڈانٹتے ہیں ناں میں ناراض ہو جاؤں گی آپ سے”

اُس کی دھمکی پر آویز نے اُسے گھورا۔

“تمہیں لگتا ہے میں تمہیں ناراض ہونے دوں گا”

وہ کہتا ہوا اسے خود میں بھینچ گیا تو وہ مسکرا دی۔

“آئی ریلی لو یو مہر۔۔۔۔میں سوچتا ہوں تم نہ ہوتی تو میرا کیا ہوتا”

وہ محبت سے بولا تو مہروش نے اُس کے گرد حصار قائم کیا۔

“میں بھی یہی سوچتی ہوں”

وہ دل سے بولی تبھی کمرے میں کبیر اور روحان داخل ہوئے تو وہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوتے ان کی طرف متوجہ ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *