Tere Liye by Ayat Fatima NovelR50622 Tere Liye (Episode 24)
Rate this Novel
Tere Liye (Episode 24)
Tere Liye by Ayat Fatima
شام کو وہ سب دوبارہ ڈیرے پر جمع ہوئے تھے۔
آخر حارث کی جدو جہد سے شام کے ساڑھے سات بجے اُنہیں پلوشے کے بارے میں پتہ چل ہی گیا تھا۔
حارث نے اپنے آدمی دوپہر سے ہی قیصر خان کے پیچھے لگا دیئے تھے۔
کِیُونکہ عبید خان تو گاؤں میں موجود تھا نہیں اور حارث کو یقین تھا اُس کا باپ اُسے ضرور اپنے ٹھکانے پر بلائے گا۔
ہوا بھی یہی تھا عصر ہوتے ہی قیصر خان اپنی گاڑی میں سوار ہوتا گاؤں سے نکلا۔
تو ایک طرف کھڑے پولیس کے سپاہیوں نے اُس کا پیچھا شروع کر دیا۔
وہ اسلامباد میں بنے اپنے ایک چھوٹے سے فارم ہاؤس میں آیا تھا۔
سپاہی اندر نہیں کا سکتے تھے مگر اُنھوں میں گیٹ سے نکلتے عبید خان کو دیکھتے معاملہ سمجھ کیا تھا۔
اُنھوں نے فوراً ہی حارث کو کال کی تو وہ جو ڈیرے پر موجود تھا اُن تینوں کو ساتھ لیے ڈیرے سے نکلا۔
پہلے پہل تو ماہر اور بہرام اس بات پر بلکل نہیں مانے تھے کہ پولیس اسٹیشن میں اُن کے خاندان کی عزت خوار ہو۔
مگر حارث نے اُنہیں سمجھایا تھا کہ اس طرح وہ لوگ بغیر کوئی گناہ ثابت کیے اُن باپ بیٹوں کو گرفتار نہیں کے سکتا۔
اس لیے اُس نے دونوں کو بمشکل ہی رضا مند کیا تھا۔
اُس کا کہنا تھا کہ بات پولیس سٹیشن کی حد تک ہی رہے گی گاؤں تک نہیں پہنچے گی۔
اب حارث میں کل کر کے پولیس کی دو اہلکاروں سے بھری وینز بھی منگوا لی تھیں۔
تاکہ موقع پر ثبوتوں سمیت اُن دونوں کو گرفتار کیا جا سکے۔
اُسے اپنے کچھ اہلکاروں سے پتہ چلا تھا کہ کچھ دیر پہلے ہی عبید خان بھی فارم ہاؤس کے لیے نکلا ہے۔
اب وہ چاروں پولیس کی گاڑیوں سمیت عبید خان کے فارم ہاؤس کے باہر تھے۔
وہ سب باہر ائے تو دروازے پر کھڑا گارڈ پولیس کے ساتھ خانزادوں کو دیکھ کر خوف زدہ ہوا۔
“کہاں جّا رہے ہیں آپ لوگ۔۔۔۔صاب میں یوں کسی کو بھی اندر بھیجنے سے منع کر رکھا ہے”
وہ بمشکل ہمت کرتا بولا تو حارث نے غصے سے اسے آنکھیں دکھائی تھیں۔
اُس کی آنکھوں میں وارننگ دیکھ کر وہ خود بہ خود پیچھے ہوا تو وہ سب اندر بڑھے۔
ماہر ہی جانتا تھا وہ کس دل سے قدم اٹھا ہے تھا۔
پتہ کس حال میں ہو گی اُس کی متاہ جاں۔۔۔
اُس کی آنکھوں میں ان سب کے لیے شکووں کے سمندر ہوں گے۔۔۔
ابھی وہ لوگ برآمدہ پار کر کے لمبی راہداری میں داخل ہوئے ہی تھے کہ پلوشے کی وحشت ناک چیخوں نے اُن کا استقبال کیا تھا۔
ماہر تڑپ کے دوڑتا ہوا اُس کی آواز کی سمت میں آیا۔
تو ایک دروازے پر ایک ہٹے کٹے گارڈ کو دیکھ کر اُس کی آنکھوں میں وحشت و جنوں اُبھرا تھا۔
“آپ ۔۔۔یہاں۔۔کیا”
ابھی وہ بات مکمل کرتا کہ ماہر کی زور دار لات نے اُس کے اوسان خطا کیے۔
وہ بھی کوئی جوابی کاروائی کرتا خ پیچھے پولیس کو دیکھ کر گھبرایا۔
پولیس اہلکاروں نے آگے بڑھ کر اُسے دبوچا۔
بہرام نے تو اُس کی چیخوں پر اذیت سے آنکھیں میچ لی تھیں۔
لیکن ماہر اب مزید انتظار نہیں کر سکتا تھا اُس نے اپنا پسٹل نکال کے ایک ہی فائر دروازے کے بند لوک پر کیا تو جھٹ سے دروازہ کھلا تھا۔
سامنے کا منظر دیکھتے ماہر کو کہہ کسی نے اس کی آنکھوں میں مرچیں جھونک دی ہوں۔
قیصر خان اب تیزی سے اُس سے الگ ہوتا صوفے سے اپنے پسٹل اٹھانے بڑھا تھا۔
ماہر کی نظریں تو صرف اُس صنف نازک پر تھیں جو ابھی تک آنکھیں زور سے میچے چیخنے میں مگن تھی۔
ارمان نے حارث کے کہنے پر قدم اندر رکھے ہی تھے کہ بیڈ پر نظر پڑی تو اُس نے فوراً نظریں پھیری تھیں۔
اُس کی حالت اس لمحے بلکل ایسی نہیں تھی کہ وہ اُس پر ایک نظر بھی اور ڈالتا۔
اُس نے دوسری طرف دیکھا جہاں قیصر خان اب اپنا پسٹل لوڈ کر رہا تھا۔
ارمان چیل کی تیزی سے اُس پر جھپٹا اور ریوالور اُس سے کھینچ کر زمین پر پھینکتا اُسے گھسیٹ کے باہر لایا۔
ساتھ ہی اُس نے ماہر کو آگے بڑھنے کا کہا تھا جو ابھی تک سٹیل وہیں کھڑا بس اُسے دیکھے جا رہا تھا۔
اچانک اُسے ہوش سا آیا تو وہ جھٹکے سے اگے بڑھا۔
بیڈ کے بلکل پاس کھڑے ہو کر اُس نے زور سے پلوشے کو جھنجوڑا تھا۔
“وش اِدھر دیکھو میری طرف۔۔۔تمہارا ماہر آ گیا ہے میری جان آنکھیں کھولو”
وہ بے چینی سے چہرہ اُس پر جھکاتا ہوا بولا تھا جس کا سارا دھیان صرف چیخوں اور تھا۔
یہی تو تھی اس کی نزاکت جس سے ماہر خانزادہ خوفزدہ تھا ہمیشہ سے۔۔۔
ماہر کی نظر اُس کی پھٹی قمیض اور گئی تو اُس نے تیزی سے اپنی ٹی شرٹ اتاری۔
پھر ماہر نے سہارا دے کر اُسے بمشکل ہی بیٹھایا تھا۔
نرمی سے اُس کی قمیض بلکل اتارتے اُس نے اپنی شرٹ اسے پہنائی تھی۔
مگر وہ بھی اُس کے کندن بدن کے نشیب و فراز چھپانے سے قاصر تھی۔
ماہر نے پل کو اذیت و تکلیف سے آنکھیں بند کیں مگر پھر کھول کر بہرام کو پکارا۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اندر آیا تو اپنی گڑیا کی حالت دیکھ کر وہ آگ بگولا ہوا تھا۔
ماہر نے بغیر کچھ بولے بہرام کی شال اتاری اور پلوشے کے گرد اچھے سے لپیٹ دی۔
پھر اُس کی قمیض اٹھاتے اپنے ہاتھ میں پکڑی۔
اُسے واپس لٹا کر بلیک بنیان میں ہی باہر آیا۔
“میں اپنی بیوی کو لے کر جا رہا ہوں لیکن یاد رہے اس شخص کو تم نے اتنا مارنا ہے کہ یہ نہ زنداؤں میں ہو نہ مردوں میں”
ماہر کا اشارہ قیصر کی طرف دیکھ کر حارث نے سر ہلایا۔
“یہیں اپنے فارم ہاؤس میں لے جاؤں گا اسے ابھی اس کی حالت نہیں ہے حویلی میں سب کو فیس کرنے کی”
ماہر بہرام اور ارمان کو ایک طرف بلاتا سنجیدگی سے مخاطب ہوا تو بہرام نے اثبات میں سر ہلایا۔
کچھ دیر پہلے راستے میں بہرام نے زبیر خانزادہ کو کال کر کے تمام حالات سے اگاہ کر دیا تھا۔
کِیُونکہ اب بات پھیلنی ہی تھی تو بہتر تھا وہ سب ذہنی طور پر پہلے سے پریپيرڈ ہوں۔
“مجھے نہیں لگتا کہ یہ جلد بہتر ہو گی۔ اگر سمبھلنے میں نہ ائے تو حویلی لے آنا”
بہرام کہتا ہوا پلٹ گیا تو ماہر بھی دوبارہ اُس کمرے کی طرف آیا۔
وہ اب چیخیں نہیں مار رہی تھی لیکن کانوں پر ہاتھ رکھ کر نفی میں سر ہلاتی کچھ بڑبڑا رہی تھی۔
ماہر تیزی سے اُس تک آیا۔
“ماما۔۔بابا ۔۔۔۔۔۔مجھے بچا لیں۔۔۔۔۔بچا ۔۔۔لیں ۔پلیز۔۔۔۔ہیلپ۔۔۔ہیل۔پ۔۔کوئی۔ہے۔۔”
ماہر اُس کے الفاظ سنتا بے بسی سے اُسے دیکھنے لگا۔
کچھ دیر یونہی دیکھتے رہنے کے بعد آہستہ سے اُسے بانہوں میں بھرتا باہر نکلا۔
وہ اب اس کی گردن میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
وہ شاید ہوش و حواس کھو چکی تھی یہ نیم پاگل ہو چکی تھی۔
ماہر نے اُسے لا کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھا کر اُس کے گرد بیلٹ باندھا اور خود اپنی طرف آ بیٹھا۔
اُس نے سارے راستے بمشکل ہی پلوشے کو قابو کیا تھا جو گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر کودنے کی کوشش میں لگی تھی۔
جب اُس نے دو دفعہ وہی حرکت دہرائی تو ماہر نے اُسے کھینچ کے اپنی گود میں بٹھا لیا تھا۔
رستے میں کبھی اُسے چیخنے کے دورے پڑتے رہے اور کبھی وہ بلکل خاموش ہو جاتی تو ماہر کا دل خوف سے ہول اٹھتا تھا۔
اُس نے فارم ہاؤس میں آتے اُسے اپنے بیڈ روم میں لٹایا اور خود ڈاکٹر کو بلوایا۔
ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد ماہر کو اکیلے میں بلا کر بتایا کہ یہ جان بوجھ کر یہ سب کر رہائی ہیں یہ مکمل ہوش و حواس میں ہیں۔
شاید یہ آپ کو فیس نہیں کرنا چاہتیں۔
ماہر نے نہ چاہتے ہوئے بھی ڈاکٹر سے یہ بھی پوچھا تھا کہ اُس پر کوئی جسمانی تشدد تو نہیں ہوا۔
جس پر ڈاکٹر نے انکار میں جواب دے کر ماہر کی روح کو تھوڑا سکون پہنچایا تھا۔
ماہر اُنہیں رخصت کرتا روم میں آیا جسے دیکھتے وہ دوبارہ سے آنکھیں بند کرتی چیخنے لگی تھی۔
ماہر نے اذیت سے اُسے دیکھا پھر اُس کے منہ میں زبردستی نیند کی دو گولیاں ڈالتے اُس کی مشکل آسان کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہرام اور ارمان ذہنی و جسمانی تھکاوٹ سے چور حویلی میں داخل ہوئے تھے۔
سب افراد ہی بے چینی سے اُن کا انتظار کر رہے تھے ، خواتین تو روتی ہوئی دعائیں کر رہی تھیں۔
“ار۔مان۔۔۔بہرام۔۔۔۔کہاں۔۔ہے میری۔۔۔بچی۔۔اُسے۔۔ساتھ۔کیوں۔نہیں۔۔۔لائے۔۔۔تم۔۔۔دونوں”
اُن دونوں کو آتے دیکھ نورین بیگم دوڑ تک اُن تو ائیں اور بہرام کا کالر سختی سے جکڑ کے تڑپتی ہوئی بولیں۔
بہرام نے نرمی سے اُنہیں خود سے لگایا اور کے گرد حصار قائم کیا۔
“بالکل ٹھیک ہے وہ۔۔۔ماہر اسے اپنے ساتھ فارم ہاؤس لے گیا ہے۔ابھی اُس کی ذہنی حالت تھوڑی ڈسٹرب تھی۔ صبح تک وہ اُسے لے ائے گا۔ آپ پریشان میں ہوں”
اُس کے جواب نے جیسے سب کو نئے سرے سے جینے کی وجہ دی۔
پھر اُن دونوں نے بمشکل سب عورتوں کو خاموش کروا کر کمروں میں بھیجا اور خود وہیں صوفوں پر بیٹھے۔
چھوٹی حویلی والے بھی یہیں موجود تھے سمرین بیگم بھی گیسٹ روم میں جا چکی تھیں۔
جبکہ حبیب اور علی خانزادہ لاؤنج میں ہی موجود تھے۔
بہرام نے سب کو ساری کہانی بتائی اور ساتھ ہی قیصر اور عبید خان کے گرفتار ہونے کا بتایا تو سب کو ہی سکون ہوا۔
“اب کسی طرح ان سے احتشام کا قتل بھی قبول کروا لیا جائے تاکہ آویز اور ارمان کے درمیان يہ جو خلش ہی یہ ختم ہو سکے”
ازمیر خانزادہ کی بات پر بہرام نے اُنہیں دیکھا۔
“جی بابا میں حارث سے کہہ چکا ہوں جلد ہی اس وہ یہ بات بھی اُگلوا لے گا آپ فکر مند نہیں ہوں”
بہرام کہتا اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا تو باقی سب بھی سونے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو ماہر محبت سے اُسے اپنے سینے پر لٹائے اس کے بالوں میں انگیلاں پھیرتا اُسے پر سکون کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا۔
نیند آور دواؤں کے باعث وہ اب صبح کے نو بجے ہی اٹھی تھی۔
مگر اپنے پاس ماہر کو لیٹے دیکھ دوبارہ آنکھیں بند کرتی سوتی بن گئی۔
ماہر جو کب سے اُس کے اٹھنے کا اِنتظار کر رہا تھا۔
اب اس کی اس حرکت پر ماہر کو اپنے اندر کچھ کٹتا محسوس ہوا۔
کاش وہ بجائے اس سے شرمندہ ہونے کے اس سے کیسے بھی کر کے اپنا غم بانٹتی تو یقیناً ماہر خانزادہ اسے سمیٹ لیتا۔
لیکن وہ شاید خود میں اتنی ہمت نہیں پاتی تھی کہ اُس کی نظروں سے نظریں ملا پائے۔
جس حالت میں وہ اُسے ملی تھی وہ قابل قبول تو ہرگز نہیں تھی۔
وہ بھی ماہر خانزادہ کے لیے کو عورت ذات کو لے کر پہلے ہی بے حد سنجیدہ اور سخت تھا۔
لیکن ماہر نے ایک فیصلہ کر لیا تھا اب وہ مزید اُسے خود سے یوں نظریں چراتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔
اُس نے پلوشے کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو رکھے اور اُسے اٹھا کر بغیر کسی سہارے کے بیٹھایا۔
وہ دوبارہ گرنے لگی جب ماہر نے اسے سختی سے پکڑا۔
“پلوشے کچھ نہیں ہوا تمہارے ساتھ جو تم ایسے بيہيو کر رہی ہو میری جان۔۔۔۔آنکھیں تو کھولو کچھ بھی نہیں ہوا۔ تم جیسی تھی آج بھی ویسی ہی ہو”
ماہر عاجزی اور عقیدت سے بولا تو اُس نے بند انکھوں سے ہی نفی میں سر ہلایا۔
“ماہر۔۔ آپ مجھ۔ے۔۔کہیں۔۔چھپا۔۔۔دیں۔۔۔۔میں۔۔۔آپ۔۔لوگوں۔۔۔سے۔۔نظ۔۔ریں۔۔نہیں۔۔ملا۔سکتی۔۔۔پلیز۔۔۔مجھے۔۔فورس۔۔نہیں۔۔کریں۔۔ماہر۔۔میں۔۔مر۔۔۔جاؤں۔گی”
وہ لڑکھڑاتی ہوئی بولی تو ماہر کو بے چینی سے اسے دیکھا۔
“کیوں چھپا دوں ہاں ؟ پاگل ہو گئی ہو تم حویلی میں سب انتظار کر رہے ہیں تمہارا ابھی تم اپنی حالت ٹھیک کر رہی ہو تاکہ ہم حویلی جا سکیں”
اس دفعہ ماہر تحکم بھرے لہجے میں بولا تھا۔
جانتا تھا نرمی کا اُس پر اثر نہیں ہو گا۔
“نہیں۔۔انا مجھے حویلی۔۔۔میں نے کہا۔نامیں کسی۔۔کو فیس نہیں۔۔کرنا چاہتی۔۔آپ لوگ مجھے۔۔کچھ دن یہیں۔۔اکیلا رہنا دیں خدارا”
وہ بے بسی سے بولا تو ماہر نے ہونٹوں کو کنارا دانتوں میں دبایا۔
“اچھا تمہیں کہیں نہیں لے جاؤں گا بس آنکھیں کھول دو”
ماہر کی بات پر اُس نے پیچھے لیٹ کر چہرہ تکیے میں چھپایا تھا۔
وہ ہرگز اُس سے نظریں ملانے کی ہمت خود میں نہیں پاتی تھی۔
ماہر جانتا تھا ایک دفعہ اُس نے ماہر کی آنکھوں میں اپنی ذات کے لیے بھروسہ دیکھ لیا تو وہ کچھ نارمل ضرور ہو جائے گی۔
ماہر بھی نرمی سے اُس کے بلکل پاس لیٹا اور اُسے کھینچ کر اپنے قریب کیا۔
“تم بات کو زیادہ سیریس لئے رہی ہو جاناں۔۔۔جب ایسا کچھ ہوا ہی نہیں جو تم نظریں نہ ملا پاؤ تو تم کیوں ہمیں مزید اذیت دینا چاہتی ہو”
ماہر اُس کے بال سمیٹ کر بولا لیکن اچانک اُس کی نظر اُس کے رخسار اور بنے انگلیوں کے نشانات پر گئی۔
یعنی اُس درندے نے اس حساس سی لڑکی کو ہر قسم کی تکلیف سے آشنا کروایا تھا۔
ماہر کا دل کیا ابھی اٹھ کر پولیس اسٹیشن جائے اور اُس کے چہرے کو تھپڑوں سے سرخ کر دے۔
“کیوں نہیں ہوا۔۔۔ماہر۔۔آپ جانتے ہیں اُس نے آپ کی بیوی کو۔۔کا طرح گھٹیا ۔۔۔طریقے۔۔سے چھوا۔۔۔مجھے۔۔بےپردہ۔۔کر دیا ۔۔اُس نے۔۔۔ابھی بھی کچھ باقی ہے۔۔۔آپ نہیں جانتے کوئی۔بھی۔لڑکی کبھی اپنے۔۔شوہر یا باپ ۔۔بھائی کو اس حالت میں نہیں۔۔ملنا چاہتی۔۔۔جا میں میں میں ملی تھی آپ کو۔۔”
وہ شدت سے روتی ہوئی بولی تھی۔
ماہر آہستہ سے اُسے تکیے پر لٹاتا اٹھا۔
سائڈ ڈرا سے فرسٹ ایڈ پکس نکال کے اُس میں سے ایک جلن کم کرنے والی ٹیوب نکال کر اُس کے پاس آ بیٹھا۔
اُس کے اوپر جھک کر نرمی سے ٹیوب اپنی انگلیوں کے پوروں پر لگا کر اُس کے نشانات پر رکھی تو اُس نے آنکھیں مزید سختی سے میچ لیں۔
یعنی وہ یہ بھی دیکھ چُکا تھا۔
“تم جان بوجھ کر ہمیں اس حالت میں نہیں ملی تھی۔۔۔قسمت میں لکھا کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ہے بھی تمہاری اور ہم سب کی قسمت میں لکھا تھا سو ہو گیا۔ اب کب تک یہ رویہ رکھ کے ہم سب کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ ہے تمہارا”
ماہر ٹیوب رکھ کر ہاتھ ٹشو سے صاف کرتا واپس اُس کے پس اس بیٹھا۔
“جب تک مجھ میں اتنی ہمت نہیں آتی”
وہ آہستہ سے بولی تو ماہر نے گھور کر اسے دیکھا۔
اچانک ماہر کا سیل رنگ ہوا تو اُس نے فون اٹھایا۔
نورین بیگم کال کے رہی تھیں یعنی وہ پلوشے سے بات کرنا چاہتی ہوں گی۔
اُس نے کل پک کر کے کان سے لگائی اور نظریں اسی کے وجود پر جمع لی تھیں۔
“وعلیکم السلام جی چچی ٹھیک ہیں ہم”
اُس کی آواز پر پلوشے کی بند آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر تکیے کی بھگونے لگے تھے۔
“جی یہ لیں آپ بات کر لیں اس سے سب بہتر ہے”
ماہر کے الفاظ پر اُس نے جھٹ سے سوجی ہوئی سرخ آنکھیں کھول کر اسے گھورا تو ماہر نے مسکراہٹ چھپائی یعنی ایک ضد ٹوٹ چکی تھی۔
ماہر موبائل اسپیکر پر کرتا بیڈ پر رکھ کر خود باہر آ گیا تھا وہ چاہتا تھا وہ کھل کر اپنی ماں کے آگے اپنا غم بانٹ سکے۔
“پلوشے میری جان سن رہی ہو ماما کو ؟”
وہ بے تابی و بے چینی سے بولی تھیں اُن کی آواز ہی اُن کے رونے کا پتہ دے رہی تھی۔
پلوشے ضبط کھو کے موبائل بیڈ سے اٹھاتی کان سے لگا گئی۔
اُس کے پاس بولنا کے لیے کچھ نہیں تھا وہ نہ چاہتے ہوئے بھی شدت سے رونے لگی تھی۔
ابھی تو ماں کی آواز پر ہی اُس کی حالت خراب ہو چکی تھی جانے وہ مل کر کیا کرتی۔
“مم۔۔۔۔۔ما۔ما”
وہ رونے کے درمیان بولی تو دوسری اور نورین بیگم نے بھی خود کو کنٹرول کیا تھا۔
بہرام اُنہیں کب سے رونے سے رکنے کا اشارہ کر رہا تھا تاکہ پلوشے مزید اُداس مت ہو۔
“جی ماما کی گڑیا”
وہ لاڈ سے بولیں تو پلوشے نے دونوں ہاتھوں سے موبائل پکڑتے ہاتھوں کی گرفت موبائل پر بڑھائی تھی۔
“مم۔۔مجھے آپ کے۔۔پاس آنا ہے”
وہ جلدی میں کہہ ہی گئی تو دروازے کے پار کھڑے ماہر نے سکون کا سانس لیا۔
کچھ دیر بعد جب اُس کی آوازیں آنا بند ہوئیں تو ماہر آہستہ سے کمرے میں داخل ہوا وہ اب نظریں جھکائے زمین کو گھور رہی تھی۔
ماہر نے موبائل اٹھا کے پاکٹ میں رکھا۔
وہ صبح ہی فریش ہو کر کپڑے بدل چکا تھا کیونکہ فارم ہاؤس میں اس کے بہت سے کپڑے موجود ہوتے تھے۔
“میں نے ملازم کو بھیجا ہے ابھی تمہارا ڈریس آ جائے گا تم فریش ہو کر چینج کر کو پھر ناشتہ کر کے نکلتے ہیں”
ماہر نرمی سے بولا تو اُس نے آہستہ سے سر ہلایا۔
پھر وہ دوبارہ بیڈ اور اُس سے رخ موڑ کر لیٹ گئی تو وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔
وہ کیا کرتی اُس کا غم کسی طور کم ہو ہی نہیں رہا تھا۔
ابھی تو اُس نے بہرام لالا ،بابا، ارمان لالا اور بڑے بابا سے کتنے ہی شکوے کرنے تھے۔
کیوں وقت اور وہ سب اُس کے پاس نہیں ائے تھے جب وہ چیخ چیخ کر انہیں پکار رہی تھی۔
تب اُس کی کیا حالت تھی وہ سوچ کر ہی کانپ کر رہ گئی۔
اُس نے اللہ کا ڈھیروں شکر ادا کیا تھا کہ جو بھی ہوا اللہ نے اس کی عزت محفوظ رکھی تھی۔
ماہر نے اُسے کپڑے دیے تو و جلدی سے فریش ہوئی پھر اُنہیں نے ناشتہ فارم ہاؤس پر ہی کیا اور گاؤں کے لیے نکل پڑے تھے۔
