Tere Liye by Ayat Fatima NovelR50622
Last updated: 9 April 2026
Tere Liye (Episode 01)Tere Liye (Episode 02)Tere Liye (Episode 03)Tere Liye (Episode 04)Tere Liye (Episode 05)Tere Liye (Episode 06,07)Tere Liye (Episode 08)Tere Liye (Episode 09,10)Tere Liye (Episode 11)Tere Liye (Episode 12)Tere Liye (Episode 13)Tere Liye (Episode 14)Tere Liye (Episode 15)Tere Liye (Episode 16)Tere Liye (Episode 17)
Tere Liye by Ayat Fatima
ارمان اس وقت اپنی جگری دوست احتشام کے ساتھ شکار پر آیا تھا۔ دو دونوں بچپن سے ہی ساتھ تھے۔
احتشام ازمیر خانزادہ کے دوست کا بیٹا ہے جو اُن کی حویلی سے دو منٹ کے فاصلے پر ہی قیام پذیر ہیں۔
وہ دونوں اپنی ہر بات ایک دوسرے سے کہہ دیا کرتے ہیں۔
آج بڑی مشکل سے ارمان اپنے لالہ سے اجازت لے کر جنگل کی طرف آیا تھا۔
"بھابھی کیسی ہیں ؟"
احتشام نے اُسے چھیڑنے کی خاطر کہا اس وقت وہ دونوں بندوقیں لیے جنگل کے بیچ و بیچ پیدل چلتے کوئی شکار ڈھونڈ رہے تھے۔
"بکوآس نہ کر"
ارمان جان چھڑوانے والے انداز میں بولا تو اس نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔
"یہ بے وجہ کی نفرت چھوڑ دے یار۔ بیوی ہے تیری"
احتشام نے اُسے سمجھانا چاہا۔
ارمان رک کر اُسے گھورنے لگا تو وہ بھی کان پکڑتا اُس کا بازو تھام کے چلنے لگا۔
ابھی وہ دونوں تھوڑا آگے آئے ہی تھے کے اچانک فضا میں تین تین گولیوں کی آواز گونجی۔
ارمان نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اُس کا بھائی اُس کا یار احتشام دل کے مقام پر ہاتھ رکھتا نیچے گرتا چلا گیا۔
ارمان تیزی سے اُس کے پاس آیا۔ اُس کا خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔ ارمان نے پاس سا کر اُس کا سر اپنی گود میں رکھا۔
"اح۔۔۔۔احتشام اٹھ یار۔۔۔۔یوں مت کر میرے ساتھ۔۔۔۔۔احتشام ، احتشام"
وہ چلاتا رہا تبھی احتشام نے آخری ہچکی لی اور اُس کا سر ارمان کی گود سے ڈھلک کے نیچے زمین پر گرا۔
ابھی ارمان کچھ سوچتا یا کرتا کے آویز شاہ کافی آدمیوں کے ساتھ بھاگتا ہوا ان تک پہنچا۔
اپنے لاڈلے بھائی کی حالت دیکھ کر اُسے لگا اُس کا دل کسی نے تیز دھار چھری چیڑ دیا ہو۔
اُس کے آدمی اگے بڑھتے احتشام کو اٹھانے لگے۔
آویز شاہ کی نظر نیچے بیٹھے ارمان خانزادہ پر گئی تو وہ غم و غصے سے بلبلاتا اُس تک پہنچا اُسے گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا۔
"کیوں مارا تم نے میرے بھائی کو۔۔۔۔کیا دشمنی تھی تمہاری اُس سے ۔۔۔۔۔جواب دو مجھے"
آویز شاہ کی دھاڑ پر ارمان نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
"آویز لالہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔میں کیوں ماروں گا احتشام کو ہم تو بس شکار کے لیئے ائے تھے اچانک گولیوں کی آواز پر میں نے دیکھا تو احتشام نیچے گر رہا تھا۔۔۔۔لالہ میں نے کچھ نہیں کیا آپ غلط سوچ رہے ہیں"
ارمان پریشانی سے اُسے بتانے لگا مگر آویز شاہ ابھی بھی سرخ نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
"یہاں تمہارے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔تم نے ہے مارا ہے میرے بھائی کو۔۔اب تم بھی تیار رہنا آج نہیں تو کل تم بھی ایسے ہی میرے ہاتھوں مرو گے"
آویز غصے سے کہتا احتشام کے پیچھے گیا۔
جبکہ ارمان پریشانی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کے رہ گیا تھا۔
اس وقت خانزادہ ہاؤس میں سب پریشان سے بیٹھے تھے۔ ارمان نے آ کر سب کو آج کا واقع سنایا تو سب ہی ہول اٹھے تھے۔
ایک طرف احتشام کی موت کا صدمہ تھا تو دوسری طرف ارمان پر بیقصور ہوتے ہوئے بھی الزام لگنے کی فکرمندی تھی۔
سب ہی جانتے تھے ارمان ایسا کچھ نہیں کے سکتا۔ لیکن احتشام کے گھر والے ہے بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھے۔
اُنھوں نے آج شام پنچایت بیٹھانے کا اعلان کروا دیا تھا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ گولیاں ارمان کی بندوق سے ہی چلی ہیں حالانکہ یہ سراسر جھوٹ تھا۔
لیکن اب وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے نہ چاہتے ہوئے بھی اُنہیں پنچایت میں ہوئے فیصلے کی ہی ماننا تھا۔
ابھی وہ لوگ سوچ بچار کر رہے تھے کہ حبیب خانزادہ کے ساتھ علی اور ماہر خانزادہ بھی اُن کے لاؤنج میں داخل ہوئے۔
"کیا سوچا ہے تم لوگوں نے تینوں میں سے کون سا راستہ چنو گے"
حبیب صاحب صوفے اور بیٹھتے ساتھ ہی بولے۔
سب ہی واقف تھے کے پنچایت اس طرح کے معاملات میں تین رستے فراہم کرتی ہے۔
پہلا خون کا بدلے خون سے یعنی قاتل کو بھی مظلوم کے خاندان والے قتل کر سکتے ہیں۔
دوسرا خون بہا میں قاتل کے گھر سے کسی لڑکی کا مظلوم کے کسی بھائی یا کزن سے نکاح کروا دیا جاتا ہے آگے چاہے وہ اُس کے ساتھ جو بھی سلوک کریں کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔
اور تیسرا اور آخری رستہ یہ ہوتا ہے کے اگر مظلوم کے گھر والے راضی ہو جائیں تو منہ مانگی رقم لے دے کر ہی مسلہ ختم ہو جاتا ہے۔
"ہمارا تو یہی ارادہ ہے کسی طرح پیسے لے دے کر ہی معاملہ حل کر لیا جائے۔۔۔۔حالانکہ ارمان نے کچھ نہیں کیا مگر پیسے دینے سے کچھ نہیں ہو گا چلو اس مسلے سے جان چھوٹ جائے گی"
زبیر خانزادہ از حد سنجیدگی سے گویا ہوئے تو علی خانزادہ نے اُن کی طرف دیکھا۔
"میرا نہیں خیال کے اذلان شاہ بیٹے کی موت کو پیسوں میں تولے گا۔۔۔۔یقیناً وہ لوگ ارمان کی جان یا خون بہا میں کسی بچی کا مطالبہ کریں گے"
علی شاہ کی بات پر سب فکرمند ہوئے۔
"میں بیغیرت نہیں ہوں کے اپنی وجہ سے کسی معصوم کی زندگی تباہ کروں۔۔۔۔اگر اُنہیں میری جان چاہیے تو مجھے کوئی مسلہ نہیں ہے۔۔لیکن میری بیوی یہ بہنوں کا نام بھی اُن کی زبان سے نکلا تو اس دفعہ میں واقعی کوئی قتل کر بیٹھوں گا"
ارمان شاہ غصے سے چیخا تو سب نے ہے چونک کر اُسے دیکھا۔
اُس کی بات پر سب خواتین تو آنسو بہانے لگی تھیں جبکہ مرد حضرات ہمت سے کام لے رہے تھے۔
"تمہیں جذباتی ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے سنا تم نے؟۔۔۔۔ہم کوشش کریں گے وہ رقم پر مان جائیں لیکن اگر وہ نہ مانے تو مجبوراً ہمیں حویلی کی کسی بیٹی کو خون بہا میں دینا ہو گا تم بھی وہاں خاموش رہنا۔ یوں جوان بیٹے کا قتل نہیں کروا سکتے ہم"
ازمیر خانزادہ غصے سے اُسے دیکھتے ہوئے بولے تو اُس نے سرخ انکھوں سے اُنہیں دیکھا۔
ابھی وہ آگ اُگلتا کے خوبصورت سے نسوانی آواز اُس کے کانوں میں پڑی۔
"بابا مم۔۔۔میں تیار ہوں خون بہا میں جانے کے لیے"
مرحا دل پر پتھر رکھتی بھرائی آواز میں بولی۔ اُسے کہاں برداشت تھی محبوب کی موت۔ اس کی بات پر سب نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔ ابھی کوئی کچھ کہتا کے ارمان خانزادہ آندھی طوفان بنا اس تک پہنچا۔
