Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 19,20)

Tere Liye by Ayat Fatima

“میں سوچ رہی تھی کہ سب کی ایک دعوت کر لیتے ہیں شادی سے پہلے۔۔۔سمرین لوگ بھی آ جائیں گے اور آویز کے گھر والوں کو بھی انوائٹ کر لیتے ہیں”

رات کو ازمیر خانزادہ بیڈ پر ٹیک لگائے کتاب کی ورک گردانی کرنے میں مشغول تھے۔

جب شائستہ بیگم اُن کے پاس بیٹھتی ہوئی بولیں۔

“خیال تو اچھا ہے”

وہ عینک اُتار کر سائڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولے۔

“تو اب آپ بتا دیں کب رکھوں”

اُن کے سوال پر ازمیر خانزادہ نے اُن کی طرف دیکھا۔

“پرسو کی رکھ لو کل سب کو انویٹیشن بھیج دینا”

وہ آہستہ سے بولے تو اُنھوں نے بھی سر ہلایا۔

“مجھے آویز نے بہت متاثر کیا ہے۔۔۔بہت ہی نیک اور اچھا بچا ہے۔ مہروش کو خوش دیکھتی ہُوں تو جی اٹھتی ہوں”

اُن کے لہجے میں بیٹی اور داماد کے لیے محبت ہی محبت تھی۔

“ہممم۔ واقعی بہت اچھا بچہ ہے ماشاللہ “

ازمیر خانزادہ نے بھی اُن کی بات کی تائید کی۔

“تیاریاں مکمل ہی گئیں شادی کیں؟”

ازمیر صاحب کے سوال پر شائستہ بیگم نے اثبات میں سر کو جنبش دی۔

“سب کچھ ہو گیا ہے بس بچیوں کی کچھ ہلکی پھلکی شاپنگ رہتی ہے۔ بس وہ ایک چکر لگا لیں بازار کا باقی سب کچھ تقریباً مکمل ہی ہے”

وہ جواب دیتیں تکیے پر سر رکھ کر آنکھیں موند گئیں تو ازمیر خانزادہ بھی لائٹ آف کرتے اپنی جگہ پر لیٹ گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب لڑکیاں لاؤنج میں بیٹھیں سیرت کے کپڑے سامنے رکھے اُن پر تبصرے کر رہی تھیں۔

نورین اور شائستہ بیگم بھی اُن کے پاس بیٹھیں مسکرا کر اُن کی باتیں سن رہی تھیں۔

مہروش آج نہیں آئی تھی تو پلوشے صبح سے ہی روحان کو یاد کر رہی تھی۔

شادی کے دن قریب پہنچنے کی وجہ سے مہروش روزانہ آ جاتی تھی کبھی صبح ٹائم نہ ملے تو وہ روحان کو سلا کر رات کو بھی کچھ دیر آ جایا کرتی۔

سیرت کا ان دنوں بہرام سے پردہ چل رہا تھا۔

کیونکہ یہ اُن کے خانزادہ کی روایت تھی کہ شادی سے کچھ دن پہلے لڑکا لڑکی کو مت دیکھے اس سے دلہن پر روپ نہیں آتا۔

“کیوں نا ہم سب رات کو کہیں باہر چلیں”

پلوشے خوشی سے چہک کر بولی تو نورین بیگم نے اُسے گھور کر دیکھا۔

“جی نہیں۔۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے کہیں باہر جانے کی۔ کل سب کی دعوت ہے یہاں اور پرسو سے ڈھولک رکھنی ہے”

نورین بیگم اُسے ڈپٹ کر بولیں تو اُس نے رونے والا منہ بنایا۔

“ماما پلیز جانے دیں ناں۔ شادی کے بعد تو سب مصروف ہو جائیں گے مجھے کسی نے پوچھنا ہی نہیں”

پلوشے منہ بسور کر بولی تو سیرت نے اُسے چونٹی کاٹی۔

“تو پھر تم بھی شادی کے لیے ہاں کر دو پھر تمھیں بھی سب پوچھیں گے”

مرحا نے شرارت سے کہا تو اُس نے سٹپٹا کر رخ کپڑوں کی طرف موڑا۔

“ویسے ماما آج جانے میں کیا حرج ہے جانے دیں نہ ہمیں ہم مہروش اور آویز لالا کو بھی کہہ دیتے ہیں سب مل کر جائیں گے”

مرحا کی اُس کا آئیڈیا اچھا لگا تھا۔

اس لیے وہ اب خود شائستہ بیگم کی طرف دیکھتی ہوئی اجازت طلب کرنے لگی۔

“بیٹا میں تو جانے دوں مگر بہرام اور سیرت کا شادی سے پہلے ملنا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔تمہارے بابا کو پتہ چلا تو وہ بھی ناراض ہوں گے”

شائستہ بیگم نے نرمی سے اُسے سمجھایا۔

“پلیز ماما۔۔۔بابا سے میں خود اجازت لے لوں گی”

مرحا لاڈ سے بولی تو اُنہوں نے ہی ہار مانتے سر ہلایا۔

“اگر وہ مان جائیں تو جاؤ میں کیوں رکوں گی پھر بھلا”

اُن کی بات پر تینوں ہی خوش ہوئیں۔

“میں مہروش کو کال کر کے بتاتی ہُوں”

پلوشے چہکتی ہوئی کمرے سے موبائل لینے گئی تھی۔

“جھلی ہے بلکل”

نورین بیگم پریشانی سے اُسے دیکھتے ہوئے بولیں تو سیرت مسکرا دی۔

“ابھی بچی ہے عمر کے ساتھ ساتھ مچور ہو جائے گی”

شائستہ بیگم نے مسکرا کر اُنہیں تسلی دیتے ہوئے کہا۔

“لگتا تو نہیں ہے۔۔۔اب آپ خود دیکھ لیں مرحا اور یہ ہم عمر ہیں لیکن مرحا کتنی ذمہدار ہے کیسے شوہر کو شقایت کا موقع ہی نہیں دیتی۔ اوپر سے علی بھائی کہتے ہیں اسے رخصت کر دیں۔ توبہ توبہ ناک کٹواے گی یہ لڑکی خاندان میں”

وہ افسوس سے نفی میں سر ہلاتی بولیں تو سیرت اور مرحا نے مسکراہٹ چھپائی تھی۔

“اچھا تم پریشان مت ہو وہ بھی اس کہ اپنا گھر ہو گا اور جب زمہ داری سر پر پڑتی ہے تو اچھے اچھے بھی سدھر جاتے ہیں”

شائستہ بیگم اُنہیں سمجھاتی ہوئی بولیں تو وہ بھی خاموش ہو گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آویز اٹھیں بھی آفیس نہیں جانا”

مہروش نے تیسری دفعہ اُسے آواز دی تھی۔

مگر وہ اٹھنے کا نام ہے نہیں لے رہا تھا۔

آخر تنگ آتے مہروش نے اُسے سویا ہی رہنے دیا اور خود بھی اپنی جگہ پر آ کر لیٹ گئی۔

اُس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی مگر آویز کے الارم کی آواز نے اُسے جگہ دیا تھا۔

اس لیے اُس نے اٹھ کر آویز کو جگانے کی کافی کوشش کی تھی مگر وہ نہیں اٹھ رہا تھا۔

تو وہ خود بھی دوبارہ سونے کے لیے لیٹ گئی۔

روحان رات کو لیٹ سوتا اور صبح لیٹ اٹھتا تھا تو مہروش کو اُس کی فکر بھی نہیں تھی۔

ابھی مہروش کو نیند ائے گھنٹہ بھر ہی ہوا تھا جب وہ کے کے ہلانے پر جھٹکے سے اٹھی۔

سامنے ہی آویز کو ہلکے غصے میں دیکھ کر اُس نے معاملہ سمجھنے کی کوشش کی تھی۔

آویز اب سخت نظروں سے اُسے گھور رہا تھا۔

مہروش اُس کی نظروں سے گھبراتی بالوں کو ہاتھوں سے سلجھانے لگی۔

“کیا ہوا ہے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں جیسے میں نے کوئی گناہ کر دیا ہو”

وہ بال ڈھیلے سے جوڑے میں لپیٹتی اُس کے سرخ چہرے اور شرٹ لیس سینے سے نظریں چراتی ہوئی بولی۔

“مہروش میری امپورٹنٹ میٹنگ تھی نو بجے جبکہ اب دس سے بھی اوپر ٹائم ہو تھا ہے”

آویز شدید غصے میں سخت مگر دبی دبی آواز میں چلایا۔

“تو اس میں میرا کیا قصور میں نے تو آپ کو جگایا تھا آپ خود ہی نہیں اٹھے تو میں بھی سو گئی”

وہ بمشکل نظریں جھکائے ہی بولی تو آویز نے خون خوار نظروں سے اُسے دیکھا۔

لیکن جب نظر اُس کے ہوش ربا سراپے پر گئی تو آویز کو نظریں ہٹانا مشکل لگا تھا۔

وہ جو دوپٹہ نہیں کیے ہوئے تھی اُس کی نظریں خود پر پاتے شرمندہ سی ہوئی۔

“اگر میں نہیں اٹھ رہا تھا تمہاری آواز سے تو الارم بند کرنے کا مقصد ؟ خود بھی سے گئی اور الارم بھی بند شاباش ہے آپ پر مادام”

آویز اُس سے نظریں ہٹاتا طنزیہ لہجے میں بولا۔

مہروش نے ایک نظر اُس اور ڈالی اور اچانک اُس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر کمبل میں جذب ہوئے تھے۔

کمزوری کے باعث اُس سے زرا سا غصّہ بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا۔

ایک تو غلطی آویز شاہ کی اپنی تھی اوپر سے ڈانٹ بھی اسے رہا تھا۔

“مم۔۔مجھ سے ۔۔بات نہیں ۔۔ک۔کریں”

وہ روتے ہوئی ٹوٹے پھوٹے الفاظ بولی تو آویز نے چونک کر اسے دیکھا۔

وہ نہیں جانتا تھا وہ ہلکی سی سختی پر ہی رونا شروع ہو جائے گی۔

“مہروش میری جان۔ ایم سوری یار تم یوں رو تو نہیں بے بی”

آویز اُس کے قریب ہوتا اُسے زبردستی خود سے لگاتا بولا تو مہروش نے ناراضگی سے اُس سے الگ ہونا چاہا تھا۔

“میں۔۔نے جگایا۔۔۔بھی۔۔تھا۔۔آپ۔۔کو آپ خود۔۔بھی اٹھے”

وہ دکھی سے لہجے میں بچوں کی طرح بولی تھی۔

آویز جانتا تھا اُس کا ڈانٹنا تو بس بہانہ بنا ہے نہیں تو وہ صرف ویکنس کی وجہ سے رو رہی تھی۔

“اچھا سوری ناں ڈرلنگ۔۔۔مجھے پتہ ہے میری ہی غلطی ہے میں خود اٹھا بھی نہیں اور تمہیں ڈانٹ بھی دیا ایم ریلی سوری”

آویز اُس کی کمر سہلاتا بولا تو مہروش تھوڑی سمبھلی تھی۔

“اٹس اوکے”

وہ اپنے آنسو صاف کرتی بولی۔

“ناشتہ منگوا دوں ؟”

آویز نے اُس کی حالت کے باعث سوال کیا تو مہروش نے بھی اپنی بھوک کا خیال کرتے سر ہلایا۔

اس نے رابعہ شاہ کو کال کر کے ہيلدی سا ناشتہ بنوا کر بھجوانے کا کہا۔

پھر کال کاٹ کر مہروش کو اپنے حصار میں لیا۔

“بہت روندو سا ہو گیا ہے میرا بے بی ہے ناں؟”

آویز اُس کے بال پیچھے سمیٹتے محبت سے اُس کا چہرہ تکتے بولا تو مہروش نے اُسے گھورا۔

“میں کب روندو ہوئی۔۔۔میں تو بلکل نہیں روتی۔ يہ تو آپ نے بلاوجہ ڈانٹا اس لیے تھوڑا سا روئی”

وہ اُس کے سینے پر ہاتھ رکھتی بولی تو آویز نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلاتے اپنی جان بخشی کروائی تھی۔

“اب آفیس نہیں جانا آپ نے ؟”

وہ اُس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتی اُس کے سینے پر تھوڑی رکھے اُس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔

آویز شاہ تو اُس کی قربت پر پاگل سا ہوا۔

“نہیں اب میں کچھ دیر اپنی بیوی کے ساتھ ٹائم سپینڈ کروں گا”

وہ بوجھل لہجے میں اُس کی طرف دیکھتا ہوا بولا تو مہروش کا سانس سوکھ سا گیا۔

“مم۔۔۔میں واشروم “

ابھی وہ مزید کچھ کہتی جب آویز شاہ اچانک اُس کے ادھ کھلے ہونٹوں پر جھکا تھا۔

اُس کے لمس میں آج ایسی تپشِ تھی کہ مہروش کو اپنے ہونٹ جلتے محسوس ہو رہے تھے۔

وہ اُس کی قربت میں پاگل ہوتی اُس کے شرٹ لیس سینے پر ناخن کھرچنے لگی تھی۔

مگر آویز شاہ اُس کی ہر قسم کی مزاحمت کو نظر انداز کرتا اپنی مرضی کر رہا تھا۔

جب اُسے محسوس ہوا کہ مہروش کی سانسیں بند ہو رہی ہیں تب اُس نے نرمی سے اُس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں سے جدا کیے تھے۔

اُس کے الگ ہوتے ہے مہروش نڈھال سے ہوتی اُس کے سینے پر سر رکھ گئی تھی۔

آویز اُس کی سانسیں بحال کرنے کی خاطر اُس کی کمر کو ہاتھ سے تھپتھپانے لگا۔

“مہر ریلیکس۔۔۔لمبی لمبی سانسیں لو”

آویز سٹیل اُسے تڑپتے دیکھ کر اُس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرتے بولا تھا۔

“مج۔۔مجھے۔۔۔سانس۔۔نن۔۔نہیں”

وہ اُس کے کندھوں پر مکے مارتی بولی تو آویز نے پل میں ہی دوبارہ اُس کے ہونٹوں پر اپنے گرفت ڈالی تھی۔

اب وہ اپنی سانسیں تیزی سے اُس کی سانسوں میں منتقل کرتا اُسے پرسکون کرنا چاہ رہا تھا۔

مہروش بھی آہستہ آہستہ لمبے سند لیتی اُس کی سانسیں خود میں انڈیل رہی تھی۔

جب اُسے اپنی سانسیں چلتی محسوس ہوئیں تو وہ پیچھے ہوئی۔

نظریں شرم کی وجہ سے جھکا رکھی تھیں۔

آویز کی نظر اب اُس کی پلکوں کے پر کشش رقص پر تھی۔

وہ کانپتی ہوئیں آویز شاہ کو شدت سے اپنی جانب متوجہ کرنے لگیں تو آویز نے اب کی بار مہروش کو کندھوں سے تھام کر تکیے پر لٹایا۔

“کیا۔۔ہو گیا۔۔ہے۔۔۔آپ کو”

وہ اُس کی سرخ نظروں میں دیکھ کر بولی۔

“یہ بات تو مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہی”

آویز آہستہ سے بولا تو مہروش نے شرمآ کر نظریں پھر سے جھکا لیں۔

وہ دوبارہ اُس پر جھکتے اب کی بار اُس کی گھنی پلکوں کو اپنے ہونٹوں میں لے گیا تھا۔

مہروش اُس کے تیور بدلتے دیکھ گھبرا سی گئی تھی۔

“وائے آر یو سو پریٹی یار!!!”

آویز بے بسی سے بولا تو وہ سرخ ہو گئی تھی۔

“مجھ سے ۔۔۔ایسی۔۔باتیں مت کیا۔کریں۔۔مجھے۔۔شرم آتی ہے”

وہ چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپاتی شرماتی ہوئی بولی تو آویز نے مسکرا کر اُس کی معصوم حرکت دیکھی۔

اُس نے آہستہ سے مہروش کے ہاتھ تھام کر اُس کے چہرے سے ہٹائے۔

“اوہ کتنا شرمیلا ہے میرا بے بی۔۔۔فل کرتا ہے ابھی”

وہ بات مکمل بھی نہیں کر پایا تھا جب مہروش نے اُس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اُسے بولنے سے روکا۔

“آپ مجھے کیوں تنگ کر۔۔رہے ہیں۔۔۔اور یہ مجھے بے بی بھی مت کہا کریں۔۔۔میں کوئی بے بی نہیں ہوں”

وہ ناراضگی سے منہ پھلاتی ہوئی بولی۔

آویز نے جب اُس کے دہکتے ہوئے رخصار دیکھے تو وہ اچانک اُن پر لب رکھ گیا۔

اُس کی بیرڈ چبھنے کی وجہ سے وہ مزید سرخ ہوئی تھی۔

“کیا ہے آپ کو۔۔۔ہٹیں۔۔مجھے نیچے جانا۔۔ہے”

وہ اُسے پیچھے کرتی بغیر اُس کی طرف دیکھے کمبل ہٹاتے اٹھنے لگی تھی۔

تبھی دروازے پر دستک دے کر ملازمہ ناشتے کی ٹرالی گھسیٹتے اندر لائی۔

اُس کی نظر جب آویز پر پڑی تو وہ سٹپٹا کر نظریں جھکا گئی تھی۔

کیونکہ وہ ابھی بھی شرٹ نہیں پہنے ہوئے تھا۔

مہروش نے جب آویز کو دیکھا تو وہ غصے سے اُس تک ائی۔

اُسے غصے سے گھورتے اب وہ اصلی بيوی کے روپ میں آ چکی تھی۔

اُس نے کمبل اٹھا کر غصے سے آویز کے گرد لپیٹا تو اُس نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

“تھوڑا سا تو شرم ہوتا ہی ہے ہر انسان میں”

اُس کی بات پر آویز نے اُسے آنکھ مارتے نفی میں سر ہلایا تو اُسے مزید تپ چڑھی تھی۔

ملازمہ بغیر اُن پر ایک نظر بھی ڈالے کھانا ٹیبل پر سیٹ کرتی کمرے سے نکل گئی تھی۔

“اب اٹھیں ناشتہ کر لیں”

مہروش کمبل لپیٹ کر ترتیب سے رکھتی بولی تو وہ بھی سنجیدگی سے اٹھ کر صوفے پر آ بیٹھا۔

مہروش اب کمرے کا پھیلاوا سميٹنے میں لگی تھی اور آویز شاہ ضبط سے اُسے دیکھ رہا تھا۔

“شاید یہ ناشتہ میں نے ہم دونوں !! کے لیے منگوایا تھا۔ نہ کے صرف اپنے لیے”

آویز دونوں پر زور دیتا سختی سے بولا تو مہروش نے اُس کی فائلز ترتیب سے رکھتے مڑ کر اسے دیکھا۔

مگر اُس کے سرد تاثرات دیکھتے وہ بے چین ہوئی۔

یہی رویہ تو وہ برداشت نہیں کر پاتی تھی آویز کا۔

جب بھی وہ غصے میں ہوتا مہروش اُس کے آگے بول بھی نہیں پاتی تھی۔

اب بھی اُس نے سہم کر اسے دیکھا جو انتہائی جارحانہ تیور لیے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔

“میں۔۔۔بس۔۔آ۔۔ہی۔۔رہی تھی”

وہ نظریں جھکائے بمشکل ہی بولی۔

“مہروش میں تمہیں ہزار مرتبہ منع کر چکا ہوں کہ کسی کام کو ہاتھ مت لگایا کرو۔۔۔لیکن تم کیوں اس قدر بیوقوف ہو کہ پھر بھی انہیں کاموں میں لگی ہو”

آویز شدید غصے میں دھاڑا تو وہ ہونٹ کاٹنے لگی تھی۔

“چیزوں۔۔۔کو ایک۔۔جگہ۔۔سے۔۔اٹھا۔۔کر۔۔۔دوسری۔۔جگہ۔۔رکھنا۔۔کوئی۔۔کام۔۔تو۔۔نہیں۔ہ۔۔ہوتا”

وہ ہلکی آواز میں منمنائی۔

لیکن آویز میں جب کوئی جواب نہیں دیا تو وہ بھاری قدم اٹھاتے آرام سے اُس کے پاس بیٹھی۔

ایک نظر اُٹھا کر اُس کے چہرے پر ڈالی جو سنجیدگی سے ناشتہ شروع کر چکا تھا۔

“سوری۔۔۔آئندہ کوئی کام ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔کروں۔گی”

وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی تھی کیونکہ جانتی تھی آویز شاہ اسے روتے نہیں دیکھ سکتا۔

آویز نے خاموشی سے ایک نوالہ بنا کر اُس کے ہونٹوں کے پاس کیا تو مہروش نے آہستہ سے ہونٹ کھولے۔

یوں وہ خاموشی سے ساتھ ساتھ اُسے بھی ناشتہ کروانے لگا۔

“بس۔۔”

مہروش سے جب مزید کھانا دوبھر ہوا تو وہ ہمت کرتی بولی۔

اُس نے بغیر اس کی طرف دیکھے ٹشو باکس سے ایک ٹشو نکال کر ہاتھ صاف کیے۔

پھر الماری سے کپڑے لیتا واشروم کی طرف بڑھ گیا۔

ابھی مہروش آنسو بہانا شروع کرتی کہ اُس کا سیل چنگھاڑا تھا۔

وہ جھنجلا کر بیڈ کے پاس آئی اور بیڈ سے فون اٹھایا تو پلوشے کا نام جگمگا رہا تھا۔

مہروش نے کال اٹینڈ کر کے فون کان سے لگایا اور خود وہیں بیڈ کے ایک کونے میں بیٹھ گئی۔

“ہیلو”

وہ بمشکل ہی خود کو رونے سے بعض رکھ رہی تھی۔

وہ اُس کے سامنے تو کر اپنی فیملی کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔

“ہیلو مہروش ہم نے رات کو اسلامباد جانے کا پروگرام بنایا ہے۔ تم اور آویز بھائی بھی تیار رہنا سب مل کر چلیں گے اور ہاں سب سے اہم بات میرے حانو کی بھی ساتھ لانا۔ بلکہ اُسے میں اپنے ساتھ لے جاؤں گی”

وہ پر جوشی سے بولی تو مہروش نم آنکھوں سے بھی مسکرا دی۔

“اور کچھ بھی کہنا ہے کیا ؟”

مہروش شرارت سے بولی تو اُدھر پلوشے نے قہقہہ لگایا تھا۔

“نہیں بس تمہاری ماما تم سے بات کرنا چاہ رہی ہیں تو اُن سے بات کر لو”

پلوشے ہنستے ہوئے موبائل شائستہ بیگم کو پکڑا گئی۔

“کیسی ہے میری بیٹی ؟”

شائستہ بیگم محبت سے بولیں تو اُس کی آنکھیں واشروم کے بند دروازے کو دیکھتے بھیگی تھیں۔

“ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں ؟”

وہ آہستہ سے بولی۔

“میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔بیٹا دراصل مجھے یہ کہنا ہے کہ کل شام تم سب کی دعوت ہے حویلی میں نے سوچا بتا دوں تمہیں ویسے تمہارے بابا آویز کو کال کر دیں گے”

شائستہ بیگم نے اُسے دعوت کے بارے میں بتایا۔

“جی ٹھیک ہے میں بھی آویز کو بتا دوں گی”

وہ سنجیدگی سے بولی پھر چند باتوں کے بعد اُس نے موبائل سائڈ پر رکھا اور اٹھ کر ڈریسنگ کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

اُس نے آہستہ سے بالوں میں برش پھیرنا شروع کیا ہی تھا کہ آویز وائٹ جینز اور گرے شرٹ پر بلیک پتلی سی جیکٹ پہنے بالوں میں تولیہ رگڑتا باہر آیا۔

مہروش ایک نظر اُسے دیکھتی دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گئی۔

“بابا نے آپ سے کوئی بات کرنے ہے۔ اُن کی کال ائے تو پک کر لیجئے گا “

وہ سنجیدگی سے بولی۔

آویز نے اُس کے بلکل پیچھے کھڑے ہوتے اچانک اُس کا ہاتھ تھاما۔

مہروش شیشے میں اُس کا عکس دیکھتی اب اُس کے ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔

مگر جب آویز شاہ نے اُس کے ہاتھ سے ہیئر برش لے کر اُس کا ہاتھ چھوڑا تو مہروش کا اندر چھناک سے کچھ ٹوٹا تھا۔

اُس نے شقایتی نظروں سے آویز کو دیکھا تھا جو اب سٹائل سے اپنے بال بش کر رہا تھا۔

ابھی اُس کی آنکھوں میں آنسو بھرنا شروع ہوتے ہی کہ آویز نے جھٹکے سے برش رکھتے اُسے کھینچ کر خود میں چھپایا۔

مہروش اُس کی حرکت پر خوفزدہ ہوئی مگر پھر کچھ سمجھتی مسکرائی۔

“میں اور میر کسی دوست کی طرف جا رہے ہیں۔ عصر تک ہی واپسی ہو گی تم اپنا خیال رکھنا۔”

وہ محبت سے بولا تو مہروش نے اثبات میں سر ہلایا۔

آویز موبائل اور والیٹ لیتا باہر نکلا تو وہ بھی بال بنا کر دوپٹا اٹھاتی نیچے آئی تھی۔

تاکہ سب کے ساتھ وقت گزار سکے۔

اتنے دن تو مصروفیات کے سبب وہ ان سب کے پاس بیٹھ بھی نہیں سکی تھی۔

Episode 20

وہ سب خان ہاؤس کے گیٹ پر جمع تھے۔

چار گاڑیاں موجود تھیں۔

کافی سوچ بچار کے بعد فیصلہ یہ ہوا تھا کہ

بہرام کے ساتھ پلوشے اور روحان جائیں گے۔

ارمان کے ساتھ سیرت اور مرحا اسی طرح آویز کے ساتھ مہروش۔

جبکہ ماہر خانزادہ اکیلا اپنی گاڑی میں جا رہا تھا۔

آویز بھی وہیں موجود تھا فلحال اُس نے روحان کو اٹھا رکھا تھا۔

البتہ باقی سب اب گاڑیوں میں بیٹھنا شروع ہو گئے تھے۔

اُن کا ارادہ سینٹوریس سے کچھ شاپنگ کرنے کے بعد کسی اچھے سے ریسٹورانٹ سے کھانا کھانے کا تھا۔

“آویز لالا اب دے بھی دیں مجھے”

پلوشے آویز تک آتی جھنجلا کر بولی تھی جو روحان اسے دینے کا نام ہے نہیں لے رہا تھا۔

“اچھا بھئی یہ لو۔۔۔لیکن میرے بیٹے کا خیال رکھنا،ذرا سی بھی آنچ نہیں آنی چاہیے”

آویز ہنستے ہوئے انگلی اٹھا کر بولا تو وہ بھی مسکرا کر بہرام کی گاڑی میں آئی تھی۔

سب سے آگے بہرام کی گاڑی تھی پھر ارمان کی پھر ماہر اور آخر میں آویز شاہ۔

“کیا لینا ہے تم لوگوں نے ؟”

ارمان نے سنجیدگی سے سوال کیا تو مرحا اور سیرت نے اُس کی طرف دیکھا۔

“بس کچھ جویلری لینی ہے”

سیرت نے آہستہ سے جواب دیا اور کانوں میں ہینڈ فری لگاتے دروازے سے ٹیک لگاتی دونوں پاؤں اوپر کیے آنکھیں موند لی تھیں۔

وہ اُن دونوں کا بیچ ہڈی نہیں بننا چاہتی تھی اس لیے آنکھیں بھی بند کر لیں تاکہ وہ ڈسٹرب نا ہوں۔

“تم ذرا میرے ساتھ الگ میں آنا۔۔۔کچھ پرسنل شاپنگ کرنی ہے تمہاری”

ارمان کی بات پر مرحا نے حیرت سے مڑ کر اسے دیکھا۔

“میری کیا پرسنل شاپنگ ؟؟؟؟”

وہ حیرانگی سے بولی تو ارمان نے بمشکل مسکراہٹ چھپائی تھی۔

“یہی تمہاری کوئی اچھی سی نائٹیز ڈھونڈیں گے اور کیا”

ارمان نے بظاھر سنجیدگی سے کہا۔

مرحا نے پہلے پیچھے سیرت کی دیکھا اور شکر کا سانس لیا کہ اُس کے تاثرات بلکل ایسے نہیں تھے کے اُس نے کچھ سنا ہو۔

پھر وہ ارمان کی طرف پلٹی اور گھور کر اسے دیکھا۔

“تھوڑا سا تو لحاظ کر لیں اگر یہ سن لیتی تو۔۔”

وہ اسی شرم دلانے کی خاطر بولی۔

“سو وٹ۔۔۔لڑکیاں نائٹ ڈریس نہیں لیتیں تو کیا لڑکے لیتے ہیں جو اس کا سننا تمہیں اتنا پریشان کر رہا ہے”

اُس نے ہنستے ہوئی کہا تو مرحا خاموشی سے رخ شیشے کی طرف کے گئی۔

ارمان نے اُس کی حرکت پر تلملا کر فوراً اُس کا بازو پکڑتے اُسے سیدھا کر کے بیٹھایا تھا۔

“ڈونٹ شو می اٹیٹیوڈ”

ارمان دھونس جما کر سختی سے بولا تو مرحا نے برا سا منہ بنایا۔

“شاید ہم سب میں سے سب سے برا سفر میرا گزرنے والا ہے”

وہ افسوس سے بولی تو ارمان نے گھور کر اسے دیکھا۔

“تم کہو تو ابھی ہمارے سفر کو سب سے اچھا بنا دوں؟”

وہ معنی خیزی سے بولا تو مرحا سٹپٹا کر اُس سے نظریں پھیر گئی تھی۔

“آپ کو تو بس موقع چاہیے۔ جہاں موقع ملے اپنا ٹھرک پن جھاڑنا شروع کر دیتے ہیں”

وہ سامنے روڈ پر دیکھتی بولی تو ارمان مسکرایا۔

“تم موقع دیتی ہی کب ہو “

وہ ٹھنڈی آہ بھرتا بولا تو اُس نے خوش فہم نظروں سے اُسے دیکھا۔

“ہاں آپ نے تو کل رات بھی موقع مانگا تھا پر میں نے نہیں دیا ہے ناں”

وہ طنزیہ لہجے میں بولی تو ارمان نے اُسے دیکھا۔

“اب خیر اتنی بھی ہمت نہیں ہے تمھاری کہ مجھے انکار کر سکو”

آویز اُسے تنگ کرتے ہوئے بولا۔

“کیا ہے آپ کو۔۔۔۔”

وہ اُکتا کر بولی ابھی ارمان کوئی جواب دیتا کہ اُس کا سیل رنگ ہوا۔

وہ اب کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا اور مرحا باہر دیکھنے میں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“میں آج اپنی مرضی کا کھانا کھاؤں گی اور آپ مجھے نہیں روکیں گے”

مہروش آویز کی طرف دیکھتی ہوئی بولی جو آہستہ سے ڈرائیو کر رہا تھا۔

اُس کی بات پر آویز نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

“میں بھی اپنی مرضی کی سویٹ ڈش کھانا چاہتا ہوں۔ تم مجھے وہ کھلا دو پھر تم جو کہو گی میں تمہیں وہی کھلاؤں گا”

آویز اُس کی طرف دیکھتا بولا۔

“رہنے دیں آپ مت کھلائیے گا کچھ بھی۔ میں اپنے لالا کو کہوں گی وہ مجھے انکار نہیں کریں گے”

مہروش ناراضگی سے بولی تو آویز نے اُسے گھور کر دیکھا۔

“جو کھانا ہو گا تم مجھے کہو گی۔۔۔اور جب میں کسی چیز سے منع کریں تو کوئی بحث نہیں ہو گی۔ مجھے پبلک میں تمہیں ڈانٹنا ہرگز اچھا نہیں لگے گا”

آویز نے سنجیدگی سے کہا تو مہروش نے منہ بنایا تھا۔

“میں تو جیسے بندروں کی طرح ناچنے لگوں گی جو آپ کو ڈانٹنا پڑے گا”

وہ غصے سے بولی تبھی اچانک اُسے متلی سی ہوئی تھی۔

“آ۔۔آویز گاڑی۔روکیں۔۔۔جلدی”

اُس نے ہاتھ آویز کے بازو پر رکھ کر کہا جب کہ دوسرے ہاتھ سے منہ ڈھانپ رکھا تھا۔

آویز نے جلدی سے گاڑی ایک طرف روکی اور تیزی سے اتر کر اُس کی طرف آیا۔

مہروش اب سڑک سے کچھ فاصلے پر کچی جگہ پر بیٹھی وومٹ کر رہی تھی۔

اُس نے پریشانی سے اسے دیکھا تھا جس کی حالت ٹھیک ہو ہی نہیں رہی تھی۔

وہ وومٹ کرتی بمشکل ہی اٹھی تھی ایک الٹی سے ساری جان جیسے ختم سی ہو گئی تھی۔

اُسے اب شدید چکر آ رہے تھے حالانکہ اُس نے دونوں ٹائم کا کھانا بھی کھایا تھا اور دو دفعہ جوس بھی پیا تھا۔

کمزوری کی وجہ سے وہ گاڑی تک بھی نہیں آ پائی۔

آویز نے گاڑی سے پانی کی بوتل نکال کر اُسے تھمائی تو مہروش نے کولی کی۔

پھر منہ ہاتھ دھوتے دوسرے ہاتھ سے آویز کا ہاتھ تھام لیا۔

آویز نے ایک ہاتھ اُس کی کمر میں ڈالتے اُسے سہارا دیا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اُس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔

اُسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر وہ خود ڈرائیونگ سیٹ اور آیا۔

“لنچ کیا تھا ؟”

وہ فکر سے بولا تو مہروش جو سیٹ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی رخ اُس کی طرف کیا۔

“جی”

اُس کی آنکھوں میں وؤمٹ کی وجہ سے پانی آ چکا تھا۔

“میری جان!!!”

آویز نے جان پر زور دیا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اُس کا ہاتھ پکڑ کر سہلایا۔

“واپس چلیں ؟۔۔۔تم ریسٹ کرو۔ اس طبیعت میں تم سے نہیں چلا پھرا جائے گا”

اُس نے مہروش کی طرف پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔

“نہیں سب کیا سوچیں گے۔ اور اب یہاں تک آ ہی گئے ہیں تو واپس نہیں جاتے ناں۔ ہے سب تو چلتا رہے گا”

وہ دھیمی سی آواز میں بولی تھی۔

“آر یو شور؟”

اُس نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے سوال کیا تو مہروش نے تھوڑی مشقت کرتے اپنے ہونٹوں کو مسکراہٹ میں ڈھالا۔

“یس ایم شور”

وہ بولتی دوبارہ سیٹ کی بیک پر سر رکھ گئی تو آویز نے سر ہلاتے گاڑی سٹارٹ کی تھی۔

کچھ منٹ بعد اُس نے گاڑی ایک بیکری کے اگے روکی تو مہروش نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔

“میں تمہارے لیے جّوس لیتا آؤں تم یہیں بیٹھو”

وہ نرمی سے بولتا باہر نکلا اور کی سے کار لوک کر دی۔

تین منٹ ہی لگے ہوں گے جب وہ واپس آیا۔

اُس کے ہاتھ میں ایک شوپر تھا جس میں کافی سارے جوس ، چاکلیٹس اور بسکٹس تھے۔

مہروش نے ایک جوس کی بوتل اٹھا کر شاپر پیچھے والی سیٹ پر رکھا۔

اُس نے کھولنے کی کوشش کی مگر کچھ کمزوری اور کچھ دھکن سختی سے بند ہونے کی وجہ سے وہ ڈھکن کھول نہیں پائی تو بے بسی سے آویز کو دیکھا۔

“کیا ہوا؟”

اُس نے مہروش کی نظریں خود پر پا کر اُس کی طرف دیکھ کر سوال کیا۔

پھر نظر جوس کی ہوٹل پر گئی تو سمجھتے ہوئے اُس نے ایک ہاتھ سے سٹيرنگ پکڑتے دوسرے سے جوس اُس کے ہاتھ سے لیا۔

پھر ایک ہاتھ سے بوتل پکڑ کر دوسرے سے ڈھکن کھول کر مہروش کو دیا۔

“آپ بھی پی لیں”

اُس نے پہلے بوتل اُس کی طرف کی تو آویز نے نفی میں سر ہلایا۔

“تم پیو ، میں تمہارا جوس پیوں گا”

وہ معنی خیزی سے مسکرا کر بولا تو مہروش نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کیا۔

پھر اُن کا سارا سفر خاموشی سے گزرا تھا مہروش چاکلیٹ کھانے میں لگی رہی اور آویز ڈرائیونگ میں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ مال پہنچ چُکے تھے۔

مہروش نے پلوشے سے روحان لیا تو آویز نے اُسے آنکھیں دکھاتے روحان اُس سے لے لیا۔

کِیُونکہ ابھی اُس کا وزن اٹھانا ٹھیک نہیں تھا۔

مگر آویز شاہ کو خود ہی ان معاملات میں احتیاط کرنا پڑتی تھی کیونکہ وہ میڈم خود اپنا بلکل خیال نہیں رکھتی تھی۔

اب وہ چاروں ایک ساتھ پھر رہی تھیں۔

پیچھے وہ بھی اُن کے ساتھ چلنے کی کوشش کر رہے تھے مگر اب وہ ان چاروں کو بلکل فراموش کرتیں اپنی شاپنگ میں مگن تھیں۔

مہروش جب بھی کچھ لیتی آویز شاپنگ بیگ اُس سے لے لیتا۔

سیرت کو تو اب اُسے تنگ کرنے کا مزید موقع مل چکا تھا۔

“بڑا پیار ہے بھئی۔۔۔ہمارے شوہروں کو تو توفیق نہیں ہوئی کہ ہمارا بوجھ اُٹھا لیں لیکن آپ کی تو بڑی پروٹوکول ہے جی”

سیرت نے شرارت سے کہا تو مہروش نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

“میں ابھی لالا کو کہہ دیتی ہوں وہ تمہارا سارا بوجھ اُٹھا لیں گے”

مہروش نے اُسے چھیڑا تو سیرت کےرخسار دہک اٹھے۔

پھر سب ہے شاپنگ کرتی رہیں حالانکہ اُنھوں نے صرف کچھ جیولری لینی تھی مگر اب جو پسند آ رہا تھا سب خریدا جا رہا تھا۔

مہروش آویز اور روحان کے لیے بھی شاپنگ کر رہی تھی۔

آخر بہرام نے ہے اُکتا کر اُنہیں زبردستی مال سے نکالا تھا۔

اتنی دیر خریداری کے باوجود بھی سب اُنھوں نے منہ پھلا رکھے تھے۔

پھر وہ سب ایک ریسٹورنٹ پر ائے۔

مرحا اور ارمان ساتھ بیٹھے تھے پھر مرحا کی بائیں جانب سیرت اُس کے بعد پلوشے۔

دوسری طرف آویز پھر مہروش پھر بہرام اور آخر میں ماہر۔

روحان اب مہروش کی گود میں بٹھا چاکلیٹ کھا کم چہرہ زیادہ بگاڑ رہا تھا۔

سیرت بہرام کی نظریں مسلسل خود پر محسوس کرتی بلکل چہرہ جھکا گئی۔

بہرام نے ایک پاؤں سے اپنے دوسرے پاؤں کی پشاوری چپل کھول کر پاؤں سیرت کے ایک پیر پر رکھا۔

جبکہ نظریں اُس کے چہرے پر ہی جمی تھیں۔

اُس کا پاؤں اپنے پاؤں پر محسوس کرتے سیرت نے چونک کر اپنا پیر پیچھے کیا تو بہرام نے مسکراہٹ دبائی۔

“بس کر سے صدا کے ترسے ہوئے شخص اب نظریں ہٹا لے بچی سے”

ماہر نے كہنی اُس کے بازو پر مارتے کہا تو اس نے گھور کر اسے دیکھا۔

“جانی آئی انڈر سٹینڈ یور پین”

بہرام نے اُس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تو ماہر نے جوابی اسے گھورا۔

“سمجھتا تو ابھی تک کچھ کر چکا ہوتا میرا۔۔۔مگر تو تو ایسے بدلا ہے جیسے پچھلے جنم میں میں تیری سوتن رہا ہوں”

ماہر افسوس سے بولا تو بہرام مسکرا دیا۔

“اپنی جنگ خود لڑنا سیکھ میرے یار”

اُس کی بات پر ماہر نے رخ ہی اُس سے موڑ لیا تھا۔

“مجھے پیری پیری بائٹس کھانی ہیں”

جب ویٹر آرڈر لینے آیا تو سب نے ہی اپنی اپنی پسند کی ڈشز آرڈر کیں۔

مہروش آویز سے نظریں چراتی سب سے آخر میں بولی تو آویز نے چونک کر اسے دیکھا۔

اُسے اب سمجھ ائی تھی کہ وہ کب سے اپنی مرضی کے کھانے کی رٹ کیوں لگائے ہوئے تھی۔

ڈاکٹر نے اُسے کہا تھا کہ ابھی دو ، تین ماہ وہ اپنی صحت کا خاص خیال رکھے۔ کوشش کرے صرف ہيلدی چیزیں کھائے۔

زیادہ مرچوں والے اور باہر کے کھانے سے اجتناب کرے۔

آویز نے اسے دیکھا تبھی مہروش نے بھی اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا جہاں صاف وارننگ تھی۔

“اس کے علاوہ کچھ کھانا ہے تو کھاؤ نہیں تو اٹھو چلیں اب”

وہ سختی سے بولا تو مہروش کو سب کے سامنے سبکی کا احساس ہوا تھا۔

کم از کم وہ ویٹر کے سامنے تو آہستہ بولتا۔

“مجھے کچھ نہیں کھانا”

وہ نظریں جھکائے دھیمی سی آواز میں بولی تو آویز نے سر ہلایا۔

یہ دن میں تیسری دفعہ آویز شاہ نے اُس پر غصّہ کیا تھا۔

مہروش کی آنکھیں میں نمی آئی تو وہ چہرہ بلکل نیچے کرتی آنکھیں سب سے چھپا گئی۔

“اوکے آپ جائیں۔ بس یہی آرڈر ریڈی کر دیں”

آویز سنجیدگی سے ویٹر سے مخاطب ہوا تو ارمان نے غصے سے اسے دیکھا۔

وہ کچھ بولتا کہ بہرام نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ اُن اب کا تعلق پھر سے خراب ہو۔

یہ میاں بیوی کا آپسی معاملہ تھا وہ جیسے چاہیں حل کریں۔

مگر بہرام سے مہروش کی ناراضگی بھی نہیں دیکھی جاتی تھی۔

مہروش کے وجود کی کپکپاہٹ ہی سب پر عیاں کر رہی تھی کہ وہ رو رہی ہے۔

آویز اب بے نیازی سے موبائل میں لگا تھا وہ سب کے سامنے اُسے منانے یا چپ کروانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔

“بچے اس میں رونے کی کیا بات ہے آپ میرے ساتھ پاستا کھا لینا میری جان یا اس کے علاوہ جو بھی کھانے کا دل ہے مجھے بتاؤ میں اپنی گڑیا کو منگوا دیتا ہوں”

بہرام محبت سے اُس کے گرد بازو لپیٹتا بولا تو وہ مزید دکھی ہوئی۔

“مجھے کچھ نہیں کھانا”

وہ بھرائی آواز میں بولی تو سب لڑکیوں نے بھی فکر مندی سے اسے دیکھا تھا۔

“لالا میں واپسی پر آپ کے ساتھ حویلی چلوں گی”

وہ بغیر ایک نظر بھی آویز پر ڈالے بہرام کو دیکھتے ہوئے بولی تو اُس نے ہونٹوں کا کنارا دانتوں میں دباتے آویز کو دیکھا۔

جو اب موبائل ٹیبل پر پٹختا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

“کیوں جانا ہی تم نے ہاں؟”

آویز کی سرد آواز پر اُس کی آنکھوں سے مزید موتی ٹوٹ کر بے مول ہوئے۔

“میری مرضی۔ میں جہاں بھی جاؤں”

وہ ناراضگی سے بولی تھی مگر وہ اچانک ہی کرسی پیچھے کرتا اٹھا۔

پلوشے سے روحان کو لیا اور ایک نظر بھی اُن پر ڈالے بغیر ریسٹورنٹ سے باہر نکل گیا۔

پیچھے مہروش مزید رونے لگی تھی۔

سیرت جلدی سے آویز کی چھوڑی گئی کرسی پر ائی اور اُسے خود سے لگایا۔

“مہروش یار چپ کرو۔۔۔کیّوں اپنی حالت خراب کر رہی ہو۔ کیا ہو گیا ہے شوہر اور بیوی میں اتنا تو چلتا ہے یار”

وہ پیار سے اُس کا چہرہ صاف کرتی بولی مگر وہ بس روئے جا رہی تھی۔

“اچھا چندہ اٹھو ہم حویلی چلیں”

بہرام نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے کھڑا کیا تو وہ آنسو صاف کرتی اُس کے پاس کھڑی ہو گئی۔

“تم کھانا پیک کروا لو”

بہرام اسے حصار میں لیٹا ارمان سے مخاطب ہوا تو وہ سب بھی اٹھ کر باہر کی جانب آئے تھے۔

“میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں”۔

سیرت نے بہرام کو دیکھتے ہوئے کہا تو اُس نے سر ہلاتے اس کے لیے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا۔

وہ بھی آہستہ سے بیٹھ گئی مہروش بھی اُس کے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔

“مجھے بھی کوئی ضرورت نہیں ہے اُن کی۔ ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں وہ”

وہ سیرت کے کندھے پر سر رکھتی دکھی سے لہجے میں بولی تو سیرت نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا۔

“مہروش وہ صرف تمہاری طبیعت کے باعث تمہیں منع کر رہے تھے یار”

سیرت نے اُسے سمجھایا تھا۔

کِیُونکہ وہ سچ میں آویز شاہ سے بہت متاثر ہوئی تھی جس طرح اُس نے مہروش کا خیال رکھا تھا۔

بہرام بھی گاڑی میں آیا اور اُس نے گاڑی سٹارٹ کی تو وہ دونوں خاموش ہو گئی تھیں۔

“آپ لوگ پلیز حویلی میں کسی کو کچھ مت بتائیے گا۔ سب پریشان ہو جائیں گے”

مہروش کی بات پر دونوں نے سر ہلائے۔

“ویسے یہ کوئی لڑائی والی بات نہیں تھی گڑیا آپ کو اُسے سمجھنا چاہیے تھا”

بہرام نے نرمی سے کہا تو اُس نے ناراضگی سے چہرہ شیشے کی طرف کر لیا تھا۔

“کبھی وہ بھی تو میری بات مان لیا کریں۔۔۔میں ہمیشہ اُن کی ساری باتیں مانتی ہوں”

وہ پھر سے رونے والے ہوئی تو بہرام نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔

اب وہ اُسے کیسے سمجھاتا کہ اس دفعہ وہ غلط تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *