Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 06,07)

Tere Liye by Ayat Fatima

وہ گلاس ڈور کھولتی اندر داخل ہوئی۔

اُس نے تیزی سے آگے بڑھ کر مہروش کو گلے سے لگایا تھا۔

مہروش تو اس افتاد پر بوکھلا ہی گئی مگر پھر اُسے پہچان گئی۔

آج وہ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد مل رہی تھی کسی اپنے سے۔

مرحا اُس سے لگی آنسو بہا رہی تھی۔۔۔بے اختیار مہروش کی بھی آنکھیں برسنے لگیں۔

آویز شاہ نے نہ گواری سے کر اُس لڑکی کو دیکھا تھا جو اُس کی بیوی سے چپکی ہی کھڑی تھی۔

پھر مہروش کو روتے دیکھ آویز شاہ کو محسوس ہوا وہ حویلی کی ہی کوئی لڑکی ہے۔

ورکرز عجیب نظروں سے اُنہیں دیکھ رہے تھے۔

تبھی مہروش خود کو اُس سے الگ کرتی اُس کا ہاتھ تھام کے باہر لائی تھی۔

آویز شاہ بھی روحان کو اٹھاتا باہر نکلا۔

ارمان کی نظر جب سے مہروش پر پڑی تھی دل کر رہا تھا اپنی بہن کو آویز شاہ سے چرا کر حویلی لے جائے۔

پتہ اُن لوگوں نے کیسا رویہ رکھا ہو گا اس کے ساتھ۔ وہ تو نازک بھی بہت تھی کیسے سہتی ہو گی اکیلے اُن سب کی سختیاں۔

سب لڑکیاں جب اس سے مل چکیں تو مہروش بھاگتی ہوئی بہرام خانزادہ کے سینے سے لگی تھی۔

“لا۔۔لالا۔میں۔۔نے ب۔ہت۔۔مس کیا آپ ۔۔سب کو”

وہ روتی ہوئی بولی تھی۔

بہرام نے اُس کے گرد نرم حصار بنایا اور اپنے ہونے کا احساس دلایا تھا۔

“ہم سب نے بھی بہت مس کیا اپنے بچے کو۔۔۔۔میری جان کيسی ہے؟ وہاں کسی نے کچھ کہا تو نہیں؟”

وہ محبت سے اُس سے سوال پوچھنے لگا تو اُس نے نم آنکھوں سے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا تھا۔

“نہیں لالا وہاں سب بہت اچھے ہیں۔۔مجھے کوئی کچھ بھی نہیں کہتا۔۔۔بلکہ میری سب سے دوستی بھی ہو گئی ہے”

اُس کی بات پر بہرام نے ایک نظر آویز شاہ کو دیکھا رہا جس کے چہرہ ہی بتا رہا تھا کہ وہ یہ سب بہت مشکل سے برداشت کر رہا ہے۔

اب بھی وہ خونخوار نظروں سے ارمان کو دیکھ رہا تھا۔

“ہمم۔۔۔۔اچھی بات ہے”

بہرام کو جہاں اپنی بہن کے خوش ہونے سے خوشی ہوئی تھی وہیں ایک خدشے نے اُسے گھیرا تھا۔

کہ کہیں آویز شاہ نے اُس کی بہن سے ۔۔ رشتہ اگے تو نہیں بڑھا لیا ہو گا؟

یہ سوال وہ مہروش سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔ مگر وہ ایسا ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ آویز شاہ اپنا رشتا آگے بڑھائے کِیُونکہ اس طرح اُنہیں الگ کرنےمیں مشکل ہونی تھی۔

وہ دونوں بھائی کب سے بھاگ دوڑ میں لگے تھے کہ کسی طرح ارمان بے گناہ ثابت ہو اور وہ اپنی بہن واپس لائیں۔

لیکن اب مہروش کے چہرے کی خوشی کچھ اور ہی بتا رہی تھی۔

بہرام کے بعد وہ ارمان کے سینے سے لگی۔

ارمان ابھی اسے پیار کر ہی رہا تھا کہ آویز شاہ ضبط کھوتا تیزی سے آگے آیا۔

ارمان سے لگی مہروش کا بازو سختی سے جکڑا اور اُسے گھسیٹتا ہوا باہر لے جانے لگا۔

مہروش نے بہت کوشش کی خود کو اُس سے چھڑانے کے مگر وہ ظالم بن چکا تھا۔

ارمان غصے سے کھولتا اُن کے پیچھے جانے ہی لگا تھا کہ بہرام نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر انکھوں ہی انکھوں میں کوئی اشارہ کیا تھا۔

ارمان خانزادہ نے بمشکل خود اور قابو پایا۔۔۔

وہ تیزی سے مال سے باہر نکلا تو پیچھے بہرام بھی اُن سب کو لیے مال سے نکلا تھا۔

ارمان اپنی گاڑی وہاں سے نکال چکا تھا تو مرحا بھی بہرام کی گاڑی میں ہی جا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“بابا مجھے ابھی کہ ابھی مہروش واپس چاہیے۔۔۔آپ کچھ کر سکتے ہیں تو بتائیں نہیں تو میں خود کر لوں گا کچھ نا کچھ”

صبح سب ناشتے کی میز پر بیٹھے تھے جب ارمان غصے سے نیچے آتے ساتھ ہی ازمیر خانزادہ سے مخاطب ہوا تھا۔

اُس کی بات اور ازمیر خانزادہ نے چونک کے اُسے دیکھا۔

اچانک پتہ اب اُس پہ کون سا جادو سوار ہوا تھا۔

“تمہارا دماغ درست ہے”

وہ بھی غصے سے بولے۔

“جی الحمدلللہ بالکل ٹھیک ہے میرا دماغ۔۔۔بابا بتائیں آپ کچھ کر رہے ہیں یا نہیں”

وہ نجانے کیوں عجیب عجیب باتیں کر رہا تھا۔۔۔

“ناں ہی میں ایسی کوئی حرکت کر رہا ہوں اور نا تم۔۔۔اگر کچھ کرنا ہی ہے نا تو کسی طرح اپنی بے گناہی ثابت کر دو”

وہ سختی سے اُسے تنبیہہ کرتے کھانے کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔

ارمان جو غصے سے سرخ ہو رہا تھا اچانک چیخا۔

“تو پھر ٹھیک ہے آپ کچھ نا کریں میں خود ہی جا رہا ہوں شاہ حویلی مہروش کو لینے”

وہ کہتے ساتھ ہی باہر نکلا تو بہرام بھی اس کے پیچھے نکلا۔

لیکن وہ اپنی گاڑی حویلی سے نکال چکا تھا۔

“مجھے تو یہ لڑکا پاگل لگتا ہے۔۔۔اب پتہ کیا کرے گا وہاں جا کر”

ازمیر خانزادہ پریشانی سے بولے۔

“میں بھی چلا جاتا ہُوں اُس کے پیچھے”

بہرام نے سوالیہ نظریں سے اپنے بابا کو دیکھ کر کہا تو ااُنھوں نے سر نفی میں ہلایا۔

“نہیں اب گیا ہے تو اپنی مرضی سے گیا ہے۔۔۔تمہیں جانے کی کوئی ضرورت نہیں”

اُن کی بات اور وہ اثبات میں سر ہلاتا چیئر کی بیک سے اپنا کوٹ اٹھا کر آفیس کے لیے نکل گیا۔

وہ اپنے آفیس روم میں آیا ہی تھا کے سامنے ماہر علی خانزادہ بڑی شان سے اُس کی چیئر پر بیٹھا پیپر ویٹ کو گھما رہا تھا۔

اُسے اتے دیکھ ماہر مسکرایا جبکہ بہرام سنجیدگی سے ایک ڈرا کھول کر اُس میں سے کوئی فائل ڈھونڈنے لگا تھا۔

“اچھا یار بس کر ناں۔۔۔تجھے بتانے ہی آیا ہُوں”

ماہر کھڑا ہوتا اُس کے پاس آیا تھا اور اُسے کندھوں سے تھام کر اُس کا رخ اپنی طرف موڑا۔

لہجے میں محبت ہی محبت تھی۔

مگر بہرام اُسے دھکا ديتا خود سے دور جھٹک چکا تھا۔

“ابھی کے ابھی دفعہ ہو جاؤ یہاں سے مجھے کچھ نہیں سننا”

وہ درشتگی سے کہتا ٹیبل سے ایک فائل اٹھا کر پڑھنے کی اداکاری کرنے لگا تو ماہر نے فائل اُس سے کھینچ کر دور اچھالی۔

“اب بکواس بند کر اور بات سن میری۔۔۔۔قسم سے میں نے ارمان کو کچھ نہیں بتایا اُس گالی نے خود ہی جان لیا تھا یار”

ماہر اُسے چیئر پر زبردستی بیٹھاتا خود ٹیبل کے کونے سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوا۔

“ہممم۔۔۔۔بتا کون ہے وہ”

بہرام نے ناراضگی بھولتے گہری سانس لے کر اُس سے سوال کیا۔

۔

۔

ماہر جو گھر سے تو خود کی مکمل تیار کر کے نکلا رہا اب پھر ہچکچاہٹ ہو رہی تھی۔

لیکن پھر نظریں چھوڑا کر بولا۔

“پل۔وشے”

وہ زمین پر نظریں گاڑھے بولا تھا۔

بہرام کو شدید قسم کی حیرت ہوئی تھی۔

وہ آج تک اُس کی نظریں پہچان ہی بھی پایا ؟

“کچھ تو شرم و حیا ہوتا ہے بندے مجھے ہی میری بہن کے لیے محبت کا بتا رہا ہے۔۔۔ تجھے ذرا شرم نہیں آئی بیغیرت انسان”

بہرام مصنوعی غصے سے بولا تو ماہر نے اُسے گھور کر دیکھا۔

“انہیں حرکتوں کی وجہ سے نہیں بتایا تھا تجھے”

اُس نے شکوہ کیا مگر بہرام خانزادہ اور کوئی اثر نہیں ہوا۔

“بیٹا جی جتنی سے جتنی جلدی ہو سکے اُسے بھولنے کی کوشش کرو۔۔۔کِیُونکہ وہ ابھی بہت چھوٹی ہے تو حویلی میں کوئی بھی نہیں مانے گا”

بہرام اٹھتا ہوا عام سے لہجے میں بولا۔

جبکہ ماہر نے کھینچ کر اسے واپس کرسی پر گرایا تھا۔

“تو دوست ہے یا دشمن ۔۔۔ ي نہیں کہ بندہ زرا تسلی ہی دے دیتا ہے نہیں یہاں تو سیدھا بھول جانے کے مشورے دیے جا رہے ہیں”

وہ اُسے دیکھ کر غصے سے بولا تو بہرام مسکرایا۔

“اچھا اگر جھوٹی تسلی ہی چاہیے تھی تو پہلے بتاتا۔۔۔۔چل اب سن۔۔۔جیسے ہی تو رشتہ بھیجے گا ہم سب اُسے اٹھا کر تیری جھولی میں ڈال دیں گے۔۔اب ٹھیک ہے ؟”

بہرام اُسے زچ کرنا چاہ رہا تھا اور وہ ہو بھی رہا تھا۔

اُس نے ٹیبل سے اپنا سیل اُٹھایا اور بغیر بہرام کی طرف دیکھے اُس کے آفیس سے باہر نکلا۔

پیچھے بہرام اُس کے روٹھنے پر مسکرایا تھا۔

“روٹھی محبوبہ”

وہ اُسے لقب سے نوازتا مسکرا کر اپنے کام میں مصروف ہو گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سارے راستے روتی رہی تھی کس طرح آویز شاہ نے اُسے اُس کے بھائی سے جدا کیا تھا۔

اُسے اُس کی فیملی سے ہمشہ کے لئے الگ کر تو دیا تھا کم از کم ایک لمحے کے لیے ملنے تو دے ہی سکتا تھا ناں؟

مہروش روتی رہی تھی مگر اُس ظالم ن

ے ایک دفعہ بھی اُس کے آنسو نہیں پونچھے۔

جب وہ لوگ حویلی پہنچے تو مہروش نے شکر ادا کیا کہ سب لوگ سو رہے تھے۔۔۔

کِیُونکہ اُسے روتا دیکھ سب سوال کرتے تو وہ مزید ٹوٹ جاتی۔

وہ کمرے میں ائے تو مہروش خاموشی سے اپنی طرف لیٹ کر آنکھیں بند کر چکی تھی۔

آویز نے سوئے ہوئے روحان کو لا کر اُس کے پہلو میں لٹایا اور خود اسٹڈی میں چلا گیا۔

تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ روم میں آیا تو کمرے میں اُس کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔

آویز شاہ کو احساس تھا کہ اُس اور کیا گزر رہی ہو گی۔

اتنے دنوں بعد سب سے مل رہی تھی۔

لیکن وہ کیا کرتا اُس کا بھی تو جوان بھائی بے موت مارا گیا تھا۔

اُسے باقی کسی سے مسلہ بھی تھا مگر جب وہ ارمان خانزادہ کے سینے سے لگی تھی تو آویز کو خود میں آگ کے بھانبھڑ جلتے محسوس ہوئے تھے۔

اس لیے اُس نے اسے ارمان سے الگ کیا تھا۔

اب بھی وہ خود بہت غصے میں تھا مگر اُس کا رونا آویز شاہ کو تکلیف پہنچا رہا تھا۔

وہ آہستہ سے اُس کی طرف آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

“رونا بند کرو”

آویز شاہ روحان کو ایک طرف لٹاتا خود دونوں کے درمیان آیا تھا۔

ہاتھ بڑھا کر اُس کا کمبل خود پر بھی ڈالا اور اُسے مدھم آواز میں تنبیہہ کی تھی۔

لیکن وہ ابھی بھی رونے میں مشغول تھی۔

اچانک آویز کو غصّہ آیا تھا۔

“مہروش سمجھ نہیں آ رہی میری بات ؟”

وہ انتہائی سختی سے بولا تو مہروش نے آنکھیں پونچھیں اور خاموش ہوتی تکیے میں منہ چھپا گئی تھی۔

“یہاں دیکھو میری طرف”

وہ نرمی سے اُس کے بال سہلاتا بولا تھا۔

“مجھے نہیں دیکھنا آپ کی طرف،، میرے صبر کا امتحان مت لیں آویز شاہ۔اتنا ظلم مت کریں مجھ پر “

وہ انتہائی غمگین لہجے میں بولی تھی جیسے ابھی رو دے گی۔

آویز خاموشی سے خود بھی اسی کے تکیے پر سے رکھ کے کر گیا۔

دو منٹ چھت کو گھورنے کے بعد اُس نے نرمی سے مہروش کو سیدھا کر کے اپنے سینے پر اُس کا سر رکھا اور اُس کی کمر کو اپنے بازووں کے حصار میں لیا تھا۔

مہروش نے پیچھے ہونا چاہا تو اُس نے گرفت اتنی مضبوط کی تھی کہ مہروش کو لگا آج اُس کی ہڈیاں چٹخ جائیں گی۔

“تم بھی تو مجھے سمجھنے کی کوشش کرو”

وہ آہستہ آواز میں بولا تھا۔

پتہ نہیں کیوں مہروش کو آج اُس کا لہجہ بہت دکھی اور بے بس محسوس ھوا۔

“میں سمجھتی ہُوں آپ کو آویز۔۔۔۔مگر کاش آپ بھی مجھے سمجھتے”

وہ دکھ سے کہتی اُس کے گرد اپنی باہیں باندھ چکی تھی۔

“بیشک تم اپنی فیملی سے الگ ہوئی ہو مہر مگر تمھیں پتہ تو ہے ناں کہ تمھاری فیملی ٹھیک ٹھاک ہے،زندہ ہے۔۔۔۔لیکن مجھے دیکھو میرا جان سے پیارا بھائی صرف تمہارے اُس ڈیش بھائی کی وجہ سے آج میرے پاس نہیں ہے۔ کتنا دور چلا گیا ہے وہ ہم سب سے کہ اب ہم چاہ کر بھی اُسے مل نہیں سکتے ، دیکھ نہیں سکتے۔۔۔۔میں بھی تو خاموش ہُوں ناں “

وہ انتہائی اذیت سے بولا تھا۔

اُس کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کے گرتا اُس کی بیئرڈ میں جذب ہوا تھا۔

“میں مانتی ہُوں آویز کہ آپ لوگ بہت دکھی ہیں۔۔۔جوان بھائی ، بیٹا کھونا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔۔۔آپ سب کے لیے تو وہ دن قیامت کے مترادف ہو گا مگر میں آپ کو کیسے سمجھاؤں کے ارمان لالا نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔۔۔وہ تو آپ کے بھائی کے بہت اچھے دوست تھے وہ کبھی ایسا کچھ نہیں کر سکتے”

وہ اُسے سمجھانے کی خاطر بولی تو آویز نے اچانک اٹھتے اُسے سیدھا کر کہ بیٹھایا تھا اور سر اُس کی گود میں رکھتا آنکھیں موند گیا۔

“فلحال مجھے سکون چاہیے مہر بہت تھک گیا ہوں میں ۔۔۔۔ابھی بحث نہیں چاہتا”

اُس نے مہروش کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنے بالوں پر رکھے تو وہ اُس کا اشارہ سمجھتی اُس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔

اُس کی انگلیوں کے لمس میں اس قدر سکون تھا کہ آویز شاہ کو کچھ ہی لمحوں میں نیند نے آن گھیرا تھا۔

وہ کچھ دیر تو اُس کے بال سہلاتی رہی مگر تھوڑی دیر بعد ہی یونہی بیٹھے بیٹھے اُسے بھی نیند آ گئی تو اُس نے سے بیڈ کراؤن سےلگا کر آنکھیں بند کر کی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح آویز شاہ کی نیند چھ بجے کھلی تھی۔

اُسے ہمیشہ سے ہی جلدی اٹھنے کی عادت تھی کیونکہ وہ باجماعت فجر کی نماز پڑھا کرتا تھا۔

آج وہ تھوڑا لیٹ اُٹھا تھا۔

وہ ابھی بھی مہروش کی گود میں ہی سر رکھے ہوۓ تھا۔

روحان اور مہروش ابھی سو رہے تھے۔

وہ مسکراتا ہوا اٹھ کر بیٹھا ایک نظر مہروش کی بند آنکھوں پر ڈالی۔

پھر روحان کی طرف متوجہ ہوا جو اُنہیں کی طرف کروٹ لیے گہری نیند میں سویا بے حد معصوم اور پیارا لگ رہا تھا۔

آویز شاہ نے اُس کے چہرے پر جھک کر زور سے اُس کی گال چوم کر بیرڈ اُس کی گال پر رگڑی تھی۔

روحان جو پر سکون نیند سو رہا تھا گال اور چبھن ہونے سے آنکھیں کھولتا رونے لگا تھا۔

آویز پریشان ہوتا اُسے بازووں میں بھر کر چپ کروانے کی کوشش کرنے لگا مگر وہ بس روئے جا رہا تھا۔۔۔

مہروش کی نیند بھی اُس کے رونے پر کھلی تو اُس نے جلدی سے روحان کو اپنی گود میں لیا تھا۔

اُسے سینے سے لگا کر اُس کی پیٹھ رب کرتے ہوئے مہروش نے گھور کر آویز کو دیکھا۔

“کیا کہا ہے آپ نے صبح صبح بچے کو”

وہ غصے میں اس قدر کیوٹ لگ رہی تھی کہ آویز شاہ کا دل کیا اُس کا چہرہ ہی چوم ڈالے۔

“بس تھوڑا سا پیار کیا ہے تو اس کا یہ حال ہے۔۔۔میں تو یہ سوچ کر پریشان ہُوں کے اُس رات تمہارا کیا حال ہو گا “

وہ اُسے ٹيز کرنے کی خاطر شرارت سے بولا تو وہ پل میں ہی سرخ پڑی تھی۔

سائڈ سے کشن اٹھا کر آویز شاہ کو مارا تھا۔

وہ قہقہہ لگاتا بیڈ سے اٹھتا واشروم کی طرف بڑھ گیا تو مہروش نے روحان کو اپنی گود میں لٹایا۔

جو اب خاموش ہو چکا تھا۔

اُسکی نظر روحان کی سرخ ہوئی گال پر پڑی تو اسے سمجھ ائی کہ وہ بیچارہ کیوں رو رہا تھا۔

“ماما کی جان”

وہ پیار سے کہتی اُس کے چہرے پر جھکی اور اُسکی اسی گال پر اپنی لب رکھے۔

اچانک یاد کہ آویز شاہ نے بھی یہیں پیار کیا تھا تو وہ شرماتی ہوئی پیچھے ہوئی تھی۔

Episode 07

وہ تینوں ناشتے کے بعد لون میں آ گئے تھے۔

آویز شاہ ایک چیئر پر بیٹھا کسی سے فون پر بات کر رہا تھا اور وہ دونوں ایک طرف کھیل رہے تھے۔

وہ محبت پاش نظروں سے اُن دونوں کو دیکھتا رہا۔

کتنی مکمل ہی گئی تھی اُس کی زندگی مہروش کے انے سے۔

وہ اُداسیاں جنہوں نے اُس کی زندگی میں ڈیرے جما لیے تھے اب کہیں کھو گئی تھیں۔

وہ کال ختم کرتا اٹھ کے اُن دونوں کے پاس آیا جو پھولوں کی کیاری کے پاس ہری بھری گھاس پر بیٹھے تھے۔

مہروش ایک پھول توڑ کر روحان کے منہ پر پھیرنے لگی تو وہ کھلکھلا دیا۔

آویز ابھی اُن تو پہنچا ہی تھا کے گیٹ پر نظر پڑی جہاں سے ارمان خانزادہ تیزی سے اُن کی طرف آ رہا تھا۔

پل میں آویز شاہ کی مسکراہٹ سمٹی تھی کچھ دیر پہلے چہرے پر کو نرمی تھی اب وہ انتہائی غصے میں بدلی تھی۔

اُس کے ماتھے پر بل پڑے اور وہ تیزی سے آگے بڑھتا ارمان کے سامنے جا رکا۔

“تمہارے بھائی کو میں نے مارا ہے ناں۔۔۔اگر تم مرد ہوتے تو بدلہ بھی مجھ سے لیتے یہ کیا بزدلوں کی طرح مردوں کی لڑائی میں عورتوں کو گھسیٹا ہے”

ارمان خانزادہ اُس کے بلکل سامنے کھڑا ہوتا تمسخر سے بولا تھا۔

مہروش اُس کی آواز پر تیزی سے کھڑی ہوتی اُن دونوں کے پاس ائی تھی۔

“بزدل میں نہیں بزدل تم لوگ ہو ہم نے تو دو آپشن دیئے تھے ناں تملوگوں کو۔۔۔تم نے خود ہی اپنی بہن پر اپنے آپ کو فوقیت دی تو میں کیا کر سکتا تھا”

آویز شاہ بھی غصے سے اُسے دیکھتا بولا تو ارمان اُسے ایگنور کرتا مہروش کا ہاتھ سختی سے تھام گیا۔

“میں اسے لے کر جا رہا ہوں۔۔۔پہلے میری خلاف کوئی ثبوت ڈھونڈو اور جب ثبوت مل جائے تو سیدھا میرے پاس آ کر میرا سینا گولیوں سے چھلنی کر دینا میں اف بھی نہیں کروں گا”

وہ آویز شاہ کی لہو رنگ انکھوں میں آنکھیں گاڑھے کہتا مہروش کو لیے مڑنے ہی لگا تھا کہ آویز شاہ نے آگے بڑھ کر مہروش کا ہاتھ اُس کے ہاتھ سے الگ کیا تھا۔

اُسے اپنے پیچھے کرتا خود اگے ہوا اور سنجیدگی سے ارمان خانزادہ کو دیکھا۔

“پنچایت کا فیصلہ تم بدل نہیں سکتے۔۔۔ابھی اور اسی وقت نکلو میری حویلی سے اس سے پہلے میرے آدمی تمہاری بوٹیاں کتوں کے آگے ڈال دیں۔۔۔”

آویز شاہ انتہائی سختی سے بولا تھا۔

مہروش جو اُس کے پیچھے کھڑی تھی اچانک آگے ہوئی۔

“آپ ایسے بات نہیں کے سکتے میرے لالا سے”

وہ شکوہ کنان نظروں سے آویز کو دیکھتی بولی تھی۔

آویز شاہ نے گہری نظروں سے اُسے دیکھتے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تو وہ بے بسی سے اُسے دیکھنے لگی تھی۔

“مہروش تم چل رہی ہو یا نہیں”

ارمان خانزادہ ، آویز کو سرے سے نظر انداز کیے اُس کی طرف مڑتا ہوا برہمی سے بولا تھا۔

آویز کا دل تو کیا کے اُس کے منہ پر دو تین لگا کر اُسے حویلی سے باہر پھینک دے مگر وہ مہروش کا ریکشن دیکھنے کے لیے پل کو ٹھہرا ۔

مہروش نے بے بسی سے اُن دونوں کو دیکھا تھا ایک طرف جان سے پیارا بھائی تھا تو دوسری طرف نیا نیا عشق۔۔۔

بیشک وہ اپنے بھائی سے بہت پیار کرتی تھی مگر وہ کیسے آویز شاہ کا احسان بھلا دیتی۔

وہ جانتی تھی خون بہا میں جانے والی لڑکیوں سے کس قدر برا سلوک کیا جاتا ہے۔

مگر آویز شاہ نے اُسے کچھ بھی تو نہیں کہا تھا۔ بلکہ اُس کی فیملی نے بھی مہروش کو بلکل اپنا سمجھ لیا تھا۔

وہ سب حویلی سے اٹھی اُس جوان لاش کو بھی فرموش کر کے اُس کی طرف بڑھے تھے تو وo کیسے یوں بیچ راہ میں ساتھ ملتے ہی بے وفائی کر جاتی۔

اس وقت وہ ارمان خانزادہ کی آنکھوں میں انا اور جنون صاف دیکھ رہی تھی۔

جو صرف آویز شاہ کو نیچا دکھانے کے لیے اسے لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔

اگر یہ محبت اتنی ہی تھی تو اُسے بھیجا ہی کیوں تھا یہاں اسی وقت اُس کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہونا تھا ناں؟

“نہیں لالا میں نہیں آ سکتی جو بھی ہے آویز اب میرے شوہر ہیں میں صرف آپ کی ضد کی وجہ سے اپنا گھر نہیں خراب کرنا چاہتی “

وہ بظاھر سنجیدگی سے بولی تھی مگر اُس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ سے وہی واقف تھی۔

اپنے لالا سے اس طرح سخت الفاظ کہتے اُس کے دل کو کچھ ہوا ضرور تھا مگر ایک کہہ گئی تھی۔

وہ ارمان خانزادہ کے ضدی مزاج سے واقف تھی۔

وہ جانتی تھی اُسے وقتی غصّہ ائے گا مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ بھول جائے گا۔

“ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔۔۔۔لیکن میں ارمان خانزادہ آج سے تم سے اپنا ہر تعلق ختم کرتا ہوں تمہیں تمہارا گھر اور شوہر مبارک ہو۔ تمہارا صرف ایک بھائی ہے بہرام بس۔ میں نہ ہی تمہارا کچھ لگتا ہوں اور نہ ہی لگتا تھا۔۔۔۔خدا حافظ”

وہ سنجیدگی سے کہتا جس طرح آیا تھا اُسے طرح تیزی سے باہر نکلا۔

پیچھے مہروش اُس کے الفاظ یاد کرتے زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی۔

وہ گھٹنوں میں سر چھپا کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تو آویز تیزی سے اُس کے نزدیک آ بیٹھا تھا۔

اُسے کندھوں سے تھام کے خود سے لگایا۔

وہ جانتا تھا اس وقت اُس نازک جان پر کیا بیت رہی ہو گی مگر اُس کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں تھا۔

مہروش روتی ہوئی اُس کے سینے سے سر ٹکا گئی تو وہ اُس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا اُسے پر سکون کرنےکی کوشش کرنے لگا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے بارہ بج چکے تھے ارمان خانزادہ کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا۔

اُس کا یوں رات دیر سے آنا عام سی بات تھی۔

مگر آج صبح وہ غصے کے جس عالم میں حویلی سے نکلا تھا سب ہی پریشان تھے۔

وہ سب لاؤنج میں بیٹھے پریشانی سے اُس کا انتظار کر رہے تھے۔

صبح سے تو اُس کا فون بھی بند تھا۔

ابھی کچھ دیر پہلے بہرام خانزادہ نے ٹرائے کیا تھا تو اُس نے کال پک کر لی تھی اور کچھ دیر میں پہنچنے کا کہا تھا۔

سب ہی اُس کے مزاج سے واقفيت رکھتے تھے۔

اسی لیے سب کو فکر تھی کہ اس نے کچھ غلط نہ کر دیا ہو غصے میں۔

اچانک قدموں کی چاپ پر اُن سب نے نظریں اٹھا کے دروازے کی طرف دیکھا تھا۔

یہاں سے وہ تھکا تھکا سا داخل ہوا۔

بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے غصے اور تھکن کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔

ہاتھ پر پٹی بندھی دیکھ شائستہ بیگم کا تو کلیجہ منہ کو آیا تھا۔

وہ جلدی سے اُس کے قریب ائیں، اُس کا چہرہ ہاتھوں میں بھر کر اُس کی پیشانی چومی پھر نم انکھوں سے اُسے دیکھا۔

“کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی ارمان۔۔۔ذرا سا تو ہمارے لیے بھی سوچا کرو”

وہ پر شکوہ نظروں سے بولیں تو ارمان نے اُس کی آنکھیں صاف کیں۔

اُن کے دونوں ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹاتے اُن پر اپنے لب رکھے۔

“میں بلکل ٹھیک ہُوں امی۔۔ آپ میرے لیے پریشان مت ہوا کریں “

وہ محبت سے کہتا اُن سب کو نظر انداز کیے سيڑيھوں کی طرف بڑھا۔

“واپس آؤ”

بہرام خانزادہ کی با روعب آواز پر اُس کے قدم تھمے تھے۔

وہ سنجیدگی سے واپس نیچے اُترا اور ایک خالی صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔

جانتا تھا وہ سب اُس سے سوال کریں گے جن کے جواب دینے کا اُس کا ہرگز دل نہیں کر رہا تھا۔

“کیا کیا تم نے وہاں جا کر ؟ “

ازمیر خانزادہ آہستہ مگر سخت آواز میں بولے تو اُس نے نظریں اٹھا کر اُنہیں دیکھا۔

“میں اس معاملے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا”

ارمان نظریں چراتا ہوا بولا تھا۔

بہرام نے حیرانگی سے اُسے دیکھا۔

اُس کی شکل ہی بتا رہی تھی کہ وہ کوئ کارنامہ تو ضرور کر کے آیا ہے۔

لیکن وہ تھا کہ بتانا ہی نہیں چاہ رہا تھا۔

“ارمان ، یہ فضول کے نکھرے نہیں کرو اور سیدھی طرح بتاؤ کیا ہوا ہے وہاں “

بہرام سختی سے اُس کی طرف دیکھتا بولا تو ارمان نے گہری سانس لی پھر اُن سب کی طرف دیکھا جو اسی کے بولنے کے انتظار میں بیٹھے اُسے دیکھ رہے تھے۔

“میں نے مہروش سے کہا کے گھر آؤ مگر اُس نے کہا کہ وہ میرے ساتھ آ کر اپنا گھر خراب نہیں کرنا چاہتی۔۔۔”

اُس نے آہستہ سے آدھی ادھوري بات کہی تھی۔

“پھر تم نے کیا کیا”

ازمیر خانزادہ جو اُس کی بات پر غصے سے پھٹتے والے ہو رہے تھے۔۔۔خود اور قابو پاتے اُس سے سوال کیا تاکہ پوری بات جان سکیں۔

“میں نے اُس سے اپنا ہر تعلق ختم کر لیا ہے۔۔۔۔جہاں تک بات ہے آپ سب کی تو آپ اپنی لاڈلی سے جیسے چاہیں ملیں مجھے فرق نہیں پڑتا”

وہ غصے سے بولا تھا۔

اُس کی بات پر ازمیر خانزادہ نے شائستہ شاہ کو ایسے دیکھا تھا جیسے کہہ رہے ہوں یہ ہے تمہاری تربیت۔

وہ بھی نظریں چرا گئیں تھیں۔

“ذرا تو تم بھی دماغ چلا لیا کرو۔۔۔۔یہ کوئی طریقہ ہے ہاں ؟ وہ بیچاری صرف تمہاری وجہ سے غیروں میں چلی گئ اور تم بجائے اصل قاتل ڈھونڈنے کے اُس سے ہی تعلق ختم کر ائے ہو۔۔تمہیں تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ وہ لوگ اُس کے ساتھ اچھے سے پیشِ آ رہے ہیں جو وہ واپس نہیں آنا چاہتی “

ازمیر خانزادہ افسوس اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے اُسے کہتے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھے تو وہ بھی اٹھ کر تیزی سے اوپر گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہر شام کو آفیس سے جلدی لوٹ آیا تھا آج اُس کا ارادہ سب سے بات کرنے کا تھا۔

وہ لاؤنج میں آیا تو کوئ نہیں تھا۔

اُس نے ملازمہ سے سب کے مطلق پوچھا تو اُس نے بتایا کہ آغا جان کسی دوست سے ملنے گئے ہیں ، سمرین بیگم اور علی خانزادہ اپنے کمرے میں ہیں۔

وہ پہلے روم میں گیا شاور لے کر کپڑے بدلے۔

پھر کمرے سے نکلا۔

اُس نے علی خانزادہ کے روم کے دروازے پر نوک کیا تو انہوں نے اندر بلایا۔

وہ کمرے میں داخل ہوا تو علی خانزادہ صوفے پر بیٹھے ٹی وی پر نیوز دیکھ رہے تھے اور سمرین بیگم بیڈ پر بیٹھیں کپڑے لپیٹ رہی تھیں۔

اُسے آتے دیکھ دونوں ہی مسکرائے تھے۔

ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ ماہر خانزادہ اُن کے کمرے میں ائے۔

جب اُسے کوئی ضروری کام ہوتا تھا وہ تب ہی اُن کے کمرے میں آیا کرتا تھا۔

وہ مسکراتا ہوا سمرین بیگم کے قریب آ کر بیٹھا اور کپڑے ان سے سے لے کر سائڈ پر رکھتا اُن کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔

اُنھوں نے جھک کر اُس کی پیشانی چومی۔

“آج ماں کی یاد آ ہی گئی میرے بیٹے کو”

وہ مسکرا کر بولیں تو ماہر بھی مسکرایا۔

“جی مجھے تو اکثر یاد آتی ہی رہتی ہے مگر جانے کیوں میں اتنا رحم دل ہُوں کہ بابا کا رومينس خراب کرنے کا دل ہی نہیں کرتا”

وہ شرارت سے ایک آنکھ دبا کر بولا تو جہاں ایک طرف علی خانزادہ کا قہقہہ گونجا تھا وہیں سمرین بیگم شرما سے گئی تھیں۔

“اچھا ناں بابا یہاں آئیں مجھے آپ دونوں سے ضروری بات کرنی ہے”

وہ اُن کی خفت مٹانے کی خاطر بولا تو علی صاحب بھی ٹی وی کا وولیم بند کرتے اُن کی طرف آ کر بعد پر بیٹھے۔

“یہی تو میں کہوں کے تم بغیر کسی وجہ کے کیسے آ گئے یہاں۔۔۔۔خیر بتاؤ کیا ضروری بات کرنی ہے؟ “

وہ اُسے گھور کے بولے تو ماہر نے اُن کی طرف دیکھا۔

“مجھے شادی کرنی ہے”

وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔

جبکہ اُس کی بات پر اُن دونوں کے چہرے ہی کھل اٹھے تھے۔

وہ اٹھائیس سال کا ہو چکا تھا مگر وہ کبھی بھی شادی کے لیے بات ہی نہیں کرتا تھا۔

وہ دونوں جب بھی اُس کی شادی کا ذکر کرتے تو ماہر بات بدل دیا کرتا تھا۔

آج اُسے خود یہ بات کہتے دیکھ دونوں نے ہے رب کا شکر ادا کیا۔

ایک ہی تو اولاد تھی اُس کی خوشیاں ہی تو دیکھنا چاہتے تھے وہ لوگ۔

“چلو تمہیں بھی عقل آئی۔۔۔۔کوئی لڑکی پسند کر رکھی ہے یا تمہاری ماما دیکھیں”

علی خانزادہ کے سوال پر اُس کی آنکھوں کے سامنے وہ معصوم سا چہرہ آیا تو ماہر کے ہونٹ خود بہ خود مسکرانے لگے۔

“مجھے پلوشے سے شادی کرنی ہے”

وہ علی خانزادہ کی طرف دیکھتا بولا تو اُن دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔

“بیٹا پلوشے تو ابھی بہت چھوٹی ہے بڑی حویلی میں پہلی باقی سب بچوں کی شادیاں ہوں گی پھر ہی اُس کے بارے میں سوچيں گے تمہارے بڑے بابا۔۔۔ویسے بھی اُسے ابھی پڑھنا ہے۔ تم اتنا انتظار کیسے کرو گے اٹھائیس کے ہو گئے ہو”

سمرین بیگم نے اُسے تفصیل سے سمجھایا وہ اُن کی گود سے اٹھتا اُن کے ہاتھ تھام گیا۔

“ماما آپ رشتہِ تو مانگیں نا۔۔۔اب اتنی بھی چھوٹی نہیں ہے وہ مرحا جتنی تو ہے ہی اُس کا بھی تو نکاح ہو چکا ہے ہم بھی نکاح کر لیں گے رخصتی اگلے سال ہو جائے گی۔۔۔جہاں تک بات ہے پڑھائی کی تو وہ شادی کے بعد بھی ہوتی رہے گی میں نے کون سا منع کرنا ہے اُسے”

وہ جلدی سے بولا تو وہ دونوں اُس کی بے تابی پر مسکرا دیے۔

“اچھا بھئی جاتے ہیں ہم کل بڑی حویلی مجھے یقین ہے وہ لوگ انکار نہیں کریں گے”

علی خانزادہ کی بات پر ماہر مسکرا دیا۔

“بابا نکاح کی بھی کوئ ڈیٹ رکھ لیجیے گا”

اُس کی بات پر اُنھوں نے سر ہلایا تو ماہر اُن دونوں کو خدا حافظ کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرحا لاؤنج میں اکیلی بیٹھی تھی۔

اُس نے ابھی کچھ دیر پہلے سب کے ساتھ ناشتہ کیا تھا۔

پھر سب لوگ اپنے اپنے کاموں کو نکلے تو وہ اب صوفے پر بیٹھی موبائیل یوز کر رہی تھی۔

تبھی شائستہ بیگم اُس کے پاس آئیں۔

“مرحا بیٹا میں اور نورین کچھ گروسری کرنے جا رہی ہیں میں نے شبنم (ملازمہ) کو کہہ دیا ہے وہ ارمان کا ناشتہ بنا دے گی تم زرا اُس کے کمرے میں دے آنا۔ جانتی ہو نا اُسے نہیں پسند کوئی ملازم اُس کے کمرے میں داخل ہو”

وہ اس کے پاس آ کر بولیں تو مرحا نے چونک کر انہیں دیکھا۔

“ماما آپ کو پتہ ہے ناں وہ کسی سے بات نہیں کر رہے ایسے میں اگر میں اُن کے روم میں گئی تو وہ بہت غُصہ ہو جائیں گے”

مرحا بے بسی سے بولی۔

وہ جانتی تھی ارمان ان دونوں بہت غصے میں ہے۔

وہ کافی دنوں سے کسی سے بات نہیں کر رہا تھا۔

صبح آفیس چلا جاتا پھر رات کو دیر سے گھر اتا تھا۔

“تمہیں کچھ نہیں کہے گا بیٹا تم نے کیا کیا ہے جو تم پر غصہ ہو گا”

وہ اُسے دیکھ کر سمجھاتی ہوئی بولیں۔

ابھی وہ کچھ کہتی کہ نورین بیگم لاؤنج میں آئیں۔

“چلیں بھابھی پھر دیر نہ ہو جائے گھر آ کر کھانا بھی دیکھنا ہے”

وہ عجلت سے بولیں تو شائستہ بیگم بھی مرحا کو خیال رکھنے کا کہتیں اُن کے ساتھ باہر نکلی تھیں۔

پیچھے وہ اب اسی سوچ میں غلطاں تھی کے اُس کے کمرے میں کیسے جائے۔۔۔۔

اُسے ابھی پچھلی دفعہ کا واقعی تو بھولا نہیں تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *