Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 15)

Tere Liye by Ayat Fatima

ماہر نے رات ایک بجے تک بمشکل ہی انتظار کیا تھا۔

تاکہ سب سو جائیں پھر وہ آرام و سکون سے دیدارِ یار کر سکے۔

ماہر آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔

بغیر زرا سی بھی آہٹ کیے اُس نے دروازہ بند کیا۔

سامنے ہی وہ کمبل سینے تک ڈالے بلکل سیدھی لیٹی تھی۔

ایک ہاتھ پیٹ پر رکھا تھا جبکہ دوسرا بیڈ پر ہی رکھا تھا۔

بال تکیے پر بکھرے ہوئی تھے۔

ماہر نے جب آخر میں نظر اُس کے چہرے پر ڈالی تو وہ اُس کی معصومیت میں کھو سا گیا۔

گول نرم و ملائم مکھڑا جس کی رنگت اس قدر صاف اور گُلابی تھی کہ بنده چھوتے ہوئے بھی احتیاط کرے۔

بھری بھری گالیں جن پر ہر وقت گلابی پن رہتا تھا۔ اونچی کھڑی ناک ، اور اُس کی آنکھیں تو بس سمندر تھیں جن میں ڈوب جانے کو دل کرتا تھا ، اُس کی آنکھیں تھیں تو بلیک مگر اُن میں بے تحاشا چمک تھی اب وہ بند تھیں تو کی گھنی پلکوں نے اُنہیں اپنے سائے میں چھپا رکھا تھا۔

اُس کی بھنویں بھی بہت شیپڈ تھیں حالانکہ اُنہیں کبھی تراشا نہیں گیا تھا مگر وہ قدرتی ہی گھنی اور برابر سی تھیں ایک بال بھی اپنی جگہ سے کہیں باہر نہیں نکلا ہوا تھا۔

آخر میں جب ماہر کی نظر اُس کے سرخ نرم ہونٹوں پر پڑی جو باریک مگر بھرے بھرے سے رہا کرتے تھے ماہر کا دل کیا اُن کی نرمی اپنے ہونٹوں سے محسوس کرے۔

ارمان آہستہ آہستہ قدم لیتا اس تک آیا۔

وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُس کے پاس لیٹ گیا تھا۔

اُس نے کروٹ پلوشے کی طرف لی اور ایک ہاتھ تکیے پر رکھتا تھوڑا اوپر ہوئے اُسے محبت سے دیکھنے لگا۔

“مائے پرنسز”

اُس کے لبوں سے یہی دو لفظ ادا ہوئے۔

ماہر نے جھک کر اُس کی پیشانی پر اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کی۔

یہ احساس اس کے لیے بے حد انوکھا اور اچھوتا تھا۔

اُس کی بیرڈ پلوشے کی انکھوں پر چبھی تو اُس نے نیند میں ہی برا سا منہ بناتے کروٹ ماہر کی طرف لی تو وہ دلکشی سے مسکرایا۔

ماہر نے جان بوجھ کے جھک کر اُس کے رخسار پر بیرڈ رب کی تو وہ تنگ ہوتی منہ تکیے میں چھپا گئی۔

ماہر اُس کی اس قدر پکی نیند پر حیران ہوا لیکن جب اُس نے تیسری دفعہ لب پلوشے کی پچھلی گردن پر شدت سے رکھے تو وہ جھنجلا کر آنکھیں کھولتی اٹھ بیٹھ۔

پل کو تو ماہر کو سامنے دیکھ کر اُس نے اپنا وہم ہی سمجھا تھا۔

“فائنلی یو آر اویکیڈ”

ماہر مسکرا کر محبت سے بولا تو وہ اچانک بیڈ سے اچھل کر نیچے کھڑی ہوئی۔

اب وہ آنکھیں پھاڑے اسی کو دیکھ رہی تھی۔

اُس کا دوپٹا بھی بیڈ پر ہی پڑا تھا تو وہ اب بغیر دوپٹے کے اس کے سامنے کھڑی خوف زدہ سی لگ رہی تھی۔

“واٹس ہیپن “

ماہر بھی اٹھ کر اُس کے پاس آیا تو اُس نے نظریں جھکا لیں۔

“آپ یہاں۔۔۔کیوں۔۔ائے ہیں ؟”

وہ آنکھیں جھکائے ہی بولی۔

ماہر نے اگے اس کر اسے کمر سے تھام کر خود سے لگایا تو وہ کانپتی ہوئی اس سے الگ ہونے کی کوشش کرنے لگی۔

“کیونکہ میں اپنی بیوی کے ساتھ سونا چاہتا ہوں”

وہ اپنے ہاتھ سے اُس کے بال سہلاتا بولا تو اُس نے شرما کر مزاحمت ترک کر دی۔

“آؤ نا سوتے ہیں”

ماہر بچوں کے انداز میں بولا۔

“مجھے آپ کے ساتھ نہیں سونا آپ کتنے برے ہیں آپ نے کیوں کہا کہ میں الگ بزنس سٹارٹ نہیں کروں”

پلوشے نے ناراضگی سے کہا تو ماہر اُسے زبردستی بیڈ تک لایا۔

اُسے واپس اُس کی جگہ پر لیٹا کر خود اپنی جگہ پر آیا۔

“میرا بزنس بھی تمہارا ہی ہے چندہ۔۔۔۔۔بس میں تھوڑا انسیکيور ہوں تمہاری اس خواہش سے۔ میں نہیں چاہتا میرا چھوٹا سا بے بی اکیلے اتنا کام سمبھالے۔ تمہیں شوق ہے بزنس کا تو اپنی ڈگری مکمل ہوتے ہے میرے آفیس آ جانا”

ماہر نے اُسے وضاحت سے سمجھایا۔

“پر میں خود بوس بننا چاہتی ہوں ناں”

وہ معصومیت سے بولی تو ماہر نے رخ دوسری طرف کر کے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی۔

“اوکے مجھے کوئی پروبلم نہیں ہے۔۔۔۔تم ہی بوس بن جانا کمپنی کی۔۔۔۔۔۔اور کوئی مسلہ ہو تو وہ بھی بتا دو”

ماہر نے محبت سے اُس کے گال کھینچ کر کہا تو اُس نے فوراً نفی میں سر ہیلایا۔

“اب ہم سو سکتے ہیں؟”

ماہر کے سوال پر اُس نے شرما کر نظریں جُھکا لیں۔

“میری چھوٹی سی جان”

ماہر اُس کی معصومیت پر اُس کی گال پر لب رکھ گیا تھا۔

“آپ کی بیرڈ مجھے چبھتی ہے پلیز اسے کٹوا دیں نا”

وہ منہ بنا کر بولی۔

اُس کی آخری بات پر ماہر نے ہونٹ دانتوں تلے دبائے۔

“اسی طرح تمہاری دوری مجھے بھی چبھتی ہے۔ پھر کیا خیال ہے رخصتی لے لوں ؟”

ماہر بظاھر سنجیدگی سے بولتا اُس کی سانسیں روک چکا تھا۔

“ن۔۔۔نہیں آپ مت کٹوائیں”

وہ جلدی سے بولی تو ماہر اُس کی چالاکی پر اُسے گھور کر رہ گیا۔

“بڑی جلدی فیصلہ کر لیا تم نے “

ماہر نے کہتے ساتھ ہی اُسے اپنے حصار میں لیا۔

پلوشے اُس کی پر تپیش قربت میں پسینے سے شرابور ہو گئی۔

“یہ۔۔کیا کر رہے ہیں ؟”

وہ اُس کے سینے پر ہاتھ رکھتی بولی۔

“فلحال تو کچھ نہیں کر رہا۔۔۔۔”

ماہر اُس کا سے اپنے سینے پر رکھتا بولا تو وہ ہراساں سے ہوئی تھی۔

“لیکن آپ یہاں کیسے۔۔۔میرا مطلب ہے کوئی آ جائے گا”

وہ ہونٹ کاٹتی ہوئی پریشانی سے بولی تھی۔

“دروازہ بند ہے۔ تم پریشان میں ہو کوئی بھی نہیں ائے گا”

ماہر نے کہتے ہیں اُس کے گرد اپنی بانہیں پھیلائیں۔

وہ بھی چپ چاپ آنکھیں بند کر گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارمان کو آج حارث نے ارجنٹ بلایا تھا تو وہ عصر ھوتے ہی آفیس سے نکل کر اُس کے گھر آ گیا۔

اب دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے اور ایک ملازمہ ٹیبل اور کھانے پینے کے آئٹم سجا رہی تھی۔

ارمان حارث کے چہرے سے ہی اندازہ لگا سکتا تھا کہ بات کچھ سیریس ہے۔

جیسے ہی ملازمہ میز سیٹ کر کے کمرے سے نکلی ارمان نے سوالیہ نظروں سے حارث کو دیکھا۔

“جہاں تک میں پہنچ سکا ہوں یہ کام عبید خان نے کروایا ہے”

حارث کی بات پر ارمان نے جھٹکے سے اُس کی طرف دیکھا تھا۔

وہ تو عبید خان کو بھول ہی چکا تھا۔

(تقریباً تین ماہ پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گاؤں میں الیکشن کے لیے سیٹ منتخب کی جانی تھی۔

چونکہ ازمیر خانزادہ گاؤں کے سب سے امیر ، ایماندار اور قابلِ احترام شخص تھے سب کا ہی یہی فیصلہ تھا کہ ان کے گاؤں کی سیٹ پر وہ کھڑے ہوں اور اذلان شاہ اُن کے پارٹنر بن کر لڑیں۔

عبید خان اس سیٹ پر خود لڑنا چاہتا تھا تو اُس نے بہت واویلا مچایا تھا کہ اس دفعہ اُسے کھڑا ہونے دیا جائے مگر کسی نے اُس کی نہیں سنی تھی۔

وہ ازمیر خانزادہ کے پاس بھی آیا کہ وہ اگر اس سیٹ پر کھڑے ہوں گے تو اُنہیں عبید خان کی دشمنی کا سامنا کرنا ہو گا۔

ازمیر خانزادہ کو اُس کی دھمکی سے کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ایک جانتے تھے کہ عبید خان ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

اب جب الیکشن صرف دو مہینوں بعد ہونے تھے تو عبید خان نے یہ چال چلی تھی۔

اُس کا مقصد احتشام کے مارنے کا الزام ارمان پر لگا کر اُن دونوں خاندانوں میں دشمنی بنا کر خود اذلان شاہ سے ملنے کا تھا۔

وہ خود اُس سے مل جاتا تو دونوں ہی ازمیر خانزادہ کے خلاف ہوتے

یوں اذلان شاہ کبھی بھی ازمیر خانزادہ کے ساتھ کھڑے نا ہوتے تو مجبوراً اُنہیں یہ سیٹ چھوڑنی پڑتی۔

جب وہ سائڈ پر ہو جاتے تو عبید کہاں خود سیٹ پر لڑتا اور اذلان شاہ کو ساتھ رکھ لیتا)

ارمان نے حارث کی طرف دیکھا تو وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔

ارمان نے اُسے ساری کہانی بتائی تو اُس نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔

“تمہیں کیسے لگا کہ یہ اُس کا کام ہے؟ “

ارمان کے سوال پر حارث نے ایک فائل اُس کے آگے رکھی۔

“آس پاس کے لوگوں سے پوچھ گچھ کی میرے آدمیوں نے تو اُن کا کہنا ہےکہ اُس دن اُنھوں نے عبید کے دو خاص بندوں کو تم دونوں کا پیچھا کرتے دیکھا شاید تم دونوں ڈیرے سے کھانا کھا کر نکلے تھے تو ڈیرے تک ہی لوگوں نے اُنہیں دیکھا ہے اور یہ میں نے ایف آئی آر بھی بنا لی ہے جیسے ہی کوئی ٹھوس ثبوت ملے گا میں یہ درج کر دوں گا پھر تم دیکھنا اُس کا انجام۔”

حارث نے وضاحت سے بات اُس کے آگے رکھی تو ارمان تو بھڑک ہی اٹھا۔

“اُس ××× کی تو ایسی کی تیسی میں جا رہا ہوں اُس کے پاس”

ارمان کہتا ہوا تیزی سے اٹھا تو حارث نے جلدی سے اُسے پکڑا تھا۔

“ارمان جوش سے نہیں ہوش سے کام لو۔۔۔ابھی وہ نہیں جانتا ہم اُس کے پیچھے لگے ہیں تمہاری کسی بھی اس قسم کی حرکت سے وہ چوکنا ہو جائے گا ۔۔ پھر ڈھونڈ لینا خود ہی ثبوت”

حارث کی بات پر وہ بمشکل خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

“شکریہ یار میں تمہارے احسان کبھی نہیں بھول پاؤں گا۔۔۔۔بس اب جلدی سے کوئی ثبوت ڈھونڈ دو پھر میں اُسے بھی یونہی تڑپتا ہوا دیکھوں”

ارمان اُس کے گلے لگتے بولا تو حارث نے مسکرا کر اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

کچھ دیر میں ہی وہ چائے وغیرہ پی کر اُس کے گھر سے نکلا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارمان کی گاڑی مین روڈ سے نیچے اتر کر گاؤں میں داخل ہوئی۔

دونوں طرف ہی آم کے باغات تھے اس وقت شام کے سات بج رہے تھے۔

ارمان آرام سے ڈرائیو کر رہا تھا جب اچانک اُس کی گاڑی کے ٹائر میں کچھ لگنے کی وجہ سے وہ پھٹا تھا۔

گاڑی کو رکتے دیکھ ارمان باہر نکلا ہی تھا کہ دھڑ دھڑ گولیوں کی برسات ہوئی تھی۔

ابھی وہ کچھ سمجھ بھی نہیں پایا تھا جب تیزی سے ایک گولی اُس کے بائیں بازو میں لگی تھی۔

وہ تکلیف کی وجہ سے بازو زور سے جکڑتا گاڑی سے تک لگا گیا۔

اس قدر تکلیف کے باوجود بھی اُس نے دوسرے ہاتھ سے اپنی جینز کی جیب سے اپنا ریوالور نکالا۔

مگر وہ ایک ہاتھ سے لوڈ نہیں کر پا رہا تھا ابھی وہ مزید کوشش کرتا کہ مخالف کی گن سے نکلتی ایک اور گولی سیدھا اس کے دل کے مقام پر آ کر لگی۔

ارمان اچانک ہی سینے پر ہاتھ رکھتا زمین پر گرتا چلا گیا تھا۔

کچھ دیر تو اُس کی آنکھیں کھلی رہیں لیکن جب خون بہت زیادہ بہہ چکا تو اُس کی آنکھیں بند ہوئی تھیں۔

سانسیں بھی آب نہ ہونے کے برابر ہے چل رہی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہرام آفیس سے آیا تو سیرت کو ایک کپ کافی کا بنانے کا بولتا لاؤنج میں سب کے ساتھ آ کر بیٹھا۔

“آج فضیلت آئی تھی وہ بتا رہی تھی اُس تک خبر پہنچی ہے کہ مہروش اُمیدِ سے ہے”

شائستہ بیگم اپنے آنسو پیچھے دھکیلتے شکایتی نظروں سے ازمیر خانزادہ کو دیکھتے بولیں۔

وہ بھی اس خبر پر ٹھہر سے گئے۔

ایک طرف خوشی بھی ہوئی تھی دوسری طرف اُس کے اتنے دنوں سے دور ہونے کس سوچتے تکلیف بھی ہوئی۔

“ماشاءاللہ”

زبیر خانزادہ نے کہا۔

سب کے چہرے ہی افسردہ ہو چکے تھے۔

بہرام تو اٹھتا کمرے میں آ گیا۔

اُسے کہیں نا کہیں تسلی تھی کہ آویز اُس کے ساتھ اچھا ہے۔

مگر وہ جانتا تھا مہروش اُن کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی بچپن میں ایک دفعہ سیرت نے ضد کی تھی کہ اُسے اسکول کے ٹریپ کے ساتھ جانا ہے۔

ازمیر خانزادہ نے بہت مشکل سے اجازت دی تھی مگر اُنھوں کے مہروش کو بھی اُس کے ساتھ بھیجا تھا تاکہ اُس کے ساتھ کوئی تو ہو۔

ابھی اُنہیں گئے ایک دن ہی گزرا تھا جب صبح سویرے ہی پرنسپل صاحب کی کال ائی تھی کہ آپ اپنی بچی کو لے جائیں وہ بہت رو رہی ہے۔

اُسے دن ازمیر خانزادہ اُن دونوں کو واپس حویلی لے ائے تھے۔

بہرام ایک دفعہ اُس سے ملنا چاہتا تھا جاننا چاہتا تھا وہ کتنی خوش ہے۔

لیکن اُس کی انا کو یہ منظور نہیں تھا کہ وہ آویز شاہ کی حویلی میں قدم بھی رکھے۔

بہرام پریشانی سے ادھر اُدھر چکر کاٹ ہی رہا تھا کہ اُس کا فون بجا۔

بہرام نے جیسے ہی سیل کان سے لگایا اگلے کی بات سنتے اُسے لگا تھا وہ آگلی سانس نہیں لے پائے گا۔

کچھ دیر تو وہ یُونہی سکتے کی حالت میں کھڑا رہا تھا لیکن پھر وہ اپنے آپ کو قابو کرتا تیزی سے بھاگتا نیچے آیا۔

وہ لاؤنج کا دروازہ پار کرنے ہی والا تھا کہ ازمیر صاحب کی پکار پر ٹھہرا۔

“بہرام اس طرح کہاں جا رہے ہو۔۔۔خیر تو ہے ؟”

اُنھوں نے صوفے سے اٹھتے سوال کیا۔

“بابا ارمان کو گولی لگی ہے”

اُس کے الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ جو اُس نے اُن سب کے کانوں میں انڈیلا تھا۔

“یا اللہ۔۔۔۔۔۔۔میرا بچہ”

شائستہ بیگم تو چختے ہوئے ہوش و حواس کھوتیں وہیں زمین پر گر چکی تھیں۔

نورین بیگم جلدی سے اُن کی طرف ائیں تو سب مرد حضرات ہی باہر کو نکلے تھے۔

“آہ آہ ارمان ۔۔۔۔۔ سیرت ۔۔سیرت میرے ارمان۔پلیز۔۔۔میرے۔۔ارمان کو بلاؤ۔۔۔جلدی کرو۔۔۔سیرت پلیز۔۔۔اُنہیں بلاؤ۔۔۔و۔۔وہ۔۔ٹھیک۔۔ہیں۔۔۔وہ۔تو۔ٹھیک۔تھے۔صبح۔۔۔۔بہرام۔۔۔بہرام۔۔لالا۔مذاق۔۔کر۔رہے ہیں۔۔۔ہےناں۔۔۔”

مرحا کو ایک لمحہ لگا تھا بات سمجھنے میں۔

لیکن جیسے ہی اُسے بات سمجھ ائی اُس نے چیخ چیخ کر ارمان کو پکارا پھر وہ بھاگ کر سیرت تو آتے اُس کا ہاتھ تھام کر جنون سے بولی۔

سیرت نے اُسے پکڑ کر صوفے پر بیٹھایا ملازمہ اُس کے لیے پانی لائی تھی ابھی سیرت اُسے پانی پلاتی کہ وہ چیختے چلاتے ہی بیہوش ہو چکی تھی۔

ایک اُس کی ماں تھی تو دوسری بیوی دونوں ہی اُس کی تکلیف برداشت نہیں کر پائی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *