Tere Liye by Ayat Fatima NovelR50622 Tere Liye (Episode 22)
Rate this Novel
Tere Liye (Episode 22)
Tere Liye by Ayat Fatima
وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو آویز بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹا تھا۔
مہروش نے ایک نظر اسے دیکھا پھر روحان کو لیے واشروم گئی۔
اُسے شاور دے کر کمرے پہنائے پھر اُسے لیے بیڈ پر آئی۔
وہ اب روحان کے ساتھ بیٹھی کھیل رہی تھی۔
اُسے گدگدآتی تو وہ کھلکھلا دیتا۔
آویز جو کب سے سونے کی کوشش کر رہا تھا اُن دونوں کی آوازوں سے سخت اریٹیٹ ہوا۔
جب کافی صبر کے با وجود بھی اُن کا شور نہیں تھما تو اُس نے جھٹکے سے بازو آنکھوں سے ہٹایا تھا۔
ایک قہر بھری نظر مہروش پر ڈالی جو اب حیرت سے اسی کو دیکھ رہی تھی۔
“بند کرو اپنا یہ بچپنا اور خاموشی سے سو جاؤ”
وہ بلند آواز میں دھاڑا تو اُس نے آنکھیں میچ لیں۔
“آپ سو جائیں میں نے آپ کو تو کچھ نہیں کہا”
وہ بھی غصے سے بولی تھی۔
“مہروش بحث مت کرو۔ مجھے یونہی غصّہ آ جائے گا چپ چاپ اسے بھی سلاو اور خود بھی سو جاؤ”
وہ شدید قسم کی سنجیدگی سے بولا تو مہروش نے افسوس سے اسے دیکھا۔
“آپ ایسے کیوں ہے آویز شاہ ؟ ہر وقت ہر بات پر غصّہ کر کے کیا ملتا ہے آپ کو”
وہ بھی اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تو آویز اچانک اٹھ کر بیٹھا۔
“جسٹ شٹ یور ماوتھ”
وہ اُسے غصے سے گھورتا دبی دبی آواز میں چیخا تو مہروش واقع خوف زدہ ہوئی تھی۔
وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھنے ہی لگی کہ اُس کی کلائی آویز کی سخت گرفت میں آئی تھی۔
“اگر اب کی بار تم اس روم سے باہر نکلی تو دوبارہ داخل ہونے کا سوچنا بھی مت “
وہ سرخ آنکھیں لیے بولا تھا۔
مہروش خاموشی سے دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئی اور روحان کو گود میں لے کر آہستہ آہستہ تھپتھپانے لگی۔
تھکن کے باعث وہ کچھ دیر میں ہی سو گیا تو مہروش نے اٹھ کر اُسے اُس کی کاٹ میں لٹایا۔
پھر کچھ سوچ کر وہ الماری کی طرف ائی اور اپنی ایک نائٹی لیتی واشروم آ گئی۔
وہ جب پہلی دفعہ آویز شاہ کے ساتھ شاپنگ پر گئی تھی تب آویز نے اسے کئی نائٹ ڈریس لے دیئے تھے۔
مگر وہ سب اتنے بولڈ تھے کہ اُس نے کبھی پہننے کا سوچا ہی نہیں۔
مگر آج وہ آویز شاہ کو منانے کے لیے یہ بھی کر کے دیکھنا چاہتی تھی۔
یہ سلک کی بلیک نائٹی تھی جو صرف سینے سے لے کر مہروش کی تھائی تک ہے پہنچ پائی تھی۔
مہروش نے خود کو شیشے میں دیکھا تو شرم سے سرخ ہوئی وہ خود کو بھی ایسے دیکھ نہیں پا رہی تھی۔
اُس کے سامنے کیسے جاتی۔
اُس نے نائٹی کے ساتھ ملا کوٹ کھول کر پہنا اور بیلٹ کو پیٹ پر کس لیا۔
اب وہ کچھ مطمئین ہو چکی تھی کیونکہ کوٹ سے اُس کا وجود چھپ گیا تھا۔
وہ بالوں کو انگلیوں سے سلجھاتے آہستہ آہستہ قدم لیتی واشروم سے باہر نکلی۔
آویز شاہ اب لائٹ آف کر چُکا تھا۔
مہروش بیڈ پر اپنی سائڈ آئی اور کھسک کر اُس کے قریب ہوئی جو اُس سے کروٹ بدلے لیٹا تھا۔
مہروش نے اُس کے بلکل ساتھ چپک کر چہرہ اُس کی گردن میں چھپایا مگر وہ ہنوز یُونہی لیٹا رہا تھا۔
اُس نے آویز شاہ کو بمشکل کھینچ کر سیدھا کیا۔
وہ آج کچھ بھی کر کے اُس کی ناراضگی دور کرنا چاہتی تھی۔
آویز جو جاگ رہا تھا بس آنکھیں بند کیے اپنی بیوی کی ہمت دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ اُس کے لیے کیا کیا کر سکتی ہے۔
مہروش نے چہرہ اُس کے چہرے کے بلکل قریب کیا۔
“آئی لو یو آویز ازلان شاہ”
وہ اُس کے کندھوں پر بازو ٹکائے اُس کے کان کے پاس جھکتی بوجھل لہجے میں بولی۔
آویز نے بمشکل اپنے آپ کو کسی پیش قدمی سے روکا۔
مہروش نے اب کی بار نرمی سے ہونٹ اُس کی ٹھوڑی پر رکھے تو آویز کو اپنی رگوں تک سرشاری دوڑتی محسوس ہوئی تھی مگر اُس نے آنکھیں یُونہی بند رکھیں۔
“آویز میں جانتی ہوں آپ جاگ رہے ہیں”
اُس نے دوبارہ آہستہ مگر محبت بھری آواز میں اسے مخاطب کیا۔
مگر اُس کے وجود میں کوئی حرکت نہیں ہوئی تو مہروش نے مسکرا کر اُس کی بند آنکھوں کو دیکھا۔
پھر اُس نے اُن اور اپنے نرم و گداز ہونٹ رکھے تو آویز شاہ کو سکون ملا تھا۔
آج پہلی دفعہ مہروش خود سے کچھ کر رہی تھی۔
نہیں تو ہمیشہ اُسے خود سب کچھ کرنا پڑتا تھا۔
مہروش نے آخر میں اپنے لب اُس کے لبوں سے جوڑے تو اب کی بار آویز شاہ کو ضبط کرنا مشکل ہی لگا۔
آویز نے جھٹکے سے اُس کی گردن کے گرد ہاتھ ڈالتے اُسے نیچے کیس اور خود اوپر آیا تھا۔
اب وہ اُس کے ہونٹوں کی نرماہٹ کو اپنے لبوں سے محسوس کر رہا تھا۔
ساتھ ساتھ تیزی سے اُس کے بالوں میں ہاتھ بھی پھیرا جا رہا تھا۔
مہروش نے کوئی مزاحمت نہیں کی وہ تو البتہ خوش ہوئی تھی کہ چلو ناراضگی کم ہو گی۔
نہیں تو اسے تو لگا تھا کہ آج وہ یُونہی ناراض سویا رہے گا مگر وہ کہاں جانتی تھی ناراضگی ایک طرف۔
آویز شاہ نے کیسے یہ ایک دن کی دوری بھی جھیلی تھی۔
مہروش نے آہستہ سے ہاتھ اُس کے اور اپنے پیٹ کے درمیان بچی تھوڑی سی جگہ میں ڈالے مگر آویز شاہ اُس کی کسی حرکت پر بھی دھیان دیئے بغیر اُس کی سانسوں میں ہی کھویا تھا۔
مہروش نے ہمت کرتے ہاتھ آویز کی شرٹ کے بٹن پر رکھے اور آہستہ آہستہ بٹن کھولنے لگی۔
جب اُس نے سارے بٹن کھول لیے تو شرٹ آویز کے کندھوں سے نکالتے سائڈ پر پھینکی تھی۔
پھر نرمی سے اپنے ہونٹ اُس سے الگ کیے اور اُس کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں خمار کی سرخی لیے اس کہ چہرہ دیکھ رہا تھا۔
مہروش کو لگا اُس کی بہادری یہیں ہوا ہو جائے گی اس لیے اس نے جلدی سے نظریں جھکا لی تھیں۔
اب اچانک آویز نے چہرہ اُس کی کی گردن میں چھپایا اور وہاں بوسے دینے کے ساتھ ساتھ دانتوں سے اُس کی گردن پر کاٹنے بھی لگا تھا۔
مہروش جانتی تھی جب بھی وہ غصے میں ہوتا وہ اُس کی گردن اور کندھوں کو اپنے دانتوں سے سرخ کر دیا کرتا تھا۔
اب وہ ہلکی ہلکی سسکیاں بھرنے لگی مگر اُسے کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔
جب اُس کے دیئے گئے زخموں پر اُس کی بیرڈ چبھتی تو مہروش کو اپنی جان جاتی محسوس ہوئی تھی۔
آویز نے اب ہاتھ اُس کے پیٹ پر رکھتے تیزی سے بیلٹ کھولا تھا۔
گاؤن کھلتے ساتھ ہی بیڈ پر پھسلتا چلا گیا اب مہروش کی گردن کندھے اور تھائی سے نیچے تک چمکتی ہوئی پنڈلیاں اُس کے سامنے تھیں۔
آویز کی نظریں اپنے وجود پر گڑھی دیکھ مہروش سرخ ہوئی۔
“کمبل۔۔۔ڈال ۔۔لیں”
وہ بمشکل ہی ہونٹوں پر زبان پھیرتی ہوئی بولی تھی۔
“تمہیں چھپانے کے لیے میں ہی کافی ہوں”
وہ بوجھل اور سلگتے ہوئے لہجے کہتا ہوا اب مکمل اس پر آیا تھا۔
اور واقعی آویز شاہ کے مضبوط وجود نے اُس کے نازک وجود کو اپنے بلکل نیچے چھپا لیا تھا۔
اب وہ دونوں ہاتھ مہروش کے گرد رکھتا اُس کے ملائم کندھوں پر جھکا اور وہاں اپنی شدتیں دکھانے لگا۔
مہروش کو اب گردن اور کندھوں پر بے حد جلن ہی رہی تھی مگر وہ جلاد شاید آج ہی سارا غصّہ اُس پر نکالنا چاہتا تھا۔
آہستہ آہستہ جیسے رات سرکتی گئی آویز شاہ کی شدتیں بھی بڑھتی گئیں تھیں۔
وہ نازک جان بلکل نڈھال سی ہو چکی تھی۔
جب اُس کے لیے مزید آویز شاہ کا جنون سہنا دو بھر ہوا تو اُس نے رونا شروع کے دیا تھا۔
وہ جو بلکل اُس کے وجود اُس کی قربت میں کیا تھا اُس کے آنسو دیکھ کر اُس پر رحم کھاتا پیچھے ہوا۔
یہ نہیں تھا کہ مہروش نے پہلی دفعہ اُس کی قربت میں رات گزاری تھی۔
وہ کئی دفعہ اس کی شدتیں سہہ چکی تھی مگر اس دفاع آویز شاہ نے جنون کی ہر حد پار کر دی تھی۔
جو اُس کے لیے سہنا بے حد مشکل تھا لیکن پھر بھی وہ سہتی رہی تھی تو فقط اُسے راضی کرنے کی خاطر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج کل اکیلی یونی ہوتی تھی مطلب پہلے مہروش نے یونی چھوڑی پھر مرحا نے اور اب شادی کی وجہ سے سیرت بھی گھر بیٹھ چکی تھی۔
سیرت اور مرحا کا آگے سٹڈی کنٹینو کرنے کا ارادہ تھامگر مہروش کے پاس اب بلکل وقت نہیں تھا۔
گھر سمبھالنا پھر آویز اور روحان کو سمبھالنا اور اب تو وہ خود پریگنینٹ تھی ، پھر بچے کے بعد تو بلکل ہی نہ ممکن تھا یونی جانا۔
اِس نے مرحا سے بات کی تھی کہ تم تو آنا شروع کر دی اب شادی کو مہینے سے بھی اوپر ہو چکے ہیں۔
لیکن وہ ابھی ارمان سے بات نہیں کر پائی تھی اس معاملے میں۔
پلوشے کو کبھی بہرام اور کبھی ارمان پک اینڈ ڈراپ کرتے۔
وہ لاسٹ لیکچر لے رہی تھی جب اچانک اُس کے سر میں درد کی ٹیس اٹھی تھی۔
وہ ٹیچر سے اجازت لیتی اپنی ایک دوست نیلم کے ساتھ باہر گراؤنڈ میں آ گئی۔
نیلم کینٹین سے اُس کے لیے جوس لینے گئی تھی۔
گراؤنڈ بہت بڑا تھا لیکن اس وقت یہاں چند ہی سٹوڈنٹس موجود تھے۔
کِیُونکہ سب کی کلاسز چل رہی تھیں۔
اچانک پلوشے کی نظر یونی کے گیٹ پر گئی تھی جو تقریباً آدھے کلو میٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔
وہ گراؤنڈ کی بلکل سائڈ پر بیٹھی تھی جس کے کچھ ہی فاصلے پر ٹیچرز کی گاڑیوں کے لیے روڈ بنا تھا۔
اُس کی نظر اب اس گاڑی پر تھی جو انتہائی سپیڈ سے اسی کی طرف آ رہی تھی۔
وہ حیران ضرور ہوئی تھی کہ اس وقت کون آیا ہو گا وہ بھی اتنی تیز ڈرائیونگ۔
اچانک گاڑی اُس تک آ کر رکی تو اُس نے حیرت سے اس سے نکلنے والے دو آدمیوں کو دیکھا تھا۔
دونوں نے ہی بلیک ماسک پہن رکھے تھے۔
وہ اُن کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ خوف زدہ ہوئی۔
ابھی وہ گھاس سے اٹھتی کے دونوں نے قریب پہنچ کر اسے بازووں سے سختی سے گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا اور خود اُس کی اطراف میں بیٹھے۔
ڈرائیور نے فوراً گاڑی واپس کی طرف موڑی۔
وہ چیخنا چاہتی تھی مگر اُن میں سے ایک نے کوئی دوا لگا کر ایک کپڑا اُس کی ناک پر رکھا۔
وہ کچھ سیکنڈز میں ہی ہوش و حواس کھو چکی تھی۔
پل کا کھیل تھا کوئی سمجھ بھی نہیں پایا اور وہ وہاں سے غائب کر دی گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہرام خانزادہ کب سے یونی کے گیٹ پر کھڑا انتظار کر رہا تھا۔
لیکن پلوشے باہر آ ہی نہیں رہی تھی اب آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔
یونی کے زیادہ سٹوڈنٹس باہر نکل چکے تھے مگر وہ نہیں آئی تھی۔
اب بہرام کو فکر مندی ہوئی کیونکہ وہ روزآنہ ٹائم سے باہر آ جایا کرتی تھی۔
وہ آہستہ سے اپنی پراڈو سے نکلا تو پیچھے موجود گارڈز کی گاڑی میں سے دو گارڈ نکلتے اُس کے پیچھے ہو لیے تھے۔
بہرام کے اشارے پر ایک گارڈ نے آگے بڑھ کر سیکیورٹی گارڈ سے پلوشے کے مطلق پوچھا۔
اُس نے لا علمی ظاہر کی کہ اُسے نہیں معلوم وہ ابھی تک کیوں نہیں ائی اور نہ ہی اس نے اُسے کسی کے ساتھ جاتے دیکھا ہے۔
بہرام غصے سے کھولتا واپس آیا اور اپنی گاڑی سٹارٹ کر کے اُس پر یونیورسٹی میں داخل ہوا۔
کِیُونکہ راہداری بہت لمبی ہونے کی وجہ سے اُسے دیر لگ جاتی۔
اُس نے گاڑی پارکنگ میں پارک کی اور تیزی سے پرنسپل افس میں داخل ہوا۔
پرنسپل صاحب جو کسی سے کال پر بات کر رہے تھے اُسے دیکھ کر اُن کی آنکھیں چمکیں۔
وہ فوراً کال اینڈ کرتے اس کی طرف بڑھے اور اُس سے ہاتھ ملایا۔
“مسٹر بہرام خانزادہ آپ یہاں ؟”
وہ بے حد خوشی سے گویا ہوئے۔
“جی۔۔۔پلوشے ماہر خانزادہ ابھی تک باہر نہیں ائیں۔ کائنڈلی آپ پی اینز کو بھیج کر اُنہیں بلوا دیں میں کب سے ویٹ کر رہا ہوں”
وہ از حد سنجیدگی سے بولا تو اُنہیں نے پریشانی سے اسے دیکھا۔
“مسٹر خانزادہ وہ الریڈی جا چکی ہیں۔۔۔تقریباً آدھا گھنٹہ ہی ہوا ہے اُن کے سر میں پین تھا تو آپ کے ڈرائیور آ کر اُنہیں لے گئے تھے بلکہ مسٹر ازمیر خانزادہ نے مجھ سے بات بھی کی کہ ڈرائیور کے ساتھ اُنہیں بھیج دیا جائے”
اُنھوں نے تفصیل سے بہرام کو ساری بات بتائی تو اُس نے جھٹکے سے ان کی طرف دیکھا۔
“وٹ۔۔۔ابھی بابا نے ہی مجھے کال کی تھی کہ میں اُنہیں پک کر لوں۔ تو آپ کی کیسے اُن سے بات ہوئی”
بہرام ماتھے کو انگلیوں سے سہلاتا ہوا بولا تو پرنسپل نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“آپ ایک دفعہ کال کر کے کنفرم کر لیں”
اُنھوں نے ہو بتایا تو بہرام نے اثبات میں سر ہلاتے اپنے سیل میں ازمیر صاحب کا نمبر ڈائل کیا۔
اُنھوں نے صاف انکار کے دیا تھا کہ اُن کی پرنسپل سے کوئی بھی بات نہیں ہوئی۔
بہرام کو اب اپنا دماغ سلگتا ہوا محسوس ہوا اُس نے احتیاطاً شائستہ بیگم کو بھی کال کی تو اُن کا یہی کہنا تھا وہ ابھی گھر نہیں پہنچی۔
“مسٹر خانزادہ میں چیک کروا لیتا ہوں آپ پریشان میں ہوں شاید وہ نہ گئی ہوں یہیں موجود ہوں”
پرنسپل نے کہتے ساتھ ہے تین چار پی اینز کو بلوا کر اسے ڈھونڈنے کا کہا۔
پندرہ منٹ بعد ہی وہ سب یُونہی لوٹے تھے۔
“سر وہ کہیں بھی نہیں ہیں۔۔۔سر طاہر کا کہنا ہے اُن کی کلاس کے وقت وہ سر درد کا کہتیں باہر چلی گئی تھیں پھر واپس نہیں آئیں۔”
ایک نے اگے بڑھ کر اُنہیں تمام بات بتائی۔
“وٹ دا ہیل از دس۔۔۔آپ کی یونیورسٹی سے کوئی میری بہن کو اتنی آسانی سے لے گیا اور آپ کو معلوم بھی بھی ہوا”
بہرام کی دھاڑ پر پرنسپل صاحب تھوڑا دور ہوئے۔
“مسٹر خانزادہ میں ابھی پولیس بلاتا ہوں”
ابھی وہ فون نکالتے کے اُس کے چیخنے پر رکے۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے کچھ بھی کرنے کی۔ ہم خود اُسے تلاش کر لیں گے مگر آپ کے منہ سے ایک لفظ بھی نکل کر کسی کے کانوں تک پہنچا تو آپ کی یونیورسٹی اُسی وقت راکھ ہو جائے گی”
وہ اُنہیں دھمکی دیتا جلدی سے باہر نکلا ساتھ ہی ساتھ وہ باہر اور ارمان کو بھی اس سب سے آگاہ کر چکا تھا۔
اُن دونوں کو بھی جلدی حویلی پہنچنے کا کہا تاکہ مل کر کچھ سوچا جا سکے۔
