Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 11)

Tere Liye by Ayat Fatima

ماہر لوگ بھی حویلی پہنچ چکے تھے۔

سمرین بیگم تو پلوشے پر صدقے واری جا رہی تھیں۔

وہ سب لوگ ہی لاؤنج میں موجود تھے سوائے مرحا کے کیونکہ نکاح یہیں ہونے تھے۔

آہستہ آہستہ قریبی مہمان بھی پہنچ رہے تھے۔

“صاب مولوی صاحب آ گئے ہیں”

ایک ملازم نظریں جھکائے ازمیر خانزادہ کے قریب آیا تو اُنھوں نے مولوی صاحب کو اندر بلانے کہ کہا۔

نورین اور شائستہ بیگم نے سیرت اور پلوشے کو سہارا دے کر ایک صوفے پر بیٹھایا۔

ماہر اور بہرام بھی ساتھ والے صوفے پر بیٹھے تھے۔

مولوی صاحب نے آتے ساتھ ہی نکاح شروع کر دیا تھا۔

پانچ منٹ ہی لگے تھے اُن دونوں کی پہچان بدلنے میں۔

پلوشے تو سائن کرتے ہی نورین بیگم کے سینے سے لگی ذار و قطار رونے لگی تھی۔

جبکہ اُس کے مقابلے میں سیرت خاموشی سے بیٹھی تھی۔

“میرا بچہ تو بہت مضبوط ہے بلکل نہیں روئے گا”

ازمیر خانزادہ نے قریب آ کر اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے محبت سے سے کہا اور باہر کی طرف بڑھ گئے۔

زبیر خانزادہ بھی اُس کے پاس ائے۔

اُسے نورین بیگم سے الگ کر کے خود سے لگا کر اُس کی پیشانی چومی۔

“بس بابا کی گڑیا بابا کو پریشان نہیں کرو اس طرح رو کر”

اُنھوں نے اُسے کہا تو اُس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے آنسو پونچھے۔

“اب تم دونوں جاؤ مرحا کے پاس اکیلی ہے کب سے”

زبیر صاحب کے باہر جاتے ہی نورین بیگم نے اُن دونوں کو مرحا کا خیال دلوایا تو دونوں ہی اوپر کی طرف آئی تھیں۔

ارمان،بہرام اور ماہر بھی باہر چلے گئے تو وہ تینوں بھی کاموں میں لگی تھیں۔

آدھے گھنٹے بعد ہی ماحول بلکل تبدیل ہو چکا تھا۔

اس وقت لون میں بنے اسٹیج پر مرحا سر جھکائے بیٹھی تھی۔

سیرت اور پلوشے بھی اُس کے پاس ہی بیٹھی تھیں۔

ارمان ابھی مردوں کی طرف تھا کچھ ہی دیر میں رخصتی ہونے ہی والی تھی۔

مرحا کا دماغ اس وقت بلکل ماؤف ہو گیا تھا اُسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔

مگر وہ صبر کرتے خاموشی سے بیٹھی تھی۔

سیرت اور پلوشے بھی اب نارمل ہو چکی تھیں تو وہ اُس کے پاس بیٹھیں باتوں میں مصروف تھیں۔

تبھی ہلکی ہلکی چہل پہل مچی تو اُن دونوں نے سر اٹھا کے سامنے دیکھا تھا۔

ماہر اور بہرام ارمان کے ساتھ سٹیج کی طرف آئے تو وہ دونوں ذرا سائڈ پر ہوئیں۔

البتہ مرحا یُونہی بیٹھی رہی تھی بس اُس کے وجود میں کچھ بے چینی سی ہوئی تھی۔

ارمان اُس کے قریب بیٹھا تو ماہر اور بہرام بھی سنجیدگی سے ساتھ والے صوفوں پر ٹک گئے۔

سیرت اور پلوشے کے لیے اب جگہ نہیں بچی تھی تو دونوں ایک طرف کھڑی ہو گئیں۔

ارمان نے ہاتھ اُس کی کمر پر رکھا تو مرحا کراہی۔

“کیا ہوا درد ہو رہا ہے”

ارمان سفاک لہجے میں بولا تو وہ مزید ہرٹ ہوئی , آنکھوں سے روانگی پانی نکالنے لگا۔

ارمان نے اُسے کمر سے جکڑ کر خود کے قریب کیا تو وہ شرمندہ سے ہوتی خاموش ہو گئی۔

آہستہ آہستہ خاندان کے سب افراد نے سا کر رسم ادا کرنی شروع کی تھی۔

ارمان جب اس سب سے اُکتا گیا تو اُس نے شائستہ بیگم کو قریب بولا کر ہے سب ختم کرنے کا کہا۔

شائستہ بیگم بھی اُس کے مزاج کا خیال کرتیں جلدی جلدی رسمیں نپٹانے لگیں۔

اب بہرام تو اٹھ کر باہر جا چکا تھا مگر ماہر وہیں بیٹھا رہا۔

وہ والہانہ نظروں سے ہر طرف کھلکھلاتی ، چہچہاتی اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا۔

پھر اُن کی حویلی کے سب ہی مرد لون میں داخل ہوئے۔

ارمان نے مرحا کا کپکپاتا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں تھام لیے تو اُس کا ایک آنسو ٹوٹ کہ اس کے ہاتھ پر گرا تھا۔

“اسلام و علیکم”

سب ہی اسلام کرتے سٹیج پر ائے تو ماہر بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

ازمیر خانزادہ نے آگے بڑھ کر مرحا کو محبت سے خود سے لگا کر اُس کی پیشانی چومی تو وہ بھی اُن کے گرد حصار بنائے آنسو بہائے گئی۔

پھر اب نے ہے اسے پیار کیا ، گلے لگایا۔

آخر کار رخصتی کا وقت آ ہی پہنچا۔

بہرام نے اُس کے سر پر قرآن کا سایا بنایا تھا۔

شائستہ بیگم اور سیرت نے اُسے ارمان کے روم میں چھوڑا اور خود باہر مہمانوں کے پاس چلی گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ خاموشی سے سانس روکے بیڈ کے درمیان بیٹھی تھی۔

چہرہ گھونگھٹ سے ڈھانپ رکھا تھا اور دونوں ہاتھ گود میں سمیٹ کر رکھے وہ آنے والے لمحات کے بارے میں سوچ رہی تھی۔

رات کے ساڑھے برا بج چکے تھے مگر اُن صاحب کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا۔

جب مرحا کا جسم بیٹھے بیٹھے تھکن سے چور ہو گیا تو اُس نے سر پیچھے بیڈ کراؤن سے لگایا لیا۔

ابھی وہ سکون سے بیٹھی ہی تھی کے باہر کھٹکا سا ہوا۔

مرحا فوراً ہی اپنا گھونگھٹ ٹھیک کرتی سیدھی ہو بیٹھی۔

ارمان نے آہستہ سے دروازہ بند کیا اور اُسے بغیر دیکھے یُونہی چھوڑے واشروم کی طرف بڑھ گیا۔

پیچھے مرحا نے بھی سکھ کا سانس لیا۔

وہ تھکاوٹ کے باعث پھر سے پیچھے ٹیک لگا گئی۔

تبھی ارمان خانزادہ بلیک ٹراوزر اور وائٹ شرٹ میں شاور لے کر باہر آیا تو نظر اُس کے وجود پر گئی۔

اُس کی تھکن کا سوچتے وہ بالوں کو برش کرتا بیڈ کی طرف آیا تھا۔

مرحا کی سانسیں اُس کے قریب انے پر منتشر ہوئیں۔

“اٹھو شاباش کپڑے بدلو اور اس سب سے فارغ ہو کر آؤ”

اُس کا اشارہ بھاری جیولری کی طرف تھا جس نے مرحا کی نازک جان پر عذاب بنایا ہوا تھا۔

“جی”

وہ آہستہ سے کہتی تیزی سے بیڈ سے اٹھی لیکن اچانک پاؤں مڑنے کی وجہ سے وہ چیخ مارتی نیچے گرنے ہی لگی تھی کہ ارمان نے سرعت سے اُس کا بازو پکڑتے اُسے قریب کیا۔

ارمان آنکھوں میں خمار لیے اُس کی ہیزل براؤن آنکھوں میں محبت سے دیکھنے لگا تو مرحا کو اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہوئی۔

“مم۔۔میرا۔۔پاؤں”

مرحا کی اچانک کراہ نکلی تو اُس نے تیزی سے اُسے پیچھے بیڈ پر لیٹایا۔

“دیکھ کر نہیں چلا جاتا تم سے ؟”

وہ غصے سے اُسے دیکھتا بولا تو وہ نظریں جھکا گئی۔

ارمان نے جلدی سے سائڈ ڈرو سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا اور اُس کے قریب بیٹھا۔

ابھی ارمان نے اُس کا پاؤں چھوا ہی تھا کہ مرحا نے جھٹکے سے پاؤں پیچھے کھینچا۔

“میں خود کر لوں گی”

وہ کہتے ہیں اٹھنے ہی لگی مگر پاؤں میں پھر سے تکلیف کی لہر اٹھی تو وہ آہ کرتی دوبارہ تکیے پر سر گرا گئی تھی۔

“تم تو خیر کر ہی لو گی۔۔۔۔۔چپ چاپ لیٹی رہو۔۔۔ابھی میں پاؤں ہلاؤں گا تو تمہیں ہلکا سا درد ہو گا برداشت کی لینا”

ارمان نے پہلے اُسے جھڑکا پھر نرمی سے بولا تو وہ اثبات میں سر ہلاتی آنکھیں سختی سے مینچّ گئی۔

ارمان نے جیسے ہی اُس کا پاوں پکڑ کر موڑا مرحا کی چیخ بے ساختہ تھی۔

ارمان اُسے نظر انداز کرتا اُس کے پاؤں پر پٹی کرنے لگا پٹی کر کے اُس نے ایک پین کلر زبردستی مرحا کو دی۔

سب کرنے کے بعد اُس نے اٹھ کر باکس اپنی جگہ پر رکھا اور گھور کر مرحا کی طرف دیکھا جو اب بھی آنکھیں بند کیے ویسے ہی لیٹی تھی۔

“یہ مت سمجھنا کہ تمہاری یہ غلطی مجھے میرے جائز حقوق لینے سے روک سکتی ہے”

ارمان کی گھمبیر آواز پر اُس نے جھٹ سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔

ارمان میں آگے ہوتے اُسے سہارا دے کر بیٹھایا پھر اُس کی جویلری اتارنی شروع کی۔

سب سے پہلے اُس کے ہاتھوں سے انگوٹھیاں اور کنگن اُتارے پھر اُس کے ماتھے سے ٹیکا اتارا۔

کانوں سے جھمکے اُتار کر آخر میں ہاتھ اُس کی پچھلی گردن کی طرف ڈالے تو وہ ساکت سے ہوتی انہیں موند گئی۔

ارمان نے نرمی سے سونے کا بھاری ہار اُتار کے سائڈ ٹیبل پر رکھا اور ایک گہری نظر اُس پر ڈالی۔

اب جویلری کے نام پر اُس نے بس نکاح کی انگوٹھی پہن رکھی تھی جو ارمان خانزادہ نے جان بوجھ کر نہیں اتاری تھی۔

اب ارمان نے اُس کا دوپٹا پنوں سے آزاد کرتے ایک طرف رخ تو اُس کا قیامت خیز حسن ارمان کے دل میں تہلکہ مچا گیا تھا۔

اُس کا وجود اس قدر فٹ اور بيلينسڈ تھا کہ ارمان کو اپنی نظریں ہٹانا مشکل ہی لگ رہا تھا۔

ارمان کی نظریں اپنے وجود کے آر پار ہوتے محسوس اور کے اُس کا سانس سینے میں ہی اٹک گیا۔

“مجھے۔۔۔کپڑے بدل۔نے ہیں”

وہ نظریں جھکائے انگلیاں چٹخاتی ہوئی منمنائ تو ارمان دھیما سا مسکرایا۔

“میں کروا دوں”

اُس کے لہجہ اس قدر سنجیدہ تھا کہ وہ سمجھ ہی نہیں سکی ارمان مذاق کر رہا ہے یا سیریس ہے۔

اُس نے بے بس نظروں سے ارمان کو دیکھا تو وہ اُس پر رحم کھاتا اُسے تنگ کرنے کا ارادہ بدلتا اس سے نظریں پھیر گیا۔

“ہمم۔۔”

وہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تو مرحا بھی آہستہ سے ہمت کرتی ڈریسنگ روم کی طرف بڑھی۔

جب وہ کپڑے بدل کر واپس ائی تو ارمان خانزادہ شان بے نیازی سے بیڈ کر بلکل درمیان میں لیٹا تھا۔

وہ تذبذب کا شکار ہوتی وہیں کھڑی پریشانی سے اپنے سونے کی جگہ دیکھنے لگی تھی۔

کمرے میں بیڈ لے علاوہ دو سنگل صوفے ایک میز، ایک کاوچ ، ایک سٹڈی ٹیبل، ڈریسنگ ٹیبل اور كبرڈ ہی موجود تھے۔

اس سب میں سے کوئی بھی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں وہ سے سکتی۔

“کیا ہوا سونے نہیں ہے”

ارمان کے سوال پر وہ ہونٹ چباتی ہوئی اُسے دیکھنے لگی۔

“میں کہاں سوؤں”

وہ بھیگی سے آواز میں بولی تو ارمان نے اُس کی بے تکی بات پر اُسے حیرت سے دیکھا۔

“ظاہری بات ہے بیڈ پر ہی سؤو گی”

ارمان بے زاری سے بولا تو وہ گھبراتی ہوئی بھاری قدم اٹھاتے بیڈ تک ائی تھی۔

وہ بلکل ایک سائڈ پر سکڑ سمٹ کر لیٹ گئی تو ارمان نے غصے سے اُسے دیکھا۔

“واٹ دا نانسینس از دس۔۔۔۔۔يہ کوئی ڈراما یا مووی نہیں چل رہی کہ تم ایک کونے میں لیٹ گئی ہو۔۔پاس آؤ”

وہ سختی سے بولا تو مرحا تھوڑا سا کھسک کر ایک انچ ارمان کے پاس ہوئی۔

ارمان نے غصے سے بیچ و تاب کھاتے اُسے اپنے قریب گھسیٹا۔

“ار۔مان”

وہ شکوہ کناں نظروں سے ارمان کو دیکھتی بولی تھی۔

ارمان نے اُس کے بکھرے بال چہرے سے سمیٹ کر پیچھے کیئے۔

اُس کا وجود تقریباً مکمل ہی اپنے وجود میں چھپایا تھا۔

“میں نہیں جانتا کہ اچانک مجھے کیا ہو رہا ہے۔۔۔میں خود بھی سمجھ پا رہا بس میں اتنا جانتا ہوں تمہیں دیکھتے ہی میرا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے۔۔۔میری سانسیں رک سی جاتی ہیں۔۔۔میرا بس یہی دل کرتا ہے کہ تمہیں دیکھتا ہی رہوں۔۔۔پہلے بھی تم میرے نکاح میں تھی میں پورے حق سے تمہیں دیکھ سکتا تھا مگر اب۔ اب تو تم قانونی و شرعی طور پر میری دسترس میں ہو۔۔۔۔۔اب میں مزید انتظار نہیں کر سکتا ،،،،،،مرحا میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں آج ہی تم سے اپنے حقوق لوں گا”

ارمان کی بات پر اُس کے کان سائيں سائیں کرنے لگے۔

لیکن وہ کیا کہتی اُس کے حقوق تھے وہ جب چاہے لے لیتا وہ کیسے انکار کر سکتی تھی۔۔۔

ارمان نے اٹھ کر لائٹ آف کی پھر اُس کا دوپٹہ گلے سے نکال کر صوفے پر اچھالا۔

وہ آرام سے اُس کے پاس لیٹا تو مرحا نے بھی دونوں بانہیں اس کے بازو پر لپیٹے اپنی رضامندی دی۔

ارمان اُس کی پیش قدمی پر مسکرایا اور اُس کی طرف محبت پاش نظروں سے دیکھتے اُس کے گرد ہاتھ رکھتا اُس پر جھکا۔

اُس کی آنکھوں پر پیار کرتے ارمان نے اُس کے دونوں ہاتھ جکڑ کر پیچھے تکیے سے لگائے۔

اور تیزی سے اُس کا رخ بدلا تو اُس کی سفید دودھیا کمر ارمان کے سامنے تھی۔

ارمان نے آہستہ آہستہ اُس کی شرٹ کو زپ کھولی تو وہ بیڈ شیٹ ہاتھوں میں جکڑ گئی۔

“ار۔مان”

وہ بمشکل سانس لیتی بولی۔

“جی جانِ ارمان”

وہ گھمبیر آواز میں بولا۔

كمفرٹر دونوں پر ڈالتے ارمان نے اُس کی شرٹ آرام سے اُس کے وجود سے الگ کی۔

ارمان نے اُس کی کمر پر بنے ڈوریوں کے نشانوں پر انگلی پھیری۔

مرحا کی کمر اتنی دیر سختی سے باندھی گئی ڈوریوں کی وجہ سے تکلیف سے بے حال ہو رہی تھی۔

ارمان نے جھکتے لب اُس کی کمر پر بنے نشانوں پر رکھے اُس کا انداز بتا رہا تھا وہ اپنی دی گئی تکلیف کا ازالہ کرنا چاہ رہا تھا۔

مرحا کے لبوں سے ایک بے بس سی سسکی جدا ہوئی تھی۔

“اگر تمہارا دل میری قربت قبول کرنے پر نہیں مان رہا تو مجھے بتا دو”

ارمان اُس کا وجود سیدھا کرتے بانہوں میں بھرتے ذرا سختی سے بولا۔

وہ ارمان کے بازو اپنے پیٹ اور سینے کے گرد لپٹے دیکھ لمبے لمبے سانس بھرنے لگی۔

ارمان کی بات پر وہ پریشان ہوئی تھی۔

ارمان کو ناراض وہ ہرگز نہیں کرنا چاہتی تھی۔

“نن۔۔۔نہیں۔۔میں نے کب منع۔۔کّ۔۔کیا آپ کو”

وہ جلدی سے بات سمبھالتی بولی تو ارمان نے سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔

پھر اپنا چہرہ کمبل میں ڈالے اُس کی گردن پر لب رکھے تو اُسے لگا کسی نے اُس کی گردن پر دہکتا کوئلہ رخ دیا ہو۔

ارمان کے لب آہستہ آہستہ گردن سے سینے کی طرف رجوع کرنے لگے۔

پھر یونہی ایک دوسرے کی سحر انگیز قربت میں دونوں کی رات سرکنے لگی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *