Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 03)

Tere Liye by Ayat Fatima

ارمان کو جیسے ہی پتہ چلا تھا کے وہ لوگ اُس کی لاڈلی بہن کو خون بہا میں پیش کر چکے ہیں۔ وہ تب سے ہی چلا رہا تھا۔

لیکن کسی نے اُس کی طرف کان نہیں دھرے تو وہ غصے سے اپنے کمرے میں آ گیا تھا۔

“کیسی حالت تھی میری بچی کی”

شائستہ بیگم بہرام کے پاس بیٹھتی ہوئی فکرمندی سے گویا ہوئیں۔

بہرام نے عقیدت سے اُنہیں دیکھا پھر اُنہیں خود سے لگایا۔

“بلکل ٹھیک تھی۔۔مجھے تو لگا کے روئے گی لیکن اُس نے بہت ہمت سے کام لیا ہے”

بہرام نے اُنہیں پرسکون رکھنے کے لیے جھوٹ بولا۔

وہ ماں تھیں کیسی نہ پہچانتیں۔ مگر وہ خاموش ہو گئی تھیں۔

“امی میں تھک گیا ہوں تو روم میں جاؤں گا آپ کسی کے ہاتھ کافی بھجوا دیں اور ہاں بابا کو یاد سے میڈیسن دے دیجئے گا”

بہرام اُنہیں کہتا اوپر اپنی کمرے کی طرف آیا۔

اُنھوں نے کچھ فاصلے پر بیٹھی سیرت کو کافی بنا کر اُسے دینے کا کہا تو سیرت اٹھ کر کچن کی طرف آئی۔

کافی بنا کر بغیر دستک دیئے اُس کے روم میں داخل ہوئی تو بہرام کمرے میں موجود نہیں تھا۔

سیرت نے صوفے کے سامنے پڑی ٹیبل پر کافی کا مگ رکھا اور واپس جانے کے لیے پلٹی ہی تھی کہ بہرام بغیر شرٹ کے واشروم سے باہر نکلا تھا۔

وہ جلدی سے آنکھوں پر ہاتھ رکھتی چیخی تھی۔

بہرام تیزی سے اُس تک آیا اور اُس کے لبوں پر سختی سے ہاتھ جمایا۔

“تم پاگل ہو گئی ہو ابھی کے ابھی منہ بند کرو اپنا”

بہرام دبے دبے لہجے میں بولا تو سیرت نے دھیرے سے آنکھیں کھولتے منہ بند کیا تھا۔

“آپ نے شرٹ کیوں نہیں پہنی”

وہ گھبراتی ہوئی بولی تھی جبکہ نظریں ابھی بھی اُس پر نہیں ڈالیں تھیں۔

بہرام اُس کے جھجکنے پر مسکرایا۔

اُس کے مسکرانے سے اُس کی بائیں گال پر ڈمپل نے اپنی چھپ دکھائی تو سیرت اشتیاق سے اُسے دیکھنے لگی۔ کتنا مکمل تھا ناں وہ شخص۔

“مس سیرت خانزادہ میری مرضی میں اپنے روم میں شرٹ پہنوں یا نہ بلکہ کچھ بھی نہ پہنوں تو بھی کوئی مجھے کچھ کہہ نہیں سکتا”

وہ بظاھر سنجیدگی سے بولا جبکہ آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔

سیرت اُس کی اس قدر بے باک بات پر بوکھلا گئی۔

“وہ۔۔میں نے کوفی رکھ دی ہے ۔ اب میں چلتی ہوں”

وہ جلدی سے باہر کی طرف قدم بڑھانے ہی لگی تھی کے بہرام نے اچانک اُس کی کلائی تھام کر اُسے روکا۔

“ایک دو ہفتوں تک بابا سے بات کرتا ہوں وہ چاچو سے باقاعدہ رشتے کی بات کریں”

وہ از حد سنجیدگی سے بولا تو سیرت نے حیرانگی سے اُسے دیکھا۔

“کس کے رشتے کی”

اُس کے سوال پر بہرام نے مسکرا کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا پھر اُس کی طرف انگلی گھمائی تو سیرت کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔

اُن دونوں کے رشتے کی بات تو خاندان میں پہلے سے ہی چل رہی تھی۔ اب اُس کے منہ سے سن کر سیرت شرما دی۔

“او تو آپ بلش بھی کرتی ہیں”

بہرام نے اُسے چھيڑا۔

“مم۔۔میں چلتی ہوں”

وہ مسکراتی ہوئی کہتی تیزی سے باہر بھاگی تو بہرام کو اطمینان ہوا۔ اُسے لگ رہا تھا صرف وہ ہی اُس کے عشق میں دیوانہ ہے لیکن یہاں تو صورتِ حال ہی الگ تھی۔

“مطلب آگ دونوں طرف برابر کی لگی ہے”

وہ دھیما سا مسکراتا ٹھوڑی سہلا کر بولا پھر سر جھٹک کر کافی کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملازمہ اُسے ایک دروازے کے باہر چھوڑ گئی تھی۔ لیکن اُس میں اندر جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔

وہ بڑی مشکل سے دل کو مناتی دروازہ کھول کر اندر آئی تو کمرے میں صرف ایک کیوٹ سا بچہ نیچے کارپٹ پر بیٹھا چاکلیٹ کھا کم منہ پر زیادہ مل رہا تھا۔

کمرہ بے حد خوبصورت تھا۔ اُن کی حویلی میں بھی سب کے کمرے بہت خوبصورت اور کشادہ تھے لیکن ایسا کمرہ مہروش پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی۔

وہ بلیک اور گرے تھیم کا بیڈ روم تھا۔ جو کافی کشادہ تھا۔

“نم۔۔۔ نم”

ابھی وہ دروازے اور کھڑی کمرے کو ہی جانچ رہی تھی کے بچے نے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا۔

مہروش مسکرا کر اُس کے پاس نیچے آ بیٹھی۔

اُسے ہمیشہ سے ہی بچے بہت پسند رہے تھے لیکن اُن کے خاندان میں کوئی بچہ نہیں تھا اس لیے اُس کی پسند پسند ہی رہ گئی تھی۔

آج اپنے سامنے اس قدر پیارے بچے کو دیکھ کر وہ خوشی سے یہ بھی بھول گئی تھی کے وہ کہاں ہے ؟

کس لیے ہے ؟

مہروش نے اُسے اٹھا کر گود میں بیٹھایا اور اُس کی پھولی پھولی سرخ گالیں زور سے چومیں۔

“اف آپ کتنی پیارے ہو”

وہ محبت سے اُس کے دونوں ہاتھ پکڑتی بولی تو شاید بچہ بھی اپنی تعریف پر شرمایا تھا۔

اُس نے اپنا سے نیچے جھکا لیا اور دونوں آنکھیں بند کر کے مسکرانے لگا تھا۔

جتنا سر جھکایا جا سکتا تھا اُس نے اتنا ہی جھکا لیا۔

مہروش اُس کی حرکت پر صدقے واری ہوئی۔

اُس کا رخ اپنی جانب کر کے اُس کا چہرہ اوپر کیا۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے بیٹے کو ہاتھ لگانے کی اور میرے کمرے میں گھسنے کی”

اُس کی پشت سے کرخت آواز آئی تو مہروش بچے کو واپس بیٹھاتی خوف سے آنکھیں بھینچ گئی تھی۔

آویز شاہ جو ابھی شاور لے کر باہر آیا تھا روحان کو کسی لڑکی کی گود میں دیکھ کر غُصہ ہوا۔

مہروش کی اُس کی طرف پشت تھی تو وہ اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔

مگر وہ جانتا تھا یہ وہی لڑکی ہو گی اور رابعہ شاہ نے ہی اُسے اس کے کمرے میں بھیجا ہوگا۔

احتشام کا مسکراتا چہرہ اُس کی آنکھوں پر لہرایا تو وہ مہروش کو بازو سے کھینچ کر کھڑا کر چکا تھا۔

اس قدر خوبصورت اور شفاف معصومیت بھرا چہرہ دیکھ کر ایک لمحے کو آویز شاہ تھما تھا۔

لیکن دوسری ہی لمحے اُس نے مہروش کو اپنی کمرے سے باہر زور دار دھکا دیا تو وہ لڑکھڑاتی ہوئی نیچے فرش پر گری۔

نیچے گرنے کی وجہ سے اُس کا پاؤں مڑ چکا تھا لیکن آویز شاہ اُسے یونہی چھوڑ کر دروازہ اندر سے لوک کر چکا تھا۔

کچھ دیر وہ یونہی بیٹھی آنسو بہاتی رہی پھر اٹھنے کی کوشش کی تو پاؤں مزید دکھا۔

کافی کوشش کے بعد بھی اٹھا نا گیا تو وہ بمشکل رینگتی ہوئی دیوار سے ٹیک لگا گئی۔

کچھ دیر رونے کے بعد وہیں پتھریلے فرش پر ہی اُس کی آنکھ لگ چکی تھی۔

وہ کہتے ہیں نہ نیند تو سلی پر بھی آ جایا کرتی ہے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح آویز شاہ نے نماز کے لیے دروازہ کھولا اور باہر نکلا ہی تھا کہ کوئی میں سے چیز اُس کے پاؤں کے نیچے آئی۔

اُس نے چونک کے نیچے دیکھا تو وہ روئی روئی سے وہیں فرش پر لیٹی تھی۔

اُس کا ہاتھ آویز شاہ کے بھاری جوتے کے نیچے آیا تھا لیکن نیند گہری ہونے کی وجہ سے وہ ابھی بھی جوں کی توں پڑی تھی۔

نہ چاہتے ہوئے بھی آویز شاہ کو اُس پر ترس آیا تھا۔

اُس نے آہستہ سے مہروش کو اپنی بانہوں میں بھرا اور اُسے اپنی کمرے میں لا کر بیڈ پر سوئے روحان کے ساتھ لیٹا دیا۔

اُن دونوں پر کمفرٹر ٹھیک کر کے وہ خود پلٹنے ہی لگا تھا کے مہروش نیند میں بڑبڑائی تھی۔

“بابا۔۔۔بب۔۔بابا۔۔مم۔۔مجھے۔۔مجھے۔لے۔۔۔جائیں۔۔یہاں۔۔سے۔۔بابا۔۔پلیز۔۔۔مم”

ابھی وہ مزید کچھ کہتی کے آویز شاہ نے اُسے بالوں سے پکڑ کر اٹھا کر بیٹھایا تھا۔

تکلیف سے مہروش نے آنکھیں کھولیں تو سامنے وہ ستمگر اپنی بھرپور وجاہت کے ساتھ موجود تھا۔

اُس کی آنکھوں میں اپنے لیے اس قدر نفرت و غُصہ دیکھ کر مہروش نے جھرجھری لی تھی۔

“کہاں جانا ہے تمہیں۔۔۔۔ایک دفعہ پھر سے کہنا ذرا”

آویز شاہ کی دھاڑ پر مہروش نے سہم کر نظریں جھکا کی تھیں۔

اُس کی گرفت بالوں پر سخت ہوئی تو مہروش کی آنکھوں سے موتی ٹوٹ کر بے مول ہونے لگے تھے۔

“چھوڑیں۔مجھے۔۔درد۔۔ہو رہا۔۔ہے”

وہ ضبط کے باوجود روتی ہوئی بولی تو آویز شاہ کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ پھیلی تھی۔

“برداشت کرنا سیکھو میری جان۔۔۔یہ درد تو اب ہمیشہ کے لیے تمہارے نصیب میں لکھے جا چکے ہیں۔۔۔اور یہ درد اُس درد کے آگے کچھ بھی نہیں ہے جو تمہاری اُس (گالی) بھائی نے میرے بیٹوں جیسے بھائی کو دیئا تھا”

آویز شاہ کے لہجے میں اس قدر وحشت تھی کے مہروش کا دل کیا وہ کسی طرح یہاں سے بھاگ جائے۔

ابھی وہ مزید چیختا کے سوئے ہوئے روحان نے کسمسا کر آنکھیں کھولو تھیں۔ سامنے اپنے بابا کو دیکھ کر اُس نے خوشی سے تالیاں بجائیں اور مسکرا کر اُسے پکارا تھا۔

“بب۔۔۔ببا”

اُس کی آواز پر دونوں نے اُس کی طرف دیکھا تھا۔ آویز شاہ اُسے اٹھتے دیکھ تیزی سے اُس کی طرف آیا تھا۔

“اٹھ گیا بابا کا شیر”

آویز اُسے بانہوں میں کے کر اُس کی آنکھیں اور پیشانی چوم کر بولا تو اُس نے آویز کے منہ کو دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھرا پھر اُس کی کھڑی مغرور ناک اور لب رکھے تو آویز مسکرا دیا۔

مہروش اُسے پہلی دفعہ مسکراتے دیکھ رہی تھی۔ کتنا پیار کرتا تھا وہ اپنے بیٹے سے۔۔۔

مہروش حسرت سے اُسے دیکھتی جا رہی تھی۔

ہاں۔۔۔۔اُس نے تسلیم کر لیا تھا کے وہ اُس سے پہلی نظر کی محبت کر بیٹھی ہے۔

اُس کی اس قدر نفرت کے باوجود وہ اپنا دل اس ستمگر کے حوالے کر چکی ہے۔

آویز شاہ کی نظر اُس پر پڑی تو اُسے خود کو یوں چاہت سے دیکھتے دیکھ اُس کی آنکھوں میں تمسخر نمایاں ہوا تھا۔

آج پہلی دفعہ کسی کو خود کو یوں دیکھتے دیکھ کر آویز شاہ کو کمینی سے خوشی ہوئی تھی۔

وہ ظالم کہاں جانتا تھا کے جب محبوب آپ سے نفرت کرے تو دل پر کیا گزرتی ہے۔

اُس کی آنکھوں میں اپنی لیے تمسخر کا تاثر دیکھ کر مہروش نے اُس سے نظریں پھیریں اور دل ہی دل میں اپنی اس بےخودی پر خود کو ڈپٹا تھا۔

اُسے نظریں چراتے دیکھ آویز شاہ اُسے یونہی چھوڑے روحان کو اٹھائے كمرے سے نکلا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج مہروش کو گئے آٹھ دن ہو چکے تھے۔ وہ سب آہستہ آہستہ اپنی مصروفیات کی طرف متوجہ ہونے لگے۔

البتہ بہرام خانزادہ قاتل کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش کر رہا تھا مگر اُس نے اس قدر صفائی سے کام کیا تھا کہ ابھی تک بہرام خانزادہ کے ہاتھ ایک ثبوت بھی نہیں لگا تھا۔

مرحا کی آنکھ اچانک کھلی تو اُس کی نظر گھڑی پر گئی جو صبح کے دس بجا رہی تھی۔

وہ رات کو پلوشے سے کہہ کر بھی سوئی تھی کے صبح اس نے يونی جانا ہے تو اُسے بھی جگا دے لیکن وہ شاید بھول گئی ہو گی۔

آج اُس کا یونی جانا ضروری تھا کیونکہ اُس نے کچھ امپورٹنٹ اسایمنٹس جمع کروانا تھیں۔

وہ جلدی سے لحاف ہٹا کے بیڈ سے اٹھی۔

دس منٹ میں وہ تیار ہوتی بیگ کندھے پر لٹکاتی نیچے ائی تھی۔

لاؤنج تقریباً خالی تھا سب ہی اپنے اپنے کام پر نکل چکے تھے۔

لڑکیاں کالج اور مرد زمینیں دیکھنے یہ آفیس کے لیے نکل چکے تھے۔

ابھی وہ پریشان سے لاؤنج کے وسط میں کھڑی تھی کہ کچن سے شائستہ بیگم نکلیں۔

اُسے تیار دیکھ کر وہ حیران ہوتی اُس کے پاس آئیں۔

“کیا ہوا مرحا کہیں جانا ہے بیٹا ؟”

“جی۔۔۔ماما وہ مجھے یونی جانا تھا کچھ امپورٹنٹ کام ہے مجھے۔۔۔میں نے پلوشے سے کہا بھی تھا مجھے اٹھا دینا لیکن وہ شاید بھول گئی۔۔۔اب میں کیا کروں ڈرائیور انکل بھی کچھ دنوں سے بیمار ہیں”

وہ دکھی لہجے میں بولی۔

وہ بچپن سے ہی اُن کے ساتھ رہتی تھی اور شائستہ بیگم نے کبھی اُس میں اور اپنی اولاد میں فرق نہیں کیا تھا تو وہ اُنہیں ماما ہی کہتی تھی۔

“تم یوں کرو اوپر جا کر ارمان کو اٹھاو وہ ابھی آفس نہیں گیا۔۔۔۔وo تمہیں چھوڑ دے گا یونیورسٹی۔۔۔جاؤ شاباش جلدی سے۔۔۔نہیں تو دیر ہو جائے گی “

اُنھوں نے جھٹ سے حل نکالا تو مرحا نے منہ بسور کر انہیں دیکھا۔

“ماما۔۔۔میں کیسے کہوں اُنہیں۔۔۔۔وہ غصّہ ہوں گے مجھ پر”

وہ بے بسی سے بولی۔

“کیوں غُصہ ہو گا بیٹا۔۔۔۔جاؤ مرحا ضد مت کرو اٹھاو جا کر اُسے شوہر ہے تمہارا۔۔”

اُنھوں نے اُسے سمجھایا تو وہ مرے مرے قدموں سے سيڑیھاں چڑھنے لگی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *