Tere Liye by Ayat Fatima NovelR50622 Tere Liye (Episode 17)
Rate this Novel
Tere Liye (Episode 17)
Tere Liye by Ayat Fatima
آویز نے گاڑی حویلی کے گیٹ پر روکی تو مہروش نے اُسے دیکھا۔
“آپ نہیں ائیں گے اندر”
اُس کے سوال پر آویز نے نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں میں ہسپتال جا رہا ہوں۔۔۔رات کو واپسی پر تمہیں پک کر لوں گا”
آویز سنجیدگی سے بولا تو مہروش نے دکھ سے اُسے دیکھا۔
“مگر۔۔میں۔۔۔ابھی کیسے۔۔۔مطلب۔۔آج رات میں۔۔یہیں۔۔رک جاؤں۔۔سب۔۔بہت دکھی۔ہوں۔گے”
وہ نظریں جھکائے ہی بولی تھی جبکہ آنکھیں ابھی بھی آنسوؤں سے تر تھیں۔
“نو پروبلم تم رک جاؤ یہیں۔۔۔لیکن مہروش اپنا خیال رکھنا رونا بلکل بھی نہیں طبیعت خراب ہو جائے گی”
آویز نے اُس کی گال پر ہاتھ رکھتے پیار سے سمجھایا تو وہ بھی اُسے خدا حافظ بولتی باہر نکلی۔
مہروش آج اتنے دنوں بعد اس جگہ واپس آئی تھی۔
اُس کی تو آنکھیں اپنی حویلی دیکھنے کو ترس ہی گئی تھیں۔
وہ آنکھیں صاف کرتی گیٹ پار کر کے اندر ائی وہ لون کے بعد مین دروازہ کھول کر لاؤنج میں داخل ہوئی جہاں مرحا اور پلوشے کے علاوہ تمام عورتیں ہی موجود تھیں۔
اُس کی نظر جب شائستہ بیگم پر گئی تو اُس کی آنکھیں برس ہی اٹھی تھیں۔
“ماما”
اُس کی پکار پر سب نے مڑ کر اُسے دیکھا سب کے چہروں پر حیرت، بے یقینی،غم،خوشی جیسے ملے جلے تاثرات تھے۔
وہ بھاگ کر شائستہ بیگم کے پاس آتے اُن کے سینے سے لگی۔
وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کے روئی تھی۔
“میرا بچہ ، میری جان کا ٹکڑا ، ماما کی زندگی۔۔۔۔ماما نے بہت یاد کیا اپنی گڑیا کو”
شستہ بیگم دیوانگی سے اُس کے چہرے اور سر پر پیار کرتی محبت سے بولیں جب کہ کب سے رکے آنسو پھر سے بہنے لگے تھے۔
کچھ دیر اُن کے پاس بیٹھے رہنے کے بعد وہ اٹھ کر باقی سب سے ملی تھی سب نے ہی اُسے بہت پیار دیا۔
“مرحا کہاں ہے ؟”
وہ اُسے نہ پا کر سوال کرنے لگی تو سیرت نے اُسے اُس کی ساری حالت بتائی۔
مہروش بھی فکر مند ہوئی تھی۔
“میں نے سنا ہے میری گڑیا اُمیدِ سے ہے”
شائستہ بیگم سارے غم ایک طرف رکھتیں محبت سے بولیں تو وہ دکھ میں بھی شرما سی دی۔
“ج۔۔جی”
وہ نظریں جھکائے ہی بولی تو سب نے ماشاللہ بولا تھا۔
“آویز شاہ اور اس کے گھر والوں کا کیسا رویہ ہے تمہارے ساتھ”
سمرین بیگم کے سوال پر وہ ہلکا سا مسکرائی۔
“وہ سب بہت اچھے ہیں میں آپ لوگوں کو بتا بھی نہیں سکتی “
مہروش کی بات پر سب کو ہی اطمینان ہوا تھا۔
“اللہ کا شکر ہے۔۔”
نورین بیگم نے کہا۔
“لالا کیسے ہیں۔۔۔کچھ پتہ چلا آپ کو”
اُس کے سوال پر سب خاموش سی ہو گئیں۔
“ابھی تو حالت کریٹیکل ہے اُن کی۔۔۔مگر تم پریشان مت ہو انشاءاللہ وہ ٹھیک ہو جائیں گے”
سیرت نے اُسے بتایا تو اُس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
“مرحا اور پلوشے کدھر ہیں”
اُسے اچانک اُن دونوں کا خیال آیا تو اُس نے سوال کیا۔
“مرحا کی حالت بہت خراب تھی اُسے گولی دے کے سلایا ہے اور پلوشے بھی اُس کے پاس بیٹھی ہے”
سیرت نے اُسے بتایا تو اُس نے پریشانی سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آویز ہسپتال کے کوریڈور میں آیا تو سامنے چیئر پر زبیر، ازمیر اور علی خانزادہ براجمان تھے۔
بہرام ادھر سے اُدھر چکر لگانے میں مصروف تھا اور ماہر دیوار سے ٹیک لگائے سینے اور بازو باندھے کھڑا افسوس سے اسے دیکھ رہا تھا۔
آویز آگے آیا اور آہستہ آہستہ آواز میں اسلام کیا۔
سب نے ہی سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔
بہرام پہلے ہی اُنہیں آویز کی کال کا بتا چکا تھا اس لیے کے کو حیرت نہیں ہوئی۔
آویز بھی سامنے رکھی چیئر پر بیٹھا۔
“کیا حالت ہے اب اُس کی”
اُس نے سرسری سے لہجے میں سوال کیا۔
“ٹریٹمینٹ چل رہا ہے ڈاکٹر نے کہا ہے اسی ٹریٹمنٹ کے دوران ہوش آ گیا تو ٹھیک ورنہ کوما میں رہے گا”
زبیر خانزادہ اذیت سے بولے تو آویز نے ہنکارا بھرا۔
“مہروش کہاں ہے ؟”
ازمیر صاحب کے سوال پر سب ہی اُس کی جانب متوجہ ہوئے۔
“آپ کی حویلی ہی چھوڑ آیا ہوں صبح پک کر لوں گا”
آویز کے جواب اور اُنھوں نے سر ہلایا۔
اچانک ڈاکٹر ایمرجینسی سے باہر نکلے تو سب ہی اُن تک ائے۔
“کونگريچولیشنز۔۔۔۔انہیں ہوش آ گیا ہے۔۔۔۔یہ آپ کی دعائیں اور اُن کی زندگی ہی تھی کہ اس سچویشن میں اُنہیں ہوش آ گیا۔۔۔۔ورنہ ہمیں تو ایک پرسنٹ بھی اُن کے بچنے کے چانسز نہیں لگتے تھے”
ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا تو سب ہی مسکرائے۔
ازمیر خانزادہ کی آنکھیں سے خوشی کے آنسو نکلے تو بہرام نے اگے آ کر اُنہیں سینے سے لگایا۔
پھر وہ سب ہی ایک دوسرے سے ملے اور مسجد میں جا کر شکرانے کے نفل ادا کیے۔
آویز نے کال کر کے مہروش کو بھی بتا دیا تھا تاکہ وہ ٹینشن نہ لے۔
ڈاکٹر نے جیسے ہی اُسے روم میں شفٹ کیا سب باری باری اُس سے ملے تھے۔
ابھی ارمان کی حالت ٹھیک تو ہرگز نہیں ہوئی تھی مگر وہ بمشکل آنکھیں کھولے ہوئے تھا۔
آویز اُس سے نہیں ملا تھا اُس کا ارادہ تو تھا مگر رابعہ بیگم کا فون اس گیا کہ روحان رو رہا ہے تو وہ جلدی سے حویلی کے لیے نکلا تھا۔
روحان کو روزآنہ رات مہروش ہی سولاتی تھی آج وہ نہیں تھی تو وہ تنگ کر رہا تھا۔
اس لیے آویز جلدی پہنچنا چاہ رہا تھا تاکہ اُسے سمبھال سکے۔
بہرام نے ڈاکٹر کو زبردستی آمادہ کیا تھا کہ وہ لوگ ارمان کو کل گھر لے جائیں گے۔
ڈاکٹر کا کہنا تھا ابھی اُسے ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے مگر بہرام نے ایک نرس ہائر کر لی تو ڈاکٹر بھی اُسے کچھ ضروری باتیں سمجھاتے مان گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سے مرحا پاگلوں کی طرح لاؤنج میں چکر لگا رہی تھی۔
کِیُونکہ بہرام کی کال ائی تھی کہ وہ لوگ ارمان کو لے کر ہسپتال سے نکل رہے ہیں۔
اس وقت سب ہے صوفوں پر بیٹھیں اُس کی دیوانگی دیکھ رہی تھیں۔
سب نے اُسے کئی دفع کہا تھا کہ بیٹھ جاؤ وہ آ جائے گا مگر وہ کسی کی نہیں سن رہی تھی۔
اُس نے اس وقت بلیک کلر کا تھری پیس ڈریس پہن رکھا تھا جس پر بہت خوبصورت پنک اور گرین پرنٹ بنا تھا۔
رونے کی وجہ سے اُس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں جبکہ کالے سوٹ میں گوری رنگت چاند کی طرح چمک رہی تھی۔
جیسے ہی گیٹ سے گاڑی کی آواز ائی وہ فوراً باہر بھاگی تھی۔
باقی سب بھی تیزی سے باہر آئیں۔
ایک گاڑی مستقیم ڈرائیو کر رہا تھا جس میں بہرام، ماہر اور ارمان تھے دوسری زبیر خانزادہ ڈرائیو کر رہے تھے جس میں اُن کے ساتھ علی اور ازمیر خانزادہ تھے۔
مستقیم اُن سب کو دیکھتا نظریں جھکا گیا اور گاڑی وہیں پارک کرتا اتر کر مردان خانے کی طرف بڑھا۔
بہرام اور ماہر گاڑی سے اترے تو مرحا جلدی سے گاڑی کے پاس گئی۔
مگر ارمان کے زرد سا چہرہ دیکھتے وہ ہمت کرتی آنسو پیچھے دل کی طرف دھکیلنے لگی۔
بہرام اور ماہر نے ارمان کو سہارا دے کر گاڑی سے باہر نکالا تھا اُس کی سٹریچز ابھی کچی تھیں تو وہ کھول سکتی تھیں اسی لیے انہیں نے اُسے مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔
خون زیادہ ضائع ہونے کی وجہ سے اب ارمان کمزوری کے باعث چل بھی نہیں پا رہا تھا۔
مرحا اُس کی یہ حالت دیکھتے گاڑی کے پیچھے چھپتی ہاتھوں میں چہرہ چھپائے رونے لگی۔
کسی کی نظر اُس پر نہیں گئی تھی سب ہے ارمان کے پیچھے اندر چلے گئے۔
ازمیر خانزادہ کی نظر اُس پر گئی تو وہ بھاری قدم اٹھاتے اُس تک آئے۔
“بس میرے بچے اب وہ ٹھیک ہے کچھ دنوں میں مکمل پہلے جیسا صحت یاب ہو جائے گا۔۔۔آپ پریشان مت ہوں۔ آئیں ہم بھی اندر چلیں”
ازمیر خانزادہ اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولے تو اُس نے آنکھیں رگڑ کر صاف کیں پھر وہ اچانک ہی اُن کے سینے سے لگی تھی۔
“بابا۔۔۔میں نہیں۔۔دیکھ سکتی۔۔اُنہیں ایسے۔۔۔۔۔مجھے۔۔میرے۔۔پہلے والے۔۔ارمان۔۔لادیں۔۔بابا”
وہ شدت سے روتی ہوئی بولی تو اُنہیں نے اس کا چہرہ تھام کر اُس کی پیشانی چومی۔
“مرحا بس بیٹے۔۔۔۔وہ ٹھیک ہے اب۔۔۔آپ یوں کریں گی تو وہ مزید پریشان ہو گا چندہ۔۔۔آئیں اب اُسے ملیں تو سہی وہ آپ کو دیکھنا چاہ رہا تھا”
اُنھوں نے اُس کا سر تھتھپا کر کہا تو وہ بھی اُن کی بات سمجھتی سر ہلا گئی۔
وہ دونوں بھی اندر ائے تھے۔
وہ دونوں اوپر ائے تو سب ہی کمرے میں موجود تھے۔
شائستہ بیگم اور مہروش بیڈ پر ارمان کے پاس بیٹھی تھیں جو خاموشی سے لیٹا ہوا تھا۔
مہروش جب ارمان سے ملی تو وہ بھی اتنے دن بعد بہن کو دیکھ کر محبت سے اُس سے ملا تھا۔
مرحا اب دروازے پر کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی۔
دل تو تھا کہ بھاگ کر اُس کے گلے لگ جائے مگر سب کے سامنے وہ یہ نہیں کر سکتی تھی اس لیے بس محبت سے اُسے دیکھتی رہی۔
“آؤ مرحا ارمان کے پاس بیٹھو “
شائستہ بیگم بیڈ سے اٹھ کر اُسے مخاطب کرتی ھوئی بولیں تو وہ شرمندہ سی ہوئی تھی۔
اب سب ہی اُسے دیکھ رہے تھے جیسے ہی ارمان نے نظریں پھیر کر اسے دیکھا مرحا کے وجود میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی شائستہ بیگم کی چھوٹی ہوئی جگہ اور آ بیٹھی۔
ماہر ، سمرین بیگم اور علی خانزادہ اب واپس اپنی حویلی جانا چاہ رہے تھے مگر شائستہ بیگم نے اُنہیں بمشکل منایا تھا کہ کھانا کھا کر جائیں کیونکہ وہ لوگ رات سے اُن کے ساتھ ہی تھے اس لیے اب شائستہ کھانے کہ انتظام دیکھنا چاہتی تھیں۔
البتہ نورین بیگم بھی اُن کے ساتھ ہی کمرے سے نکلیں۔
بہرام اب ارمان کی میڈیسن دیکھ رہا تھا۔
مرحا اُس کے نزدیک بیٹھی ہی تھی کہ ارمان نے نرمی سے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا۔
مرحا نے بھی اُس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا اب اُس کے لیے خود پر قابو کرنا مزید دو بھر ہو رہا تھا۔
مگر وہ ارمان کے سامنے رو کر اُسے پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے نظریں جھکائے آنسو پی رہی تھی۔
ارمان کو یقین تھا وہ رونے والی ہو رہی ہے وہ اُس کے آنسو اپنے ہونٹوں سے چننا چاہتا تھا مگر بے بسی سے لیٹا رہا۔
پلوشے جو ابھی باتھ لے کر آئی تھی سامنے ارمان کو دیکھ کر دوڑ تک اُس تک آئی۔
وہ جلدی سے ارمان کے سینے سے لگی تو ارمان تکلیف سے کراہ اٹھا۔
بہرام تیزی سے اُس تک آیا اور پلوشے کو الگ کرتے اُس کی طرف دیکھا۔
مرحا بھی تڑپ کر اُس کے مزید قریب ہوئی۔
ارمان اب تکلیف سے ہونٹ بھینچے ہوئے تھا۔
“بچے ابھی اسے گلے نہیں ملنا ابھی زخم کچا ہے”
بہرام نے ایک طرف کھڑی پلوشے سے کہا جو اب آنکھوں میں آنسو لیے ارمان کو دیکھ رہی تھی۔
اُس نے اس اثبات میں سر ہلایا کر مہروش کے پاس بیٹھ گئی۔
مرحا کچھ دیر رونا چاہتی تھی اس لیے وہ بیڈ سے اٹھی مگر ارمان نے اُسکی کلائی تھام کر اُسے دوبارہ بیٹھنے کہا اشارہ کیا۔
وہ دوبارہ اُس کے پس بیٹھ کر خود ہی اُس کا ہاتھ تھام گئی۔
“آ جائیں سب کھانا کھا لیں۔۔۔بہرام بچے آ کر ذرا مجھے بتا دو ارمان کو کیا کھلانا ہے”
شائستہ بیگم نے آ کر کہا تو سب ہے اٹھ کر باہر نکل گئے اب کمرے میں صرف وہ دونوں ہے بچے تھے۔
مرحا نے نظریں اٹھا کر ارمان کی انکھوں میں دیکھا جو اُسی کو دیکھ رہا تھا۔
مرحا نے جھک کر زور سے اُس کی گال پر لب رکھے تو ارمان کو بھی سکون ملا۔
وہ اُس کے سینے پر سر رکھ کر آنسو بہانا چاہتی تھی مگر اُس کی تکلیف کا سوچتے ایسا نہیں کر سکی۔
“میری جان۔۔۔۔۔”
ارمان نے اُس کی کمر میں ایک ہاتھ ڈال کر محبت سے کہا تو وہ نم انکھوں سے مسکرا اٹھی۔
ارمان نے آہستہ سے اُسکی کمر پر دباؤ ڈالتے اُسے خود پر جھکایا۔
مرحا اُس کا اشارہ سمجھتی اپنے ہونٹ اُس کے ہونٹوں پر رکھ گئی تو ارمان نے شدت سے اُس کی سانسیں اپنی سانسوں میں اتاری تھیں۔
کچھ لمحے یوں ہی سرک گئے پھر ارمان نے اُسے الگ کیا تو وہ پیچھے ہوئی تھی۔
“کیسے ہیں اب ؟ مطلب کہیں درد تو نہیں”
اُس نے پیار سے دونوں ہاتھ ارمان کی گردن میں لپیٹ کر کہا تو اُس نے آہستہ سے نفی میں سر کو جنبش دی۔
“میں آپ کے لیے سوپ اور فروٹ لاتی ہوں”
وہ کہتی ہوئی اٹھی تو ارمان نے بھی اس دفعہ خاموشی سے اُسے جانے دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آویز نے رات کو بھی بہت مشکل سے روحان کو سنبھالا تھا۔
لیکن اب صبح وہ اُٹھتے ساتھ ہی مہروش کو ڈھونڈنے میں لگا تھا۔
جب اُس نے ساری حویلی رینگ رینگ کر چھان ماری اور اُسے مہروش نہیں ملی تو وہ آویز کے کمرے میں آ گیا تھا۔
آویز ابھی واشروم سے شاور لے کر باہر آیا اُس کا ارادہ پہلے آفس جانے کا تھا پھر وہ مہروش کو واپسی پر پک کر لیتا۔
آویز باہر آیا تو سامنا ہی روحان میز کا پاس بیٹھا زور زور سے تو رہا تھا۔
آویز تیزی سے اُس تک آیا اُسے لگا کے شاید روحان کو کہیں چوٹ لگ گئی ہے۔
“کیا ہوا حان۔۔۔۔وائے آر یو کرائینگ ؟”
وہ اُسے اٹھا کر بے تابی سے بولا۔
“مم۔۔۔”
روحان نے اُسے اپنی طلب سے آگاہ کیا تو آویز نے پریشانی سے اُسے دیکھا تھا۔
اب وہ اُس چھوٹے سے بچے کو کیا سمجھاتا کے مم کہاں ہیں۔
آویز نے اُسے چپ کروانے کی کافی کوشش کی مگر جب وہ خاموش نہیں ہوا تو آویز بھی فکر مند ہوا۔
اُس نے ایک بازو سے روحان کی کمر تھامے دوسرے ہاتھ سے ٹیبل سے اپنا سیل اٹھایا۔
وہ مہروش کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ پہلی بار حویلی گئی تھی۔
مگر اب مجبوری کے باعث اسے یہ کرنا پڑ رہا تھا۔
اُس نے مہروش کا نمبر ڈائل کر کے موبائل کان سے لگایا۔
تیسری بیل پر ہی مہروش نے کال پک کرتے سلام کیا تھا۔
“وعلیکم السلام۔۔۔کیسی ہو ؟”
آویز نے سوال کیا۔
“میں ٹھیک ، آپ کیسے ہیں ؟ خیریت صبح صبح کال کی”
اُس کے سوال پر آویز نے ایک نظر روحان کو دیکھا تھا جو اب اُس کے کندھے پر سر رکھے فون سے مہروش کی آواز سنتے خاموش ہو چکا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔لیکن۔۔روحان تنگ کر رہا ہے صبح سے تمہیں ڈھونڈ رہا تھا جب نہیں ملی تو اب بہت رو رہا ہے”
آویز نے اُسے اصل وجہ بتائی۔
“اوہ۔۔۔تو آپ مجھے پک کرنے آ جائیں”
وہ فکر مندی سے بولی تو آویز نے ہونٹوں کا کونا دانتوں میں لے کر دبایا۔
“نہیں تم ابھی اُدھر ہی رکو میں روحان کو وہیں ڈراپ کر دیتا ہوں آفس سے واپسی پر دونوں کو پک کر لوں گا”
آویز نے سنجیدگی سے کہا تو مہروش نے بھی اُس کی بات کی تائید کی۔
اُس نے خدا حافظ بول کر موبائل سائڈ پر رکھا اور روحان کو بیڈ پر بیٹھایا۔
وہ اب رو نہیں رہا تھا جیسے اُسے بھی پتہ چل چکا ہو وہ مہروش کے پاس جا رہا ہے لیکن وہ برے برے منہ بناتا آویز کو بہت کیوٹ لگ رہا تھا۔
آویز نے جلدی سے تیاری کی پھر ملازمہ سے روحان کا بیگ پیک کروا کر گاڑی میں رکھوایا۔
وہ سب کو بتا کر روحان کو لیے حویلی سے نکلا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہرام نے جس نرس کو ہائر کیا تھا وہ ابھی تک نہیں ائی تھی اس نے شام کو انا تھا۔
سب ہے ارمان کا بے حد خیال رکھ رہے تھے۔
حویلی میں عیادت کے لیے انے والے لوگوں کی بھگ دڑ سی مچی ہوئی تھی۔
سب لڑکیاں اور عورتیں کبھی کہیں کچھ کر رہیں تھیں کبھی کچھ سب ہی مصروفیات کی وجہ سے پاگل ہونے کو تھیں۔
بہرام ، زبیر اور ازمیر خانزادہ مردان خانے میں تھے جہاں مردوں کا رش لگا تھا۔
مہروش کو دیکھ کر سب عورتیں ہی حیران ہوئیں کہ وہ یہاں کیسے۔
مرحا تو زیادہ وقت ارمان کو ہی دینا چاہتی تھی۔
مگر کام بڑھنے کی وجہ سے وہ اب کچن میں کھڑی مہمانوں کے لیے کھانے کی آئٹمز پلیٹ میں سجا رہی تھی۔
سیرت اور پلوشے بھی اُس کا ہاتھ بٹا رہی تھیں۔
مہروش بھی صبح سے کام کرنا چاہ رہی تھی لیکن اُسے کوئی کسی کام کو ہاتھ ہی نہیں لگانے دے رہا تھا۔
ایک تو اُس کی حالت کی وجہ سے دوسرا وہ بہت دنوں بعد حویلی آئی تھی۔
وہ اب کچن میں کرسی پر بیٹھی اُن تینوں کو گھور رہی تھی جو ملازمہ کے ساتھ کام میں لگی تھیں۔
“میں کوئی مہمان بھی ہوں اچھا۔۔۔۔میرا بھی یہی گھر ہے”
مہروش ناراضگی سے بولی تو سیرت نے مسکرا کر اُسے دیکھا۔
“جی نہیں تم مہمان ہی ہو۔۔۔۔یہ گھر اب صرف میرا اور مرحا کا ہے کیونکہ پلوشے بھی اب کچھ ہی دنوں کی مہمان ہے ہاہاہا”
سیرت نے ہنستے ہوئے کہا تو اُن دونوں نے ہے منہ بنائے تھے۔
“رکو ذرا تم تمہاری تو میں ابھی بہرام لالا سے کہہ کر طبیعت درست کرواتی ہُوں”
مہروش معنی خیزی سے بولی تو سیرت گھگھیا سی گئی۔
پاس کھڑی ملازمہ نے بھی مہروش کی بات پر قہقہہ لگایا تو سیرت نے گھور کر اُس بچاری کو دیکھا۔
وہ جلدی سے منہ بند کرتی ٹرے مرحا سے لیتی باہر کی جانب بھاگی تو سب میں ہی قہقہے لگائے۔
“میں سوچ رہی تھی آج کتنے عرصے بعد ہم چاروں یوں ملی ہیں ۔۔۔۔ مہروش تم آج بھی یہیں رک جاؤ نا رات کو بیٹھ کر باتیں کریں گے کل تو ٹائم نہیں تھا”
مرحا بھی اُس کے پاس بیٹھتی بولی تو وہ مسکرائی۔
“نہیں یار روحان میرے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔اب بھی اُسے یہیں بلوایا ہے صبح سے اُس نے اُدھر پوری حویلی سر پر اٹھا رکھی ہے۔۔۔خیر کبھی پھر رک جاؤں گی”
مہروش نے محبت سے روحان کو یاد کرتے کہا تو سیرت جو شیلف سے ٹیک لگا کر کھڑی تھی انکھوں میں شرارت لیے اُسے دیکھنے لگی۔
“روحان نہیں رہ سکتا یا اُس کے بابا۔۔۔”
سیرت کی بات پر مہروش سرخ سی پڑی۔
“جی نہیں میں روحان کی ہی بات کر رہی تھی”
وہ اُسے گھورتی ہوئی بولی تو سیرت نے شرارت سے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا۔
“ڈرائیور کے ساتھ آ رہا ہے روحان ؟”
سیرت نے دوبارہ سوال کیا تو مہروش جھنجلا سی گئی۔
“تمہیں کیا ہے جس کے ساتھ بھی ائے”
وہ اُکتا کر بولی تو سیرت نے اُسے مسکرا کر دیکھا۔
“وہ مجھ سے تمہارے چہرے کی اداسی دیکھی نہیں جا رہی ناں۔۔۔تمہارا چہرہ ہی بتا رہا ہے کہ کسی کو بڑا مس کیا جا رہا۔۔۔”
“جی بہرام لالا”
ابھی وہ بات مکمل کرتی کہ مہروش نے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا تو سیرت فوراً دوپٹہ ٹھیک کرتے پیچھے پلٹی مگر پیچھے کسی کو نہ پاتے اُس نے گھور کر مہروش کو دیکھا۔
“اب کیا ہوا، صرف نام سے ہی بولتی بند”
مہروش نے کہتے ساتھ ہی قہقہہ لگایا۔
باقی دونوں بھی مسکرا دی تھیں جبکہ سیرت اُنہیں غصے سے دیکھتی لاؤنج کی طرف آ گئی۔
