Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 23)

Tere Liye by Ayat Fatima

بہرام اُن دونوں کا انتظار کر رہا تھا وہ اس وقت مردان خانہ میں موجود تھا۔

کیونکہ وہ خواتین کو یہ خبر دے کر انھیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اچانک ہی اُن دونوں نے اکھٹے اپنے قدم لاؤنج میں رکھے اور فوراً اُس کے قریب ائے۔

“آپ انتظار کس چیز کا کر رہے ہیں۔ گھنٹہ تو ہونے ہی والا ہے اب اُسے گئے اب تک پتہ نہیں وہ لوگ کیا کر چکے”

“کچھ نہیں۔۔کچھ بھی نہیں کیا ہو گا اُنھوں نے۔۔۔گارڈز باہر موجود ہیں اور ہم تینوں ابھی اسی وقت عبید خان کے ڈیرے پر جا رہے ہیں”

ابھی ارمان اپنی بات مکمل کرتا کے ماہر اُس کی بات کاٹتے ہوئے چیخا تھا۔

“ہوش سے کام کو ماہر۔۔۔وہ لوگ پاگل نہیں ہیں کے اُسے ڈیرے پر رکھیں گے۔”

بہرام نے اُسے ٹھنڈا کرتے کہا مگر ماہر خانزادہ کو لگ رہا تھا۔

کہ اگر وہ جلد ہی اپنی پلوشے تک نہیں پہنچا تو اُس کی سانس تھم جائے گی۔

انہیں باتوں کا تو خوف رہتا تھا اُسے ہمیشہ سے۔

“پھر بتاؤ تم ہی کہ کہاں جائیں۔۔۔۔۔”

وہ غصّے سے دھاڑا تھا ابھی بہرام کچھ کہتا کہ اُس کا سیل رنگ ہوا۔

ماما کالنگ دیکھ کر اُس نے ہونٹ بھینچ لیے تھے۔

یقیناً وہ لوگ ابھی تک پلوشے کے نہ پہنچنے پر پریشان تھیں۔

“آف کر دیں۔۔۔ابھی بتانا ٹھیک نہیں”

ارمان نے مشورہ دیا تو اُس نے موبائل آف کر کے پاکٹ میں رکھ لیا۔

“نمبر۔۔۔نمبر ٹریس کروایا جا سکتا ہے اُس کا”

بہرام نے اچانک آئیڈیا دیا تو ماہر نے فوراً اپنے ایک دوست کو کال کر کے نمبر بتایا۔

اُس نے کچھ دیر بعد ہی لوکیشن بھیج دی تھی۔

وہ تینوں اب حیران تھے کہ اُنھوں نے اُس کا سیل کیوں آف نہیں کیا۔

لوکیشن گاؤں کے باہر موجود عبید خان کی ایک دوسری حویلی کی تھی۔

بہرام تو اب اُس خبیث انسان کو قتل ہی کر دینا چاہتا تھا۔

“بہرام خانزادہ تم نے کو کرنا ہے کر لینا مگر اب کی بات وہ ××× میرے ہاتھوں سے نہیں بچے گا۔ بات اس دفعہ میری عزت کی ہے۔ غیرت پر وار کیا ہے اس نے میری”

ماہر بہرام کی طرف انگلی اٹھاتا چیخا تو اُس نے سر ہلایا اور تینوں ہی باہر آئے.

وہ اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار ہو گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہر اپنا پسٹل لوڈ کر کے نکلا رہا آج وہ عبید خان کو کے قیمت معاف نہیں کر سکتا تھا۔

بات مردوں کہ ہو تو مردوں سے ہی لڑائی ہونے چاہیے۔

مگر اُس نے مردوں کی لڑائی میں ان کی عزتوں ، عورتوں کو گھسیٹ کر بے حد بزدل اور نیچ حرکت کی تھی۔

اُنھوں نے ابھی یہ بات کسی کو بھی نہیں بتائی تھی۔

کِیُونکہ کچھ ہو یہ نہ ہو لوگوں نے بات بڑھا لینی تھی۔

بہرام نے تو ابھی تک گھر والوں کو بھی نہیں بتایا تھا کیونکہ وہ جلد ہی اُسے ڈھونڈ کر بات ختم کرنا چاہ رہا تھا۔

مگر وہ کہاں جانتا تھا قسمت کا کھیل۔۔۔۔

وہ آندھی طوفان بنے عبید خان کی حویلی میں داخل ہوئے تھے۔

تینوں نے ہے اپنے پسٹل ہاتھوں میں پکڑ رکھے تھے۔

اُن کے پیچھے اُن کے گارڈز کی فوج بھی موجود تھی۔

حویلی داخل ہوئے تو کوئی نظر نہیں آیا ارمان نے گارڈز کے ساتھ مل کے ساری حویلی چھان ماری تھی مگر کوئی ہوتا تو ملتا۔

وہ واپس گیٹ پر کھڑے چوکی دار کے پاس ائے ماہر نے جھٹکے سے اُس کا گریباں پکڑ کر اُسے جھنجھوڑا۔

“بتا میری بیوی کو یہاں لایا تھا عبید خان”

وہ انتہائی وحشت سے بولا تو چوکی دار نے اُس کی سرخ انکھوں میں دیکھا۔

اُس کی آنکھیں ہی بتا رہی تھیں کہ اگر اُس نے جھوٹ بولا تو ماہر خانزادہ اُسے راکھ کر دے گا۔

“صاب جی۔۔مجھے کچھ نہیں پتہ”

وہ نظریں جھکائے دونوں ہاتھ جوڑ کر بولا تو ماہر نے ریوالور اُس کی پیشانی اور رکھا۔

اُس نے ابھی ٹریگر پر انگلی رکھی ہی تھی کہ بہرام نے اُس کا ہاتھ تھام کر نیچا کیا۔

“ہمارا مقصد بے قصور لوگوں سے کسی اور کہ بدلہ لینا ہرگز نہیں ہے ماہر”

بہرام نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا تو ماہر نے چہرہ اس کی طرف کیا۔

بہرام اُس کی آنکھوں میں اذیت اور بے بسی دیکھ کے تڑپ ہی اٹھا تھا۔

“ماہر ہم ڈھونڈ لیں گے اُسے یار۔۔۔یقین رکھ مجھ پر میں اپنی بہن کو ایک آنچ بھی نہیں انے دوں گا”

وہ اطمینان سے بولا تو ماہر نے بغیر اُسے کچھ بھی کہے قدم اپنی گاڑی کی جانب بڑھائے تھے۔

“میرے خیال میں ہمیں بابا لوگوں کو بتا دینا چائیے”

ارمان نے آگے آ کر سنجیدگی سے کہا تو اُس نے فکر مندی سے اسے دیکھا۔

“ماما ،تائی ، سیرت اور مرحا ان میں سے کسی ایک کا نام بھی بتا دو جو تمہیں لگتا ہو یہ بات برداشت کر لیں گی۔میں جانتا ہوں یہ سب نہیں برداشت کر پائیں گیں یہ خبر۔ ابھی مشکل سے وہ تمہاری دفعہ والی ٹریجڈی بھولی ہیں اب یہ نئی مصیبت اُنہیں بتانے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں”

بہرام آنکھیں میچتا اذیت سے بولا تو ارمان نے سر ہلایا۔

“اب پتہ یہ کہاں گئے ہیں “

ارمان کا اشارہ ماہر کی طرف تھا جو اب وہاں سے غائب ہو چکا تھا۔

“ہممم۔۔۔چلو ڈیرے پر چلتے ہیں اسے میں کال کر کے بلاتا ہوں، تم حارث کو بھی بلوا لو”

بہرام کہتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تو ارمان نے بھی قدم اپنی گاڑی کی طرف بڑھائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حارث ڈیرے پر آ چکا تھا۔

ارمان نے تمام ملازموں کو وہاں سے جانے کا بول دیا تاکہ بات کسی تک بھی مت پہنچے۔

ماہر بھی جلتا بھنتا یہیں موجود تھا۔

ابھی وہ لوگ آگے کا سوچ رہے تھے جب بہرام کا فون رنگ ہوا۔

سیرت کال کر رہی تھی یعنی وہ سب ہے اُس کے ابھی تک نہ پہنچنے پر پریشان تھیں۔

اس دفعہ بہرام کال کاٹ نہیں سکا تھا اب اُنہیں کوئی جھوٹی ہی صحیح تسلی دینی تو تھی ناں۔

وہ آہستہ سے اٹھ کر باہر برآمدے میں آیا اور سیل کان سے لگایا۔

“بہرام پلوشے نہیں ائی ابھی تک۔۔۔آپ کال بھی بھی اٹھا رہے سب بہت پریشان ہیں۔ کہاں رہ گئے ہیں آپ اُسے ڈراپ کیوں نہیں کیا ابھی تک”

سیرت کی بے چین آواز اسپیکر میں گونجی تو بہرام کو نئے سرے سے تکلیف ہوئی۔

“ہاں وہ میں۔۔۔ انفارم کرنا بھول گیا آپ لوگوں کو دراصل اُس کی کسی فرینڈ کی برتھ ڈے تھی تو وہ اُس کے ساتھ اُس کے گھر چلی گئی ہے۔۔۔شام تک میں آفیس سے واپسی پر لے آؤں گا اسے تم پریشان مت ہو”

اُس نے پل میں ہی جھوٹ بنا کر گھڑا تو سیرت کو تسلی ہوئی اُس نے جو بہتر کہہ کر فون رکھ دیا تھا۔

بہرام سیل آف کرتا دوبارہ اندر آیا تو ارمان سختی سے چیخ رہا تھا۔

“پچھلے دفعہ ہی تم مجھے اُس کے بھیجا گولیوں سے چھلنی کر لینے دیتے تو آج ہمیں یہ دن مت دیکھنا پڑتا۔۔۔تم سب بھی ریلیکس ہونے کا کہہ رہے ہی ہمیں ہاں ؟؟؟”

وہ حارث پر چیخا تو بہرام نے اُس کی طرف دیکھا۔

“اگر تم دونوں یُونہی پاگلوں کی طرح لڑنے میں لگے رہو گے تو یقیناً وہ مل جائے گی وہ بھی بہت جلد”

وہ ماہر اور ارمان اور طنز کرتا بولا تو ماہر نے خون چھلکاتی نظروں سے اسے گھورا۔

“میں عبید خان کی ذاتی حویلی جا رہا ہوں۔۔۔اور تم تینوں میں سے کوئی مجھے روکے گا نہیں”

ماہر کھڑا ہوتا بولا تو بہرام کا دل کیا سر دیوار میں دے مارے۔

“کوئی ضرورت نہیں ہے ایسی نیچ اور گھٹیا حرکت کرنے کی ہم خانزادے کبھی اتنا نہیں گر سکتے کے لڑائی کرنے اُس کے گھر جا پہنچیں کل کو وہ بدلہ لینے ہماری حویلی آ گیا تو کیا عزت رہ جائے گی ہماری ہاں ؟”

بہرام سخت سنجیدگی سے بولا۔

“اور یہ تمیز کے زمرے میں آتا ہے کہ وہ میری بیوی ہماری عزت کو اٹھا کر کہیں لے گیا اور ہم اُسے ڈھونڈ بھی نہیں سکتے”

ماہر اُس کی آنکھوں میں دیکھتا طنزیہ بولا تو بہرام اُس کے قریب آیا۔

اُس کا بازو پکڑ کے اُسے واپس بیٹھایا اور خود بھی ساتھ بیٹھا۔

“حارث جتنی جلدی ہو سکتا ہے اُسے ٹریس کرواؤ۔ اُس کا ایک رات بھی باہر رہنا ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے”

بہرام کی بات اور حارث نے سر ہلایا اور اٹھ کھڑا ہوا۔

“تم لوگ فکر مت کرو آج رات سے پہلے پہلے میں اُسے ڈھونڈ لوں گا”

حارث نے اُنہیں تسلی دی اور خدا حافظ بولتا باہر نکلا تھا۔

“سب کو کس کہا تم نے ؟”

ماہر کے سوال پر بہرام اُس کی طرف متوجہ ہوا۔

“یہی کہ کے دوست کی برتھ ڈے پارٹی میں گئی ہے شام تک لے آؤں گا”

بہرام ماتھے کو دو انگلیوں سے سہلاتا بولا تو ماہر نے سر ہلایا۔

“آ جاؤ حویلی لنچ نہیں کیا کسی نے تم بھی کر لو”

بہرام اٹھتا بولا تو ماہر نے نفی میں سر کو جنبیش دی۔

“مجھ سے نہیں کیا جائے گا لنچ میں اپنی حویلی جا رہا ہوں۔ پانچ بجے تک تم لوگ آ جانا”

وہ بھی کہتا اٹھا اور اپنی شال اٹھا کر ہاتھ میں ہی رہنے دی تھی۔

وہ آہستہ سے باہر کی طرف نکلا تو اُن دونوں نے فکرمندی سے پہلے اُسے پھر ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“واہ بابا سائيں کیا مال ہے”

عبید خان کے بیٹے قیصر نے جب سے پلوشے کو دیکھا تھا اُس کی رال تب سے ہی ٹپک رہی تھی۔

اب وہ اپنے باپ کے پاس آیا تھا۔

تاکہ اُس مومی مجسمے کے ساتھ ایک رات گزارنے کی اجازت لے سکے۔

“خبر دار جو اُسے ہاتھ بھی لگایا۔۔۔خانزادوں کی چھوکری ہے سالی تو نے اُس کے بارے میں ایسا سوچا بھی تو تیری بوٹیاں کر دیں گے وہ”

عبید خان نے زہر خند لہجے میں کہا۔

“قیصر خان کوئی ڈرتا ورتا نہیں ہے اُن خانزادوں سے بس اب میرا دل اس چڑیا پر آ گیا ہے تو مجھے اپنی رات اس کے ساتھ رنگین کرنے سے آپ بھی نہیں روک سکتے”

وہ خباثت اور ڈھٹائی سے بولا تو عبید خان نے غصے سے اسے دیکھا۔

“بکواس بند کرو تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔۔۔اچھے سے اچھا مال لا دے گا دلاورہ تمہیں پر اس کو چھوڑ دو”

عبید خان نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے اسے سمجھایا تھا۔

مگر اب تک وہ جو عادی ہو چکا تھا حسن کو خراج بخشنے کا۔

اسی طرح کی کمسن پریاں ہی تو پسند تھیں قیصر خان کو جب وہ اُن پر اپنی درندگی نچھاور کرتا تب ہے اسے سکون حاصل ہوتا تھا۔

وہ جانتا تھا ایک دفعہ اس کے باپ کے منع کیا ہے تو وہ اب نہیں مانے گا۔

مگر یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ وہ صرف اپنے باپ کی خاطر اپنے نیچ جذبوں کو آگ میں جھونک دیتا۔

“اگر کرنا ہی کچھ نہیں تھا تو اسے لائے کیوں”

اُس نے بے زاری سے سوال کیا تو عبید خان کا مكرو قہقہ گونجا تھا۔

“ایک رات صرف ایک رات میں ہی لڑکی کی گمشدگی تہلکہ مچا دیتی ہے۔۔۔۔۔جب کل صبح یہ اپنے گاؤں کے لوگوں کو کچرے کے ڈھیر میں اُجڑی حالت میں ملے گی تب اصل جنازہ اٹھے گا خانزادوں کی عزت کا۔۔ہاہاہا”

عبید خان نے اُسے اپنے خبیث ارادوں سے آگاہ کیا تو قیصر خان بھی کمینگی سے مسکرایا تھا۔

اُسے بھی کہاں برداشت تھی بہرام ، ارمان اور ماہر خانزادہ کی اس قدر عزت و اہمیت۔

“واہ بابا سائيں کیا دماغ لڑایا ہے آپ نے”

اُس کی تعریف پر عبید خان نے مونچھوں کو بل دیا اور پھر اسے دیکھا۔

“میں ذرا حویلی جا رہا ہوں تاکہ کسی کو شک نہیں ہو۔۔۔تم بھی چلو میرے ساتھ میں تمہیں اکیلا یہاں چھوڑ کر نہیں جا سکتا جوان جہاں خون ہے کچھ کر ہی نا بیٹھو”

عبید خان کی بات پر قیصر گڑبڑايا۔

“بابا سائیں میں نہیں آ سکتا ابھی حویلی میرے کچھ یار آ رہے ہیں ادھر۔ آپ اعتبار رکھیں مجھ پر کچھ غلط نہیں کروں گا۔”

اُس نے سنجیدگی سے کہا تو عبید خان نے سر ہلایا۔

“چل ٹھیک ہے پھر میں نکلا ہُوں۔ رات تک تم بھی آ جانا”

عبید خان کہتا ہوا کمرے سے نکلا تو وہ خباثت سے مسکرایا تھا۔

بھلا وہ پاگل تھا جو رات تک حویلی جاتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُس کی آنکھ کھلی تو خود کو ایک کرسی پر بندھے پایا۔

ہاتھوں اور کمر میں شدید تکلیف ہو رہی تھی۔

اُس نے اٹھنے کی کوشش کی مگر اُسکی دونوں ٹانگیں اور ہاتھ کرسی سے مضبوطی سے بندھے تھے۔

اُس نے دماغ پر زور ڈالا تو اُسے آج کا واقعی یاد آیا تھا۔

کیسے اُس گاڑی سے دو آدمی نکلے پھر اُنھوں میں اسے گاڑی میں ڈالا اور اس کے بعد اس کے منہ کو کسی نرم چیز سے ڈھانپ دیا۔

اس کے بعد اسے کچھ یاد نہیں تھا۔

کیا وہ کیڈنيپ کی جا چکی تھی ؟

مگر کیوں ؟

حویلی میں سب کیا سوچ رہے ہوں گے ؟ کیا کر رہے ہیں گے؟

کیا سب اسے ڈھونڈ رہے ہیں گے ؟

اُس کا سے اس قدر بھاری تھا کہ اُسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔

یہ ایک سٹور روم تھا شاید ہر طرف کچھ ڈبے سے پڑے تھے کمرے میں بس ایک ہی کرسی تھی جس پر وہ موجود تھی۔

اُس کا دوپٹا بھی شاید کہیں گر چکا تھا اور کھینچنے گھسیٹنے کے باعث آستین بھی کندھے سے پھٹ چکی تھی۔

پلوشے کا دل کیا ڈھاڑیں مار مار کر روئے۔

وہ جانتی تھی معاشرے میں لڑکی کی گمشدگی کا کیا مطلب لیا جاتا تھا۔

وہ تو یہ تک نہیں جانتی تھی وہ ہے کہاں ؟ اُسے یہاں لایا کون ؟ کا مقصد سے ؟

وہ کبھی اکیلی حویلی سے باہر نہیں نکلی تھی۔

اُسے تو کبھی معاشرے کی سرد و گرم نے چھوا تک نہ تھا۔

تو آج کیوں اُس کے ساتھ ایسا ہوا۔

جانے یہ لوگ اسے قتل کر دیں یا پھر کچھ بھی جو وہ چاہیں۔

اُس کی آنکھوں سے اب بے بس آنسو بہتے اُس کے کندھوں کو بھگو رہے تھے۔

کمرے میں کہیں گھڑی بھی موجود نہیں تھی کہ وہ وقت کا اندازہ ہے لگا سکتی۔

اُس کا موبائل بھی شاید اُن لوگوں کے قبضے میں ہو گا۔

وہ کیا کرے کس کو پکارے؟ کیسے نکلے اس مصیبت سے۔۔۔

اچانک کمرے کا دروازہ کھلا تو اُس نے جلدی سے اُس طرف دیکھا تھا کہ ممکن ہے کسی نے اسے ڈھونڈ لیا ہو۔

مگر سامنے ایک انجان لڑکے کو دیکھ کر اُس کی سانس اٹکی تھی۔

وہ آنکھوں میں شیطانیت لیے اس کے وجود کو گھور رہا تھا۔

پلوشے کو اس کی نظروں سے الجھن ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ اس سے خوف محسوس ہوا تھا۔

وہ اب آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس تک سا رہا تھا۔

“آپ جو کوئی بھی۔۔ہیں پلیز مجھے۔۔۔جانے دیں۔۔میں نے۔۔کیا بگاڑا۔۔۔ہے آپ کا۔۔۔پلیز۔۔مجھے میری۔۔حویلی چھوڑ۔۔۔ائیں”

وہ لڑکھڑاتی ہوئی بے چینی سے بولی تو سامنے والا مسکرایا تھا۔

اُس نے ایک بلند قہقہہ لگایا اور اس کے بلکل نزدیک آ کر رک گیا۔

“اتنی بھی کیا جلدی ہے میری بلبل کو۔۔۔۔کچھ مجھ غریب کو بھی اپنا دیدار بخش”

قیصر خان گندگی بھرے لہجے میں بولا تو اُس کا سانس حلق میں اٹکا تھا۔

یعنی یہاں اُس کی عزت بھی محفوظ نہیں تھی۔

قیصر خان نے آہستہ سے نیچے جھک کر اُس کی ٹانگوں سے رسی کھولی اور بے باکی سے اُس کی شفاف پنڈلیوں پر انگلیاں پھیرنے لگا۔

پلوشے نے اُس کے گندے لمس پر تڑپ کر اپنی ٹانگیں سمیٹی تھیں۔

اُس کی احتیاطی تدبیر پر قیصر خان نے منہوس سا قہقہ لگایا تو اُس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر گرے تھے۔

اُس نے تو کبھی سوچا تک نہ تھا کے اسے کبھی یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔

“او ہو اتنا پھڑپھڑآنے کی ضرورت نہیں میری چڑیا۔۔۔آج کی ساری رات اسی لمس کو تو اپنے اس خوبصورت جسم پر سہنا ہے تمہیں”

اُس کی بات پر پلوشے نے نفرت سے اسے دیکھا تھا جو اب اس کے ہاتھوں سے رسی کھول چکا تھا۔

وہ جانتی تھی اُس میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ آزاد ہونے کا باوجود بھی اُس مرد سے مقابلہ کر پائے۔

لیکن اپنی طاقت کے مطابق کوشش کرنا تو اُس کا جائزہ حق تھا ناں۔

قیصر نے اُس کا ہاتھ تھام کے کھڑا کیا۔

پلوشے کی نظر کھلے دروازے پر گئی تھی یعنی یہی موقع بہترین تھا۔

اُس نے ایک نظر اُس کو دیکھا جو اب اسے ہے دیکھنے میں محو تھا۔

اُس نے موقع کا فائدہ اٹھاتے اچانک ہی زور سے اُسے دھکا دیا وہ جانے کیسے مگر نیچے گر چکا تھا۔

ابھی وہ اٹھنے کی کوشش کرتا کے اُس نے لکڑی کی وہ کرسی اٹھا کر زور سے اُسے دے ماری تھی۔

اب اُس کے پاس کچھ سوچنے کا وقت نہیں تھا تو وہ تیزی سے کھلے دروازے سے باہر بھاگی۔

پیچھے قیصر خان کی گندی گالیاں اُس کے کانوں میں پڑتی رہی تھیں مگر وہ سب نظر انداز کیے بس بھاگتی جا رہی تھی۔

جب اچانک ہے وہ کسی سے ٹکرائی۔

اگلے شخص نے سختی سے اُس کے بازووں کو جکڑا تو اس دفعہ اُسے اپنا بچنا نا ممکن لگا تھا۔

“پلیز۔۔۔پلیز بھائی۔۔مجھے۔۔۔جانے ۔دیں۔۔آپ۔کو آپ کی۔۔۔بہن۔۔کا۔۔وسطہ ہے۔۔۔پلیز۔۔چھوڑدیں۔۔مجھے”

وہ اُس شخص کے اگے گڑگڑائی تھی مگر اُس ظالم نے اسے نہیں چھوڑا تھا۔

تبھی پیچھے سے قیصر خان بکتا جھکتا آتا دکھائی دیا تو اس کی جان لبوں پر آئی تھی۔

اُس نے قریب آتے سختی سے اس کے بالوں کو اپنے ہاتھ میں جکڑا اور اُسے گھسیٹ کر اندر کی جانب بڑھا۔

اُس نے خود کو اس درندے سے چھڑانے کی بہت کوشش کی تھی مگر اب کی بار اُس کی گرفت بے حد مضبوط تھی۔

وہ بغیر دوپٹے کے خود کو اُس کی گرفت میں دیکھ مرنے والی ہوئی تھی۔

اُس نے بالوں کو اتنی سختی سے پکڑا تھا کہ پلوشے کو اپنا سر سن ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔

قیصر خان اُسے ایک بیڈ روم میں لایا اور اُسے اندر دھکا دیتے دروازہ بند کرتا خود بھی اندر داخل ہوا۔

اُس کے بال اب بکھر کر کچھ کمر اور کچھ آگے کی طرف جھول رہے تھے۔

قیصر کو اپنی جانب قدم بڑھاتے دیکھ وہ پیچھے ہوتی چلی گئی۔

اُس نے اُس کے قریب پہنچ کر ایک زور دار تھپڑ اُس کی بائیں گال پر دے مارا۔

وہ نازک جان اپنا ضبط کھوتی نیچے گری۔

اب وہ ایک ہاتھ گال اور رکھا شدت سے تو رہی تھی۔

“تو نے مجھے یعنی قیصر خان کو چکما دینے کی کوشش کی ہے ناں۔۔۔اب دیکھ میں تیرا حشر کیا کرتا ہوں”

وہ چیختا ہوا اس تک بڑھا اور اُسے کندھوں سے جکڑ کر کھڑا کیا۔

اب اُسے بیڈ پر دھکا دیتے قیصر خان نے اپنا قمیض اُتارا تو وہ آنکھیں میچ چکی تھی۔

اُس کی مزاحمت جاری تھی مگر وہ درندہ صفت شخص ایک ٹانگ سے اس کے وجود کو لاک کیے ہوئی تھا۔

پلوشے کو لگا اگر اب وہ پیچھے نہیں ہوا تو وہ یہیں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔

اب وہ قمیض دور اچھالتا اُس پر اپنا وجود گراتا اُس کی جان قبض کرنے کے در پر تھا۔

اس نے دونوں ہاتھ پلوشے کے قمیض کے گلے پر رکھے تو اُس نے خوف سے زور زور سے چیخنا شروع کر دیا تھا۔

مگر اچانک ہی چرر کی آواز سے اُس کی قمیض درمیان سے دو حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔

اب اُس کا جسم اُس بے غیرت شخص کے سامنے تھا۔

جبکہ اُس کی چیخیں عروج پر تھیں۔

وہ ہاتھ پاؤں مارتی خود کو اُس سے چھوڑانے کی کوشش کر رہی تھی۔

ابھی قیصر خان نے چہرہ اُس کے سینے کے قریب کیا ہی تھا کہ اچانک دروازے اور فائر ہوا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *