Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 14)

Tere Liye by Ayat Fatima

وہ سب لاؤنج میں ہی موجود تھے جب بہرام اور ماہر اکٹھے اندر داخل ہوئے۔

دونوں نے ہے اتے ساتھ سلام جھاڑا۔

ماہر اُس پری پیکر کو دیکھنا چاہتا تھا مگر ابھی بہت رش تھا تو وہ اُسے ڈھونڈ نہیں پایا کہ وہ کہاں ہے۔

وہ آگے بڑھ کر سب سے ملا پھر بہرام کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔

جب اُس کی نظر سامنے والے صوفے پر بیٹھی پلوشے پر پڑی تو ماہر کو اپنا دل سنبھالنا مشکل لگا تھا۔

اُس کا دل بے چین سا ہوتا بس اُسے ہی دیکھنے کا خواہش مند ہو رہا تھا۔

ماہر بھی دل کی مانتے سب کو نظر انداز کیے اُس پر ہی نظریں ٹکا گیا۔

دوسری طرف وہ اُس کی نظریں خود پر پاتے کنفیوز سی ہو گئی تھی۔

شرم سے نظریں بلکل جھکا رکھی تھیں جو ماہر خانزادہ کو بے حد متاثر کر رہی تھیں۔

“آ جائیں آپ سب کھانا لگ چکا ہے”

سمرین بیگم جو اُن دونوں کے اتے ہی کچن میں چلی گئی تھیں اب لاؤنج میں آتی بلند آواز میں بولیں۔

سب ہی اٹھ کر ڈائیننگ ٹیبل کی طرف ائے۔

پلوشے بھی احتراماً سمرین بیگم کے ساتھ کھانا سرو کرنے لگی تو ماہر مسکرا دیا۔

اُس کی چھوٹی سی بیوی نے اپنی اس پیاری سے حرکت سے اُس کا دل ایک دفعہ پھر اپنا دیوانہ بنا دیا تھا۔

“دیکھا میری بہو کو کتنا خیال ہے میرا کس طرح میری مدد کروا رہی ہے”

سمرین بیگم مسکرا کر بولیں تو وہ سرخ پڑی۔

سب ہی اُسے شرماتے دیکھ ہنس دیئے تو وہ مزید سمٹ سی گئی۔

“یہی تو میں سمجھا رہا ہوں ازمیر اور زبیر کو کہ اب ہمیں ہماری بیٹی دے دیں۔ ہم ان سب سے بڑھ کر خیال رکھیں گے اپنی شہزادی کا۔۔۔اور ماہر نے کون سا پڑھائی سے روکنا ہے بچی کو “

علی خانزادہ کی بات پر وہ پریشان ہوئی تھی۔

اُس نے ایک مدد طلب نظر بہرام پر ڈالی تو بہرام نے سر ہلاتے اسی تسلی دی تھی۔

“ہم جانتے ہیں آپ ہماری گڑیا کا بہت خیال رکھیں گے مگر یہ ابھی بہت چھوٹی ہے لالا۔۔۔۔دوسری وجہ اس کی پڑھائی اور بزنس ہے۔ یہ آپ کے سامنے کچھ نہیں کہتی مگر حویلی اس نے یہی رونا ڈالا ہوتا ہے کہ ابھی رخصتی نہیں ہو گی پہلے بزنس ہو گا”

زبیر خانزادہ نے مسکرا کر کہا آخر میں اُنھوں نے اُس کا راز کھولا تو اُس نے ناراضگی سے انہیں دیکھا۔

“چاچو میں پہلے آپ کو کہہ چکا ہوں اب اس کے سامنے بتا رہا ہوں۔۔اس کی الگ کمپنی نہیں بنے گی۔ اس کی خواہش ہے تو میں اپنے آفیس میں اس کا الگ روم وغیرہ بنوا دیتا ہوں وہیں کام کر سکتی ہے یہ بس۔۔۔ہاں رخصتی کے معاملے میں اس کی مرضی جب یہ چاہے گی تب ہی رخصتی ہو گی۔”

ماہر کانٹا پلیٹ میں رکھتا سرسراتے لہجے میں بولا تو اُس نے حیرت سے اسے دیکھا۔

یہی تو ڈر تھا اُسے۔

“بیٹا آپ پلوشے کو منا سکتے ہو تو ہمیں اس سے کوئی اعتراض نہیں”

ازمیر صاحب نے بات ختم کرتے ہوئے کہا تو پلوشے منہ پھاڑ کر اُن کی طرف دیکھنے لگی۔

اچانک ہی اُس کی کانچ جیسی آنکھوں میں آنسو جمع ہوئے تھے۔

ماہر جو اُسے ہی دیکھ رہا تھا اُس کی آنکھوں میں آنسو دیکھتا فکر مند ہوا لیکن سب کے سامنے اُسے چپ بھی نہیں کروا سکتا تھا۔

“لالا مجھے حویلی جانا ہے۔۔۔پلیز مجھے چھوڑ آئیں”

وہ بہرام کی طرف دیکھتے ہوئے بھرائی آواز میں بولی۔۔۔

سب نے ہی حیرت اور پریشانی سے اُسے دیکھا۔

“بیٹا کیا ہو گیا ہے ؟ آپ نے ابھی کچھ کھایا بھی نہیں ہے۔ طبیعت تو ٹھیک ہے آپ کی؟”

سمرین بیگم پریشانی سے اٹھتیں اُس تک آئیں تو اُس نے نفی میں سے ہلایا اور دونوں ہاتھوں سے آنکھیں صاف کیں۔

“مجھے۔۔بھوک۔نہیں ہے۔۔م۔۔میرے سر۔۔۔میں درد ہے تو آرام کروں گی۔۔۔اور مجھے ۔۔نیند بھی ائی ۔ہے”

وہ بمشکل خود پر قابو پاتی بولی تو نورین بیگم بھی اٹھ تک اُس تک آئیں اور اُس کے پاس بیٹھ کر اُسے خود سے لگایا۔

“تو بچے حویلی جانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ بھی آپ کی اپنی حویلی ہے۔ آپ کا ماہر سے نکاح نا بھی ہوتا پھر بھی یہ آپ کے چاچو کی حویلی ہے تو آپ بلا جھجک یہاں رک سکتی ہیں”

علی خانزادہ محبت سے بولے۔

پلوشے ابھی بھی نورین بیگم کے سینے پر سر رکھے بیٹھی تھی۔

وہ اب اپنی حویلی کے تمام مردوں سے ناراض تھی جو اُس سے وعدے کر کے پل میں مکر گئے تھے۔

“نہیں چاچو میں لے جاتا ہُوں اسے۔۔۔حویلی میں ملازم ہوتے ہیں وہ کچھ نا ہوتے ہوئے بھی باتیں بنا لیں گے”

بہرام کی بات پر ماہر نے اُس کی طرف آنکھیں پھیر کر اسے گھورا۔

لیکن وہ اسی ایگنور کرتا پلوشے کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

“اٹھو چندہ چلیں”

بہرام کھڑا ہوتا بولا تو سمرین بیگم نے اُسے دیکھا۔

“بیٹا ملازم تو ابھی جا رہے ہیں سرونٹ کواٹر اور وہ صبح آٹھ بجے ہی ائیں گے۔۔۔اُنہیں معلوم بھی نہیں ہو گا کہ یہ یہاں رکی تھی۔ آپ لوگ کھانا کھائیں میں اسے کمرے میں چھوڑ آتی ہُوں”

اُن کی بات پر سب ہی متفق ہوتے سر ہلا گئے تو سمرین بیگم اُسے لیے اوپر والے پورشن کی طرف بڑھیں۔

اُسے اپنے ساتھ والے کمرے میں بیڈ پر لٹایا اور اُسے پیار کرتیں دروازہ بند کر کے باہر آ گئیں۔

نیچے سب نے کھانا کھایا پھر ہلکی پھلکی باتوں میں چائے پی گئی۔

رات گیارہ بجے وہ لوگ حویلی کے لیے نکلے تھے۔

ازمیر خانزادہ کے کہنے پر سیرت بہرام کے ساتھ جا رہی تھی اور وہ اس بات پر بے حد خوش ہوئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں حویلی پہنچ چُکے تھے۔

آویز اُس کا ہاتھ پکڑ کر اندر لایا تھا جہاں سب عورتیں ہی موجود تھیں۔

وہ دونوں ایک صوفے پر بیٹھ گئے تو روحان جو سوہا کے بال کھینچ کر اُسے تنگ کرنے میں لگا تھا اُنہیں دیکھتے ہی بھاگ اور اُن تک آیا۔

مہروش تو آنکھیں جھکائے ہاتھ بندھے بیٹھی تھی۔

آویز نے روحان کو اٹھا کر اُسے پیار کیا پھر اپنی گود میں بیٹھایا۔

“لالا آپ کا بیٹا میرا پکا دشمن ہے مجال ہے کبھی اس نے مجھے پیار کیا ہو جب بھی دیکھو مارنے پہنچ جاتا ہے۔۔ہنہ”

سوہا نے مسکراتے ہوئے آویز سے شکایت کی تو آویز نے جھک کر روحان کی گال چومی۔

“میرے بیٹے کی مرضی جس سے پیار کرے جس سے دشمنی۔۔۔تم اپنے بچوں سے کہہ کر مہروش سے اپنے بدلے پورے کر لینا ہم دونوں باپ بیٹے کو اس سے کوئی پروبلم نہیں ہو گی”

آویز نے بھی مسکرا کر مہروش کو چھیڑا تو اُس نے نظریں اٹھا کر آویز شاہ کو گھورنا چاہا تھا لیکن جب کوشش کے باوجود بھی اُس کی آنکھوں میں نہیں دیکھ پائی تو پھر سے نیچے دیکھنے لگی۔

اُس کی حرکت پر آویز نے بمشکل ہی اپنا قہقہہ ضبط کیا تھا۔

“صبح صبح آپ دونوں کہاں گئے تھے ؟”

رابعہ شاہ کے سوال پر آویز نے مسکرا کر مہروش کو دیکھا تھا۔

“مہروش کو طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو ڈاکڑ کے پاس گیا تھا اسے لے کر”

آویز کے جواب پر وہ تینوں ہی پریشان ہو اٹھیں۔

“کیوں کیا ہوا ہے اسے۔۔۔۔۔اور ڈاکٹر نے کیا کہا؟”

سوہا نے جلدی سے سوال کیا تو مہروش شرماتی ہوئی مسکرا دی۔

“تم پھپھو بننے والی ہو”

آویز نے مسکرا کر کہا تھا۔

“کیا!!!!!!!!”

“ماشاءاللہ”

سوہا ،رابعہ اور ندہ بیگم اکٹھے ہی بولی تھیں۔

مہروش اُن سب کے ریکشن پر جھینپ سی گئی۔

“ماشاءاللہ! اللہ خوش رکھے ، سلامت رکھے تم دونوں کو ہمیشہ یونہی ہنستے مسکراتے رہو”

ندہ بیگم نے قریب آ کرمحبت سے دونوں کے سروں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

“کیا حالت بنا لی ہے تم نے مہروش۔۔۔جب آئی تھی کیسے کھلی کھلی سی تھی اب دیکھو مرجھا سی گئی ہو۔۔۔۔آج سے میں تمہارے کھانے پینے کا خیال رکھوں گی۔ تاکہ بچے کی صحت پر اثر نا پڑے”

رابعہ بیگم اُس کے پاس بیٹھتیں اُس کے ماتھے کو چوم کر بولیں تو وہ اُن کی محبت پر دل سے خوش ہوئی۔

“ڈاکٹر نے بھی کہا ہے کہ یہ بہت ویک ہو چکی ہے۔۔۔تو آپ اس کا اچھے سے خیال رکھیے گا اس کا بس چلے تو یہ تو پانچ پانچ دن بھوکی رہے”

آویز سنجیدگی سے بولا تو مہروش نے اُس کی تھائی پر چٹکی کاٹی۔

اب سب کو یہ تو نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ جو اُس سے اتنے دن ناراض رہا ہے یہ حالت اُسی کا نتیجہ ہے۔

“اٹھو روم میں آؤ مجھے ایک فائل نہیں مل رہی وہ ڈھونڈ دو پھر میں آفس کے لئے نکلوں”

آویز روحان کو سوہا کے پاس بیٹھا کر اُس سے مخاطب ہوا تو وہ بھی آہستہ سے اٹھتی اُس کے پیچھے ہو لی۔

وہ کمرے میں ابھی داخل ہوئی ہی تھی کہ آویز نے جھٹکے سے اُسے قریب کھینچتے دروازہ بند کیا۔

اُس کی کمر دروازے سے لگاتے دونوں ہاتھ اُس کے اطراف میں رکھے وہ بغیر ایک لفظ بھی بولے اُس کے ہونٹوں پر جھکا۔

ڈیڑھ ماہ کی تشنگی تھی ۔۔۔۔مٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

مہروش نے اُس کندھوں سے شرٹ کو سختی سے جکڑا۔

اُس کا سانس اب بلکل بند ہونے کے در پر تھا مگر وہ ظالم پیچھے ہو ہی نہیں رہا تھا۔

جب وہ بلکل بے حس و حرکت ہو کر گرنے لگی تب آویز کو اُس کا خیال آیا تھا۔

آویز شاہ نے اُسے کمر سے تھام کر خود سے لگایا اور آہستہ آہستہ اُس کی کمر سہلاتے اُسے پر سکون کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

مہروش نے آہستہ آہستہ سانسیں بھرنی شروع کیں تو اُس کا دماغ کچھ ہوش میں آیا۔

“کچھ تو اگلے بندے کا بھی احساس کر لینا چاہیے”

وہ غصے سے بولی تو آویز نے ایک آنکھ دبائی۔

“میری بیوی میری مرضی”

وہ ضدی لہجے میں بولا تو مہروش مسکرا دی۔

دونوں ہاتھ اُس کی گردن میں ڈالتے چہرہ اُس کے سینے میں چھپایا۔

“آویز آپ نے بہت برا کیا میرے ساتھ۔۔۔آپ کو ذرا رحم نہیں ائی مجھ پر۔۔۔کرنا منایا تھا میں نے آپ کو مگر آپ نہیں مانے اور۔۔۔اور آپ نے سب کے سامنے مجھے کتنا ڈانٹا تھا اُس دن حالانکہ میں نے صرف آپ کو پریشان نہ کرنے کے لیے روحان کے بخار کا نہیں بتایا تھا۔۔۔۔”

وہ ایک ہی دفعہ سارے شکوے کرنے لگی تو آویز شاہ نے لب اُس کے بالوں پر رکھتے اُس کی کمر پر اپنے بازوؤں کا حصار بنایا۔

“مہر جب میں نے تمہارا اتنا انتظار کیا اور تم نہیں ائیں تو سوچو میرا کیا حال ہو گا۔۔۔تین گھنٹے۔تین گھنٹے میں تمہارا انتظار کرتا رہا تھا تم چاہتیں تو سوہا کو کہہ سکتی تھی کہ میں نے تمہیں بلایا ہے یا کچھ بھی مگر تم ۔۔۔۔ خیر چھوڑو اب ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں “

آویز نے بات ختم کی تو اُس نے سر اٹھایا۔

آویز اُسے ساتھ لیے صوفے پر آ بیٹھا تو مہروش خود ہی ہمت کرتی اُس کی تھائی پر بیٹھی۔

آویز نے اُس کی پیش قدمی پر حیرت سے اُسے دیکھا وہ تو انتہا کی شرمیلی تھی۔

جانے آج کیسے خود اُس کے پاس آئی تھی۔

مہروش نے اُس کی تھائی پر بیٹھتے بازو اُس کی گردن میں ڈال کر ماتھا آویز کے ماتھے سے جوڑا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگی۔

“مہروش کیا ہوا ڈارلنگ۔۔۔ار یو اوکے ؟ “

آویز میں اُس کی گال تھپتھپا کر اُسے ہلایا تو وہ آویز کے کندھے پر سر رکھتی ہچکیوں سے رو پڑی۔

“مم۔۔۔مجھے۔۔مجھے صرف ۔۔ماما سے ملوا ۔۔دیں پلیز۔۔۔میں اب مزید اُن کے ۔۔۔بغیر نہیں رہ سکتی۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔۔صرف۔۔ایک۔۔دفعہ۔۔ماما۔۔سے۔۔ملوا۔۔۔دیں۔۔”

وہ شدت سے روتی ہوئی بولی تو آویز نے تکلیف سے آنکھیں میچ لیں۔

وہ کیسے سنبھالتا اُسے۔۔کب کب سنبھالتا۔۔۔اُس نے تو ہر موقع پر ہی اپنی فیملی کو یاد کرنا تھا۔

کتنے دن اُسے بہلا لیتا ، ٹال دیتا ؟

آویز نے لمحے میں ہی ایک فیصلہ کیا تھا۔

“ٹھیک ہے اگر تم مجھ سے پرومس کرتی ہو کہ تم اپنا خیال رکھو گی، روو گی نہیں اور آئندہ اپنی فیملی سے ملنے کی زد نہیں کرو گی تو میں تمہیں تمہاری ماما سے ملوا دوں گا”

آویز نے اُس کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئی کہا تو مہروش نے سر اُس کے کندھے سے اٹھا کر اُسے دیکھا تھا۔

اب اُس کے چہرے پر زندگی سے بھر پور مسکراہٹ تھی جسے دیکھ کر آویز کے ہونٹوں پر خود ہی مسکراہٹ بکھر گئی۔

“پرومس میں آپ کی ساری باتیں مانوں گی آپ مجھے ماما سے ملوا دیں”

وہ بچوں کی طرح آنکھوں میں چمک لیے بولی۔

آویز نے نرمی سے اُس کی مسکراہٹ کو اپنے ہونٹوں سے محسوس کیا اگر پیچھے ہوا۔

مہروش کو اچانک ہی اپنی پوزیشن کا خیال آیا تو وہ تیزی سے اُس کی گود سے اٹھی۔

اُس کی اس قدر تیزی پر آویز نے اُسے گھور کر دیکھا۔

“آرام سے میڈم اب آپ اکیلی نہیں ہیں جو اُچھل رہی ہیں”

آویز کی بات پر وہ مسکرا کر اثبات میں سر ہلاتے دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی۔

آویز بھی اٹھ کر کپڑے لیتا واشروم میں چلا گیا کیونکہ یہ کپڑے اُس کی بیوی خراب کے چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیرت خاموشی سے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی کر نگاہوں سے بہرام کو دیکھ رہی تھی۔

جو سنجیدگی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔

سیرت کا دل گول گپے کھانے کو چاہ رہا تھا لیکن بہرام کو کہتے اُسے ہچکچاہٹ ہو رہی تھی۔

اب حویلی بلکل ایک منٹ کے فاصلے پر تھی جب وہ اچانک ہی ہمت کرتی آنکھیں میچ کر بہرام سے مخاطب ہوئی۔

“مجھے گول گپے کھانے ہیں”

اُس کی بے تکی فرمائش پر بہرام نے حیرت سے اُسے دیکھا۔

“اب یاد آ رہا ہے تمہیں”

بہرام نے عجیب نظروں سے اُسے دیکھتے پوچھا تو اُس نے معصومیت سے سر ہلایا۔

“کوئی ضرورت نہیں ہے اس ٹائم جانے کی کہیں۔۔۔تمہیں لگتا ہے میں رات کے گیارہ بجے تمہیں گول گپے کھلانے لے جاؤں گا”

بہرام نے اُسے گھورتے ہوئے کہا تو سیرت نے منہ بسور کر اسے دیکھا۔

بہرام اب گاڑی حویلی کے پورچ میں پارک کر چکا تھا۔

وہ چابی نکالتا باہر آیا مگر سیرت اندر ہی بیٹھی تھی۔

“رات یہیں گزارنے کا ارادہ ہے کیا ؟”

وہ اُس کی طرف کا دروازہ کھول کر سنجیدگی سے بولا تو سیرت آہستہ سے باہر نکل ائی۔

وہ بغیر بہرام کی طرف دیکھے اندر کی طرف قدم بڑھا گئی تو بہرام کو احساس ہوا کہ اُس نے پہلی دفعہ اس سے کوئی فرمائش کی تھی۔

“آؤ چلیں”

وہ بلند آواز میں بولا تو سیرت فوراً پلٹی تھی چہرے پر خوشی کے کئی رنگ بکھر چکے تھے۔

وہ تقریباً بھاگ کر دوبارہ فرنٹ سیٹ پر آ بیٹھی تو بہرام بھی اُس کے بچپنے پر سر جھٹکتا اپنی پراڈو حویلی سے باہر نکال گیا۔

“تم گاڑی میں ہی بیٹھ کے کھاؤ گی اس وقت باہر نہیں نکلنا۔۔۔”

بہرام نے گاڑی مین روڈ پر ڈالتے ہی سختی سے کہا تو وہ منہ بنا گئی۔

“یہ کیا بات ہوئی بھلا اتنے دونوں بعد میں حویلی سے نکلی ہوں اب بھی گاڑی میں ہی بیٹھانا تھا تو پہلے بتا دیتے میں آتی ہی نہ”

اُس کی بات پر بہرام نے اچانک بریک پر پاؤں رکھا تھا۔

“چلو اب بتا ڈیٹا ہوں تم گاڑی میں ہی بات کر کھاؤ گی۔۔۔مرضی تمہاری ہے جانا ہے یا واپس چلیں”

بہرام سنجیدگی سے بولا تھا۔

اُس کا لہجہ اس قدر روعب والا تھا کہ وہ کچھ بول ہی نہیں پا رہی تھی۔

“کھا لوں گی گاڑی میں بیٹھ کر”

وہ آہستہ سے سر جھکائے بولی تو بہرام مسکرایا۔

“ڈیٹس لایک مائے گرل”

اُس نے محبت سے کہا تو سیرت دھیما سا مسکرائی۔

پھر بہرام نے گاڑی ایک ریسٹورانٹ کے باہر روکی اور ویٹر کو وہیں بلا کر آرڈر نوٹ کروایا اُس نے اپنے لیے کولڈ کافی اور سیرت کے لیے گول گپے آرڈر کیے۔

“کیا ہوا ہے”

بہرام نے سیرت کے غصیلے تاثرات کو دیکھتے سوال کیا تو وہ منہ بسرتی رخ بدل گئی۔

“کیا ہو جاتا اگر ہم ریسٹورانٹ میں بیٹھ کر لیتے”

اُس نے ایک دفعہ پھر وہی بات کی تو بہرام بھڑک ہی اٹھا۔

“اب اگر تمہارے منہ سے دوبارہ یہ بات نکلی تو میں گاڑی یہیں سے واپس حویلی کی طرف موڑ لوں گا۔۔۔۔۔کھانے ہیں تو خاموش رہو نہیں تو چلتے ہیں واپس”

وہ بلند آواز میں دھاڑا تو سیرت بلکل دروازے سے چپک سے گئی۔

“سیدھی ہو کہ بیٹھو”

بہرام نے پھر سے اُسے گھور کے غصے سے کہا تو وہ جلدی سے سیدھی ہوئی تھی۔

جبکہ چہرے پر ناراضگی کے تاثرات آ چکے تھے۔

کچھ ہی دیر میں ویٹر آتا دکھائی دیا تو سیرت گول گپے دیکھ کر سب کچھ بھولتی خوش ہو چکی تھی۔

بہرام اُس کی اس عادت سے بہت متاثر تھا کہ وہ چاہے اُسے جتنا ڈانٹ ڈپٹ لے ایک تو وہ بحث نہیں کرتی دوسرا خود ہی مان جاتی ہے۔

ویٹر سیرت کی سائڈ آیا تو اُس نے شیشہ کھولا اور ٹرے اُس کے ہاتھ سے لینی چاہی مگر اُس نے جان بوجھ کر ٹرے کے نیچے سے سیرت کا ہاتھ پکڑ لیا۔

اُس کی حرکت پر سیرت کا تو خوف سے دل بند ہونے کو آیا۔

اُس نے تیزی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچا۔

ویٹر اب مسکرا کر خباثت سے اسے دیکھ رہا تھا۔

بہرام نے جب سیرت کو اچانک ہاتھ پیچھے کرتے دیکھا تو ایک نظر اُس کے چہرے پر ڈالی جہاں خوف واضح محسوس کیا جا سکتا تھا۔

پل میں ہی بہرام ساری کہانی سمجھا۔

“کچھ کہا ہے اس نے تمہیں ؟”

بہرام انتہائی وحشت سے بولا تو سیرت آنکھوں میں آنسو لیے سر جھکا گئی۔

بہرام نے اُس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو وہ مزید آگ بگولہ ہوا۔

وہ جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تو سیرت نے پریشانی سے اُسے دیکھا یعنی وہ جان چکا تھا۔

بہرام نے آگے بڑھ کر آرڈر ویٹر سے لے کر نیچے پھینکا اور اُسے زمین پر دھکا دیتا اُس پر لاتوں کی بارش کرنے لگا۔

سیرت باہر جا کر اُسے کنٹرول کرنا چاہتی تھی مگر وہ اُسے غصے میں دیکھ کر ڈرتی ہوئی گاڑی میں ہی بیٹھی رہی۔

جب کافی لوگ جمع ہو گئے تو اُنہوں نے بہرام کو اُس سے الگ کیا۔

ویٹر اب گڑگڑا کر اُس سے معافی مانگ رہا تھا مگر بہرام نے ریسٹورنٹ کے منيجر کو بلوا کر اسی وقت اُس ویٹر کو فائر کروا دیا تھا۔

اُسے ایک آخری لات مارتا وہ واپس گاڑی میں آ بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کی۔

سیرت تو سانس روکے بلکل دروازے سے لگی بیٹھی تھی۔

“ریلیکس کچھ نہیں کہہ رہا میں تمہیں”

بہرام لہجے کو نرم کرتا بولا۔

پٹھان خون تھا اتنے آرام سے تو غصّہ جانے سے رہا مگر وہ سیرت کو خود سے خوف زدہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اُس کی بات پر وہ تھوڑا سیدھی ہوئی تھی مگر دل ہنوز یُونہی کپکپا رہا تھا۔

بہرام نے گاڑی حویلی میں روکی تو وہ بھاگ کر باہر نکلتی اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *