Tere Liye by Ayat Fatima NovelR50622 Tere Liye (Episode 05)
Rate this Novel
Tere Liye (Episode 05)
Tere Liye by Ayat Fatima
“جب ہمارے پاس کوئی ذریعہ ہے ہی نہیں قاتل کو ڈھونڈنے کا تو میں کیسے کوشش کروں۔۔۔کم از کم ایک ثبوت تو ہوتا”
حارث بے بسی سے بولا۔
“ہمم۔۔۔لیکن جب گولیاں میری گن سے نکلی ہی نہیں۔۔۔تو کوئی کیسے یہ بکواس کر سکتا ہے کہ احتشام کو گولی میری گن سے لگی ہے”
ارمان خانزادہ غصے سے چیخا تھا۔
“احتشام سے کسی کی کیا دشمنی ہو سکتی ہے”
حارث پر سوچ لہجے میں اُس کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔
“جہاں تک میں اُسے جانتا ہوں اُس کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی”
ارمان یہ بات اتنے یقین سے بولا کے حارث نے سر ہلایا۔
“مطلب یہ کے دشمن جو بھی ہے وہ تمہارا یا تمہاری فیملی کا ہے اور اس کا مقصد صرف تم دونوں گھرانوں کے تعلقات خراب کرنا تھا”
حارث سنجیدگی سے بولا۔
ارمان نے بہت سوچا لیکن اُسے کوئی ایسا شخص یاد نہیں تھا جس سے اُس کی یا کسی بھی خانزادہ سے دشمنی ہو۔
“نہیں یار۔۔۔ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔۔۔لیکن ہو سکتا ہے قاتل کا مقصد یہی ہو”
ارمان کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔
“میں کل کچھ آفیسرز کے ساتھ جنگل جاؤں گا ہو سکتا ہے کوئی ثبوت مل جائے”
حارث کی بات پر ارمان اُس کا شکریہ ادا کرتا اُسے خدا حافظ بال کر تھانے سے نکلا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آویز بیٹا اپنے رشتے پر دھیان دو تم دونوں۔۔۔۔جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا”
وہ سب ڈنر کر رہے تھے جب رابعہ شاہ نے اُسے مخاطب کیا۔
“جی امی”
اُس نے آہستہ سے جواب دیا تھا۔
جبکہ رابعہ شاہ کے پاس بیٹھی مہروش کے ہاتھ رکے تھے۔
ویسے بھی اب آویز شاہ اپنے دل کو مزید نہیں بہلا پا رہا تھا۔
جو اُسے دیکھتے ہی دھڑکنے لگتا تھا۔
“سوہا بتا رہی تھی کہ مہروش گیسٹ روم میں سوتی ہے؟”
اُنھوں نے آویز کو جانچتی نظروں سے دیکھتے سوال کیا تو ایک پل کو وہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ گڑبڑائے۔
“بیٹا تم دونوں اب میاں بیوی ہو۔۔۔ اپنا رشتہ آگے بڑھاؤ۔ روحان کی طرف سے فکر مند مت ہو اُسے میں رات کو اپنے پاس رکھ لیا کروں گی”
اُن کی اس قدر ڈائریکٹ بات پر مہروش کا تو شرم سے چہرہ ہی سرخ ہو گیا۔
وہ چہرہ بلکل جھکا گئی تھی۔
آویز شاہ نے ایک نظر اُسے دیکھا پھر اثبات میں سر ہلاتا کھانا کھانے لگا۔
رات کو مہروش خود ہی اُس کے روم میں آ گئی تھی وہ اس وقت کہیں باہر گیا ہوا تھا۔
مہروش روحان کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی اُس سے کھیل رہی تھی۔
تبھی دروازہ کھول کر آویز شاہ اندر داخل ہوا اور دروازہ اندر سے لوک کرتا بیڈ پر آیا۔
روحان اُسے دیکھ کے اُس کی گود میں چڑھا تھا۔
مہروش اُس کے یوں بیٹھنے پر سمٹ سی گئی۔
“بھیجا نہیں تم نے روحان کو امی کے پاس ؟”
وہ سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تو مہروش نے چونک کر اُسے دیکھا۔
“نہیں۔۔وہ میں ابھی ایسا کچھ نہیں چاہتی۔۔مجھے وقت۔۔چاہیے”
مہروش نظریں جھکاتی ہاتھوں کو آپس میں ملتے بولی تو آویز شاہ نے کھوجتی نظروں سے اسے دیکھا۔
“وجہ”
وہ اُس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا بولا تو مہروش نے گھبرا کے اسے دیکھا۔
“وجہ۔۔۔ کوئی نہیں ہے۔۔بس میں ابھی ذہنی طور پر تیار ۔۔۔ نہیں ہوں”
اُس نے آہستہ سے جواب دیا تو آویز نے سر ہلایا۔
“کتنا وقت چاہیے ؟ “
وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔ مہروش نے آنکھیں اٹھا کر اُس کی نگاہوں میں جھانکا تھا جہاں اس وقت سنجیدگی ہی سنجیدگی تھی۔
“اممم۔۔۔۔۔۔دو ماہ”
وہ سوچ کے بولی تو آویز شاہ نے اُس کی خوش فہمی پر اُسے گھور کر دیکھا تھا۔
“سوری اتنا صبر نہیں ہے مجھ میں۔۔۔ایک ہفتہ ہے تمہارے پاس خود کو ذہنی و جسمانی طور پر راضی کر لو”
اُس نے اپنا روعب جمایا۔
مہروش بھی خاموش ہو گئی تھی جانتی تھی بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔
“مم۔۔”
روحان نے اُنہیں اپنی جانب متوجہ کیا تو دونوں ہی مسکرا کر اُس کی طرف مڑے تھے۔
دونوں نے ہی اظہار نہیں کیا تھا مگر شاید آنکھیں ہی اظہار کر دیا کرتی ہیں۔
دونوں ہی ایک دوسرے کے دلوں کے راز جانتے تھے۔
مگر خاموش رہے۔
ہر رشتے میں اظہار ضروری نہیں ہوتا۔
شاید۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“لالا چلیں ناں باہر کھانا کھانے چلتے ہیں”
پلوشے نے بہرام کے روم میں داخل ہو کر کہا تو اُس نے محبت سے اسے دیکھا۔
لیپ ٹاپ سائڈ پر رکھ کر وہ اُس کی جانب متوجہ ہوا۔
اُسے اپنی بہنوں سے اس قدر پیار تھا کے اُس نے کبھی اُن کی کوئی خواہش رد نہیں کی تھے۔
اس لیے اُن اب کا دل جب بھی باہر جانے کو کرتا وہ بہرام کو ہی گھسیٹتی تھیں۔
“چندہ آج نہیں۔۔۔ابھی مجھے تھوڑا کام ہے کل چلیں گے”
وہ محبت سے بولا تو پلوشے نے منہ بسور کر اُسے اموشنل بليك میل کرنا چاہا۔
“پلیز لالا ہم سب پہلے ہی مہروش کو بہت مس کر رہی ہیں۔۔۔اتنے دن ہو گئے ہیں اُسے گئے ہوئے۔
مرحا تو اسے یاد کر کہ رو رہی تھی۔
پھر بڑے بابا نے کہا کہ آپ کو کہوں ہمیں کہیں لے جائیں”
اُس کی بات پر بہرام نے گہری سانس بھری اور بالوں میں ہاتھ پھیرتا کھڑا ہوا۔
“آپ جاؤ میں پانچ منٹ تک آتا ہُوں”
وہ رضامند ہوتا بولا۔
پلوشتے تیزی سے باہر نکلی تو بہرام نے پہلے ارمان اور پھر ماہر کو بھی کال کر کہ ساتھ چلنے کا کہا تھا۔
وہ سب لاؤنج میں جمع ہو چکے تھے۔
“مرحا بچے آپ ارمان کی گاڑی میں چلی جائیں”
ازمیر خانزادہ نے سنجیدگی سے کہا تھا۔
جبکہ اُس کا دل ارمان کے ساتھ جانے پر انجانی سی خوشی سے دھڑکنے لگا تھا۔
بہرام کے ساتھ پلوشے اور سیرت جا رہی تھیں۔
ارمان اور مرحا الگ گاڑی میں جا رہے تھے اور ماہر اپنی گاڑی میں جا رہا تھا۔
اُن کا گاؤں اسلاماباد کے قریب ہی تھا تو وہ لوگ منال جا رہے تھے۔
اُن کی حویلی سے منال کا سفر تقریباً آدھے گھنٹے کا تھا۔
سیرت جو فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی اب مقابل کی نظروں سے روہانسی ہو رہی تھی۔
بہرام خانزادہ پلوشے سے باتیں کر رہا تھا جبکہ ڈرائیونگ سے زیادہ فوکس سیرت پر تھا۔
جو اب تنگ آتی غصے سے سرخ پڑ گئی تھی۔
“او تم نے بیلٹ نہیں باندھا۔۔۔ویٹ میں باندھ دیتا ہوں”
بہرام جان بوجھ کر اُسے زچ کر رہا تھا۔
وہ سیرت کی طرف جھک کر آرام سے بیلٹ باندھنے لگا جبکہ سیرت سیٹ سے چپکی سانسیں روک چکی تھی۔
“آج اتنی پیاری لگ رہی ہو کہ دل کر رہا ہے کھا جاؤں تمہیں”
اُس نے بے باک سرگوشی کی تو سیرت شرم سے ڈوب مرنے والی ہوئی۔
“اور آپ اس وقت اتنے برے لگ رہے ہیں مجھے کہ دل کر رہا ہے۔۔۔۔۔پتہ نہیں کیا کر دوں”
وہ جھنجلاتی ہوئی بولی تو وہ مسکرا کر پیچھے ہوا۔
“لالا آپ کو پتہ ہے پرسو ماہر لالا مجھے یونی سے لینے آئے تھے۔۔۔اُنھوں نے اتنی تیز گاڑی چلائی تھی کے مجھے تو لگا تھا میری موت پکی ہے۔۔۔میں نے اُنہیں کہا کہ میں آپ کو شکایت لگا دوں گی تو اُنھوں نے بولا لگا دینا شکایت میں ڈرتا نہیں ہمیں تمھارے لالا سے آیا بڑا”
پلوشے نے بڑے افوس سے کہا تھا۔
اُس کے شیطانی دماغ میں اچانک سے یہ خیال آیا کہ کیوں ناں آگ بھڑکائی جائے۔۔۔ اُس نے اپنے خیالات پہ فوراً ہی عمل کیا تھا۔
“اچھا اُس نے ایسا کہا۔۔۔۔پہنچنےدو مجھے دیکھنا کیسے اُس کی حالت ٹائیٹ کرتا ہوں”
بہرام جانتا تھا اُس کی چالاکیوں کو مگر اُسے خوش کرنے کی خاطر مصنوعی غُصے سے بولا تو وہ واقع خوش ہو چکی تھی۔
جبکہ سیرت نے افسوس سے سر ہلایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ پارکنگ میں گاڑیاں روک چُکے تھے۔
آہستہ آہستہ سب نیچے اترے اور اندر کی طرف بڑھنے لگے۔
اُن سب نے ایک چھ کرسیوں والی ٹیبل سیلیکٹ کی تھی۔
موسم اچھا ہونے کی وجہ سے ہر طرف ٹھنڈئ ہوائیں چل رہی تھیں۔
ارمان اور مرحا ساتھ ہی بیٹھے تھے۔
مرحا کو آج کا دن اپنی زندگی کا حسین ترین دن لگ رہا تھا۔
وہ مسکراتی ہوئی اسی کو نہار رہی تھی جو سنجیدگی سے ویٹر کو آرڈر نوٹ کروا رہا تھا۔
“لگتا ہے آدھے گھنٹے کا سفر ساتھ کر کے تم دونوں کے ارادے بدل گئے ہیں۔۔کیوں ارمان ایسا کیا ہوا اس سفر میں”
ماہر مرحا کو یوں مسکراتے دیکھ معنی خیزی سے بولا۔
اُس کی بات پر وہ خود اور قابو پاتی سرعت سے نظریں پھر گئی تھی۔
ارمان نے حیرانگی سے ماہر کو دیکھا پھر اپنے پہلو میں بیٹھی مرحا پر نظر ڈالی۔
“ہمارے سفر میں تو کچھ نہیں ہوا البتہ مجھے ایسا ضرور لگ رہا ہے۔۔۔اتنا سفر تنہا۔۔کسی کو سوچتے رہنے کی وجہ سے ۔۔۔۔۔ آپ کا دماغ ضرور الٹ گیا ہے”
ارمان نے بھی معنی خیزی سے بدلہ لیا تو سب کے ہی منہ حیرت سے کھلے تھے۔
اب ارمان ریلیکس ہوتا ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھتا مسکرا کر سب کی طرف دیکھنے لگا۔
کِیُونکہ اب ماہر خانزادہ کا جینا حرام ہونے ہی والا تھا۔
“ماہر لالا آپ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نام تو بتائیں ہمیں کوں ہے وہ ؟ کیسی ہے ؟ آپ کو کہاں ملی ؟ “
سیرت تو پرجوش ہوتی سوالوں کی بوچھاڑ کر چکی تھی۔
“تم تو انتہائی ڈیش نکلے۔۔۔۔۔۔۔مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا اور ارمان کو ایک ایک چیز بتا دی۔۔۔لعنت ہے ایسی دوستی پر۔۔۔۔۔۔۔دل تو کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر لڑکیاں نہ بیٹھی ہوتیں تو تجھے ایسی گالیاں دیتا کہ مرتے دم تک تجھے یاد رہتیں”
بہرام غصے سے اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ کر چیخا تھا۔
اُس کی آخری بات پر وہ تینوں یونہی شرمندہ ہوتی سر جھکا گئی تھیں۔
“مجھے تو لگتا تھا کے بہرام لالا شریف ہیں ۔۔۔۔مگر”
مرحا اپنے ساتھ بیٹھی سیرت کے کان میں بولی۔
“ابھی تم نے انہیں جانا ہی کہاں ہے جو تم انہیں شریف سمجھتی رہی “
سیرت رازداری سے کہتی سیدھی ہو بیٹھی۔
“اب کچھ بولو گے بھی یا۔۔۔۔۔۔۔۔”
بہرام ماہر کو گھور کر بولا تو اُس نے کھا جانے والی نظروں سے ارمان کو دیکھا تھا۔
“لالا یہ بیچارے کیا بتائیں گے آپ کو اپنی داستانِ محبت۔۔۔۔میں ہی بتا۔۔”
ابھی ارمان کے الفاظ منہ میں ہی تھے کہ ماہر چیل کی سی تیزی سے اُس تک پہنچ کر اُس کے منہ کو سختی نے بند کر چکا تھا۔
“بکواس بند رکھو اپنی”
ماہر اُسے گھور کر سنجیدگی سے بولا تو ارمان مسکراتا ہو خاموش ہو گیا۔
دوسری طرف بہرام ابھی بھی ماہر کو گھورنے میں مصروف تھا۔
وہ دونوں بچپن سے ہی گہرے دوست تھے۔
بہرام نے کبھی اُس سے کوئی بات نہیں چھپائی تھی یہاں تک کہ سیرت کے لیے اپنی محبت بھی۔۔۔
اور اُس نے کیا کیا تھا۔۔۔کسی سے محبت ہو ہی گئی تھی تو اسے بتا تو دیتا۔ لیکن اُسے شاید اعتبار ہی نہیں تھا بہرام پر۔
ماہر اُسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ پلوشے کو چاہنے لگا ہے۔ مگر بہرام اپنے گھر کی لڑکیوں کے لئے کچھ زیادہ ہی سنجیدہ رہتا تھا۔
اس لیے وہ چاہ کے بھی بہرام کو اس متلعق نہیں بتا پایا تھا۔
ماہر نے تو ارمان کو بھی نہیں بتایا تھا اس بارے میں مگر وہ خود ہی اُس کی نظروں سے اُس کے دل کا حال سمجھ گیا تھا۔
ویٹر کھانا لایا تو وہ سب کھانے کی طرف متوجہ ہوئے۔
لڑکیاں تو آپس میں باتیں کر رہی تھیں جبکہ وہ تینوں بلکل خاموش تھے۔
بہرام کو یوں سنجیدہ دیکھ کر ماہر کا دل کر رہا تھا ابھی اُسے بتا دے۔
باہر والوں کے ساتھ ماہر خانزادہ جیسا رویہ رکھتا تھا گھر والوں کے لیے بلکل اُس سے اُلٹ رویہ ہوتا تھا اُس کا۔
اب بھی اُس سے بہرام کی ناراضگی برداشت بھی ہو رہی تھی مگر کل اُسے منانے کا سوچتا وہ خاموش رہا۔
“لالا کھانے کے بعد ہمیں مال لے جائیں ناں۔۔۔۔تھوڑی سی شوپنگ کر لیتے ہیں”
پلوشے بہرام سے زد کرنے لگی تو اُس نے نفی میں سے ہلایا۔
“نہیں گڑیا۔۔ اب بس حویلی چلیں گے رات گئے تک آپ لڑکیوں کا باہر گھومنا مناسب نہیں لگتا”
بہرام نے اُسے سمجھایا۔
“پلیز لالا”
اس دفعہ مرحا بولی تو ارمان نے غصے سے اُس کی طرف دیکھا۔
“تم خاموش رہو۔۔۔کہہ دیا ہے نا ایک دفعہ کے نہیں جانا اب کہیں۔۔۔چپ چاپ گاڑی میں جا کر بیٹھو تم لوگ ہم بل پے کر کے آتے ہیں”
ارمان سختی سے بولا تو وہ آنسو پیتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
بہرام نے ارمان کو گھورا تھا۔۔۔
“تمیز سے۔۔۔۔۔۔۔۔میری گڑیا اگر جانا چاہتی ہے تو ہم ضرور چلیں گے مال”
بہرام نے پہلے ارمان کو دپٹا تھا پھر پیار سے مرحا کو خود سے لگاتے ہوئے بولا۔
ارمان سر جھٹکتا بل پے کرنے چلا گیا۔
وہ چاروں بھی پارکنگ میں ائے تھے۔
سیرت اور پلوشے بہرام بہرام خانزادہ کی گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں اور مرحا ارمان کی گاڑی میں۔
بہرام اور ماہر کھڑے ارمان کا اِنتظار کر رہے تھے تاکہ وہ مرحا کے پاس آ کر بیٹھے تبھی وہ دونوں اپنی گاڑیوں میں جاتے۔
رات کے اس وقت کافی عیاش لڑکے بھی سڑکوں پر گھوم رہے ہوتے ہیں۔
اس لیے وہ دونوں احتیاطاً رکے ہوئے تھے۔۔۔
کچھ ہی منٹوں میں ارمان پارکنگ میں داخل ہوا تو وہ بہرام اُسے مال کا بتاتے اپنی گاڑی میں آیا۔
وہ دونوں بھی اپنی گاڑیوں میں سوار ہوئے۔
“کیا ضرورت تھی اس وقت ان فضولیات کی”
ارمان ایک بازو سٹرينگ پر رکھے اُس کی طرف دیکھتا بولا۔
“ویسے ہی۔۔۔دل کر رہا تھا ہمارا ابھی شاپنگ کرنے کا۔۔۔آپ لوگ بھی تو اکثر رات دیر تک دوستوں کے ساتھ رہتے ہیں”
وہ بغیر ہچکچائے دو بدو بولی تو ارمان نے آنکھیں نکال کر اُسے ڈرایا۔
“ہم لڑکے ہیں چاہے ساری رات گھر نا آئیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔۔۔۔لیکن تم لڑکیوں کو خیال رکھنا چاہیے۔۔تھوڑی سی اونچ نیچ بھی ہو جائے تو یہ دنیا جینے نہیں دیتی”
آج پہلی مرتبہ ارمان خانزادہ نے اُسے کوئی بات سمجھائی تھی۔
مرحا نے مسکرا کر اُسے دیکھا۔ اُس کے دل میں اچانک ایک سوال آیا تو اُس نے ارمان کا اچھا موڈ دیکھ کر فوراً سے اُس سے پوچھا۔
“ارمان ۔۔۔میں آپ کو کیوں نہیں پسند ؟”
نہ چاہتے ہوئے بھی اُس کا لہجہ بھیگ گیا تھا۔
ارمان خانزادہ نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔
وہ ہمیشہ سے ہی جانتا تھا اُس کی نازک مجازی مگر وہ اُس معصوم کو اُس کی ماں جیسا نہیں بننے دینا چاہتا تھا۔
بیشک وہ اُس کی پھپھو تھیں لیکن ارمان کو اُن سے نفرت تھی۔
اُسے ہر اس قسم کی عورت سے نفرت تھی جو صرف ایک پسند کی شادی کے لیے اپنے گھر والوں کی عزت مٹی میں ملا دیتی ہے۔
وہ کئی بار مرحا کی نظروں میں اپنے لیے محبت دیکھ چکا تھا۔
مگر وہ پھر بھی ہمیشہ اُس سے سخت رویہ رکھتا رہا تھا۔
صرف اس لیے کہ وہ خود کو سمبھال کر رکھے۔۔۔خود کو مضبوط بنا سکے۔۔۔
“میں نے کب کہا کے تم مجھے نہیں پسند”
ارمان گھمبیر لہجے میں بولا تو مرحا نے سر اٹھا کر اُسے دیکھا۔
“آپ کہتے نہیں ہیں لیکن آپ کا رویہ یہی بتاتا ہے”
وہ تھوڑی ناراضگی سے بولی تو ارمان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری۔
“رویوں پر مت جایا کرو “
وہ کہتا گاڑی مال کے آگے روک چکا تھا۔
وہ دونوں باہر نکلے۔
تبھی باقی دونوں گاڑیاں بھی آ رکیں۔
وہ سب اندر کی طرف بڑھے۔
لڑکیاں آگے اگے چل رہی تھیں جبکہ وہ تینوں اُن کے پیچھے۔
بہرام کی آفیس سے کال آ گئی تھی وہ اپنے مینيجر سے بات کرتا اُن کے پیچھے ہی چل رہا تھا۔
اچانک مرحا کے چلتے قدم تھمے تھے۔
اُس کی آنکھیں میں خوشی سے آنسو ائے تھے۔
تبھی اُن سب کی نظر بھی سامنے اٹھی تو پلٹنا بھول گئی تھی۔
سامنے ہی مہروش مسکراتی ہوئی ایک بچے کے ساتھ ڈریسز لگا کر دیکھ رہی تھی۔
اُس کے ساتھ ہی آویز شاہ سیل میں مصروف سا کھڑا تھا۔
“مم۔۔۔مہروش”
مرحا بھاگتی ہوئی اُس شاپ کی طرف بڑھی تھی۔
