Tere Liye by Ayat Fatima NovelR50622 Tere Liye (Episode 02)
Rate this Novel
Tere Liye (Episode 02)
Tere Liye by Ayat Fatima
ارمان خانزادہ نے کھینچ کر سب کے سامنے تھپڑ اُس کے چہرے پر رسید کیا تھا۔
“تم سے کسی نے مشورہ مانگا ہے؟..۔بڑوں کی بات میں تمہارا بکواس کرنے کا مقصد۔۔ ہاں؟۔۔۔دفعہ ہو جاؤ اپنے کمرے میں۔۔۔۔۔۔”
وہ اس قدر غصے سے بولا تھا کے تھا کے سب ہی حیران رہ گئے۔
بہرام خانزادہ غصے سے اُس کے پاس آیا۔
مرحا جو آنکھوں میں آنسو لیے اپنی گال پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی تیزی سے اوپر کی جانب بھاگی۔
“تمہیں شرم نہیں آئی یوں اُس پر ہاتھ اٹھاتے”
بہرام غصے سے بولا لیکن ارمان اُسے نظر انداز کرتا واپس اپنی جگہ پر آیا۔
“یہ کیا حرکت تھی ارمان خانزادہ”
ازمیر خانزادہ ڈھاڑے۔
“بابا میں آپ کو بتا رہا ہوں میں اپنی جان دے سکتا ہوں عزت نہیں۔۔۔۔اس قدر بیغیرت لگتا ہوں میں اسے کےاپنی جان بچانے کی خاطر اسے طلاق دے کر کسی اور کی جھولی میں ڈال دوں گا”
وہ سرخ نظروں سے بولا۔
“بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی بیٹا اٹھو اب پنچایت کا وقت ہونے والا ہے”
علی خانزادہ نے اٹھتے ہوئے کہا تو باقی اسک خانزادے بھی باہر کی طرف بڑھے۔
سب خواتین بیٹھی روتی ہوئیں اللہ سے خیر کی دعائیں مانگنے لگی تھیں۔
جبکہ سیرت، پلوشے اور مہروش مرحا کے پاس اوپر کی طرف چلی گئی تھیں تاکہ اُسے سمبھال سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت وہ سب ایک بڑے سے میدان میں موجود تھے۔ ہے طرف قطاروں میں چار پائیاں بچھائی گئی تھیں۔
ایک طرف خانزادہ اور اُن کے بلکل سامنے ہی شاہ بیٹھے تھے۔
ایک سائڈ پر دو تخت رکھے تھے جس پر پنچایت کے موزيز بزرگ فیصلہ کرنے کے لیے برجمان تھے۔
سب باتیں ہو چکی تھیں۔ خنزادوں کے بہت بار کہنے کے باوجود آویز خان رقم کے لین دین پر نہیں مانا تھا۔ اب بزرگوں نے شاہوں کو فیصلے کا حق دیا تھا کے وہ جو چاہتے ہیں وہی طلب کریں۔
“ہمیں ارمان خانزادہ کی منکوحہ یا ہمشیرہ خون بہا میں چاہیے”
اذلان شاہ کے پر اطمینان جواب پر ارمان غصے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“یہ نہ ممکن ہے ابھی اور اسی وقت مجھے قتل کر دو مگر میری عزتوں کے بارے میں یہ سوچنا بھی مت”
ارمان دھاڑا تو ازمیر خانزادہ نے اٹھ کر اُسے بازو سے تھام کے آنکھیں دکھائیں۔
لیکن اُس نے کوئی اثر نہ لیا۔
“ٹھیک ہے کل شام ہی ہم اپنی بیٹی کا نکاح حیات شاہ سے کروا دیں گے”
(اذلان شاہ اور ندیم شاہ بھائی ہیں۔ اذلان شاہ کا بڑا بیٹا آویز شاہ اکتیس سال کا ہے جس کی شادی کے بعد اُس کی بیوی وفات پا چکی ہے اب اُس کا ایک ایک سالہ بیٹا ہے روحان اُس کے بعد اُن کا دوسرا بیٹا احتشام تھا پھر آخر میں ایک بیٹی سوہا ہے جو پچیس سال کی ہے اور شادی شدہ ہے۔۔۔۔۔۔ندیم شاہ کے دو بیٹے ہیں بڑا بیٹا میر جس کی شادی سوہا سے ہوئی ہے پھر حیات جو ستائیس سال کا ہے )
ازمیر خانزادہ کی بات پر ارمان لہو چھلکاتی نظروں سے انہیں دیکھتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
“حیات نہیں میں نکاح کروں گا اور کل شام نہیں ابھی۔۔۔آپ بلوائیں اپنی لڑکی”
آویز شاہ سنجیدگی سے سخت غصے میں بولا تو سب نے حیرانگی سے اُسے دیکھا۔
“آویز بیٹا تم “
ابھی زبیر خانزادہ اپنی بات مکمل کرتے کے ایک بزرگ بولے۔
“خان صاحب جیسا احتشام شاہ کے گھر والے چاہیں گے ویسا ہی ہو گا”
ازمیر خانزادہ نے اُن کی بات پر سر ہلایا۔
“جی ہم کچھ دیر میں اپنی بیٹی لاتے ہیں۔۔۔آپ انتظار کریں”
ازمیر خانزادہ نے کہا اور گاڑی کی طرف بڑھے پیچھے باقی خانزادے بھی اپنی اپنی گاڑیوں میں سوار ہو کر حویلی کے لیے نکلے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مہروش کہاں ہے اسے بلاؤ ادھر میرے پاس”
ازمیر خانزادہ نے شائستہ بیگم کے ستے چہرے سے نظریں چراتے کہا۔
شائستہ بیگم کو اُن کے لہجے سے ہی لگ رہا تھا کے وہ اُن کی بیٹی قربان کر رہے ہیں۔
ماں تھیں بیٹے کو بھِی ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتی تھیں اور بیٹی کو بھی جو اب ممکن نہیں تھا۔ کسی ایک کی قربانی تو دینی ہی تھی۔
اُن کی آنکھیں کے اگے مہروش کا معصوم چہرہ جھلملایا تو وہ اپنی پھول سے بیٹی کو اُس آگ میں جھونکنے کا سوچ کر ہی تڑپ اُٹھیں۔
بچپن سے ہی وہ بھائیوں اور باپ کی لاڈلی تھی کبھی اُنھوں میں اسے ایک خراش بھی نہیں آنے ڈی تھی۔
وo جانتی تھیں خون بہا میں دینے والی لڑکی کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
شائستہ بیگم نے بمشکل خود پر قابو پایا۔
“جی میں بلاتی ہوں اسے”
وہ کہتی ہوئی اوپر آئیں۔کے کمرے میں وہ سب پریشان سے بیٹھی تھیں۔
شائستہ بیگم نے بغیر ایک نظر مہروش پر ڈالے اُن چاروں کو ہی نیچے آنے کا کہا اور خود بھی نیچے آئیں۔
جہاں سب ہی موجود تھے سوائے ارمان خانزادہ کے جو اپنے کمرے میں تھا۔
وہ چاروں آ کر ایک طرف کھڑی ہو گئیں۔ ازمیر خانزادہ نے مہروش کا رویا رویا چہرہ دیکھا تو دل میں درد سا اٹھا۔
وہیں بہرام خانزادہ نے اُسے دیکھ کر تکلیف سے لب بھینچے تھے۔
“لالا کی جان یہاں آئے اپنے لالا کے پاس”
بہرام خانزادہ محبت سے بولا تو مہروش نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
سب کی نظریں خود پر پا کے ہی وہ سمجھ چکی تھی کے آج وہ ان سب سے شاید آخری دفعہ ملے گی۔
وہ اپنی آنکھیں صاف کرتی بھاگ کر بہرام شاہ کے پاس بیٹھی تو بہرام نے اسے سینے میں بھینچا تھا۔
مہروش بھائی کے سينے سے لگتی ہی زور زور سے رونے لگی تھی۔ سب ہی اُس کی حالت اور ایک دوسرے سے نظریں چرانے لگے۔
“بس میری گڑیا،میرا بچہ بس کچھ دنوں کی بات ہے۔ انشاءاللہ میں بہت جلد مجرم کو ثبوتوں سمیت ڈھونڈ کر سب کے سامنے لاؤں گا اور اپنی جان کو حویلی لے آؤں گا”
بہرام شاہ اُس کے بال سہلاتا ہوا بولا۔ تو وہ اُس سے الگ ہوئی۔
“لالا مجھے۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔مم۔۔میں۔۔کیسے۔۔رہوں۔گی۔۔آپ۔۔سب۔کے۔بغیر”
وہ روتی ہوئی بولی تو ازمیر خانزادہ بھی اُس کے پاس آ بیٹھے۔
اُسے کندھوں سے تھام کر سینے سے لگایا تو وہ پھر سے ذار و قطار رونے لگی۔
“بب۔۔بابا۔۔پلیز۔۔مجھے۔۔مجھے۔کہیں۔مت۔بھیجیں۔۔۔میں۔میں۔مر۔۔جاؤں۔گی۔بابا جان میں۔سچ۔میں۔۔۔مر۔جاؤں گی”
وہ ٹوٹتی ہوئی بولی تو ازمیر خانزادہ نے اُسے خود سے الگ کر کے اُس کی دونوں آنکھیں صاف کر کے چومیں۔
“کچھ نہیں ہو گا میری گڑیا۔۔۔آپ کو یقین ہے ناں اپنے بھائیوں پر اپنے بابا پر۔۔۔ہمم۔۔۔۔کچھ دنوں میں ہی ہم ارمان کو بے گناہ ثابت کر لیں گے پھر میرا بیٹا واپس آ جائے گا ہمارے پاس۔۔۔۔اب آپ کی آنکھوں سے ایک آنسو بھی گرا تو میں سمجھ لوں گا آپ ہم سب پر یقین نہیں کرتی”
ازمیر خانزادہ نے محبت سے کہا تو وہ واقعی خاموش ہوئی۔
پھر آہستہ آہستہ سب سے ملی آخر میں مرحا کے پاس ائی اور اُس کی آنکھیں صاف کیں۔
“تم دیکھنا میں بہت جلد واپس آ جاؤں گی پھر ہم بہت دھوم دھام سے تمھاری شادی کریں گے۔۔۔۔تم بلکل بھی مت رونا۔۔تمہیں یقین ہے نہ سب پر”
وہ خود پر ضبط کرتی اُسے تسلی دیتی ہوئی بولی۔ مرحا نے افسوس سے اُسے دیکھا اور زور سے اُسے خود سے لگایا۔
“تم اُن لوگوں کے سامنے بلکل بھی کمزور مت پڑنا تم مضبوط رہو گی تو وہ خود تم سے دور رہیں گے”
وہ پیار سے اُسے سمجھآنے لگی۔
“مہروش بچے آؤ اب چلیں”
علی خانزادہ وقت کا احساس کرتے بولے تو وہ اثبات میں سے ہلاتی چادر اوڑھ کر اُن سب کے ساتھ گاڑیوں کی طرف آئی۔
وہ بہرام شاہ کے ساتھ گاڑی میں سوار ہوئی۔
تقریباً پانچ منٹ بعد ہی تمام گاڑیاں ایک میدان میں رکیں۔
بہرام شاہ نے باہر آ کر اُسے کندھوں سے تھام کر گاڑی سے باہر نکالا۔
وہ سب آگے بڑھے جہاں شاہ ابھی بھی بیٹھے اُن کا انتظار کر رہے تھے۔
بہرام شاہ کے ساتھ موجود صنف نازک کو چادر میں لپٹے، کانپتے دیکھ آویز شاہ نے تمسخر سے مسکراتے نظریں پھیری تھیں۔
“مولوی صاحب نکاح شروع کریں”
اذلان شاہ کی بات پر مولوی صاحب آ کر ایک چار پائی اور بیٹھے۔
اُن کے ساتھ والی چار پائی اور بہرام مہروش کو بٹھا کے خود بھی بیٹھا۔ مہروش کی دوسری طرف ازمیر خانزادہ بیٹھے۔
اُن کی بائیں جانب والی چارپائی پر آویز شاہ آ کر اپنی بھرپور وجاہت کے ساتھ بیٹھا تو مولوی صاحب نے نکاح شروع کیا۔
اُنھوں نے مہروش سے اُس کی مرضی پوچھی تو وہ بہرام شاہ کا ہاتھ سختی سے تھامتی رونے لگی۔ بہرام شاہ نے اُس کے کندھوں کے گرد بازو پھیلایا۔
ابھی وہ اُسے سمجھاتا کہ آویز شاہ جو نہ گواری سے یہ منظر دیکھ رہا تھا اچانک غرایا۔
“وقت نہیں ہے ہمارے پاس جلدی سے کام ختم کرو”
اُس کی آواز پر مہروش ڈرتی ہوئی بہرام کے سینے میں چہرہ چھپا کر سسکنے لگی تو بہرام خانزادہ نے گھور کر آویز شاہ کو دیکھا۔
پھر مہروش کو خود سے الگ کیا اور اُس کی پیشانی چوم کر آنکھوں سے اُسے اشارہ کیا تو وہ خاموش ہوئی۔
آخر کار ایحاب و قبول کا مرحلہ طے پایا تو آویز شاہ نے روتی ہوئی مہروش کو بازو سے گھسیٹ کر اپنی گاڑی کی بیک سیٹ پر پھینکا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا اور گاڑی وہاں سے تیزی سے نکال کر لے گیا۔
باقی سب بھی خاموشی سے حویلی کے لئے نکلے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی ایک خوبصورت سے حویلی کے پورچ میں رکی تو مہروش نے ایک نظر آویز شاہ کی پشت پر ڈالی جو کچھ منٹ پہلے ہی اُس کے شوہر کے عہدے پر فائز ہوا تھا لیکن وہ ابھی تک اُسے دیکھ نہیں پائی تھی۔
نہ ہی وہ اُسے دیکھنا چاہتی تھی وہ تو بس یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔
وہ پریشانی سے آنے والے وقت کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
پتہ وہ لوگ اُس کے ساتھ کیسا سلوک کرتے۔
آویز شاہ گاڑی سے نکل کر حویلی کی جانب بڑھ گیا۔
وہ خود باہر نکلنے کہا سوچ ہی رہی تھی کے ایک عمر رسیدہ ملازمہ اُس کے پاس ائی۔
“آئیں میں آپ کو اندر لے چلوں”
وہ مسکرا کر عام سے لہجے میں بولی تو مہروش بھی سے ہلاتی اُس کی قیادت میں چلنے لگی۔
اُس نے لاؤنج میں قدم رکھا تو وہاں ایک صوفے پر ایک لڑکی سنجیدہ سی بیٹھی تھی۔
جبکہ دوسرے صوفے پر دو عورتیں بیٹھیں باتیں کر رہی تھیں۔
اُسے ملازمہ کے ساتھ اندر آتے دیکھ وہ سب اُس کی طرف متوجہ ہوئیں تو وہ اُن کے قریب جاتی سر جھکا کر کھڑی ہو گئی۔
“آؤ یہاں بیٹھو میرے پاس”
اُن میں سے ایک عورت شفقت سے گویا ہوئیں تو مہروش نے حیرت سے اُنہیں دیکھا۔
اُسے اُن کا نرم لہجہ کچھ ہضم نہیں ہو رہا تھا ابھی کل ہی تو اُن کے بیٹے کو دفنایا گیا تھا۔
وہ تو اُسے اپنی بیٹے کے قاتل کی بہن سمجھتی ہوں گی پھر لہجے میں اس قدر نرمی کیوں۔
خیر وہ سر جھٹکتی اُن کے پاس جا بیٹھی تو اُن سب نے بغور اسے دیکھا۔ وہ نے حد حسین ہونے کے ساتھ ساتھ کم عمر بھی لگ رہی تھی۔
“بیٹا کیا کرتی تھی تم۔۔۔میرا مطلب ہے پڑھائی وغیرہ”
وہی عورت دوبارہ بولیں تو اُس نے نظریں اٹھا کر اُنہیں دیکھا جن کے چہرے سے بلکل نہیں لگ رہا تھا وہ اُس کے ساتھ برا سلوک کریں گی۔
“وہ۔۔آنٹی میں یونیورسٹی کے تھرڈ ایئر میں تھی”
اُس نے اپنی پڑھائی کے مطلق بتایا تو اُنھوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“میں آویز کی والدہ ہوں رابعہ, یہ آویز کی چچی ہیں ندہ اور يہ میری بیٹی سوہا اس کی شادی آویز کے چچا کے بڑے بیٹے میر شاہ سے ہو چکی ہے اور اب ماشاللہ یہ اُمیدِ سے ہے۔۔۔تم بتاؤ کیا نام ہے تمہارا”
رابعہ شاہ نے اُس سے سب کا تعارف کروایا تو وہ مسکرا کر بولی۔
“میرا نام مہروش ہے”
اُس نے اپنا نام بتایا تو ان سب نے مسکرا کر اُسے دیکھا۔
“بیٹا ایک آخری بات تمہیں بتا دوں آویز کی شادی چار سال پہلے ہی ہو چکی تھی لیکن سال پہلے اُس کی بیوی امبر روحان کو جنم دیتے ساتھ ہی انتقال کر گئی تھی۔۔۔تو اب تمہیں روحان کو ماں بن کر پالنا ہے۔۔۔ابھی غم تازہ ہے تو آویز تم پر رحم نہیں کر پائے گا تو تمہیں برداشت کرنا پڑے گا۔۔ میں نے اُسے سمجھایا ہے کے اس سب میں تمہارا کوئی قصور نہیں لیکن وہ ابھی خاموش ہے”
اُن کے انکشاف پر مہروش کو کوئی حیرت نہیں ہوئی تھی۔
وہ شادی شدہ ہو یہ نہ ہو اُسے اُس سے فرق نہیں پڑتا تھا۔
وہ تو یہاں کچھ دنوں کی مہمان تھی پھر اُس کے گھر والے اُسے یہاں سے نکال لیتے۔ یہ اُس بچاری کی سوچ ہی تھی قسمت بھی اُس کی معصومانہ سوچ پر مسکرا دی تھی۔
