Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 16)

Tere Liye by Ayat Fatima

وُہ لوگ جلدی سے اُس جگہ پہنچے تھے جہاں اُنہیں بلایا گیا تھا۔

بہرام کو وہیں کہ کسی آدمی نے کال کر کے بتایا تھا وہ وہاں سے گزر رہا تھا جب اُس نے ارمان کو دیکھا۔

گاؤں کے سب لوگ ہے اُن کے دیوانے تھے۔

جب وہ لوگ پہنچے تو گاؤں کے لوگوں کا جھرمٹ سا بنا ہوا تھا۔

بہرام سب کو چیرتا ہوا آگے آیا۔

لیکن جب نظر خون سے لتھڑے ہوئے ارمان پر گئی تو اُس کا دل دھک سے رکھ تھا۔

وہ چاہ کر بھی یہ یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ یہ وہی ارمان ہے۔

گاؤں والے اُسے ایک چٹائی پر پہلے سے ہی لٹا چکے تھے۔

بہرام اگے آیا تو مستقیم (بہرام کا خاص ملازم) بھی اُس کے ساتھ آگے آیا تھا۔

دونوں نے مل کر ارمان کو اٹھا کر بہرام کی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا تھا۔

ازمیر خانزادہ بھی اُس کے قریب آنا چاہتے تھے مگر زبیر خانزادہ نے اُنہیں زبردستی گاڑی میں بیٹھا کر گاڑی اُن کے پیچھے لگائی۔

وہ نہیں چاہتے تھے کہ اُن کے بھائی جوان بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر تڑپیں۔

مستقیم نے گاڑی ہاسپٹل کے باہر روکی تو نرس سٹریچر لے آئی ارمان کو اُس پر ڈالا گیا پھر وہ اُسے اندر لے کر چلی گئی۔

بہرام لوگ بھی تیزی سے اُس کے پیچھے ائے مگر وہ اُسے ایمرجنسی میں لے کر جا چکے تھے۔

بہرام نے ازمیر خانزادہ کو تھام کر چیئر پر بیٹھایا تو زبیر خانزادہ بھی اُن کے پاس بیٹھ گئے۔

بہرام بھی وہیں ٹک گیا تو مستقیم کینٹین سے اُن سب کے لیے پانی لایا۔

زبیر خانزادہ نے مشکل سے ہی دو گھونٹ ازمیر صاحب کو پلائے تھے۔

وہ سب لوگ ڈاکٹر کے باہر انے کا اِنتظار کر رہے تھے جب ماہر اور علی خانزادہ بھی ہسپتال داخل ہوئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پلوشے اور سیرت مشکل سے ہی مرحا کو سمبھال رہی تھیں جو ہوش میں آتے ہی چیختی ہوئی ارمان کے پاس جانے کی ضد کر رہی تھی۔

اُن دونوں کے آنسو بھی روانگی سے بہہ رہے تھے مگر وہ تو بلکل نیم پاگل ہو چکی تھی۔

دوسری طرف شائستہ بیگم بھی بیٹھی رو رہی تھیں سمرین اور نورین بیگم اُنہیں تسلیاں دے کر چپ کروانے کی کوشش میں لگی تھیں۔

“ماما ہم ار۔۔۔۔ ارمان کے پاس چلیں ناں پلیز میں۔۔۔۔میں اُنہیں دیکھنا چاہتی ہوں”

وہ بھاگ کر اُن تک آتی دونوں ہاتھوں کو اُن کے گھٹنوں پر رکھے اِلتجا کرتی ھوئی بولی۔

شائستہ بیگم نے اُس کا بازو پکڑ کر اُسے صوفے پر بیٹھایا اور زور سے خود میں بھینچا۔

کچھ دیر میں دونوں کی چیخیں خان ہاؤس میں گونجی تھیں۔

دونوں کا غم بہت بڑا تھا وہ سنبھلنے میں ہی نہیں آ رہی تھیں۔

“بچے۔۔۔۔۔۔ مرحا میری جان سنبھالو خود کو اور دعا کرو ارمان کے لیے االلہ نے چاہا تو وہ بلکل ٹھیک ہو جائے گا گڑیا۔۔۔۔۔۔۔تم رو رو کر اپنی بھی حالت خراب کر رہی ہو”

سمرین بیگم اُس کے پاس آئیں اور اُس کا ہاتھ تھام کر بلند آواز میں محبت سے بولیں۔

مرحا بھی اُن کی بات پر تھمی۔

“ہاں۔۔۔مم۔۔میں دعا۔۔کرتی ہوں۔۔۔اپنے۔۔ارمان کا لیے”

وہ کہتے ہوئے واشروم میں وضو کرنے بھاگی تو سب شائستہ بیگم کی طرف متوجہ ہوئیں۔

“نورین ۔۔۔ خدا کے لیے۔۔۔۔۔خان کو کہو مجھے ارمان کے پاس لے جائیں۔۔میرا بچہ جانے کیسا ہو گا “

شائستہ بیگم بے تحاشہ روتے ہوئے بولیں تو نورین بیگم نے بے بسی سے سیرت کو دیکھا تھا۔

سیرت نے کچھ دیر پہلے زبیر خانزادہ کو کال کر کے مرحا اور شائستہ بیگم کی حالت کا بتایا تھا مگر اُن کا کہنا تھا کہ اُن دونوں کو حویلی ہی سنبھالیں۔

“بھابھی پوچھا ہے سیرت نے اپنے بابا سے مگر اُن سب نے سختی سے منع کیا ہے۔ ڈرایور کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں ہے ورنہ آپ اُس کے ساتھ چلی جاتیں”

نورین بیگم اُن کے پاس بیٹھ کر اُن کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔

“شائستہ مرحا نے بھی تو خود کو سنبھالا ہے تم بھی سنبھالو خود کو۔۔۔۔آؤ ہم سب بھی ارمان کے لیے دعا کرتی ہیں اُسے اس وقت ہمارے آنسوؤں کی نہیں ہماری دعاؤں کی ضرورت ہے”

سمرین بیگم نے نرمی سے اُنہیں سمجھایا تو سیرت اُنہیں تھام کر اوپر لے گئی۔

“ماما ارمان لالا ٹھیک تو ہو جائیں گے نہ”

پلوشے آنکھوں میں آنسو لیے بولی تو سمرین بیگم نے اُسے سینے سے لگایا۔

“ہاں بچے انشاءاللہ وہ جلد ٹھیک ہو جائے گا آؤ ہم بھی نماز پڑھ کر دعا کریں”

اُنہیں نے محبت سے اُس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو وہ تینوں بھی اوپر آئی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آپ کے دماغ میں کوئی نام ہے جو یہ کام کر سکے”

علی خانزادہ نے سوالیہ نظروں سے اُن سب کو دیکھتے کہا۔

سب نے ہی نفی میں سر ہلایا تھا۔

“جو کوئی بھی ہے میں بہت جلد پتہ لگوا لوں گا اور ایسا حشر کروں گا اُس ×× کا کہ نا زنداؤں میں ہوگا نہ مردوں میں”

بہرام غصے سے مٹھیاں بھینچ کر بولا تو ماہر نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

تبھی ایمرجنسی کا دروازہ کھول کر ایک ڈاکٹر باہر ائے تھے جبکہ ایک اور ڈاکٹر فوراً ہی اندر داخل ہو گئے۔

بہرام تیزی سے ڈاکٹر تک آیا تو وہ اُسے دیکھ کر رک گئے۔

“کیسا ہے ارمان؟”

بہرام کے سوال پر ڈاکٹر نے گہری سانس لی پھر اسے دیکھا۔

“ایک گولی دل کے بہت قریب لگی ہے۔۔۔اور خون زیادہ بہنے کی وجہ سے بچنے کے چانسز بہت کم ہیں۔ میں نے گولیاں نکال دی ہیں صبح تک ہوش آ گیا تو بہتر ادر وائز انہیں کوما میں جانا ہو گا۔۔۔۔۔۔سو یو شڈ مسٹ ماينڈلی پریپیر فور ڈیٹ کائنڈ آف سچویشن”

ڈاکٹر تو اپنی بات کرتا دوبارہ اندر چلا گیا تھا لیکن بہرام کا وجود ساکت سا رہ گیا۔

سب اُسے یُونہی بغیر کسی حرکت کے کھڑا دیکھ کر اُس کے پاس ائے۔

“کیا کہا ڈاکٹر نے”

زبیر خانزادہ کے سوال پر اُس نے بے بسی سے اُن کی طرف دیکھا۔

“صبح تک ہوش نہیں آیا تو اُسے کوما میں جانا پڑے گا”

وہ ضبط سے آنکھیں میچ کر بولا تھا۔

اُس کا دل پھٹ رہا تھا مگر وہ خود پر قابو پانا جانتا تھا۔

وہ اس بات سے واقف تھا کہ اُس نے ہی سب کو سمبھالنا ہے۔

ماہر نے اگے بڑھ کر بہرام کو سینے سے لگایا تو اُس کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر ماہر کی شرٹ میں جذب ہو گیا تھا۔

ماہر نے کچھ دیر اُسے خود سے لگائے رکھا تھا لیکن کچھ دیر بعد ہے بہرام اُس سے الگ ہوتا ہسپتال سے نکلتا چلا گیا۔

“اللہ خیر کرے گا انشاءاللہ”

علی خانزادہ کہتے ہوئے ایک چیئر پر بیٹھے تو باقی سب بھی اُن کے پاس بیٹھ گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہرام پہلے حارث سے ملا تھا حارث نے اُسے پچھلی بات بتائی تو دونوں نے ہی جان لیا تھا یہ کس کا کام ہے۔

بہرام تو اسی وقت اپنا پسٹل لوڈ کرتا عبید خان کے پاس جانا چاہ رہا تھا مگر حارث نے اُسے بڑی مشکل سے کنٹرول کیا۔

حارث نے کہا تھا کہ وہ بس تھوڑا سا انتظار کرے کچھ دنوں بعد ہی عبید خان جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑتا ہوا پایا جائے گا۔

بہرام وہاں سے حویلی آیا تھا۔

وہ جانتا تھا مرحا اور شائستہ بیگم کی کیا حالت ہو گی وہ بس کچھ اُنہیں تسلی دینا چاہتا تھا تاکہوہ پرسکون ہو پائیں۔

بہرام نے گاڑی کھڑی کی اور آہستہ مگر مضبوط قدم لیتا اندر آیا۔

لاؤنج بلکل خالی تھا بہرام نے ملازمہ سے پوچھا تو اُس نے اُن سب کے اوپر ہونے کا بتایا۔

بہرام اوپر آیا تو سامنے لاؤنج میں مرحا صوفے پر بیٹھی تھی۔

اب اُس کی آنکھیں بلکل ساکت سے ہو گئی تھیں بہرام اُن کی اداسی اور بے رونقی دیکھتا مزید غم زدہ ہوا۔

شائستہ بیگم جاۓ نماز پر بیٹھیں دعا مانگ رہی تھیں۔

سیرت اور سمرین بیگم بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔

جبکہ پلوشے اور نورین بیگم مرحا کے پاس بیٹھیں اُسے بہلانے کی کوشش کر رہی تھیں جو اب بلکل خاموش ہو چکی تھی۔

بہرام آہستہ سے چلتا اُس کے پاس آ کر بیٹھا تو سب نے چونک کر اُسے دیکھا تھا۔

بہرام خانزادہ جو ہر وقت اپنے آپ کو فل اپ ٹو ڈیٹ رکھا کرتا تھا آج بلکل بکھرا ہوا لگ رہا تھا۔

بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے آنکھیں سرخ تھیں جبکہ شرٹ پر بھی بل پڑے ہوئے تھے۔

“لالا ۔۔۔وہ کیسے ہیں”

مرحا بے چینی سے اُس کا بازو تھام کر بولی تھی۔

بہرام نے نرمی سے اُسے خود سے لگاتے اُس کے سر میں انگلیاں چلانی شروع کیں۔

“ڈاکڑ سے بات ہوئی ہے میری وہ کہہ رہے تھے کہ اُسے کل تک ہوش نہیں آیا تو اُسے کوما میں شفٹ کر دیا جائے گا”

بہرام نے اُسے سچ ہی بتایا تھا کیونکہ وہ چاہتا تھا وہ سب مينٹلی تیار رہیں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

اُس کی بات پر مرحا نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔

پھر اچانک ہی وہ اُس کے حصار سے نکلتی صوفے سے اٹھتی کمرے میں بھاگی تھی۔

وہ سب بھی پریشانی سے اُس کے پیچھے گئے مگر مرحا دروازہ لوک کر چکی تھی۔

“مرحا پاگل مت بنو۔ باہر آو “

بہرام سختی سے بولا تھا مگر اُس کی ذرا سی آواز بھی نہیں نکلی۔

“مرحا بیٹے دروازہ کھولو میری جان”

شائستہ بیگم آگے ہوتیں دروازہ کھٹکھٹا کر محبت سے بولیں۔

“میں مار دوں گی اپنے آپ کو۔۔۔۔مم۔۔میں نہیں رہ سکتی اُن کے سوا۔۔۔۔۔نہیں رہ سکتی میں ۔۔۔۔۔”

اُس کی آواز سب پر ہی پہاڑ کی طرح ٹوٹی تھی۔

“مرحا دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا۔۔۔میں کہہ رہا ہوں ابھی کہ ابھی دروازہ کھولو”

بہرام زور سے چیخا تھا مگر اُس نے پھر بھی دروازہ نہیں کھولا تو اُس نے سب کو پیچھے ہٹاتے ایک زور دار لات دروازے کو رسید کی تھی۔

جب اُس نے ایک اور لات دروازے پر ماری تو جھٹکے سے دروازہ کھلا تھا۔

سامنے کا منظر دیکھتے سب کا ہی دل کانپ گیا۔

وہ بیوقوف لڑکی بیڈ پر چیئر رکھے اُس پر کھڑی تھی ، اُس نے دوپٹہ سختی سے اپنی گردن کے گرد باندھ رکھا تھا جبکہ دوسری طرف سے پنکھے کے ساتھ۔

اُن سب کو اندر اتے دیکھ اس نے جلدی سے پاؤں مار کے کرسی نیچے پھینکی تھی اور خود پنکھے سے لٹک گئی۔

ابھی اُسے چند سیکنڈ بھی نہیں ہوئے تھے جب بہرام نے تیزی سے بیڈ پر چڑھتے اُسے تھاما تھا۔

بہرام کے بولنے پر سیرت نے بھی جلدی سے بیڈ پر چڑھ کر اُس کی گردن سے دوپٹہ کھولا تھا۔

اُس کا دوپٹہ الگ ہوتے ہی بہرام نے اُسے اٹھا کر نیچے کھڑا کیا۔

“کیا مسلہ ہے آپ سب کو۔۔۔۔مجھے مرنے کیوں نہیں د”

ابھی اُس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی جب بہرام کا تھپڑ اُس کی گال پر زور سے لگا۔

“خاموش۔۔۔۔۔کیا کرنے جا رہی تھی تم ہاں ؟ دماغ ٹھکانے پر ہے تمہارا “

بہرام غصے سے سرخ چہرہ لیے دھاڑا تھا۔

شائستہ بیگم اس کے پاس انے لگی تھیں مگر بہرام کے اشارے پر وہیں رک گئیں۔

“ارمان !!!!”

وہ چیختی ہوئی نیچے بیٹھتی چلی گئی تھی۔

وہ بلکل ہوش میں نہیں لگ رہی تھی۔

اُسے دوپٹے کا بھی ہوش نہیں رہا تھا اب وہ نیچے بیٹھی تو گلہ کھلا ہونے کی وجہ سے اُس کے جسم کے نسوانی نشیب و فراز عیاں ہوئے تھے۔

بہرام نے سرعت نے نظریں اُس سے پھیریں تو سمرین بیگم نے فوراً دوپٹہ اٹھا کر اُس کے گرد پھیلایا۔

“اٹھو میرے بیٹے آؤ اوپر بیٹھو، نیچے نہیں بیٹھتے میری گڑیا”

شائستہ بیگم نے اُسے زبردستی اٹھا کر بیڈ پر بیٹھایا تھا۔

اُس کی یہ حالت دیکھتے وہ مشکل سے ہی خود کو رونے سے بعض رکھ رہی تھیں۔

وہ سب اُس کے پاس بیٹھ کر اُسے بہلانے لگی تھیں۔

شائستہ بیگم نے اُس کا سے اپنی گود میں رکھا تو وہ اُن کی گود میں چہرہ چھپائے پھر سے رونے لگی۔

بہرام سیرت کو پیچھے آنے کا اشارہ کرتا روم سے نکلا تو وہ بھی اُس کے پیچھے ہی باہر ائی۔

“جی بولیں”

سیرت اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔

“میں ہسپتال جا رہا ہوں صبح ہی آؤں گا۔۔۔تم یاد سے سب کو کھانا کھلا دینا اور سب کا خیال رکھنا۔۔۔۔۔۔اگر مرحا کی حالت زیادہ خراب ہو تو نیند کی گولی دے دینا”

بہرام عجلت سے اُسے سب کچھ سمجھ رہا تھا۔

“جی یہ سب تو ٹھیک ہے مگر آپ کھانا تو کھا لیں اور فریش بھی ہو لیں صبح سے کچھ نہیں کھایا آپ نے۔ رات بھی وہیں رکیں گے تو خالی پیٹ کیسے سب کچھ منیج کریں گے”

وہ فکر مندی سے بولی۔

“نہیں بھوک نہیں ہے مجھے اور فریش بھی بھی ہونا ٹھیک ہوں میں۔ کوشش کروں گا بابا لوگوں کو واپس بھیج دوں اگر وہ نہیں مانے تو مستقیم کو بھیجوں گا تم موبائل پاس رکھنا میں کال کروں گا ملازمہ کے ہاتھ اُس تک بابا لوگوں کا کھانا بھجوا دینا”

بہرام تھکاوٹ کے با وجود سنجیدگی سے بولا۔

سیرت نے اثبات میں سر ہلایا تو بہرام اُسے خدا حافظ کہتا سیڑيهوں کی جانب آیا تھا۔

“ٹھہریں”

ابھی وہ نیچے اترتا جب سیرت کی پکار پر پلٹا۔

اُس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو وہ بھاگ کر اُس کے سینے سے لگی تھی۔

“آپ بھی اپنا اور باقی سب کا خیال رکھیے گا۔۔۔۔میں دعا کریں گے انشاءاللہ ارمان لالا بلکل ٹھیک ہو جائیں گے”

وہ اُس کے گرد بانہیں ڈالے بولی تو بہرام نے بھی اُس کے گرد حصار بنایا تھا۔

“ہممم انشاءاللہ۔۔۔۔تم بھی اپنا خیال رکھنا”

وہ کہتا ہوا اُس سے الگ ہوا تو سیرت آسودگی سے مسکرائی۔

بہرام پھر سے حویلی سے ہسپتال کی طرف نکل گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے۔

آویز شاہ مہروش کی گود میں سر رکھے لیٹا اُسے چھیڑ رہا تھا۔

مہروش بھی مسکراتی ہوئی اُس کی باتوں سے محفوظ ہو رہی تھی۔

تبھی آویز کا فون رنگ ہوا تو اُس نے بے زاری سے کاٹ کر سائڈ پر پھینکا۔

“کون ہے”

مہروش نے سوال کیا تو آویز نے مسکرا کر اُسے دیکھا۔

“میری گرل فرینڈ ہے۔۔۔۔رات کو تم سے فری ہو کر بات کروں گا ناں سکون سے”

آویز سکون پر زور دے کر بولا تو مہروش نے اُسے گھورا۔

“کریں تو سہی کسی اور سے بات۔۔۔پھر میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی یہ یاد رکھیے گا”

وہ تھوڑے غصے سے بولی۔

تبھی آویز کا سیل دوبارہ رنگ ہوا تو اُس نے غصے دے اٹھایا تھا ابھی وہ کاٹتا کہ مہروش کی آواز پر رکا۔

“سن لیں نا۔۔۔۔ہو سکتا ہے اگلے بندے نے کوئی ضروری بات کرنی ہو”

مہروش کی بات پر اُس نے اثبات میں سر ہلاتے کال آنسر کر کے سیل کان سے لگایا۔

سامنے والے کی بات سن کر وہ حیران ہوا تھا۔

“تمہیں یقین ہے نا”

اُس نے مہروش کی گود سے اُٹھتے سوال کیا تو اُس نے بھی حیرانگی سے اسے دیکھا۔

آویز نے جیسے ہی فون رکھا مہروش اُس کے قریب کھسکی۔

“کیا ہوا ؟”

اُس نے سوال کیا تو آویز نے پریشانی سے اسے دیکھا۔

“ارمان پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔۔۔اُسے کچھ گولیاں بھی لگی ہیں ، اب وہ ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے”

آویز کی بات پر اُس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔

کچھ دیر تو وہ یُونہی ساکت سی بیٹھی اس بات پر یقین کرنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔

جب اچانک اُسے بات سمجھ ائی تو اُس کی چیخ بے ساختہ تھی۔

آویز نے فوراً آگے آ کر اُسے خود سے لگایا تھا مگر وہ اب زور زور سے روتی آویز کا دل بے چین سا کر رہی تھی۔

“مجھے۔۔۔لالا پاس لے۔۔جائیں ۔۔۔۔پلیز۔۔آویز”

وہ روتے ہوئے بمشکل ہی بولی تھی۔

آویز اُسے لے کر ہرگز نہیں جانا چاہتا تھا مگر وہ اُس کی حالت دیکھ نہیں پا رہا تھا۔

وہ جانتا تھا اگر آج بھی اُس نے انکار کیا تو وہ بلکل ٹوٹ جائے گی۔

“اوکے اٹھو چلیں”

وہ اُسے تھام کر اٹھاتا ہوا بولا تھا مگر اُس سے اب چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔

آویز نے نرمی سے اُسے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور اُسے لا کر گاڑی میں بیٹھاتے گاڑی حویلی سے نکالی۔

آویز نے کچھ سوچ کر موبائل پر ایک نمبر ملایا تھا۔

آج وہ یہ نمبر تقریباً تین ماہ بعد ڈائل کر رہا تھا۔

رنگ جا رہی تھی مگر اگلا اٹینڈ نہیں کر رہا تھا ابھی آویز موبائل کان سے ہٹاتا کہ بہرام نے تھکے تھکے سے لہجے میں سلام کیا۔

“وعلیکم السلام۔۔۔کو سے ہسپتال ہو تم لوگ مہروش آنا چاہ رہی ہے”

آویز نے سنجیدگی سے سوال کیا تو مہروش نے روتے ہوئے اسے دیکھا۔

“___ہسپتال ہیں ہم تم آنا چاہو تو آ جاؤ لیکن مہروش کو حویلی چھوڑ دینا عورتیں وہیں ہیں”

بہرام نے بھی بغیر کسی حیرت کے سنجیدگی سے کہا تو آویز نے ٹھیک ہے کہتے ہوۓ فون کاٹا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *