Tere Liye by Ayat Fatima NovelR50622 Tere Liye (Episode 18)
Rate this Novel
Tere Liye (Episode 18)
Tere Liye by Ayat Fatima
مہروش کو آویز کی کال ائی تھی کہ وہ گیٹ پر آ چکا ہے مہروش آ کے روحان اُس سے لے لے۔
سیرت نے اُسے کافی چھیڑا تھا۔
مہروش باہر ائی تو سامنے ہی آویز کی بلیک پراڈو موجود تھی۔
مہروش فرنٹ سیٹ کے قریب ائی اور اُس نے دروازہ کھولا تو روحان بلیک ٹی شرٹ اور شارٹس میں سیٹ بیلٹ باندھے بیٹھا بے حد پیارا لگ رہا تھا۔
ساتھ ہی ڈرائیونگ سیٹ پر آویز شاہ بھی بلیک ہی تھری پیس پہنے بیٹھا تھا دونوں باپ بیٹا ہی حسن میں ایک دوسرے سے بڑھتے تھے۔
مہروش کو فیصلہ کرنا مشکل لگا کہ زیادہ پیارا کوں لگ رہا ہے۔
روحان مہروش کو دیکھتے ہی بازو اوپر اٹھاتا کھلھلانے لگا تو اُس نے مسکراتے ہوئے اُس کا بیلٹ کھول کر اُسے بانہوں میں لیا۔
اُسے بھی رات سے روحان کی بہت یاد ائی ہوئی تھی۔
“میرا بچہ”
وہ اُس کی گال پر کس کرتی ہوئی بولی تو آویز نے محبت سے اُسے دیکھا تھا جو وائٹ کلر کی لونگ شرٹ کے ساتھ گرے سٹولر اوڑھے ہوئے بہت پیاری لگ رہی تھی۔
اسٹولر گلے میں ڈالے ہونے کی وجہ سے اُس کے ریشمی بال دونوں شانوں پر بکھرے ہوۓ تھے۔
پل میں ہی آویز کو اُس کی لا پرواہی پر طیش آیا تھا۔
وہ جھٹکے سے دروازہ کھول کر اُس کی طرف آیا۔
مہروش جو روحان کو پیار کر رہی تھی اُسے باہر آتے دیکھ حیران ہوئی۔
آویز نے قریب آ کر اُسے زور سے پکڑ کر گاڑی میں بیٹھاتے دروازہ بند کیا تو وہ پریشان سی ہوئی کہ اچانک کیا ہوا جو وہ ایسے ریيکٹ کر رہا تھا۔
آویز شاہ نے واپس اپنی سیٹ پر بیٹھ کر زور سے دروازہ بند کیا۔
“حلیہ دیکھا ہے اپنا ؟ یا یوں ہی منہ اٹھائے باہر چلی ائی ہو”
وہ برہم لہجے میں بولا تو مہروش نے حیرت سے اُسے دیکھا تھا۔
“ٹھیک تو ہے میرا حلیہ۔۔۔کیا ہوا ہے”
وہ عجیب نظروں سے آویز کو دیکھتے ہوئی بولی تو وہ مزید آگ بگولہ ہوا۔
“تم بچی نہیں ہو جو دوپٹے کو رسی کی طرح گردن پر باندھ دیا ہے۔۔۔ابھی اسے کھول کر سر کو ڈھانپو۔ کم از کم بندہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے احتیاط کر لیتا ہے مگر نہیں ہر بات سمجھآنی پڑے گی”
آویز بے حد غُصے سے اُسے دیکھتا ہوا بولا تو مہروش کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
باہر کافی لوگ موجود تھے تو اُسے خود کو ڈھانپ کر آنا چاہیے تھا۔
“اچھا نا اب ڈانٹیں تو نہیں۔ آئندہ خیال رکھوں گی”
وہ دوپٹہ گلے سے نکالتی سر پر کرتے ہوئے بولی تو آویز نے سر ہلایا۔
“ڈانٹ نہیں رہا سمجھا رہا ہوں”
وہ اس بار قدرے نرمی سے بولا تو وہ مسکرائی۔
“حان کو زیادہ اٹھانا ابھی تمہارے لیے ٹھیک نہیں ہے بس ہاتھ پکڑ لینا خود چل لے گا۔”
آویز نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا تو مہروش نے اثبات میں سر ہلآیا۔
“میں جلدی آ جاؤں گا آفیس سے تم تیار رہنا عصر تک”
وہ سنجیدگی سے بولا تو مہروش نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“آپ نہیں ائیں گے لالا کی طبیعت پوچھنے ؟”
وہ جھجکتے ہوئے بولی۔
“کیا مجھے آنا چاہیے ؟”
آویز شاہ نے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا تھا۔
“کیوں نہیں ضرور آئیے گا آپ سب آپ سے ملنا چاہتے ہیں”
وہ خوشی سے بولی تو آویز ہلکا سا مسکرایا۔
“اوکے جب تم دونوں کو لینے آؤں گا کچھ دیر سب سے مل لوں گا۔۔۔۔ اب جاؤ ٹم دونوں خدا حافظ”
آویز نے بات ختم کرتے ہوئے روحان کو اُس سے لے کر اُسکی وہی گال چومی جس پر مہروش نے کس کی تھی۔
پھر روحان مہروش کو دیا تو وہ بھی خدا حافظ بولتی گاڑی سے اُتری اور اندر کی طرف جانے لگی تو آویز گاڑی آگے بڑھا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہروش روحان لے کر اوپر والے لاؤنج میں آ گئی تھی کیونکہ نیچے مہمان تھے۔
ایک ملازمہ روحان کا بیگ مہروش کے کمرے میں رکھ ائی تھی۔
بڑی سب خواتین نیچے تھیں جبکہ وہ چاروں اوپر تھیں کیونکہ اب وہ مہمانوں کی خاطرداریاں کر کر کے تھک چکی تھیں۔
اُن تینوں نے جیسے ہی مہروش کی گود میں روحان کو دیکھا تینوں ہی تیزی سے اُس تک آئیں۔
اُن سب کی چھوٹے بچے بہت پسند تھے۔۔۔
مگر حویلی میں کوئی بچہ نہیں تھا اس لیے وہ اب روحان کو دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھی تھیں۔
روحان اتنا پیارا تھا کہ وہ تینوں پاگل سی ہو رہی تھیں۔
“سو کیوٹ یار!!!”
مرحا اُس کا گال کھینچ کر بولی تو روحان نے شرما کر چہرہ مہروش کی گردن میں چھپایا۔
“ہاہاہا دیکھا بچہ ڈر گیا تم سے ہٹو میں اٹھاتی ہوں دیکھنا میرے پاس آ جاے گا”
سیرت زور سے ہنستے ہوئے بولی تو مرحا منہ بناتی پیچھے ہوئی۔
سیرت نے پیچھے سے آتے روحان کی طرف ہاتھ بڑھایا تو روحان نے اُس کا ہاتھ تھام کر خود سے دور جھٹکا۔
اب ہنسنے کی باری مرحا کی تھی۔
“کیا ہوا سیرت اٹھاو ناں”
وہ ہنستی ہوئی بولی تو سیرت نے غصے سے اُسے گھور کر دیکھا۔
“حان کو روم میں لے جائیں مم ؟”
مہروش نے اُسے دیکھتے ہوئے سوال کیا تو روحان نے جلدی سے سر ہلایا۔
ابھی مہروش اپنے روم کی طرف بڑھتی کے روحان کی نظر ایک طرف کھڑی پلوشے پر گئی تھی۔
وہ سب ہے روحان کے اگلے عمل پر حیرت سے منہ کھول کر رہ گئیں۔
جب روحان نے مہروش کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اُس کا چہرہ پلوشے کی طرف موڑا۔
پھر اُس نے دونوں بازو پلوشے کی طرف کیے تھے جیسے وہ اُس کے پاس جانا چاہتا ہو۔
“مم۔۔۔بی بی (بے بی)”
اُسے پلوشے چھوٹی سی لگی تھی تو اُس نے مہروش کو بتایا کہ یہ بے بی ہے۔
اُس کے الفاظ سمجھتے سب کے ہے قہقہے گونجے۔
مہروش جیسے ہی اُسے پلوشے کے پاس لے گئی وہ اُسکی گود سے ہمک ہمک کر پلوشے کی گود میں کودنے کی کوشش کرنے لگا۔
وہ بھی خوشی سے فوراً اُسے اپنی بانہوں میں بھر گئی تو مہروش نے ہونٹ باہر نکال کر روحان کو دیکھا۔
جو اب اپنی پارٹی بدل چکا تھا۔
“اسے کہتے ہیں بے وفائی کی اعلیٰ مثال”
سیرت اُسکی حرکت پر مسکرا کر بولی تو باقی سب بھی مسکرائیں۔
ارمان ابھی سویا تھا تو اس لیے مرحا ریلیکس تھی۔
ویسے بھی اب ارمان کی حالت پہلے سے تھوڑی نارمل تھی کیونکہ ایک تو ہاسپٹل کا ماحول بہت ڈسٹربڈ ہونے کی وجہ سے وہاں سکون نہیں تھا دوسرا حویلی میں اُس کا خاص خیال رکھا جا رہا تھا۔
مرحا خود اُس کے لیے ہیلدی کھانا بنا کر اُسے کھلاتی ، فروٹ کھلاتی اور فیملی کے سب افراد اُس کے پاس ہی رہتے تاکہ وہ اُداس نے ہو۔
اور واقعی اُن سب کی صرف ایک دن کی محبت اور توجہ کا اثر تھا کہ ارمان کے چہرے کے زرد پن میں کمی سی آ گئی تھی۔
وہ چاروں اب صوفے پر آ بیٹھی تھیں مہروش تو ایک الگ صوفے پر بیٹھی اُن کا دیوانہ پن دیکھ رہی تھی۔
وہ تینوں ہی ایک صوفے اور بیٹھی تھیں درمیان میں روحان پلوشے کی گود میں بیٹھا تھا۔
روحان خود بہ خود ہی پلوشے سے مانوس ہو رہا تھا۔
اُس نے جھک کر روحان کی پیشانی چومی تو وہ خوش ہوتا اُس کے سینے پر سر رکھ گیا اب اُس کا چہرہ سیرت کی طرف تھا۔
جو بیچاری حسرت سے اُسے دیکھ رہی تھی مگر روحان اُسے خود کو دیکھتے پا کر فوراً آنکھیں بند کر گیا تو مہروش کا دل کیا زور سے ہنسے۔
“کوئی انتہائی میسنا بچا ہے تمہارا”
سیرت دکھ اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے مہروش کو دیکھتے ہوئے بولی تو اُس نے اپنی مسکراہٹ ہونٹوں میں ہی دبائی۔
“تم تو صدا کی جل ککڑی ہو سیرت۔۔۔وہ بیچارہ تمہارے پاس نہیں آ رہا تو اتنے معصوم سے بچے کو ميسنا ہی کہہ دیا۔۔۔ “
پلوشّے اُسے گھور کر بولی۔
روحان اب بلکل اُس کی گود سے ہلنے کا نام بھی نہیں لے رہا تھا۔
مرحا بھی اُسے اپنی جانب متوجہ کرنے میں لگی تھی مگر مجال ہے اُس نے ذرا ایک نظر بھی اس پر ڈالی ہو۔
“بی بی”
روحان نے پلوشے کی طرف دیکھ کر اُسے مخاطب کیا تو وہ پیار سے مسکرائی۔
اُس نے زور سے روحان کی دونوں چیکس پر کس کیں تو وہ پھر سے شرما دیا تھا۔
“اُفف یار مہروش تم کیسے رہتی ہی اس پالے سے بچے کے ساتھ۔۔۔کتنا کیوٹ ہے۔ تم تو سارا دن اسے پیار ہی کرتی رہتی ہو گی۔۔۔ہے ناں”
مرحا اُس کی پیاری پیاری حرکتوں پر جی جان سے متاثر ہوتی بولی۔
تو وہ فقط مسکرا دی۔
“ماشاءاللہ بھی بول دو یار نظر لگ جائے گی”
مہروش سنجیدگی سے بولی تو تینوں نے ہی ماشاللہ کہا۔
“پلیز مہروش آج رات اسے یہیں رہنے دو”
پلوشے نے التجا کرتے کہا تو مہروش نے اُس کی طرف دیکھا۔
“جتنا تم لوگوں کو یہ پیارا لگ رہا ہے ناں اس سے ہزار گنا زیادہ پیارا ہے یہ اپنے بابا کو۔ وہ ہرگز اسے یہاں نہیں رکنے دیں گے “
مہروش نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
“اوہ ہو کہہ تو ایسے رہی ہو جیسے رات کو بھی اس کو اپنے ساتھ سلاتے ہو تم دونوں “
سیرت اُسے دیکھ کر معنی خیزی سے بولی تو مہروش شرمندہ سی ہو گئی۔
اُس سے کوئی جواب نہیں بن سکا تو وہ خاموش ہی ہو گئی تھی۔
“شرم کر لو کچھ، کب سے بیچاری کے پیچھے لگی ہو”
مرحا نے سیرت کو شرم دلانی چاہی تو سیرت نے اُسے دیکھتے آنکھ دبائی۔
“یہ کوئی بيچاری نہیں ہے اچھا۔۔۔اور تک بھی خاموش رہو نہیں تو پھر میں تمہیں مزا نہ چکھا دوں”
سیرت کی بات پر مرحا سٹپٹا کر اُس سے نظریں پھر گئی۔
“بی بی جی بہرام صاب آ گئے ہیں وہ نیچے والے کمرے میں ہیں اور آپ کو بلا رہے ہیں”
ملازمہ نے آ کر سیرت کو پیغام دیا تو مہروش نے آں ہاں کہتے اُسے چھیڑا۔
سیرت جلدی سے نیچے بھاگ گئی تھی تاکہ وہ اُسے مزید نہ تنگ کر سکے۔
“پلوشے حان کو بھوک لگی ہو گی آؤ روم میں میں تمہیں اس کا دودھ بنا دیتی ہُوں پلا دو اسے”
مہروش نڈھال سے بیٹھے روحان کو دیکھتی بولی تو پلوشے نے سے ہلایا۔
“میں نیچے جا رہی ہیں دوپہر ہو رہی ہے اب کوئی نہیں ائے گا تم لوگ بھی روحان کی دودھ پلا کر آ جانا”
مرحا کہتی ہوئی نیچے کی طرف بڑھی اور وہ دونوں مہروش کے کمرے کی طرف آ گئی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت وہ سب لوگ لاؤنج میں موجود تھے۔
شام کے چھ بج رہے تھے، آویز ابھی تک نہیں آیا تھا۔
ماہر کی ساری فیملی بھی وہیں موجود تھی۔
وہ لوگ ارمان کو بھی سہارا دے کر نیچے لائے تھے۔
اب وہ بھی ایک صوفے پر شائستہ بیگم کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا۔
روحان ابھی تک پلوشے کی گود میں ہی موجود تھا۔
سب کو ہی وہ بہت پیارا لگا تھا تو سب نے ہی باری باری اُسے پیار کیا تھا۔
ماہر اب بیٹھا غصے سے روحان کو گھور رہا تھا جو اُس کی بیوی کو چپک ہی گیا تھا۔
مہروش ارمان اور ازمیر خانزادہ کے درمیان میں صوفے پر بیٹھی تھی۔
سب ہی اُسے مزید کچھ دن رکنے کا کہہ رہے تھے۔
مگر اُس نے یہ ہے کہا کہ وہ آویز کو کہے گی آفیس جاتے وقت اُن دونوں کو ادھر چھوڑ دیا کرے اور واپسی پر لے لیا کرے۔
“اللہ میری مرحا کی گود بھی جلدی بھرے تاکہ ہمارے پاس بھی پیارا سا بچا آ جائے”
شائستہ بیگم کی بات پر مرحا نے شرمندگی سے چہرہ سیرت کے پیچھے چھپایا۔
ارمان بھی اُن کی بات پر معنی خیزی سے اسی ہی دیکھنے لگا تو وہ مزید سرخ ہوئی۔
“ماما آپ خود ہی سوچیں عجیب نہیں لگے گا بڑے بھائی سے پہلے چھوٹا بھائی باپ بنا بیٹھا ہو”
بہرام نے مسکرا کر شرارت سے کہا تو اب سیرت شرم سے زمین میں گڑھنے والی ہوئی تھی۔
“تو بیٹا جی پھر کیا خیال ہے آپ کی شادی بھی کر دیں”
ازمیر خانزادہ نے بھی مسکراتے ہوئے کہا تو بہرام نے فوراً اُن کی طرف دیکھا۔
“ہاہاہا ڈیٹس نوٹ فیئر بابا۔۔۔نیکی اور پوچھ پوچھ”
بہرام بے باکی سے بولا ادھر سیرت نے خود کو بلکل نورین بیگم میں چھپایا۔
اُس کا دل کر رہا تھا یہاں سے کہیں بھاگ جائے۔
سب کے سامنے ایسی باتوں پر وہ عجیب سے کیفیت کا شکار ہو رہی تھی۔
“اپنے چاچو سے پوچھ لو انہیں کوئی اعتراض نہیں تو اگلے مہینے کی کوئی ڈیٹ رکھ لیتے ہیں۔ ارمان بھی مکمل صحت یاب ہو جائے گا تب تک”
ازمیر خانزادہ نے اپنی طرف سے گرین سگنل دیا۔
سیرت اب شرماتی ہوئی تیزی سے اٹھتی اوپر کی جانب بھاگ گئی۔
بہرام کی مسکراتی نظروں نے دور تک اُس کا پیچھا کیا تھا۔
وہ جانتا تھا اس وقت اُس کی کیا کیفیت ہو گی۔
“مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر میں ایک دفعہ سیرت کی مرضی پوچھ لوں پھر کرتے ہیں تیاریاں”
زبیر خانزادہ نے مسکرا کر کہا تو بہرام کے ہونٹوں پر زندگی سے بھر پور مسکراہٹ بکھری۔
دوسری طرف سامنے بیٹھے ماہر نے گھور کر بہرام کو دیکھا تھا جس کی گاڑی ابھی بیچ میں ہی پھنسی ہوئی تھی۔
بہرام اُس کی گھوریاں سرے سے نظر انداز کرتا اپنی خوشی انجواۓ کر رہا تھا۔
تبھی دروازے سے آویز شاہ اپنی سحر انگیز پرسنیلٹی کے ساتھ لاؤنج میں داخل ہوا۔
اُس کے ساتھ ہی کچھ ملازم فروٹس اور مٹھائیوں کے ٹوکرے لائے تھے کیونکہ وہ پہلی دفعہ حویلی آیا تھا۔
اُسے دیکھ کر سب مرد حضرات نے کھڑے ہوتے اُس کا استقبال کیا تھا سوائے ارمان خانزادہ کے ایک تو وہ تکلیف کے باعث اٹھ نہیں سکتا تھا دوسرا وہ آویز کے منہ نہیں لگنا چاہتا تھا۔
مہروش بھی اُسے آتے دیکھ کر شرمیلی سی مسکراہٹ لیے اپنی جگہ سے اٹھتی پلوشے کے پاس آ کر بیٹھی۔
آویز سب سے ملا پھر آخر میں سادگی سے ارمان کا حل پوچھتا ہوا بہرام کے ساتھ بیٹھا۔
ارمان نے بس ٹھیک ہوں کہہ کر جان چھڑائی تھی۔
وہ ہرگز آویز کا الزام نہیں بھول سکتا تھا اویس جانتا بھی تھا کہ وہ اور احتشام کتنے اچھے دوست ہیں لیکن پھر بھی اُس نے یہ گھٹیا الزام ارمان پر ہی لگایا تھا۔
ارمان جب تک خود کو بے گناہ ثابت نہیں کر دیتا وہ آویز سے تب تک بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اب سب مرد حضرات آویز سے باتوں میں لگے تھے۔
روحان بھی اپنے بابا کو دیکھتا اپنی بی بی کو بائے بولتا اُس کے پاس جا کر اُس کی گود میں بیٹھ چکا تھا۔
ماہر نے بھی اُس کے علیحدہ ہونے پر شکر کا سانس لیا تھا۔
نہیں تو وہ بچہ تو اسے اب اپنا رقیب ہے لگنے لگا تھا۔
“چلیں”
تقریباً پندرہ منٹ بعد آویز سوالیہ نظروں سے مہروش کو دیکھتے ہوئے بولا تو اُس نے سر اثبات میں ہلایا۔
“میں بس روحان کی چیزیں پیک کر کے اس کا بیگ لاتی ہوں آپ اٹھیں”
وہ سادگی سے کہتی اوپر چلی گئی تو آویز بھی روحان کو اٹھا کر کھڑا ہوا۔
وہ سب کو خدا حافظ کہتا قدم بڑھانے ہی لگا تھا کہ روحان کی آواز پر ٹھہرا۔
“بی ۔۔ بی بائے ۔۔۔۔بائے”
روحان پھر سے اپنی بی بی سے مخاطب ہوا تھا۔
وہ ہاتھ ہلاتا اتنا کیوٹ لگ رہا تھا کہ پلوشے کا دل کر رہا تھا اُسے پھر سے اٹھا لے۔
ماہر نے اب کی بار ضبط سے اُس پٹاخہ بچے کو دیکھا تھا جو اُس کی بیوی کے پیچھے ہی پڑ گیا تھا۔
آویز اُسکی حرکت پر مسکرایا تھا جبکہ باقی سب بھی محبت سے روحان کو دیکھتے مسکرا دیئے۔
وہ تھا ہے اتنا پیارا کہ اس نے ایک دن میں ہی اُن سب کے دل جیت لیے تھے۔
“آویز بیٹا کل بھی روحان اور مہروش کو کچھ دیر یہاں چھوڑ دینا۔ بچیاں خوش ہو جاتی ہیں”
شائستہ بیگم کی بات پر جہاں آویز نے سے ہلایا تھا وہیں ارمان نے منہ بنایا تھا۔
“بچیوں کو اتنی ہی خوشی ہوتی ہے بچوں کے انے سے تو اپنے پیدا کریں”
ارمان دھیمی آواز میں بڑبڑایا جو اُس کے علاوہ کوئی بھی نہیں سن پایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج پندرہ دن ہو گئے تھے ارمان کی حالت اب بہت بہتر تھی وہ خود چل بھی لیتا تھا اور باقی سب کام بھی خود کرنے لگا تھا۔
اب بس کچھ ویکنيس تھی وہ بھی ڈاکٹر سے چیک اپ کرایا تو انھوں میں کہا تھا کہ اگر و اسی طرح ڈائٹ کا خیال رکھتے رہے تو کچھ دنوں میں وہ مکمل پہلے جیسی حالت میں آ جاۓ گا۔
اِدھر مہروش بھی اب کبھی روزآنہ یہ ایک دن چھوڑ کر حویلی انے لگی تھی۔
روحان کا دل بھی ان سب کے ساتھ زیادہ لگنے لگا تھا۔
کیونکہ اُن کی حویلی میں افراد کم ہونے کی وجہ سے وہ بور ہوتا مگر یہاں کافی سارے لوگ دیکھ کر وہ خوش ہو جاتا تھا۔
آویز نے اپنی طرف سے ساری دشمنی ایک طرف رکھ دی تھی۔
وہ مہروش کو اس حالت میں مزید پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے وہ اُسے ہرگز وہاں جانے سے نہیں روکتا تھا۔
رابعہ بیگم نے بھی اُسے سمجھایا تھا کہ جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا اگر ارمان نے احتشام کو مارا بھی ہو تو ہم نے اپنا بدلہ لے لیا بات ختم۔
دوسری طرف سیرت سے بھی رخصتی کے لیے رضامندی لے لی گئی تھی۔
اب حویلی میں شادی کی تیاریاں بھی زوروشور سے چل رہی تھیں۔
ماہر بیچارہ تو اپنے غم میں پریشان تھا سب کی شادیاں ہو گئی تھیں یا ہونے والی تھیں بس وہ ہی رہ گیا تھا۔
ابھی تو اُس کی بیوی کا بزنس بھی رہتا تھا ہاہاہا۔۔۔۔۔
پلوشے کے ساتھ ساتھ روحان نے بہرام سے بھی دوستی کر لی تھی۔
بہرام جب بھی آفیس سے لوٹتا روحان فوراً اُس کی گود میں چڑھ جایا کرتا۔
بہرام کو بھی وہ چھوٹا سا بھالو بہت پیارا تھا جو ہر وقت حویلی میں رونق سی مچائے رکھتا۔
مہروش کی طبیعت ان دنوں کچھ خراب سی تھی۔
چکر اور الٹیاں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔
آویز اور باقی سب اس بات پر بہت پریشان تھے۔
وہ اُسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا تو انہوں نے کہا تھا اس حالت میں یہ سب نارمل ہے۔
مگر مہروش کی نازک جان یہ برداشت ہی نہیں کر پا رہی تھی۔
وہ الٹیاں کر کر کے ادھ موئی ہو جاتی تھی۔
بات بات پر رونے لگتی ، سب ہی اُس کی حالت پر پریشان تھے۔
شائستہ بیگم تو کافی مرتبہ آویز سے کہا تھا کہ کچھ دن مہروش اُنہیں کے پاس چھوڑ دیں۔
وہ خود اپنا خیال ٹھیک سے نہیں رکھتی اس لیے اُس کا یہ حال ہے مگر آویز کو یہ بات منظور نہیں تھی۔
مہروش کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ اُس کا اپنا گھر ہے وہ کیسے سب کچھ چھوڑ کر یہاں آ جائے۔
رابعہ بیگم بھی کئی دفعہ اُسے خود ڈاکٹر پاس لئے کر گئیں مگر آج دسواں دن تھا اُس کی حالت میں ذرا سا بھی فرق نہیں پڑا تھا۔
اب بھی مہروش خان ہاؤس میں اپنے روم میں موجود تھی۔
شائستہ بیگم اُس کے پاس بیٹھیں اُس کے لیے فروٹ کاٹ رہی تھیں اور وہ آرام سے لیٹی اُنہیں دیکھ رہی تھی۔
جب بہرام روحان کو اٹھائے کمرے میں داخل ہوا تھا۔
مہروش اُسے دیکھتے اٹھنے لگی تو بہرام نے اُسے لیٹے ہی رہنے کا اشارہ کیا۔
“کیسی طبیعت ہے اب میری گڑیا کی ؟”
بہرام محبت سے بولا اور بیڈ کے پاس رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔
روحان اب بیڈ کے پاس آتا مہروش کے نزدیک کھڑا ہو گیا تو مہروش نے اُس کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
“بہتر ہوں”
وہ نقاہت سے بولی تو بہرام نے فکر مندی سے اسے دیکھا۔
وہ اتنی بیمار سی لگ رہی تھی کہ بہرام دل کر رہا تھا وہ بلکل پہلے جیسی ہنستی مسکراتی مہروش بن جائے۔
“تنگ تو نہیں کیا حان نے آپ کو ؟”
وہ مسکرا کر روحان کو دیکھتے دھیمی آواز میں بہرام سے مخاطب ہوئی تو وہ بھی مسکرا دیا۔
“نہیں بلکل بھی نہیں انفیکٹ اسے مل کر تو میری ساری پریشانیاں مجھے بھول ہی جاتی ہیں۔۔۔”
بہرام محبت سے روحان کو دیکھتے ہوئے بولا۔
“ماشاءاللہ روحان ہے ہی بہت پیارا۔۔۔اب بس میری تو یہی دعا ہے اس حویلی میں بھی جلد ہی بچوں کی کلکلاریاں سننے کو ملیں “
شائستہ بیگم نے مسکرا کر کہا تو بہرام اپنی مسکراہٹ دبا گیا۔
“ارمان نہیں آیا ؟”
اُن کے سوال پر بہرام نے نفی میں سر ہلایا۔
“کہہ رہا تھا کوئی ضروری فائل بنانی ہے وہ بنوا کر ہی آئے گا”
بہرام نے اُس کے نہ آنے کی وجہ بتائی۔
“کتنی دفعہ کہا ہے دونوں بھائی اکٹھے آئے گئے کرو۔۔۔”
وہ فکر مندی سے بولیں تو بہرام اُن کے پاس آتا اُنہیں اپنے حصار میں لے گیا۔
“امی وہ بابا کے ساتھ آ جائے گا آپ پریشان مت ہوں۔۔۔۔۔ہمیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے ہاتھ نہیں ٹوٹے ہوئے جو اس دفعہ بھی مقابل کی گولیاں کھا لیں گے۔ میں تو سوچتا ہُوں مرنے والا جو بھی ہے سامنے آ کر مارے ناں یہ کیا بزدلوں کی طرح اندھیرے میں چھپ چھپ کر گولیاں چلائی ہیں”
بہرام سنجیدگی سے بولا تو شائستہ بیگم نے بھی سر ہلایا۔
پھر اُنھوں نے فروٹاسکی پلیٹ مہروش کے پاس رکھی۔
“اٹھو مہروش تم یہ فروٹس کھاؤ میں ذرا نیچے جا رہی ہوں تمہارے بابا لوگ انے والے ہیں کھانا دیکھ لوں”
وہ اٹھتی ہوئی بولیں تو مہروش نے سر ہلایا۔
“گڑیا میں بھی چلتا ہوں”
بہرام بھی کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تو روحان میں مڑ کے اسے دیکھا۔
“بام۔۔۔”
وہ سب کے ہی چھوٹے چھوٹے نام رکھ چکا تھا۔
اب بھی بہرام کی طرف ہاتھ کرتے اُسے اس کے نام سے پکارا تو مہروش نے گھور کر جبکہ بہرام نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔
جو اب پھر سے بہرام کے ساتھ جانا چاہ رہا تھا۔
“حان نوٹ بام بے بی۔۔۔مامو ہیں یہ آپ کے”
مہروش میں ایک دفعہ پھر سے تصیح کی تھی مگر روحان نے اُس کی کہاں سننا تھی
“میں اسے لیتا جاؤں ؟”
بہرام نے مہروش کی طرف دیکھتے سوال کیا تو اُس نے سوچتے ہوئے روحان کو دیکھا۔
“نہیں لالا اس نے صبح سے ایک فیڈر بھی دودھ نہیں پیا۔۔۔کب سے بھوکا پھر رہا ہے اب اسے دودھ پلا لوں”
وہ مسکراتی ہوئی اٹھ کر بیٹھتی ہوئی بولی۔
بہرام بھی سر ہلاتا کمرے سے نکلا تو مہروش نے بیڈ سے اُٹھتے روحان کو بیڈ پر لٹایا۔
اپنے موبائل میں کارٹون لگا کر اُسے موبائل پکڑایا۔
کِیُونکہ وہ محترم کارٹون کے علاوہ فیڈر کو منہ بھی بھی لگاتے تھے۔
پھر اُس کے بیگ سے فیڈر نکال کر روم فرج سے دودھ اُس میں ڈالا۔
پھر فیڈر بند کرتے اُس تک آئی جو اب تھکن کے باعث آنکھیں ہلکی ہلکی ہی کھولے ہوئے تھا۔
مہروش نے خود بیڈ پر بیٹھ کر موبائل اپنے ہاتھ میں لیتے روحان کو اپنی گود میں ڈالا ایک ہاتھ سے اُس کے منہ میں فیڈر ڈالے ایک دوسرے موبائل اُس کے سامنے پکڑے ہوئی تھی۔
“مم کی پاگل سی جان”
مہروش اُس کی آنکھوں پر ہونٹ رکھتی محبت سے بولی۔
کچھ ہی دیر میں روحان کی آنکھیں بلکل بند ہوتیں اُس کے سونے کی یقین دہانی کروا چکی تھیں۔
مہروش نے آہستہ سے خالی فیڈر سائڈ اور رکھا اور موبائل بھی بند کر کے بیڈ پر رکھتے روحان کو نرمی سے اپنی گود سے بیڈ پر منتقل کیا۔
پھر اُس پر اچھے سے کمبل ڈالا۔
ابھی اُس نے اپنی فروٹس کی پلیٹ پکڑی ہی تھی کہ اُس کا موبائل رنگ ہوا۔
فون پر آویز کا نام جگمگایا تو مہروش نے مسکرا کر کال اوکے کر کے کان سے لگائی تھی۔
“اسلام و علیکم”
مہروش نے سلام میں پہل کی تھی۔
“وعلیکم السلام۔۔۔کیسے ہو تم ۔۔۔طبیعت بہتر ہوئی کچھ”
آویز کے لہجے میں فکر ہی فکر تھی۔
مہروش اُس کی محبت پر دل سے خوش اور مطمئن ہوئی۔
“جی صبح سے تو ایک ہی وومٹ ہوئی ہے بس۔۔۔چکر بھی نہیں آ رہے”
اُس نے سیب کی کاش منہ میں رکھتے جواب دیا۔
“ہمم۔۔۔حان کہاں ہے ؟”
وہ لمبائی سانس لیتے ہوئی بولا۔
“کب سے کھیل رہا تھا اب زبردستی پکڑ کر دودھ پلا کر سلایا ہے۔۔۔پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے اسے نا کچھ کھاتا ہے نہ پیتا ہے”
وہ اب اُس کی طرف دیکھتی بولی تھی۔
“اوہ۔۔۔اوکے تم بھی کچھ دیر ریسٹ کر لو بعد میں بات ہو گی”
آویز نے کہ تو مہروش نے بھی خدا حافظ بول کر کال کاٹی۔
پھر فروٹس ختم کرتے وہ بھی روحان کے پاس ہی آنکھیں بند کرتی لیٹ گئی تھی۔
