Tere Liye by Ayat Fatima NovelR50622 Tere Liye (Episode 27)
Rate this Novel
Tere Liye (Episode 27)
Tere Liye by Ayat Fatima
سیرت کو سب لڑکیاں بہرام کے کمرے میں چھوڑ کر جا چکی تھیں۔
وہ اب بہت گھبرائی سی اُس کے بیڈ پر بیٹھی تھی۔
اچانک دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا تو وہ نظریں جھکا گئی۔
اُس کی پلکیں شرم کی وجہ سے بے حد لرز رہی تھیں۔
بہرام نے ایک نظر اُس پر ڈالی اُسے یوں گھبراتے دیکھ بہرام کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا۔
اُس نے شیر وانی اُتار کے صوفے پر پھینکی اور مضبوط قدم لیتا بیڈ کی طرف آیا۔
وہ کہنی کے بل بیڈ پر اُس کے بلکل پاس اُس کی طرف رخ کرتا لیٹا۔
“اب کیا مجھے تمھیں خوش کرنے کے لیے تعریفوں کے انبار لگانے ہوں گے ؟”
وہ شرارت سے بولا مگر سیرت ابھی بھی کنفیوز سی نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔
بہرام کچھ بھی کرنے سے پہلے اُسے کمفرٹیبل کرنا چاہتا تھا تاکہ اُس کے لیے مشکل نہ ہو۔
“آر یو اوکے ؟”
وہ فکرمندی سے اس کا ہاتھ تھام کے بولا تو وہ بوکھلا سی گئی۔
“جج۔۔جی”
بہرام اُس کی گھبراہٹ پر پریشان ہوا تھا۔
“سیرت کیا ہوا ہے میری جان کوئی پروبلم ہے تو بتا سکتی ہو تم”
وہ اب کی بار سارے مذاق ایک طرف رکھتا فکرمندی سے بولا تو سیرت نے سر نفی میں ہلایا۔
“کچھ کھایا تھا تم نے؟”
اُس کے سوال سیرت نے اُسے دیکھا واقعی وہ بہت کيرنگ تھا۔
“جی ڈنر کروایا تھا ماما نے”
وہ آہستہ سے بولی تو بہرام نے سر ہلاتے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر سہلانا شروع کیا۔
سیرت اُس کے لمس پر تڑپ رہی تھی مگر خاموش تھی۔
“پہلے والی سیرت تو کوئی اور ہی تھی اب والی تو وہ لگ ہی نہیں رہی”
بہرام اُس کا ذہن بٹانے کی خاطر مسکرا کر بولا تو وہ جھینپ سی گئی۔
“اگر تم تھکن فیل کر رہی ہو تو یو کین چینج”
اس کے مشورے پر وہ سر ہلاتی بیڈ سے اٹھی دونوں ہاتھوں سے لہنگا پکڑ کر ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی تو بہرام کی نظروں نے اس کا پیچھا کیا تھا.
بہرام اُس کی حالت سے ہی سمجھ رہا تھا وہ خود کو اس نئے رشتے کے لیے تیار نہیں کر پائی۔
اس لیے اب یوں شرما اور گھبرا رہی ہے۔
مگر بہرام بھی اب خود کو مزید ضبط نہیں کر پا رہا تھا۔
آخر کتنے سالوں کا انتظار تھا کیسے روک پاتا اب وہ خود کو۔
وہ سیدھا ہو کر بیڈ پر لیٹ گیا اور اس کے باہر آنے کا انتظار کرنے لگا۔
بیس منٹ بعد وہ سادہ سے وائٹ سلک کے شلوار قمیص میں ملبوس باہر نکلی۔
اب بال بھی کھلے کمر پر بکھرے تھے اور چہرہ بھی بلکل میکپ سے عاری تھا۔
وہ چہرہ جھکائے آہستہ آہستہ قدم لیتی بیڈ کی دوسری طرف آ کر ایک کونے پر بیٹھ گئی۔
“کیوں امتحان لے رہی ہو میرا”
بہرام کی گھمبیر آواز اُس کانوں میں گونجی تو اُس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو اس کو ہی دیکھ رہا تھا۔
“یہاں آو”
وہ بیڈ پر اپنے بلکل پاس اشارہ کرتا سنجیدگی سے بولا تو وہ ہونٹ دانتوں میں چباتے اسے دیکھنے لگی۔
“مجھے ڈر۔۔۔۔لگ رہا۔۔۔ہے”
وہ نظریں دوبارہ سے جھکا کر بولی تو بہرام نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھا۔
“تو بتاؤ پھر کیسے نکلے گا تمہارا یہ ڈر”
وہ شرارت آمیز لہجے میں بولا تو اس نے بیڈ شیٹ کو ناخنوں سے کھرچتے لا علمی سے نفی میں سر ہلایا۔
“اچھا تم میرے پاس آؤ تو سہی کرتا ہوں کچھ اس ڈر کا بھی”
وہ گھمبیر لہجے میں بولا تو سیرت نے بے بسی سے اسے دیکھا۔
“سیرت”
وہ اس دفعہ وارننگ دیتی نظروں سے اُسے دیکھتا اُس کے نام پر زور دے کے بولا تو وہ آہستہ سے اپنی جگہ سے اٹھتی اُس کی طرف ائی جو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے۔
وہ اُس سے تھوڑے سے فاصلے پر بیٹھی اب اُس کا جسم ہولے ہولے کپکپا رہا تھا۔
بہرام نے نرمی سے ہاتھ اُس کی کمر میں ڈالتے اُسے قریب کھینچا اور اُس کی پیشانی پر بوسا دیا۔
اُس کے لمس میں بے حد محبت و احترام تھا جس نے سیرت کو بے حد پر سکون کیا۔
“کہا تھا ناں خود کو مضبوط کر لو”
وہ سنجیدگی سے بولا تو سیرت نے سر ہلایا۔
اب وہ اسے کیا بتاتی کہ کل تک تو وہ مضبوط ہی تھی جانے اب اچانک کیوں حالت اُلٹ ہو گئی تھی۔
وہ جو اپنے آپ کو نہایت بہادر سمجھتی تھی آج ساری بہادری بھول کر ایک عام مشرقی لڑکی کا روپ دھار چکی تھی۔
بہرام نے نرمی سے اس کا بازو تھام کر اُسے بیڈ پر لٹایا اور خود تھوڑا اوپر ہو کے اپنی ٹی شرٹ اتار کر سائڈ پر پھینکی۔
جو اُس نے شیر وانی کے نیچے پہن رکھی تھی۔
سیرت اب آنکھیں میچ کر لیٹی اُس کے اگلے عمل کا انتظار کے رہی تھی۔
بہرام نے شرٹ پھینکی تو اب اُس کے سکس پيکس بلکل واضح تھے۔
یہ بہرام خانزادہ کے ٹف ورک آؤٹ کا نتیجہ تھا کہ وہ بے حد سمارٹ اور پرسنلٹڈ تھا۔
اوپر سے پٹھانی خوبصورت نین نقوش اُس کے حسن کو چار چاند لگاتے تھے۔
سیرت جو سب سے زیادہ بہرام کی کھڑی ناک اٹریکٹ کرتی تھی شاید ہی اس سے زیادہ پرفیکٹ ناک کسی کی ہوتی۔
بہرام کسی گہری گھٹا کی طرح اس کے وجود پر اپنا وجود ڈالتا مکمل اُس پر جھکا۔
وہ اب بلکل سانسیں روکے اسی کے رحم و کرم پر لیٹی تھی۔
بہرام نے اُس کی کانپتی پلکوں کا رقص دیکھا تو اُسے خود کو ضبط کرنا بے حد مشکل لگا تھا۔
وہ جانتا تھا اس وقت اُس کی کیا حالت ہے مگر اب وہ چاہ کر بھی اُسے مزید وقت نہیں دے سکتا تھا۔
بہرام نے چہرہ اُس کے چہرہ کے قریب کیا۔
تو بہرام کی سلگتی سانسیں اپنے چہرے پر پا کر سیرت نے بیڈ شیٹ دونوں مٹھیوں میں بھینچ کر خود کو کنٹرول کرنا چاہا۔
بہرام اُس کے شرم سے سرخ چہرے کو دیکھتا اُس پر فدا ہوتا اچانک ہونٹ اُس کی بائیں گال پر رکھ گیا۔
اُس کے دہکتے لمس کے ساتھ اُس کی ہلکی بیرڈ کی چبھن سے سیرت کی نرم و گداز گال مزید سرخ ہوئی۔۔۔
“کیا۔۔کر۔۔رہے۔۔ہیں؟”
وہ آہستہ سی آواز میں منمنائی تو بہرام اُس کی پلکوں کو ہونٹوں سے چھو کر تھوڑا پیچھے ہوتا اس کی طرف دیکھنے لگا جو اب آنکھیں کھولے ہوئی تھی۔
مگر اسے دیکھنے کی بجائے نظریں جھکا ہی رکھی تھیں۔
“چھوٹی بچی ہو تم جو میں تمہیں بتاؤں کیا کر رہا ہوں”
وہ سنجیدگی سے بولا تھا مگر اس کی بات پر سیرت کی سانس گلے میں اٹکی تھی۔
“پلیز۔۔۔ک۔۔کچھ۔۔ٹائم”
ابھی وہ آگے کچھ بولتی کہ بہرام نے سختی سے اس کی بات کاٹی۔
“یہ جو اتنے سال دیا گیا ہے نا تمہیں یہ ٹائم اور میرا صبر ہی تھا مس سیرت بہرام خانزادہ۔۔۔۔چاہتا تو تین سال پہلے ہی تمہیں نکاح میں لے کر رخصتی لے سکتا تھا مگر میں نے تمہاری پڑھائ کو ڈسٹرب نہیں کیا تو تم بھی اب مجھے ڈسٹرب کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتیں۔۔۔۔”
وہ سلگ کر بولا تو سیرت نے خاموشی دھار لی.
واقعی صحیح تو کہہ رہا تھا وہ اس سے زیادہ کتنا ٹائم دیتا۔
وہ اب انتیس سال کا تھا جبکہ ازمیر اور زبیر خانزادہ تو اُس کے بچيس سال کے ہوتے ہی اُس کی اور سیرت کی شادی کے خواہش مند تھے۔
اُن کا خیال تھا اُنہیں کسی چیز کی کمی تھوڑی ہے کہ بہرام کی پڑھائ ختم کر کے ایسٹبلش ہونے کا انتظار کریں۔
خاندانی بزنس تھے جہاں چاہے چلا جاتا جا اپنا بزنس شروع کر دیتا۔
مگر بہرام نے اُن کی بات کی نفی کی اور کہا کہ ابھی وہ دونوں پڑھنا چاہتے ہیں۔
تو وہ لوگ بھی خاموش ہو چکے تھے۔
بہرام چونکہ اُن کے خاندان کا سب سے بڑا بیٹا تھا تو سب کی دلی خواہش اُس کی شادی جلد کرنے کی تھی۔
مگر اُس کے انکار پر سب خاموش ہو چکے تھے۔
سیرت نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہے ہمیشہ سب کے ہونٹوں سے اپنے ساتھ بہرام خانزادہ کا نام سنا تھا۔
اور یہاں آ کر سیرت کو اپنی خوش نصیبی پر یقین ہو چلا تھا کہ بن مانگے اُس کی قسمت میں وہ شخص چُپکے سے چلا آیا تھا۔
وہ آہستہ آہستہ بہرام کی نظروں میں اپنے لیے موجود جذبات کو سمجھنے لگی تھی۔
اُسے خاموش ہوتے دیکھ کر بہرام اُس پر جھکا ہی تھا کہ سیرت نے فطرانہ شرم و حیا کے باعث چہرہ اُس سے پھیرا۔
اور یہی وہ لمحہ تھا جب بہرام کا ضبط ٹوٹا۔
یہ صلہ دے رہی تھی وہ اُس کی محبت کا ؟؟
بہرام غصے سے اُس پر سے اٹھتا بیڈ پر دوسری جانب لیٹا تو سیرت نے حیرت سے اسے دیکھا۔
یعنی وہ اس کے لا علمی میں کیے گئے عمل پر غُصہ ہو چکا تھا۔
وہ شادی کی پہلی رات ہی اُسے ناراض ہرگز نہیں کرنا چاہتی تھی۔
وہ اپنی جگہ سے اوپر ہوتی اُس کے قریب کھسک ائی۔
“بہرام۔۔میں نے۔۔جان بوجھ کر۔۔ایسے۔۔نہیں کیا۔پلیز آپ یوں بیہيو نہیں کریں”
وہ اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی نرمی و محبت سے بولی تھی مگر بہرام یُونہی لیٹا اُسے اذیت پہنچا رہا تھا۔
“ایم سوری بہرام”
وہ بے بسی سے بولی تو بہرام اچانک کروٹ اُس کی طرف لیتا اُسے اپنی بانہوں کے حصار میں قید کر گیا۔
اُس کی اچانک کی گئی حرکت پر سیرت کا تو دل دھک دھک کرنے لگا تھا مگر وہ دوبارہ اُسے ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے چپ چاپ لیٹی رہا تھا۔
“یعنی تم بھی میرے بغیر نہیں رہ سکتی”
وہ مسکرا کر بولا تو سیرت نے اثبات میں سر ہلایا تھا واقعی وہ اُس کے بغیر رہ ہی نہیں سکتی تھی۔
بہرام نے اُسے تکیے پر لیٹآتے چہرہ اُس کی گردن میں چھپایا اور وہاں اپنی شدتیں دکھانے لگا۔
لیکن سیرت نے آہ بھی نہیں کی تھی اُسے تو اپنے شوہر کا لمس سکون ہی پہنچا رہا تھا۔
لیکن جب بہرام اُس کی گردن سے چہرہ نکال کر اُس کے ہونٹوں پر جھکا تو تب سیرت کی جان ہوا ہوئی تھی۔
وہ اُس کی سانسیں بلکل روکنے کے در پر تھا۔
سیرت نے اُس کے کندھوں پر زور دار مکے مارے تھے مگر وہ پیچھے نہیں ہوا آخر وہ سانسوں کے لیے تڑپتی جب بلکل بیہوش ہونے کو ہوئی تو بہرام اُس کے نرم و نازک لبوں کو دانتوں سے کاٹتا پیچھے ہوا۔
اُس کے سرخ ہونٹوں سے اب کٹ لگنے کی وجہ سے خون نکل رہا تھا۔
یونہی ساری رات بہرام خانزادہ نے اُس کی جان کو ہلکان کیے رکھا تھا۔
کبھی اُس کا لمس بے حد نرمی اختیار کر لیتا اور کبھی شدت پسندی۔
صبح کے چار بجے ہی اُس کے بے حد احتجاج اور اسرار پر اس کی جان بخشی ہوئی تھی۔
وہ اُسے بانہوں میں بھرتا خود نیند کی وادیوں میں گم ہو گیا جبکہ وہ گردن اور کندھوں پر تکلیف اور جلن کا باعث سو ہی نہیں پائی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے ساڑھے نو بجے وہ فریش ہوتی بمشكل بہرام کو منا کر نیچے لائی تھی۔
جو دوبارہ اپنی رات کی ٹون میں آ رہا تھا۔
سیرت نے اپنی گردن اور ہونٹ صبح شیشے میں دیکھے تو اسے خود پر ترس آیا تھا۔
بہرام کے دانتوں کے نشان اُس کی پوری گردن پر زخموں کی طرح واضح ہو رہے تھے۔
جبکہ ہونٹ پر الگ کٹ لگا ہوا تھا سیرت نے جیسے تیسے کر کے گردن پر دوپٹا لپیٹے اور ہونٹوں کو لپسٹک سے رنگتے وہ نشانات چھپائے تھے۔۔۔
لیکن اُسے تپ تو اُس وقت چڑھی جب بہرام نے اُن نشانوں کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا کہ تمہاری گردن پر یہ سرخ نشان بہت دلکش لگ رہے ہیں۔
اُس وقت سیرت کا دل کیا اسی طرح کے نشانات اُس کی گردن پر بھی بنا دے مگر وہ اتنی بے شرم ہرگز نہیں ہو سکتی تھی۔
وہ دونوں نیچے ائے تو سب لاؤنج میں۔ موجود تھے۔
آج ولیمہ تھا اس لیے سب ہے حویلی موجود تھے۔
بہرام تو وہیں ایک صوفے پر سب مرد حضرات کے پاس بیٹھ گیا البتہ سیرت سب سے پیار لیتی کچن میں آئی۔
حویلی کی سب خواتین و لڑکیاں یہیں جمع ناشتا بنوانے میں مگن تھیں۔
اُن کی حویلی میں کچن پر بھی بہت فوکس کر کے اسے تعمیر کروایا گیا تھا کیونکہ اُن سب کو ملازموں کے ہاتھ کا کہنا کم ہے پسند تھا۔
اس لیے زیادہ تر حویلی کی خواتین خود ہے کھانا بناتی تھیں۔
یہ کچن عام کچن سے ٹریپل تھا، ایک طرف شیلف بنے ہوئے تھے۔
دوسری طرف دروازے کے ساتھ ہی فریج رکھی تھی پھر اُس کے ساتھ ایک ٹیبل اور چھ کرسیاں رکھی تھیں۔
جبکہ ایک دیوار پر بڑی سی شیشے کی گرل موجود تھی جس سے لون کے مناظر نظر آتے تھے۔
سیرت شرم سے نظریں جھکاتی ایک چیئر پر آ کر بیٹھ گئی۔
محروش اور مرحا کو پہلے ہی زبردستی چیئرز بٹھا دیا گیا تھا۔
“اٹھ گئے میرے بچے”
شائستہ بیگم فروٹس ایک باسکٹ میں سیٹ کرتیں اُس کے پاس آئیں اور اُسے خود سے لگاتے محبت سے بولیں۔
“جی”
وہ دھیمی مسکراہٹ سے نرمی سے بولتی سب کو مسکرانے پر مجبور کر گئی۔
“کیسے نکھر سی گئی ہے میری بیٹی”
وہ اُس کے چہرے کو دیکھ کر بولیں تو وہ شرما کے نظریں جھکا گئی۔
ماں تھیں اُس کے وجود سے اپنے بیٹے کی خوشبو پہچان چکی تھیں۔
“ماشاءاللہ”
نورین بیگم بھی اُس تک آئیں اور اُسے سینے سے لگا کر محبت سے اُس کی پیشانی چوم کر بولیں۔
“رات کو ٹھوڑی سی بریانی ہی کھائی تھی تم نے۔اب کچھ کھانا ہے یا سب کے ساتھ ناشتہ کرو گی “
وہ واپس شیلف تک جا کر بوائلڈ انڈوں کے چھلکے اُتارتی ہوئی اُس سے بولیں۔
“نہیں ماما۔۔۔سب کے ساتھ ہی کھاؤں گی”
“کچھ کھا لو بچے ویکنس ہو جائے گی”
شائستہ بیگم اُس کے جواب پر بولیں۔
“اس کی کیا شادی ہو گئی آپ لوگ ہم دونوں کو تو بھول ہی گئی ہیں”
مہروش نے شرارت سے کہا تو سب مسکرا دیں۔
“آؤ ناں سیرت لان میں چل کر باتیں کرتی ھیں”
مرحا نے معنی خیزی سے کہا تو سیرت نے گھور کر اسے دیکھا وہ جانتی تھی اب یہ سب مل کر اس سے پچھلے سارے بدلے لیں گی۔
“نہیں تم لوگ جاؤ میں یہیں ٹھیک ہوں”
وہ چالاکی سے بولی تو مہروش نے اسے مصنوعی غصے سے گھورا۔
“اچھا بس کرو تم سب اور ناشتہ ڈائننگ پر لگانا شروع کرو اس سے پہلے تم لوگوں کے بڑے بابا غصّہ ہوں”
شائستہ بیگم نے اُنہیں متوجہ کیا تو سب اٹھتیں باری باری ناشتے کے لوازمات لاونج کی طرف لے جانے لگیں۔
پھر سب نے سکون سے ناشتہ کیا تھا۔
بہرام سب کے سامنے اس قدر سنجیدہ بن رہا تھا کہ سیرت کو رات والا بہرام یاد آیا تو اُسے اس بہرام کو پہچاننا بھی مشکل ہی لگ رہا تھا۔
مگر وہ مطمئین تھی کہ کم از کم اس نے سب کے سامنے کسی بھی قسم کی بے باک حرکت نہیں کی تھی۔
ناشتے کے بعد سب لوگ اپنی اپنی مصروفیات میں مگن ہو گئے تھے کیونکہ شام کو ولیمہ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرحا ناشتہ کر کے روم میں آ گئی تھی۔
البتہ ارمان کسی کام سے کہیں باہر گیا ہوا تھا۔
اُسے آج اپنی طبیعت کچھ نا ساز محسوس ہوئی تو وہ آرام کر رہائی تھی تاکہ رات کو فنکشن پر کوئی ڈسٹربنس نہ ہو۔
اچانک ارمان کمرے میں داخل ہوا اور سیدھا سائڈ ڈرا تک آیا۔
وہاں سے کوئی چیک نکال کر وہ واپس جانے ہی کہا تھا جب کمبل میں لپٹی مرحا پر نظر گئی۔
سب لڑکیاں تو لاؤنج میں موجود تھیں اُسے تو لگا تھا وہ بھی اُن کے آس پاس موجود ہو گی۔
لیکن اب اسے یہاں پر کر وہ فکر مند ہوا۔
“کیا ہوا جاناں۔۔۔۔طبیعت ٹھیک ہے؟”
وہ اُس تک آتا محبت سے اُس کے پاس بیٹھ کر بولا اور اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر چیک کیا کہ کہیں اُسے بخار تو نہیں۔
وہ آہستہ سے اٹھنے لگی مگر اُس سے اٹھا نہیں کا رہا تھا ارمان نے اُس کی کمر تھام کے اُسے دوبارہ لٹایا۔
“نہیں۔۔۔شاید فوڈ پوايزننگ ہو گئی ہے”
وہ نقاہت سے بولی تو ارمان نے فکر مندی سے اس کے ستے چہرے کو دیکھا۔
“خیال رکھو کرو ناں چندہ۔۔۔اب ایک دن میں فری نہیں تھا تو کیا حال کر لیا ہے تم نے اپنا”
وہ اس کہ ہاتھ تھام کر کہتا پھر اٹھ کر اُس کی میڈیسن اور پانی کا گلاس لے آیا۔
اُسے سہارا دے کر بیٹھا کر میڈیسن دی پھر واپس لٹا کر خود اس کے پاس بیٹھا۔
“تم آرام کرو شام تک باہر آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں ماما سے کے دوں گا تمہیں کوئی ڈسٹرب نہیں کرے”
وہ اُس کی پیشانی پر بوسہ دیتا پیار سے بولا تو وہ مدھم سا مسکرا دی۔
“ہمم۔۔۔آپ جائیں کام ہوں گے آپ کو”
وہ نرمی سے بولی تو و سر ہلاتا اٹھا اُسے واقعی کیٹرنگ والوں کو چیک دینا تھا اور سارا انتظام بھی کروانا تھا۔
وہ جھکتا اُس کی گال چوم کر پیچھے ہوا تو وہ شرماتی ہوئی نیچے دیکھنے لگی۔
“مائے ریڈ چیری”
وہ اُس کے سرخ چہرے کو دیکھ کر کہتا اُس اور کمبل ٹھیک کرتا دروازہ بند کر کے باہر چکا گیا تو اُس نے بھی آنکھیں بند کیں تاکہ کچھ دیر سو سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیرت اور مہروش اس وقت مہروش کے روم میں موجود تھیں۔
روحان کو مہروش نے سلا کر پلوشے کے کمرے میں لٹا دیا تھا تاکہ وہ ساتھ ساتھ اُسے بھی دیکھتی رہے۔
مہروش سیرت کو اس لیے روم میں لائی تھی تاکہ خود اُس کی کلینزنگ کر دے۔
وہ دونوں روم میں آئیں تو مہروش نے سیرت کو ڈریسنگ کے سامنے موجود چیئر پر بیٹھایا اور خود اُس کے پیچھے کھڑی ہوتی ائینے میں اسے دیکھنے لگی۔
“تو بتائیے مسز بہرام خانزادہ میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں۔۔۔آپ کہیں تو آپ کی زبان تھوڑی سی کاٹ دوں”
مہروش پروفیشنل پالرز کی طرح شرارت سے بولی تو سیرت نے شیشے سے ہی اسے گھور کر دیکھا۔
“تم ایک کلینزنگ ہی کر دو تو بہت ہے”
وہ طنزیہ لہجے میں بولی تو مہروش نے سر ہلا کر کلینزنگ ملک کی بوٹل اٹھائی۔
اُس نے شروع کرنے اسے پہلی احتیاطاً سیرت کا دوپٹہ گلے سے نکال کر سائڈ پر رکھا تاکہ وہ اریٹيٹ مت کرے۔
جبکہ اُس کا اس عمل پر سیرت کا سانس اٹکا تھا۔
اب اُس کی گردن کے نشانات بلکل سامنے تھے۔
مہروش کی نظر جب اُس کی گردن پر گئی تو وہ حیرت سے اُس کے سامنے ائی اور اُس کا چہرہ اٹھا کے گردن کا جائزہ لیا۔
“یہ کیا ہوا ہے تمہیں”
وہ بے دھیانی اور حیرت میں سوال پوچھ تو گئی تھی۔
مگر سیرت کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اُسے اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا۔
“افف لالا بھی ناں”
وہ سر پر ہاتھ رکھتی پریشانی سے بولی تو سیرت نے چہرہ جھکا لیا تھا۔
وہ ہرگز نہیں چاہتی تھی کوئی یہ نشانات دیکھے مگر اب اس میں اُس کا کیا قصور۔
“یار تمہاری آج کی جو میکسی ہے اُس کا گلا بہت ڈیپ ہے اور ساتھ دوپٹہ بھی نہیں بنوایا تھا ہم نے۔۔۔اب کیسے جاؤ گی ان زخموں کے ساتھ ریسیپشن پر”
وہ فکرمندی سے بولی تو سیرت کو بھی خیال آیا تھا کہ اُس نے کتنے دل سے وہ میکسی بنوائی تھی۔۔۔۔۔
“اب کیا کروں میں۔۔”
وہ بھی دکھ سے بولی تو مہروش نے اسے گھورا۔
“یہ تو رات میں سوچنا چاہیے تھا ناں کہ کیا کرو گی۔۔۔۔”
“تم کہہ تو ایسے رہی ہو جیسے میں نے کیا ہے یہ سب”
سیرت کی بات پر مہروش نے منہ بنایا۔
“اب میں پارلر کیسے جاؤں گی وہ کیا سوچے گی”
سیرت کو نئی فکرمندی لاحق ہوئی تو مہروش نے بھی پریشانی سے ہونٹ کاٹے۔
“ہاں اب کرو تو کرو کیا۔۔۔کسی کو بتا بھی نہیں سکتے”
مہروش کے دماغ میں اچانک ایک خیال آیا۔
“تم لالا سے پروبلم ڈسکس کرو اور ابھی جا کر نیا ڈریس لے آؤ جس کا ہائی نیک ہو اور دوپٹہ بھی ہو”
اُس کے مشورے پر سیرت نے منہ بنایا۔
“پہلی بات میں نے بہت محبت سے یہ ڈریس لیا تھا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں یہ نہیں پہنوں۔۔۔دوسری بات بہرام کو نہیں پتہ میرا یہ ڈریس تھوڑا بولڈ ہے اگر میں اُن سے ڈسکس کریں تو وہ غصّہ ہوں گے کہ یہ کیوں لیا”
“ہممم۔۔۔اچھا چھوڑو پھر یہی پہن کو ساتھ کوئی دوپٹہ میچ کر لیتے ہیں کسی طرح گردن کور ہو جائے بس”
مہروش نے کہا اور پھر وہ دونوں دوپٹہ میچ کرنے میں لگ گئی تھیں۔۔۔۔
