Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 12)

Tere Liye by Ayat Fatima

آویز شاہ آفس سے تھکا ہارا لاؤنج میں آیا جہاں تقریبا سب ہی موجود تھے۔

آویز کی نظریں مہروش کو ڈھونڈ رہی تھیں۔

تبھی اس کی نظر سامنے صوفے پر گئی جہاں وہ وہ سوہا کے ساتھ بیٹھی تھی۔

اس کو آتا کر وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔

وہ کچن کی طرف بڑھی تو آویز بھی سب کو سلام کرتا ایک الگ صوفے پر بیٹھ گیا۔

مہروش جلدی سے پانی کا گلاس اس کر پاس لائی اور اس کی طرف بڑھایا تو آویز نے مسکراتے ہوئے گلاس تھام لیا۔

اسے اپنے پاس ہی بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ شرماتی ہوئی اس سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گئی۔

“اب ہمیں دادا دادی بنانے کا بھی کوئی ارادہ ہے یا نہیں تم دونوں کا ؟”

رابعہ شاہ کی بات پر پر مہروش شرماتی ہوئی نظریں جھکا گئی۔

“ارادہ تو ہے اب دیکھیں کیا ہوتا ہے”

اویز بے باکی سے بولا تو مہروش کا دل کیا کہ اپنا سر دیوار میں دے مارے۔

کس قدر بے باک انسان تھا وہ بھلہ سب کے سامنے یہ بات کہنے کی کوئی تک بنتی تھی۔

“حان کہاں ہے”

آویز کو اچانک روحان کی یاد آئی تو اس نے ادھر ادھر نظر دوڑاتے سوال کیا۔

“جی۔۔۔ وہ میں ابھی اسے سلا کر آئی ہوں”

مہروش نے آہستگی سے جواب دیا، آویز شاہ نے اثبات میں سر ہلایا۔

“میں کافی تھک گیا ہوں روم میں جا رہا ہوں تم بھی جلدی آ جانا اپنی تھکن تمہارے اس نرم و نازک وجود پر ہی اتاروں گا”

وہ معنی خیز لہجے میں مہروش کے کان کے پاس جھکتے دھیمی آواز میں بولا۔

وہ بیچاری شرم کے مارے اس سے تھوڑا دور ہوئی لیکن وہ ڈھیٹ شخص ایک دفعہ پھر اسے جلدی انے کا اشارہ کرتا اوپر سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔

اس کے اب سارے کام تو تقریبا مکمل ہو چکے تھے۔

بس وہ روم میں جانے سے پہلے آخری دفعہ رابعہ بیگم کے کمرے میں سوئے روحان کو دیکھنا چاہتی تھی۔

کیونکہ آج اُسے اس کی ہلکی ہلکی طبیعت خراب محسوس ہوئی تھی مگر اس نے آویز کو پریشان نہ کرنے کے لیے اسے نہیں بتایا۔

وہ اٹھ کر ان کے روم میں آئی تو وہ سامنے بیٹھ پر سویا ہوا تھا۔

وہ نیند میں بخار کی وجہ سے سرخ ہوئی گالوں کے ساتھ اس قدر کیوٹ لگ رہا تھا کہ مہروش کا دل کیا اس کا چہرہ چوم ڈالے مگر اس کی نیند خراب ہونے کے خیال سے واپس مڑی۔

وہ آہستہ سے کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر نکلی۔

سامنے ہی سوہا اپنے کمرے میں جاتے ہوئے دکھائی دی مہروش کے پاس سے گزرنے ہی لگی تھی کہ تبھی سوہا اچانک پھسلی تھی۔

اس سے پہلے کہ وہ نیچے گرتی مہروش نے تیزی سے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اُسے سیدھا کیا۔

“اللہ ۔۔۔۔ مجھے تو لگا آج میری خیر نہیں”

سوہا سنبھلتی ہوئی بولی تو مہروش مسکرا دی۔

“آپی دیکھ کر چلا کریں نا اس حالت میں اگر آپ گر گئيں تو بہت نقصان ہو جائے گا”

مہروش محبت سے بولی تو سوہا نے اثبات میں سر ہلایا۔

“ہاں صحیح کہہ رہی ہو ہو میں آئندہ خیال رکھوں گی ۔۔۔ خیر تم اگر آج مصروف نہیں ہو اپنے شوہر صاحب کے ساتھ تو کچھ دیر میرے روم میں آ جاؤ میر آج نہیں ہیں میٹنگ کے سلسلے میں اسلام آباد گئے ہوئے ہیں تو دونوں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں”

سوہا نے شرارت سے کہا مگر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی حامی بھر چکی تھی۔

حالانکہ وہ جانتی تھی آج آویز شاہ بہت تھکا ہوا ہے اور اس نے اسے تلقین کی تھی کہ روم میں جلد ائے وہ بھی جانا تو چاہتی تھی مگر سوہا نے پہلی دفعہ یوں اُسے دعوت دی تو اسے انکار کرنا بھی مناسب نہیں لگ رہا تھا۔

“نہیں آپی میں تو مصروف نہیں ہوں چلیں آئیں”

وہ سنجیدگی سے بولی تو سوہا اسے اپنے ساتھ لئے اپنے کمرے کی طرف آئی۔

کمرے میں آ کر اس نے دروازہ بند کیا اور دونوں بیڈ پر بیٹھ کر ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگیں۔

سوہا اس سے اس کی پچھلی فیملی کے بارے میں سوال کرنے لگی تو مہروش کی آنکھیں بھیگ گئی۔

سوہا نے بھی اس کی حالت سمجھتے بات بدل دی۔

مہروش کی نظریں گھڑی کی سوئیوں پر ٹکی ہوئیں تھیں۔

ادھر آویز شاہ کے انتظار کا سوچتے اس کے دل کو کچھ ہو رہا تھا۔

آخر سوہا کو اس کی تھکن کا احساس ہوا تو اس نے باتیں ختم کرتے مہروش کو اس کے کمرے میں جانے کا کہا۔

وہ جلدی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف آئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آویز جب سے روم میں آیا تھا اس کا انتظار کئے جا رہا تھا لیکن وہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

حالانکہ وہ جانتی تھی کہ آویز کو اس کے بغیر نیند نہیں آتی۔

جب رات کے بارہ بج گئے تو آویز کا دماغ غصے اور اشتعال سے پھٹنے لگا تھا۔

اس کا دل کر رہا تھا کہ کمرے میں موجود ہر چیز کو توڑ ڈالے ۔

اسے انتظار کرتے اتنا وقت ہوگیا تھا لیکن وہ نہیں آئی تھی آخر وہ غصے سے بیڈ پر آیا۔

لائٹ آف کی اور ایک بازو آنکھوں پر رکھتا ہوا آنکھیں موند گیا۔

ابھی اسے لیٹے دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ وہ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔

سامنے ہی آویز کو لیٹا دیکھ کر اس کا دل مزید بے چین ہوا تھا۔

وہ ہرگز اسے ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی مگر وہ کیا کر سکتی تھی۔

اس نے روم اندر سے لوک کیا پھر بیڈ کے قریب آئی۔

آویز اب سونے کی اداکاری کر رہا تھا مہروش جانتی تھی وہ ابھی نہیں سویا۔

وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اس کے قریب آئی۔

کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ ہونٹ کاٹتی اس کے پاس بیٹھ گئی۔

“آویز اٹھيں نہ۔۔۔میں جانتی ہوں آپ جاگ رہے ہیں۔ میں نے جان بوجھ کر دیر نہیں کی مجھے سوہا آپی نے روک لیا تھا تو میں کیا کرتی۔۔۔۔ بٹ ایم سوری پلیز ناراض مت ہوں”

مہروش اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی منت کرتے ہوئے بولی تھی۔

لیکن آویز شاہ جوں کا توں ہی لیٹا رہا تھا جیسے وہ تو اسے سن ہی نہیں رہا۔

“آپ بھی تو مجھے ناراض کرتے ہیں لیکن میں خود ہی مان جاتی ہوں اس میں میری کیا غلطی ہے آپ سمجھیں تو سہی ۔۔۔ پلیز ایسے مت کریں”

اس نے پھر سے اِلتجا کی مگر آویز اُس کی طرف سے کروٹ بدل گیا۔

وہ اپنی سائیڈ پر آتی بالکل اُس میں چھپنے کی کوشش کرنے لگی۔

مگر آویز نے کوئی پیش قدمی نہیں کی تو مہروش اس کے سینے پر سر ٹکائے آنسو بہانے لگی۔

اس کے ساری رات یوں ہی روتے روتے گزر گئی تھی۔

مگر آویز شاہ نے نہیں ماننا تھا تو وہ نہیں مانا۔

صبح وہ مہروش سے پہلے اٹھ گیا تھا۔

ایک نظر اس کے روئے روئے چہرے پر ڈالی لیکن پھر اسے نظر انداز کرتا الماری سے کپڑے لیتا واشروم کی طرف بڑھا۔

وہ شاور لیکر باہر آیا ایک نظر دوبارہ بیڈ کی طرف ڈالی جہاں وہ اب آنکھیں کھولے اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔

آنکھوں سے گرم سیال ابھی بھی رواں تھا۔

لیکن وہ اپنے غصے میں اس نازک جان کے جذبات کا خیال ہی نہیں کر پایا تھا۔

وہ جو ہمیشہ اس کی ایک پکار پر اس کی طرف کھنچی چلی آتی تھی۔

رات اتنا منانے کے باوجود جب وہ نہیں مانا تو وہ بھی دل سے سے دکھی ہوئی تھی۔

آویز تیار ہوتا ایک سرسری سی نظر اس پر ڈالتا کمرے سے باہر نکلا تو مہروش گھٹنوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔

وہ تو اس سے اتنی محبت کرنے لگا تھا کہ وہ اپنے آپ کو پتہ نہیں کتنا خوش نصیب تصور کرنے لگی تھی۔

اس لیے اب اس کی ذرا سی بے رخی بھی اس سے برداشت نہیں ہورہی۔

دل تو کر رہا تھا یہاں سے کہیں بھاگ جائے اور جتنا رو سکتی ہے رو لے مگر پھر ہمت کرتی دوپٹا اٹھا کر کھڑی ہوئی۔

چہرے پر بس دو پانی کے چھینٹے مارے تاکہ آنسوؤں کے نشان صاف ہو جائیں پھر وہ دوپٹے سے چہرہ تھپتھپاتے اسی حالت میں باہر نکل آئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مرحا کی نیند صبح جلدی کھل گئی تھی مگر ارمان خانزادہ تھا کہ ابھی تک سویا ہوا تھا۔

اُسے جلدی اٹھنے کی عادت تھی اسی لیے اب اس کا باہر جانے کا دل کر رہا تھا۔

مگر شادی کی پہلی صبح یوں اکیلے باہر جانا بھی اسے مناسب نہیں لگ رہا تھا۔

اس لئے وہ بے چاری اب ارمان کے اٹھنے کا انتظار کرنے پر مجبور تھی۔

رات کو ارمان خانزادہ نے اپنے شدتوں سے اُس نازک جان کا جو حال کیا تھا۔

اب اُس کا دل کر رہا تھا اس سے بات بھی نہ کرے۔

اس کی گردن ارمان کے دانتوں سے کاٹنے کی وجہ سے سخت تکلیف میں تھی۔

جگہ جگہ پر کاٹنے کے نشان دیکھتے مرحا کو شرمندگی ہورہی تھی کہ وہ باہر سب کے سامنے کیسے جائے۔

اس نے بلیک کلر کا ہلکے کام والا سوٹ پہنا تھا۔

جس کا گلا گہرا ہونے کی وجہ سے اُس نے دوپٹے سے اپنی گردن کے نشان چھپائے تھے۔

اب وہ مکمل طور پر تیار بس اُس کے اٹھنے کے انتظار میں تھی جو اس کی نیندیں اڑا کے خود پر سکون نیند سویا تھا۔

آخر تنگ آتے اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی ارمان کو آواز دی۔

“ارمان ۔۔اٹھ جائیں”

مگر وہ یونہی لیٹا ہی رہا تو وہ تنگ آتی اکیلی باہر نکل ائی۔

ابھی وہ راہداری عبور کر کے سیڑيھوں کی طرف جاتی ہی کہ سامنے سے آتی شائستہ بیگم اُسے دیکھتیں اُس کی طرف آئیں۔

“اٹھ گئی میری بیٹی۔۔۔رات نیند تو آ گئی دوسرے کمرے میں؟”

وہ محبت سے اُس کی پیشانی چوم کر سوال کرنے لگیں۔

اب وہ انہیں کیا بتاتی کہ رات اُن کے بیٹے نے اسے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سونے دیا تھا تو نیند کیسے آتی۔

“جی ماما آ گئی تھی نیند”

وہ اُن کی گہری نظریں خود پر پاتے نظریں جھکائے بولی جبکہ گال شرم سے سرخ ہو چکے تھے۔

شائستہ بیگم نے اُس کا جھجکنا شرمانا محسوس کر کہ دل ہی دل میں ماشاللہ کہا تھا۔

“ارمان کہاں ہے ؟”

اُن کے سوال پر اُس نے معصومیت سے پلکیں جھپکتے اُن کی طرف دیکھا۔

“وہ تو ابھی سو رہے ہیں”

وہ لہجے کو از حد معصوم بناتی بولی تو اُنہیں میں گھور کر اسے دیکھا۔

“بیوقوف لڑکی شادی کی پہلی صبح اکیلے کمرے سے باہر نہیں اتے شوہر کے ساتھ اتے ہیں۔۔۔جاؤ شاباش اُسے اٹھاو پھر دونوں ساتھ ہی نیچے آؤ”

وہ اُسے ڈپٹ کر کہتیں اپنے روم میں چلی گئیں تو وہ بھی چار نہ چار واپس اپنے روم میں آئی۔

اُس نے بیڈ کی طرف دیکھا تو ارمان وہاں موجود نہیں تھا۔۔

مطلب وہ اٹھ کر واشروم جا چکا تھا۔

جہاں ایک طرف اُسے ارمان کے اٹھنے کی خوشی ہوئی تھی وہیں دوسری طرف اُس سے شرم بھی آ رہی تھی۔

اُس کی نظر بیڈ کی حالت پر گئی تو مرحا کا سر ہی چکرا گیا تھا۔

کمبل تھا تو آدھا نیچے پڑا تھا ، بیڈ شیٹ ساری بلوں سے بھری پڑی تھی، تین چار کشن اِدھر ادھر پڑے تھے، آن کی شرٹ بھی وہیں پڑی تھی۔

مرحا کو لگا رات یہاں انسان نہیں جانور سوئے ہوں۔

وہ آہستہ سے ہمت کرتی بیڈ کے قریب ائی اور سب کچھ سمیٹنا شروع کیا۔

جب بیڈ اپنی ٹھیک حالت میں آیا تو وہ شکر کا سانس بھرتے اُس پر بیٹھ گئی۔

کچھ ہی دیر میں ارمان بغیر شرٹ پہنے واشروم سے باہر آیا تھا۔

مسکرا کر ایک نظر اُس پر ڈالتے ایک آنکھ دبائی تو وہ نظریں جھکا گئی تھی۔

مرحا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا اب اچانک اُس کی حالت کیوں بدل رہی ہے۔

ارمان نے تیار ہونے کے بعد خود پر اتنا پرفیوم چھڑکا کہ وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھنے لگی۔

وہ شرٹ ہاتھ میں لیا اس کے قریب آیا اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔

شرٹ اُس کے ہاتھ میں پکڑائی تو وہ اُس کا اشارہ سمجھتی نظریں جھکائے ہی شرٹ اُس کے بازووں میں ڈالنے لگی تھی۔

اچانک ارمان نے شرٹ اُس سے کھینچ کر بیڈ پر پھینکی اور اُسے اپنی بانہوں میں زور سے بھینچ لیا۔

وہ ارمان سے قد اور جسامت میں کافی چھوٹا ہونے کی وجہ سے بلکل اُس کے سینے میں چھپ ہی گئی۔

اُس نے دونوں ہاتھ ارمان کے سینے پر رکھے لیکن پھر اپنی حرکت کا احساس ہوتے ہی فوراً سے ہاتھ ہٹائے۔

ارمان نے اُس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اپنے دل کے مقام پر رکھے اور خود اُس کے ہونٹوں پر جھک آیا۔

اُسے تو سمبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔

ارمان اپنی خواہش پوری کر کہ پیچھے ہوا تو اس کا خوبصورت سرخ پڑتا چہرہ دیکھ کر ہونٹ کا کنارا دانتوں میں دبایا۔

“اتنی مٹھاس کہاں سے آتی ہے یار”

وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا۔

“مجھے تنگ نہیں کریں ارمان۔۔۔پلیز مجھے شرم آتی ہے”

وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتی منت بھرے لہجے میں بولی تھی۔

ارمان نے اُس کی طرف دیکھا تو دل کیا پھر سے اپنا جنون اُس پر لٹا دے۔

“کیوں شرم آتی ہے میرے بے بی کو”

وہ محبت سے اُس کے گال کھینچ کر بولا تو مرحا نے مسکرا کر چہرہ اُس کے سینے پر رکھ دیا۔

پھر کچھ دیر بعد وہ اُس سے الگ ہوئی اور خود ہی اُس کی شرٹ اٹھا کر اُسے پہنانے لگی۔

ارمان کی کوئی ضروری کال آ گئی تھی تو وہ آرام سے اُسے شرٹ پہنا کے بٹن بند کرنے لگی۔

ابھی وہ آخری بٹن بند کر کے پیچھے ہوئی ہی تھی کہ ارمان نے اُس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر دوبارہ اسے خود سے لگایا۔

“چلیں بھی اب”

وہ جھنجلا کر بولی۔

وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئی ہی تھی کہ اُس کا دوپٹہ گردن سے ہٹا تو ارمان کی نظریں اُس کی گردن پر گئی تھیں۔

اُس نے انجانے میں اُس نازک گڑیا کو کتنی تکلیف دے دی تھی اُسے اب یہ احساس ہو رہا تھا۔

مرحا اُس کی نظروں کا مفہوم سمجھتی دوپٹہ دوبارہ ٹھیک کرنے لگی۔

مگر ارمان نے اچانک دوپٹہ اُس کے گلے سے نکالا اور اُس کی گردن پر نرمی سے اپنے لبوں سے مرہم رکھنے لگا۔

ہر ہر نشان کو وہ لبوں سے اس قدر نرمی سے چھو رہا تھا جیسے وہ کوئی پھول ہو۔

کچھ دیر یہی عمل کرنے کے بعد وہ پیچھے ہوتا دوپٹہ دوبارہ گلے میں ڈال گیا۔

مرحا کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں تھامتے وہ کمرے سے باہر نکل آیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہروش نیچے ائی تو عجیب شور سا مچا ہوا تھا۔

لاؤنج میں اس وقت کوئی موجود نہیں تھا۔

اُس نے حیرت سے ادھر اُدھر دیکھا کہ آوازیں کہاں سے آ رہی ہیں۔

تبھی ایک خیال اُس کے ذہن میں آیا تو وہ بھاگتی ہوئی رابعہ شاہ کے کمرے میں ائی تھی۔

سامنے کا منظر اُس کا دل ہی دہلا گیا تھا۔

سب ہی پریشان سے بیڈ کے پاس کھڑے تھے جبکہ بیڈ پر روحان آنکھیں ہلکی ہلکی کھولے لیٹا تھا۔

مہروش کو تکلیف اس بات سے ہوئی تھی کے روحان کو ڈرپ لگی تھی۔

آویز شاہ اُس کے پاس ہی بیٹھا اُس کا ہاتھ سہلا رہا تھا۔

مہروش جانتی تھی روحان آویز کی جان ہے۔

آویز نے کبھی اُسے ایک آنچ بھی نہیں آنے ڈی تھی وہ اُسے اپنی جان سے بڑھ کر عزیز تھا۔

(آویز نے جب ناشتے کے بعد ندا بیگم سے روحان کا پوچھا تو اُنھوں نے کہا وہ سو رہا ہے۔

آویز کو اس بات پر حیرت ہوئی تھی کیونکہ وہ رات بھی جلدی سو گیا تھا اور اب صبح بھی ابھی تک نہیں اٹھا تھا۔

آویز جب اُس کے پاس آیا تو وہ یُونہی سویا ہوا تھا آویز نے اُسے کافی آوازیں دیں ہلایا جلایا مگر وہ شاید بخار کی شدت سے بیہوش ہو چکا تھا۔

اُس نے جلدی سے ڈاکٹر کو فون کر کے بلایا تو ڈاکٹر نے اُس کا بخار جلدی ختم کرنے کے لئے ڈرپ لگائی اور میڈیسن دیتا چلا گیا۔

اب سب ہی اُس کے پاس تھے جبکہ آویز غصے سے بھڑک رہا تھا کہ اُس کے صرف ایک دن کی غفلت سے اُن سب نے ہی روحان کو نظر انداز کر دیا تھا)

مہروش کے قدموں کی چاپ پر آویز جان چکا تھا وہ کمرے میں آ گئی ہے مگر اُس نے ایک دفعہ بھی مڑ کر اُسے نہیں دیکھا۔

مہروش تڑپ تک روحان کے پاس ائی تھی۔

“ماما کی جان کیا ہو گیا ہے میرے بچے کو”

وہ اُس پر جھکی محبت سے بولی تو روحان نے آہستہ سے اپنا ہاتھ تھوڑا اوپر اُٹھا کر اُس کی گال پر رکھا تھا۔

آویز کا دل تو کے رہا تھا مہروش کو یہاں سے بھیج دے مگر روحان کو تھوڑا ایکٹيو ہوتے دیکھ وہ خاموش ہوا تھا۔

“آپ۔۔تھوڑا سائڈ پر ہو جائیں میں۔۔میں روحان کے پاس بیٹھ جاتی ہوں”

وہ بغیر اسے دیکھے آہستہ سے بولی۔

“نہیں تم جاؤ کچھ دیر مزید آرام کر لو۔۔۔۔میں سمبھال سکتا ہوں اپنے بیٹے کو”

آویز نے بلند لہجے میں سختی سے کہا تو مہروش نے شرمندہ ہوتے سب کی طرف دیکھا تھا۔

کیا سوچتے ہوں گے وہ لوگ۔۔۔آویز کو سب کے سامنے تو اُسے بے عزت نہیں کرنا چاہیے تھا۔

ابھی وہ کچھ کہتی کہ آویز کا فون بجا تھا وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس آیا اور فون کان سے لگایا۔

مہروش جلدی سے بیڈ پر بیٹھتی روحان کو گود میں بھر گئی۔۔۔

“تمہیں بتایا ہی نا پہلے کہ میٹنگ ڈلے کر دو اگر وہ لوگ نہیں مان رہے تو کینسل کر دو میں آج بھی آ سکتا”

آویز فون پر دھاڑا تھا۔

اُس نے غصے سے فون دیوار میں دے مارا تو سب ہی حیرت سے اُسے دیکھنے لگے۔

آج کافی عرصے بعد وہ اپنے ازلی روپ میں آیا تھا۔

آویز کو بیڈ کی طرف اتے دیکھ مہروش خوف زدہ ہوتی تھوڑا پیچھے ہوئی۔

آویز آ کر بیڈ پر بیٹھا اور روحان کا ہاتھ پکڑ کر کس کی پھر اُس کا ہاتھ نرمی سے سہلانے لگا۔

اُس سے روحان کی یہ حالت برداشت ہی نہیں ہو رہی تھی۔

آویز شاہ کا دل کر رہا تھا وہ آنکھیں بند کر کے کھولے تو روحان بلکل ٹھیک ہو۔

وہ ہی جانتا تھا کہ اُس نے کیسے روحان کو ڈرپ لگوائی تھی۔

برنولہ لگتے وقت جب وہ رویا تو آویز نے ڈاکٹر کو زور سے جھڑکا تھا کہ اُسے تکلیف کیوں دی۔

“کیا کہا ڈاکٹر نے ؟”

مہروش نے ہلکی سی آواز میں رابعہ بیگم کی طرف دیکھتے سوال کیا۔

“یہی کہا ہے کہ اس کو کیئر کرنے والی ماں کی ضرورت ہے، اب اُنہیں کیا بتاتا کہ جب کسی کی ماں مر جائے تو آپ کے لاکھ چاہنے کے با وجود بھی کوئی دوسری عورت ماں نہیں بن سکتی”

آویز کاٹ دار لہجے میں بولا تو مہروش کی آنکھیں اُس کی اس قدر بے رخی بھیگ گئی تھیں۔

“آویز تم کیوں کب سے مہروش کے پیچھے پڑے ہو اس میں اس کا کیا قصور۔۔۔۔اور ویسے بھی بچے بیمار ہو جاتے ہیں اتنی کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے”

اذلان شاہ نے آویز کو سمجھاتے ہوئے کہا اور اٹھ کے کمرے سے باہر نکل گئے۔

آہستہ آہستہ باقی سب بھی باہر چلے گئے تو آویز نے غصے سے اُس کی طرف دیکھا تھا جو اب شدت سے آنسو بہا رہی تھی۔

“تم کل جانتی تھی اسی بخار ہے ؟”

آویز خشک آواز میں بولا تو مہروش نے شکوہ کرتی نظروں سے اسے دیکھا۔

“کل۔۔۔کل بس تھوڑا سا بخار تھا۔۔۔میں نے اس لیے جلدی سلا دیا تھا اور میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے نہیں بتایا”

وہ نظریں جھکائے اُسے تفصیل سے بتانے لگی۔

“ہمم۔۔۔اب تو میں بلکل پریشان نہیں ہوں ناں۔۔۔

تمہاری صرف تمہاری لاپرواہی کی وجہ سے اس کا یہ حال ہے۔ مجھے اگر کل ہی پتہ ہوتا تو ٹائم پر میں اسے ڈاکٹر کے پاس کے جاتا پھر یہ اتنا سب نہ ہو رہا ہوتا”

وہ از حد غصے سے چیخا تو مہروش آنکھیں سختی سے میچتی سانسیں روک گئی۔

“میں ہوں اس کے پاس۔۔۔۔تم جاؤ تھوڑا اور آرام کر لو”

آویز اُس کی گود سے روحان کو اٹھاتا پھر سے طنزیہ لہجے میں بولا تو مہروش روتی ہوئی کمرے سے چلی گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کے سات بج رہے تھے۔

اس وقت ماہر خانزادہ اپنی بھرپور وجاہت سمیت خانزادہ ہاؤس میں موجود تھا۔

وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا۔

سب افراد ہی موجود تھے سوائے پلوشے کے اُسے یوں سرِ عام ماہر کے سامنے انا مناسب نہیں لگ رہا تھا۔

اس لیے وہ کمرے میں ہی تھی۔

“بڑے بابا وہ دراصل میں پلوشے کو باہر ڈنر پر لے جانا چاہتا ہوں”

ماہر میں سنجیدگی سے اپنے آنے کہ مقصد بتایا تو سیرت نے مسکراہٹ چھپائی تھی۔

“لیکن بیٹا لوگ یوں رخصتی سے پہلے آپ دونوں کو ساتھ گھومتا دیکھ کر باتیں بنائیں گے تو ہمیں احتیاط کرنا چاہیے”

زبیر خانزادہ کی بات پر اُس نے اُن کی طرف دیکھا۔

“چاچو لوگ تب بھی باتیں بنائیں گے جب وہ اکیلی پوری کمپنی چلائے گی۔۔۔۔۔”

اُس کا لہجہ نہ چاہتے ہوئے بھی تلخ ہوا تھا۔

“سیرت جاؤ بچے پلوشے کو بلا لاؤ”

ازمیر خانزادہ نے صوفے پر بیٹھی سیرت سے کہا تو وہ سر ہلاتی باہر کی طرف نکلی۔

کچھ ہی دیر میں وہ رویل بلیو کلر کے شلوار قمیص میں ملبوس ڈرائنگ روم میں سیرت کے ہمراہ داخل ہوئی تھی۔

وہ آہستہ سے چلتی نورین بیگم کے پاس بیٹھ گئی۔

ماہر نے اُس پر ایک نظر بھی نہیں ڈالی تھی اُسے سب کے سامنے یوں اُسے دیکھنا ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔

“ماہر لے جاؤ ہماری بیٹی کو۔۔۔لیکن بچے اس کا خیال رکھنا”

ازمیر خانزادہ کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاتا سب کو خدا حافظ بول کر باہر نکل گیا تو وہ بھی اُس کے پیچھے باہر ائی۔

ماہر نے اُس کے لیے فرنٹ ڈور کھولا تو پلوشے شرماتی ہوئی بیٹھ گئی۔

ماہر نے اس کر کار سٹارٹ کی اور باہر نکالی۔

“کیسی ہو”

ایک نظر اُس پر ڈالتے ماہر نے بات چلانے کی خاطر سوال کیا۔

“میں ٹھیک ۔۔۔آپ کیسے ہیں”

وہ آج پہلی دفعہ بیوی ہونے کی حثیت سے اُس کے ساتھ موجود تھی۔

دل زور زور سے دھک دھک کر رہا تھا۔

“میں تب ہی ٹھیک ہوں گا جب تم میری دسترس میں آؤ گی”

ماہر نے گھمبیر لہجے میں کہا تو اُس نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا۔

چاہ کر بھی اُس سے کوئی جواب نہیں بن پایا تو وہ خاموشی سے باہر دیکھنے لگی تھی۔

آج موسم کافی اچھا تھا ہلکی ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی۔

پلوشے جو صدا کی بارش کی شیدائی تھی اب حسرت سے سڑک پر گرتی بوندوں کو دیکھنے لگی۔

کافی دیر خود پر قابو پانے کی کوشش کی مگر جب ضبط جواب دے گیا تو اُس نے چہرہ موڑ کر ماہر خانزادہ کی طرف دیکھا جو اب سنجیدگی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔

“لالا مجھے بارش میں نہانا بہت پسند ہے پلیز گاڑی روکیں”

اُس کے لفظ لالا پر ماہر کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا۔

وہ اتنی بیوقوف تھی کے شوہر کو لالا بنائے بیٹھی تھی۔

ماہر نے جھٹکے سے پاؤں بریک پر رکھا تو پلوشے کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔

“تمھارا دماغ درست ہے ۔۔۔۔اگر آئیندہ تم نے مجھے لالا کہا تو تمہاری یہ جو میٹھی سی زبان ہے نا، میں اسے کاٹ کر پھینک دوں گا”

ماہر زہر خند آواز میں پھنکارہ تو اچانک اُس کی آنکھیں برسنے لگی تھیں۔

وہ آنکھیں کو زور زور سے جھپکتے بے حد معصوم لگ رہی تھی۔

ماہر نے اُسے روتا دیکھا تو اپنے آپ پر غصّہ آیا۔

معلوم تھا بھی کہ وہ بہت جلدی ڈر جاتی ہے۔

بچپن سے ہی اس کا دل بھی کمزور تھا اس لیے سب ہی اس کا خاص خیال رکھتے تھے۔

کبھی کسی نے اس کی کوئی بات نہیں ٹالی تھی۔

کیونکہ ڈاکٹر نے اس کے پیدا ہوتے ہی زبیر خانزادہ کو سختی سے کہا تھا کہ اس کہ دل بہت کمزور ہے اگر کوئی اس سے تھوڑی سی اونچی آواز میں بھی بات کرے گا تو یہ پریشان ہو جائے گی ، رونے لگے گی وغیرہ۔

“اچھا ناں میری جان رو تو نہیں میں تو بس اتنا سمجھا رہا کہ شوہر کو لالا نہیں کہتے چندہ اس سے گناہ ملتا ہے”

ماہر نے پیار سے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اُسے چپ کروایا۔

“میں۔۔۔میں بابا کو بتاؤں گی۔۔آپ بہت گندے ہیں مجھے۔۔آپ سے شادی نہیں کرنی”

وہ روتے ہوئے ناراضگی سے ناک اور چہرہ پھلائے بولی تو ماہر نے فکر مندی سے اُسے دیکھا۔

ماہر اُس کے معصوم سے غصے پر مسکراہٹ دبا کر گاڑی دوبارہ سٹارٹ کر چکا تھا۔

“مجھے بارش میں نہانا ہے پلیز”

کچھ دیر صبر کے بعد وہ دوبارہ اِلتجا کرنے لگی تو ماہر نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

“پلوشے تم چادر اوڑھ کر نہیں آئی۔۔۔اب بارش میں نہاؤ گی تو تمہارے پاس اور کپڑے بھی نہیں ہیں۔۔۔ویسے بھی یوں پبلک میں بارش میں نہیں نہانا چاہیے”

ماہر نے سادہ لفظوں میں اسے انکار کیا تو وہ منہ بسور کر رخ اُس کی طرف سے پھیر گئی۔

پھر جتنا وقت بھی اُنھوں نے ساتھ گزرا وہ یُونہی روٹھی رہی تھی۔

لیکن پھر بھی ماہر کا وٹ اُس کی سنگت میں بے حد حسین گزرا تھا۔

رات کے نو بجے ماہر نے اُسے حویلی چھوڑا تھا اور خود اپنی حویلی آ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *