Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 25)

Tere Liye by Ayat Fatima

“پلوشے میرا بچہ آؤ نیچے اپنے بابا اور باقی سب سے ملو میری جان سب تمہیں بلا رہے ہیں”

شائستہ بیگم نے کمرے میں آکر محبت سے اُسے کہا۔

وہ جب سے حویلی ائی تھی سیدھا اپنے روم میں ہی آ گئی تھی۔

وہ کے بھی مرد سے ملنے کی روادار نہیں تھی۔

وہ اتے ساتھ سیرت اور نورین بیگم کے گلے لگ کر بے حد روئی تھی۔

سیرت کا بھی کل سے رو رو کر برا حال تھا۔

آخر اپنی چھوٹی سی گڑیا میں جان بستی تھی اُس کی۔

اُس نے کل سے کچھ نہیں کھایا تھا مگر صبح شائستہ بیگم کے کہنے پر ازمیر خانزادہ نے زبردستی اُسے ناشتہ کروایا تھا۔

“مجھے نہیں ملنا۔۔۔کسی سے مجھ میں نہیں ہے ہمت”

وہ کہتے ساتھ دوبارہ رونے لگی تو شائستہ بیگم نے پریشانی سے اس کی حالت دیکھي۔

پھر وہ نورین بیگم کو اُسے سنبھالنے کا کہتیں نیچے ائیں۔

“وہ نہیں ملنا چاہتی آپ لوگوں سے جانے کیوں اُسے شرمندگی سی ہو رہی ہے”

وہ لاؤنج میں آ کر بولیں جہاں تمام مرد موجود تھے۔

اُن کی بات پر زبیر خانزادہ مزید بے چین ہوئے۔

“ہم وہیں آ کر اس سے مل لیتے ہیں”

زبیر صاحب نے اُٹھتے ہوئے کہا تو علی اور ازمیر خانزادہ بھی اٹھ کر اُن کے ساتھ آگے بڑھے۔

وہ تینوں کمرے میں داخل ہوئے تو وہ اُنہیں دیکھتے ہی کمبل میں چھپ گئی۔

سیرت اور مرحا اُن سب کو جگہ دینے کی خاطر بیڈ سے اٹھیں۔

سیرت نے ایک کرسی بیڈ کے قریب گھسیٹی تو اُس پر ازمیر خانزادہ بیٹھ گئے۔

باقی دونوں بیڈ اور ہی بیٹھ چکے تھے۔

“پلوشے”

ازمیر خانزادہ نے روعب سے اُسے پکارا تھا۔

“آپ لوگ۔۔۔یہاں ۔۔سے جائیں”

وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی تو زبیر خانزادہ نے آہستہ سے کمبل پکڑ کر اُس کے چہرے سے ہٹایا۔

“میری شہزادی تو ایسی نہیں تھی پہلے بڑوں کی ہر بات مانتی تھی”

اُنھوں نے اُس کی بند آنکھیں پر انگلی پھیرتے شکوہ کیا تو اُس کی سسکی نکلی۔

وہ اچانک اٹھتی چہرہ زبیر خانزادہ کے سینے میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

“بابا۔۔آپ۔لوگ۔۔کیوں۔۔نہیں۔۔ائے۔میرےپاس۔۔۔میں۔نے۔۔۔بہت۔۔ان۔۔انتظار۔کیا۔آپ۔سب۔۔کا۔مگر۔۔کوئی۔نہیی۔آیا۔کوئی۔بھی۔۔نہیں”

وہ شدت سے روتی ہوئی اُنہیں سے ان کی شکایت کرنے لگی تو زبیر صاحب نے اُس کے بال سہلائے۔

“میرا بچہ ! بہرام لوگوں نے ہمیں کچھ بتایا ہی بھی تھا۔۔۔اور وہ بیچارے خود تو دوپہر سے ہی آپ کی کھوج میں لگے تھے”

اُنھوں نے نرمی سے اُسے بتایا تو وہ آنسو صاف کرتی پیچھے ہوئی۔

پھر بیڈ سے اٹھ کر دوپٹا ٹھیک کیا اور ازمیر خانزادہ کے پاس ائی تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کے لیے بانہیں وا کیں۔

وہ بھی فوراً اُن میں سما گئی۔

پھر اُن سے پیار لے کر وہ علی خانزادہ کی طرف آئی تو انہوں نے بھی اسے بہت پیار کیا۔

جیب سے کافی سارے نوٹ نکال کر اس سے وار دیئے۔

وہ تینوں کچھ دیر اس کے پاس ہی بیٹھے رہے تھے لیکن پھر اپنے اپنے کاموں کو نکلے تو وہ بھی بیڈ پر لیٹتی آنکھیں موند گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ماما میری طبیعت بہت خراب سی ہو رہی ہے”

مرحا نے کچن میں آتے شائستہ بیگم سے کہا تو سب اُس کی طرف متوجہ ہوئیں۔

“ناشتہ جو نہیں کیا تم نے۔ اب بتاؤ کیا کھانا ہے میں بنا دوں”

وہ برتن ترتیب سے رکھتی بولیں تو مرحا نے سینے کو مسلتے ہوۓ انہیں دیکھا۔

“نہیں ناں کچھ نہیں کھانا مجھے الریڈی وومٹ فیل ہو رہی ہے”

وہ برا سا منہ بنا کے بولی تو نورین بیگم نے اسے پکڑ کر کرسی پر بیٹھایا۔

“رات کو سوئی بھی نہیں تم اس لیے سینے پر بوجھ سا ہو گا۔۔۔اب جا کر آرام کرو پھر”

سمرین بیگم نے محبت سے کہا تو اس نے سر ہلایا۔

وہ کرسی سے اٹھتی کہ اچانک اُسے زور دار چکر آیا۔

اگر سیرت پھرتی سے اُسے نہیں پکڑتی تو وہ اب تک لہرا کر زمین بوس ہو چکی ہوتی۔

“تم ٹھہرو یہیں میں ارمان کو کال کر کے بلاتی ہوں تمہیں ہسپتال لے جائے۔۔۔مجھے تو تمہاری حالت کچھ اور ہی معاملہ بتا رہی ہے”

شائستہ بیگم کی بات کا مفہوم سمجھتے وہ شرم سے سرخ ہوتی سر جھکا گئی۔۔

سیرت نے مصنوعی کھانس کر اسے چھیڑا تو وہ مزید خوبصورت رنگوں میں نہا گئی۔

شائستہ بیگم ارمان کی بلا کر اُس کے پاس آ بیٹھیں۔

“کب سے طبیعت میں یہ بوجھل پن سا محسوس کر رہی ہو ؟”

اُنھوں نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر سوال کیا تو اُس نے بمشکل ہی اپنی کانپتی پلکیں اُٹھا کر انہیں دیکھا۔

“چکر تو کافی دنوں سے آ رہے تھے لیکن آج طبیعت زیادہ خراب ہو رہی ہے”

وہ آہستہ سے جواب دے کر دوبارہ سر جھکا گئی تو سب اُس کے فطری شرم و حیا پر مسکرائیں۔

“بیٹے پہلے بتانا چاہئے تھا نا”

نورین بیگم سیب کاٹ کر اُس کے سامنے رکھتی بولیں تو اس نے بس سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔

“سیرت جاؤ بچے اسے روم میں لے جاؤ ارمان کے آنے تک آرام کر لے”

نورین بیگم کی بات پر سیرت نے اٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور کچن سے نکلی۔

“کچھ زیادہ ہی جلدی کر دی تم نے تو”

سیرت اُس کے پاس بیٹھتی ہوئی بولی تو مرحا شرما کر چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی۔

“اوہ ہو بھئی بڑا شرمایا جا رہا ہے”

وہ دوبارہ سے اُسے تنگ کرنے کی خاطر بولی تو مہروش نے اُسے گھور کر دیکھا۔

“اب کیسے شوخی بنی بیٹھی ہو اور لالا کے سامنے کیسے معصوم بن جاتی ہو ہاں۔۔۔آج لالا کو آنے دو تمہاری ساری کارستانیاں بتاؤں گی انہیں”

وہ بھی دو بدو بولی تو سیرت نے آنکھیں معصومیت سے جھپکتے اسے دیکھا۔

“اب تم یہ کرو گی اپنی بہن کے ساتھ”

“جی بلکل یہی کروں گی۔۔۔کوئی شک”

مرحا کے جواب پر سیرت نے اسے وارننگ دیتی نظروں سے گھورا۔

“تم اپنے لالا کو یہ بتاؤ اور میں ارمان لالا کو اُس لڑکے کا نام بتا دیتی ہُوں جو یونی میں تمہارا دیوانہ تھا کئی دفع تمہارے بیگ میں پھول بھی رکھ جاتا تھا۔۔۔”

سیرت تو شرارت سے بولی تھی مگر مرحا کا رنگ فق ہو گیا۔

“مم۔۔میں۔ لالا کو کچھ نہیں۔۔بتاؤں گی پلیز۔۔تم بھی چپ رہنا”

اُس کو اس حد تک پریشان ہوتے دیکھ سیرت نے اگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما۔

“پاگل میں تو بس مذاق کے رہی تھی۔۔۔میں کیوں بتاؤں گی لالا کو ہے بات”

سیرت نے اُسے تسلی دی تھی مگر وہ ابھی بھی جوں کی توں بیٹھی تھی۔

اب آنکھیں میں ہلکی ہلکی نمی بھی آ چکی تھی۔

اسی بات سے تو وہ ڈرتی تھی وہ چاہتی تھی کسی طرح سیرت اور مہروش یہ بات بھول جائیں۔

وہ جانتی تھی وہ دونوں کسی کو بھی نہیں بتائیں گی مگر اُس نے بہت مشکل سے ارمان کا اعتبار جیتا تھا اب وہ اس قسم کی کسی بات سے اُس کا اعتبار دوبارہ نہیں کھونا چاہتی تھی۔

وہ ہمیشہ ہی اُس لڑکے سے خود زدہ رہتی تھی جو واقعی اس کا دیوانہ ہی تھا۔

یونی میں روزآنہ اس کے بیگ میں پھول رکھ جاتا اور دور سے اسے نظر بھر کے دیکھتا رہتا تھا۔

سیرت اور مہروش کو وہ خوف کی وجہ سے خود ہی بتا چکی تھی۔

لیکن اب کافی دنوں سے وہ مطمئین تھی کہ وہ لڑکا صرف یونی کی حد تک ہی تھا۔

وہ تو اب تک اُسے بھول چکی تھی۔

مگر سیرت نے اُس کا ذکر کیا تو مرحا کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا تھا اگر ارمان سن لیتا تو۔۔۔۔

“تمہیں یقین نہیں ہے مجھ پر جو اتنا گھبرا رہی ہو”

سیرت نے مصنوعی غصے سے کہا تو مرحا نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔

“سیرت۔۔تم دونوں پر۔۔یقین تھا تو ہی۔۔بتایا تھا تم لوگوں کو۔۔۔لیکن۔پلیز۔۔۔آئندہ یہ بات مت کرنا ۔۔۔میں نہیں چاہتی۔۔کہ ارمان کو یہ بات پتہ چلے۔۔کر۔وہ مجھے۔۔غلط سمجھیں”

ابھی سیرت کچھ کہتی کہ ارمان بغیر دستک کے کمرے میں داخل ہوا۔

دونوں ہی اسے دیکھ کر ہڑبڑا سی گئیں۔

“کیا ہوا تمہیں”

وہ فکرمندی سے اُن کے قریب آتے بولا تو اُنہیں تسلی ہوئی کہ اُس نے کچھ نہیں سنا۔

“وہ۔۔چکر۔آ رہے۔۔ہیں۔۔کچھ۔دنوں۔سے۔آج۔۔۔زیادہ۔۔۔طبیعت۔خراب۔۔ہو۔رہی۔ہے۔۔تو۔ماما۔نے۔کہا۔ڈاکٹر۔۔۔کے۔۔پاس۔۔۔چلی جاؤں”

وہ بمشکل اپنے ڈر پر قابو پا کر بولی تو ارمان نے سر ہلایا۔

“مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا تم نے ؟”

وہ تھوڑی سختی سے بولا تو مرحا نے بوکھلا کر نظریں جھکا لیں۔

“کہا ناں طبیعت زیادہ آج خراب ہوئی ہے”

وہ معصومیت سے بولی ارمان کچھ نرم ہوا۔

“میں گاڑی نکالتا ہوں تم چادر لے کر آ جاؤ”

وہ کہتا باہر نکل گیا تو دونوں نے سکون کی سانس لی۔

“اچھا اب تم جاؤ۔۔۔اور ہاں مجھے خالہ بنانے کی خبر ہی لانا”

“کیوں خالہ کیوں چچی کیوں نہیں”

اس دفعہ اُس نے بھی سیرت کی چھیڑا تو وہ مسکرا دی۔

“اچھا بھئی جو بھی بنانا ابھی تو نیچے جاؤ۔۔۔نہیں تو تم کچھ بناؤ نہ بناؤ ارمان لالا تمہارا قیمہ ضرور بنا دیں گے”

سیرت شرارت سے بولی تو وہ اُسے گھورتی الماری تک ائی اور ایک چادر نکال کر اچھے سے اپنے گرد لپیٹتی باہر نکلی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ آئینے کے سامنے کھڑی لپسٹک لگا رہی تھی۔

آج اُس نے رابعہ بیگم سے اجازت لی تھی کہ وہ شام تک خان ہاؤس چلی جائے تو اُنھوں نے اسے اجازت دے بھی دی تھی۔

وہ آج معمول سے ہٹ کر تیار ہو رہی تھی۔

اُس نے گرے کلر کا شفون کا نہایت خوبصورت سوٹ زیب تن کیا تھا جس کا بے بی پنک دوپٹا اُس نے گلے میں ڈال رکھا تھا۔

بال ہلکے لوز کرل کر کے پیچھے کمر پر ڈالے وہ اب ڈارک پنک لپسٹک سے ہونٹ سجا رہی تھی۔

لپسٹک لگا کر اُس نے گرے کلر کے ہی فلیٹ شوز پہنے پھر بیڈ پر بیٹھ کر آویز شاہ کا انتظار کرنے لگی۔

جو صبح آفیس سے پہلے ہی کسی کام سے نکل چکا تھا۔

اُس نے جلد انے کا کہا تھا تو مہروش کا ارادہ یہی تھا کہ وہ آفیس سے پہلے اسے اور روحان کو حویلی چھوڑ دے اور واپسی پر پک کر لے۔

اُسے اِنتظار کرتے کافی دیر ہو چکی تھی مگر وہ ابھی تک نہیں آیا تھا۔

وہ آہستہ سے بیڈ سے اٹھ کر دروازے کی طرف آئی مگر جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا۔

سامنے سے اندر اتے آویز شاہ سے زور در ٹکرائی آویز نے فوراً اُس سختی سے تھام کر گرنے سے بچایا تھا۔

“کچھ تو خیال کیا کرو”

وہ سنجیدگی سے بولا جانے کیوں مہروش کو اُس کے لحجے میں خالی پن سا محسوس ہوا۔

“یہ اتنا تیار ہو کر کہاں جا رہی ہو”

وہ اُسے چھوڑ کر کچھ دور ہوا لیکن پھر اچبھنے سے اس کے کمر پر پڑے بالوں کو دیکھ کر سوال کیا تو وہ اُس کی طرف پلٹی۔

“جی۔۔وہ۔حویلی جانا ہے مجھے۔۔اس لیے تیار ہوئی۔۔ہوں۔۔آپ ڈراپ کر دیں”

وہ نظریں جھکا کر آہستہ سے بولتی سامنے والے کی سانسیں روک گئی تھی۔

وہ بے خیالی میں کیل کانٹوں سے لیس آویز شاہ کی جان لبوں پر لے ائی تھی۔

آویز نے نظر بھر کر اسے دیکھا لیکن اُس کا اس حلیے میں باہر جانے کا سن کر وہ برہم ہوا۔

“مہر لپسٹک لائٹ کرو اور بال بھی باندھو”

وہ تحکم سے بولا تو مہروش نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔

“لیکن کیوں ؟۔میں حویلی ہی تو کا رہی ہوں”

وہ تڑپ کے بولی تو آویز نے مسکراہٹ دبائی۔

“کہیں بھی جاؤ لیکن اطن اتیار ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”

وہ سنجیدگی سے بولا تو مہروش نے اسے گھورا۔

“آپ کو علم ہو تو شادی کے بعد لڑکیاں اتنا تو عام روٹین میں ہی تیار ہوتی ہے”

وہ ہلکے غصے سے بولی تو آویز نے اُسے ایک گھوری سے نوازا۔

“لیکن تم اُن لڑکیوں سے الگ ہو”

وہ کہتے ساتھ ہے جھٹکے سے اُس کے قریب پہنچ کر اُس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں جکڑ چکا تھا.

وہ اُس کی گردن پر زور سے ناخن رگڑنے لگی تھی۔

کیونکہ وہ جانتی تھی یہ عمل صرف اس کی لپسٹک مٹانے کی خاطر کیا جا رہا ہے۔

آویز شاہ اچھے سے اس کی لپسٹک کا بیڑا غرق کر کے اُس سے الگ ہوا تو مہروش میں زور سے مکے اُس کے سینے اور کندھوں پر مارے۔

“میں اتنی محنت سے تیار ہوئی تھی۔۔۔آپ کو ذرا خیال نہیں میرا”

وہ ناراضگی سے بولی تو آویز نے اُسے تھام کر خود میں بھینچا۔

“تمہارا ہی تو بس خیال ہے مجھے۔۔۔کم از کم تم تو یہ نہیں کہہ سکتی”

وہ اُس کی گردن میں چہرہ چھپائے بوجھل پن سے بولا تو مہروش کا دل زور زور سے دھڑکتا باہر آنے کو بے تاب ہوا۔

“مم۔۔مجھے حویلی چھوڑ آئیں نا”

وہ اُس کا خیال بھٹکانے کی خاطر بولی تو وہ مسکرا کر اس سے جدا ہوا۔

“کب تک آؤ گی”

وہ جان بوجھ کر اُسے باتوں میں لگاتا اُس کا رخ موڑ کر اُس کے بالوں کو بل دینے لگا تو اُس نے منہ بنایا۔

یعنی جو اُس نے پورا گھنٹہ لگا کر کرلز کیے تھے وہ آویز شاہ ایک منٹ میں فنا کر چکا تھا۔

“بہت تیز ہیں آپ”

وہ اس کی چالاکی پر غصے اور بے بسی سے بولی تو آویز نے اُسے سیدھا کر کے اُس کی پیشانی اور ہونٹ رکھے۔

“پہلے ہی میری جاناں بہت خوبصورت ہوتی جا رہی ہے اب اگر تیار ہو کر باہر جاؤ گی تو نظر کا خدشہ ہے مجھے۔”

آویز کے سنجیدہ لہجے پر وہ بھی خاموش ہوتی چہرہ اس کے سینے پر رکھ گئی۔

“آپ مجھے ، حان اور باقی فیملی کو بلکل ٹائم نہیں دیتے۔ سارا دن آفیس آفیس آفیس”

اُس کی جھنجلاہٹ بھری آواز پر آویز نے اُس کے گرد حصار مزید مضبوط کرتے اُس کے بالوں پر لب رکھے۔

“رات کو تمہیں نہیں تو پھر کسے ٹائم دیتا ہوں ؟؟”

وہ شرارت سے بولا تو مہروش کا چہرہ بھاپ چھوڑنے لگا۔

“اُسے ٹائم دینا تو نہیں ٹھرک جھاڑنا کہتے ہیں۔۔۔”

وہ منہ بسور کر بولی تو آویز کا ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری۔

“اچھا بھئی جو بھی کرتا ہوں ہوتا تو تمہارے ساتھ ہی ہوں ناں”

وہ ہار مانتا بولا۔

“آپ کو پتہ ہے ہماری حویلی میں روزآنہ شام چھ سے لے کر رات نو بجے تک فیملی ٹائم ہوتا تھا سب ہے لاؤنج میں بیٹھتے تھے۔۔۔اور ایک آپ ہیں آفیس سے ہی اتنا لیٹ آتے ہیں”

وہ شکوہ کرتی ہوئے بولی۔

آویز نے اُسے خود سے الگ کرتے اُس کی گال پر شدت سے بوسا دیا پھر پیچھے ہو کر اسے دیکھا جو اب دوبارہ سے شرما چکی تھی۔

“اچھا یار آج جلدی آ جاؤں گا اور کچھ ؟”

وہ محبت سے بولا تو اُس نے جلدی سے مسکرا کر سر ہلایا۔

“اب نیچے چلیں بھی۔۔۔میں روحان کو سوہا آپی سے لے لوں پھر ہمیں چھوڑ ائیں”

وہ جلدی سے کہتی نیچے کی طرف بڑھی تو وہ بھی اُس کے پیچھے آیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“شکر ہے تم آ گئی ہم تو اپنے بے بی کو بہت یاد کر رہے تھے”

مہروش سب سے مل کے بیٹھی ہی تھی کہ سیرت اُس کے پاس بیٹھتی ہوئی بولی۔

روحان کو اس نے اپنی گود میں لے رکھا تھا اب وہ پہلے کی طرح اس سے چڑتا بھی نہیں تھا۔

بس روحان اُسے مجبوری کے وقت ہی دستیاب ہوتا تھا جیسے ہی اُسے بہرام یا پلوشے دکھتے وہ فوراً اسے خیر آباد کہہ دیتا۔

“ہاں بس کچھ دن یُونہی مصروف تھی”

وہ آہستہ سے بولی تو سیرت نے معنی خیزی سے مسکرا کر اسے دیکھا۔

“بس یونہی بھی کوئی مصروفیات ہوتی ہیں کیا ؟ میں نے تو پہلی دفعہ سنا ہے”

سیرت اُس کے کان کے پاس جھک کر بولی تو مہروش نے اُسے پہلو میں چونٹی کاٹی۔

کسی نے مہروش کو پلوشے کے بارے میں نہیں بتایا تھا کہ وہ پریشان نہ ہو۔

پلوشے اب سوئی تھی کل کا سارا دن اُس کے لیے کے عذاب سے کم نہیں تھا جو اُس نے جھیلا تھا۔

شائستہ اور نورین بیگم نے اُس کے کمرے کا دروازہ اچھی طرح بند کے دیا تھا تاکہ اُسے کوئی آواز ڈسٹرب نہیں کرے۔

سمرین بیگم بھی کچھ وقت کے لیے اپنی حویلی جا چکی تھیں۔

ارمان اور مرحا ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔

“ایک سرپرایز تمہیں جلد ہی ملنے والا ہے”

سیرت نے مہروش کو مخاطب کیا تو اُس نے مڑ کر اسے دیکھا۔

“مطلب ؟؟؟”

وہ حیرت سے بولی تو سیرت نے مسکرا کر سر ہلایا۔

“ابھی کچھ دیر میں پتہ چل جائے گا تمہیں”

وہ کہتی روحان کو لے کر اٹھ کھڑی ہوئی اور لان کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی کہ نورین بیگم کی آواز پر رکی۔

“سیرت آرام سے روم میں جا کر اس کے ساتھ کھیلو باہر لان میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بہرام کی کال ائی ہے وہ کسی فائل کا پوچھ رہا تھا ابھی لینے ائے گا۔ شادی کو کچھ ہی دن پڑے ہیں اب پردہ کرو اُس سے پہلے ہی پچھلے کچھ دنوں اس معاملے میں بہت بے احتیاطی برتی ہے تم نے “

وہ تھوڑی سختی سے بولیں تو سیرت نے منہ بسورا۔

مہروش اُس کے منہ بنانے پر مسکرائی تو وہ پیر پٹختی اوپر کی جانب بڑھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *