Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 04)

Tere Liye by Ayat Fatima

وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر ارمان خانزادہ کے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔

سامنے ہی وہ بغیر شرٹ کے اُلٹا بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ دونوں بازو تکیے پر پھلائے ہوئے تھے۔

کمبل آدھے سے زیادہ زمین کو سلامتی بخش رہا تھا۔

جو تھوڑا سا حصہ بیڈ پر موجود تھا وہ بھی ارمان خانزادہ کے نیچے دبا تھا۔

مرحا کافی دیر کھڑی سوچتی رہی کے اُسے کیسے اٹھائے۔

اب تقریباً پندرہ منٹ ہو گئے تھے اُسے یونہی انگلیاں چٹخاتے۔

جب اُسے محسوس ہوا کہ وہ یونی سے زیادہ لیٹ ہو رہی ہے تو بغیر آہٹ کیے اُس کے پاس آ کھڑی ہوئی۔

“ار۔۔۔ارمان اٹھیں”

اُس نے ارمان خانزادہ کو پکارا لیکن وہ ٹس سے مس بھی نہ ہوا۔

بغیر شرٹ کے تو وہ اُسے ہاتھ لگانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ ایک ہی حل تھا کے جب تک وہ صاحب نہیں اٹھتے پکارتی ہی رہے۔

“ارمان۔۔۔ارمان”

اُس نے پھر سے آواز دی لیکن اُس کی نیند اس قدر گہری تھی کے وہ ابھی بھی جوں کا توں پڑا تھا۔

آخر تنگ اتے اُس نے اپنا نازک مرمریں ہاتھ ارمان کے کندھے پر رکھ کر اُسے ہلایا تھا۔

اُس کے لمس سے مرحا کا ہاتھ کپکپا رہا تھا مگر ابھی اُسے جگانا ضروری تھا تو وہ دوبارہ سے بولی۔

“ارما”

ابھی اُس کے الفاظ منہ میں ہی تھے کے ارمان خانزادہ نے عجب وارفنگی سے اُسے بیڈ پر کھینچا۔

مرحا کی چیخ بے ساختہ تھی۔

ارمان نے اُسے بلکل اپنی پاس لیٹا کر دونوں بازو اُس کی کمر کے گرد لپیٹے اور چہرہ اُس کی گردن میں چھپایا۔

“کیا آفت ٹوٹ پڑی ہے صبح صبح”

وہ اُس کے کان میں پھنکارہ تھا۔

مرحا کو تو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو اس سے شدید نفرت کا دعویٰ کیا کرتا تھا۔

“وہ بہرام لالا اور بڑے بابا آفیس جا چکے ہیں اور مجھے یونی جانا ہے تو پلیز آپ ڈراپ کر دیں”

اُس نے اپنے آنے کا مقصد بتایا۔

ارمان نے لب اُس کی گردن پر رکھ دیے اور ہاتھ اُس کی کمر پر بے باکی سے چلانے لگا۔

وہ خاموشی سے لیٹی رہی تھی۔

وہ کہاں دور جھٹک سکتی تھی اسے وہ تو چاہتی تھی کہ کاش کبھی ارمان خانزادہ بھی اس پر توجہ دے اسے بیوی کا مقام دے۔

آج اُس کے یوں خود کے قریب کرنے پر مرحا کے ہونٹ خود بہ خود ہی مسکرا رہے تھے۔

ارمان خانزادہ نے زبان اُس کی گردن پر پھیرنی شروع کی تو مرحا کے وجود میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی۔

اُس کا پورا وجود ہی ارمان خانزادہ کے لمس سے تڑپ اٹھا تھا۔۔۔

جسم میں عجب بے چینی سی ہونے لگی تو مرحا نے اُس کی طرف دیکھا جو ابھی بھی اسی کے گردن میں چہرہ ڈالے ہوئے تھا۔

جب ارمان کے بھیگے ہونٹ اُس کی گردن کی حدود پار کرتے اُس کے دل کے مقام پر آ کر ٹھہرے تو مرحا نے بے ساختہ اُس کے بال اپنے ہاتھوں میں جکڑے تھے۔

“ار۔۔ارمان۔۔مجھےدیر ہو رہی ہے”

وہ جلدی سے بولی۔

اچانک جیسے سکتہ ٹوٹا تھا۔

۔

۔

ارمان خانزادہ اُس سے تیزی سے الگ ہوا جیسے وہ اب ہوش میں آیا ہو۔

اُس کے بکھرے سراپے پر نظر ڈالے بغیر وہ بیڈ سے اٹھتا کبرڈ کی طرف گیا۔

وہاں سے ایک بليک کلر کی شرٹ نکال کر پہنی۔

جبکہ وہ تو ابھی صدمے سے ہی نہیں نکل پائی تھی۔ یعنی وہ صرف اُس کے وجود اُس کے جسم میں کھویا رہا تھا۔

اُسے اب بھی اس سے اپنی بیوی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

ہاں وہ صرف عام مردوں کی طرح بہک گیا تھا۔

کیا اس کی کوئی عزت نفس نہیں تھی جب دل کیا قریب آ گیا جب دل کیا دور جھٹک دیا۔

اُس نے بھیگی نظروں میں شکوہ لیے ارمان خانزادہ کو دیکھا تھا۔

البتہ وہ اسے نظر انداز کیے نیچے کی طرف بڑھ گیا تو وہ بھی اپنی حالت ٹھیک کرتی باہر ائی اور شائستہ بیگم کو خدا حافظ بولتی باہر پورچ میں ائی تھی۔

سامنے ہی وہ بے نیازی سے لا تعلق بنا ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان تھا۔

مرحا بھی خاموشی سے آ کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تو اُس نے کار سٹارٹ کی۔

سارے راستے اُن دونوں میں سے کوئی ایک لفظ تک نہیں بولا تھا۔

یونیورسٹی کے باہر گاڑی رکی تو وہ تیزی سے اُتری تھی۔

ارمان کچھ لمحے گہری نظروں سے اُس کی پشت کو دیکھتا رہا تھا پھر سے جھٹک کر گاڑی واپس موڑ لی۔

کیونکہ آج اُسے اپنے ایک دوست سے ملنا تھا جو اے ایس پی تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کافی دن سکون سے گزر گئے تھے کیونکہ آویز شاہ اُس دن کے بعد حویلی نہیں آیا تھا جو بھی تھا مہروش اُس کے نه آنے سے بے پناہ پر سکون تھی۔

حویلی کے باقی تمام افراد اُس کے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کر رہے تھے یہاں تک کہ اذلان شاہ بھی۔

اُن سب کا ماننا تھا کے اس میں اس بیچاری کا کیا قصور جو وہ اُسے اذیت پہنچائیں۔

اُسے اُس کے گھر والوں سے جدا کر دیا تھا یہی سزا ارمان خانزادہ کے لیے کافی تھی۔

آج صبح ہی شائستہ اور ندہ بیگم کسی عزیز کے گھر عیادت کے لیے چلی گئی تھیں۔

مرد حضرات سب آفیس یا زمینوں میں گئے تھے اور طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے سوہا کمرے میں آرام کر رہیں تھی۔

اس وقت دو نفوس پوری حویلی پر راج کے رہے تھے اور وہ تھے مہروش اور روحان شاہ

دونوں اس وقت ٹی وی کے سامنے بیٹھے کارٹون دیکھنے میں مگن تھے۔

ساتھ ساتھ سنيکس سے بھی لطف اٹھایا جا رہا تھا۔ روحان تو باقاعدہ سر کو ادھر ادھر ہلا کر اپنی خوشی کا اظہار بھی کر رہا تھا۔

ان دنوں میں مہروش اور روحان کی کافی دوستی ہو چکی تھی دونوں ہر وقت ہی ساتھ پائے جاتے تھے۔

روحان جو کبھی آویز شاہ کے بنا ایک رات نہیں گزارتا تھا اب مہروش کے انے سے اُسے تقریباً بھول ہی چکا تھا۔

آویز شاہ ایک امپورٹنٹ میٹنگ کے لیے کراچی گیا تھا اور آج کام ختم ہوتے ہی صبح کی فلائٹ سے واپس لوٹ آیا تھا۔

اُسے شدت سے روحان کی یاد ستا رہی تھی اب ایک پل بھی اُس کے بغیر رہا نہیں جا رہا تھا۔

دل کے پتہ نہیں کس کونے میں کسی اور سے ملنے کی خواہش بھی امنگ رہی تھی مگر آویز شاہ نے دل کو خاموش کروا دیا۔

اس نے لاؤنج میں قدم رکھا تو سامنے ہی وہ دونوں نظر ائے تھے۔

وہ تیزی سے صوفے کے پاس آیا اور روحان کو مہروش کی گود سے اٹھایا تھا۔

مہروش تو اُس کے اچانک سامنے آ جانے سے حیرانگی کے ساتھ ساتھ خوف سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

جبکہ روحان اپنے بابا کو اتنے دنوں بعد اپنے سامنے پا کر خوشی سے کھلکھلانے لگا۔

“بابا کی جان ۔۔۔۔ میلا پالا بے بی۔۔۔حان نے مش کیا بابا کو”

وہ شدت سے اُس کی گالیں چوم کر محبت سے بولا تو روحان کے فوراً اثبات میں زور زور سے سر ہلایا تھا۔

“امی کہاں ہیں؟”

اِس نے ایک طرف کھڑی مہروش سے پوچھا تو اس نے نگاہیں اٹھا کر آویز شاہ کی طرف دیکھا۔

“وہ آپ کے کسی رشتہِ دار کی طرف گئی ہیں”

وہ سنجیدگی سے کہتی وہاں سے جانے ہی تھی کہ آویز شاہ کی آواز پر رکی۔

“میرے بیٹے سے دور رہا كرو اسے اپنا عادی بنانے کی کوشش بھی مت کرنا”

آویز شاہ نہ جانے کیوں یونہی بول گیا تھا اُس کا فلحال دل نہیں کر رہا تھا کے مہروش اُس کی نظروں سے دور ہو اس کی اُسے بات میں الجھایا تھا۔

اور ہوا بھی یہی تھا مہروش غصے سے پلٹی تھی۔

“میری مرضی میں جسے چاہوں گی اپنا عادی بناؤں گی آپ مجھے روک نہیں سکتے “

وہ تلملا کر بولی تو آویز شاہ نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا تھا جہاں اس وقت صرف غُصہ تھا۔

“ویسے بھی کچھ دنوں تک میرے لالہ مجھے یہاں سے لے جانے آئیں گے تو میری آپ سے جان چھوٹے گی”

وہ اُسے طیش دلاتی بولی تو اچانک آویز شاہ نے روحان کو صوفے پر بیٹھایا تھا اور آگے بڑھ کے اُس کا بازو اپنی سخت گرفت میں لیا۔

“اپنی اوقات مت بھولو دو منٹ بھی نہیں لگیں گے مجھے تمہارا یہ غرور توڑنے میں”

وہ اُس کے کان کے پاس جھکتا پھنکارا تھا۔

پھر سختی سے اُس کی کان کی لو کو دانتوں میں لے کر دباتا پیچھے ہٹا۔

مہروش نے ایک سسکی لی پھر دوبارہ مضبوط ہوئی۔

“ہاتھ تو لگائیں مجھے ۔۔ پھر میرے دونوں لالہ بتائیں گے آپ کو”

وہ اُسے جان بوجھ کر مزید طیش دلاتی ہوئی بولی۔

آویز شاہ نے پہلے روحان کو اٹھایا پھر مہروش کے بلکل سامنے آ کر رکا۔

“میں تمہیں وہاں سے توڑوں گا کے تمہاری یہ کینچی کی طرح چلتی زبان خود بہ خود بند ہو جائے گی اور جہاں تک بات ہے تمہارے بھائیوں کی تو اگر اُن میں اتنی ہی ہمت تھی تو اب تک تمہیں مجھ سے آزاد کروا لیتے۔۔۔۔۔میری جان تم بھی یقین کر لو وہ سب اب تمھیں تمہارے حال پر چھوڑ کر اپنی زندگیوں میں مست ہو چکے ہیں”

وہ پہلی بات معنی خیزی سے اور آخری بات تمسخر سے کرتا مسکرایا تھا۔

اُس کی بات پر مہروش نے بمشکل اپنے آنسو پیچھے دھکیلے تھے۔

“ایک۔۔ایک یہی طریقہ تو ہوتا ہے آپ مردوں کے پاس ہمیں خاموش کروانے کا۔۔۔۔”

مہروش ہمت کرتی اپنے دل کی بات بولی تو آویز شاہ نے شرارت سے مسکرا کر ایک آنکھ دبائی۔

“چلو کوئی طریقہ تو ہوتا ہے ہم مردوں کے پاس بھی تم بیویوں کو خاموش کروانے کا”

وہ شرارت سے کہتا اُسے یونہی چھوڑے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔

وہ بھی جانتا تھا کے مہروش میں ایسی کیا کشش ہے کے وہ اس کی طرف کھینچا چلا آتا ہے۔

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اُس کے ساتھ نرم پڑ رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ماہر خانزادہ ایک یونیوسٹی کے ہیڈ آفیس میں موجود تھا۔ یہ یونیرسٹی اُس کے بابا کے دوست کی تھی۔

اُنھوں نے علی خانزادہ سے بہت اصرار کیا تھا کے ماہر اُن کی یونیوسٹی کے بزنس ڈیپارٹمنٹ کے سٹوڈنٹس کو ایک لیکچر دے دے۔

جب علی خانزادہ نے ماہر سے اس بارے میں بات کی تو اُس نے فوراً ہی انکار کے دیا تھا۔

اُس کا کہنا تھا کہ وہ آلریڈی بہت بزی ہے وہ اس جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتا۔

لیکن جب علی خانزادہ نے دوبارہ اُسے سمجھایا تو وہ بڑی مشکل سے راضی ہوا تھا۔

اس وقت پرنسپل صاحب اُس کی آؤ بھگت میں لگے تھے۔

ماہر چہرے پر بے زاریت سجائے ایک صوفے پر بیٹھا موبائل یوز کر رہا تھا اُسے ھمیشہ سے ہی اس قسم کے خوشامدی اور چپکُو لوگوں سے چڑ تھی۔

جب پرنسپل نے اُس کے بگڑنے زاویے دیکھے تو جلدی سے بولے۔

“آئیں مسٹر ماہر میں آپ کو کلاس روم تک لے جاؤں”

ماہر نے گہری نظروں سے انہیں دیکھا پھر سے ہلاتا اٹھا۔

“آپ یہیں رکیں مجھے کلاس روم کی لوکیشن بتا دیں میں خود چلا جاتا ہُوں”

وہ از حد سنجیدگی سے بولا تو اُنھوں نے اُسے کلاس روم کا بتایا۔

ماہر اپنی سحر انگیز پرسنیلٹی کے ساتھ کلاس میں داخل ہوا تو سب دم سادھ گئے تھے۔

سب لڑکیوں کو تو وہ اپنے خوابوں کا شہزادہ ہی کہ رہا تھا۔

وہ یک ٹک اُسے دیکھے جا رہی تھیں دوسری طرف لڑکے بھی اُس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائے تھے۔

ماہر نے سب کو سلام کیا اور اپنا تعارف کروا کر لیکچر سٹارٹ کر دیا تھا۔

اچانک اُس کی نظر آخری لائن میں بیٹھی دشمن جان پر پڑی تھی۔

اگر اُسے پہلے معلوم ہوتا کے وہ بھی اسی کلاس میں ہے تو وہ پہلی بار ہی بابا کو انکار نہ کرتا۔

ماہر سے اپنا دل اور نظریں سمبھالے نہیں سمبھل رہی تھیں۔

جبکہ وہ محترمہ معصومیت سے بیٹھیں بورڈ سے انفارمیشن کاپی کر رہی تھیں۔

ماہر کی آنکھوں میں خود ہی مسکراہٹ آ گئی تھی اور چہرے پر بھی نرمی در ائی تھی۔

مگر اُس نے خود پر قابو پاتے اپنی توجہ اپنے الفاظ پر دی۔

ہر دو منٹ بعد وہ ایک نظر اُس پر بھی ڈال لیتا۔

اچانک ماہر کی نظر ایک نو جوان پر پڑی تھی جو حوس سے پلوشے کو دیکھنے میں مگن تھا۔

ماہر نے پلوشے کی طرف دیکھا جس کا دوپٹہ شانوں سے اتر کر گود میں آ گرا تھا مگر وہ ابھی بھی لکھنے میں مصروف تھی۔

اُس کا نسوانی حسن قیامت ڈھا رہا تھا۔

ماہر خانزادہ کو تو آگ ہی لگی تھی۔

“ہئے۔۔یو گیٹ آؤٹ فرام کلاس رائٹ ناؤ”

ماہر کی دھاڑ پر وہ لڑکا خفت زدہ چہرہ لیے تیزی سے کلاس سے باہر کی جانب نکلا تھا۔

پلوشے اب اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی ماہر خانزادہ کو دیکھ رہی تھی کہ ھوا کیا ہے جو اُس بیچارے کو یوں سب کے سامنے بے عزت کر دیا ہے۔

ماہر نے جلدی سے لیکچر اینڈ کیا اور باہر چلا گیا۔

ابھی اسے گئے پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ پی این نے آ کر پلوشے کو اطلاع دی تھی کہ باہر اُسے کوئ لینے آیا ہے۔

وہ حیران ہوئی تھی کے ایسا کیا ہوا ہو گا جو اُسے یونی سے لینے آ گئے ہیں۔

وہ بیگ کندھے پر لٹکاتی گیٹ سے باہر آئی تو سامنے ماہر علی خانزادہ اپنی بلیک فورچونر میں بیٹھا اسی کا انتظار کر رہا تھا۔

پلوشے مسکراتی ہوئی اُس کے پاس فرنٹ سیٹ پر بیٹھی۔

چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔

ماہر خانزادہ بمشکل خود کو اُسے دیکھنے سے روک رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا ایک نظر بھی اُس کے معصوم اور نازک سراپے پر ڈال دی تو وہ وہیں تھم جائے گا۔

“لالا آپ نے مجھے کیوں بلوا لیا۔۔۔حویلی میں سب ٹھیک ہے ناں”

پلوشے اچانک پریشانی سے بولی۔

اُس کے لفظ لالا پر ماہر کا دل کیا چلتی گاڑی سے ہی کود جائے۔

اُس کا یہ لفظ ہمیشہ ماہر خانزادہ کی فیلنگز کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیتا تھا۔

“پلوشے کتنی دفعہ کہا ہے کے میں تمہارا لالا نہیں ہوں۔۔۔۔حویلی میں سب ٹھیک ہیں میں بس جا رہا تھا تو سوچا تمہیں بھی حویلی ڈراپ کر دوں بہرام بزی تھا تھوڑا”

اُس نے ایک دفعہ پھر سے پتھر سے سر پھوڑا تھا۔

“لیکن کیوں باقی سب بھی تو آپ کو لالا کہتی ہیں ناں۔۔پھر میں کیوں نہ کہوں۔۔۔۔اب اگر آپ نے مجھے لالا کہنے سے منع کیا تو میں بہرام لالا سے آپ کی شکایت کر دوں گی”

اُس کی معصومانہ دھمکی پر ماہر نے تپ کر گاڑی کی سپیڈ بڑھائی تھی۔

“آہستہ چلائیں مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔بہرام لالا تو آہستہ چلاتے ہیں”

اُس نے پھر سے بہرام کا نام لیا تو ماہر کا دماغ ہی گھوم گیا۔ یعنی اُس کی معصوم سی وائف ٹو بی اپنے لالا سے اس قدر انسپائر تھی کے ہر بات میں اُس کا ذکر کرنا فرض سمجھتی تھی۔

اُس نے پلوشے کے ڈر کا سوچتے سپیڈ کم کی تھی۔

“ایج کیا ہے تمہاری”

ماہر نے سنجیدگی سے اپنے مطلب کا سوال پوچھا تو وہ جلدی سے بولی تھی۔

“آپ کو پتہ ہے میں پورے ٹونٹی ٹو ييرز کی ہوں۔۔۔اب میں تھوڑی اور بڑی ہو جاؤں تو ماما میری شادی کے دیں گی”

وہ معصومیت سے شرماتی ہوئی بولی تو ماہر خانزادہ نے مسکراہٹ چھپائی تھی۔

یعنی کیا تھی یہ لڑکی؟؟

اچانک ماہر کو آج کا واقعہ یاد آیا تو اُس کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔

سٹيرنگ پر ہاتھوں کی گرفت اس قدر سخت ہوئی کہ اُس کے بازووں کی رگیں اُبھرنے لگی تھیں۔

“آئندہ سے تم چادر کر کے یونیورسٹی جاؤ گی”

وہ سختی سے بولا تو پلوشے نے حیرت سے رخ موڑ کر اسے دیکھا۔

“لیکن کیوں”

وہ ہلکی آواز میں منمنای تھی۔ کِیُونکہ اس وقت ماہر غصے میں لگ رہا تھا اور اُس کا غصّہ پورے خاندان میں مشہور تھا۔

پھر وہ تو چھوٹی سی جان تھی کیسے نہ ڈرتی اس سے۔

“کِیُونکہ میں کہہ رہا ہوں”

وہ اس دفاع نرمی سے بولا تو وہ بھی خاموش ہو گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *