Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 26)

Tere Liye by Ayat Fatima

سب کی نظر دروازے سے داخل ہوتے ارمان اور اُس کے پہلو میں شرماتی لجاتی مرحا کی طرف اٹھی تھیں۔

شائستہ بیگم اُس کا سرخ چہرہ دیکھ کر وجہ سمجھتیں خوشی سے نہال ہوئیں۔

“کیا کہا ڈاکٹر نے ؟”

اُن کے سوال پر ارمان نے مسکرا کر مرحا کو دیکھا جس کی پلکیں اب شرم سے کپکپا رہی تھیں۔

“پریگنینٹ ہے یہ”

وہ مسکرا کر بولا تو مہروش حیرت سے صوفے سے کھڑی ہوئی۔

“کیا”

وہ بلند آواز میں کہتی مرحا تک ائی اور اسے زور سے خود سے لگایا۔

“ماشااللہ۔۔۔اللہ اِسی طرح میری بیٹی کو خوشیاں عطا کرے”

شائستہ بیگم محبت سے کہتیں اُس کے پاس آئیں اور اُس کی پیشانی چومی۔

پھر سب نے ہے اُسے پیار کیا اور مبارک دی ارمان ملازم سے گاؤں میں مٹھائیاں بٹوانے کا بھی کہہ چکا تھا۔

“آخر اللہ نے اس حویلی کو بھی اپنی رونق سے نوازا”

نورین بیگم کی بات پر شائستہ بیگم مسکرائیں۔

مرحا اب مہروش کے پہلو میں بیٹھی شرما رہی تھی۔

سب سے زیادہ اُسے ارمان کی معنی خیز نظریں پریشان کر رہی تھیں جو کھڑا بات تو شائستہ بیگم سے کر رہا تھا مگر نظریں اس پر جمی تھیں۔

“ایک دفعہ روم میں آؤ بات کرنی ہے”

وہ سنجیدگی سے کہتا اوپر کی جانب بڑھ گیا تو وہ بھی اٹھ کر اُس کے پیچھے آئی۔

“جی بولیں”

وہ کمرے میں داخل ہوتے ہی بولی مگر ارمان نے اچانک کھینچ کے اُسے خود میں بھینچا۔

اب وہ اس کی گردن میں چہرہ دئیے لمبی لمبی سانسیں لیتا اس کی سانسیں روک رہا تھا۔

“تھینک یو سو مچ مائے ڈیئر وائیفی”

وہ پیچھے ہو کر اُس کی گال کو شدت سے چوم کے بولا تو اُس نے شرم سے نظریں جھکا لیں۔

“تمہاری یہ حرکتیں مجھے مزید تمہاری طرف کھینچتی ہیں یار”

وہ یار پر زور دے کے محبت سے بولا تو وہ احتیاطاً ذرہ پیچھے ہوئی۔

ارمان کو اس کی یہ حرکت ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔

وہ ہمیشہ اُسے خود سے دور ہونے پر ڈانٹتا تھا کہ ہے چیز مجھے نہیں پسند تو مت کیا کرو۔

“قریب آؤ”

اب اُس کے لہجے میں بے حد سنجیدگی تھی۔

مرحا نے ایک نظر اُس کے سرخ چہرے کو دیکھا پھر ایک قدم اُس کے نزدیک بڑھایا۔

“تمہیں سمجھ نہیں آتی میری اتنی دفعہ کی کہی بات”

وہ غصے سے اُس کا بازو پکڑ کر قریب کھینچتا بولا۔

تبھی مرحا کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کے فرش پر گرا تھا۔

ارمان نے تاڑپ کر اُس کا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر اٹھایا۔

“آپ بھی۔۔تو ہمیشہ صرف۔۔۔ڈانٹتے رہتے ہیں۔۔مجھے”

وہ دکھی لہجے میں بولی تو ارمان نے بغیر کچھ کہے ہونٹ باری باری اُس کی آنکھوں پر رکھتے اُن کی نمی کو اپنے ہونٹوں سے چن لیا۔

“اگر ڈانٹتا ہی رہتا تو یہ سب نہ ہوتا”

وہ اُس کے پیٹ کی طرف اشارہ کرتا معنی خیزی سے بولا تو وہ شرم سے سرخ ہوئی۔

“آفیس نہیں جانا آپ نے؟”

اُس کے سوال پر ارمان نے گہری نظروں سے اُسے دیکھا۔

“نہ جاؤں تو تم نے کون سا مجھے ٹائم دینا ہے”

وہ بے زاری سے بولا تو مرحا نے اُسے گھورا۔

“ہاں میں کہاں دیتی ہوں آپ کو ٹائم۔۔۔آپ بے چارے تو سارا دن مجھ سے ٹائم مانگتے رہتے ہیں”

اُس کی بات پر ارمان مسکرا دیا۔

“اچھا ڈارلنگ ایم گوئنگ ناؤ۔۔۔ٹیک کیئر آف یور سیلف اینڈ مائے بے بی”

وہ محبت سے اُسے کہتا عقیدت سے اُس کی پیشانی چوم کر نیچے کی طرف بڑھ گیا تو وہ بھی مسکراتی ہوئی الماری سے کپڑے لیے واشروم میں گھسی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آخر کار آج اتنے انتظار کے بعد رخصتی کا دن آن ہی پہنچا تھا۔

کل مہندی تھی جو بہت اچھے سے بغیر کسی مسلے مسائل کے ہو چکی تھی۔

مہروش اب تین چار دنوں سے روحان کے ساتھ حویلی ہی رہ رہی تھی۔

سیرت آج بہت گھبراہٹ کا شکار تھی۔

اُس نے ایک چور نظر اپنے پہلو میں بیٹھے بہرام خانزادہ پر ڈالی تھی جو پاس کھڑے ارمان کو کچھ سمجھا رہا تھا۔

ابھی کچھ ہی دیر میں رخصتی ہونے والی تھی کیونکہ باقی تمام رسمیں کر لی گئی تھیں۔

سیرت کا تو دل کر رہا تھا یہاں سے کہیں بھاگ جائے۔

وہ جانتی تھی بہرام نے اب تک جتنا صبر کیا ہے وہ اب اپنے صبر کا پھل لے کر ہی رہے گا۔

اس لیے وہ کافی دنوں سے خود کو اس بات۔ کےلئے ذہنی طور پر منا رہی تھی۔

ارمان اُس کی بات سن کر سٹیج سے اُترا تو بہرام نے بازو سیرت کی کمر میں ڈالا۔

“بی ریڈی مائے لو”

وo سنجیدگی سے بولا تو سیرت بوکھلا کر اُس سے تھوڑی دور ہوئی۔

بہرام بھی مسکراتا سیدھا ہو بیٹھا تبھی پلوشے ، مرحا اور مہروش سٹیج پر آئی تھیں۔

پلوشے مسکراتی اُن دونوں کے درمیان میں بیٹھی۔

“چلیں لالا میرے ڈیڑھ لاکھ نکالیں پھر آج سے میری بہن ہمیشہ کے لیے آپ کی ہوئی”

وہ شوخی سے بولی۔

سب کی محبت سے وہ کافی حد تک نارمل جو چکی تھی آخر کب تک صدمہ مناتی۔

“آپ کی بہن پہلے ہی میری ہے مجھے آپ کو کچھ بھی دینے کی ضرورت نہیں ہے”

وہ مسکرا کر بولا تو سیرت شرما کر سر جھکا گئی۔

جبکہ پلوشے نے برا سا منہ بنایا۔

“ہے تو آپ کی ہی مگر پھر آپ کو رخصتی نہیں ملے گی”

وہ بہرام کو دھمکی دیتی بولی تو اُس نے اسے گھورا۔

“اب اپنے لالا سے مقابلہ کرو گی آپ”

اُس کی بات پر پلوشے نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔

“سیرت تم کہو نہ لالا کو کے مجھے میرا حق دیں”

وہ اب سیرت کو مخاطب کرتی بولی تو بہرام نے مسکراہٹ دبائی۔

“یہ میڈم پہلے میرا ہو تو مجھے دے پھر ہی کچھ مانگے گی ناں”

وہ یہ بات صرف دل میں ہی کہہ سکا تھا۔

“مم۔۔میں ۔۔۔کیا۔۔کہوں”

وہ بوکھلا کر آہستہ آواز میں بولی تو مہروش کا قہقہہ گونجا۔

“ٹھیک ہے مت کہو کچھ اب تمہیں کس ضرورت ہے میری بات ماننے کی ۔۔۔ بہن کی تو کوئی اوقات ہی نہیں ناں تمہاری نظروں میں”

وہ مصنوعی افسوس کرتی بولی تو سیرت نے اُسے گھورا لیکن اُس کی آنکھوں میں اِلتجا دیکھ کر دونوں ہاتھ آپس میں جکڑے۔

“آپ۔۔۔پلیز۔دے۔۔دیں۔۔اسے۔۔۔جو۔۔بھی۔۔یہ۔۔مانگ۔رہی۔۔۔ہے”

وہ اٹکتی ہوئی بولی اور بولتے ساتھ ہی سر جھکا گئی۔

“تمہارے لیے تو جان بھی حاضر پیسے کیا چیز ہیں”

بہرام نے بلند آواز میں کہتے جیب سے اپنا والیٹ نکالا اور اپنا کارڈ نکال کر اُسے تھمایا۔

“یہ تم تینوں ڈیوائڈ کر لینا”

وہ کہتا ہوا پلوشے کا ہاتھ تھام کر اُسے درمیان سے اٹھا چکا تھا۔

سیرت کو قریب کھینچتے بہرام نے ہاتھ دوبارہ اس کی کمر میں ڈالا تو وہ اس کے بے بک لمس پر بلکل کانپ کر رہ گئی۔

اوپر سے مہروش اور مرحا کی معنی خیز نظریں خود پر پا کے وہ مزید شرمندہ ہوئی۔

تبھی آویز ، ارمان اور ماہر بھی اسٹیج کی طرف آتے نظر ائے تو مہروش اور مرحا ایک طرف ہو گئیں۔

آویز آ کر مہروش کے بلکل پاس صوفے پر بیٹھا اور ہاتھ اُس کندھے پر رکھا۔

ارمان بھی مرحا کے پاس بیٹھ چکا تھا جبکہ ماہر بیچارہ آج بھی اپنی تتلی کو صرف دیکھ ہی رہا تھا۔

جو نیچے اس کی ماما سے کھلکھلا کے باتیں کر رہی تھی۔

“روحان کدھر ہے”

آویز کے سوال پر مہروش نے نیچے اشارہ کیا جہاں وہ شائستہ بیگم کی گود میں بيٹھا تھا۔

“آپ بیٹھیں میں اُسے اٹھا لاتی ہوں”

وہ کہتے ہوئے اٹھنے لگی تو آویز نے اس کا ہاتھ پکڑ کر واپس بیٹھایا۔

“رہنے دو پہلے ہی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تمہاری”

آویز کی بات اور اُس نے زبان دانتوں تلے دبائی یعنی اُس کے روکنے کے باوجود شائستہ بیگم نے اسے بتا دیا تھا۔

“اب ٹھیک ہوں”

وہ آہستہ سے بولی تو ارمان نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔

“گھر کب تک آؤ گی”

آویز نے اُسے دیکھتے سوال کیا تو مہروش نے ہونٹوں کا کنارا دانتوں میں دباتے اُسے دیکھا۔

“پرسو ولیمے کے بعد آپ کے ساتھ ہی چلوں گی”

اُس کی بات پر آویز نے سر ہلایا لیکن جب اُس کی نظر اُس کے ہونٹوں پر گئی تو آویز کے حلق میں کانٹے اُبھرے۔

“مہر چھوڑ دو انہیں اس سے پہلے میں اپنے طریقے سے انہیں چھڑواؤں”

آویز سختی سے بولا تو اُس نے فوراً اپنے ہونٹ دانتوں سے آزاد کیے کِیُونکہ آویز شاہ سے کوئی بعید نہیں تھی وہ سب کے سامنے ہی اُسے شرمندہ کر دیتا۔

“کہاں ہیں بابا لوگ؟ ابھی تک ائے کیوں نہیں”

بہرام کے سوال پر ماہر نے گھور کر اسے دیکھا۔

“صبر کر لے کچھ۔۔۔۔۔”

وہ اپنا غصّہ اُس پر نکالتا بولا تو بہرام نے مسکراہٹ دبائی۔

“کہیں سے جلنے کے بو آ رہی ہے پتہ نہیں کیا جل رہا ہے”

وہ شرارت سے بولا تو ماہر نے خون خوار نظروں سے اسے دیکھا۔

“میرے زخموں پر نمک چھڑک کر آخر تجھے ملتا کیا ہے”

ماہر نے غصے سے کہا تو بہرام مسکرایا۔

“سکون”

وہ سکون پر زور دیتا بولا تھا۔

“اب بس بھی کریں آپ دونوں”

ارمان نے ہے درمیان میں بول کر اُنہیں مزید ایک دوسرے سے الجھنے سے روکا۔

نہیں تو وہ دونوں تو جانے گھنٹہ بھر اسی بحث میں لگا دیتے۔

“میں ذرا ماما کے پاس جا رہی ہیں کوئی کام ہو تو پوچھ لوں”

مرحا کہتی ہوئی اٹھی تو ارمان بھی اُس کے ساتھ اٹھا۔

نرمی سے اُس کا ایک ہاتھ تھام کے اُسے آہستہ سے سہارا دے کر نیچے اُتارا پھر خود دوبارہ صوفے پر بیٹھا۔

وہ نیچے ائی اور اسٹیج کے ساتھ والی ٹیبل کا پاس کھڑیں شائستہ بیگم کے پاس جا کر کھڑی ہوئی جو میز بانی کے حقوق نبھا رہی تھیں۔

یہ شاید بہرام کے کسی دوست کی فیملی تھی کم از کم مرحا تو اُنہیں پہلی دفعہ ہی دیکھ رہی تھی۔

“اسلام و علیکم”

وہ آہستہ سے بولی تو اُن سب عورتوں نے اسے دیکھا۔

وہ اورنج لانگ فروک میں بے حد خو صورت لگ رہی تھی۔

شائستہ بیگم بھی اُسے پاس کھڑے دیکھ مسکرائیں۔

“وعلیکم السلام یہ پیاری سے گڑیا کون ہے”

اُن میں سے ایک عورت نہایت محبت سے بولیں تو مرحا شرما دی۔

سٹیج پر بیٹھے ارمان بھی اُس کی تعریف سن کر مسکرایا آخر اُس کی بیوی تھی ہی اتنی پیاری۔

“یہ میری بیٹی ہے مرحا”

شائستہ بیگم محبت سے اُسے دیکھتے ہوئے بولیں تو وہ بھی مسکرا دی۔

“ماشاءاللہ یہ آپ کی بیٹی ہے۔۔۔۔بھی پیاری بچی ہے”

وہ خوشی سے آنکھوں میں چمک لیے بولیں اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ والی چیئر پر بیٹھا لیا۔

“دراصل میں بھی اپنے چھوٹے بیٹے کے لیے رشتہ ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔مہینہ بھر پہلے ہی امریکا سے بزنس کی ڈگری لے کر آیا ہے اب یہیں اپنا بزنس سٹارٹ کیا ہے اُس نے۔۔۔۔اگر آپ نے اپنی بیٹی کا کہیں رشتہ وغیرہ نہیں کر رکھا تو آپ مجھے اپنا نمبر دے دیں گھر جا کر بات کروں گی”

اُنھوں نے تفصیل سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو مرحا گھبرا سی گئی۔

دوسری طرف سٹیج پر بیٹھے ارمان نے اُن کی بات سنی تو غصے سے اُس کا چہرہ سرخ ہوا۔

وہ فوراً سٹیج سے اتر کر اُن تک آیا اور بغیر کچھ بھی کہے سختی سے مرحا کا ہاتھ جکڑتا اندر کی طرف بڑھا۔

وہ عورت اب حق دق سی اُسے جاتے دیکھ رہی تھیں۔

“معاف کیجئے گا بہن مرحا میری بہو ہے اور ماشاللہ اُمیدِ سے ہے”

شائستہ بیگم کے انکشاف پر اُن کے تاثرات ٹھپ سے بدلے۔

“اوہ اچھا۔۔۔وہ آپ نے بیٹی کہا تو مجھے لگا سگی بیٹی ہے آپ کی۔ ماشاللہ بہت مہذب بچی ہے اللہ صحت مند اولاد سے نوازے”

وہ اپنے خیالات کو جھٹکتیں نرمی سے بولیں تو باقی سب نے بھی آمین کہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارمان نے کمرے میں آ کر اُسے دیوار سے لگایا اور اُس کا زرتار دوپٹہ اتار کر بیڈ پر اچھالا۔

مرحا اب اپنی تمام حشر سامانیوں کے ساتھ اُس کا سامنے موجود تھی۔

“زیادہ شوق ہے تمہیں یوں نمائش بن کر پھرنے کا ہاں ؟”

ارمان سرخ آنکھیں لیے دھاڑا تو اُس نے آنکھیں زور سے میچیں اب ارمان کی سلگتی سانسیں وہ اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی۔

“میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے اتنا تیار ہونے کا مقصد ؟؟؟”

وہ دوبارہ چیخا تو اُس نے بمشکل آنکھیں کھولتے ہونٹوں اور زبان پھیرتے اُنہیں تر کیا۔

“مم۔۔۔میں نے ۔۔۔کیا ۔کیا ہے ؟”

وہ آنکھیں جھکائے ہی بولی تو ارمان نے سختی سے اسے گھورا۔

“تمہیں یہ جنوں نے تیار کیا ہے کیا ؟”

وہ طنزیہ بولا تو مرحا نے نفی میں سر ہلایا۔

“اب اپنے لالا کی۔۔شادی پر اتنا تیار۔ہونا تو بنتا ہے۔۔میرا”

وہ آہستہ آواز میں احتجاج کرنے لگی۔

“مجھے نہیں پسند تمہارا یوں اتنے لوگوں میں تیار ہو کے پھرنا۔۔۔۔دیکھ لیا نہ تم نے نتیجہ”

وہ اُس عورت کے الفاظ یاد کرتا سختی بولا تو مرحا نے اُسے دیکھا۔

“ارمان ۔۔۔اب میرا کیا قصور۔۔ہے اس میں”

وہ دکھی سے لہجے میں بولی تو ارمان نے اُسے دیکھا۔

“تمہارا قصور کوئی نہیں ہی مگر تم ابھی منہ دھو رہے ہو اور بال ٹائی کر رہی ہو”

وہ سنجیدگی سے بولا تو اُس نے منہ بسورا۔

“ہرگز نہیں۔ اتنی محنت سے تیار ہوئی ہُوں میں اب منہ دھو دوں”

اُس کو بات مانتے نہ دیکھ ارمان نے اُسے گھورا۔

“ٹھیک ہے پھر منہ نہیں دھو اور مہمان جانے تک روم میں ہی بیٹھو پھر باہر آ جانا”

اُس کی بات پر مرحا نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔

“ارمان پلیز مجھے تنگ نہیں کریں ناں”

وہ عاجز آتی بولی تو ارمان نے اُسے خود سے لگایا۔

“اچھا نہیں کرتا تنگ۔۔۔طبیعت ٹھیک ہے میری جان کی”

وہ پیار سے بولا تو وہ مسکرائی۔

“جی ٹھیک ہے، بس یہ نیکلیس مجھے بہت اریٹيٹ کر رہا ہے”

وہ گردن پر ہاتھ لپیٹے ہوئے بولی تو ارمان نے اُس کے ہاتھ گردن سے ہٹائے اور پیچھے سے ہار اُتار کر اُس کے ہاتھ میں دیا۔

پھر اُس کا چہرہ اوپر کر کے اُس کی گردن کا جائزہ لیا تو ارمان تڑپ اٹھا۔

ہاتھوں سے اُس کی گردن پر بنے سرخ نشانات کو سہلاتے ارمان نے فکر مندی سے اسے دیکھا۔

“جب نہیں پہنائی جاتیں ایسی ہیوی چیزیں تو مت کرو ناں پھر۔ یہ خود کو تکلیف دے کرسکوں ملتا ہے تمہیں ؟”

وہ اُسے سمجھاتا اچانک ہے اُس کی گردن پر جھکا اور اپنی ہونٹوں سے مرہم رکھنے لگا۔

اُس کے لمس میں اس قدر نرمی تھی خ مرحا کو اپنی تکلیف محسوس ہی نہیں ہو رہی تھی۔

ارمان اُس کی گردن کو اپنے لمس سے سکون پہنچاتا پیچھے ہوا اور بیڈ کی طرف گیا۔

وہاں سے اُس کا دوپٹہ اٹھا کے اُس کے گرد اوڑھا اور اُس کی کمر میں ہاتھ ڈالے باہر کی جانب آیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *