Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Liye (Episode 29)

Tere Liye by Ayat Fatima

اس وقت مہروش کے پاس صرف شائستہ بیگم اور آویز شاہ موجود تھے۔

باقی سب اُس کی عیادت کر کے نیچے لنچ کرنے چلے گئے۔

تو آویز اور شائستہ بیگم اسے اکیلے میں سمجھانے کا سوچ کر اُس کے پاس ہی آ گئے۔

شائستہ بیگم اُسے خود سے لگائے بیڈ پر بیٹھی تھیں اور آویز بیڈ کی دائیں جانب رکھے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا تھا۔

بزاہر وہ اپنے سیل میں مصروف تھا وہ پاس صرف اس لیے بیٹھا تھا تاکہ مہروش کو سمبھال سکے۔

“مہروش میں تمہیں ایک بات بتا رہی ہوں تم نے حوصلے اور ہمت سے سننی ہے بات”

اُنھوں نے سنجیدگی سے کہا تو مہروش نے حیرت سے انہیں دیکھا۔

ایسی کون سی بات جس کے لیے اُنہیں تہمید باندھنے کی ضرورت پیش آ رہی تھی۔

دوسری طرف اُس کی خاموشی پر آویز نے اذیت سے سرخ آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا جو اب پریشان سی لگ رہی تھی۔

“مطلب ؟”

وہ نہ سمجھی سے بولی۔

“تمہارا ابارشن ہے پرسو”

اُنھوں نے سنجیدگی سے کہا تھا مگر وہ ہی جانتی تھیں یہ الفاظ اُنھوں میں دل پر پتھر رکھ کے کہے تھے۔

وہ خود ایک ماں تھیں ایک ماں سے اُس کی اولاد جدا کرنے کہا سوچ کر ہی وہ تڑپ رہی تھیں۔

مہروش جو نورمل سی بیٹھی تھی اُن کی بات پر جھٹکے سے اُن سے الگ ہوئی۔

“مم۔۔ما۔ما۔یہ آپ کیا کہ ۔۔رہی ہیں”

وہ وحشت سے چیخ کر بولی اُس کے لہجے میں بے یقینی و حیرت تھی۔

آویز بھی سیل رکھتا صوفے سے اٹھ کر اُس تک آیا جو اب بیڈ سے اتر کر بے یقینی کی کیفیت میں گھری شائستہ بیگم کو دیکھ رہی تھی۔

“میں ٹھیک کہہ رہی ہوں ڈاکٹرز نے وارننگ دی ہے کہ اگر ابارشن نہیں کروایا گیا تو ڈیلیوری کے دوران تمہاری جان جا سکتی ہے”

اُنھوں نے اب نرمی و محبت سے اُسے تفصیل سے آگاہ کیا اور اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔

جہاں اُنہیں صرف افسوس و غصّہ نظر آیا۔

لیکن وہ کچھ کہنے کی بجائے آویز کی طرف پلٹی اور اُس کا گریبان کھینچ کر اپنی طرف متوجہ کیا۔

“ماما۔۔مذاق کر رہی۔۔ہیں ناں۔۔۔آپ نے مجھے۔۔بتایا۔۔تھا آویز۔۔کہ ڈاکٹر نے کہا ہے میرا بے بی بلکل ٹھیک ہے ہے ناں”

وہ بے بسی سے چیخی تو آویز نے اُسے کندھوں سے تھاما۔

“آنٹی ٹھیک کہ رہی ہیں۔۔۔۔میں نے تمہیں جھوٹ بولا تھا”

وہ اپنی اندرونی تکلیف چھپاتا سنجیدگی سے بولا تو مہروش نے بے یقینی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں کوئی تاثر بھی نہیں تھا۔

پھر وہ اُس سے دور ہوتے نیچے بیٹھتی چلی گئی تھی۔

“مجھے اللہ پر پورا بھروسہ ہے جو قسمت میں لکھا ہے وہی ہو گا۔ میں ہرگز اپنا بچہ قتل نہیں کروں گی”

وہ آہستہ آواز میں بولی جیسے خود کو تسلی دے رہی ہو۔

شائستہ بیگم نے قریب آ کر اُسے اٹھا کر بیڈ پر بیٹھانا چاہا۔

مگر وہ یُونہی بیٹھی بے تاثر نگاہوں سے زمین کو گھورنے لگی۔

“ہمیں بھی اللہ پر بھروسہ ہے میری جان۔۔۔مگر یہاں بات تمہاری زندگی کی ہے ہم رسک نہیں لے سکتے اور جہاں تک بات ہے اولاد کی تو اللہ کے ہاں کوئی کمی ہے وہ جلد ہی تمہیں دوبارہ اس نعمت سے نوازے گا”

وہ محبت سے اُسے سمجھاتی ہوئی بولی تھیں۔

مہروش مشکل سے ہی اپنے اندر ابلتے شعلوں کو برداشت کر رہی تھی۔

“ماما۔۔۔آپ جانتی ہیں آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔صرف ایک دفعہ مجھے یہ بتا دیں مثلاً اگر آپ میری جگہ ہوتیں تو کیا کرتیں۔”

وہ افسوس سے بولی اُس کی آنکھیں بلکل خشک تھیں ایک آنسو بھی نہیں آیا تھا۔

“میں یہی کرتی جو تمھیں کرنے کو کہہ رہی ہوں۔۔مہروش تم میری بیٹی ہو میں ہرگز تمہارا نقصان نہیں چاہتی جو تمہارے لیے بہتر ہے میں وہی کہوں گی “

وہ تکلیف سے بولیں تو مہروش نے سر جھٹکا۔

“یہی تو بات ہے میں آپ کی بیٹی ہوں تو آپ میرا فائدہ دیکھ رہی ہیں اسی طرح میرے پیٹ میں پلتی اولاد میری ہے تو میں بھی اُس کا فائدہ ہی چاہوں گی”

وہ اُن کی آنکھوں میں دیکھتی ٹھوس لہجے میں بولی۔

“اور آپ ۔۔۔۔۔کیسے باپ ہیں آپ آویز اذلان شاہ کے اپنی اولاد کو دنیا میں انے سے پہلے ہی قتل کرنے کہ ارادہ کر چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔بے حس ہوں گے آپ سب لوگ میں نہیں ہوں تو مجھے پلیز کوئی فورس نہیں کرے میرا جو دل کرے گا میں وہی کروں گی “

“مہر خود کو ذہنی طور پر تیار کرنا شروع کر دو پرسو کا اپارٹمنٹ ہے ڈاکٹر سے۔۔۔اور تم جو بھی چاہو یا کرو ہو گا وہی جو میرا فیصلہ ہو گا”

آویز سختی سے بولا تھا وہ نرم پڑ کر اُسے کوئی اُمیدِ یا تسلی نہیں دلانا چاہتا تھا۔

“نہیں جاؤں گی میں کہیں بھی سنا آپ نے۔۔۔۔اگر آپ لوگوں نے مجھ سے زبردستی کرنے کی کوشش کی تو میں یہاں سے بھاگ جاؤں گی۔ اس بات کو مذاق ہرگز مت سمجھیے گا میں اپنی اولاد کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہوں”

وہ چیختی ہوئی بولی تو آویز نے سختی سے اُس کا بازو جکڑا۔

“یہ فضول حرکت کرنے کا سوچنا بھی مت۔۔۔کرو بھی سہی تو يہ بات ذہن میں رکھ کر کرنا کہ جلد یا بدیر تم نے میرے پاس ہی آنا ہے”

وہ غصے سے بولا تو مہروش نے افسوس سے نفی میں سر ہلاتے آویز شاہ کے دل میں توڑ پھوڑ مچا دی تھی۔

اُس کے لیے بھی یہ سب آسان نہیں تھا مگر وہ خود کو اس فیصلے پر رضامند کر چکا تھا۔

لیکن اب مہروش کی باتیں سن کر اُسے واقعی اپنا آپ ظالم لگا۔

“آپ کو اتنا ہی شوق ہو رہا ہے اپنی اولاد سے جان چھڑوانے کا تو ابھی کہ ابھی مجھے طلاق د “

ابھی وہ بات مکمل کرتی کے آویز کا ہاتھ اٹھا اور زور سے اُس کے چہرے پر اپنا نشان چھوڑتا پیچھے ہوا۔

“اپنی حد میں رہو۔۔۔اس قسم کی بکواس دوبارہ کی تو زبان کھینچ لوں گا تمہاری”

وہ غصے سے دھاڑا تو شائستہ بیگم نے پریشانی سے اُسے دیکھا پھر مہروش کو زبردستی پکڑ کے بیڈ پر بٹھایا۔

جبکہ آویز شاہ اب روم سے نکل گیا تھا۔

“تم پاگل ہو گئی ہو مہروش۔۔۔یہ کوئی کہنے کی بات تھی جو تم نے کہی ہے۔”

وہ سختی سے بولیں تو اُس نے آنسوؤں سے بھری آنکھیں اٹھا کے انہیں دیکھا۔

“اور جو بات آپ لوگ کر رہے ہیں وہ کہنے کی ہے ؟”

وہ طنزیہ بولی تو شائستہ بیگم نے نظریں چرائیں۔

“ماما میں بتا رہی ہوں آپ کو میں ایسا کچھ نہیں کروں گی۔۔۔نہیں ہے مجھ میں اتنی ہمت۔ آٹھ مہینے۔۔۔آٹھ مہینے کوئی کم نہیں ہوتے۔ میں نے آٹھ مہینے اپنے بچے کو اپنے وجود میں رکھا ہی اب کیسے نکلوا کے پھینک دوں۔۔۔مرض ہو گی تو مجھے ہو گی اس معصوم جان کا کیا قصور جو آپ سب اسے مارنے پر تلے ہیں”

وہ شدت سے روتے ہوئے بولی تو شائستہ بیگم نے دکھ سے اسے دیکھا۔

وہ بھی بے بس تھیں بیٹی سی بڑھ کے اُن کے لیے کچھ نہیں تھا۔

مگر وہ اُس کی فیلینگز کو بھی جھٹلا نہیں پا رہی تھیں۔۔۔

“مہروش میری جان مجبوری نہیں ہوتی تو ہم ہرگز تم سے یہ مت کہتے”

وہ محبت سے اس کی گال پر ہاتھ رکھتیں بولیں تو اُس نے چہرہ ان کی طرف کیا۔

“مجبوری ہو گی تو آپ لوگوں کو ہو گی۔۔۔میرا نہیں خیال کے مجھے کوئی مجبوری ہے۔ زندگی موت اللہ کے ہاتھ ہے تو ہم کیسے وقت سے پہلے کسی پر ظلم کے سکتے ہیں”

وہ آنکھیں صاف کرتی بولی اور ایک نظر اپنے پیٹ کو دیکھا۔

اب تو وہ سمجھتی تھی اُس کے آخری آخری دن چل رہے ہیں مگر یہ کیا ہو گیا تھا سب کچھ اچانک۔

وہ ماں تھی باقی معاملات میں چاہے جتنی بھی ڈرپوک ہوتی اس میں وہ اپنی بزدلی نہیں دکھا سکتی تھی۔

اُسے پتہ تھا سب اسے فورس کریں گے اور اگر وہ پھر بھی نہیں مانی تو شاید زبردستی اس کی اولاد کو نوچ کر اس سے چھین لیا جائے۔

“مہروش دو دن ہیں تمہارے پاس اس بات کو قسمت میں لکھا جان کے خاموش ہو جاؤ”

شائستہ بیگم کہتی ہوئیں اُسے یُونہی روتا چھوڑ کر باہر نکل گئیں۔

اُن کے جاتے ہی اُس نے دروازہ لوک کیا اور اُس کے ساتھ ٹیک لگاتی نیچے بیٹھتی چلی گئی۔

وہ یہ بھی نہیں سوچ رہی تھی کہ اُس کی حالت خراب ہو جائے گی ان حرکتوں سے۔

وہ ضبط کھو کر اچانک پیٹ کو جکڑے زور زور سے رونا شروع ہوئی تھی۔

کیسے خودغرض ہو جاتی وہ اس قدر کہ اپنی جان کی خاطر اُس معصوم جان کو نظرانداز کر دیتی۔

اُسے آویز پر افسوس ہو رہا تھا جو اُس کی فيلینگز کو تو چلو چھوڑو خود کیسے یہ بات کی رہا تھا کہ آبورشن کروا لو۔۔۔

کیا صرف وہ ماں تھی ؟

یہ اولاد صرف اس اکیلی کی تھی؟

آویز شاہ کا اس سب میں کوئی عمل دخل نہیں تھا جو اس قدر کٹھور بن رہا تھا۔

اس وقت مہروش کے ذہن میں بہت منفی خیالات اس رہے تھے۔

اور وہ بھی اُن خیالات کو درست سمجھتی ایک دفعہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شائستہ بیگم نیچے آئیں جہاں سب مرد و خواتین لاؤنج میں ہی تھے۔

وہ بھی آہستہ سے چلتیں سیرت کے کی بائیں جانب آ کر بیٹھیں اُس کی بائیں جانب بہرام بیٹھا تھا۔

“بات ہوئی مہروش سے”

ازمیر صاحب نے اُن سے سوال کیا تو اُنہیں نے اداسی سے اثبات میں سر ہلایا۔

“یہ آویز کو کیا ہوا ہے باہر چلا گیا اچانک”

بہرام نے اُنہیں دیکھتے ہوئے کہا۔

“کیفیت دونوں کی ایک ہے بس سمجھنے کا انداز مختلف۔۔۔آویز میچور ہے تو اُس نے کم وقت میں درست فیصلہ کر لیا اور مہروش کو ایک طرف سے دیکھا جائے تو وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہے اُس کیلئے یہ چیز قبول کرنا مشکل ہے مگر اُسے بھی سوچنا چاہیے اُس کے لیے اپنی جان سے زیادہ کچھ قیمتی نہیں”

وہ نظریں جھکائے آہستہ سے بولیں تو سب میں فکرمندی سے انہیں دیکھا۔

“وہ کیا چاھتی ہے”

رابعہ بیگم کے سوال پر سب نے ہے شائستہ کو دیکھا۔

“وہ ابارشن نہیں کروانا چاھتی اُس کا کہنا ہے اُس کے ساتھ کسی نے زبردستی کی کوشش کی تو وہ گھر سے بھاگ جائے گی”

وہ اذیت و تکلیف سے بولیں۔

“ماما وہ نادان ہے یوں ایک ہے بار کہہ دینے سے نہیں سمجھے گی آپ منانے کی کوشش کریں۔۔۔مان جائے گی”

بہرام سنجیدگی سے بولا تو اُنہیں نے سر ہلایا۔

“بیٹا میں تو کوشش کر رہی ہوں پر مجھے نہیں لگتا وہ کسی طور بھی مانے گی۔۔۔”

وہ افسوس سے بولیں۔

“نہیں مانے گی تو مجبوراً زبردستی کرنی پڑے گی ہمیں۔۔۔یہ رسک لینا تو ہرگز ممکن نہیں”

زبیر خانزادہ کی بات پر سب نے ہے اتفاق کیا تھا۔

“اچھا اذلان ہم لوگ نکلتے ہیں اب تم لوگ خیال رکھنا۔۔۔ضرورت پڑے تو کال کے دینا”

ازمیر خانزادہ نے اجازت چاہی۔

“بڑے بابا ہم ایک دفعہ اُس سے مل لیں؟”

سیرت نے مرحا اور پلوشے کی طرف دیکھتے ازمیر خانزادہ سے اجازت مانگی۔

“نہیں رہنے دو تم لوگ وہ ابھی بہت پریشان ہے تم لوگوں کی نہیں سنے گی”

بہرام نے سنجیدگی سے کہا تو سیرت نے اُسے گھورا پھر خاموش ہو گئی۔

پھر سب نکلنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

“بھابھی آپ یہیں رک جائیں نا۔۔۔ماں سے بہتر کوئی بھی سمبھال پائے گا اُسے”

رابعہ بیگم نے شائستہ بیگم کو دیکھتے کہا تو اُنھوں نے سوالیہ نظریں سے ازمیر خانزادہ کو دیکھا تھا۔

“ہمم۔۔۔بہتر تم یہیں رک جاؤ کل آ جانا”

وہ روعب سے کہتے باہر کی طرف نکلے تو باقی سب بھی باہر آ گئے۔

“میں تو سوچ سوچ کر پاگل ہو رہائی ہوں کہ کیسے مناؤں اس لڑکی کو وہ تو مجھے ہی لاجواب کر دیتی ہے”

وہ ندہ شاہ کے پاس بیٹھتیں پریشانی سے بولیں۔

“اللہ بہتر کرے گا آپ پریشان نہیں ہوں”

رابعہ بیگم نے اُنہیں تسلی دی تو اُنہیں نے سر ہلایا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات تم مہروش کے پاس کوئی نہیں گیا تھا سب کا یہی خیال تھا اُسے اکیلے میں رہنے دیا جائے تاکہ وہ خود کو سمبھال سکے۔

شائستہ بیگم تو بیٹی کی فکر میں بے حد پریشان تھیں۔

رات کو دس بجے آویز شاہ بکھرے سے لیے میں حویلی داخل ہوا تھا۔

سارا دن وہ فارم ہاؤس ہی رکا رہا تھا۔

وہ لاؤنج میں آیا تو کوئی موجود نہیں تھا وہ ایک گہری سانس لیتا اوپر آیا۔

اُس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی جو لوک تھا۔

آویز شاہ نے اطمینان سے پاکٹ سے اپنے روم کی کی نکالی اور لوک میں گھمائی تو دروازہ ٹک سے کھل گیا۔

اُس نے ایک نظر پورے کمرے میں دوڑائی تھی مگر مہروش اُسے کہیں نہیں دکھی۔

آویز فکر مند ہوتا تیزی سے آگے بڑھا تو اُس کی نظر اچانک ہے بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی مہروش پر گئی تھی۔

چہرے پر آنسوؤں کے مٹے مٹے نشان تھے بال بکھرے ہوئے تھے۔

وہ ساکت سی بیٹھی زمین کو گھور رہی تھی۔

آویز بھی آہستہ سے بلکل اُس کے پاس ہی بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھ گیا۔

مہروش اُس کا آنا محسوس کر چکی تھی مگر یونہی بیٹھی تھی۔

آویز نے نرمی سے اُس کا زمین پر پڑا ہاتھ اٹھایا اور اپنے ہاتھ میں لے کر سہلایا جیسے وہ بغیر کچھ بولے ہی اُسے پر سکون کرنا چاہ رہا تھا۔

“مہروش مجھے مزید اذیت میں مت ڈالو میری جان”

وہ بوجھل اور ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولا تو مہروش نے اس کی طرف رخ کیا۔

“اذیت میں میں آپ کو نہیں آپ مجھے ڈال رہے ہیں آویز۔۔۔آپ سمجھنے کی کوشش کریں کے غلط آپ ہیں”

وہ ناراضگی ایک طرف رکھتی اُسے سمجھآنے کی خاطر بولی تو آویز نے افسوس سے اسے دیکھا۔

“مہر اگر مسئلہ سيریس نہیں ہوتا تو میں مر کر بھی تمہیں یہ سب مت کہتا۔۔۔لیکن دیکھی جاناں ڈاکٹر نے سختی سے کہا ہے۔ پروبلم اتنی سنجیدہ ہے کہ وہ بھی ابھی نہیں سمجھ پائے۔ یاد کرو اُس دیں تمہیں کتنی تکلیف ہوئی تھی وہ بلاوجہ تو نہیں ہوئی تھی ناں۔۔۔تم ایک دفعہ یہ مت سمجھو کہ میں تمہیں فورس کر رہا ہوں تم میری بات کو نیچرلی لو۔۔۔چندہ اگر تم ٹھیک ہو گی تو ہم دوبارہ بھی تو بے بی پلین کر سکتے ہیں اور دوسری طرف خُدا نہ خواستہ تمہیں کچھ ہو گیا تو بتاؤ میں کہاں جاؤں گا۔۔۔مجھے تو تمہارے بنا سانس بھی نہیں آتی”

آویز نے محبت سے کہا تو مہروش نے اسے دیکھا۔

“میں سمجھ سکتی ہوں آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔مگر آویز میں یہ نہیں کر سکتی میں سچ میں مر جاؤں گی آپ کو تو ڈر ہے ناں کہ میں ڈیلیوری کے دوران نہ میں جاؤں لیکن مجھے یقین ہے اگر مجھ سے میرا بچا الگ ہوا تو یہ غم ہی میری موت کا سبب بننے کے لیے کافی ہو گا”

وہ آویز کے ہاتھ تھام کے اذیت و بے بسی سے بولی تو آویز نے اسے دیکھا۔

“تمہیں پتہ ہے میں آج ڈیڑھ سال بعد بھی اُسی سٹیج پر کھڑا ہوں۔۔۔ڈیڑھ سال پہلے بھی میں بے بس تھا۔ ابھی امبر کی ڈیلیوری کو بیس دن رہتے تھے جب ایک رات اچانک اُسے پین شروع ہوئی۔ وہ پین اس قدر شدید تھی کہ ہم اُسے سمبھال نہیں پا رہے تھے۔

وہ بس یہی کہے جا رہی تھی کہ آویز میں مر جاؤں گی۔۔۔۔میں بہت تکلیف میں تھا اُس رات۔ ہم سب جلدی سے ہسپتال گئے تو اُسے ایمرجنسی میں شفٹ کے لیا گیا۔۔۔۔۔مہروش اُس رات میں نے اپنے بیوی اور بچے کی خیر کی بہت دعائیں کی تھیں۔ میرے لیے وہ دونوں بہت عزیز تھے۔ آدھے گھنٹے بعد ہی نرس نے باہر آ کر روحان مجھے دیا اور ساتھ ہی امبر کی ڈیتھ کی خوفناک خبر دی۔۔۔۔میں بہت ٹوٹ گیا تھا اُس رات۔ یہ نہیں تھا کہ امبر سے مجھے کوئی بہت دھواں دھار عشق تھا ہماری شادی بھی امی کی پسند سے ہوئی تھی مگر مجھے شادی کے بعد وہ اچھی لگنے لگی تھی۔ میں اُسے ہرگز نہیں کھونا چاہتا تھا۔ مگر میں نے اُسے کھو دیا۔ پھر مجھے روحان سے شدید محبت تھی میں اُسے ایک پل بھی خود سے دور نہیں کر پاتا تھا۔۔۔سب نے مجھے بہت فورس کیا تھا کہ دوسری شادی کر لو مگر میں نہیں چاہتا تھا کوئی دوسری لڑکی آ کر مّیرے بیٹے کو تکلیف دینے کا سبب بنے۔

میں بہت مشکل سے امبر کو بھولنے میں کامیاب ہوا ہی تھا کہ احتشام کی موت کی خبر مجھ پر کسی بھیانک عذاب کی طرح آئی تھی۔ میں مزید کسی کو کھونے کی ہمت نہیں رکھتا تھا لیکن میرا بھائی بھی مجھ سے دور چلا گیا۔۔۔اس طرح میری زندگی میں تم آئی۔ جانے کیوں مجھے تم پہلے دن ہی اچھی لگی تھی حالانکہ میں تک سے نفرت کرنا چاہتا تھا پر سب اُلٹ تب ہوا جب مجھے تم سے محبت کا احساس ہوا میں نے اپنے دل کو بہت ڈپٹا مگر دل کسی کی کہاں سنتا ہے آخر میں نے ہی دل کی سنتے تم سے اظہار کیا۔ تم بہتر بھی بہترین ہو مہروش تم نے مجھے، میری فیملی اور حان کو بہت اچھے سے سمبھالا۔جانتی ہو جب تم پریگنینٹ ہوئی تو مجھے خوشی کے ساتھ ساتھ خوف بھی تھا کہ تمہیں کچھ ہو نہ جائے۔ میں اسی لیے تمہیں اب تک ڈانٹتا رہا کہ اپنا خاص خیال رکھو۔جب شروع شروع میں تمہاری طبیعت خراب ہوتی تھی تو مجھے لگتا تھا میں سانس نہیں لے سکوں گا۔۔۔

لیکن پھر تم ٹھیک ہو گئی لیکن قسمت کا لکھا دیکھو آخری آخری ٹائم میں تمہاری حالت خراب ہو گئی۔۔۔۔تم خود سوچو مہروش کیا مجھ سے دوسری بیوی کی جان کا رسک لیا جائے گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس دفعہ میں بھی زندہ رہ پاؤں گا”

آویز نے اُس سے اپنا تمام ماضی کھول کر شیئر کیا تھا۔

یہ سب بتاتے بتاتے جانے کیسے آویز شاہ کی آنکھوں سے آنسو گرے تھے جن سے مہروش کو بہت تکلیف ہوئی۔

اُس نے آویز کے آنسو نرمی سے صاف کیے اور اپنا دل تھام کر اچانک ایک فیصلہ کیا۔

“ٹھیک۔۔۔۔ ہے میں۔۔ابار۔۔ابارشن۔۔۔کروا۔۔لیتی ہوں”

وہ کہتے ساتھ ہی آویز کے سینے میں چہرہ چھپا کر خود کو کنٹرول کرنے لگی۔

اُس کے مان جانے پر آویز شاہ نے دونوں بازو محبت سے اُس کے گرد لپیٹتے اُسے مزید خود میں چھپایا۔

صبر کے با وجود وہ ضبط کھو کے پھوٹ پھر کے رونا شروع ہوئی تو آویز کی انکھوں سے بھی ایک آنسو ٹوٹ کر اُس کے بالوں میں جذب ہوا تھا۔

“تمہارا بہت بہت شکریہ میری جان مجھے سمجھنے کے لئے”

وہ شدت سے کہتا اُس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا اُسے خاموش کروانے کی کوشش کرنے لگا تھا۔

مگر وہ بے حد غمزدہ ہونے کے باعث خاموش ہو ہی نہیں رہی تھی۔

آویز نے کافی ٹائم اُسے خاموش کروانے کی کوشش کی مگر وہ نہیں ہوئی تو اُس نے زبردستی اسے خود سے الگ کیا اور اٹھا کر بیڈ پر لٹایا۔

وہ دوپہر سے بھوکی تھی اس لیے آویز نے اُسے کھانا کھلایا پھر وہ اُسے اپنے نرم حصار میں لیتا آنکھیں موند گیا تو مہروش کو بھی جانے کیسے مگر نیند آ ہی گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *